خلاصہ خطبہ جمعہ

دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے احمدیوں کی وقفِ جدید کے حوالےسے مالی قربانی کےایمان افروزواقعات

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍جنوری 2020ءبمقام مسجد بیت الفتوح ،مورڈن،سرے،یوکے

وقف جدید کے 63ویں سال کے آغاز کا اعلان

امير المومنين حضرت خليفة المسيح الخامسايدہ اللہ تعاليٰ  بنصرہ العزيز نے30؍جنوري 0202ء کو مسجد بيت الفتوح ، لندن، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا ۔جمعہ کي اذان دينے کي سعادت مکرم محمود وردي صاحب کے حصہ ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اور سورة فاتحہ کي تلاوت کےبعد حضورِا نور ايّدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا:

حضرت اقدس مسيح موعودؑنےاپني معرکة الآرا تصنيف  ‘‘اسلامي اصول کي فلاسفي’’ ميں خداتعاليٰ کو پانے کے آٹھ وسائل بيان فرمائے ہيں جو انسان کے مقصدِ پيدائش کو پورا کرنے والے بھي ہيں۔ ان وسائل ميں پانچواں وسيلہ خداتعاليٰ نے ‘مجاہدہ ’ٹھہرايا ہے۔ حضرت مسيح موعودؑ فرماتے ہيں۔ ‘‘يعني اپنا مال خداتعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنے کے ذريعےسے اور اپني طاقتوں کو خداکي راہ ميں خرچ کرنے کے ذريعے سے اور اپني جانوں کو خداکي راہ ميں خرچ کرنے کے ذريعے سے اوراپني عقل کو خداتعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنے کے ذريعےسے اس کو ڈھونڈا جائے۔’’ خدا تعاليٰ کي محبت حاصل کرنے کا طريق بتاتے ہوئے حضرت مسيح موعودؑ فرماتے ہيں۔‘‘ تمہارے ليے ممکن نہيں کہ مال سے بھي محبت کرو اور خداتعاليٰ سے بھي۔صرف ايک سے محبت کرسکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے……پس جو شخص خداتعاليٰ کےليے بعض حصّہ مال کا چھوڑتاہےوہ ضرور اسے پالے گا۔’’پھر آپؑ نے فرمايا۔ ‘‘چاہيے کہ ہماري جماعت کا ہر ايک متنفس يہ عہد کرے کہ مَيں اتنا چندہ ديا کروں گا۔ جو شخص اللہ تعاليٰ کےليےعہد کرتا ہے اللہ تعاليٰ اس کے رزق ميں برکت ديتا ہے۔’’

حضورِانور نے فرمايا کہ اللہ تعاليٰ کے فضل سے جماعت ميں لاکھوں مخلصين ہيں جن کو جب چندے کي اہميت کي طرف توجہ دلائي جائے تو اللہ تعاليٰ کي محبت کو حاصل کرنے کے ليے مالي قرباني ميں بڑھنے کي کوشش کرتے ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ مَيں گذشتہ کئي سال سے جماعتي نظام کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ نئے آنے والوں کو مالي قرباني کے نظام ميں ضرور شامل کرنا چاہيے۔ بعض جگہ مالي کشائش رکھنے والے لوگ غريب رشتے داروں کي طرف سے ادائيگي کر ديتے ہيں، ٹھيک ہے يہ ايک نيکي ہے۔ ليکن اِن لوگوں کوخودبھي حصّہ لينا چاہيے۔صرف مال جمع کرنا مقصد نہيں بلکہ خداتعاليٰ کي محبت کي خاطر،اس کے دين کے ليے قرباني کرنا مقصد ہے۔ مالي قرباني کي رپورٹس ميں خاص طور پر يہ ديکھنے ميں آيا ہے کہ غريب لوگوں کي مالي قرباني کا ذکر زيادہ ہوتاہے۔ بعض کي قربانياں ديکھ کر حيرت ہوتي ہے۔ اگر مالي فراواني ہو، بےشمار مال ودولت ہواور اُس ميں سے کچھ دےبھي ديا جائے تو يہ کوئي غيرمعمولي بات نہيں ۔ليکن تنگئ حالات اور غربت کے باوجود خداتعاليٰ کے دين کي خاطر قرباني کرنا،اصل قرباني ہے۔

حضورِانور نے حضرت منشي ظفر احمد ؓصاحب کي مالي قرباني کا معروف واقعہ بيان فرماياجس ميں آپؓ نے احباب کپور تھلّہ کو تحريک کيے بنا،از خود مالي قرباني پيش کردي تھي۔ جس کا بعد ميں علم ہونے پر باقي احباب نے مالي قرباني سے محروم رہ جانے پرآپؓ سے گلہ کيا تھا۔ حضورِانور نے فرمايا کہ ايسے ايسے لوگ اللہ تعاليٰ نے حضرت مسيح موعودؑ کو عطافرمائے جو خداتعاليٰ کي محبت کے حصول کےليے ہر قسم کي قرباني کےليے تيار رہتے تھے۔ آج چونکہ وقفِ جديد کے نئے سال کا اعلان  ہونا ہے اس ليے وقفِ جديد کے حوالےسے مالي قرباني کي چند مثاليں پيش کروں گا۔

گيمبيا کے ايک نومبائع مکئي اور گراؤنڈ نَٹ کي فصل بوتے تھے۔ گذشتہ کئي سال سے کوئي خاص فصل نہيں اُگ رہي تھي۔ انہوں نے گراؤنڈ نَٹ کے بيج فروخت کرکے وقفِ جديد کا چندہ ادا کرديا ۔اس مالي قرباني کي وجہ سے اللہ تعاليٰ نے اتني برکت دي کہ انہيں گذشتہ سال کي نسبت تين گنا منافع ہوا۔

کيمرون کے ايک نومبائع دوست نے وقفِ جديد کے ليے دو بالٹياں مکئي چندے ميں ديں۔ اِن صاحب کي زرعي زمين خاص اچھي نہ تھي،نيز مالي تنگي کے باعث حکومتي معاونت  حاصل کرنے کےليے مطلوبہ فيس بھي ادا نہ کرسکتے تھے۔ ليکن اس قرباني اور دعاؤں کے طفيل حکومت نے اُن کےکھيتوں کےليے پمپنگ مشين اور پانچ لاکھ فرانک سيفا از خود دے ديے۔اس کے نتيجے ميں انہوں نے اپنا چندہ وقفِ جديد دوگنا کرکے ادا کيا۔

انڈونيشياميں ايک مياں بيوي نہايت دور درازجزيرے  ميں رہتے ہيں اور سادہ زندگي گزار رہے ہيں۔ انہوں نے چندے کي رقم الگ کرکے ايک بکس ميں ڈال کر رکھي ہوتي ہے۔جب کوئي مبلغ ان کے پاس دورے پر جائے يہ رقم پيش کرديتے ہيں۔ 

انڈونيشيا ہي کے ايک دوست نے پانچ لاکھ انڈونيشين روپيہ وقفِ جديد ميں ادا کيا۔چند دن بعد انہوں نے ايک زمين پندرہ ملين انڈونيشين روپوں ميں خريد ي جو چند ہفتوں بعد ہي پچاس ملين انڈونيشين روپوں ميں فروخت ہوگئي۔ان کو يقين ہے کہ چندہ وقفِ جديد کي برکت سے تھوڑے ہي وقت ميں انہيں پينتيس ملين کا منافع ہوگيا۔

حضورِ انور نے گيمبيا اور ہيٹي جيسے مختلف الجہات ممالک سے مالي قرباني کي مثاليں  پيش کرتے ہوئے فرمايا  يہ واقعات مختلف جگہوں کے ہيں کوئي افريقہ ميں ہے کوئي امريکہ ميں ہے کوئي يورپ ميں ہے کوئي شمال ميں ہے کوئي جنوب ميں ہے اور آپس ميں ان کا رابطہ اور تعلق بھي کوئي نہيں، ليکن ملتے جلتے واقعات ہيں۔

گني کناکري کے ايک احمدي  ابو بکر صاحب کي ٹانگ حادثے ميں  ٹوٹ گئي تھي ۔ جس کےآپريشن کےليے وہ کچھ عرصے سے پيسے جمع کر رہے تھے۔جب انہيں وقفِ جديد کي مالي قرباني کي طرف  توجہ دلائي گئي تو انہوں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے  ساري رقم چندے ميں ادا کردي۔ اس بات کو دودن گزرے تھے کہ انہيں  خط ملا کہ ان کے آپريشن کا سارا خرچ حکومت ادا کرے گي۔

بھارتي بنگال کے ضلع پيربھوم ميں ايک دوست کي کريانے کي دکان ہے۔ اُن کا يہ طريق ہے کہ روزانہ صبح دکان کھولتے ہي سو روپيہ چندے کي ادائيگي کےليے ايک صندوق ميں ڈال ديتے ہيں۔ ايک روز دکان پر بہت کم لوگ آئے چنانچہ اگلے روز انہوں نے يہ سوچ کر کہ آج اللہ کے ساتھ سودا کيا جائے،سو کي بجائے تين سو روپے صندوق ميں ڈال ديے۔اسي دن دوپہر کے بعد ان کي دکان پر آٹھ خريدارآئے۔ اِن کا تھوک کا کاروبار ہے اور بورياں وغيرہ اٹھوانے ميں وقت لگتاہے چنانچہ انہيں ايک خريدار کو کہنا پڑا کہ کل آجانااور باقي خريداروں کو سامان ديتے ديتے رات ہوگئي۔

گني بساؤ کي ايک ضعيف خاتون مسکوتہ صاحبہ کے پيسوں کي تھيلي کہيں راستے ميں گر گئي جو بہت تلاش کے باوجود نہ ملي۔انہوں نے اپني بيٹي سے ادھار رقم لےکر چندہ وقفِ جديد ادا کيا۔اس کے بعد کہتي ہيں کہ ابھي چند ميٹر دور گئي تھي کہ وہي رقم جو پلاسٹک کے ايک لفافے ميں بند تھي سڑک کے درميان ميں  پڑي ہوئي مل گئي۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئيں اور اگلے دن واپس آکر اپنے وعدے کے مطابق ادائيگي کي اور لوگوں کو بتانے لگيں کہ وقفِ جديد کي برکت سے اللہ تعاليٰ نے ان کي گم شدہ رقم واپس دلادي۔

حضورِ انور نے تنزانيہ، بورکينا فاسو،آئيوري کوسٹ، بھارت اور لائبيريا وغيرہ ممالک سے مالي قرباني کےمتعدد واقعات پيش کرنے کے بعد وقفِ جديد کے تريسٹھ ويں سال کے آغازکا اعلان فرمايا۔ 31؍دسمبر کو اختتام پذير ہونے والے وقفِ جديد کے باسٹھويں سال ميں عالَم گير جماعت ہائے احمديہ کو کُل چھيانوے لاکھ تينتاليس ہزار پاؤنڈ کي مالي قرباني پيش کرنے کي توفيق ملي جو گذشتہ سال کي نسبت پانچ لاکھ پاؤنڈ زيادہ ہے۔

وصولي کے لحاظ سے دنيا بھر کي جماعتوں ميں اس سال برطانيہ سرِ فہرست  رہا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان پھر جرمني،امريکہ، کينيڈا،بھارت،آسٹريليا،انڈونيشيا اور پھر مشرقِ وسطيٰ کي دو جماعتيں ہيں۔

مقامي کرنسي ميں گذشتہ سال کي نسبت اضافہ کرنے کےلحاظ سے انڈونيشيا سرِ فہرست ہے۔ 

افريقي ممالک ميں مجموعي وصولي کے لحاظ سے پہلے نمبر پر گھانارہا۔

وقفِ جديد ميں 89 ہزار نئے شاملين کے ساتھ قرباني کرنے والوں کي  تعداد اٹھارہ لاکھ اکيس ہزار ہوگئي ہے۔نئے شاملين ميں اضافے کے اعتبار سے کيمرون نمبر ايک پر ہے۔

حضورِانور نے ازراہِ شفقت برطانيہ،پاکستان، جرمني، امريکہ،کينيڈا،بھارت اور آسٹريليا کي نماياں قرباني کرنے والي جماعتوں کا بھي ذکر فرمايا۔

خطبے کے آخر ميں حضورِ انور نے پاکستان کي معاشي و سياسي ناگفتہ بہ  حالت، بھارت کے ساتھ بڑھتي کشيدگي، بھارت کے اندروني حالات اور مشرقِ وسطيٰ کي تيزي سے بگڑتي صورتِ حال کے تناظر ميں  احبابِ جماعت کو دعا کي تحريک فرمائي۔حضورِ انور نے نئے سال کے آغاز کا حوالہ ديتے ہوئے فرمايا کہ نيا سال شروع ہوا ہے ہم ايک دوسرے کو مبارک باديں دے رہے ہيں،ليکن اندھيرے گہرے ہوتے چلےجارہے ہيں۔پس اس سال کے بابرکت ہونےکےليے ضروري ہے کہ ہم اللہ تعاليٰ کے حضور يہ دعا کريں کہ اللہ تعاليٰ اس سال کو اس طرح بابرکت فرمائے کہ دنيا کي حکومتيں اپني برتري ثابت کرنے کے ليے دنيا کو تباہي کي طرف نہ لے جائيں بلکہ دنيا ميں امن اور انصاف قائم کرنے والي ہوں۔ مسلمان ممالک آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت مسيح موعودؑ کے ساتھ جُڑ کر آنحضرتﷺ کا جھنڈا دنيا ميں لہرانے ميں مددگار بنيں۔ اللہ تعاليٰ ہميں بھي توفيق دے کہ ہم پہلے سے بڑھ کرزمانے کے امام کو ماننے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ 

نئے سال کي حقيقي مبارک باد ہم پر جو ذمہ داري ڈال رہي ہے اس کا بڑے چھوٹے،مرد عورت ہر احمدي کو احساس ہونا چاہيےاور اس کے ليے اپني تمام کوششوں اور صلاحيتوں کو استعمال کرنا چاہيے۔ اپني دعاؤں اور خداتعاليٰ سے تعلق ميں ايک خاص کيفيت  پيدا کرنے کي ہميں کوشش کرني چاہيے۔ تب ہي ہم اس سال کي حقيقي برکتيں حاصل کرنے والے ہوسکيں گے۔ اللہ تعاليٰ ہميں اس کي توفيق عطا فرمائے۔ آمين

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close