ورلڈ اکنامک فورم کا پچاسواں سالانہ اجلاس

(عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل جرمنی)

پچاس سربراہان مملکت سمیت تین ہزار چنیدہ افراد کی شرکت

دنیا کا خوبصورت ترین ملک سوئٹزرلینڈ جس کا کُل رقبہ 41ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی 8.5ملین ہے ایک عرصے تک بنکنگ کے نرم قوانین کی بدولت کالے دھن کے مالکوں کے لیے جنت بے نظیر بنا رہا۔ ایک عام آدمی کے لیے وہاں کے خوبصورت پہاڑ۔ آبشاریں۔ جھیلیں اور قدرتی حسن کے پُرکشش نظارے اس ملک کی پہچان ٹھہرے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے کئی ایک ذیلی ادارے خصوصاً حقوق انسانی اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO)کے سالانہ اجلاسات بھی یہاں منعقد ہوتے ہیں۔ ایک عالمی پہچان ورلڈ اکنامک فورم کے حوالے سے بھی ہے جس کا سالانہ اجلاس ہر سال ماہ جنوری کے آخر میں برف سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان موجود ایک چھوٹی سی وادی Davos میں منعقد ہوتا ہے۔

دراصل ڈیوس برفانی پہاڑوں کے درمیان ایک حسین وادی پر مشتمل ضلع ہے جس میں پانچ چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں جن کے ساتھ ڈیوس کا نام ضرور لگایا جاتا ہے۔ اس وادی کا کُل رقبہ 284 مربع کلومیٹر اور آبادی محض پندرہ ہزار ہے۔ 1890ء میں جب اس بلندی تک ریل کی پٹڑی بچھادی گئی تو موسم سرما کی کھیلوں کے لیے اس علاقے کو شہرت ملنے لگی۔ اب ایک سیزن میں پانچ لاکھ سے زائد اسکیٹنگ کے شوقین اپنے ذوق کی تکمیل کے لیے یہاں آتے ہیں۔ زیورک سے ایک گھنٹہ کی مسافت میں ہر چند منٹ کے بعد بدلتا نظارہ دلوں کو بہت بھاتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس وادی کے آخری قصبہ Davos-Platz کے مشہور ہوٹل Steigasergen کے ایک ہال میں منعقد ہوتا ہے۔ امسال یہ فورم کا 50واں اجلاس تھا جو 21 تا 24 جنوری کو منعقد ہوا جس میں 50 سربراہان مملکت سمیت شرکاء کی تعداد تین ہزار کے قریب تھی۔

ورلڈ اکنامک فورم کی بنیاد 1971ء میں اکنامکس کے پروفیسر کلاوز شواب نے ڈالی تھی جو 1938ء میں جرمنی کے شہر Ravensbury میں پیدا ہوئے۔ اقتصادیات کے حوالے سے اُن کی لکھی کتابیں دنیابھر میں مشہور ہیں۔ 2016ء میں ان کی طرف سے شائع کی جانے والی کتاب ‘‘چوتھا صنعتی انقلاب’’ کا تیس زبانوں میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ بے شمار اعزازات حاصل کرنے والے پروفیسر کلاوز شواب کے پاس آنریری ڈاکٹریٹ کی 17 ڈگریاں ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے آئیڈیا کو دنیابھر میں مقبولیت حاصل ہوئی اور اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد یہ دوسرا بڑا فورم ہے جس کے اجلاس میں ہر سال سربراہان حکومت کی اکثریت شامل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شواب ورلڈ اکنامک فورم کے معاون ادارے بھی معرضِ وجود میں لاچکے ہیں۔ 1998ء میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے تعاون سے شواب فاؤنڈیشن برائے سوشل ورک شروع کی جس کی اب دنیا میں 350 شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔ 2004ء میں اکنامک فورم برائے ینگ گلوبل لیڈر کی بنیاد رکھی۔ اس میں 40 سال کی عمر تک کے نوجوان ذہنوں کی نشوونما کو تقویت دینے کے لیے اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ پھر 2011ء میں 20 سے 30 سال کے نوجوانوں کے لیے ایک ادارہ Global Shapers Community کے نام سے قائم کرچکے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مستقبل کے لیے کیے جانے والے اقتصادی فیصلوں میں نوجوان لیڈرشپ کا عمل دخل بڑھنا چاہیے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے اقتصادیات کے علاوہ ٹیکنالوجی۔ سائنس۔ سپورٹس۔ حقوق انسانی۔ میڈیا کے لیے مستقل کمیٹیاں قائم کررکھی ہیں جو سارا سال کام کرتی ہیں۔ ان کے اجلاسات کی رپورٹ اور نتائج پر ڈیوس میں ہونےو الے ورلڈ اکنامک فورم میں بحث کی جاتی ہے۔ 2006ء میں قائم کی جانے والی انٹرنیشنل میڈیا کونسل کے ممبران کی تعداد ایک سو ہے جن میں براڈکاسٹ اور پرنٹ میڈیا کے ہائی پروفیشنل ورلڈ میڈیا فگر۔ چیف ایڈیٹر۔ پبلشر۔ کالم نگاروغیرہ شامل ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم میں تقاریر کم اور بحث مباحثہ زیادہ ہوتا ہے۔ مختلف پینل بنادیے جاتے ہیں جن میں ہر شعبہ زندگی کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ اُن کے درمیان مذاکرہ کروایا جاتاہے جس میں سامعین کو سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس بار موسمی تغیّرات پر ہونے والی گفتگو پر بہت وقت صرف ہوا۔ اس Planet کو کس طرح تباہی سے بچانا ہے، اس بار فورم کا خاص موضوع تھا۔ کچھ عرصے سے دنیا کے اہم ممالک کے درمیان تجارتی پالیسیوں کے حوالے سے جو سرد جنگ جاری ہے اس مسئلے کو حل کرنے لیے دنیا کی نامور تجارتی کمپنیوں کے سربراہان کے درمیان مکالمہ ہوا۔ دنیا کے 1680 بزنس لیڈرز وہاں موجود تھے۔ جن ممالک پر تجارتی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں ان کے سیاسی حل کے لیے اپیلیں کی گئیں۔ ورلڈ ٹریڈ اتھارٹی کا کردار بھی موضوع بحث رہا۔ اقوام متحدہ کے زیراثر اس ادارے کا غیرجانبدار رہنا بہت ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی میں کمزور قوموں کو ساتھ لے کر چلنے کا لائحہ عمل بنانے پر بھی غور ہوا۔ ورلڈ اکنامک فورم ایک خودمختار نجی طور پر قائم ادارہ ہے جس کے پاس فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں لیکن اس ادارے نے اپنی حیثیت اتنی مستحکم کرلی ہے کہ دنیا کی بڑی سیاسی شخصیات اور دنیا کی تجارت کو کنٹرول کرنے والی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان ہر سال یہاں حاضر ہونا ضروری خیال کرتے ہیں۔پینل گفتگو کے درمیانی وقفے میں کسی نہ کسی ہیڈ آف سٹیٹ کی تقریر کروادی جاتی ہے جس کے لیے بیس منٹ کا وقت مقرر ہے۔امسال 50سربراہان حکومت میں سے امریکہ۔ برطانیہ۔ جرمنی۔ فرانس۔ برازیل۔ جاپان۔ عراق۔ یوکرائن۔ افغانستان۔ آسٹریا۔ فِن لینڈ۔ پاکستان کے سربراہان، ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو نیز پرنس چارلس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ امریکہ کے صدر نے جو دو دن ڈیوس میں موجود رہے کہا کہ تین سال قبل جب مَیں یہاں آیا تھا تو مَیں نے دنیا کو بتادیا تھا کہ امریکہ میں جلد اہم اقتصادی تبدیلیاں کی جانے والی ہیں۔ تین سال میں ہم نے 7ملین روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ امریکہ میں اس وقت گذشتہ سو سال میں بے روزگاری کی شرح سب سے کم سطح پر ہے۔ ہم نے 90 ٹریلین ڈالر امریکن شہریوں کو اَپ گریڈ کرنے پر خرچ کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ امریکہ میں فوڈ ٹکٹ لینے والوں کی تعداد ملین میں تھی جو اب بہت کم ہوگئی ہے۔ چین۔ بھارت کی ترقی کے بہت چرچے کیے جاتے ہیں۔ امریکہ پہلے سے ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ صدر ٹرمپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی غیرمنصفانہ پالیسیوں پر تنقید کی جس کو دوسرے مقررین نے ناپسند کیا۔ WTO کے مرکزی دفتر کا امریکہ سے باہر ہونا اس ادارے کو امریکن اثر سے بچائے ہوئے ہے۔ خصوصاً صدر ٹرمپ اقتصادی پابندیوں کے جو یک طرفہ فیصلوں کا اعلان کردیتے ہیں۔ عالمی سطح پر اُن کی توثیق کرنے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا جنیوا میں موجود مرکزی دفتر حائل ہوجاتا ہے۔

جرمن چانسلر نے موسمی تغیّرات ۔ مہاجرین کے مسائل اور برلن میں حال ہی میں منعقد ہونے والی لیبیا کانفرنس پر گفتگو کی۔ جرمن چانسلر کی ہوٹل کی راہ داری میں پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی۔ دراصل ہوٹل اس قدر چھوٹا ہے کہ کانفرنس ہال کے باہر راہ داریوں اور گیلری میں ہر وقت آپ کو برسر اقتدار لوگ ایک دوسرے سے ملتے، بات چیت کرتے نظر آئیں گے۔ ہوٹل میں کانفرنس کے علاوہ کسی دوسری تقریب کی گنجائش نہیں ہوتی۔ پریس سنٹر بھی ہوٹل سے باہر ایک بہت بڑی مارکی میں قائم کیا جاتا ہے۔ دنیابھر سے آنے والے سینکڑوں میڈیا نمائندگان کو ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس کی کارروائی دکھائی جاتی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ امن کے بغیر ملک میں اقتصادی ترقی نہیں ہوسکتی۔ پاکستان نے دو بار پرائی جنگ میں نفری مہیا کرکے شدید نقصان اٹھایا۔ ملک میں جنگجو گروپس، فرقہ وارانہ ٹروپس، ہیروئن کے ٹریڈمافیا گروپ وجود میں آگئے۔ 70ہزار انسانوں کی جانی قربانی کے بعد پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایا ہے۔ ہم اب صرف امن کے اتحادی ہیں۔ پاکستان کا شمالی علاقہ کبھی غیرملکیوں کی سیاحت کا مرکز تھا۔ اب وہاں دوبارہ امن ہے اور مَیں دنیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس محفوظ اور خوبصورت علاقے کی سیاحت پر دوبارہ آنا شروع کریں۔ ہم چار سال میں دس ملین درخت لگائیں گے۔ ہماری اقتصادی پالیسی پاکستان کو فلاحی ریاست میں بدل دے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے مختصر خطاب میں دنیا کی چوٹی کی بزنس کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ وار زون میں زندگی بسر کرنے والے 142 ملین بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

چین کے نائب وزیراعظم۔ جاپان کے وزیراعظم اور ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو نے فری ٹریڈ پر زیادہ زور دیا۔

ورلڈ اکنامک فورم ایک خودمختار پرائیویٹ ادارہ ہے جس کا سالانہ بجٹ 310 ملین ڈالر ہے جو ممبر ادا کرتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ممبرشپ حاصل کرنے کے لیے کمپنی کا بجٹ پانچ بلین ڈالرز سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ممبرشپ فیس کم از کم 52 ہزار ڈالر سالانہ ہے۔ اگر آپ کمپنی کی ممبرشپ لیں تو ڈھائی لاکھ اور اگر آپ اپنے گروپ آف کمپنیز کو ممبرشپ لے کر دیں تو 5 لاکھ 27 ہزار ڈالرز سالانہ ممبرشپ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیوس کانفرنس میں شرکت کی فیس 19 ہزار ڈالر الگ سے ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے تمام مہمان و سیاسی شخصیات اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔ کانفرنس کے انتظامی اخراجات کا بجٹ 9 ملین ڈالرز ہے جس میں ورلڈ اکنامک فورم کا ادارہ محض 2.25 ملین ڈالر ادا کرتا ہے۔ باقی سپانسر شپ سے پورے کیے جاتے ہیں۔ پچاسویں اجلاس کو بھی دنیا کے 140 اداروں کی سپانسرشپ حاصل تھی۔ سیکیورٹی پر سوئٹزرلینڈ پولیس اور فوج کے پانچ ہزار اہل کار ڈیوٹی پر تھے جس پر 32 ملین فرانک کے اخراجات وزارت دفاع سوئٹزرلینڈ ادا کرے گی۔ 118 ممالک سے 2821 مہمان کانفرنس میں شامل ہوئے جن میں 1052 کا تعلق ویسٹرن یورپ۔ 740 شمالی امریکہ اور دیگر کا تعلق دنیا کے باقی ممالک سے تھا۔ کانفرنس کا مختصر اختتامی اعلامیہ یہ تھا کہ کمپنیوں کو ٹیکس انصاف کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ کرپشن کرنے والے کے ساتھ کوئی رعایت نہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم حقوق انسانی کے لیے ایڈووکیٹ کا کردار ادا کرتی رہے گی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close