سیرت خلفائے کرام

پسرِ موعود کی دو علامات بشیر الدولہ اور عالم ِکباب

(محمد محمود طاہر۔ ربوہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓمیں دونوں علامات بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئیں

صحف آسمانی و احادیث اور صلحا ئے امت کی پیشگوئیوں میں جہاں موعود اقوام ، مسیح موعود ، مہدی معہود اورامام آخر الزماں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہاں اس کے ساتھ ہی اس کی آسمانی بادشاہت کے وارث ایک عظیم الشان بیٹے کی پیشگوئی بھی موجود ہے۔

چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام الٰہی منشا کے ماتحت 1886ء میں چلہ کشی کے لیے ہوشیار پور تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پسرموعود کی مہتم بالشان پیشگوئی سے نوازا۔

پسر موعود کی پیشگوئی اس شان کی تھی کہ اس کی علامات کے بارے میں الہامات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا اور اللہ تعالیٰ نے اس موعودبیٹے کی کئی علامات اس کی پیدائش کے بعد بھی عطا کیں۔بعد میں عطا ہونے والی علامات میں سے دو علامات کا تذکرہ اس وقت مضمون میں کیا جارہا ہے یعنی

(1)بشیر الدولہ(2)عالمِ کباب

یہ علامات اور پسر موعود کے الہامی نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 1906ء میں عطا ہوئے جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سترہ سال کے ہو گئے تھے اور آپ جماعت میں اپنی علمی و انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے معروف ہو چکے تھے۔

بشیر الدولہ اور عالم ِکباب کے الہامات

19؍فروری 1906ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عالم ِخواب میں دیکھا کہ

‘‘منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا:‘‘بشیر الدولہ ’’۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

‘‘کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہوگا جس کا پیدا ہونا موجب خوشحالی اور دولتمندی ہو جائے اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبال منداور صاحب ِدولت ہو لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہوگا۔خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا۔ ممکن ہے کہ جلد ہو یا خدا اس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے۔’’

(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ511,510)

7؍جون 1906ء کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہام ہوا جس کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں:

‘‘بذریعہ الہام ِ الٰہی معلوم ہو ا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے دو نام ہوں گے۔(1)بشیر الدولہ(2)عَالَم کباب

یہ ہر دو نام بذریعہ الہام ِ الٰہی معلوم ہوئے اور اِن کی تعبیر اور تفہیم یہ ہے:

(1) بشیر الدّولہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ہماری دولت اور اقبال کے لیے بشارت دینے والا ہوگا۔ اُس کے پیدا ہونے کے بعد (یا اُس کے ہوش سنبھالنے کے بعد) زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی اور گروہ ِکثیر مخلوقات کا ہماری طرف رجوع کرے گا اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔

(2) عَالَم کباب سے یہ مراد ہے کہ اُس کے پیدا ہونے کے بعد چند ماہ تک یا جب تک کہ وہ اپنی بُرائی بھلائی شناخت کر لے دُنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔گویا دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اِس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔ غرض وہ لڑکا اِس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لیے ایک نشان ہوگا بشیر الدولہ کہلائے گا اور اِس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا عالم کباب کے نام سے موسُوم ہو گا۔’’

(تذکرہ صفحہ534,533)

اسی طرح 19؍جون 1906ء کو بذریعہ الہام الٰہی آپ کو مذکورہ بالا بیٹے کے 9ناموں کے بارے میں بتایا گیا جس میں بشیر الدولہ اور عالم کباب کے نام بھی شامل ہیں۔

(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ537)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی کے حاشیے میں اس بیٹے کے ناموں میں لکھا ہے

‘(1)بشیر الدولہ۔کیونکہ وہ ہماری فتح کے لیے نشان ہوگا …3)عالم کباب

(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد نمبر22صفحہ109)

مذکورہ بالا الہامات اورحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ لڑکا جس کے صفاتی نام بتائے جارہے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےلیے بشیر الدولہ یعنی باعث اقبال و بشارت دینے والا اور فتح کا نشان ہوگا اور مخالفین کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا اور اس کے دور میں دنیا میں زلازل آئیں گے اور جنگیں ہوںگی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکا دعویٰ مصلح موعود

اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے 1944ء میں مصلح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا کہ میں اس پیشگوئی کا مصداق ہوں جس کی پیشگوئی 20؍فروری 1886ء کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبرپا کر فرمائی تھی۔حضرت مصلح موعود ؓنے پسر موعود کی پیشگوئی کی 52علامات کا ذکر فرمایا اور ان 52علامات کو اپنی ذات پر چسپاں فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ نے 47ویں اور48ویںعلامت یہ بیان فرمائی کہ

‘‘وہ عالم کباب ہوگا۔ یعنی اس کے زمانہ میں بڑی بڑی جنگیں ہوں گی۔ چنانچہ پہلی جنگ عظیم بھی میرے زمانہ خلافت میں ہوئی اور اب دوسری جنگ بھی میرے زمانہ میں ہورہی ہے۔

اڑتالیسویں وہ بشیر الدولہ ہوگا۔یعنی جس حکومت میں وہ ہوگا خدا اس حکومت کی فتح کی خبر اسے دے گا۔’’
(دعویٰ مصلح موعودکے متعلق پر شوکت اعلان، انوارالعلوم جلد17صفحہ167)

منظور محمد کے بیٹے کی وضاحت

ضمناً یہاں ایک امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ بشیر الدولہ اور عالم کباب کے الہامی نام جو عطا ہوئے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں منظور محمد صاحب کے بیٹے کے لیے بیان کیے ہیں۔ان کا تو بیٹا نہیں تھا تو یہ پسر موعود کے صفاتی نام کس طرح ہو سکتے ہیں۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ان الہامات کے آغاز میں ہی یہ تحریر فرمادیا تھا کہ

‘‘معلوم نہیں منظور محمد کے لفظ سے کس طرف اشارہ ہے…اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبالمند اور صاحبِ دولت ہو۔’’

(تذکرہ ایڈیشن جلد چہارم صفحہ511,510)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بشیر الدولہ اور عالم کباب کی تشریح میں فرمایا:

‘‘بشیر الدولہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ہماری دولت اور اقبال کے لیے بشارت دینے والا ہوگا…غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لیے ایک نشان ہوگا بشیر الدولہ کہلائے گا اوراس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا عالم کباب کے نام سے موسوم ہوگا۔’’

(تذکرہ ایڈیشن جلد چہارم صفحہ533-534)

اس تشریح سے بات عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ علامات اس مہتم بالشان پیشگوئی کا حصہ ہیں جو پسر موعود کی بابت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا کی اور منظور محمد سے مراد آپ علیہ السلام کا ہی بابرکت وجود ہے جو کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے منظور نظر اور عاشق صادق ہیں۔ پیشگوئیوں میں اس قسم کے الفاظ کا استعمال خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا اور آنحضرتؐ کی پیشگوئیوں میں بھی استعارات کا استعمال ہوا ہے۔ حضرت یوسف ؑکی خواب قرآن میںدرج ہے۔ سورج چاند ستارے دیکھے تو اس سے مراد والدین اور بھائی تھے۔آنحضورﷺ نے قیصر و کسریٰ کے محلات کی کنجیاں خواب میں دیکھیں کہ وہ آپؐ کو تھمائی گئی ہیں لیکن حضرت عمر ؓکے دور میںقیصر و کسریٰ کی فتوحات ملیں۔وہ خواب تو سچا نکلا اگرچہ آپ ﷺ کے خلیفہ کے دور میں پورا ہوا۔

بشیر الدولہ ، عالم کباب اور اس کے ساتھ جو علامات الہام ہوئی ہیں یہ سب وہ علامات ہیں جو 20؍فروری1886ء والی پیشگوئی میں مختلف انداز میں بیان ہو چکی ہیں۔مثلاً 20؍فروری والی پیشگوئی میں بشیر کی صفت کا ذکر ہے۔ کلمۃ اللہ کا ذکر ہے۔صاحبِ شکوہ اور عظمت اور دولت کے نام سے یاد کیا گیا۔ جلال الٰہی کے ظہور کا موجب بھی قرار دیا گیا۔ اسی طرح اس پیشگوئی میں مخالفین کی تباہی کا بھی تذکرہ ہے۔ اس لحاظ سے یہ دونوں علامات بشیر الدولہ اور عالم کباب اس پسر موعود کی علامات کی تشریح و تسلسل ہے جو 20؍فروری والی پیشگوئی پسر موعود میں بیان کی گئی ہیں۔

بشیر الدولہ کی علامت کا ظہور

بشیر الدولہ کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کہ

٭…وہ موجب خوشحالی اور دولت مندی ہوگا۔

٭…وہ اقبال مند اورصاحب دولت ہوگا۔

٭…وہ ہماری دولت اور اقبال کےلیے بشارت دینے والا ہوگا۔

٭…اس کی پیدائش کے بعد زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی اور گروہ کثیر ہماری طرف رجوع کرے گا اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔

حضرت مصلح موعود ؓنے دعویٰ کے وقت بشیر الدولہ کی تشریح میں فرمایا :

٭…‘‘وہ بشیر الدولہ ہوگا یعنی جس حکومت میں وہ ہوگا خدا اس کی حکومت کی فتح کی خبر اسے دے گا۔’’
بشیر الدولہ کی مذکورہ علامات کو ہم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات میں دیکھتے ہیں تو بڑی شان کے ساتھ انہیں پورا اترتا ہوا دیکھتے ہیں۔آپ کی ذات جماعت کےلیےموجب خوشحالی اور باعث اقبال ثابت ہوئی۔بشیر الدولہ کا الہام 1906ء میں ہوا۔ یہ وہ سال ہے جب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے محض 17سال کی عمر میں تشحیذالاذہان جیسا علمی رسالہ قادیان سے نکالا اوراس کے علمی معیار کا اعتراف اپنوں اور غیروں سبھی نے کیا۔ یہ سہ ماہی رسالہ تھا اور اس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عطا کردہ ہے۔

ایڈیٹر الحکم حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ نے تشحیذالاذہان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :

‘‘رسالہ تشحیذحضرت صاحبزادہ صاحب کی ایڈیٹری سے نکلتا ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حق بات ہے کہ رسالہ مذکور کے ایڈیٹر کی زبان اور قلم میں بھی وہی شان جلوہ گر ہے جو ہم سب کے آقا اور محبوب مسیح و مہدی کی زبان اور قلم میں تھی۔’’

(الحکم 21؍فروری1909ء)

ہفتہ وار نیر اعظم مراد آباد نے لکھا:

‘‘بلا مبالغہ اسلامی رسالوں میں ریویو آف ریلیجنزکے بعد اس کا شمار کرنا چاہیے۔ مذہب اسلام کو اس کے اجرا سے بہت مدد ملے گی۔’’

(تشحیذ الاذہان جلد اوّل نمبر2صفحہ ج)

پندرہ روزہ رسالہ البیان لکھنؤ نے لکھا :

‘‘مارچ1906ء سے یہ رسالہ قادیان ضلع گورداسپور سے ماہوار اردو زبان میں شائع ہوتا ہے…مضامین زور دار ہیں اور بڑی قابلیت سے لکھے گئے ہیں۔اس رسالہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایک پیشوائے مذہب کے گھر سے شائع ہوتا ہے اور امام وقت کے صاحبزادے اس کو ایڈٹ کرتے ہیں۔’’

(تشحیذالاذہان جلد اوّل نمبر2صفحہ ج۔د)

مولوی محمد علی صاحب نے تبصرہ کیا کہ

‘‘اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت اقدس ؑکے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹر وڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بیّن دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔

صاحبزادہ صاحب کی …دین کی یہ ہمدردی اور دین کی حمایت کا یہ جوش …ایک خارق عادت بات ہے …وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا؟…اے بد قسمت لوگو! غور کرو!کیا مفتری کی اولاد جو اس کے زمانہ میں پرورش پائے ایسی ہوا کرتی ہے؟’’

(ریویو آف ریلیجنز مارچ1906ء صفحہ117)

ان تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ الہام بشیر الدولہ کے سال میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے ایسا علمی کارنامہ سرانجام دیا کہ جس سے وہ جماعت کے لیے صاحب اقبال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان ٹھہرے۔ حضرت مسیح موعود ؑنے صدر انجمن احمدیہ کا قیام فرمایا تو آپ کو مجلس معتمدین کا ممبر مقرر فرمایا۔ اس وقت آپ کی عمر محض 17سال تھی۔جماعت کی ترقی کے لیے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی اپنا کردار ادا کیا اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے دور ِخلافت میں بھی جماعت کی حمایت اور سر بلندی کے لیے تن من دھن کی بازی لگائی۔ انجمن انصاراللہ کی بنیاد 1911ء میں ڈالی۔اسی طرح 1913ء میں اخبارالفضل جاری فرمایا۔

1914ء میں آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور تقریباً 52سالہ دور خلافت میں آپ جماعت کےلیے بشیر الدولہ ثابت ہوئے۔جماعتِ احمدیہ کے لیے فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے کھولے جو کہ ایک لمبی داستان ہے۔

آپ نے 1919ء میں صدر انجمن احمدیہ میں نظارتوں کا قیام فرمایا۔1919ء میںہی دارالقضاء کا نظام جاری کیا۔1922ء میں مجلس مشاورت کے باقاعدہ نظام کا اجرا فرمایا۔آپ نے جماعت کو ذیلی تنظیموں میں تقسیم کیا اور لجنہ اماء اللہ 1922ء مجلس خدام الاحمدیہ 1938ء اور مجلس انصاراللہ 1940ء میں قائم فرمائی۔تقسیم ہندو ستان کے بعد پاکستان میں 1948ء میں نئے مرکز احمدیت ربوہ کا قیام آپ کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔تبلیغ اسلام اور تربیت کے نظام کے لیے تحریک جدید1934ء میں اور وقف جدید1957ء میں قائم فرمائی۔ غیر ممالک میں شوکت اسلام دکھانے اور دعوت اسلام پہنچانے کے لیے 1924ء اور 1955ء میں آپ نے یورپ کے سفر اختیار فرمائے۔

اسلام،قرآن،فلسفہ، تربیت، فقہ، سیرت، سیاسیات، اخلاقیات، اسلامی عقائد،جماعتی علم الکلام اور متفرق موضوعات پر 225سے زائد کتب و رسائل تصنیف فرمائے۔ آپ کی تفسیر کبیر، تفسیر صغیر کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر کرنے پر بیّن ثبوت ہیں۔

آپؓ کے عہدمبارک میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ‘‘میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا’’ بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی اور افریقہ، امریکہ،یورپ اور جزائر میں اسلام کا پیغام پہنچا اور احمدیت کی جڑیں مضبوطی کے ساتھ قائم ہوئیں۔آپ نے فدائین اور سرفروش واقفین اور مبلغین کی ایک کثیر تعداد تیار کر دی جو دنیا بھر میں پھیل گئے اور دنیا کو الٰہی بشارت دینے کا سبب بنے۔الغرض آپ کے بشیر الدولہ ہونے کی داستان بہت طویل ہے۔

حضرت مصلح موعود ؓنے بشیر الدولہ کی یہ بھی تشریح فرمائی کہ جس حکومت میں وہ ہوگا خدا اس کی حکومت کی فتح کی خبر اسے دے گا۔چنانچہ آپ نے دو حکومتوں (1)انگریزوں کے دور میں 1947ء تک کا وقت گزارا۔اور اس دور میں جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم لڑی گئیں۔دونوں جنگوں میں انگریزوں اور ان کے اتحادیوں کو فتوحات نصیب ہوئیں۔تحریک پاکستان میں بھی آپ نے بشیر الدولہ کا کردار ادا کیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی پیشگوئیاں جن کا تعلق زلزلہ عظیمہ اور جنگوں اور جماعتی ترقی کے ساتھ تھا وہ آپ کی پیدائش کے بعد یا آپ کے عہد خلافت میںپوری ہوئیں۔اس لحاظ سے بھی آپ بشیر الدولہ ٹھہرے۔

عالم کباب کی علامت کا ظہور

پسر موعود کی علامت ‘‘عالم کباب’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح کے مطابق یہ ہے کہ

٭…آپ کے پیدا ہونے کے بعد دنیا پر سخت تباہی آئے گی گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

٭…مخالفوں کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا۔ اس لیے عالم کباب سے موسوم ہوگا۔

حضرت مصلح موعود ؓنے پسر موعود کی 47ویں علامت عالم کباب کو ٹھہرایا اور فرمایا کہ

٭…اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے زمانے میں بڑی بڑی جنگیں ہوں گی۔

یوں یہ علامت اللہ تعالیٰ کی قہری تجلی کے ظہور سے تعلق رکھتی ہے جس کا ایک ظہور تو من حیث المجموع پوری دنیا کے ساتھ ہے کہ جنگ و جدال سے بہت تباہی آئے گی اور زلزلے آئیں گے اور دوسری طرف جماعتی مخالفین کو بھی شرمندگی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔چنانچہ ہر لحاظ سے یہ علامت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے وجود میں بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔

دنیامیں بڑی بڑی آفتیں ،زلزلے ،جنگیں اس دَور میں مسلط ہوئیں اور عالمگیر جنگیں بھی ہوئیں اور تاریخ میںمعروف جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم دونوں حضرت مصلح موعود ؓ کے عہد میں لڑی گئیں۔

زلزلوں کا آنا

زلزلوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قہری تجلی کا ظہور اس دور میں کیا تاکہ لوگ اپنے خالق اور اس کے مامور کو پہچان سکیں۔ حضرت مسیح موعود ؑنے زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی فرمائی تھی۔یہ پیشگوئی 1905ء میں ہندوستان میں پوری ہوئی جب زلزلہ نے تبا ہی مچادی اور بیس ہزار سے زائد افراد اس زلزلے کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے۔

1906ء میں ایکواڈور، تائیوان اور چلّی میں زلزلے آئے جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئی۔1907ء میں تاجکستان میں زلزلےسے15000افراد ہلاک ہوئے۔ 1908ء میں اٹلی میں آنے والے زلزلے نے تباہی مچائی اور 80؍ہزار افراد ہلا ک ہوئے۔1915ء میں اٹلی میں پھر زلزلہ آیا 30؍ہزار افراد ہلاک ہوئے۔1923ء کے زلزلے نے جاپان میں تباہی مچادی اور ایک لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔1927ء میں چین میں تباہ کن زلزلہ سے چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1929ءاور 1930ء ایران میں زلزلوں سے تباہی ہوئی۔1934ء نیپال /بہارمیں زلزلہ سے بارہ ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے۔ 1935ء میں بلوچستان میں آنے والے زلزلہ نے تباہی مچائی اورکوئٹہ شہر تباہ ہوا۔ تیس سے ساٹھ ہزار افراد کی ہلاکت کا ذکر ملتا ہے۔ 1939ء میں چلّی میں زلزلہ سے 28؍ہزار افراد اور ترکی میں 32؍ہزار افراد ہلاک ہوئے۔1945ء میں بلوچستان میں پھر زلزلہ آیا اور چار ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔ 1950ء میں تبت آسام میں زلزلہ سے بہت جانی نقصان ہوا۔بڑے زلزلوں کی یہ ایک مختصر جھلک تھی جو حضرت مصلح موعود ؓکے دور میں آئے۔

جنگ و جدال

آپ کے زمانے میں بڑی بڑی جنگوں کا ہونا بھی عالم کباب ہونے کی نشانی تھی۔چنانچہ بیسویں صدی میں دنیا میں بہت سی جنگیں لڑی گیں جن میں دو جنگیں تو عالمی نوعیت کی تھیں۔ جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم۔جنگ عظیم اوّل اس وقت شروع ہوئی جب آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ اور جنگ عظیم دوم اس وقت جاری تھی جب آپ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا۔ گویا آپ کے عہد کے ساتھ جنگوں کا ہونا ایک بڑی علامت تھی۔اسی طرح آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہوئی۔ یوں عالم کباب ہونے کی پیشگوئی اس رنگ میں بھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ان جنگوں کے علاوہ دنیا بھر میں مختلف خطوں میں بیسویں صدی میں جنگیں لڑی گئیں جن میں لاکھوںلوگ مارے گئے۔انتہائی اختصار کے ساتھ صرف اشارۃً بعض جنگوں کا ذکردرج ذیل ہے۔

روس اور جاپان کے درمیان جنگ 1904-1905ء میں ہوئی۔ 1912-1911ءمیں اٹلی اور ترک ریاستوں کے درمیان جنگ شمالی افریقہ میں ہوئی۔1914ء سے 1918ء کے درمیان جنگ عظیم اوّل ہوئی۔ اس جنگ میں جرمنی، ہنگری،آسٹریا اور ترکی نے اتحادیوں کے خلاف جنگ کی جن میں فرانس، برطانیہ،روس،اٹلی،جاپان اور امریکہ شامل تھے۔اس جنگ میں اتحادیوں کو فتح ملی۔اس جنگ میں 85؍لاکھ فوجی اور ایک کروڑ تیس لاکھ سویلین مارے گئے۔1918-ءسے1920ءمیں روس اور پولینڈ کی جنگ ہوئی اس میں ہزاروں فوجی اور سویلین ہلاک ہوئے۔1932ءتا1935ءکےدوران بولیویا اور پیراگوئے کے درمیان شدید جنگ ہوئی جسے Chaco Warکہتے ہیں۔ایک لاکھ سے زائد لوگ اس میں مارے گئے۔ 1935ءتا1936ء میں اٹلی اور ایتھوپیا کی جنگ ہوئی۔ 1936ءتا1939ء سپین میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں اٹلی اور جرمنی کی حمایت سے باغیوں نے جنگ کی اس میں پانچ لاکھ سے زائد جانوں کا نقصان ہوا۔

1937ءتا1945ءچین اور جاپان کی جنگ میں بہت جانی نقصان ہوا۔ روس اور فِن لینڈ کے درمیان 1939ء اور1940ء میں جنگ ہوئی۔ اور پھر 1939ءسے 1945ء تک دنیا میں جنگ عظیم دوم لڑی گئی۔یہ جنگ جرمنی ، اٹلی اور جاپان نے اتحادیوں کے خلاف لڑی جس میں امریکہ ، برطانیہ، روس، فرانس اور ان کے اتحادی شامل تھے۔اس جنگ میں چار سے پانچ کروڑ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ 1944-1945ء تک یونان کی خانہ جنگی میں بھی شدید جانی نقصان ہوا۔عرب اسرائیل جنگ جو 1948ء اور پھر 1956ءاور1967ء میں ہوئی اور آج تک متنازعہ خطہ ہے اس میں لاکھوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔1950-1953ء میں کوریا کی جنگ جو کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ہوئی اور بڑی بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اس میں 25؍لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔ویتنام کی جنگ جو 1954ءسے 1975ء تک جاری رہی یہ کمیونسٹوں اور امریکہ کے درمیان جنگ تھی۔ اس جنگ میں پچاس لاکھ سے زائد جانوں کا نقصان ہوا۔ یوں حضرت مصلح موعودؓ کے عہد کا عالم کباب ہونا ایک بہت بڑی داستان ہے۔

مخالفین کے لیے قیامت کا نمونہ

عالم کباب کی علامت میں یہ بات بھی داخل تھی کہ آپ اپنے مخالفین کے لیے قیامت کا نمونہ ہونگے۔مخالف خواہ اندرونی ہوں یا بیرونی ہر دو مخالفتوں کے وقت آپ کوہِ وقار بنے رہے اور مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تائید ِالٰہی سے مخالفین کے پائوں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھی گئی۔

حضرت مصلح موعود ؓ کا سارا عہد اندرونی اور بیرونی مخالفتوں اور سازشوں سے معمور ہوا ہے اور آپ نے ان تمام مخالفتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ آغاز خلافت میں منکرین خلافت کے فتنہ کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ ان کےلیے عالم کباب بنے رہے۔اسی طرح کئی اور اندرونی فتنوں کا سامنا تیس کی دہائی اور پچاس کی دہائی میں آپ نے کیا اور مخالفین ناکام ہوئے۔

بیرونی مخالفتوں کی داستان بھی بہت طویل ہے۔ کئی مخالفتوں میں آپ کے مخالفین کو حکومتی پشت پناہی بھی حاصل تھی لیکن آپ کے وجود کے سامنے وہ مخالفین خس و خاشاک کی طرح ہَوا میں اُڑ گئے۔1934ء میں احرار نے کئی قوتوں کے ساتھ مل کر قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بَڑھ ماری لیکن آپ ایک طرف تو جماعت کو حوصلہ دیتے ہوئے ان کے لیے بشیر الدولہ ثابت ہوئے تو دوسری طرف فرمایا کہ میں احرار کے پائوں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔یہ زمین نکلتی ہوئی سب نے مشاہدہ کی اور ایسے میں آپ نے تحریک جدید کی بنیاد رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام اور الٰہی بشارات کو دنیا بھر میں پھیلانے کی مضبوط بنیاد رکھی جس کے افضال کا مشاہدہ آج ہم دنیا بھر میں کر رہے ہیں۔1953ء میں بھی مخالفین نے جماعت کے خلاف مخالفت کا پہاڑ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور مخالفانہ شورش بپا کی لیکن ایسے حالات میں بھی مخالفین کی مخالفت ان کے اوپر پڑی اور جماعت حضرت مصلح موعود ؓکی قیادت میں سرخرو ہو کر شاہراہ ِترقی پر گامزن رہی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ سیدنا محمودؓ کے جاری کردہ منصوبوں اور سکیموں اور آپ کے مشن کی تکمیل کےلیے زیادہ وسعت کے ساتھ سعی ٔ پیہم کر رہی ہے اور اس کے نیک نتائج کا مشاہدہ ہر احمدی ہر روز ہر خطے میں کرتے ہوئے پسر موعود کی علامات کے پورا ہونے پر گواہ بنتا ہے۔الغرض پیشگوئی پسرِ موعود کی مذکورہ بالا دونوں علامات بشیر الدولہ اور عالم کباب بڑی شان کے ساتھ سیّدنا محمود کی ذات میں پوری ہوئیں۔

جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ مَیں ضرور

ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close