تعارف کتاب

تذکرۂ علمائے ہندوستان (قسط 2۔ آخری)

(ڈاکٹر سلطان احمد مبشر۔ ربوہ)

حضرت مولوی فیروز الدین صاحب ڈسکوی

حضرت مولوی فیرو ز الدین صاحب فیروز ڈسکوی اپنے دور کے عظیم الشان عالم ، مصنف اور بیک وقت مفسر قرآن ،مناظر لغت نویس،سیرت و سوانح نگار،معلم،مذہبی مناظر اور اردو اور پنجابی کے نادرالکلام شاعر تھے۔ان کی کتب مشہور و معروف ہیں۔

جناب مولوی محمد حسین صاحب بدایونی نے ‘‘مظہر العلماء’’میں آپ کا تذکرہ بایں الفاظ کیا ہے۔

‘‘مولوی فیروز الدین: (ڈسکھ)

آپ جلیل القدر عالم و فاضل [ہیں]،حق تو یہ ہے کہ آپ نے وہ کام کیا ہے، جس کا نعم البدل سوائے خداوند عزو جل اور حضور ختم الرسل ﷺ کے کوئی دے نہیں سکتا۔سلیس اُردو عام فہم زبان میں آریہ، عیسائیوں ، نیچریوں ،مخا لفین اسلام کو معقول و منقول دلائل سے ساکت کیا۔تفسیر فیروزی،عشرہ کاملہ،سچے عیسائی کی مناجات، پیارے نبی کے پیارے حالات(۲؍جلد)،پیارے ولی کے پیارے حالات،نماز اور اس کی حقیقت ،روزہ اور اُس کی حقیقت ،لغات فیروزی وغیرہ [آپ کی تصانیف ہیں]۔

(‘‘تذکرہ علمائے ہندوستان’’صفحہ444تا445)

ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب نے حضرت مولوی صاحب کو سہواً مولوی فیروزالدین صاحب لاہور بانی فیروز سنز سمجھتے ہوئے اپنا حاشیہ تحریر کر دیاہے۔ حالانکہ جناب سید محمد حسین صاحب بدایونی نے واضح انداز میں حضرت مولوی صاحب کی جائے سکونت اور کتب کے نام درج کئے ہیں۔یہ ایک بہت بڑی علمی فروگذاشت ہے جس کی تصحیح ہونا بہت ضروری ہے۔

شاید فاضل محقق کے پاکستانی قصبوں سے تعارف نہ ہونے یا ‘‘ڈسکہ’’کو پرانے رسم الخط میں ڈسکھ لکھنے کی وجہ سے یہ سہو ہوا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ ‘‘فیروز اللغات’’اور ‘‘لغات فیروزی’’کے ناموں سے انہیں مغالطہ ہوا ہو۔

تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت مولوی فیروز الدین ڈسکوی صاحب کا اسم گرامی اور کتب بعض لائبریریوں کے علاوہ انٹر نیٹ پر بھی مہیا ہیں۔خاکسار نے خود بھی آپ کی مرتب کردہ لغاتِ فیروزی کا مطالعہ کیا ہے۔

آپ 1864ء میںپیدا ہوئے اور محض تینتالیس سال کی عمر پاکر 1907ء میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔لیکن اس مختصر حیات میں ہی اپنی علمی حیثیت کا لوہا منو الیا۔آپ کی تحریری خدمات آپ کی محنت ِ شاقہ کا منہ بولتا شاہکار ہیں۔جیسا کہ درج ذیل مضمون سے واضح ہوگا۔

‘‘تذکرہ نعت گویان اردو’’میںذکر

‘‘تذکرہ نعت گویان اردو’’دور حاضر کی ایک رُوح پرور اور معلومات افروز کتاب ہے جو ایبٹ آباد کے مشہور اہل قلم جناب پروفیسر سیّد محمد یونس شاہ صاحب کی فکر وتحقیق کا شاندار نتیجہ ہے۔ اس دل ربا کتاب کا حصہ اوّل 1982ء میںاور حصہ دوم 1984ء میں بالترتیب ‘‘الگیلان پبلشرز’’ایبٹ آباد او رمکہ بکس اردوبازار لاہور کی مساعی جمیلہ سے منصہ شہود پر آیا۔

کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت نمایاں طور پر اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے کہ اردو میں جہاں پہلے نعتیہ رباعی گو شاعر حیدر آباد دکن کے سلطان محمد قلی قطب شاہ تھے (حصہ اول صفحہ138)وہاں سرزمین پنجاب میں اردو نعت گوئی کے پیشرو حضرت مولوی فیروز الدین فیروز ڈسکوی اور حضرت مولوی مرزا ہدایت اللہ صاحب لاہور ی تھے جنہیں نعت گو کی حیثیت سے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ہر دو بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقدین میں شامل تھے۔

عظیم بزرگ

اس نہایت مختصر تمہیدی نوٹ کی روشنی میں کتاب کے فاضل مولف کے قلم سے ان قدیم بزرگ شخصیات میں سے حضرت مولوی فیروز الدین صاحب فیروز ڈسکوی کے سوانح اور نعتیہ شاعری سے متعلق قابل قدر نوٹ ملاحظہ ہو۔ جناب پروفیسر سید یونس شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:

‘‘بیسویں صدی کے آغاز میںپنجاب میں شعر وشاعری کا بڑا چرچا تھا۔پنجابی شاعری کے ساتھ ساتھ اردو زبان وشعر کی مجلسیں جگہ جگہ برپا کی جاتیں …نعتیہ مشاعروں کا رواج ہوا… مولوی فیروز الدین فیروز ڈسکوی۔ ہدایت اللہ ۔مولانا حکیم عرشی بھی نعت گو کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔’’

فیروز الدین فیروزؔ ڈسکوی

مولوی فیروز الدین فیروز ڈسکوی 1864ء میں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولوی امام الدین قریشی بڑے نیک اور دین دار صاحب علم بزرگ تھے۔ عربی، اردو اور فارسی زبانوں کی تکمیل کی ۔ پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد شہر میں معلّمِ فارسی مقررہوئے۔ والد کی تربیت کا اثر تھا کہ اپنی شاعری کو دین ومذہب کی ترویج اور اخلاق کی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ آپ پنجابی زبان کے بھی بہترین شاعر تھے۔ پنجابی زبان میں آپ نے جو تفسیر منظوم لکھی ہے اس سے آپ کی عالمانہ شان ظاہر ہے۔ یہ تفسیر عرصہ ہوا چھپ چکی ہے۔ اردو میں لغات فیروزی کے علاوہ فارسی اور عربی میںبھی لغات لکھی ہیں جو آج بھی اپنی افادیت کے اعتبار سے مشہور زمانہ ہیں۔

(پنجابی ادب کی مختصر تاریخ ۔احمد حسین احمد قریشی صفحہ123)

آپ کی نعتیہ شاعری کی خصوصیت سادگی اور خلوص ہے۔ دینی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے آپ کے اشعار سادہ، تاثیر میںڈوبے ہوئے اور رس بھرے ہوتے ہیں۔ آپ کے بیٹے مولوی نذیر احمد اور نصیر احمد کہتے ہیں کہ آپ شعر پر بڑا دھیان دیتے تھے اور بعض اوقات گھنٹوں فکرِ شعر میںغرق رہتے۔

آپ نے ایک مجموعہ موسوم بہ نعت فیروزی مرتب کیا تھا۔ اس میںمشہور نعت گو شعراء کی منتخب نعتوں کو جگہ دی گئی ہے۔ یہ مجموعہ پاکٹ سائز کا ہے۔ آپ کی نعتوں کا نمونہ درج ذیل ہے:

ایک نعت میں مشہو رفارسی نعت گو شاعر مولانا قدسیؔ کی نعتیہ غزل کو تخمیس کیا ہے، اس کا پہلا بند ملاحظہ فرمائیے:

باغِ حق میں جو نہ ہوتا گُلِ رعنائے نبیؐ

گلشن دہر میں کھلتا نہ کوئی پُھول کبھی

تِری خوشبو سے معطر ہے یہ گلزار سبھی

مرحبا سیّدِ مَکّی مدنی العربی

دل وجان بادفدائیت چہ عجب خوش لقبی

ایک اور مخمس جس کا عنوان ‘‘ندائے عاشقانہ’’ہے ، کا پہلا بند یہ ہے:

ہو گیا ہے بہت ہی بیکل جی

ہجر میں گھٹ رہی ہے جاں مری

کھا گیا ہے غم فراقِ نبیؐ

یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ خُذۡ بِیَدِیۡ

مَا لعجزی سِواک مُسۡتَنۡبَذِیۡ

ایک جگہ شیخ سعدی کی چار بیتی کے ساتھ اُردو مصرعوں کا جوڑ خوب ملایا ہے:

معراج کو حضرتؐ چلے

بٰلغ العُلیٰ بکمالہٖٖ

ارض و سما روشن ہوئے

کشف الدجیٰ بجمالہٖ

اوصاف ان کے سب بھلے

حَسُنَتۡ جمیع خِصالہٖ

عرشِ بریں کہتا رہے

صَلُّو علیہ و آلہ

دیگر ؎

کس منہ سے بیان ہوشان عظمت تیری

افلاک کو خم کئے ہے رفعت تیری

ممکن ہی نہیں ہے نعت احمدؐ فیروزؔ

کتنی ہو فصاحت و بلاغت تیری

(تلخیص از مضمون حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد مطبوعہ الفضل ربوہ8؍مئی 2003ءصفحہ5)

حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے عارفانہ کلام پر تضمین

مولانا فیروز دین صاحب جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، شعر و سخن میں پاکیزہ اور نفیس ذوق رکھتے تھے۔ درج ذیل مسدس جو دراصل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی ایک مشہورِ عالم نظم :

جمال وحُسن قرآں نورِ جان ہر مسلماں ہے

قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے

پر تضمین ہے، آپ ہی کی فکر طبع کا نتیجہ ہے ۔یاد رہے آپ نے یہ تضمین اس وقت تحریر فرمائی جب کہ آپ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ بھی نہیں ہوئے تھے۔

تضمین میں اس نظم کے تمام بارہ اشعار پر تضمین کی گئی ہے یعنی ترتیب و اراس مسدّس کے ہر بند کا تیسرا شعر حضرت مسیح موعود کی نظم بعنوان ‘‘قرآنِ کریم کا بے نظیر ہونا‘‘مطبوعہ براہینِ احمدیہ حصہ سوم صفحہ 183 مطبوعہ 1882ء کا شعر ہے۔ یہ مسدس آج سے قریباً پون صدی قبل ایک غیر از جماعت فاضل محقق جناب غلام قادر صاحب سابق مدرس مشن اسکول ظفر وال ضلع سیالکوٹ نے اپنی کتاب ‘‘الحق المبین فی جواب امہات المومنین’’کے شروع میں تیمّناً و تبرکاً درج کی تھی جو ذیل میں بجنسہٖ ہدیۂ قارئین کی جارہی ہے۔

مسدس از فیروز ڈسکوی در مدحِ قرآن شریف

کلام پاک خالق کی عجب عظمت عجب شاں ہے
کہ مثلِ مہر تاباں چرخِ رفعت پر درخشاں ہے
نجوم آسماں کی طرح ہر اک نقطہ رخشاں ہے
مثالِ کہکشاں ہر اک سطر اس کی نمایاں ہے
‘‘جمال و حسنِ قرآں نورِ جانِ ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے’’
کلامِ پاک ربّانی ہے جگ میں گوہرِ یکتا
چمک میں آفتابِ آسماں ہر گز نہیں ویسا
زمین و آسماں میں جگمگاتا نور ہے اس کا
ہے اک اک لفظ میں اس کے عیاں اللہ کا جلوہ
‘‘نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا
بھلا کیوں کر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے’’
نہیں ایسا درختِ پُرثمر اک باغِ قدرت میں
جو خوشبو اس میں ہے ہر گز نہیں گُلہائے جنت میں
یہ ہر اک پھول سے ہے بڑھ کر خوشبو و نگہت میں
معطر ہو گئے سارے دماغ اس سے ہیں ساعت میں
‘‘بہارِ جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں
نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بُستاں ہے’’
کہیں حق کے گلستاں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز
کہیں اس باغ و بُستاں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز
کہیں اس نورِ تاباں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز
کہیں اس مہرِ رخشاں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز
‘‘کلامِ پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز
اگر لولوئے عماں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے’’
زمیں پر کوئی ہو نورِ صداقت یا فلک پر ہو
نہ اس خورشیدِ تاباں سے کبھی وہ نور باہر ہو
حکیمانِ جہاں کا قول کوئی کتنا بڑھ کر ہو
کلامِ پاک رحماں کے نہ پر ہر گز وہ ہمسر ہو
‘‘خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو
وہاں قدرت یہاں درماندگی فرقِ نمایاں ہے’’
بشر کتنا لگائے زور اور کوشش کرے کتنی
مدد کو وہ بُلائے ساتھ اپنے سب جہاں کو بھی
نہ اس کے قول کو نسبت کلامِ حق سے اتنی
کہ نسبت آفتابِ چرخ کو ذرہ سے ہو جتنی
‘‘ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرارِ لاعلمی
سُخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے ’’
نظر آتا نہیں قرآن سا نورِ نظر ہر گز
نہ ایسا چشم دل کو ہے کوئی کحل البصر ہر گز
نظیر اس کی نہ کوئی لا سکے جن و بشر ہر گز
نہیں دنیا میں کوئی ایسا چاند جلوہ گر ہرگز
‘‘بنا سکتا نہیں اک پائوں کیڑے کا بشر ہر گز
تو پھر کیونکر بنانا نورِ حق کا اُس پہ آساں ہے’’
کلامِ حق کو کہنا افترا اور جعل اور جھوٹا
بلا شک ہے خدا کے عرش کو یہ قول لرزاتا
یہ ایسا بول تم کو بولنا ہر گز نہیں زیبا
کلامِ پاک کی تکذیب یوں کرنا نہیں اچھا
‘‘ارے لوگو کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا
زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے’’
مقابل میں کلامِ اللہ کے کیا توریت کی شاںہے
یہ انجیل محرّف کب کلامِ حق کے شایاں ہے
جو بید بے ثمر ہے اس میں کیا طاقت ہے کیا جاں ہے
تصرف ہے بشر کا ان میں اور یہ قولِ رحماں ہے
‘‘خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے
خدا سے کچھ ڈرو یارو یہ کیسا کذب و بہتاں ہے’’
معارف اور حقائق میں فقط قرآں ہے یکتا
نظیر اس کی نہیں ممکن تصّور میں کبھی اصلا
خدا کی ذاتِ واحد کا نہیں جس طرح پر ہمتا
کلامِ پاک کا بھی کوئی ہمسر ہو نہیں سکتا
‘‘اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذاتِ واحد کا ’’
خدا کے پاک قرآں سے جو منہ پھیرا ہے تم سب نے
جو اس بیبل محرّف کو کلام حق ہو تم سمجھے
جو ویدوژند کو مانو کلامِ حق جہالت سے
مخالف ہو گئے تم جو کلامِ پاک رحماں کے
‘‘یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے
خطا کرتے ہو باز آئو اگر کچھ خوفِ یزداں ہے’’
محبت میں ہوا قرآن کے فیروز دیوانہ
یہی کہتا ہے ہر اک کو کہ ہے سچا یہ پروانہ
ہر اک کو چاہیئے اس شمع کا ہو جائے پروانہ
نہ پروا اس کی حق کو جس کو ہے کچھ اس کی پروا نہ
‘‘ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پر قرباں ہے’’

(الحق مبین صفحہ 3تا 5)

(تلخیص مضمون حضرت مولانادوست محمدشاہد مطبوعہ روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ 22؍اگست1984ء صفحہ 5تا6و ہفت روزہ بدر قادیان20؍دسمبر1984ء صفحہ15)

لیکچر ‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’کے متعلق آپ کے تاثرات

‘‘جلسہ اعظم مذاہب’’منعقدہ لاہور (دسمبر1896ء) میں دیگر مذاہب عالم کے مضامین پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیکچر کی فیصلہ کن برتری دنیا کی مذہبی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ یہ واقعہ کئی پہلو رکھتا ہے اور ہر پہلو کئی نشانوں کا حامل ہے اور ہر نشان بہت سے معجزات پر مشتمل ہے۔ خود اس جلسہ میں غیر مذاہب کے وکلاء نے بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر گواہیاں دیں کہ مرزا صاحب کا مضمون سب پر غالب رہا۔ تمام تقریر کے بعد سب لوگوں نے مسلمانوں کو مبارکباد دی۔مضمون چونکہ پانچ سوالات مشتہرہ کے ہر ایک پہلو کے متعلق تھا اس لیے اس کے پڑھنے کے لیے مقررہ وقت کافی نہ تھا۔ لہٰذا تمام حاضرین کے انشراح صدر سے درخواست کرنے پر اس کے پڑھنے کے لیے ایک دن اور بڑھایا گیا۔ یہ بھی عام قبولیت کا نشان ہے۔ (انعقاد جلسہ کی تاریخیں 26تا 29؍ دسمبر1896ء)لاہور شہر میں دھوم مچ گئی کہ نہ صرف مضمون اس شان کا نکلا جس سے اسلام کی فتح ہوئی بلکہ ایک الہامی پیش گوئی بھی پوری ہو گئی۔

مولانا مولوی فیروز الدین صاحب ڈسکوی مرحوم بھی لاہور کے تاریخی جلسہ اعظم مذاہب لاہور (1896ء) میں موجود تھے۔ اس تاریخی لیکچر کو سن کر مولوی فیروز الدین صاحب جو ابھی تک احمدیت کی آغوش میں نہیں آئے تھے، از حد متاثر ہوئے۔چنانچہ آپ نے راولپنڈی کے اخبار ‘‘چودھویں صدی’’(مورخہ یکم فروری 1897ء صفحہ4)میں ایک مفصل نوٹ سپردِقلم فرمایا۔ آپ نے لکھا:

‘‘ان لیکچروں میں سب سے عمدہ اور بہترین لیکچر جو جلسہ کی روح رواں تھا مرزا غلام احمدقادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے نہایت خوش اسلوبی سے پڑھا۔ یہ لیکچر دو دن میں تمام ہوا۔ ۲۷ دسمبر کو قریباً چار گھنٹے اور ۲۹ کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا۔ کل چھ گھنٹہ میںیہ لیکچر تمام ہوا جو حجم میں سو صفحہ کلاں تک ہو گا۔

غرضیکہ مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔ فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لیے حاضرین سے فرمائش کی جاتی تھی۔ عمر بھر کانوں نے ایسا خوش آئندہ لیکچر نہیں سُنا …۔

ہم مرزاصاحب کے مرید نہیں ہیں نہ ان سے ہماراکوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم فطرت اور صحیح کا نشس اس کو روا رکھ سکتا ہے۔ مرزا صاحب نے کُل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول و فروع اسلام کو دلائل عقلیہ اور براہین فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔ پہلے عقلی دلائل سے الٰہیات کے ایک مسئلہ کو ثابت کرنا اور اس کے بعد کلام الٰہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان دکھاتا تھا۔

مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ قرآنی کی فلالوجی اور فلاسوفی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی غرض کہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ ہیئت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا۔ جس سے بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہلِ مذاہب ششدر رہ گئے۔ کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت۔ تمام ہال اوپر نیچے سے بھرا ہوا تھا اور سامعین ہمہ تن گوش ہو رہے تھے۔ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں میں امتیاز کے لیے اس قدر کافی ہے کہ(اس) وقت خلقت اس طرح آ گری جیسے شہد پر مکھیاں …مرزا صاحب کے لیکچر پورا کرنے کے لیے لالہ درگاپرشاد صاحب نے آپ سے آپ دس پندرہ منٹ کی اجازت دے دی ۔غرض کہ وہ لیکچر ایسا پُرلطف اور ایسا عظیم الشان تھا کہ بجز سننے کے اس کا لطف بیان میں نہیں آسکتا۔مرزا صاحب نے انسان کی پیدائش سے لے کر معاد تک ایسا مسلسل بیان فرمایا اور عالم برزخ اور قیامت کا حال ایسا بیان فرمایا کہ بہشت و دوزخ سامنے دکھا دیا۔اسلام کے بڑے بڑے مخالف اس روز اس لیکچر کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔چونکہ وہ لیکچر عنقریب رپورٹ میں شائع ہونے والا ہے اس لیے ہم ناظرین کو شوق دلاتے ہیں کہ اس کے منتظر رہیں…

بہرحال اس کا شکر ہے کہ اس جلسہ میں اسلام کا بول بالا رہا اور تمام غیر مذاہب کے دلوں پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا۔ گو زبان سے وہ اقرار کریں یانہ کریں۔ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی امْرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرُ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ وَ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہٖ مَنْ یَّشَاءُ وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْم۔’’

(الرّاقم فیروز ڈسکوی )

بطور مناظر اسلام

آپ کی عوامی شہرت ایک مناظر اسلام کی تھی۔ ‘‘تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند’’میں آپ کا تعارف ان الفاظ میں درج ہے:

‘‘انہوں نے آریہ سماجیوں اور عیسائیوں کے خلاف مناظرے میں بڑا نام پیدا کیا۔آپ بہت بڑے عالم تھے اور فنِ مناظرہ میں جواب نہیں رکھتے تھے۔’’

(تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند جلد 4،صفحہ 339 پنجاب یونیورسٹی لاہور،1992ء)

مشہور ہندوستانی ادیب ،مؤرخ اور صحافی مولانا امداد صابری نے اپنی معروف کتاب‘‘فرنگی کا جال ’’میں‘‘ مجاہدین رد نصاریٰ کے حالاتِ زندگی ’’پر ایک مستقل باب باندھا ہے ۔جس میںسیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح اور جہادِ قلمی پر بھی ایک مختصر نوٹ سپردِ قلم کیا ہے۔ اسی باب میں جن علماء اسلام کا ذکر کیا ہے ان میں حضرت مولوی صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیاہے:

‘‘آپ شاعر بھی ہیں اور فیروز تخلص رکھتے ہیں۔آپ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ اسکول کے صدر مدرس بھی رہے ہیں۔آپ نے پادری عمادالدین کے ان ناپاک خیالات اور فاسد الزامات کا جس کا نام انہوں نے تواریخ محمدی رکھا ہے،جواب دیا ہے۔یہ جواب عام طور پر غیر قوموں کے مصنفین کی کتابوں سے جمع کیا گیا ہے۔اس کتاب کا نام‘‘فضائل الاسلام فی ذکر خیر الانام’’ المعروف تاریخ محمدی ہے۔’’

(‘‘فرنگیوں کاجال’’صفحہ591،ناشر فرید بک ڈپو نیو دہلی ،2008ء)

عیسائیوں کے بالمقابل آپ نے جو مجاہدانہ کارنامے سر انجام دیے ،ان پر ایک مضمون جناب محمد ریاض محمود صاحب (لیکچرار گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سٹلائیٹ ٹائون گوجرانوالہ)نے ‘‘مولوی محمد فیروزالدین ڈسکوی اور مطالعہ مسیحیت ۔۔ایک تجزیہ ’’کے عنوان سے تحریر کیا ہے جو ‘‘القلم’’ دسمبر 2012ء کے صفحات 161تا 181میں شائع ہوا اور انٹرنیٹ پر موجود ہے۔یہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔فاضل مضمون نگار نے اس وقت کے مسیحیوں کے اسلام اور حضرت بانی اسلام ﷺ پر اعتراضات اختصار سے ذکر کرنے کے بعد ان کے ردّمیں حضرت مولوی صاحب کے مجاہدانہ کردار پرخوبصورت انداز میں روشنی ڈالی ہے نیزعیسائیوں کے مقابل آپ کی تحریر کردہ کتب کا مختصراً تعارف بھی کروایا ہے۔

تصانیف

آپ کی بعض تصانیف کے نام یہ ہیں:

تفسیرفیروزی۔عشرئہ کاملہ۔سچے مسیحی کی مناجات۔ پیارے نبی کے پیارے حالات۔پیارے ولی کے پیارے حالات۔نماز اور اس کی حقیقت ۔روزہ اور اس کی حقیقت۔لغات فیروزی(فارسی،عربی،اُردو)۔آریہ کے چند اعتراض اور ان کا جواب۔فضائل الاسلام فی ذکر خیر الانام۔اسرار التنزیل۔الوہیت مسیح اور تثلیث کا ردّ۔عیسائیوں کی دین داری کا نمونہ ۔تقدیس الرسول عن طعن المجہول۔عصمت النبی ﷺعن الشرک الجلی۔ دفع طعن نکاح زینب۔

بیعت اور وصال

‘‘جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار’’کے مصداق اپنی پاک فطرت کے باعث حضرت مولوی فیروز الدین صاحب فیروز ڈسکوی بالآخر مسیح پاک علیہ السلام کی طرف کھنچے چلے آئے اورآپ کے درخت وجود کی سر سبز شاخ بن گئے۔ مولوی صاحب کاوصال مارچ 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کی زندگی میں ہوا۔اس امر کا ثبوت کہ آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے دست ِمبارک پر بیعت کی تھی،اخبار‘‘بدر’’(قادیان) ہے جس نے اپنی اشاعت 13؍جون1907ء میں ان کی شاندار علمی خدمات اور تعلق عقیدت وارادت پر خصوصی نوٹ سپر داشاعت کیا ۔

‘‘مولوی فیروزالدین ڈسکوی مرحوم’’کے زیر عنوان قاضی ظہور الدین صاحب اکملؓ نائب مدیر تحریر فرماتے ہیں:

‘‘مولوی فیروزالدین بہت سی کتابوں کے مصنف اور علم و فضل کے لحاظ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔آپ پکے احمدی تھے۔چنانچہ مارچ میں میرے سامنے انہوںنے دارالامان میں حاضر ہوکر بیعت بھی کی اور اس سے پہلے خط بھی آیا کہ ڈوئی کی موت نے مجھے زندہ کیا ۔بعد ازاں خداتعالیٰ کی نہاں در نہاں مصلحتوں سے وفات پاگئے۔’’

(بدر قادیان۔13؍جون1907ء،صفحہ3)

خدا رحمت کنندا یں عاشقان ِ پاک طینت را

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close