متفرق مضامین

2020ء: جماعت احمدیہ امریکہ کے قیام کے سو سال

(ذیشان محمود۔)

’’امریکہ میں ایک دن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی‘‘ (المصلح الموعودؓ)

امریکہ میں احمدیت کا پیغام

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز امریکہ میں احمدیت کے پیغام پہنچنے کے متعلق فرماتے ہیں کہ

‘‘حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی یہاں پیغام پہنچ گیا تھا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ‘‘… ایسا ہی اور کئی انگریز ان ملکوں میں اس سلسلہ کے ثنا خوان ہیں اور اپنی موافقت اس سے ظاہر کرتے ہیں ۔…’’ بڑی تعریف کرتے ہیں اور یہ اظہار کرتے ہیں کہ ہم بالکل اس تعلیم کے قائل ہیں ۔ تو فرماتے ہیں ‘‘… چنانچہ ڈاکٹر بیکر جن کا نام ہے اے جارج بیکر نمبر 404سیس کوئی ہینا ایونیو (Susquehanna Avenue) فلاڈلفیا امریکہ۔ میگزین ریویو آف ریلیجنز میں میرا نام اور تذکرہ پڑھ کر اپنی چٹھی میں یہ الفاظ لکھتے ہیں ۔…’’ جس نے مضمون لکھا تھا ان کو بیکر صاحب یہ لکھتے ہیں کہ ‘‘مجھے آپ کے امام کے خیالات کے ساتھ بالکل اتفاق ہے۔ انہوں نے اسلام کو ٹھیک اُس شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس شکل میں حضرت نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا۔ ’’

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد21 صفحہ106)

پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ عاجز راقم کو ان تھوڑے سے ایام میں جو ملک امریکہ میں داخل ہوئے گزرے ہیں باوجود بڑی مشکلات اور رکاوٹوں کے جو متعصّب عیسائیوں کی طرف سے پیش آئیں معتدبہ کامیابی حاصل ہوئی۔ الحمد للہ علی ذالک۔ پھر لکھتے ہیں کہ اس وقت 29 نئے جنٹلمین اور لیڈیاں عاجز کی تبلیغ سے داخل دین متین ہو چکے ہیں جن کے اسمائے گرامی مع جدید اسلامی نام پیش کئے جاتے ہیں ۔ پھر وہ تفصیل پیش کی پھر آپ نے لکھا کہ نمبر 1 اور 2 ڈاکٹر جارج بیکر اور مسٹر احمد اینڈرسن یہ ہر دو صاحبان ایک عرصے سے عاجز کے ساتھ خط و کتابت رکھتے تھے اور مدت سے مسلمان ہو چکے ہیں ۔ مخلص مسلمان ہیں ، مَیں ضروری سمجھتا ہوں ان کا نام اس فہرست میں سب سے اوّل رکھا جائے۔

(ماخوذ از الفضل 22 جولائی 1920ء جلد 8 نمبر 4 صفحہ 1)

پھر جیسا کہ مَیں نے کہا بعض دوسرے لوگوں کا ذکر ہے۔ اب یہ سنا ہے کہ یہاں فلاڈلفیا میں ڈاکٹر بیکر کی قبر بھی تلاش کر لی گئی ہے۔ ان کی وفات 1918ء میں ہوئی تھی۔ ان کی یہیں تدفین ہے۔ تو اس زمانے میں آج سے تقریباً سو سال پہلے سے یہاں احمدیت آئی ہوئی ہے۔

(خطبہ جمعہ 19؍ اکتوبر 2018ء)

احمدیت کے باقاعدہ نفوذ کی عملی کاوش

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ چونکہ مصلح موعودتھے اس لیے آپؓ کا دورِ خلافت سلسلہ خلفاء کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں اس خلافت کو نوازا ہے اور اس کے ہر پہلو کو اپنی برکت کے ہاتھ سے ممسوح کیا ہے اور اس کے ساتھ غیر معمولی برکتوں اور حیرت انگیز ترقیوں اور مافوق العادت کامیابیوں کو وابستہ فرمایا ہے۔ وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔

جہاں تک خلافت ثانیہ کے روحانی و مذہبی اثر و نفوذ کی وسعت کا تعلق ہے اسے ایک عالم گیر حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ حضورؓ خود ہی فرماتے ہیں۔

‘‘میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے عرب، ایران، چین، جاپان، یورپ، امریکہ، افریقہ، سماٹرا، جاوا اور خود انگلستان کے لئے غرضیکہ کل جہان کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔ اس بارے میں اہلِ انگلستان بھی میرے تابع ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوں۔’’

( الفضل 21 مارچ 1914ء صفحہ 2-3 بعنوان کلمات طیبات)

اس ‘‘عالمگیر خلافت’’ اور ‘‘مذہبی حکومت’’ کے ساتھ ہی حال و مستقبل میں اسلام کی ترقی اور سربلندی وابستہ ہے جیسا کہ حضور نے لکھا ہے کہ

‘‘اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ ہمیشہ وہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جو میری سنے گا وہ جیتے گا۔ اور جو میری نہیں سنے گا وہ ہارے گا جو میرے پیچھے چلے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر مکمل کھولے جائیں گے۔ اور جو میرے راستہ سے الگ ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دئے جائیں گے’’۔

(الحکم 21مارچ ۱1914ء صفحہ 3کالم 3۔الفضل 18مارچ 1914ء صفحہ1کالم 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے خلفاء میں ایک بھاری فرق ہے۔ یہ فرق حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الفاظ میں یہ ہے کہ

‘‘جہاں تک خلافت کا تعلق میرے ساتھ ہے اور جہاں تک اس خلافت کا ان خلفاء کے ساتھ تعلق ہے جو فوت ہو چکے ہیں۔ ان دونوں میں ایک امتیاز اور فرق ہے۔ ان کے ساتھ تو خلافت کی بحث کا علمی تعلق ہے اور میرے ساتھ نشانات خلافت کا معجزاتی تعلق ہے پس میرے لئے خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور اس کے زندہ معجزات اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے’’۔

(برکات خلافت طبع اول صفحہ 6)

ان آسمانی نشانات و معجزات میں خدائی تائید و نصرت کا نشان ایسا کھلا اور واضح نشان ہے جو آج تک حضور کی زندگی کے ہر گوشہ میں ہمیشہ جلوہ فرما نظر آتا ہے۔ خلافت ثانیہ کی تاریخ ابتدا ہی سے مخالفتوں کے ہجوم میں گھری ہوئی ہے مگر اس مقدس سالار کی قیادت میں احمدیت کا قافلہ فتح و ظفر کا پرچم لہراتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور آئندہ سے متعلق بھی خدائی فیصلہ یہی ہے کہ حضور کی سرکردگی میں جماعت احمدیہ کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ چنانچہ حضور نے ایک عرصہ ہوا یہ ارشاد فرمایا تھا۔

‘‘میرے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے لئے غلبہ اور ترقی اور کامیابی ہی مقدر ہے اور کوئی اس الٰہی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس بات پر خواہ کوئی ناراض ہو۔ شور مچائے۔ گالیاں دے یا برا بھلا کہے اس سے خدائی فیصلہ میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ یہ تقدیر مبرم ہے جس کا خدا آسمان پر فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ میری زندگی کے آخری لمحات اور میرے جسم کے آخری سانس تک جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھاتا چلا جائے گا۔ جس طرح خدا کی بادشاہت کو کوئی شخص بدل نہیں سکتا اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے وعدہ کو بھی کوئی شخص بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا یہ زمین و آسمان کے خدا کا وعدہ ہے کہ بہرحال میری زندگی میں جماعت کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ میں نہیں جانتا کہ میرے بعد کیا ہو گا۔ مگر بہرحال یہ خدائی فیصلہ ہے میری زندگی میں کوئی انسانی طاقت اس سلسلہ کی ترقی کو روک نہیں سکتی’’۔

(الفضل 11 مارچ 1914ء صفحہ 6۔ حقیقة الرویاء صفحہ 96-97)

1920ء کا سال

1920ء کے سال کو وہ خصوصیت حاصل ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ کا الہام میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اس طرح پورا ہوا کہ خلافت ثانیہ کے ساتویں سال میں سلسلہ احمدیہ کی باقاعدہ تبلیغی مہم امریکہ تک پہنچ گئی اور امریکہ میں مستقل مرکز کی بنیاد پڑی۔

دارالتبلیغ امریکہ کی بنیاد

حضرت مسیح موعودؑ کا ایک نمایاں مخالف ڈاکٹر الیگزینڈر ڈووِی جو امریکہ میں اسلام کا ایک بہت بڑا معاند بن کر ابھرا عیسائی مشن اور پادریوں کے ذریعہ اسلام مخالف کارروائیوں میں سرگرمِ عمل تھا۔ خدائی سکیم کے مطابق فالج زدہ ہو کر 9؍ مارچ 1907ء کو خدائی پیشگوئیوں کے مطابق عبرت کا نشان بنا۔ اور اس کے مشن کی جگہ خدائی مشن اس سر زمین پر شروع ہوا۔

دراصل امریکہ کے پادری گذشتہ صدی سے تمام عالم اسلام حتیٰ کہ مرکزِ اسلام مکہ معظمہ پر بھی صلیب کے جھنڈے لہرانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ مسٹر جان ہنری بیروز(John Henry Berose) نے گذشتہ صدی کے نصف آخر میں کہا تھا کہ صلیب کی چمکار آج ایک طرف لبنان پر ضوافگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمک سے جگمگا رہا ہے یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا جب قاہرہ دمشق اور تہران کے شہر خداوند یسوع کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔ حتیٰ کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔ اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگا ۔

(بیروز لیکچرز صفحہ 42)

یہ حالات تھے جن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓکو جو اس وقت انگلستان میں تھے امریکہ چلے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ آپؓ 26؍ جنوری 1920ء کو انگلستان کی بندرگاہ لِور پول (Liverpool)سے روانہ ہوئے اور آج سے پورے ایک سو سال قبل 15؍فروری1920ء کو امریکہ کی بندرگاہ فلاڈلفیا (Philadelphia)پر اترے لیکن شہر کے اندر داخل نہ ہو سکے کیونکہ راہداری کے انسپکٹر نے کئی گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد صرف اس وجہ سے کہ آپ ایک ایسے مذہب کے داعی و مبلغ تھے جو تعددِ ازدواج(polygamy) کی اجازت دیتا ہے آپ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ اور فیصلہ کیا کہ آپ جس جہاز میں آئے ہیں اسی میں واپس چلے جائیں۔

حضرت مفتی صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف محکمہ آباد کاری (واشنگٹن) میں اپیل کی۔ اپیل کے فیصلہ تک آپ کو سمندر کے کنارے ایک مکان میں بند کر دیا گیا۔ جس سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی مگر چھت پر ٹہل سکتے تھے۔ اس کا دروازہ دن میں صرف دو مرتبہ کھلتا تھا جبکہ کھانا کھلایا جاتا تھا۔

قید میں پیغامِ حق

اس مکان میں کچھ یورپین بھی نظر بند تھے جو عموماً نوجوان تھے اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تک کے لیے یہاں نظر بند کر دیے گئے تھے جب تک حکام کی طرف سے ان کے متعلق کوئی فیصلہ ہو۔ یہ لوگ حضرت مفتی صاحب کابڑا ادب کرتے تھے۔ اور ان کی ضرویات کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے لیے نماز پڑھنے کی جگہ بھی انہوں نے بنادی تھی۔ اور برابر خدمت کرتے رہتے تھے۔ حضرت مفتی صاحبؓ نے موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ان نوجوانوں ہی کو تبلیغ کرنا شروع کردی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو ماہ کے اندر پندرہ آدمی اسی مکان میں مسلمان ہوئے۔

اِدھر یہ صورت ہوئی اُدھر آپ کی شہرت کا غیبی سامان یہ ہوا کہ امریکن پریس نے آپ کی آمد اور ملک میں داخلے کی ممانعت کا بہت چرچا کیا۔ اور بعض مشہور ملکی اخبارات مثلاً ‘‘فلاڈلفیا ریکارڈ’’۔ ‘‘پبلک ریکارڈ’’۔‘‘نارتھ امریکن بلیٹین’’۔ ‘‘ایوننگ بلیٹین’’۔ ‘‘پبلک لیجر’’۔ ‘‘دی پریس’’ نے نہ صرف آپ کی آمد کے بارے میں خبر دی۔ بلکہ جماعت احمدیہ کے حالات بھی شائع کئے۔

( حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی آپ بیتی صفحہ50 مرتبہ جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی مطبوعہ 1946ء طبع اول)

سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے امریکی حکومت کے اس رویہ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔

‘‘امریکہ جسے طاقتور ہونے کا دعویٰ ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ہوگی۔ روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کر کے نہیں دیکھا۔ اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ ہمیں وہ ہرگز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے ہم امریکہ کے اردگرد علاقوں میں تبلیغ کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بناکر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ نہیں روک سکے گا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ایک دن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی’’

(الفضل 15 اپریل 1920ء صفحہ12)

قید سے رہائی

آخر شروع مئی 1920ء میں امریکی حکومت کی طرف سے حضرت مفتی صاحب سے پابندی اٹھالی گئی۔ جس کی فوری وجہ یہ ہوئی کہ حضرت مفتی صاحب کی تبلیغ سے کئی انگریزوں کے مسلمان ہونے کی خبر جب متعلقہ محکمہ کے افسر کو پہنچی تو وہ بہت گھبرایا اور سوچنے لگا کہ اس طرح تو یہ آہستہ آہستہ سارے نظر بند نوجوانوں کو مسلمان کرلیں گے۔ اور جب شہر کے پادری صاحبان کو اس کا علم ہوگا تو وہ سخت ناراض ہوں گے۔ اور شہر کی پبلک میرے خلاف ہوجائے گی اس پر اس نے اعلیٰ افسروں کو تار دیے کہ جس قدر جلد سے جلد ممکن ہو ہندوستانی مشنری کو اندرونِ ملک میں داخلے کی اجازت دےدی جائے چنانچہ حکام نے بھی آپ کے امریکہ داخل ہونے کا فیصلہ کر دیا۔ اور حضرت مفتی صاحبؓ نے نیو یارک میں داخل ہوکر ایک مکان کا حصہ لیکچروں اور دفتر کے لئے کرایہ پر لے کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا اور سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگیں۔

( حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی آپ بیتی۔ صفحہ51، الفضل 14 جون 1920ء صفحہ4)

مشن کا قیام

اس کے بعد آپ نے ڈیٹرائٹ (Detroit)میں چند ماہ قیام فرمایا اور عرب آبادی میں خاص طور پر پیغام حق پہنچایا پھر 1921ء میں آپ شکاگو(Chicago) منتقل ہوگئے وہاں آپ نے ایک عمارت خرید کر امریکہ مشن کا مرکز قائم کیا۔( اس عمارت کو بعد میں مسجد کی شکل دے دی گئی اور اب یہ مسجد شگاگو کے نام سے مشہور ہے۔) اور ‘‘دی مسلم سن رائز’’ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی جاری کیا۔ حضرت مفتی صاحب (جو امریکہ میں آج تک ڈاکٹر صادق کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں)4 دسمبر 1923ء میں قادیان تشریف لے گئے اور امریکہ مشن کا چارج حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے لے لیا۔

حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے اپنے عرصۂ خدمت میں امریکہ کے طول وعرض میں تبلیغی حدود کو اور زیادہ وسعت دی اور کئی امریکنوں کو مسلمان کیا۔ آپ جنوری 1923ء میں قادیان سے تشریف لے گئے اور 30جون 1925ء کو واپس تشریف لے آئے۔

20؍ مئی 1928ء کو مکرم صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مشن کے باقاعدہ انچارج بناکر بھیجے گئے جو 18 اگست1928ء کو شکاگو پہنچے۔ ملک میں ان دنوں گورے اور کالے کا سوال بہت شدت سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اور شکاگو مشن کالے باشندوں کی آبادی میں ہونے کی وجہ سے سفید فام لوگوں کی آمدورفت بہت کم تھی۔ اس لئے صوفی صاحب نے 1929ء میں شہر کے مرکز میں ایک اَور مکان کرایہ پر لے لیا۔ جو شہر کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے لوگوں کے لئے بآسانی تبلیغی سنٹر بن گیا۔

مکرم صوفی صاحب 13؍ دسمبر 1935ء کو واپس قادیان آئے اور دوبارہ 21اکتوبر 1936ء کو امریکہ بھیجے گئے۔ جہاں آپ بارہ سال تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دینے کے بعد 1948ء میں واپس آئے۔ آپ نے اپنے زمانہ قیام میں رسالہ ‘‘مسلم سن رائز’’ کی اشاعت کے علاوہ آنحضرتﷺ کی سیرت اور قبر مسیحؑ پر شاندار تصانیف شائع کیں۔ علاوہ ازیں آپ نے متعدد پمفلٹ اور ٹریکٹ صداقت اسلام پر شائع کیے آپ کے ذریعہ امریکہ میں متعدد نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔

ابتدائی مبلغین امریکہ


صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مرحوم کے بعد مندرجہ ذیل مبلغین نے امریکہ میں تبلیغ کا فریضہ ادا کیا۔

مکرم چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ایم۔ اے (شکاگو۔ واشنگٹن)

مکرم چوہدری غلام یٰسین صاحب بی۔ اے (نیویارک واشنگٹن)

مکرم مرزا منور احمد صاحب مولوی فاضل مرحوم (جوپٹس برگ میں ہی شہید ہوئے)

مکرم چوہدری شکر الٰہی صاحب (سینٹ لوئیس)

مکرم عبدالقادر ضیغم مولوی فاضل (پٹس برگ)

مکرم مولوی نورالحق صاحب انورمولوی فاضل (نیویارک)

مکرم سید جواد علی شاہ صاحب بی ۔اے (ڈیٹرائٹ)

مکرم امین اللہ خان سالک شاہد بی۔ اے(شکاگو)

مکرم صوفی عبدالغفور صاحب بی۔اے(واشنگٹن نیویارک)

مکرم عبدالرحمان خان صاحب بنگالی بی ۔ اے (واشنگٹن پٹس برگ)

مکرم راجہ عبدالحمید صاحب (ڈیٹن)

ہدایات مبلغین از حضرت مصلح موعودؓ

1923ء کے آغاز میں 7؍جنوری 1923ء کو حضرت مولوی محمد دین صاحب امریکہ میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے آپ کو مفصل ہدایات و نصائح لکھ کر دیں۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ نَو مسلموں کو اسلامی اخلاق کا پابند بنائیں۔ ان کا مرکز اور خلیفۂ وقت سے عاشقانہ تعلق اور قربانی کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں دعا پر زور دیں۔ سیاہ اور سفید نسل والوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں۔ سیاست سے الگ رہیں قرآن مجید پر تدبر کریں۔ ایسی تمام مجالس سے بچیں جو لغو کاموں پر مشتمل ہوں۔ اپنی زندگی سادہ اور بے تکلف بنائیں۔ پہلے مبلغین کی خدمات کا دل،زبان اور قلم سے اعتراف کریں۔ یہ امر خوب یاد رکھیں کہ ہم آدمیوں کے پرستار نہیں بلکہ خدا کے بندے ہیں۔

اسی سلسلہ میں حضور نے ایک اہم نصیحت یہ فرمائی کہ خلیفۂ وقت کی فرمانبرداری اپنا شعار بنائیں اور یہی روح اپنے زیر اثر لوگوں میں پیدا کریں۔

(الفضل 25 جنوری 1923ء صفحہ3-6)

دار التبلیغ کی منتقلی اور اہم جماعتیں

1950ء سے امریکہ کا مرکزی دارالتبلیغ شکاگو کی بجائے واشنگٹن مقرر کیا گیا ہے اور اس کے حلقہ میں شکاگو، واشنگٹن، بوسٹن، فلاڈلفیا، نیویارک، بالٹی مور، پٹس برگ، نیگس ٹاؤن، کلیولینڈ، ڈیٹن، انڈیا ناپولس، ملواکی، سینٹ لوئیس اور کینس سٹی، ولیاینٹک اور ڈیٹرائٹ میں مشہور جماعتیں قائم ہوئیں۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 252)

بعض ابتدائی مخلص احمدیوں کے اسماء

امریکہ کے بعض نہایت مخلص اور ایثار پیشہ احمدیوں کے نام یہ ہیں:۔

ولی کریم۔ لطیفہ کریم۔ امتہ اللطیف۔ مرسل شفیق (ڈیٹن) احمد شہید۔ علیہ شہید۔ ابوصالح ابوالکلام۔ رشیدہ کلام۔ (پٹس برگ) علیہ علی (انڈیاناپولس) نور الاسلام۔ محمد بشیر(شکاگو) زینب عثمان۔ عبداللہ علی (سینٹ لوئیس) عبدالحکیم‘امتہ الحفیظ (کلیولینڈ)کریما کریم عبدالرحمان(بالٹیمور)رشیدہ طٰہ (واشنگٹن) بشیر افضل مصطفٰے دلیل (نیو یارک) خلیل محمود ایم۔ اے (باسٹن)

(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 252)

امریکہ مشن کی کامیابی کا اقرار

امریکہ میں جماعت احمدیہ کو تبلیغ اسلام کے کام میں جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کا ترجمان ‘‘پنوراما’’ لکھتا ہے کہ

‘‘1,000 American converts to Islam by Ahmadiyya’’

یعنی امریکہ میں ایک ہزار نو مسلم جماعت احمدیہ کی مساعی کے نتیجہ میں داخل اسلام ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایک امریکن پادری نارمن ونسنٹ پیل (Norman vincent peal)خود امریکہ میں عیسائیت کی ناکامی کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

‘‘گذشتہ سال موسم بہار میں عوامی رجحانات کا جائزہ لینے کا ایک خاص اہتمام کیا گیا تھا اس کے نتیجے میں پتہ چلا کہ گرجوں میں حاضری روز بروز گر رہی ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب (عیسائیت) کا اثر روز بروز کم ہوتا جارہا ہے ان کی تعداد پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ۔ ایک اور جدید رجحان یہ ہے کہ بائبل کو خدا کا مستندالہامی کلام تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لیا جارہاہے۔ یہ اب محض ایک دینی کتاب کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ اور اس منہ بولتی تصدیق کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ کہ خداوند کا فرمان یہ ہے ‘‘یقیناً خداوند کا فرمان اور انجیل وہ بنیادیں ہیں جن پر پروٹسٹنٹ ازم قائم ہے جب یہ بنیاد ہی کمزور ہوجائے۔ تو پھر پوری عمارت کا متزلزل ہونا لازمی ہے’’۔

(14۔ ریڈرز ڈائجسٹ (امریکن ایڈیشن) ستمبر 1963ء صفحہ 52-53 بحوالہ انصار اللہ دسمبر1962ء صفحہ 42-43)

الصراط المستقیم نمبر26 (بغداد) نے لکھا۔

‘‘مسلمانان عالم آج تک کسی یورپین زبان میں ایک اخبار بھی جو دین اسلام کے حقائق بیان کرے شائع نہیں کر سکے۔ انہیں آج تک یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ یورپ کے کسی شہر میں مسجد یا مشن کی بنیاد رکھیں۔ لیکن قادیانی احمدیوں نے امریکہ اور یورپ میں بہت سی مساجد تعمیر کی ہیں ان ممالک میں ان کے کئی مشن ہیں انگریزی اور دیگر کئی زبانوں میں ان کے اخبارات بھی جاری ہیں‘‘۔

( ترجمہ البشریٰ جلس 13 صفحہ 40۔ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 533)

دارالتبلیغ شام و فلسطین کے قیام پر بلاد عربیہ کے چند فضلاء و ادباء کے افکار و آراء درج ذیل ہیں جنہوں نے یورپ اور امریکہ میں جماعت احمدیہ کی اشاعتِ اسلام کی مساعی کو سراہا۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4)

اخبار ‘‘الجزیرۃ’’ عمان (اردن) مورخہ 12جون 1949ء لکھتا ہے۔

‘‘ہم اس بات کا اعتراف کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مبلغین بڑی ہمت اور تندہی سے اپنا کام کرتے ہیں اور اسلام کے پھیلانے کے لیے بہت جدوجہد کر رہے ہیں۔ افریقہ کے غیر آباد علاقوں اور وسط افریقہ اور امریکہ میں تو ان کی یہ کوششیں اور بھی زیادہ ہیں’’۔

(ترجمہ حوالہ البشریٰ جلس 13 صفحہ 240۔ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 533)

الحاج عبدالوہاب عسکری (بغداد کے صحافی) لکھتے ہیں۔

‘‘جماعت احمدیہ نے دین اسلام کی جو خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان میں تبلیغی لحاظ سے وہ ساری دنیا پر فوقیت حاصل کر چکے ہیں ……یہ لوگ اعلائے کلمۃ الدین کے لئے ہر قسم کے ممکن ذرائع اختیار کرتے ہیں اور ان کے بڑے بڑے کارناموں میں سے محکمہ تبشیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے نیز وہ مسجدیں ہیں جو انہوں نے امریکہ،افریقہ اور یورپ کے مختلف شہروں میں بنائی ہیں اور یہی وہ سنت ناطقہ ہے جس کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اور اسی کے ذریعہ اسلامی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ بلاشبہ جماعت احمدیہ کے ہاتھوں اسلام کا مستقبل اب روشن ہو گیا ہے’’۔

(ترجمہ مشاہداتی فی سماء الشرق صفحہ 43-45۔ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 533)

جسٹس دان۔ ڈیر کو دوف ‘‘دی مسلم ورلڈ’’(جنوری 1962ء) کی اشاعت میں لکھتے ہیں۔

‘‘انڈونیشیا کے ایک مشہور پبلشر نے مجھے بتایا کہ انڈونیشیا کا نوجوان علمی طبقہ جماعت احمدیہ کا لٹریچر بڑے شوق کے ساتھ خریدتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ انڈونیشیا کے بڑے جزائر میں احمدی موجود ہیں بلکہ دور افتادہ علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ غالب اکثریت قادیانی احمدیوں کی ہے تاہم ان دونوں احمدیہ فرقوں کا وجود مغربی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں احیاء اسلام کا زبردست محرک ہے۔ جماعت احمدیہ کا اثر ہندوستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس کی شاخیں اور اس کا لٹریچر دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ چکا ہے یورپ اور امریکہ کے لوگ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے مبلغ بھی تمام ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں یورپ اور باقی علمی دنیا میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں اور اپنے اس امتیاز کے باعث ہم اس کے معترف اور ممنون ہیں۔’’

(نیشنل فرنٹ نیوز آف انڈونیشیا۔ 20دسمبر 1962ء۔ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 545)

انگریزی اخبار ‘‘سن رائز’’ کا اجراء

خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت بیرونی ممالک میں روز بروز بڑھ رہی تھی اور تربیتی اور تبلیغی ضروریات کا تقاضا تھا کہ مرکز سے ایک ایسا انگریزی اخبار جاری کیا جائے جو ایک طرف دنیا میں پھیلی ہوئی جماعتوں کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایات و خطبات اور مرکزی تحریکات سے آگاہ رکھے۔ اور دوسری طرف غیروں میں اسلام و احمدیت کی اشاعت کرے۔ ان اغراض و مقاصد کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے ایک پندرہ روزہ انگریزی اخبار جاری کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کا نام ‘‘سن رائز’’ رکھا۔

اخبار ‘‘سن رائز’’ مولوی محمد الدین صاحب بی۔ اے (مبلغ امریکہ) کی زیرِ ادارت دسمبر1926ء میں جاری ہوا۔ وسط 1928ء میں ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے آپ کے دور میں اخبار کا علمی معیار بھی بلند ہوا اور اس کی اشاعت میں بھی اضافہ ہوا۔ یکم ستمبر1930ء سے اسے ہفتہ وار کر دیا گیا۔ مارچ 1923ء میں اخبار لاہور (فلیمنگ روڈ) میں منتقل ہو کر مسٹر مجید ملک ایم۔ اے۔ ایل ایل۔ بی کی ادارت میں نکلنا شروع ہوا۔ مگر جلد ہی بند ہو گیا اور اس کا دوبارہ اجرا قاضی عبدالمجید صاحب بی۔ اے۔ ایل ایل۔ بی کے ذریعہ ہوا اور آپ نے عرصہ تک بڑی محنت اور توجہ سے یہ کام انجام دیا۔ تقسیم ملک کے بعد یہ اخبار بعض واقفین کے زیر ادارت شائع ہوتا رہا۔ 1950ء کے شروع میں مکرم نسیم سیفی صاحب اس کے انچارج مقرر ہوئے۔ اور ماہ اکتوبر 1950ء میں ان کے نائیجیریا تبلیغ اسلام کے لئے جانے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ‘‘ریویو آف ریلیجنز’’ انگریزی کی موجودگی میں اس کی ضرورت نہیں لہذا اسے بند کر دیا جائے۔
‘‘سن رائز’’ نے قریباً ربع صدی تک نہ صرف جماعت احمدیہ کی تربیتی اور تبلیغی ضروریات پوری کی ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کی سیاسی تحریکات میں بھی نمایاں حصہ لیا ہے۔

(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 566)

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ جات امریکہ

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جون 2008ء میں امریکہ کا پہلا دورہ فرمایا تھا۔ جو امریکہ کے مشرقی حصہ کی طرف تھا۔ اس سفر میں حضور انور نے واشنگٹن میں قیام فرمایا اور جلسہ سالانہ کے لئے Harrisburg کے علاقہ میں تشریف لے گئے تھے۔

پھر 16 جون تا 3 جولائی 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے امریکہ کا دوسرا دورہ فرمایا۔ یہ دورہ بھی امریکہ کے مشرقی علاقہ میں تھا۔ اس سفر کا آغاز شکاگو (Chicago) سے ہوا تھا۔ شکاگو کے علاوہZion، Dayton، Columbus، Pittsburg، Washington DC، Harrisburg، Virginia اور Baltimore کی جماعتوں میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تشریف لے گئے اور یہ سب جماعتیں اپنے پیارے آقا کے بابرکت وجود سے بہرہ ور ہوئیں۔

4مئی تا 27مئی 2013ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امریکہ کے لئے اپنا تیسرا سفر اختیار فرمایا۔

تیسرا سفر امریکہ کے مغربی حصہ میں آباد جماعتوں اور ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلز کا تھا۔اس سفر کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ امریکہ کے مغربی حصہ (West Coast) کی طرف یہ پہلا سفر تھا اور کیلیفورنیا (California) سٹیٹ کی جماعتیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک وجود سے فیضیاب ہوئیں۔

15؍ اکتوبر تا 5 نومبر 2018ءکو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ امریکہ اور گوئٹے مالا کے تین ہفتے کے دورہ پر تشریف لے کر گئے ۔جس کا آغاز واشنگٹن سے ہوا ہے۔اس دورہ میں فلاڈلفیا (Philadephia)، بالٹی مور(Baltimore)اور ساؤتھ ورجینیا (South Virgina)، جماعت ہیوسٹن (Houston)میں تشریف لے گئے ۔

سو سالہ ترقی۔ ایک اشاریہ

وہ ملک جہاں ایک مبلغ سے آغاز ہواتھااب اسی میں29 اکتوبر2018ء کوحضور کے ساتھ میٹنگ میں 29مربیان نے شرکت کی۔وہ احمدیت جو1920 ء میں ایک مکان میں محبوس تھی اورحضرت مفتی صاحبؓ کوواپسی کاحکم دیاگیاتھاوہ آج امریکا کی ہرریاست میں سرایت کرچکی ہےاورہربڑے شہر میں جماعتیں قائم ہیں۔

امریکہ میں اس وقت جماعتوں کی تعداد74ہے جس کی کل تجنید20ہزار394ہے۔ جماعت کی مساجد 65 ہیں۔19 باقاعدہ مساجد تعمیر کی گئی ہیں اور37 چرچزاوردیگر عمارات کومساجد میں تبدیل کیاگیاہے۔کل جماعتی پراپر ٹیز کارقبہ ایک ہزار ایکڑ سے زائدہے۔نماز سنٹرز کی تعداد250کے قریب ہے۔کل 26مشن ہاؤسز ہیں۔
سب سے بڑی مسجدبیت الرحمان ہے۔ جس کارقبہ 18 ایکڑہے۔ یہ 1994ء میں مکمل ہوئی۔اس میں 1500 افراد نماز اداکرسکتے ہیں۔مسجد میں دفاتر کے علاوہ ایم ٹی اے کاا َرتھ اسٹیشن اوررہائشی عمارات بھی شامل ہیں۔اس احاطہ میں ایک فری ایلوپیتھک کلینک بھی قائم ہے۔حضورنے 16 اکتوبر2018ء کواس کامعائنہ فرمایا۔2؍نومبر2018 ء کوحضور نے جب اس مسجدمیں خطبہ جمعہ ارشادفرمایاتوکل حاضری 6500سے زائدتھی جس میں کینیڈاسے آنے والے 2 ہزاراحمدی بھی شامل تھے۔ مسجد سے 50میل کے فاصلہ پرمجلس انصاراللہUSA کے تحتJAPA کے علاقہ میں ایک دریاکے کنارے ایک ہاؤسنگ سکیم پرکام ہورہاہے۔جہاں تمام گھر احمدی احباب کے ہوں گےاوردرمیان میں مسجد ہوگی۔14گھر تعمیر ہوچکے ہیں۔

ڈووِی کے بسائے ہوئے شہر زائن میں جماعت کی تجنید 189ہے۔اوروہاں مسجد کے لئے 10ایکڑ زمین خریدی گئی ہے۔ مجلس انصاراللہ کی 73 مجالس ہیں جنہیں 13 ریجن میں تقسیم کیاگیاہے۔ امریکہ میں خدام الاحمدیہ کی مجالس 72 ہیں۔ لجنہ امریکہ کی 74 مجالس میں تجنید6291 ہے ۔

16 اکتوبر 2018ء کو حضور نے MTA ٹیلی پورٹ کاافتتاح فرمایا۔ یہ نئی سروس شمالی امریکہ کے ممالک کے لیے یہاں کے مشہور سیٹلائٹ گیلیکسی 19پہ شروع کی گئی ہے۔ جس پر سینکڑوں عربی، اردو، فارسی اوردیگر زبانوں کے فری چینلز موجود ہیں۔اس پر ایم ٹی اے کے 3چینلز MTA1 ،MTA1+3 ،ARABIA اور MTA3 اعلیٰ ترین کوالٹی کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔پہلے یہ اَرتھ سٹیشن ایک خستہ حال عمارت میں تھا۔اب ایک نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو پرانی عمارت سے 4گنابڑی ہے اوربہترین سیٹ اپ پر مشتمل ہے ۔یہیں پر سنٹرل اورساؤتھ امریکہ کے ممالک کو MTA کی نشریات پہنچانے کے لیے 4.8 میٹرسیٹلائٹ ٹرانسمیشن کی ڈش نصب ہے ۔نئے پروڈکشن سٹوڈیو کی تعمیر کاکام بھی شروع ہو رہاہے جو ڈیڑھ ایکڑ قطعہ زمین پر مشتمل ہے۔

( مضمون از مولانا عبدالسمیع خان ۔گھانا بعنوان جماعت احمدیہ امریکہ: حضور انورکے دورہ 2018ء کے تناظرمیں 100 سال پہلے اورآج۔ایک بیج سے گلستان بن گیا)

پس یہ وہی ملک امریکہ ہے جہاں 1920ء میں جماعت احمدیہ کے پہلے مربی حضرت اقدس مسیح موعود کے صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو ملک کے اندر داخل ہونے سے روک کر قید کر دیا گیا تھا۔ اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔

امریکہ ہمیں ہرگز شکست نہیں دے سکتا۔ امریکہ میں ایک دن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا گونجے گی۔

(الفضل 15 اپریل 1920ء صفحہ12)

آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس ملک میں احمدیت کے قیام کو سو سال مکمل ہو چکے ہیں اور سارے امریکہ میں، مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی، شمال میں بھی اور جنوب میں بھی احمدی آباد ہیں اور بڑی مستحکم اور مضبوط اور فعال جماعتیں قائم ہیں۔ امریکہ کی سرزمین پر دن رات توحید کی صدا گونجتی چلی جاررہی ہےاور خدا تعالیٰ کے مسیح الزماں سے کیے جانے والے وعدوں کی صداقت کا علی الاعلان ثبوت فراہم کر رہی ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close