متفرق مضامین

عصر حاضر میں مذہب کو در پیش سب سے بڑا چیلنج اور اس کاحل

(انیس احمد ندیم۔ مبلغ انچارج جاپان)

’’توحید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے۔ خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے‘‘

مختلف تجزیے اور تحقیقات اس طرف اشارہ کررہی ہیں کہ دنیا میں خدا پر ایمان لانے والوں کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے ۔ اس سے بھی بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ بڑی عمر کے افراد کی نسبت نوجوان اس لہر سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔گویا مستقبل میں یہ چیلنج مزید سنگین صورت اختیار کرتا نظر آرہا ہے۔

Pew Forumکے تحت 2018ء میں کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق کوریا میں بڑی عمر کے افرادکے 63 فیصد جبکہ ان کی اگلی نسل میں سےصرف 39فیصد مذہب سے وابستہ ہیں۔آسٹریلیا میں یہ شرح66فیصد بڑوں کی اور 43 فیصد اگلی نسل کی ہے۔جاپان میں49اور 31 فیصد تھی۔ اسی طرح مذہب کی ضرورت،مذہبی پروگراموں میں شمولیت اور مذہب سے وابستگی کے معاملہ میں ہر خطہ ارضی کم و بیش اسی صورتِ حال کا شکار نظر آتا ہے۔

دوسری طرف مذہبی تحریکات کی شبانہ روز تگ و دو اور مختلف مذاہب اور تنظیموں کی طرف سے عبادت گاہوں اور معابد کی تعمیر اور تزئین وآرائش کے باوجود نئی نسل کو مذہب سے وابستہ رکھنے اور خدا پر ایمان کا عقیدہ راسخ کرنے کی کاوشیں کامیاب نہیں ہوپارہیں ۔

قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقدس کام انبیاء اور مرسلین کے سپرد کر رکھا ہے اور ان سے وابستگی ہی وہ عروہ وثقی ہے جس کے نتیجہ میں خدا پر ایمان کا عقیدہ قائم رہ سکتا ہے،خدا تعالیٰ پر ایمان مضبوط ہوسکتا ہے اور خدا کی پہچان اور عرفان انہی مقدس اساتذہ کی بدولت سیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘خدا کے وجود کا پتہ دینے والے اور اس کے واحد لاشریک ہونے کا علم لوگوں کو سکھلانے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔ اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک ممتنع اور محال امر تھا۔’’

(حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد 22صفحہ 114)

اس فلسفہ اور حقیقت کو مزید وضاحت سے بیان کرتے ہوئے آپ نے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ خدا پر ایمان رسولوں پر ایمان سے وابستہ ہے ۔

‘‘…خدا نے اپنی ذات پر ایمان لانا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے۔ اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں توحید قبول کرنے کی استعداد اس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے۔ اور رسول کا وجود چقماق کی طرح ہے جو اس پتھر پر ضرب توجہ لگا کر اس آگ کو باہر نکالتا ہے۔ پس ہرگز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے توحید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے توحید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے۔ خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے۔’’

(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 131)

قرآن کریم پر غور کریں تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء و مرسلین کے پیغا م میں ایک قدر مشترک نظرآتی ہے کہ وہ خدا کی پہچان اور خدا تعالیٰ کے عرفان کا مشن لے کر مبعوث ہوتے اور توحید کی پرچاراور پرستار بن کر پورے خلوص اور جوش سے نوع انسان کواُن کے خالق و معبود کی طرف دعوت دیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں سے چند مثالیں پیش ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے تمام انبیاءؑ نے اپنے متبعین کوایک خداکی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کی تعلیم دی۔

حضرت نوح علیہ السلام

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ

‘‘یقینا ًہم نے نوح کو بھی اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ پس اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔ یقینا ًمیں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔’’

(سورۃالاعراف:60)

حضرت ابراہیم علیہ السلام

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰٮہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ

‘‘کیا تُو نے اس شخص پر غور کیا جس نے ابراہیم سے اس کے ربّ کے بارہ میں اس بات پر جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت عطا کی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ اس نے کہا میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اورمارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا یقینا ًاللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تُو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا مبہوت ہوگیا۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔’’

(سورۃ البقرۃ:259)

حضرت لوط علیہ السلام

اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ

‘‘یقینا ًمیں تمہارے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔ پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔’’

(سورۃ الشعراء:163تا164)

حضرت یوسف علیہ السلام

وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍؕذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ

‘‘اور میں نے اپنے آباءواجدادابراہیم اوراسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔ ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک ٹھہراتے۔ یہ اللہ کے فضل ہی سے تھا جو اس نے ہم پر اور (مومن)انسانوں پر کیا لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔’’(سورۃیوسف:39)

حضرت ھود علیہ السلام

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ

‘‘اور عاد کی طرف (ہم نے)ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم تو محض افتراء کرنے والے ہو۔’’

(سورۃھود:51)

حضرت صالح علیہ السلام

وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًاۘقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ ہُوَ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اسۡتَعۡمَرَکُمۡ فِیۡہَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِؕاِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیۡبٌ

‘‘اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم!اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارا اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اسی نے زمین سے تمہیں پروان چڑھایا اور تمہیں اس میں آباد کیا۔ پس اس سے استغفار کرتے رہو پھر اسی کی طرف توبہ کے ساتھ جھکو۔ یقینا ًمیرا ربّ قریب ہے (اور دعا) قبول کرنے والا ہے۔’’(سورۃھود:62)

حضرت شعیب علیہ السلام

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕوَ لَا تَنۡقُصُوا الۡمِکۡیَالَ وَ الۡمِیۡزَانَ اِنِّیۡۤ اَرٰٮکُمۡ بِخَیۡرٍ وَّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ مُّحِیۡطٍ

‘‘اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (ہم نے بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ یقینا ًمیں تمہیں دولت مند پاتا ہوں اور میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔’’

(سورۃھود:85)

حضرت سلیمان علیہ السلام

وَ صَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ۔قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ

‘‘اور اُس (یعنی سلیمان)نے اُسے اُس سے روکا جس کی وہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتی تھی۔ یقینا ًوہ کافر قوم میں سے تھی۔

اسے کہا گیا:محل میں داخل ہوجا۔ پس جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اُس (یعنی سلیمان)نے کہا یہ تو ایک ایسا محل ہے جو شیشوں سے جَڑا ہوا ہے۔ اس (ملکہ)نے کہا اے میرے ربّ! یقینا ًمیں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور (اب)میں سلیمان کے ساتھ اللہ، تمام جہانوں کے ربّ کی فرمانبردار ہوتی ہوں۔’’

(سورۃالنمل:45-44)

حضرت الیاس علیہ السلام

اَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّ تَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخَالِقِیۡنَ۔ اللّٰہَ رَبَّکُمۡ وَ رَبَّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ

‘‘کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور پیدا کرنے والوں میں سے سب سے بہترکو چھوڑ دیتے ہو۔

اللہ کو۔جو تمہارا بھی ربّ ہے اور تمہارے پہلے آباء و اجداد کا بھی۔’’(الصافات:126تا127)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ

‘‘پس جب عیسیٰ نے اُن میں انکار (کا رجحان)محسوس کیا تو اس نے کہا کون اللہ کی طرف (بلانے میں)میرے انصار ہوں گے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور تُو گواہ بن جا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔’’

(سورۃآل عمران:53)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَاً الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ

‘‘تُو کہہ دے کہ اے انسانو!یقینا ًمیں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضے میںآسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ پس ایمان لے آئو اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اُسی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جائو۔’’(سورۃالاعراف:159)

پس انبیاء ہی وہ وجود ہوتے ہیں جو مخلوق اور خدا تعالیٰ میں تعلق قائم کرتے ہیں اور ان کےذریعہ ہی انسانیت حقیقی توحید تک پہنچ سکتی ہے۔

امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘انبیاء علیہم السلام دوسروں کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کیلئے جاگتے ہیں ۔ اور لوگ ہنستے ہیں اور وہ ان کیلئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کیلئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کر لیتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ تا خدا تعالیٰ کچھ ایسی تجلی فرماوے کہ لوگوں پر ثابت ہو جاوے کہ خدا موجود ہے اور مستعد دلوں پر اُس کی ہستی اور اس کی توحید منکشف ہو جاوے تا کہ وہ نجات پائیں۔ پس وہ جانی دشمنوں کی ہمدردی میں مر رہتے ہیں۔ اور جب انتہا درجہ پر ان کا درد پہنچتا ہے اور ان کی درد ناک آہوں سے (جو مخلوق کی رہائی کیلئے ہوتی ہیں)آسمان پُر ہو جاتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمک دکھلاتا ہے اور زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ہستی اور اپنی توحید لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس میں شک نہیں کہ توحید اور خدادانی کی متاع رسول کے دامن سے ہی دنیا کو ملتی ہے بغیر اس کے ہرگز نہیں مل سکتی…پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ؐ ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر)یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اسکے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے ۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 118تا119)

عصرِ حاضر میں درپیش اس چیلنج کا حل

حضورؑ خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین حاصل کرنےکا ذریعہ بیان کرتے ہوئےفرماتےہیں:

‘‘…اِس وقت بھی خدا کی ہستی کا یقین اسی ذریعہ سے ہو گا جس ذریعہ سے ابتداء میں ہوا تھا۔ اسلام وہی اسلام ہے لہٰذا اس کی کامیابی اور سرسبزی کے بھی وہی ذریعے ہیں جو ابتداء میں تھے۔ اب بھی ضرورت ہے تو اس بات کی کہ خدا کے چہرہ نما ہیبت ناک اقتداری نشانات ظاہر ہوں اور یقین جانو کہ کوئی شخص گناہ سے پاک نہیں ہو سکتا۔ جب تک خدا تعالیٰ کی معرفت کامل نہ ہو۔ یہ گناہ اور طرح طرح کے معاصی جو چاروں طرف دنیا میں بھرے پڑے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے صرف خشک ایمان کافی نہیں۔ کیا وہ خوف خدا جیسا کہ چاہئے دنیا میں موجود ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اصل میں انسان نفس امارہ کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے جیسے کوئی چڑیا کا بچہ ایک شیر کے پنجے میں۔ جب تک اس نفس کے پنجے سے نجات نہ پا جاوے تب تک تبدیلی محال ہے اور گناہ سے بچنا مشکل۔ مگر دیکھو اگر ابھی ایک ہیبت ناک زلزلہ آجاوے اور درودیوار اور مکان کا چھت لرزنے لگے تو دلوں پر ایک ایسی ہیبت طاری ہو گی اور ایسا خوف دلوں پر چھاجائے گا کہ اس وقت گناہ کا خیال تک بھی دلوں میں نہ رہے گا۔ ایک خطرناک مہلک مرض کے وقت جو حالت انسان کی ہوتی ہے وہ امن اور آرام و آسائش کی زندگی میں ہرگز ممکن نہیں ۔

انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ کی تجلیات اور زبردست نشانوں کا محتاج ہے ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسی راہ پیدا کر دے کہ انسان کا ایمان خدا تعالیٰ پر تازہ اور پختہ ہو جاوے اور صرف زبان تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس ایمان کا اثر اس کی عملی حالت پر بھی ظاہر ہو جاوے۔’’

(ملفوظا ت جلد 5صفحہ 589مطبوعہ ربوہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close