رپورٹ دورہ حضور انور

Radio Deutschland کی جرنلسٹ کا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے انٹرویو، متفرق سوالات کے بصیرت افروز جوابات

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ جرمنی 2019ء

مسجد خدیجہ (برلن )سے روانگی اور مہدی آباد (ہمبرگ)میں ورود مسعود

………………………………………………

22؍اکتوبر2019ءبروزمنگل(حصہ دوم۔آخر)

………………………………………………

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزکےخطاب نےشامل ہونے والے ممبران پارليمنٹ اورديگرحکومتي وديگرمہمانوں پرگہرےاثرات چھوڑے۔بہت سےمہمانوں نےاپنےجذبات اورتأثرات کااظہارکيا:

٭…ممبر آف جرمن پارليمنٹ بيٹينا مولر(Betina Muller)صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

امام جماعت احمديہ کے خطاب سے بھي امن کي خوشبو آتي تھي اور آپ کے وجود ميں بھي امن، سلامتي اور سچائي کي تاثير تھي جو دورانِ پروگرام سارے ماحول ميں مجھے محسوس ہوتي رہي۔

٭…ممبر آف پارليمنٹ زاکلين ناسٹک (Zaklin Nastie) صاحبہ نے کہا:

امام جماعت احمديہ نے اپنا مؤقف تمام زاويوں سے واضح کيا اور کوئي ابہام نہيں رہنے ديا۔ ايسا شفاف طرز خطابت سچائي اور فکري ديانت کے بغير ممکن نہيں۔ مجھے امام جماعت احمديہ کے لفظ لفظ سے اتفاق ہے۔

٭…Alexander Radwan صاحب جو ممبر پارليمنٹ ہيں انہوں نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

امام جماعت احمديہ نے جس امن اور سلامتي کا پيغام ديا اس کا ماخذ قرآن تھا اور انہوں نے اپنے موقف کي تائيد قرآن اور باني ٔ اسلام کے فرمودات سے کي۔ اگرچہ يہ موضوع جديد تھا اور عصري تقاضوں سے ہم آہنگ تھا ليکن خليفہ نے اپنے موقف کو قديم اسلامي ماخذ سے سپورٹ کرکے ثابت کيا کہ اسلام اور قرآن نے مذہب کي بنياد روز اول سے ہي انساني ہمدردي اور امن و سلامتي کي تعليم پر رکھي ہے۔ ميرے خيال ميں اس خطاب کي وسيع پيمانے پر تشہير ہو ني چاہيےتا کہ مغرب ميں اسلام کے بارے ميں حقيقي تعليم سے عام لوگوں کو بھي واقفيت ہو سکے۔

٭…کرسٹن بو شولز( Christine Buchholz)صاحبہ جوممبر پارليمنٹ ہيں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتي ہيں:

امام جماعت احمديہ نے حالاتِ حاضرہ کي نبض کو بالکل صحيح طور پر محسوس کيا ہے اور چونکہ ان کي تشخيص درست ہے اس ليے ان کے تجويز کردہ علاج ميں معاشرتي بدامني کا دير پا علاج ہے۔

٭…گوخن ييسل (Gokhal Yesil) صاحبہ کہتي ہيں:

امام جماعت احمديہ کے مدلّل موقف نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا ہے اور ميں اميد کرتي ہوں کہ جہاں تک يہ پيغام پہنچے گا، تو غير متعصب انساني فطرت اس سے بلا جھجک اتفاق کرے گي۔

٭…نيل اينن ( Niel Annen) صاحب جو وفاقي وزير ِمملکت ہيں نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

جس وضاحت، تفصيل اور تجزياتي موازنے کے ساتھ امام جماعت احمديہ نے اسلام، احمديت اور بحيثيت مجموعي مذہب کا تعارف اور معاشرتي کردار واضح کيا ہے اس کو سمجھنے کے بعد ميرے ليے يہ زيادہ آسان ہو گيا ہے کہ ميں ايسي جماعت کي پاکستان ميں حق تلفيوں اور ظالمانہ پابنديوں کے بارے ميں ہر ممکنہ فورم پر آواز اٹھا سکوں۔ اب ميں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت احمديہ کا انساني حقوق کے تحفظ کے ليے آواز اٹھانا کسي مذہب يا فرقے کي مدد نہيں بلکہ اجتماعي اور عالمي طور پر انساني قدروں کے تحفظ کي کوشش ہو گي۔

٭…کرسٹوف سٹراک( Christoph Strack) صاحباپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں:

ميں نے زندگي ميں شايد ہي کوئي ايسا پروگرام ديکھا ہو يا اس ميں شامل ہوا ہوں کہ جس کو مسلمانوں نے منعقد کيا ہو اور اس کي مجموعي فضا ايسي پُرسکون اور اس ميں ہونے والي گفتگو اتني جامع اور مدلّل ہو۔ مجھے خوشي ہوئي کہ کسي کي نظر ظاہري تہذيب و تمدن اور معاشرتي ترقي کے اندر چھپے ہوئے اختلافات کو ديکھ سکتي ہے اور امام جماعت احمد يہ کي ذات ميں موجود سچائي اوربے لوث انساني ہمدردي ان کو طاقت ديتي ہے کہ وہ کھل کر انسانيت کے سر پر منڈلانے والے ايٹمي جنگ کے خطرے سے کھلے لفظوں ميں خبر دار کريں۔

٭…ايمنسٹي انٹرنيشنل کے ترجمان جناب شاء(Chaa) صاحبکہتے ہيں:

امام جماعت احمديہ کي تقرير کے علاوہ ان کا شخصياتي تاثر بھي اتنا گہرا ہے کہ مجھے بات سن کر دل کو اطمينان محسوس ہونے لگا تھااور اپنے سے پہلے خليفہ کے حوالے سے انہوں نے تہذيب اور کلچر کي جو تعريف بيان فرمائي اور دونوں کا باہمي تعلق بتايا اس سے جديد دَور کے اہل دانش انکار نہيں کر سکتے۔

خليفہ نے قرآني آيات کي بڑے احسن رنگ ميں وضاحت کي۔ يہ وہي آيات ہيں جو اسلام سے متنفرلوگ سياق و سباق سے ہٹ کر پيش کرتے ہيں۔

٭…جناب فلس لوپوٹ(Fillis Lupot) صاحبجو ممبر پارليمنٹ ہيں نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

امام جماعت احمديہ ايک منکسر المزاج شخص ہيں اور معاشرے کے جس نچلے طبقے تک ان کي نظر ہے اور جس جامعيت سے وہ انساني ہمدردي اور انساني قدروں کے احترام کي بات کرتے ہيں اس سے ميں يہي سمجھا ہوں کہ ان کا پبلک سے رابطہ بہت گہرا اور ذاتي ہے۔ اور عامة الناس سے جس طرح کي دوري مذہبي اور سياسي ليڈروں ميں پائي جاتي ہے، ان کي شخصيت اس سے بالاتر ہے۔

٭…ايک پروفيسر ہيربرٹ ہيرٹے(Prof. Heribert Hirte) صاحب نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئےکہا:

امام جماعت احمديہ نے اپني جماعت کو تعليمي ميدان ميں نماياں کر کے جماعت احمديہ کو ديگر تمام مذہبي جماعتوں سے ممتاز مقام پر کھڑا کر ديا ہے۔ جس جماعت کے افراد تعليم پر اتني توجہ ديں گے ان کي منزل ہي يہ ہے کہ وہ قيادت کريں نہ کہ اندھي تقليد،اس ليے مذہبي حلقوں ميں ايساوژن رکھنے والے راہ نما سے مل کر مجھے خوشي ہوئي۔

٭…ايکسل کنورگ( Axel Knoerig) صاحب جو ممبر پارليمنٹ ہيں نےکہا:

اس زمانے ميں ليڈرشپ پبلک اور رعايا کے دکھوں سے دور ہے اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات کا ذکر کرتے ہيں مگر ذاتي درد اور احساس سے عاري ہيں۔ مجھے خوشي ہوئي کہ امام جماعت احمديہ کي تقرير ان کے پبلک سے رابطے کي عکاسي کرتي تھي اور ان کي ذات سے انسانوں سے ذاتي محبت اور ہمدردي کا تاثر ملتا ہے۔ ميں اس خطاب کو جا کر دوبارہ پڑھوں گا اور جہاں تک ميري رسائي ہو گي اس کو آگے بھي بيان کروں گا۔

٭…فلزپولٹ ( Filiz Polat ) صاحبہ جو ممبر پارليمنٹ ہيں کہتي ہيں:

امام جماعت احمديہ نے نظام تمدن کي جامع اور بھر پور تعريف پيش کي۔ بعدازپروگرام جب مجھے ان سے بات چيت کا موقع ملا تو ميں نے ان سے ماحولياتي اور موسمي تحفظ کي بات کي تو ان کا کہنا تھا کہ يہ ايک عالمي مسئلہ ہے اور جب تک تمام ممالک اجتماعي کوشش نہ کريں تو اس ميں مثبت پيش رفت ممکن نہيں۔ ايسے گلوبل ماحولياتي مسائل کا حل کسي ايک ملک کي کوششوں سے ممکن نہيں ہوتا۔ مجھے خوشي ہوئي کہ انساني مسائل پر ان کي اجتماعي نظر بہت گہري ہے۔

٭…سبين ليڈگ ( Sabine Leidig) صاحبہ  جوممبر پارليمنٹ ہيںکہتي ہيں:

ميرا تعلق خود تو کسي مذہب سے بھي نہيں ليکن بحيثيت ايک مذہبي سر براہ ، امام جماعت احمديہ نے آنے والي نسلِ انساني کے درد کو جس طرح قبل از وقت محسوس کر کے آج کي ليڈر شپ کو خبر دار کيا ہے، اس کا ميرے دل پر گہرا اثر ہے۔ اور ميري خواہش ہے کہ يہ پيغام عام ہو تاکہ انسانوں کا اجتماعي شعور اس بارے ميں بيدار ہو سکے اور اگلي نسلوں کي ذمہ داري کا ادراک ہو سکے۔ جو آج His Holiness کا پيغام تھا وہ ميرے دل تک پہنچا اور اس نے اثر کيا کيونکہ انہوں نے امن کے پيغام کے ساتھ ساتھ جس طرف توجہ دلائي وہ بچے ہيں۔ يعني انہيں بچوں کے بارہ ميں فکر ہے، خاص طور پر ايٹمي اسلحہ کے خطرات جو ہيں ان سے خبر دار کيا۔ خليفہ کو صرف آج ہي کے انسانوں سے محبت نہيں بلکہ آئندہ آنے والي جو نسليں ہيں ان کي بھي فکر اور ان سے بھي پيار ہے۔ آج مجھے اسلام کے بارہ ميں خاص طور پريہ واضح ہوا کہ عورت کا اسلام ميں کيا مقام ہے اور عورت کي قدر اور اہميت جس کا خليفہ نے آج ذکر کيا۔

٭…ناہونڈي( Nahawandi) صاحبہ اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتي ہيں:

امام جماعت احمديہ کے اس خطاب کي يورپ ميں وسيع پيمانے پر اشاعت ہونے سے اسلام کے بارے ميں پائے جانے والے تحفظات دور ہوں گے اور يک طرفہ طور پر پائے جانے والے منفي تاثرات کا ازالہ ہو سکے گا۔

٭…Axel Knohrig صاحب جو ممبر پارليمنٹ ہيں اپنے تاثرات بيان کرتے ہوئے کہتے ہيں:

مجھے آج خاص طور پر خليفہ کا خطاب پسند آيا کيونکہ انہوں نےدنياميں امن پھيلانے کي طرف توجہ دلائي اور ساتھ ساتھ واضح بھي کيا کہ ہر ايک فرد کي کيا کيا ذمہ داري ہے تا کہ امن قائم کيا جا سکے۔ يہ جو پيغام خليفہ نے آج کے خطاب ميں ديا ہے ان کي اپني ذات ميں ديکھا اور محسوس بھي کيا جاسکتا ہے۔ اگر سب لوگ يہ پيغام سمجھيں تو يقينا ًامن پھيلايا جا سکے گا۔ ايک اور اہم پہلو جو آج خليفہ نے بيان کيا وہ يہ ہے کہ آپس ميں مختلف مذاہب اور کلچرکس طرح امن ميں مل کر رہ سکتے ہيں۔ انہوں نے جن باتوں کا ذکر کيا ہے ان سب باتوں سے ميں بطور عيسائي اتفاق کرتا ہوں۔

٭…پروفيسر Christoph Gultman صاحب اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں:

مجھے آج کا پروگرام بہت پسند آيا۔ His Holiness کے خطاب سے مجھے بہت کچھ سيکھنے کا موقع ملا۔ بہت سے قرآن کے حوالہ جات ميں نے ساتھ نوٹ بھي کيے جن کا خليفہ نے ذکر کيا تھا۔ اب ميں انہيں گھر جا کر ضرور دوبارہ پڑھوں گا بھي۔ مجھے اس بات کي بھي خوشي ہوئي کہ خليفہ امن کا پيغام پھيلارہے ہيں۔

٭…ايک عيسائي مہمان نے کہا: مجھے پہلي بار موقع ملا کہ His Holiness کا خطاب سنوں۔ اس سے قبل ميں نے کبھي بھي يہ نہيں سنا تھا کہ اسلام امن کو اتني اہميت ديتا ہے اور امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کي بھي مجھے بہت خوشي ہوئي کہ His Holinessکا خطاب آج مختلف سياسي پارٹيز کے نمائندگان نے سنا۔ اسي طرح يہودي ربي اور دوسرے مسلمان فرقوں کے لوگ بھي مجھے يہاں نظر آئے۔

٭…ايک مہمان نے اپنے تاثرات بيان کرتے ہوئے کہا:

آج مجھے ايک بہت ہي پُر حکمت شخص کا خطاب سننے کا موقع ملا جنہوں نے اپنے خطاب ميں ہر ايک فرد کو اس کي ذمہ داري کي طرف توجہ دلائي کہ کس طرح سے امن قائم کيا جاسکتا ہے۔ His Holiness لوگوں کو تاريکي سے روشني کي طرف لا سکتے ہيں۔ انہوں نے بہت آسان الفاظ ميں واضح کر ديا کہ سب انسانوں کو امن اور پيار سے اکٹھے رہنا چاہيے۔ اس کے ليے سب سے ضروري يہ بات ہے کہ ايک دوسرے کا احترام کيا جائے۔ يہ بات بھي انہوں نے بيان کي کہ دنيا ميں ہر چيز کافي مقدار ميں موجود ہے اور سب کے ليے کافي ہے اگر اس کوصحيح طرح استعمال کيا جائے۔

٭…ايک خاتون بيان کرتي ہيں: يہ بات تو واضح ہو جاتي ہے کہ يہ شخص His Holiness کيوں ہے۔ ايک ايسے ليڈر ہيں جو نہايت ہي پيار اور محبت ظاہر کرتے ہيں ليکن پيغام ميں بہت واضح ہيں اور ہر ايک کو اس کے فرائض کي طرف توجہ دلانے والے ہيں۔ يہ ليڈرشپ ميں نہايت ہي ضروري بات ہوتي ہے۔

٭…ايک مہمان اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں:

His Holinessنے بہت سي اہم باتوں کي طرف توجہ دلائي۔ سب سے پہلے جس بات کا انہوں نے ذکر کيا وہ يہ تھي کہ آج کل کے معاشرہ ميں مذہب کو اہميت نہيں دي جاتي اور مذہب کو منفي نظر سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ بات ہميں بطور عيسائي بھي محسوس ہوتي ہے۔ اس کے علاوہ جو بات مجھے خليفہ کے خطاب ميں بہت اہم لگي وہ تعليم و تربيت کي اہميت ہے۔ اس حوالہ سے تو احمديہ مسلم جماعت ويسے ہي ايک نمونہ ہے۔ کيونکہ جب انسانوں کو علم ہو کہ ان کي مقدس کتب کيا تعليم ديتي ہيں تو بہت سي مشکلات سے ہم آج بچ سکيں گے۔

٭…ايک مہمان نے کہا:

مجھے حيرت ہو رہي تھي کہ خليفہ کے خطاب ميں جو قدروں اور انساني اعمال کا ذکر ہورہا تھا وہ ميرے تصور کے مطابق تھا۔ ميں ان باتوں سے 100فيصد اتفاق کرتا ہوں۔ خليفہ کي شخصيت بھي حيران کن شخصيت محسوس ہوتي ہے۔ ايک بات جو مجھے خليفہ کے خطاب ميں سب سے زيادہ پسند آئي وہ يہ تھي کہ اس بات کا کوئي فائدہ نہيں کہ اپنے مذہب کي تعليم کا علم تو ہو ليکن اس پر عمل نہ کيا جائے۔ اصل بات تو يہ ہے کہ انسان اپنے اعمال سے واضح کرے کہ وہ اپنے اند ر اعليٰ اخلاق رکھتا ہے۔

٭…ايک مہمان اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں:

مجھے ابھي خليفہ سے ملاقات کرنے کا موقع ملا تھا اور ميں ابھي تک اس سے بہت ہي متاثر ہوں ۔ ميں اس بات کا شکر گزار ہوں کہ آج کے دن ايک ايسا پروگرام اس جگہ پر منعقد ہو سکا۔ آج کي ملا قات سے پہلے ميں بہت ہي خوف زدہ اور فکر مند تھا کيونکہ مجھے پتہ نہيں تھا کہ ايک خليفہ سے کس طرح ملا جاتا ہے۔ ليکن جب ان سے ملاقات ہوئي تو جلد ہي مجھے تسلي ہو گئي اور يہ يقيناً خليفہ کے charismaکي ہي وجہ تھي۔ آج کے خطاب ميں مجھے يہ بات بہت پسند آئي کہ انہوں نے اسلام کے بارہ ميں جو تعصبات ہيں ان کو رد ّکيا۔ ساتھ جو امن کا پيغام انہوں نے بيان کيا وہ بھي نہايت ہي اہميت کاحامل تھا۔

٭…ايک مہمان ممبر پارليمنٹ کہتے ہيں:

ان کے ليے يہ پروگرام نہايت ہي فائدہ مند رہا۔ His Holinessنے ايک بہت اچھے اندازميں تعصبات کو رد کيا اور اس طرح سے ايسے موضوعات پر بات کرنے سے لوگوں کي اصلاح ہوئي۔ اس کا يقينا ًبہت سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہو گا۔ يہ ضروري تھا کہ خليفہ حاضرين کو يہ واضح کرتے کہ اسلام کي تعليم حقيقت ميں امن پرمبني ہے۔

٭…ايک خاتون اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتي ہيں:

جب پہلي بار ميري نظر خليفہ پر پڑي تو يہ ميرے ليے حيران کُن بات تھي ليکن ساتھ ساتھ ايک احترام بھي تھا۔ مجھے اسلامي مذہب سے ويسے ہي دلچسپي ہے اور ايک بات آج کے خطاب سے مجھے يہ واضح ہوئي کہ مجھے ابھي بہت کچھ اسلام کے بارہ ميں سيکھنا ہو گا۔ يہ بات اس ليے بھي ضروري ہے تا کہ لوگوں کے تعصبات ختم کيے جائيں۔

اصل ميں اسلام تو امن کا مذہب ہے اور اس ليے بھي يہ آج کا خطاب ضروري تھاتا کہ جن کو بھي تعصبات ہيں وہ دور کيے جا سکيں۔

٭…ايک مہمان اپنے تاثرات بيان کرتے ہوئے کہتے ہيں:

خليفہ کي ويسے تو تمام باتيں مجھے پسند آئيں اور انہوں نے ايک بہت ہي پياري اور پُر امن تعليم پيش کي۔ ليکن ايک بات جس نے مجھے بہت حيران کيا وہ يہ تھي کہ لازمي نہيں کہ انسان بدلہ لے بلکہ معاف کرنا بھي فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

٭…ايک مہمان ARNO TAPPE صاحببھي اس تقريب ميں شامل تھے۔ انہوں نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ميں پہلے بھي خليفۂ وقت کا خطاب سن چکا ہوں۔ اس وقت بھي آپ کي باتوں کا مجھ پر ايک اثر ہوا تھا اور اس بار بھي آپ کي باتوں کا ايک خاص ہي اثر ہوا ہے۔ چونکہ خليفۂ وقت کے خطاب کا بہت جگہوں پر چرچا ہو گا اس ليے ميرا مشورہ ہے کہ خليفۂ وقت کے اس خطاب کو جلد از جلد پرنٹ کروا کر سب مہمانوں کو اور سب members of parliament وغيرہ کو دے ديا جائے۔ اس طرح سب تک خليفۂ وقت کے الفاظ بر اہِ ر است پہنچ جائيں گے۔

………………………………………………

23؍اکتوبر2019ءبروزبدھ

………………………………………………

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے صبح 6بج کر 45منٹ پر مسجد خديجہ ميں تشريف لا کر نماز فجر پڑھائي۔نماز کي ادائيگي کے بعد حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ اپني رہائش گاہ پر تشريف لے گئے۔

صبح حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے دفتري ڈاک ، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائيں اور ہدايات سے نوازا۔

خاتون صحافي کا انٹرويو

آج پروگرام کے مطابق Deutschlandريڈيو کي ايک خاتون جرنلسٹ حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ سے انٹرويو کے ليے آئي ہوئي تھيں۔اس کے علاوہ ايمبيسڈر Berresheimصاحب جو کہ ڈائريکٹر آف دي ڈيپارٹمنٹ ريليجن اينڈ پاليٹکس منسٹري آف فارن افئيرز ہيں وہ بھي حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ سے ملاقات کے ليے آئے ہوئے تھے۔

10بج کر 35منٹ پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ اپنے دفتر تشريف لائے اور ريڈيوDeutschlandکي خاتون جرنلسٹ نے حضور انور سے انٹرويو ليا۔

خاتون جرنلسٹ نے کہا کہ ميں نے کل آپ کي تقرير سني تھي۔ميرا پہلا سوال يہ ہے کہ آپ نے بات کي تھي کہ يورپ کے اندر دہريت ميں اضافہ ہورہا ہے جو کہ يورپ کے ليے اسلام کي نسبت زيادہ خطرہ والي بات ہے اس ليے آپ نے لوگوں کو مذہب کي طرف لے کر آنے کي بات کي چاہے وہ عيسائيت ہو، يہوديت ہو يا کوئي بھي مذہب ہو۔آپ کے خيال ميں اخلاقي اقدار کو لامذہبيت سے کيا خطرہ درپيش ہے؟

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا۔تمام مذہبي صحائف بشمول بائيبل اور قرآن کريم ميں بعض اخلاقي اقدار کا ذکر ملتا ہے جن کا بالکل خيال نہيں رکھا جارہا ۔مثال کے طور پر والدين کا اُس طرح احترام نہيں کيا جاتا جيسا کہ پہلے کيا جاتا تھا يا مذہبي صحائف کي تعليمات کے مطابق نہيں کيا جاتا۔اس طرح روز مرہ کي اَور بھي کئي باتيں ہيں جن کا پوري طرح احترام نہيں کيا جارہا ۔

حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا۔آپ اخباروں ميں بھي پڑھ سکتے ہيں، رپورٹيں آتي رہتي ہيں کہ بچے کہتے ہيں کہ ان کے والدين کا ان کے ساتھ سلوک ٹھيک نہيں ہے جبکہ والدين کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔اب والدين نے يہ آواز اُٹھانا شروع کردي ہے کہ بچوں کو اتني آزادي نہيں ملني چاہيے جتني کہ انہيں ملي ہوئي ہے۔اس طرح کئي اخلاقي اقدار ہيں جن کو اس معاشرے ميں نظر انداز کيا جارہا ہے۔ اسي ليے ميں کہتا ہوں کہ بعض اخلاقي اقدار جن کا ذکر مذہبي کتابوں ميں ملتا ہے ان کا خيال نہيں رکھا جا رہا ۔

جرنلسٹ نے سوال کيا کہ آپ نے مذہبي آزادي اور باہمي رواداري کي اہميت کے حوالہ سے بات کي تھي ليکن اگر آپ اسلامي ممالک کو ديکھيں تو بہت سے اسلامي ممالک ميں اقليتوں کے ليے برداشت اور رواداري نہيں ملتي جيسا کہ جماعت احمديہ کو بھي اس چيز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تو کيا يورپ ميں موجود مذہبي آزادي آپ کو مزيد ترقي کرنے کا موقع فراہم کرتي ہے؟

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا:

يورپ ميں بہرحال ايک مثبت چيز ضرورپائي جاتي ہے کہ آپ کو آزادي اظہارِ رائے يا مذہب و عقيدہ کي آزادي حاصل ہے۔ تو يقيناً يہاں يہ چيز ہے کہ آپ جس مرضي عقيدہ کو مانتے ہيں اُس پر عمل کر سکتے ہيں اور اس کا اظہار کر سکتے ہيں ليکن بعض اسلامي ممالک ميں اس حق کي نفي کي جارہي ہے۔

حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا۔قرآن کريم بھي کہتا ہے کہ مذہب کے معاملہ ميں کوئي جبر نہيں اور ہم بھي اسي پر ايمان رکھتے ہيں۔ليکن اس کے ساتھ ساتھ جب ہم اپنے عقيدہ کي تبليغ کرتے ہيں يا اُس کا اظہار کرتے ہيں تو اگر لوگوں کو يہ پيغام پسند آتا ہے اور اگر يہ پيغام اچھا ہے تو لوگ اسے مان ليں گے۔مجھے اميد ہے کہ يہاں بہتر تعليم کے ذرائع مہيا ہيں يا يہاں کے لوگوں کي جب بھي مذہب کي طرف توجہ ہوگي تو يہ لوگ ديکھيں گے کہ اسلامي تعليمات ان کي روحاني ترقي کے ليےاور انہيں مذہب کي طرف واپس لے جانے ميں بہت فائدہ مند ہيں۔اس ليے ہم اميد کرتے ہيں کہ اگر لوگوں کي مذہب کي طرف توجہ ہوگي تو يہاں اسلام بہت تر قي کرے گا۔

جرنلسٹ نے سوال کيا کہ احمديوں کو اپني جماعت سے باہر شادي کرنے کي اجازت نہيں ہوتي۔آپ اس کو عقيدہ کي آزادي کے ساتھ کس طرح جوڑتے ہيں؟کيا پسند کي شادي کرنے ميں آزادي حاصل نہيں ہے؟

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نےفرمايا۔

يہ بات مکمل طور پر درست نہيں ہے۔اصل بات يہ ہے کہ بعض اوقات عورتيں مردوں کے زيرِاثر آجاتي ہيں، اس ليے ہم کہتے ہيں کہ اگر ايک احمدي لڑکي جماعت سے باہر شادي کررہي ہے تو ممکن ہے کہ لڑکي اور ان کے بچے مرد کے زير اثر آجائيں۔پھر ہم ديکھتے ہيں کہ اگر مرد اور عورت کا تعلق مختلف مذاہب سے ہوتو کچھ عرصہ بعد ہي اختلافات شروع ہوجاتے ہيں جس کي وجہ سے ان کے گھر خراب ہو جاتے ہيں۔دوسري طرف بعض لڑکياں مجھ سے اجازت مانگتي ہيں تو ميں انہيں اجازت دے بھي ديتا ہوں۔ اس کے علاوہ احمدي مرد بھي جماعت سے باہر شادياں کرتے ہيں اور کئي ايسے احمدي مرد ہيں جن کي بيوياں عيسائيت يا دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتي ہيں۔ بہرحال ہمارا يہ عقيدہ ہے کہ ايک مومن کو ايسے شخص سےہي شادي کرني چاہيے جو کہ ايک خدا پر ايمان لاتا ہو اور بتوں کي پوجا نہ کرتا ہو۔

جرنلسٹ نے سوال کيا کہ کل کي تقريب ميں مجھے کوئي احمدي خاتون نظر نہيں آئي۔اس حوالہ سے آپ کي کيا رائے ہے؟

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزنے فرمايا:

کل کا جو فنکشن تھا وہ باہر کے لوگوں کے ليے تھا،کافي لوگوں کو مدعو کيا گيا تھا اور بہت سے لوگوں نے حامي بھري تھي کہ وہ اس فنکشن ميں شامل ہوں گے ليکن وہاں محدود سيٹيں تھيں اور جو اس فنکشن کو آرگنائز کر رہے تھے وہ مرد ہي تھے۔ورنہ ہم اس طرح کے جو بھي فنکشن منعقد کرتے ہيں ان ميں اُن عورتوں کو بھي بيٹھنے کي اجازت ہوتي ہے جوا پنے ساتھ مہمان لے کر آتي ہيں۔ليکن کل کے فنکشن ميں جن لوگوں کو مدعو کيا گيا اور جنہوں نے شموليت کي حامي بھري تھي اور کوئي بھي احمدي خاتون مہمان نہيں لے کر آرہي تھيں اور تقريب ميں مرد ہي شامل تھے اسي ليے وہاں بعض مرد تھے اور کوئي بھي احمدي خاتون نہ تھيں۔ليکن عام طور پر ہماري مساجد کي تقاريب اور دوسرے فنکشنز ميں کافي عورتيں بھي ہوتي ہيں۔

جرنلسٹ نے کہا کہ ميں نے يہ پڑھا ہے کہ احمدي خواتين کے ليے سب سے پہلي جگہ گھر ہي ہے۔

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزنے فرمايا:

پہلي بات تو يہ ہے کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کے فرائض کي تقسيم کي ہوئي ہے۔اس کے مطابق کمانے کي ذمہ داري مردوں پر ہے، مالي طورپر گھروں کو وہي چلاتے ہيں اوربالعموم عورتيں گھر کا خيال رکھتي ہيں اور بچوں کي تربيت کرتي ہيں۔ليکن اس کے ساتھ ساتھ ہم عورت کے تعليم حاصل کرنے کے حق کي نفي نہيں کرتے۔اگر کوئي عورت پڑھي لکھي ہے، انجينئر ہے يا ڈاکٹر ہے يا استاد ہے يا کسي اور پيشہ ميں تعليم يافتہ ہے تووہ باہر جاتي ہيں اور کام بھي کرتي ہيں۔ ليکن جب وہ گھروں ميں آتي ہيں تو انہيں گھروں کا خيال رکھنا ہوتا ہے۔تو پہلي بات يہي ہے کہ يہ فرائض کي تقسيم ہے جس کے مطابق مرد باہر کام کرتے ہيں اور عورتيں گھروں ميں کام کرتي ہيں۔ليکن اگر کسي عورت ميں صلاحيت ہے يا کسي خاص فيلڈ ميں مہارت رکھتي ہے تو وہ باہر جا کر کام بھي کر سکتي ہے ليکن اس کے ساتھ ساتھ اس کو گھر بھي ديکھنا ہوگا۔عورتوں کا گھروں ميں رہنے يا گھروں کو سنبھالنے کا ہر گز يہ مطلب نہيں ہے کہ ان کو گھر سے باہر نکلنے کي اجازت ہي نہيں ہے۔ ہماري عورتوں کي ايک تنظيم ہے جو کہ بہت فعال ہے۔ اگر آپ نے کبھي ہمارا جلسہ ديکھا ہوتو آپ کو پتہ چلےکہ عورتيں اپنے فنکشنز خود آرگنائز کرتي ہيں اور وہ ہماري جماعت ميں بہت فعال ہيں۔ وہ باہر جا کر بھي اپنے فنکشنز منعقد کرتي ہيں اوران کا اپنا عليحدہ انتظام ہوتا ہے۔پھر خواتين کي کافي تعداد ہے جو کہ ڈاکٹرز ہيں، ٹيچرز ہيں، آرکيٹيکٹس ہيں جو باہر جا کر کام کرتي ہيں۔

خاتون صحافي نے پوچھا کہ پھر عورتوں اور مردوں کے درميان separationکيوں رکھي جاتي ہے؟

اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزنے فرمايا۔

کيونکہ ميں يہ مانتا ہوں کہ اگر عورتوں کو مردوں کے سايہ سے عليحدہ رکھ کر موقع ديا جائے تو وہ زيادہ بہتر رنگ ميں کام کرتي ہيں۔جب وہ مردوں سے عليحدہ ہوتي ہيں تو وہ اپنے کام کرنے ميں اور ترقي کرنے ميں آزاد ہوتي ہيں۔اگر آپ ايک بڑے درخت کے نيچے چھوٹا پودا لگا ديں تو وہ صحيح طرح پھل پھول نہيں سکتا ۔ اس ليے ہم سمجھتے ہيں کہ اگر عورتيں مردوں سے عليحدہ ہو کر کام کريں تو وہ زيادہ بہتر رنگ ميں ترقي کر سکتي ہيں۔ ليکن اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے پاس بھي وہي حقوق ہيں جو مردوں کے پاس ہيں۔عورتوں کے پاس خلع کا حق ہے، اسلام ميں عورتوں کو وراثت کا حق حاصل ہے اور کئي دوسرےحقوق بھي حاصل ہيں جو کہ مغرب ميں چند دہائياں پہلے تک عورتوں کو حاصل نہ تھے۔اگر آپ لوگوں کے پاس اب يہ حقوق ہيں تو آپ يہ نہيں کہہ سکتيں کہ آپ عورتوں کے حقوق کي چيمپئن ہيں بلکہ اسلام عورتوں کے حقوق کا چيمپئن ہے۔

خاتون صحافي نے کہا کہ ليکن عورتوں کو وارثت ميں مردوں کا نصف حصہ ملتا ہے؟

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا۔اس کے پيچھے بھي ايک حکمت ہے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا:

اگر آپ اس طرح سوال در سوال کرتي رہيں گي تو ميرا سارا وقت لے ليں گي اور مجھے پہلے ہي تاخير ہو رہي ہے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا:

بہرحال جہاں تک عورتوں کو مردوں کي نسبت نصف حصہ ملنے کا تعلق ہے تو جيسا کہ ميں نے آپ کو پہلے بھي بتايا ہے کہ روٹي کمانے کي ذمہ داري مردوں پر ہے، مرد نے کمانا ہے اور وہي گھريلو اخراجات کا ذمہ دار ہے۔اس ليے اگر عورت اخراجات کي ذمہ دار نہيں ہے تو پھر اس کو وراثت ميں جو کچھ بھي مل رہا ہے وہ اس کا اپنا ہے۔اس کے ليے وہ پيسے گھريلو اخراجات پر يا اپنے خاوند پر يا اپنے بچوں پر خرچ کرنا فرض نہيں ہے۔کيونکہ بچوں پر يا گھريلو اخراجات پر خرچ کرنے کي ذمہ داري مرد پر ہے۔پس عورت کو جو کچھ بھي وراثت ميں مل رہا ہے وہ خالصتاً اُسي کا ہے ليکن جو مرد کو مل رہا ہے وہ اس نے اپني بيوي پر بھي خرچ کرنا ہے اور اپنے بچوں پر بھي خرچ کرنا ہے ۔تو اس کے پيچھے يہي بنيادي منطق ہے۔

خاتون صحافي نے جواب پر حضور انور کا شکريہ ادا کيا اور آخري سوال کرتے ہوئے عرض کيا کہ آپ سے پہلے خليفہ نے کہا تھا کہ وہ جرمني ميں سو مساجد تعمير کرنا چاہتے ہيں۔کيا آپ بھي يہي چاہتے ہيں؟

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا:

وہ تو جرمني جماعت کو ايک ابتدائي ٹارگٹ ديا گيا تھا۔اس کا يہ مطلب نہيں کہ سو مساجد تعمير کرنے کے بعد ہم رُک جائيں گے۔ بلکہ ہم يہاں جرمني ميں مزيد مساجد تعمير کرتے رہيں گے۔ليکن ابھي تک ہم نے سو مساجد والا ہدف پورا نہيں کيا اس ليے في الحال ہماري توجہ سو مساجد کي طرف ہي ہے۔جب يہ ٹارگٹ مکمل ہوجائے گا تو پھر ميں يا پھر جو بھي ميرے بعد ميں آنے والا ہوگا وہ نيا ٹارگٹ دے دے گا۔

انٹرويو کے آخر ميں خاتون صحافي نے حضورانور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کا وقت دينے پربہت شکريہ ادا کيا۔يہ انٹرويو گيارہ بجے تک جاري رہا۔

ايمبيسڈر کي حضور سے ملاقات

بعدازاں ايمبيسڈرVolker Berresheimنے حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزسے ملاقات کي۔موصوف منسٹري آف فارن افئيرز ميں ڈائريکٹر برائےريليجن اينڈ پوليٹکس ڈيپارٹمنٹ ہيں۔

موصوف نے سب سے پہلے حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کي خدمت ميں گزشتہ رات منعقد ہونے والي شان دار تقريب پر مبارک باد پيش کي۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرماياکہ معاشرے کے متعدد طبقات کے لوگ وہاں آئے ہوئے تھے۔

ڈاکٹرBerresheimنے کہا کہ آج کل دنيا کو کافي پيچيدہ اور مختلف قسم کے خطرات اور چيلنجز کا سامنا ہے ليکن مجھے نہيں لگتا کہ تيسري عالمي جنگ کا خطرہ بھي درپيش ہے۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ واقعي دنيا کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے ليکن آپ تيسري عالمي جنگ کے خطرہ کو جھٹلا نہيں سکتے اور نہ ہي جھٹلايا جانا چاہيے۔

موصوف نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ مختلف سوسائٹيز کے اندروني مسائل زيادہ ہيں۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ سوسائٹيز کے اندر بےچينياں ہيں ليکن يہ بے چينياں اب ملکي سرحديں بھي عبور کر رہي ہيں اس ليے مختلف ممالک کے درميان بھي تضادات جنم لے رہے ہيں۔

ڈاکٹرBerresheimنے کہا کہ ليکن ان مسائل کا حل ہميں ابھي تک نہيں ملا۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ اقوام متحدہ اور اس جيسي ديگرتنظيميں ان مسائل کا حل بن سکتي ہيں ليکن اقوام متحدہ اپنا کام صحيح طرح نہيں کرتي۔يورپين پارليمنٹ کے آڈيٹوريم ميں ميں نے جو تقرير کي تھي اس ميں مَيں نے يورپين يونين کے حوالہ سے با ت کي تھي اور کہا تھا کہ يورپين ممالک کا يہ اتحاد ضرور قائم رہنا چاہيے۔ليکن آج ہميں يہ اتحاد بھي منتشر ہوتا نظر آرہا ہے۔بريگزٹ تو صرف ابتدا ہے۔اس کے بعد ممکن ہے اٹلي، سپين اور ديگر ممالک بھي يہي کام کريں۔

اس پر ڈاکٹر Berresheimنے کہا کہ اس انتشار يا اختلاف کے پيچھے باقاعدہ پيسہ لگا ہوا ہے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ بالکل درست بات ہے ۔ مختلف قسم کے اتحاد اور بلاکس بنتے ہوئے نظر آرہے ہيں۔

موصوف نے کہا کہ لبنان کي رپورٹس کے مطابق وہاں جو بات چيت ہوئي ہے اسے مختلف مذاہب نے سراہا ہے اور اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہيں۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ اسلامي ممالک ميں آپ ديکھ سکتے ہيں کہ بہت سے مسلمان فرقوں کے آپس ميں ايک دوسرے کے ساتھ اختلافات ہيں۔کوئي بھي مشترکہ پليٹ فارم نہيں ہے۔ ہر گروپ کا اپنا ايجنڈا ہے۔ پاکستان ميں آپ کو اس چيز کي انتہا نظر آئے گي۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا ۔حکومتوں کو چاہيے کہ وہ اس طرف خاص توجہ ديں ۔مذہب اور حکومت کو عليحدہ کرنا بہت ضروري ہے۔ورنہ امن قائم نہيں ہو سکتا۔ليکن سوال يہ ہے کہ مذہب کو ملکي معاملات ميں دخل اندازي کرنے سے روکے گا کون؟

موصوف نے کہا کہ Lindauميں ايک مذہبي کانفرنس منعقد ہوئي ہے جس ميں 900سے زيادہ نمائندگان شامل ہوئے تھے اور اس ميں احمديہ مسلم جماعت کي بھي نمائندگي ہوئي ہے۔انہوں نے بھي ايکشن پلان بنايا ہے۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا ديکھتے ہيں کس حد تک اس پلان پر عمل ہوتا ہے۔

موصوف نے کہا کہ جب مذہبي جماعتيں اکيلي کھڑي ہوتي ہيں تو اپني روايات اور ثقافتي مجبوريوں ميں جکڑي ہوتي ہيں اور ان کي آوازيں نہيں سني جاتيں۔اس سے کوئي خاص فائدہ نہيں ہوتا ليکن آپ جب مختلف جماعتوں کو اکٹھا کر کے کسي ايک بات پر متفق کر کے آواز اٹھائيں تو آپ کي آواز زيادہ بلند ہوتي ہے اور حکومتيں اس کو سنتي بھي ہيں۔

اس پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا آج کل مسئلہ يہ ہے کہ مذہبي رہنما مذہبي ہونے کي نسبت زيادہ سياسي ہوتے ہيں۔ميري دعا ہے کہ آپ کي کوششوں کے اچھے نتائج نکليں ليکن ساتھ ساتھ آپ کو يہ بھي بتا دوں کہ آپ زيادہ خوش فہمي کا شکار نہ ہوں۔

ملاقات کا يہ پروگرام 11بج کر 25 منٹ تک جاري رہا۔ا ٓخر پر موصوف نے حضور انور کے ساتھ تصوير بنوانے کا شرف پايا۔

فيملي ملاقاتيں

بعد ازاں پروگرام کے مطابق فيملي ملاقاتيں شروع ہوئيں۔ آج صبح کے اس سيشن ميں 41فيمليز کے 145؍ افراد نے اور11 احباب نے انفرادي طور پر اپنے پيارے آقا سے ملاقات کي سعادت حاصل کي۔

ملاقات کرنے والي ان سبھي فيمليز اور احباب نے حضور انور کے ساتھ تصاوير بنوانے کا شرف پايا۔حضورا نور نے ازراہ شفقت تعليم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹي عمر کے بچوں کو چاکليٹ عطا فرمائے۔

آج ملاقات کرنے والي يہ فيمليز جرمني کي مختلف 18؍ جماعتوں سے آئي تھيں۔بعض جماعتوں سے ملاقات کے ليے آنے والي فيمليز بڑے لمبے سفر طے کر کے آئي تھيں۔

اوسنا بُروک (Osnabruck)سے آنے والي 420کلوميٹر، فرينکفرٹ سے آنے والي 550 کلوميٹر، BocholtاورDietzenbachسے آنے والے 560 کلوميٹر اور ويزبادن(Wiesbaden)سے آنے والے    570کلوميٹر کا فاصلہ طے کر کے آئے تھے۔

Pfungstadtسے آنے والے احباب اور فيمليز 580 کلوميٹر، Badkrenznac سے آنے والے 600کلوميٹر اور Mannheim سے آنے والي فيمليز625 کلوميٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے پيارے آقا سے ملاقات کے ليے پہنچي تھيں۔

آج ملاقات کرنے والوں ميں بعض عرب احباب اور فيمليز بھي شامل تھيں۔

آج ملاقات کرنے والوں ميں ايک گيمبين احمدي دوست Ahmadou Njie صاحب نے بھي ملاقات کا شرف پايا۔

موصوف نے ملاقات کے بعد بتايا۔ميں نے حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کے متعلق 20سال قبل ايک خواب ديکھا تھا۔ميں نے جب يہ خواب اپني والدہ کو سنايا تو انہوں نے کہا کہ جب تک ميں حضور انورسے ملاقات نہ کر لوں اس وقت تک يہ خواب کسي کو نہ سنانا۔ اس ليے ميں نے وہ خواب حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز سے ملاقات سے قبل کسي کو نہيں سنايا۔

ايک بابرکت خواب

چنانچہ آج ملاقات کے دوران حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کو يہ خواب بتايا ہے۔اب مجھے لگ رہا ہے جيسے ميرے ليے دروازے کھل گئے ہيں اور ميں بہت خوش ہوں۔حضور کو ٹي وي پر ديکھنے اور اس طرح آمنے سامنے ديدار کرنے ميں بہت فرق ہے۔

اس دوست نے خواب کا ذکر کرتے ہوئے بتايا۔ميں نے ديکھا تھا کہ ميں پاني ميں ہوں اور وہاں پر لاکھوں فرشتے بھي کھڑے ہيں۔ميں فرشتوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ يہاں کيا کر رہے ہيں۔اس پر فرشتے جواب ديتے ہيں کہ تم نے آسمان پر نہيں ديکھا؟جب ميں آسمان پر ديکھتا ہوں تو وہاں ايک شخص بيٹھا ہوا ہے اور ميں ان فرشتوں سے پوچھتا ہوں کہ يہ شخص کون ہے؟اور خود ہي ان سے کہتا ہوں کہ کيا يہ درست ہے کہ يہ شخص رسول کريم ﷺکي سنت اور آپﷺکے نمونہ کوواضح کرنے آيا ہے۔ اس پر فرشتے اثبات ميں جواب ديتے ہيں۔

اس پرميں فرشتوں سے کہتا ہوں کہ ميں اس شخص تک پہنچنے کي کوشش کروں گا۔اس پر فرشتے جواب ديتے ہيں کہ بہت سے لوگ اس شخص تک پہنچنے کي کوشش کر رہے ہيں ليکن وہاں تک پہنچ نہيں پاتے۔اس پر ميں ان فرشتوں سے کہتا ہوں کہ ميں ان شاء اللہ پہنچ جاؤں گا۔پھر ميں وہاں سے چلا جاتا ہوں اور حضور انور کي طرف آسمان پر ديکھتا ہوں اور اپنا ہاتھ حضور انور کي طرف بڑھاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ يہ لوگ کہہ رہے ہيں کہ آپ رسول کريمﷺ کے نمونہ کو واضح کرنے کے ليے آئے ہيں۔اس پر حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز اثبات ميں جواب ديتے ہيں۔ميں حضور انور سے کہتا ہوں کہ يہي وجہ ہے کہ ميں اوپر آپ سے ملنے کے ليے آيا ہوں تا کہ آپ کي خدمت ميں سلام عرض کر سکوں اور آپ کي برکات لے کر واپس جا سکوں۔اس پر حضورانور فرماتے ہيں کہ ٹھيک ہے۔اس کے بعد ميں حضور انور سے مصافحہ کرتاہوں اور حضور مجھے ايک لفافہ ديتے ہيں جو ميں اپني جيب ميں ڈال ليتا ہوں اور واپس نيچے آکر لوگوں کو بتاتا ہوں کہ ميں تو اس عظيم الشان شخص سے مل آيا ہوں۔انہوں نے ميرے ليے دعا کي ہے اور مجھے برکات سے نوازا ہے اور ميں يہ برکات اپنے گھر لے کر جارہا ہوں۔جب ميں نيچے آتا ہوں تو وہاں ايک ہيلي کاپٹر بھي اُڑ رہا ہوتا ہے۔ميں لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ يہاں ہيلي کاپٹر کيوں آيا ہوا ہے؟ پھر خواب ميں ہي ميں ہيلي کاپٹر کے اندر جاتا ہوں جو کہ ايک مسجد کے اوپر اُڑتا ہے اور وہ مسجد ‘‘مسجد خديجہ’’کي طرح نظر آتي ہے۔پھر جب ميں مسجد پہنچتا ہوں تو وہ لفافہ کھولتا ہوں جس ميں برکتيں ہوتي ہيں اور ميں وہ برکتيں اپني فيملي ميں تقسيم کر ديتا ہوں۔

موصوف بيان کرتے ہيں۔گذشتہ سال ميں جلسہ سالانہ ميں شريک ہوا تھا اور وہاں ہيلي کاپٹر بھي اُڑ رہا تھا۔اور پھر حضور انور جب پرچم کشائي کر رہے تھےتو ہزاروں لوگ وہاں کھڑے نعرے بلند کررہے تھے۔ جب نمازوں کے بعد ميں سويا تو مجھے وہي خواب دوبارہ آئي اور ايک آدمي مجھے کہتا ہے کہ تمہيں اپني خواب ياد ہے جس ميں تم نے ايک عظيم ہستي کو ديکھا تھا۔جس شخص نے آج جھنڈا بلند کيا تھا يہ وہي ہستي ہے جسے تم نے خواب ميں ديکھا تھا۔اس کے بعد جب ميں نے حضور انور کو پہلي مرتبہ ديکھا تو ميں رونے لگ گيا۔ميں جلسہ گاہ ميں گيسٹ والے حصہ ميں موجود تھا جہاں حضور بڑي قريب سے گزرے۔ميري زندگي ميں پہلي مرتبہ حضور انور ميرے اتنے قريب تھے۔ مجھے ايسے لگ رہا تھا جيسے کسي نے ميرے جسم پر نيم گرم پاني ڈال ديا ہے۔اور ميں اس کے بعد ايک گھنٹہ تک روتا رہا۔

پہلے تو ميں نے حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کو قريب سے ہي ديکھا تھا اور آج اللہ تعاليٰ کے فضل سے مجھے حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز سے مسجد خديجہ برلن ميں ملاقات کي سعادت حاصل ہوئي اور اسي مسجد کو ميں نے خواب ميں ديکھا تھا۔

ملاقاتوں کا يہ پروگرام ايک بج کر 40منٹ تک جاري رہا۔بعد ازاں مقامي مجلس عاملہ جماعت برلن اور سيکورٹي ٹيم خدام الاحمديہ نے حضور انور کے ساتھ گروپ تصاوير بنوانے کي سعادت پائي۔

تقريب آمين

2بجےحضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز مسجد خديجہ ميں تشريف لائے اور پروگرام کے مطابق تقريب آمين کا انعقاد ہوا۔

حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے درج ذيل 24بچوں اور بچيوں سے قرآن کريم کي ايک ايک آيت سني اور آخر پر دعا کروائي۔

عزيزان ارسل عمران شاہد،بلال احمد، سرفراز احمد، نورالدين قاسم، محسن جاويد، ماہر چيمہ، جاذب عطا، اريض احمد، فرساد محمود، خاقان عارف، عدنان محمود ملک، مسرور احمد ملک، حارث وليد احمداور باسل عمران۔ عزيزات يُسريٰ منان، زارہ منصور، روحا عمر، ھبہ ناصر، صباحہ منير، عنايہ احمد، تابينہ مسرور، کشمالہ سحر، علونيہ مسرت شاکراور آيان خان۔

تقريب آمين کے بعد حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائيں۔نمازوں کي ادائيگي کے بعد حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز اپني رہائش گاہ پر تشريف لے گئے۔

مہدي آباد روانگي

آج پروگرام کے مطابق برلن (Berlin)سے مہدي آباد (ہمبرگ)کے ليے روانگي تھي۔

4 بج کر 25 منٹ پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز اپني رہائش گاہ سے باہر تشريف لائے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ کو الوداع کہنے کے ليے احباب جماعت مردو خواتين ايک بڑي تعداد ميں مشن ہاؤس کے بيروني احاطہ ميں موجود تھے۔بچيوں کے گروپس الوادعي دعائيہ نظميں پڑھ رہے تھے۔

پروگرام کے مطابق حضورا نور ايدہ اللہ تعاليٰ نے مشن ہاؤس کے بيروني احاطہ ميں بادام کا پودا لگايا۔ بعد ازاں حضورانور احباب کے درميان تشريف لے آئے۔حضورانور نے ازراہ شفقت بچوں کو چاکليٹ عطا فرمائيں۔احباب اپنے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اپنے پيارے آقا کو الوداع کہہ رہے تھے اور خواتين الوداع کہتے ہوئے شرف زيارت سے فيض ياب ہورہي تھيں۔

4 بج کر 40منٹ پر حضور انور نے دعا کروائي اور قافلہ مہدي آباد (ہمبرگ) کے ليے روانہ ہوا۔مسجد خديجہ برلن سے مہدي آباد کا فاصلہ 300کلوميٹر ہے۔

مہدي آباد ايک قصبہ Naheاور ضلع Segebergميں واقع ہے۔صوبہ Schleswig Holsteinہے۔ اور يہ صوبہ جرمني کے شمال کي طرف ہےاس صوبہ کا دارالحکومت Kielہے اور يہ وہي شہر ہے جس کے ايک جرمن باشندے نے حضرت اقدس مسيح موعود عليہ السلام کو آپؑ کي زندگي ميں پہچانا تھا اور آپ پر ايمان لايا تھا۔

قريباً 3گھنٹے کے سفر کے بعد 7بج کر 45 منٹ پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کي مہدي آباد تشريف آوري ہوئي۔مہدي آباد پہنچنے سے 8،7کلوميٹر قبل پوليس کي گاڑي نے قافلہ کو Escortکيا۔

جونہي حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ کي گاڑي مہدي آباد کے بيروني گيٹ سے اندر داخل ہوئي تو مہدي آباد اور ارد گرد کي جماعتوں سے آئے گيارہ صدسے زائد احباب جماعت مرد و خواتين نے اپنے پيارے آقا کا بڑے پُر جوش اور بھر پور انداز ميں استقبال کيا اور نعرے بلند کرتے ہوئے حضور انور کو خوش آمديد کہا۔بچوں اور بچيوں نے عليحدہ عليحدہ گروپس کي صورت ميں خير مقدمي گيت اور دعائيہ نظميں پيش کيں۔

مہدي آباد(Nahe)جماعت کے علاوہHusum, Pinne Berg, Bad Segeberg, Ditmarschen, Schleshwig, Kiel, Lubeck Lüneberg, Buxtehude, Stade, Vechta, Bremenاور ہمبرگ(Hamburg)کي جماعتوں سے احباب جماعت اپنے پيارے آقا کے استقبال کے ليے پہنچے تھے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کچھ دير کے ليے اپني رہائش گاہ پر تشريف لے گئے۔

حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ 8 بج کر تيس منٹ پر اپني رہائش گاہ سے باہر تشريف لائے۔علاقہ کے مئير Holger Fisher حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ کے استقبال کے ليے آئے ہوئے تھے ۔مکرم عبدالرؤف صاحب صدر جماعت مہدي آباد(Nahe)نےحضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ سے شرف مصافحہ حاصل کيا۔حضورانور نے ازراہ شفقت ميئر صاحب سے گفتگو فرمائي اور شرف مصافحہ سے نوازا۔

بعد ازاں حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزنے ‘‘مسجد بيت البصير’’ميں تشريف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائيں۔نمازوں کي ادائيگي کے بعد حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزاپني رہائش گاہ پر تشريف لے گئے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close