حضرت مصلح موعود ؓ

تقدیر الٰہی (قسط نمبر 18)

از: حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

تقدير پر ايمان لانے سے روحانيت کے سات درجے طے ہوتے ہيں (حصہ دوم)

………………………………………………………………

درجہ سوم

تيسرا مرتبہ تقدير پر ايمان لانے کا بہت اعليٰ ہے اور وہ توکّل ہے۔ توکّل کے معني اپنے آپ کو سپرد کر دينے کے ہيں۔ توکّل کي دو قسميں ہيں۔ ايک توکّل ايسا ہےکہ اس کے ليے تقدير خاص کے اظہار کي ضرورت نہيں ہوتي انسان اسباب سے کام بھي ليتا ہے اور خدا تعاليٰ پر بھروسا رکھتا ہے کہ وہ اس کي محنت کو رائيگاں نہ کرے گا اور غير معمولي حوادث سے اس کي حفاظت کرے گا۔ اس قسم کے توکّل ميں گو انسان يہ اميد کرتا ہے کہ اللہ تعاليٰ غير معمولي حوادث سے بچانے کے ليے خود اپنے فعل سے بندہ کا کام کر دے گا کہ اس کے اعمال کے نيک نتائج پيدا کرے گا مگر اسباب کو ترک نہيںکرتا۔

دوسري قسم توکّل کي يہ ہے کہ انسان اسباب کو بھي ترک کر ديتا ہے مگر يہ توکّل اعمال شريعت کے متعلق نہيں ہوتا۔ مثلاً يہ نہيں ہو سکتا کہ انسان نماز يا روزہ يا حج يا زکوٰة خدا تعاليٰ کے سپرد کر دے کہ وہ کہے گا تو نماز پڑھ لوں گا يا روزہ رکھوں گا۔ بلکہ اس قسم کا توکّل صرف اعمالِ جسماني ميں ہوتا ہے جو لوگ شرعي احکام کے متعلق ايسا کہتے ہيں وہ جھوٹ کہتے ہيں۔ يہ لوگ اباحتي ہوتے ہيں اور انہوں نے شريعت کے احکام سے بچنے کے ليے کئي قسم کے ڈھکوسلے بنائے ہوئے ہوتے ہيں۔ مثلاً يہ کہتے ہيں کہ شريعت کے احکام پر عمل کرنا تو ايسا ہے جيسے پار اترنے کے ليے کشتي پر سوار ہونا۔ پس يہ کون سي عقل کي بات ہے کہ انسان ہميشہ کشتي ميں ہي بيٹھا رہے اور جب منزل مقصود آگئي، خدا مل گيا تو پھر کشتي ميں ہي کيوں بيٹھا رہے۔ ليکن يہ مثال ٹھيک نہيں ہے کيونکہ اللہ تعاليٰ کے وصال کا ايک مقام نہيں کہ وہاں پہنچ کر اتر جانا ہے۔ اللہ تعاليٰ کي ذات بے پاياں ہے اور اس کے وصال کے بے انتہا مدارج ہيں۔ پس اس کي مثال يہ ہے کہ جيسے دريا کے ساتھ ساتھ ہزاروں لاکھوں شہر بستے ہيں اور کوئي شخص ان سب کي سير کو چلے۔ يہ شخص بےوقوف ہو گا اگر پہلے شہر ميں پہنچ کر کشتي سے اتر جاوے کيونکہ پھر اس کے ليے آگے جانا ناممکن ہو جائےگا۔

غرض توکّل کا مقام يہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعاليٰ کے سپرد کر دينا کہ وہ جس طرح چاہے اپني تقدير خاص بندہ کے متعلق جاري کرے۔ ليکن يہ توکّل اعمال شريعت کے متعلق نہيں ہوتا بلکہ اعمال دنيا کے متعلق ہوتا ہے۔ جو شخص يہ کہے کہ ميں نے اپني نماز خدا کے سپرد کر دي ہے اب مجھے پڑھنے کي ضرورت نہيں وہ مسلمان نہيں رہ سکتا بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔ کيونکہ نماز کے متعلق تو خدا تعاليٰ ايک دفعہ حکم دے چکا ہے۔ جو کوئي شخص نماز خدا تعاليٰ کے سپرد کرتا ہے وہ در حقيقت نماز کا چور ہے۔ کيا جو حکم محمد رسول اللہ ﷺ کي معرفت اسے ملا تھا وہ اس کے ليے کافي نہ تھا کہ اب وہ اَور احکام کا منتظر رہے۔ توکّل صرف ايسے ہي کاموں کے متعلق ہوتا ہے جو مباح ہوں اور جن کے متعلق کوئي خاص حکم نازل نہ ہو چکا ہو اور وہ امور دنيوي اور جسماني ہي ہوتے ہيں۔ ان کاموں کو جب کوئي بندہ خدا تعاليٰ کے سپرد کرتا ہے تو گويا وہ عرض کرتا ہے کہ الٰہي! تُو ميرے يہ کام کر دے تاکہ ميں دين کے کام کر سکوں۔ تيري عبادت کر سکوں۔ تيري راہ ميں کوشش کرسکوں۔ اس ليے يہ توکّل در اصل خدا تعاليٰ کي عبادت کے ليے ہوتا ہے مگر يہ مقام کبھي حاصل نہ ہو سکتا اگر تقدير نہ ہوتي۔ کيونکہ اگر اللہ تعاليٰ نے کچھ کرنا ہي نہ ہوتا تو اس کے سپرد اپنے کام کر دينے کا ہي کيا مطلب؟ اور کسي شخص کو اگر تقدير پر ايمان نہ ہو تو اسے بھي يہ مقام حاصل نہيں ہو سکتا۔ کيونکہ اگر وہ اس امر کو مانتا ہي نہيں کہ خدا تعاليٰ بھي بندہ کے کاموں ميں دخل دے سکتا ہے تو وہ اپنے کام اس کے سپرد کرے گا ہي کيوں؟ پس تقدير پر ايمان لانا توکّل کا درجہ حاصل کرنے کے ليے ضروري ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو اللہ تعاليٰ کي عبادت اور دين کي خدمت ميں ايسا لطف پاتا ہے کہ اپني دنياوي محنتيں کم کر ديتا ہے اور اپنے دنياوي کام اللہ تعاليٰ کے سپرد کر ديتا ہے اور اميد رکھتا ہے کہ وہ ان کو پورا کر دے گا اور اس کو دين کي خدمت کے ليے فارغ کر دے گا۔

توکّل کے اس درجہ سے اوپر ايک اَور درجہ ہے جس ميں انسان اسباب معيشت کے حصول کےليے محنت کرنا بالکل ہي چھوڑ ديتا ہے اور اپنا سارا وقت ہي اللہ تعاليٰ کے ليے وقف کر ديتا ہے اور دنيا سے بکلي انقطاع کر ليتا ہے اور اس سے بھي اوپر ايک اور درجہ ہے کہ انسان اس درجہ ميں بعض اوقات حوائج ضروريہ کا پورا کرنا ترک کر ديتا ہے۔ اس کا يہ مطلب نہيں کہ مثلاً بھوکا مر جاتا ہے۔ بلکہ يہ مطلب ہے کہ اللہ تعاليٰ کے اذن کے بغير کوئي کام نہيں کرتا۔ حضرت عبد القادر جيلانيؒ لکھتے ہيں کہ مجھ پر بعض اوقات ايسي حالت آتي ہے کہ اس حالت ميں مَيں نہيں کھاتا جب تک خدا تعاليٰ نہ کہے تجھے ميري ہي ذات کي قسم تُو کھا تب ميں کھاتا ہوں۔ اور نہيں پيتا جب تک خداتعاليٰ نہ کہے کہ  تجھے ميري ہي ذات کي قسم تُو پي تب ميں پيتا ہوں۔ ميں کپڑے نہيں پہنتا جب تک خدا تعاليٰ نہ فرمائے کہ تجھے ميري ہي ذات کي قسم تُو کپڑے پہن لے تب ميں کپڑے پہنتا ہوں۔ ان کي عادت تھي کہ ايک ہزار دينار کا کپڑا پہنتے۔ جس پر لوگ اعتراض کرتے تو کہتے نادان نہيں جانتے خدا تعاليٰ مجھے ايسا ہي کپڑا پہننے کے ليے کہتا ہے تو ميں کيا کروں؟

ايسے لوگوں کا خدا تعاليٰ متکفل ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ کا نام مقام فنا ہے۔ آج کل کے نادان بزرگوں سے سن کر يہ تو جانتے ہيں کہ يہ بھي کوئي مقام ہے ليکن وہ نہيں جانتے کہ وہ کيا ہوتا ہے۔ اس مقام کے لوگوں کي مثال ايسي ہي ہوتي ہے جيسے کوئي شراب پي کر بالکل ہي بے خبر ہو جائے۔ اسي طرح اس مقام پر پہنچے ہوئے لوگ خدا تعاليٰ کي محبت سے مخمور ہو کر دنيا سے بالکل غافل ہو جاتے ہيں۔اور جب ان کي يہ حالت ہوتي ہے تو خدا تعاليٰ ان کا ہر ايک کام کرتا ہے۔ نادان لوگ کہتے ہيں کہ اس نشہ کي حالت ميں اولياء اللہ جو چاہيں کہہ ديتے ہيں اور خلافِ شريعت باتيں بھي ان کے منہ سے نکل جاتي ہيں۔ اور بعض اسي خود ساختہ مسئلہ کي آڑ ميں کہہ ديتے ہيں کہ مرزا صاحبؑ بھي اس مقام پر پہنچ کر دھوکے ميں پڑ گئے اور بعض خلاف شريعت دعويٰ کرنے لگے اس ليے ان کے وہ دعوے قابل قبول نہيں۔ مگر يہ لوگ نہيں جانتے کہ خدا تعاليٰ کي پلائي ہوئي شراب گو دنيا و ما فيہا سے غافل کر ديتي ہے مگر عقل نہيں مارتي اور نہ دين سے غافل کرتي ہے۔ اس شراب کے پينے سے تو دين کي آنکھ اَور بھي تيز ہو جاتي ہے۔ اور يہ وہ شراب ہوتي ہے کہ اس کے پينے سے تقويٰ اور طہارت بہت بڑھ جاتي ہے۔ مگر يہ لوگ خدا تعاليٰ کي محبت کي شراب کا قياس اس شراب پر کرتے ہيں جو گندم يا گُڑ کو سڑا کر بنائي جاتي ہے۔ حالانکہ خدا تعاليٰ کي پلائي ہوئي شراب سے مراد وہ محبت کا جام ہے جو وہ اپنے بر گزيدوں کو پلاتا ہے اور جو ايک طرف اگر بندہ کے دل سے دنيا کا خيال محو کر ديتا ہے تو دوسري طرف اللہ تعاليٰ اور اس کے جلال کا نقش اس کے دل پر اَور بھي گہرا کر ديتا ہے۔

درجہ چہارم

اس کے بعد تقدير پر ايمان انسان کو اور اوپر لے جاتا ہے اور وہ درجہ عبد پر پہنچ جاتا ہے۔اس درجہ کي مثال ايسي ہے جيسے کوئي پرانا شرابي اس قدر شراب کا عادي ہو جاتا ہے کہ بوتلوں کي بوتليں انڈيل جاتا ہے مگر اسے نشہ نہيں آتا۔ اس درجہ پر پہنچنے والا انسان بھي اللہ تعاليٰ کي محبت کي شراب اس قدر پيتا ہے کہ اب وہ اس کا عادي ہو جاتا ہے اور اس حالت سے اوپر آجاتا ہے جوا سے پچھلے درجہ ميں حاصل ہوئي تھي۔ اور اب يہ اس درجہ فنا سے جس پر پہلے تھا اوپر چڑھ جاتا ہے اور بے خودي کا رنگ جاتا رہتا ہے بلکہ حواس تيز ہو جاتے ہيں اور يہ اپنے آپ کو عبوديت کے مقام پر کھڑا پاتا ہے۔ يعني اللہ تعاليٰ کي شان کو ايک اور نقطہ نظر سے ديکھنے لگتا ہے اور اپنے عبد ہونےکي طرف اس کي توجہ رجوع کرتي ہے اور يہ اپنے نفس کو کہتا ہے کہ ميں تو عبد ہوں، غلام ہوں، ميرا کيا حق ہے کہ اپنے آپ کو اپنے آقا پر ڈال دوں۔ اور يہ خيال کر کے وہ پھر تدبير کي طرف يعني تقدير عام کي طرف لوٹتا ہے اور گو يہ سلسلہ روحاني کا نيا دور بھي اسي طرح تقدير عام سے شروع ہوتا ہے جس طرح پہلا دور اس سے شروع ہوا تھا۔ اور اس مقام پر بندہ نہايت ادب کے ساتھ خدا تعاليٰ کے بنائے ہوئے سامانوں کو کام ميں لانا شروع کرتا ہے کيونکہ ان کو اللہ تعاليٰ کي طرف سے سمجھتا ہے اور تمام ضروريات کے موقعوں پر خوب اسباب سے کام ليتا ہے۔ آج کل نادان انسان اعتراض کرتے ہيں کہ مرزا صاحب تدبيريں کيا کرتے تھے۔ حالانکہ جو انسان عبوديت کے مقام پر ہو يا اس مقام سے اوپر گزر چکا ہو اس کے ليے بعض دفعہ يہ واجب ہوتا ہے کہ وہ تدبير سے کام لے۔ اگر وہ ايسا نہ کرے تو اس کو گناہ ہو۔ عبوديت کے مقام پر پہنچا ہوا انسان سب کام کرتا ہے اور ہر بات کے ليے جو اسباب مقرر ہيں ان سے کام ليتا ہے اور بعض دفعہ تو اس پر ايسي حالت آتي ہے کہ سوائے ان دعاؤں کے جن کا مانگنا اس کے ليے فرض کر ديا گيا ہے وہ اپني طرف سے اپنے نفس کے ليے دعا بھي نہيں کرتا۔کيونکہ وہ سمجھتا ہے کہ دعا کرنا گويا تقدير خاص کو بلانا ہے اور ايک غلام کا کيا حق ہے کہ وہ اپنے آقا کو اس طرح بلائے۔ يہي وہ حالت تھي جو حضرت ابراہيمؑ کو اس وقت حاصل تھي جب کہ ان کو آگ ميں ڈالنے لگے تھے۔ اس وقت جبرائيلؑ ان کے پاس آئے اور آکر کہا کہ اگر خدا سے کچھ مدد مانگنا ہے تو مجھے کہو۔ حضرت ابراہيمؑ نے کہا تم کو کہنے کي کيا ضرورت ہے خدا تعاليٰ خود جانتا ہے۔ انہوں نے کہا پھر خدا سے کہو۔ حضرت ابراہيمؑ نے کہا وہ خود ديکھ رہا ہے ميں اسے کيا کہوں؟

تو اس درجہ پر پہنچ کر انسان کي يہ حالت ہو جاتي ہے کہ عبوديت ميں محو ہو کر اللہ تعاليٰ کے رعب اور شان کو ديکھ کر اس کي طرف آنکھ بھي نہيں اٹھا سکتا کيونکہ اس وقت اس کي آنکھيں تمام طرف سے پھري ہوئي ہوتي ہيں اور اس کي نظر صرف عبوديت پر ہي ہوتي ہے۔

درجہ پنجم

پھر اس کے آگے بندہ  اور ترقي کرتا ہے اور اپني عبوديت کا جب مطالعہ کر چکتا ہے اور اپنے اوپر تقدير عام جاري کرتے کرتے وہ اپنے نفس کي کمزوريوں کو خوب محسوس کر ليتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے آخر تقدير خاص کيوں جاري کي؟ اس ليے کہ ميں اس کا عبد ہوں اور مجھ ميں کمزورياں ہيں۔ پس اس سے کام نہ لينا بھي ناشکري ہے اور اس پر وہ خاص تقدير سے کام لينا شروع کرتا ہے۔ يعني دعا سے کام ليتا ہے اور يہ مقام مقامِ دعا کہلاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر وہ خدا سے دعا مانگتا ہے۔ جب کوئي روک اس کے سامنے آتي ہے تو کہتا ہے خدا تعاليٰ نے تقدير خاص اس ليے رکھي ہے کہ ميں ايسے موقع پر اس سے کام لوں۔ اس کي مثال ايسي ہي ہے جيسے کہ ايک شخص ثمردار درخت کے نيچے بيٹھا ہو اور ايک لمبا بانس اس کے پاس ہو۔ جب اسے بھوک لگے درخت سے پھل جھاڑے۔ گو وہ اس کے ليے کوشش تو خود کرتا ہے مگر بانس اس کو مل جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچا ہوا انسان دنيا کي اصلاح اور اس کو عبوديت کي طرف لانے ميں کوشاں ہوتا ہے۔ مگر ساتھ ہي وہ جانتا ہے کہ ميں عبد ہو کر يہ کام نہيں کر سکتا اس ليے اپنے آقا کو ہي لکھنا چاہيے۔پس جب وہ ضرورت سمجھتا ہے اپنے آقا کو لکھتا ہے يعني خدا تعاليٰ کے حضور دعا کرتا ہے کہ فلاں کام ميں مدد ديجيے اور وہاں سے مدد آجاتي ہے۔ اس وقت تدبير اس کي نظر ميں حقير ہوتي ہے۔ اور اپنے آپ کو عبد سمجھتا ہے۔ مگر اسے يہ بھي معلوم ہوتا ہے کہ عبد اپنے آقا کي مدد کے بغير کچھ نہيں کر سکتا۔ پھر اس سے آگے انسان چلتا ہے۔ مگر جوں جوں انسان آگے چلتا ہے اسي عبد کے مختلف مقامات پر پہنچتا ہے اس سے اوپر اور کوئي درجہ نہيں۔ بلکہ بڑے سے بڑا درجہ بھي عبد کے درجہ کي کوئي شاخ ہي ہے اس سےعليحدہ نہيں۔ حتيٰ کہ رسول کريم ﷺ کو بھي اللہ تعاليٰ عبد ہي کہتا ہے اور سب واقفانِ اسرارِ شريعت کا اتفاق ہے کہ سب سے بڑا درجہ روحاني ترقي ميں عبد ہونے کا ہي ہے۔ اور وہ لوگ جھوٹے ہيں جو کہتے ہيں کہ اس سےآگے ابن اللہ کا درجہ ہے۔ سب سے بڑا عبوديت کا ہي درجہ ہے اور مقام دعا بھي اسي درجہ کي ايک اعليٰ شاخ ہے۔

غرض مقام دعا پر جب انسان پہنچتا ہے تو جب کوئي روک اس کے راستہ ميں آتي ہے وہ فوراً اللہ تعاليٰ کے حضور ميں گر جاتا ہے اور اس کي مدد سے اس روک کو دور کرتا ہے۔

جنگ احزاب کا واقعہ ہے کہ خندق کھودتے ہوئے صحابہؓ ايک پتھر کو کاٹنا چاہتے تھے مگر وہ نہ کٹتا تھا۔ اس پر رسول کريم ﷺ کے پاس گئے جن کے وہ عبد تو نہ تھے مگر بوجہ اس درجہ کے جو اللہ تعاليٰ نے آپؐ کو ديا تھا آپؐ کے غلاموں ميں شمار ہونا فخر سمجھتے تھے۔ آپؐ سے دريافت کيا کہ اب ہم کيا کريں؟ آپؐ نے فرمايا۔ لاؤ مجھے کدال دو۔ اور کدال لے کر آپؐ اس جگہ گئے اور اسے اٹھا کر زور سے پتھر پر مارا تو اس سے آگ نکلي۔ آپؐ نے کہا اللہ اکبر۔ سب صحابہؓ نے بھي کہا۔ اللہ اکبر۔ دوسري بار مارا تو پھر آگ نکلي اور آپؐ نے کہا اللہ اکبر۔ صحابہؓ نے بھي کہا اللہ اکبر۔ پھر تيسري بار مارا۔ پھر آگ نکلي اور آپؐ نے اللہ اکبر کہا  اور صحابہؓ نے بھي کہا۔ اللہ اکبر۔ تيسري بار مارنے سے پتھر ٹوٹ گيا۔ اس موقع پر صحابہؓ رسول کريمﷺ کي اتباع ميں اللہ اکبر کہتے رہے ورنہ انہيں پتہ نہ تھا کہ آپؐ کيوں اللہ اکبر کہتے ہيں؟ اس ليے انہوں نے بعد ميں رسول کريم ﷺ سے پوچھا کہ اللہ اکبر کہنے کي وجہ کيا تھي؟ آپ نے فرمايا: جب پہلي بار آگ نکلي تو اس ميں مجھے کسريٰ اور حيرہ کے قصر دکھائے گئے اور بتايا گيا کہ ان پر مسلمانوں کو غلبہ ديا جائے گا۔ پھر ميں نے کدال ماري تو اس کي روشني ميں مجھے حيرہ کے قصر دکھائے گئے۔ اور بتايا گيا کہ قيصر کي اس مملکت پر مسلمانوں کو قبضہ ملے گا پھر جب ميں نے تيسري دفعہ کدال ماري اور روشني نکلي تو مجھے صنعا (يمن) کے قصر دکھائے گئے اور بتايا گيا کہ ان پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گا۔ (الکامل في التاريخ لا بن الاثير جلد نمبر 2 صفحہ 179 مطبوعہ بيروت 1965ء)

غرض جب غلام کو اس کام ميں کوئي روک نظر آتي ہے جو اس کے سپرد کيا گيا ہو تو وہ آقا ہي کے پاس جاتا ہے اور اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ اسي طرح عبوديت کے مقام پر پہنچا ہوا انسان دعاؤں ميں خاص طور پر مشغول رہتا ہے اور ہر ايک مشکل کے وقت خدا تعاليٰ سے مدد طلب کرتا ہے۔ اس شخص کي مثال ايسي ہے جيسے کوئي شخص باغ ميں ہو اور اس کے پاس ايک لمبا بانس ہو جس وقت چاہے درختوں کو ہلا کر پھل گرا لے۔

(باقي آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close