رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ جرمنی 2019ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

فیملی ملاقاتیں۔گروپ فوٹوز، مسجد بیت البصیر کی تقریب افتتاح

……………………………………………

26؍اکتوبر2019ءبروزہفتہ(حصہ اوّل)
………………………………………………

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح 7 بجے مسجد بیت البصیرمہدی آباد میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔

پروگرام کے مطابق گیارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنے دفتر تشریف لائے اور فیملی ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔ آج صبح کے اس سیشن میں 40 فیملیز کے 141؍ افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ ملاقات کرنے والی یہ فیملیز جرمنی کی مختلف 22؍جماعتوں سے آئی تھیں۔ علاوہ ازیں بیلجیم سے آنے والی ایک فیملی نے بھی شرف ملاقات پایا۔

ملاقات کرنے والے ان سبھی احباب نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ء اور طالبات کو قلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطافرمائے۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام ایک بج کر بیس منٹ تک جاری رہا۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشریف لا کر مسجد بیت البصیر کےبیرونی احاطہ میں Ornamentel Cherry کا ایک پودا لگایا۔ اس پودے کو Japanese Cherry Blossom کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ بعدازاں تصاویر کا پروگرام ہوا۔ درج ذیل گروپس نے باری باری حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔

٭…مجلس عاملہ جماعت مہدی آباد

٭…گروپ ممبران جماعت جنہوں نے وقارِعمل کرنے کی توفیق پائی۔

٭…مجلس عاملہ جماعت Badsege Berg

٭…MTA جرمنی کی ٹیم

٭…MTA انٹرنیشنل کی ٹیم

٭…میڈیا اینڈ پریس

٭…ممبران قافلہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

٭…شعبہ ضیافت کے کارکنان

٭…قافلہ کے کچھ ممبران رہ گئے تھے۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت دوبارہ قافلہ کے ممبران کو تصویر بنوانے کاشرف عطافرمایا۔

٭…شعبہ مخزن تصاویر

٭…شعبہ ملاقات کے کارکنان

تصاویر کے اس پروگرام کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ازراہِ شفقت کچن میں تشریف لے آئے۔ کارکنان دوپہر کا کھانا تیار کررہے تھے۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت کارکنان سے گفتگو فرمائی۔
بعدازاں حضورِانور سٹور میں تشریف لائے جہاں کھانا پکانے اور بعض دوسری ضروریات کے لیے اشیاء سٹور کی گئی تھیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ کے ایریا میں تشریف لے گئے۔ لجنہ کے لیے علیحدہ مارکیز لگا کر انتظام کیا گیا تھا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اچانک اپنے درمیان دیکھ کر خواتین کی خوشی اور جذبات ناقابل بیان تھے۔ لجنہ کی مارکی کے علاوہ حضورِانور مسجد میں خواتین کے ہال میں بھی تشریف لے گئے۔

مہدی آباد کے اس قطعہ زمین پر جہاں مسجد اور جماعتی سنٹرواقع ہے۔ اس قطع زمین کے ایک حصہ کو مختلف پلاٹس میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ احباب یہ جگہ حاصل کرکے اپنے گھر تعمیر کرسکیں۔ اس جگہ پر ایک دوست عظیم بٹ صاحب کاگھر زیرتعمیر ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ازراہِ شفقت اس زیرتعمیر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور گھر کا نقشہ دیکھا اور اس حوالہ سے عظیم بٹ صاحب سے مختلف امور دریافت فرمائے۔

بعدازاں دو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ‘‘مسجد بیت البصیر’’ تشریف لاکر نمازِظہروعصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد رہائش گاہ کی طرف جاتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت مکرم حبیب اللہ طارق صاحب کی نئی اٹالین گاڑی کامعائنہ فرمایا۔ حضورانور ازراہِ شفقت کچھ دیر کے لیے گاڑی میں تشریف فرمارہے اور اس گاڑی کی خصوصیات کے حوالہ سے مختلف امور دریافت فرمائے۔

بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

مسجد بیت البصیر کی تقریب افتتاح

آج پروگرام کے مطابق مسجد بیت البصیر مہدی آباد کے افتتاح کی ایک تقریب کا اہتمام مسجد کے احاطہ میں لگائی گئی مارکی میں کیا گیا تھا۔

چاربج کر پینتالیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مارکی میں تشریف لے آئے۔

آج کی اس تقریب میں شامل ہونےو الے مہمانوں کی تعداد 170 تھی۔ جن میں:

Mr.Gero Storjohann ممبر آف نیشنل اسمبلی

Mrs. Elke Christina لارڈ میئرآف Norderstedt

Mrs. Kirsten Eickhoff-Weber ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی

Mr. Tobias von der Heide ممبر صوبائی اسمبلی

Mr. Stefan Weber ممبر صوبائی اسمبلی

Mrs. Karla Frieben-Wischer ممبر آف منسٹری Schleswig

Naheٹاؤن کے میئر Mr. Manfred

Nahe ٹاؤن کے ایک دوسرے میئر Mr. Marc Andre Ehlers

Mayor Henstedt-Ulzburg

Mayor Kayhude

Mayor Kisdorf

Mr. Joachim Brunkhorst ممبر آف ڈسٹرکٹ پارلیمنٹ

Mr. Claus Peter Dieck پریذیڈنٹ آف ڈسٹرکٹ پارلیمنٹ Bad Segeberg

اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ پارلیمنٹ کے تین چیئرمین، علاقہ کے پادری، ہیڈآف سٹیٹ Chancellery، پروفیسرز، ڈاکٹرز، اساتذہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم طیب صدیق صاحب نے کی۔ اس کے بعد مکرم دانیال ودود صاحب نے اس کا جرمن زبان میں ترجمہ پیش کیا۔

بعدازاں مکرم عبداللہ واگس ھاؤزر صاحب امیر جماعت جرمنی نے اپنا تعارفی اور استقبالیہ ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:

Nahe قصبہ کی آبادی 2ہزار کے قریب ہے۔ اس قصبہ کی تاریخ تقریبا ً10 ہزار سال سے بھی پرانی معلوم ہوتی ہے۔

جماعت احمدیہ کا Nahe میں آغاز 1980ء میں ہوا۔ پہلے احمدی Bad Segeberg اور Norderstedt کے علاقہ میں رہنے لگے۔ اس کے بعد جب جماعت کی تعداد بڑھتی گئی تو جماعت نے اپنی مسجد کے لیے ایک مناسب جگہ دیکھنی شروع کی۔ جماعت نے یہ موجودہ جگہ جولائی 1989ء میں چھ لاکھ مارک میں خریدی تھی۔ اس کا کل رقبہ 42،87؍ایکڑ ہے۔

امیر صاحب نے مسجد کا تعارف کرواتے ہوئےکہا کہ 14جون 2011ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تعمیراتی کام کا آغاز 2017ء میں ہوا۔ مسجد 395 مربع میٹر پر بنی ہے لیکن مکمل پلاٹ اس سے بہت بڑا ہے۔ اس مسجد کی تین منزلیں ہیں۔ مسجد کے بنانے میں کل 560.000 یورو لگے۔ لوکل جماعت نے اس کا تیسرا حصہ ادا کیا ہے۔

٭ بعد ازاں Gustav Lünenburg صاحب نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ موصوف lieutenant colonel رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکو خوش آمدید کہا۔اس کے بعد موصوف نے کہا:

30سال قبل جب جماعت نے یہ والا پلاٹ خریدا تو میں اپنی فیملی کے ساتھ اس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ ہمیں اس وقت کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ احمدی مسلمان کون ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کا نعرہ کہ ‘محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں’کے بارہ میں سنا تو وہ ہمیں آپ لوگوں کی ایک چال معلوم ہورہی تھی تا کہ لوگ یہ سن کر گمراہ ہو جائیں۔ لیکن آج ہم سب ادھر جمع ہوئے تا کہ اس مسجد کا افتتاح ہو سکے۔ اور یہ جو ایک بہت ہی لمبا عرصہ گزراہے اس میں بہت سے تعصبات دور کرنے پڑے اور مختلف نفرت پھیلانے والے لوگوں کے غلط پروپیگنڈا کو دور کرنا پڑا۔ اور یہ پراپیگنڈا آج کے دن سے ختم ہوتا ہے۔ اب تو احمدیوں کی جو پاکستان سے ہجرت کر کے ادھر آئے تھےاگلی generations اس جگہ پیدا ہوئی ہیں، یہاں ہی انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے اور یہیں کام کرتے ہیں اور وہ جرمن معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔

موصوف نے مزید کہا کہ ہم سب جرمن آئین کی تائید کرتے ہیں اور آئین کی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ ان اقدار میں سے ایک یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرے اور اسے دیگر آزادیاں میسر ہوں۔اسی طرح مرد اور عورت کا مقام برابر ہونا چاہیے۔

موصوف نے کہا کہ ہمارا رابطہ جماعت کے ساتھ ہمیشہ اچھا رہا اور ہم نے ہمیشہ جماعت کے حق میں بات کی۔ integration تو ایک مستقل کام ہے جو ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے۔ہمیں احمدیوں کے ساتھ رہ کر بہت سی باتیں معلوم ہوئیں اور سیکھنے کو ملیں۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ یہ نعرہ ‘محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں’ صرف ایسے ہی بے معنی الفاظ نہیں بلکہ احمدیوں کا عمل بھی اس کے مطابق ہی ہے۔ ہمیں اس بات کا فخر بھی ہے کہ عیسائی ہوتے ہوئے ہم نے اپنے ہمسایوں کی مشکل وقت میں مدد کی۔ آج کے دن ہمیں خوشی محسوس بھی ہو رہی ہے اور شکریہ ادا بھی کرنا ہوگا۔ مبارک باد بھی پیش کرنی ہوگی کہ ایک اتنی خوبصورت مسجد ہمارے پاس بنی ہے۔ آج کا دن میرے اور میری بیگم کے لیے ایک نہایت ہی اہم دن ہے کیونکہ پہلے دن سے ہم اس process میں شامل ہیں۔

٭ اس کے بعدSusanne Hahn صاحبہ جو ایکevangelical lutheran چرچ کی پادری ہیں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔

موصوفہ نے سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دیگر حاضرین کو سلام پیش کیا اور ساتھ مسجد کے افتتاح کے حوالہ سے مبارک باد پیش کی۔

موصوفہ نے کہا کہ مسجد کے افتتاح تک یہ ایک نہایت ہی لمبا process تھا۔ مجھے یہاں 5 سال سے بطور پادری کام کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ہر سال ہم احمدیہ مسلم جماعت کے پاس اپنے نوجوانوں کے ساتھ آتے ہیں۔ یہ ایک موقع ہوتا ہے تاکہ اپنے مذہب سے ہٹ کر دوسروں کے بارہ میں بھی علم ہو۔ ہمیشہ آپ لوگ ہم سب سے بہت ہی پیار سے ملتے اور ہمارا استقبال کرتے ہیں۔نوجوانوں کو آپ لوگ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے سارے سوال آپ لوگوں سے کر لیں۔ نوجوانوں کو اپنی عبادت کا طریق دکھاتے ہیں جو انہیں متاثر بھی کرتا ہے۔

پھر انہوں نے کہا کہ آج کے زمانہ میں ایک خدا کا گھر اور عبادت گاہ بنانا بہت اچھا نشان ہے۔ خداتعالیٰ کا ایسا گھر جس میں تمام لوگ اکٹھے ہو سکیں اور آپس میں بات چیت بھی کر سکیں۔ ساتھ عبادت کے لیے بھی جگہ ہو۔ ہم سب خدا پر ایمان لاتے ہیں۔ ایک خدا جس نےہمیں ہماری زندگی عطا کی جو ہماری حفاظت کرتا ہے ۔ بے شک مختلف رنگ میں ہم اس کا اظہار کرتے ہیں لیکن پھر بھی مل کر ہم اس بات کی اشاعت کرتے ہیں۔ اور یہ بات آج کے زمانہ میں نہایت ہی ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تمام نفرتوں کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔ یہ مسجد ان سب کے لیے جو اس میں آتے ہیں بابرکت ہو ۔

آخر پر موصوفہ نے کہا کہ ہمارا کام اب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی عزت کریں اور یہ بات ہمیشہ مدِ نظر رکھیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے ہی بندے ہیں اور و ہی ہمارا خالق ہے۔

٭ اس کے بعدElke Christina Röder صاحبہ جو Norderstedtکی Lord Mayorہیں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دیگر حاضرین کو سلام پیش کیا اور ساتھ ہی اس پروگرام کی دعوت کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح شہر Norderstedtکی طرف سے سلام پیش کیا اور مسجد کے افتتاح کے حوالہ سے مبارک باد پیش کی۔

موصوفہ نے کہا کہ بہت سے سالوں سے آپ لوگوں نے اپنا وقت اس کام میں صرف کیا کہ آپ لوگوں کی مسجد اچھی طرح اس جگہ پر بنے۔ آپ لوگوں کے بہت سے ممبران نے اس کے لیے محنت و مشقت کی تا کہ یہاں اس مسجد کا قیام ہو۔ یقیناً اس میں Norderstedtکے شہری بھی شامل تھے۔ آپ سب اس دن کے منتظر تھے۔

موصوفہ نے کہا: جرمن میں ایک محاورہ ہے کہ جو چیز بننے میں زیادہ دیر لے وہ یقیناً اچھی بنتی ہے۔ تو میری خواہش ہے کہ یہ مسجد اب احمدیہ مسلم جماعت کے لیے بہت زیادہ اچھی ثابت ہو۔ یہ مسجد وہ عبادت گاہ ہو جس کی آپ لوگوں کو خواہش تھی۔ یہ مسجد خدا کا خوف اور روحانی ماحول پیدا کرنے والی ہو۔ اس جگہ ہمیشہ امن پھیلتا چلا جائے۔

موصوفہ نے کہا کہ بہت عرصہ سے آپ لوگ ہمارے معاشرہ میں شامل ہو کر اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور اسے فائدہ بھی پہنچا رہے ہیں۔ آج کل کے زمانہ میں کچھ ایسے سیاستدان اور شدت پسند مذہبی لیڈرزملتے ہیں جو اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ فساد پیدا کریں اور معاشرہ میں اتحاد کو توڑا جائے اور نفرت پھیلائی جائے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ یہ پوری دنیا پر واضح کر دیں کہ ہر مذہب، ہر culture کے لوگ یہاں اگر امن میں رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ پیار، محبت اور ایک دوسرے کا احترام بنیادی باتیں ہیں تا کہ امن قائم کیا جا سکے اور اتحاد قائم رہے۔ یہ ہم سب کی خواہش ہے کہ ہم سب امن و پیار سے مل جل کر رہنے والے ہوں۔ شکریہ۔

٭اس کے بعدTobias von der Heide صاحب جو صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دیگر حاضرین کو سلام پیش کیا ۔ پھر انہوں نے کہا کہ

میں Kiel سے اس پروگرام کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ مجھے اس بات کی بہت ہی خوشی ہو رہی ہے کہ صرف احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران ہی اس تقریب میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ بہت سےلوکل اسمبلی کے سیاستدان اور ہمسائے و غیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔

موصوف نے کہا کہ احمدیہ مسلم جماعت صوبہ Schleswig Holstein میں ایک نہایت ہی اہم پارٹنر (partner)ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے امن قائم کرنے کے عقائد ہمارے نظریہ سے بہت ہی ملتے جلتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم پہلو رحمانیت کی صفت ہے۔ پھر وہ انصاف جو آپ کی تعلیم کا حصہ ہے ، مرد اور عورت کے حقوق میں برابری، مذہب اور حکومت کا الگ الگ ہونا، اور ہر قسم کے ظلم سے اجتناب، یہ سب ایسی قدریں ہیں جو ہم سب میں پائی جانی چاہئیں۔ ایک بات جو اس ضمن میں اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ لوگ یہ باتیں مخفی نہیں رکھتے بلکہ سب انسانوں سے پیار اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ یہ بات ہم آج بھی اس تقریب میں دیکھ رہے ہیں کہ ہم سب کے ساتھ ایک دوست موجود ہے جو ہمارے سوالات حل کرتا ہے اور ہماری مہمان نوازی کرتا ہے۔ آپ لوگ ہمیشہ اپنے پروگرامز میں ہمیں دعوت دیتے ہیں اور posters کے ذریعہ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ آپ لوگ ہمارے معاشرہ کا حصہ ہیں۔ پھر آپ لوگوں کو Körperschaft des öffentlichen Rechts کا درجہ ملا ہوا ہے (یعنی سرکاری طور پر آپ کو چرچ کے برابر درجہ ملا ہوا ہے۔ناقل)اور یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ بہت سی جماعتیں اور تنظیمیں آج تک اس کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ لیکن اس بات سے صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمارے آئین کے مطابق رہتے ہیں۔ آپ لوگ میرے نزدیک یہ واضح کرتے ہیں اور ایک نمونہ ہیں کہ اسلام جرمنی کا کس طرح سے حصہ بن سکتا ہے اور بلکہ صرف بن ہی نہیں سکتا بلکہ آج کل اسلام جرمنی کا حصہ بن چکا ہے۔
آخر پر انہوں نے کہا کہ میں ایک بات کا یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں جو میرے نزدیک اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ایک دہشت گرد کا حملہ تھا جو Christchurch میں ہوا۔ آج کے دن بھی ہم نے یقیناً سیکیورٹی کے کچھ انتظامات دیکھے ہوں گے۔ پھر Halle میں جو واقعات ہوئے انہوں نے ہمیں یہ بھی دکھایا کہ جرمنی میں بھی لوگوں پر صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ظلم کیا جاسکتا ہے۔

موصوف نے کہا: ہم سب کو مل کر ایسی دشمنیوں کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی۔ اورملک میں جو مذہبی آزادی ہے اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ ایک معین پہلو اس ضمن میں interreligious dialogue ہے ۔ آخر پر میری یہ خواہش ہے کہ یہ مسجد ایک امن کی جگہ بنے جس میں سب اکٹھے ہو سکیں۔ اس لحاظ سے یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں۔

٭ اس ایڈریس کے بعدGero Storjohann صاحب جونیشنل اسمبلی کے ممبر ہیں انہوں نےاپنا ایڈریس پیش کیا۔ انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دیگر حاضرین کو خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہا :

30سال جو اس مسجد کے بننے میں گزرے ہیں وہ یقیناً آسان وقت نہ تھا۔ لیکن جماعت نے اس بارہ میں بہت اچھا کام کیا اور لوگوں پر واضح ہو گیا کہ آپ کی جماعت امن پسند جماعت ہے۔

موصوف نے کہا کہ مسجد کے افتتاح کی مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ جب مسلمان جرمنی میں مساجد بناتے ہیں تو یہ ایک حسبِ معمول کام ہونا چاہیے۔ مسجد کی تعمیر یہ واضح کرتی ہے کہ اگرکوئی ایک گھر بنا رہا ہے تو وہ یقیناً ادھر رہنا بھی چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جرمنی میں اپنا ایک گھر مل گیا ہے۔ اس لیے ایک مسجد بنانا اس بات کی نشانی ہر گز نہیں ہے کہ کوئی اپنے آپ کو سب سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے بلکہ اس سے integration واضح ہوتی ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ Nahe میں کوئی بڑے مسائل نہیں پیدا کیے گئے ۔ آپ کی جماعت نے پہلے دن سے transparency سے کام لیا ۔ اس کی پلاننگ اور اس کے تعمیراتی کام میں بہت زیادہ دیر ہو گئی۔ لیکن یہ دوسرے کاموں میں بھی ہو جاتا ہے خواہ ایک airport بنایا جائے، کوئی نئی سڑک بنائی جائے یا سائیکل کا رستہ ہی بنانا ہو۔ ایک وجہ اتنی دیر لگنے کی یہ بھی تھی کہ آپ لوگ صرف اپنی جماعت کے ممبران سے عطیہ وصول کرتے تھے اور آپ لوگوں نے کسی قسم کا کوئی creditنہیں لیا۔ آپ لوگوں نے ایک سادہ مسجد بنائی ۔

آخر پر موصوف نے دوبارہ مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس مسجد کا بننا آپ لوگوں کے لیے بابرکت ہو۔
بعدازاں پانچ بج کر 40 منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مہمانان سے خطاب فرمایا۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close