رپورٹ دورہ حضور انور

مسجد مہدی کی افتتاحی تقریب اور امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ فرانس 2019ء

…………………………

12؍اکتوبر2019ءبروزہفتہ

……………………………

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6 بج کر 30منٹ پر مسجد مہدی تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزدفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے ۔ ایک بج کر 45منٹ پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور مکرم مبارک احمد ظفرصاحب ایڈیشنل وکیل المال لندن نے حضور انور سےدفتری ملاقات کی سعادت پائی۔

بعد ازاں2بج کر 5منٹ پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مہدی تشریف لا کر نماز ظہر و عصر پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعدحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے ۔

مسجد مہدی کی افتتاحی تقریب

آج پروگرام کے مطابق ‘‘مسجد مہدی’’ کے افتتاح کےحوالہ سےایک تقریب کا انعقاد مسجد مہدی سے ملحقہ ہال میں کیا گیا تھا ۔ اس تقریب میں مجموعی طور پر 191 مہمان شامل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے توقع سے بہت زیادہ مہمان آئے۔ان مہمانوں میں !

٭…ممبر نیشنل پارلیمنٹ MS. MARTINE WONNER
٭…میئرآفHURTIGHEIM۔
MR. JEAN-JACQUES RUCH
٭…ڈپٹی میئر آف HURTIGHEIM۔
MR. RENE URBAN
٭…ڈپٹی میئر آف HURTIGHEIM۔
MR.CLAUDE GRIMM
٭…میئرآف QUATZENHEIM۔
MR. CHRISTIAN LIBERT
٭… میئر آف KIENHEIM۔MR. LUC GINZC
٭…چیئر مین آف ڈسٹرکٹ کونسل۔
MR. JUSTIN VOGEL
٭… وائس پریذیڈنٹ آ ف کاؤنٹی کونسل۔MR. ETIENNE BURGER شامل تھے۔
اس کے علاوہ مختلف مذاہب کے نمائندےبھی آئےجن میں
٭…MR. CHRISTIAN ALBECKER پریذیڈنٹ آف ایسوسی ایشن آف کرسچن پروٹیسٹنٹسALSACE MOSELLE
٭…MME LA PASTEUR CLAIRE DE LATTRE- DUCHET موصوفہ HURTIGHEIM چرچ کی خاتون منسٹر ہیں۔
٭…ممبر آف یورپیئن انسٹی ٹیوشن TIBETIAN BUDDHISTS
MR. DOMINIQUE LEJONNE
٭…MR. MICHAEL O’BOYLE۔
[BHAKTI MANDIR- HINDU] ٭…MR. ERNEST WINSTEIN (پریذیڈنٹ یونین آف لبرل پروٹیسٹنٹ) شامل تھے۔

علاوہ ازیں مختلف ایسوسی ایشن کے صدران ، وکلاء، آرکیٹیکٹ، پروفیسرز، ڈاکٹرز، ٹیچرز، بزنس مین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے ۔

حضور انور کو گارڈ آف آنر

پروگرام کے مطابق اس تقریب میں شمولیت کے لیے3 بج کر 10منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے ۔ ہال سے باہر دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے والے فوجی افسران اور بعض فوجیوں کے نمائندے 10کی تعداد میں اپنے فوجی لباس اور اعزازات کے ساتھ اپنے اپنے جھنڈے بلند کیے ہوئے، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے لیے دو رویہ قطاروں میں کھڑے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے ہال میں تشریف لے آئےجہاں تمام مہمانان اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے ۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم حافظ بابر منصورصاحب نے پیش کی اور اس کا فرنچ ترجمہ مکرم فیصل JEMAI صدر مقامی جماعت نے پیش کیا ۔ اس کے بعد امیر صاحب فرانس نے اپنا استقبالیہ ایڈریس پیش کیا ۔ بعد ازاں محمد اطہر کاہلوں صاحب سیکرٹری امور خارجہ جماعت HURTIGHEIM نے جماعت کے تعارف پر مشتمل بریف پیش کیا ۔

معزّز مہمانوں کے ایڈریس

اس کے بعد Hurtigheim کے میئرJean – Jacques Ruchنے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:

میں احمدیوں کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد کو اس شہر میں خوش آمد کہتاہوں۔

تین سال پہلے سنگ بنیاد کی تقریب پر آپ لوگوں نے میری گرم جوشی کی کمی پر تبصرہ کیا۔ اس وقت میں نے جواب دیا تھا کہ ہم اپنے شہر میں کام مکمل ہونے کے بعد خوشی مناتے ہیں۔ لہذا آج خوشی کا موقع ہے اور میرے تمام ساتھی جو آج یہاں موجود ہیں، وہ اس کے گواہ ہیں۔

ہمارے جیسے دیہاتی علاقہ میں ایک مسجد کا افتتاح کرنا ایک نہایت اہم موقع ہے۔ خاص طور پر ہمارے علاقہ میں جہاں بعض قدیمی روایات صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ میں اعلانیہ طور پر کہتا ہوں کہ جتنے لوگ یہاں موجود ہیں وہ سب کے سب آپ کی حمایت کرنے والے ہیں۔

لیکن بہت سے لوگ جو آپ کی جماعت کونہیں جانتے ، وہ مجھ سے پوچھتے ہیں اور پوچھتے رہیں گے کہ میں نے اس مسجد بنانے کے لیے کیوں اجازت دی۔ اب یہ لوگ میری اس تقریب میں شامل ہونے کی وجہ پوچھیں گے۔

میں آپ کو اور ان کو یہ جواب دیتا ہوں کہ میرا رویّہ ہمارے قانون کے مطابق ہے۔آج میں یہاں حکومتی نمائندہ کے طور پر آیا ہوں۔ ہماری ریاست سیکولر ازم، ڈائیلاگ اور رواداری کی حامی ہے۔ ہماری ریاست کا موٹو آزادی، مساوات اور اخوت ہے اور یہmotto جماعت احمدیہ کا motto‘‘محبت سب کے لیے اور نفرت کسی سے نہیں ’’جیساہے لیکن دوسروں کو قائل کرنے کے لیے وقت لگےگااور ہمیں محتاط رہناپڑے گا۔ دوسروں کو قائل کرنے میں کہ مساجد کی بھی ہمارے دیہات میں ضرورت ہے، اس میں کچھ وقت لگے گا۔ آپ کی جماعت ہمارے شہر میں 7سال سے موجود ہے اور مقامی لوگوں نے آپ کو خوش آمدید کہا ہے۔آپ کی جماعت بھی ہمارے مختلف پروگراموں میں شرکت کرتی ہے۔ اگر ہم اس طرح ساتھ ساتھ کام کریں گے تووقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

بعدازاںTruchtersheimکی میئراور Kochesberg میونسپلٹی کے صدرJustin Vogel نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:

اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں شامل ہونا میرے لیے باعث عزت ہے۔ ہمارے علاقہ میں اس مسجد کا افتتاح ایک تاریخ ساز موقعہ ہے۔ میں اس چیز کا برملا اظہار کرتا ہوں کہ شروع میں میرے کچھ تحفظات تھے۔ لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ کاموٹو ‘‘محبت سب کے لیے اور نفرت کسی سے نہیں ’’ہے تو میں نے اپنی رائے بدل دی۔ خاص طور ایسے ماحول میں جہاں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور تشدد ہو، وہاں محبت اور پیار کی بات کرناقابل ستائش ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں صرف اپنے حقوق پرہی زور دیا جاتا ہے اور فرائض کو نہیں دیکھا جاتا۔

اب مجھے یقین ہے کہ آپ کی جماعت نفرت کے خلاف ہے اور پیار کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ کی جماعت اس سلسلہ میں مزید کام کرے تا کہ ہم آنے والی نسلوں کو پرامیدرکھ سکیں۔

اس کے بعد Bas-Rhin کاؤنٹی کونسل کے نائب صدر اور Kuttolsheim کے میئر Etienne Burger بھی اس پروگرام میں شریک تھے انہوں نے اپنے ایڈریس میں کہا:

ہمارے ریجن میں ہر مذہب کی اپنی اہمیت ہے۔ ہمارا معاشرہ ہر ایک کے لیے کھلاہے۔اور ہم ہر ایک مذہب کے ماننے والے کوعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ احمدیوں کی مسجد بھی ہمارے علاقہ میں ہے۔ جماعت احمد یہ ہمارے علاقہ میں نئی ہے اور ہرمنتخب عہدیدار کو چاہیے کہ اس جماعت کے بارے میں مزید جانے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ احمدی مسلمان انتہا پسند مسلمانوں کی طرح نہیں ہیں۔ ہمارا اس تقریب میں شامل ہونا ہماری دوستی كااظہار ہے۔ ہم بین المذاہب مکالمہ پریقین رکھتے ہیں۔ اس سے ہم فرقہ واریت، نسل پرستی اور انتہاپسندی کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔ میں آپ کو مسجد کے افتتاح پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔

بعد ازاں Hurtigheimسے ممبر آف پارلیمنٹ Martin Wonner نےاپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:

آج کل کے حالات میں مسجد کا افتتاح کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔ اس سے امید پیدا ہوتی ہے۔ میرا اس تقریب میں شامل ہونا بہت ضروری تھا۔ افسوس ہے کہ بعض لوگ اپنی لاعلمی کی وجہ سے دوسروں سے ڈرتے ہیں۔ وہ معاشرہ کی تبدیلیوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔بعض لوگ دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ان لوگوں کو کیا جواب دے سکتے ہیں جو نفرت سب سے رکھتے ہیں اور کسی سے محبت نہیں کرتے؟ ایک مسجد کاافتتا ح کر نا ہماری طرف سے ان کے لیے جواب ہے۔ ہماری طرف سے انہیں یہی جواب ہے کہ ‘‘محبت سب کے لیے اور نفرت کسی سے نہیں’’

میں یہاں قرآن کی ایک آیت پیش کرتی ہوں: ایک شخص کا قتل کر نا پوری انسانیت کاقتل کرنا ہے۔ یہ آیت ہمیں امید دیتی ہے۔ اسلام ایک پُر امن مذہب ہے۔ اسلام پیار کا مذہب ہے۔ اسلام تعاون اور شفقت کامذہب ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس مسجد سے بھائی چارہ پھیلے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس مسجد سے سب لوگوں کو پیار کے نظارےدیکھنے کو ملیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کا مینارنفرت پھیلانے والوں کو جواب دے ۔

خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اس کے بعد چار بجے حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اپنا خطاب فرمایا۔تشہد،تعوّذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصره العزیزنے فرمایا:

تمام معزز مہمانان ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الله تعالیٰ آپ کو سلامتی سے رکھے اور اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ پہلے تو میں یہاں آنے والے سب مہمانوں کا شکریہ اداکرتاہوں جو آج جماعت احمدیہ مسلمہ کے اس مذہبی فنکشن میں شامل ہونے کے لیے تشریف لائے جوہماری مسجد کا افتتاح ہے اور جیسا کہ بہت سے بولنے والے معزز مہمان سپیکر تھے جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔بعض سے یہی لگتا تھا کہ شروع میں ان سب کی بڑی reservationsتھیں کہ مسلمانوں کا یہاں آنا شاید مسائل کا باعث بنے لیکن آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوگیا۔

حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مسجد کے بارے میں ایک بات سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ غیرمسلم دنیامیں ایک بڑا غلط تصور قائم ہے کہ مسجد شاید فتنہ و فساد کی جگہ ہے جبکہ ایسا نہیں ہے اور بعض معزّز مہمانوں نے بھی اس کا اظہار کیا کہ مسجد تو ایک عبادت گاہ ہے، مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں مسلمان اکٹھے ہو کر ایک خدا کی عبادت کریں اور ہر مذہب میں ان کے لیے ایک عبادت گاہ مقرر کی گئی ہے۔ اسی لیے جب مکہ میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے دعوے کے بعد مکہ کے کفار نے آپ ؐپر سختیاں شروع کیں، آپؐ کے ماننے والوں پر سختیاں شروع کیں اور تیرہ سال تک ایسے ظالمانہ سلوک کیے کہ جنہیں دیکھ کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کئی لوگوں کو گرم پتھروں پرلٹایا گیا، کئی لوگوں کو کوئلوں پر لٹایا گیا، کئی لوگوں کوگرم ریت پر گھسیٹا گیا، کئی لوگوں کو، عورتوں اور مردوں کو نیزے مار کے شہید کیا گیا اور اس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مکہ کے مسلمان مدینہ میں ہجرت کرکے گئے اور وہاں امن کی تلاش کی اور وہاں کے مقامی لوگوں سے یہودیوں اور دوسرے لوگوں سے امن سے رہنے کا معاہدہ کیا تو وہاں بھی مکہ کے کفار نے حملہ کر کے ان کے امن کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا۔ یعنی کہ ایسے لوگوں سے جنگ کا حکم دیا جو حملہ کر رہے ہیں اور اس میں بڑاواضح کیا، قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے کہ اگر ان لوگوں کے ہاتھوں کو اب نہ روکا گیا تو پھر یہ لوگ صرف اسلام کے دشمن نہیں بلکہ یہ مذہب کے دشمن ہیں۔ پھر قرآن کریم میں یہ بڑا واضح لکھا ہے کہ اگر ان لوگوں کو نہ روکا گیا تونہ کوئی Synagogue رہے گا، نہ کوئی چرچ رہے گا، نہ کوئی temple رہے گا، نہ مسجد رہے گی۔ گویا کہ اس ایک حکم میں جہاں کافروں سے جنگ کا حکم دیا ،مذہب کی حفاظت کا حکم دیا اور تمام مذ ہبوں کے نام لے کر حکم دیا، تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کانام لے کر حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اب ان کا جواب دیا جائے۔ ان کے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے ان کا جواب دیا جائے تا کہ ہرمذہب آزادی سے اپنے عبادت گاہ میں جا سکے ۔ یہودی synagogue میں جا سکیں اور عبادت کرسکیں، عیسائی چرچ میں جا سکیں اور عبادت کر سکیں، ہندو یا جو دوسرے ہیں وہ اپنے temples میں جاسکیں اور مسلمان مسجد میں جا سکیں ۔ تو یہ وہ پہلا حکم ہے جو کافروں سے جنگ کا مسلمانوں کو ملا اور اس وضاحت کے ساتھ ملا کہ تم نے اب سارے مذاہب کی حفاظت کرنی ہے۔ اس لیے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق تو یہ بڑا واضح ہے کہ اسلام کسی بھی مذہب کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ اس لیے بعض جنگیں جب مسلمانوں پر زبر دستی ٹھونسی گئیں، ان سے جنگیں کی گئیں تو وہاں بھی آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور آپ ؐکے جو چار حقیقی خلفاء تھے وہ فوجوں کو یہی حکم دیتے تھے کہ کسی چرچ کو نہیں گرانا، کسی عبادت خانے کو نہیں گرانا، کسی عورت کو نہیں نقصان پہنچانا، کسی بچے کو نہیں نقصان پہنچانا۔ بلکہ چرچ کے جو پادری ہیں اور دوسرے راہب ہیں ان کو کسی کو کچھ نہیں کہنا اور کسی بھی قسم کے کسی درخت کو نہیں کاٹنا، کسی فصل کو نقصان نہیں پہنچانا ۔تو یہ تھے اس وقت کے حکم اور جس پر اس وقت مسلمانوں نے عمل بھی کیا۔ بعد میں اگر حالات بگڑے اور مسلمان اپنی تعلیم کو بھول گئے تو اس تعلیم کاقصور نہیں، یہ مسلمانوں کے عمل کا قصور ہے۔ اسی لیے ایک مغرب کے لکھنے والے نے ایک کتاب میں اس بات کو بڑا واضح کیا ہے۔ امریکہ کا author ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں جنگوں میں جتنے لوگ مارے گئے ان کی تعداد تو چند سو میں ہوگی یا ہزار میں ہو گی لیکن جو ہم نے دو جنگیں لڑیں، جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم ،ان میں اور خاص طور پر جنگ عظیم دوم میں ایک ہی بم سے لاکھوں لوگ مارے گئے تو اس لیے یہ الزام صرف مسلمانوں کو نہ دو بلکہ یہ بعد کی جنگیں جولڑی گئیں یہ مسلمانوں نے اپنے مذہب کے پھیلانے کے لیے نہیں کیں بلکہ اس وقت دنیاوی لالچ آ گئےاور وہ دنیاوی جنگیں تھیں جس کو جیو پولیٹیکل جنگ کہتے ہیں۔ اپنے مقاصد کے لیے جنگیں تھیں۔ توپہلے ہی بتادوں کہ اسلام کی جو جنگوں کے بارے میں غلط نظریہ ہے اس کی بنیاد یہ ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمايا:

اسلام قطعا ًشدت پسند مذہب نہیں اور اسلام ہر مذہب کے ماننے والے کو اس کا حق دیتاہے۔ اسلام میں ہمسائے کے حقوق ہیں۔ یہاں رہنے والے بعض لوگوں کو شاید خیال ہو کہ ابھی یہاں مسجد بنی ہے، یہاں مسلمان آئیں گے، عبادت کریں گے اور بعض مسلمانوں کے ایسے عمل ہیں کہ ہمیں بھی خطرہ ہوسکتا ہے لیکن اسلام کی جو تعلیم ہے وہ یہ کہتی ہے کہ اپنے ہمسائے کا اس حد تک خیال رکھو کہ جس طرح تم اپنے کسی قریبی عزیز کار کھتے ہو اور پھرقرآن کریم میں جو ہمسائے کی تعریف کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارے ساتھ گھروں میں رہنے والے، تمہارے ساتھ سفر کرنے والے، تمہارے ساتھ کام کرنے والے، اس علاقے میں رہنے والے اور پھر اس کی تشریح بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ 40گھر تک تمہارے ہمسائے ہیں۔ اگر اس طرح دیکھا جائے تو مسلمان جہاں بھی رہتے ہیں، احمدی مسلمان خاص طور پر جہاں بھی رہتے ہیں ان کے ارد گرد کے 40گھروں کے ہمسائے، اس مسجد کے اردگرد کے لوگ سب ہمسائے ہیں اور ہمسائے کا حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس شدت سے ہمسائے کے حق کے بارےمیں کہاگیا کہ مجھے خیال پیدا ہوا کہ شاید اب وراثت میں بھی ہمسائے کو حق دیا جائے گا۔تو یہ ہے بنیادی تعلیم اور یہ ہیں ہمسائے کے حقوق۔

حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

دنیا میں ہم مسجدیں بناتے ہیں۔ یہاں فرانس میں تو یہ دوسری مسجد بنی ہے اور اس لحاظ سے اور یہاں جماعت بھی بہت تھوڑی ہے، جماعت کا تعارف نہیں ہے۔ یورپ کے بعض ممالک میں، جرمنی میں، انگلستان میں، یا امریکہ میں ،کینیڈا میں مسجدیں بناتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کو تعارف ہے کیونکہ جماعت بھی بڑی ہے کہ احمدی مسلمان جب مسجد بناتے ہیں تو وہاں سے صرف امن اور پیار اور محبت کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ مسجد کسی قسم کے شدت پسند کام کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے لیے نہیں بنائی جاتی۔ مسجد بنائی ہے تواس لیے کہ ایک خدا کی عبادت کی جائے اور یہاں آنے والے پھر پیار اور محبت اور صلح اور صفائی سے آپس میں بھی رہیں اور یہاں کے ارد گرد کے جولوگ ہیں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں۔

حضور انور اید اللہ تعالی ٰبنصرہ العزیز نے فرمایا:

افریقہ میں الله تعالیٰ کے فضل سے ہماری بڑی تعداد ہے۔ وہاں جماعت کی مسجدیں بھی بناتے ہیں لیکن ساتھ ہی جماعت وہاں انسانی فلاح کے کام بھی کر رہی ہے۔ سکول بھی کھولتی ہے۔ ہسپتال بھی کھولتی ہے اور دوسری سہولیات جو ہیں، پانی کی facilitiesہیں، نلکے ہیں، ہینڈ پمپ ہیں وہ بھی لگار ہے ہیں۔افریقہ میں جماعت کے بہت سارے پروجیکٹ چل رہے ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لیے ہیں۔ ہمارے سینکڑوں سکول ہیں، سینکڑوں ہسپتال ہیں اورمختلف پروگرام ہیں مثلاً پانی کے پراجیکٹ ہیں۔ یہاں کے رہنے والے لوگوں کو تصوّر ہی نہیں۔ یہاں اگر ایک چھوٹاساگاؤں بھی ہے، یہ سارا دیہاتی علاقہ ہے،گاؤں ہے لیکن یہاں آپ کے پاس بجلی بھی ہے، سڑک بھی جارہی ہے، پانی کی سہولت بھی ہے اور تمام وہ سہولیات تقریباً میسر ہیں جو شہروں میں ہیں لیکن افریقہ کے گاؤں میں جب جائیں تو وہاں نہ سڑک ہوگی نہ وہاں بجلی ہوگی نہ وہاں پانی کی سہولت ہو گی اور پانی کی حالت یہ ہے کہ دو دو میل دور گاؤں سے بعض دفعہ گندے تالاب ہیں جن میں جانور بھی پانی پیتے ہیں اور اس میں بیٹھتے ہیں وہیں سے انسان بھی پانی لیتے ہیں اور بچے بعض دفعہ اپنے سروں پر ٹوکریاں رکھ کر، بالٹیاں رکھ کر، برتن رکھ کر دو دو کلو میٹر ،تین تین کلومیٹر کا سفر ایک پانی کی بالٹی لانے کے لیے کرتے ہیں اور اس وجہ سے وہ تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ وہاں جماعت احمد یہ جہاں ان کی تعلیم کے لیے سکول کھولتی ہے، پرائمری سکول میسر کیے ہیں۔ سیکنڈری سکول مہیّا کیے ہیں اور بعض ریموٹ علاقے میں کلینک اورہسپتال بھی کھولے ہیں وہاں صاف پانی پینے کے لیے ہینڈ پمپ بھی لگائے اور سولر انرجی سے ٹیوب ویل بھی لگائے جس سے صاف پانی آتا ہے اور جب ہم تصویریں دیکھتے ہیں، ان لوگوں کی حالت دیکھتے ہیں جن کو ان کے گاؤں میں نلکے سے صاف پانی مل جاتاہے تو اس وقت اس خوشی کاجو اظہار ہو رہا ہوتا ہے وہ ایسا ہی ہےجیسے یورپ میں رہنے والے کسی شخص کی بہت بڑی لاٹری نکل جائے تو اس کو خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو جب صاف پانی میسر آتا ہے تو جیسا کہ میں نے کہا ان کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمايا:

پس جماعت احمدیہ مسلمہ جہاں بھی جاتی ہے امن کے پیغام کے ساتھ جاتی ہے۔ اگر ہم نعره لگاتے ہیں ۔بعض معزّز مہمانوں نے اپنے خطاب میں اس کا ذکر بھی کیا، Love for all , Hatred for none کانعرہ ہے۔ اگر ہم نعرہ لگاتے ہیں تو اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اس کے اظہار کے لیے پھر یہی طریقہ ہے کہ عوام کی خدمت کی جائے۔ اس لیے پہلی بات تو یہ کہ یہاں کے رہنے والے جو اردگرد کے گاؤں ہیں ان کو میں بتا دوں یہاں قانون کی پابندی کا بھی ذکر کیا گیا کہ جماعت احمدیہ مسلمہ قانون کی ہر لحاظ سے پابندی کرنے والی ہے اور ہمیشہ جہاں مسجدیں بنائی جاتی ہیں خاص طور پر چھوٹی جگہوں پر، یہاں سڑک بھی چھوٹی ہے، لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں ٹریفک کی وجہ سے یہی کہاجاتاہے کہ ٹریفک کے قانون کی پابندی کریں، ملک کے قانون کی پابندی کریں اور جس حد تک کونسل نے ہمیں اجازت دی ہے اس حد تک اس جگہ کواستعمال کریں اور مجھے امید ہے کہ اس مسجد کو بنے کچھ عرصہ ہو چکا ہے،formal افتتاح اس کا آج ہورہا ہے اس کے بعد سے احمدی یہاں شاید زیادہ تعداد میں بھی آنا شروع ہوں لیکن وہی لوگ آئیں گے جو قانون کے پابند ہوں گے، وہی لوگ آئیں گے جو قانون کی پابندی کے ساتھ اپنے اس گھر میں آکے جو خدا تعالیٰ کا گھر ہے عبادت کریں گے اور جہاں وہ اپنے خدا کی عبادت کر کے اس کا حق ادا کریں گے وہاں ان کے دل میں یہ بھی احساس پیدا ہو گا کہ وہی خداجو یہ کہتا ہے کہ میری عبادت کر و وہی خدا ہمیں قرآن کریم میں یہ بھی کہتا ہے کہ انسانیت کی خدمت کرو۔ بلکہ قرآن کریم میں یہاں تک لکھا ہے کہ وہ نمازی جو لوگوں کا حق ادا نہیں کرتے، جو انسانیت کی خدمت نہیں کرتے، جو یتیموں کو کھانا نہیں کھلاتے، جو مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے، غریبوں کا خیال نہیں رکھتے، جو ظلم کر رہے ہیں ان کی نمازیں ان کے لیے ہلاکت کا باعث ہیں۔ وہ نماز یں کوئی فائدہ نہیں دیں گی بلکہ وہ نمازیں اللہ تعالیٰ ان پر الٹادے گا جو ان کو بجائے کوئی فائدہ دینے کے لیے، کوئی اجر دینےکے ان کے لیے ہلاکت کا اور ان کی تباہی کا باعث بنیں گی۔ پس ایک شخص جو مسجد کو آباد کرنے والاہو اس کے جب یہ نظریات ہوں اور جس کو الله تعالیٰ کا حقیقی خوف ہو تو پھر یہ ہوہی نہیں سکتا کہ وہ لوگوں کے حقوق مارنے والا ہو اور وہ لوگوں کے حق ادا نہ کرے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمايا: پس جماعت احمدیہ مسلمہ جہاں جاتی ہے اسی پیغام کے ساتھ جاتی ہے اور اسی سوچ کے ساتھ جاتی ہے کہ جہاں ہم نے اپنے اللہ کے حقوق اداکرنے ہیں وہاں اس کی مخلوق کے بھی حق اداکرنے ہیں اور مجھے امید ہے کہ ان شاء الله تعالیٰ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ احمدی اسی سوچ کے ساتھ اس مسجد کو آباد رکھیں گے اور یہاں کے ہمسایوں سے پہلے سے بڑھ کر اور بہتر تعلقات بنائیں گے اور ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ مسجد یہاں کسی قسم کے ہمسایوں میں کسی قسم کی تکلیف کا باعث نہیں بنے گی بلکہ آپ ہمیشہ یہی دیکھیں گے کہ جو یہاں آنے والے ہیں وہ آپ لوگوں کو سہولت پہنچانے والے اور آرام پہنچانے والے ہیں اور یہی ہمارے نزدیک integrationہے جو باہر سے آنے والوں کی نئے آنے والے ملک میں ہونی چاہیے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

فرانس کی حکومت اور مغربی حکومتوں کی جنہوں نے یہاں سے باہر سے آنے والے احمدیوں کو جگہ دی، اسائلم دیا ان کی یہ بڑی مہربانی ہے اور اس کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کے شکر گزار ہوں۔ یہاں اس وقت جماعت احمدیہ کی اکثریت باہر سے آنے والوں کی ہے۔ فرانس کے مقامی لوگ تو شاید ایک دوہی ہوں اور یہ وہ لوگ ہیں جو بعض مشکلات کی وجہ سے اپنے ملکوں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنے ملکوں میں عبادت کا حق نہیں دیا گیا ،جن کو عبادت کرنے سے روکا گیا، جن کو اپنی مرضی سے اپنے دین پر قائم رہنے سے، دین کی تعلیم پرعمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور آخر مجبور اًوه یہاں آئے۔ پس جب وہ یہاں آئے اور فرانس کی حکومت نے ان کو اجازت دے دی اور وہ یہاں آباد بھی ہو گئے تو اب ان احمدیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ اس ملک کی خدمت کرکے اس کا صحیح حق اداکریں اور یہی شکر گزاری ہے اور یہی وہ چیز ہے جو الله تعالیٰ ایک حقیقی مسلمان سے چاہتا ہے کہ وہ شکر گزار ہو۔ اگر اس میں شکر گزاری نہیں، بلکہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتاوہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ پس اس شکرگزاری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اس ملک میں رہ کے یہاں کے قانون کی پابندی کریں، یہاں کے لوگوں کی خدمت کی طرف توجہ دیں اور جس حد تک ہوسکتا ہے اس ملک کی بہتری کے لیے کام کریں اور مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ تعالیٰ ہمارے احمدی اسی سوچ کے ساتھ یہاں رہیں گے اور اسی سوچ کے ساتھ کام کریں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اگر آپ میں سے کسی کے ذہن میں کوئی فکر ہے، کوئی reservation ہے، کوئی تحفظ ہے کہ شاید احمدی مسلمان یہاں آ کر، اس مسجد کو بنا کر کسی قسم کے فتنے کا باعث نہ بنیں تو یقین رکھیں کہ ان شاء الله تعالیٰ ہم فتنے کا باعث نہیں بنیں گے بلکہ آپ لوگوں کی خدمت کرنے والے اور اس ملک کے قانون کی پابندی کرنے والے ہوں گے اور ان شاء اللہ وہی حقیقی اسلامی تعلیم یہاں پھیلانے والے ہوں گے، اپنے عمل سے د کھانے والے ہوں گے جو ہمیں حضرت محمد رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے سکھائی اور جو قرآن کریم نے دی۔ شکریہ۔ جزاک اللہ۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزکا یہ خطاب 4 بج کر 25 منٹ تک جاری رہا ۔ آخر پر حضور انور نے دعا کروائی۔ بعد ازاں مہمانوں کی خدمت میں ریفریشمنٹ پیش کی گئی ۔مہمان باری باری حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملنے کے لیے آتےرہے ۔ حضور انور سے شرف مصافحہ حاصل کرتے، حضور انور کے ساتھ تصویر بنواتے۔ حضور انور از راہ شفقت مہمانوں کے ساتھ گفتگو فرماتے ۔ اس پروگرام کے بعد قریباًپانچ بجےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

فیملی ملاقاتیں

بعد ازاں پروگرام کے مطابق 6 بج کر 40 منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائےاور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ آج شام کے اس سیشن میں 30فیملیز کے 123 افراد اور 4 سنگل افراد نے اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا۔ آج ملاقات کرنے والی یہ فیملیز PARIS ،LILLE SEINE ET MARNE ،BESANCON ،LYON ،EPERNAY, SAINT DENIS اور METZ کی جماعتوں سے آئی تھیں۔ ان میں سے بعض بڑے لمبے فاصلے طے کر کے پہنچی تھیں ۔

EPERNAY سے آنے والی 355 کلو میٹر، پیرس سے آنے والے 490 کلو میٹر، LYON سے آنے والی 495 کلو میٹراور LILLE کی جماعت سے آنے والی فیملیز 525 کلو میٹر کا فاصلہ کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچی تھیں ۔

ان سبھی نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تعلیم حاصل کرنے والے طلباءاور طالبات کو قلم عطا فرمائےاور از راہ شفقت چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں ۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام 8 بج کر 5 منٹ پر ختم ہوا ۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ‘‘مسجد مہدی’’ میں تشریف لا کر نما ز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

تقریب میں شریک مہمانوں کے تأثرات

آج کی تقریب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کثرت سے مہمان آئے ۔ جس ہال میں تقریب تھی وہ بھر چکا تھا ۔ قریباًیک صد(100)سے زائدمہمانوں کے لیے مارکی میں انتظام کیا گیا اور انہوں نے MTA کے ذریعہ یہ سارا پروگرام دیکھا ۔ مہمان حضور انور کے خطاب سے بہت متأثر ہوئےاور بہتوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا ۔ بعض مہمانوں کے تأثرات پیش ہیں ۔

٭…اس ریجن کے 33دیہات کی ایک تنظیم کی صدرJustin de Jeune بھی اس پروگرام میں شریک تھی۔ یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ :

ہم یہاں صرف اس لیے آئے ہیں کہ آپ لوگ دنیا سے نفرت ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس کے مقابل پر پیارمحبت اور برداشت کے رویّوں کو فروغ دے رہے ہیں ۔ میرے خیال میں دنیا کا بہترین جذبہ محبت ہے۔ یہی جذبہ ہے جو ہم سب کو متحدکرتا ہے۔ اس سے بہتر کیا چیز ہوسکتی ہے کہ کسی کی مدد کی جائے، کوئی گر جائے تو ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا جائے۔ میں فساد کےخلاف آپ لوگوں کی کوششوں کوسراہتی ہوں اور پیار ومحبت پھیلانے کے لیے آپ کی شکر گزار ہوں۔ اسی مقصد کے لیے ہم یہاں اکٹھے ہیں۔

خلیفہ کی تقریر بہت عمدہ تھی۔ اس تقریر سے مجھے پھر یقین حاصل ہوا ہے کہ آپ لوگ معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ آپ لوگ ایک دوسرے سے تعاون کر کے رہتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خلیفہ نے یہی بات کی ہے، امن کی بات کی ہے اور آنے والی نسلوں کو جینے کی امید دلائی ہے۔ آپ نے برداشت اور محبت کی بات کی ہے اور یہ ہمارے لیے بہت ہی حوصلہ افزاء ہے۔

٭…کونسل آف Barinمیں ایک شعبہ کے نائب صدر بھی اس تقریب میں شامل تھے۔ یہ کہتے ہیں:

ہمارے علاقہ میں تبت سےتعلق رکھنے والے بدھ مت کا یورپیئن سنٹر ہے۔ مَیں مذاہب کے بارے میں جانتا ہوں، عیسائت، یہودیت، جوڈیو کرسچین، بدھ مت وغیرہ کی خدمات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ خلیفہ کی تقریر بہت متاثر کن تھی۔ ایک آپ کے الفاظ تھے اور ایک آپ کا نظریہ تھا اور وہ یہ تھا کہ ‘‘محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں۔ ’’آپ نے اسلام کی بھر پور تصویر پیش کی ہے۔ آجکل جیسا کہ اسلام کو سمجھاجاتا ہے آپ نے اس کے برخلاف اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی ہے۔ آپ کے الفاظ اور آپ کے نظریہ میں بہت مطابقت ہے۔ آپ ہرایک کے لیے اپنے دورازے کھلے رکھنے پریقین رکھتے ہیں اور آج کی تقریب سے میں نے یہی سیکھا ہے۔ یہ امن کا راستہ ہے۔

٭…Martine Wonnerممبر آف فرنچ پارلیمنٹ نے تقریب کے بعداپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرایہاں آنا بہت ضروری تھا۔ میں بہت خوش ہوں کہ آپ نے ایک بھر پور پیغام دیا ہے۔ ایک امن کا پیغام، بھائی چارہ کا پیغام دیا ہے اور یہ پیغام تمام دنیاکے لیے ہے۔مجھے علم ہے کہ آپ کی جماعت پر بہت سے ملکوں میں مظالم ہورہے ہیں لیکن یہ مظالم بھی آپ لوگوں کا راستہ نہیں روک پائے۔ احمدی بہت فعاّل ہیں، یہ کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں اور ان کے اعمال سے ان کا موٹو جھلک رہا ہے۔ مَیں نے اس مسجد کے بارے میں خلیفہ سے بھی بات کی ہے۔ مَیں پھر بعد میں بھی آؤں گی جب کہ یہاں کم لوگ ہوں گے اور آپ لوگوں سے بیٹھ کرتسلّی سے بات کرنے کا موقع ملے گا اور پھر آپ کی اقدار بہتر طور پر جان سکوں گی ۔ یہ ہمارے معاشرے کے لیے ،اس کی بہتری کے لیے بہت ضروری ہے۔

خلیفہ نے امن کی بات کی ہے، برداشت کی بات کی ہے۔ فرانس کے لیے، فرانس کےشہریوں کے لیے یہ پیغام بہت اہم ہے۔ فرنچ لوگوں کو یہ جانے کی ضرورت ہے کہ جو اسلام ہم میڈیا سے جانتے ہیں وہ مختلف ہے۔ ہمیں اس اصل اور حقیقی اسلام کو جاننے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں خلیفہ کی تقریر کو توتمام دنیامیں بڑے پیمانے پر براڈ کاسٹ کرنا چاہیے۔

موصوفہ نے مزید کہا:

جس طرح سے لوگ اسلام سے متنفّر ہوتے جارہے ہیں تو اس کا حل تو یہی نظر آتا ہے کہ اس علاقہ میں مسجد بنائی جائے تا کہ لوگ حقیقی اسلام اور اس کے امن کے پیغام سے واقف ہوں۔ اسلام تو یقینا ًایک امن کامذہب ہے کیونکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ اگر ایک انسان دوسرے کو قتل کرتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کر دیا ہے۔ تو اب کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس تعلیم کے باوجود اسلام امن کامذہب نہ ہو۔

میں اس علاقہ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں اور حضور کو خوش آمدید کہتی ہوں Hurtigheimمیں تشریف لائے۔

٭…Strasbourgکی مسجدک ے افتتاح پر Eubajiaصاحب اور Burgeais صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اس طرح اظہار کیا ہے کہ

ہم نے آج کی تقریب کے لیے موصولہ دعوت قبول کرنے سے قبل انٹر نیٹ پر آپ کی جماعت کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ جماعت احمدیہ کی کاوشوں کے بارہ میں جان کر ہم نے دلی بشاشت سے دعوت قبول کی اور سب سے زیادہ ہمیں اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ یہاں بین المذاہبی مفاہمت کو فروغ دیا گیا۔ خلیفہ کاخطاب بہت متاثر کن تھا۔ آپ نے حقوق انسانیت اور بالخصوص ہمسایوں کے حقوق پر اسلامی تعلیم پیش کی۔

ایک شخص نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

میں ایک قریبی گاؤں سے آیا ہوں۔ میں آپ لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، آپ لوگوں سے سننا چاہتا تھا اور آپ لوگوں سے خودملنا چاہتا تھا۔ میراخیال ہے کہ بطور ہمسایہ ہمیں ایک دوسرے کو جاننا چاہیے۔ خلیفہ کی تقریر حیران کن تھی۔ اصل میں مجھے آپ لوگوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے، میں آپ کی جماعت، اس کے مقصد وغیرہ سے لاعلم ہوں۔ آپ کی تقریربہت ہی متاثرکن تھی۔ اس میں بھائی چارہ کا پیغام تھا۔ آپ نے وہ پیغام دیا جو ہم سب کی فطرت پہلے ہی تقاضا کرتی ہے اور ان خدشات کو دور کیا ہے جو معاشرے میں رائج ہیں۔

٭…ایک صاحب نے اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ

مجھے اس تقریب میں شامل ہو کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ نئے رابطے بنےہیں۔ یہ عمارت بہت عمدہ ہے اور متاثر کن ہے۔ میں پروٹسٹنٹ ہوں اور آزادیٔ رائے پر یقین رکھتا ہوں۔ میرے خیال میں بین المذاہب مکالمہ بہت ضروری ہے، ایک دوسرے سے ملنا اور بات کر نا بہت ضروری ہے۔

٭…ایک خاتون Harrietteاور اس کے خاوند Charles بھی اس تقریب میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

مجھے اور میرے خاوند کو یہاں آ کر بہت بہت خوشی ہوئی ہے۔ خلیفہ کی تقریر بہت اہم تھی۔ یہ ایک بہت عظیم پیغام تھا ،جو کہ ہمارے خیال میں تمام دنیامیں جانا چاہیے۔ اسی پیغام کی دنیا کو ضرورت ہے۔

ایک ہندو خاتون بھی اس پروگرام میں شریک تھی۔ یہ کہتی ہے:

میں کمپیوٹر پروگرامر ہوں اور مجھے ایک احمدی خاتون نے یہاں آنے کی دعوت دی ۔ میراتعلق ہندو ایسوسی ایشن سے ہے۔ یہاں آ کر بہت خوشی ہوئی۔ بہت ہی اچھا ماحول تھا اور بہت پیارا پیغام دیا گیا ہے۔ محبت اور برداشت کا پیغام بہت اہم ہے۔ خلیفہ کی تقریر میں یہ پیغام بہت اہم تھا۔ آپ کی تقریر سے ایک اور بات جس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ خدمت انسانیت پریقین رکھتے ہیں اور اسی جذبہ کو پھیلانا چاہتے ہیں۔

ایک صاحب Danial Westنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میراتعلق فرانس میں آنے والے مہاجرین کی رہنمائی کرنے والی ایک تنظیم سے ہے۔ مَیں یہاں آ کر بہت خوش ہوں اور میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔ ہم بھی یہی کوشش کررہے ہیں جو کہ آپ کا پیغام ہے۔یعنی امن، آزادی اور محبت کا پیغام۔ آپ کی تقریر سے مجھے جو بات بہت اچھی لگی وہ یہ ہے کہ آپ آزادی پر یقین رکھتے ہیں، ہرمذہب والے کی آزادی اور ہر ایسے شخص کی بھی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، جس کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ دنیاکو بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں یہاں بار بار آؤں گا اور یہاں آ کر دعا بھی کروں گا۔

ایک صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

میں کسی مسجد کے افتتاح پر پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہ بہت ہی متاثر کن تقریب تھی۔ یہاں ایسی شاندار عمارت دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ خلیفہ نے اپنی تقریر میں اسلام کابڑی خوبی سے دفاع کیا ہے۔ آپ نے بتایا ہے کہ اسلام امن پسند مذہب ہے۔ آجکل اسلام کے بارے میں بہت تحفّظات ہیں۔ آپ نے بڑی خوبی سے اصل حقیقت بتائی ہے۔

ایک صاحب نے کہا:

میرے لیے اپنے جذبات بیان کر ناممکن نہیں ہے۔ مجھے اسلام کی ایک تنظیم کا پہلے بالکل علم نہیں تھا۔ گلی میں مجھے بعض افراد ملے ،جنہوں نے اس تقریب میں آنے کا کہا۔ میں نے انٹرنیٹ سے کچھ معلومات لیں اور یہاں آنے کافیصلہ کیا اور کیاہی خوب فیصلہ تھا۔ جو آج میں نے یہاں سنا ہے، میں اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلام کی یہ شاخ امن پسند شاخ ہے، یہ اسلام کی اصل تصویر ہے۔ یہ ایسا اسلام ہے، جس میں انسانیت ہے، پیار ہے، محبت ہے۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ جو اسلام ہمیں بتایا جاتا ہے، وہ اسلام نہیں بلکہ کوئی اور شے ہے۔ مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیم عیسائیت جیسی ہے۔ خلیفہ کی باتوں سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ یہ غیرمعمولی جماعت ہے۔

ایک خاتون Nize Babylonsکہتی ہیں کہ

یہ تقریب بہت اہم ہے، اس لیےکہ یہ ہمیں متحد کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب لوگوں میں نفرت پیدا ہوئی ہو، ایسے میں اس قسم کی تقاریب امید کی کرن ہیں۔ لوگوں کو یہ سمجھناچاہیے کہ جو مذہب اسلام کے بارے میں بتایاجاتا ہے وہ محض دھوکہ ہے۔ مذہب تو پیار کی تعلیم دیتا ہے، مذہب تو خدا کی بات کرتا ہے اور خدا کی محبت پیداکرتا ہے۔

ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں ایک قریبی گاؤں سے آئی ہوں۔ ہمیں بہت اچھے انداز سے اس تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی ۔ہمیں اس سے پہلے احمدیہ جماعت کاعلم نہیں تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کو جاننے کا ایک بہت بڑا موقع ہے جو آپ لوگوں نے پیدا کیا ہے۔ ہم سب امن کے ساتھ مل جل کر کس طرح رہ سکتے ہیں۔ خلیفہ کی تقریر سن کر پتہ چلا ہے کہ ہم کس طرح لوگوں کی عزت کر سکتے ہیں۔

٭…ایک شخص نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میراتعلق ایک قریبی گاؤں سے ہے۔ مجھے احمدیہ جماعت کا بالکل بھی علم نہیں تھا۔ ہم سب کو آپ لوگوں نے بہت اچھے طریق پرخوش آمدید کہا۔ خلیفہ کی تقریر بہت عمدہ تھی۔

٭…ایک شخص نے کہا:

میں خلیفہ کی تقریر سن کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ کی شخصیت میں ہمدردی نمایاں نظر آتی ہے۔ بہت پیار کرنے والے اور خیال رکھنے والے محسوس ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ پیغام جو کہ محبت اور بھائی چارہ پر مبنی ہے بہت ہی عمدہ ہے اور یہ پیغام بہت ضروری ہے۔

٭…ایک شخص نے کہا:خلیفہ بہت معزّز شخصیت ہیں۔ آپ بہت نیک ہیں اورآپ کی طبیعت میں ٹھہراؤ ہے۔ آپ نے جو پیغام دیاوہ بھی بہت اعلیٰ ہے۔

٭…ایک خاتون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :میں بہت خوش ہوں کہ میں اس تقریب میں شامل ہو ئی اور یہاں آ کر مجھے راحت محسوس ہوئی ہے اور محبت ملی ہے اور یہی اس تقریب کا اصل مقصد تھا۔

٭…Jean Jacques Ruch صاحب جو شہر Hurtigheimکے میئرہیں،نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئےکہا؛

میں مسجد آ کر بہت خوش ہوں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ خاص طور پر میرے گاؤں کے بہت سے لوگ ادھر شامل ہوئے ہیں۔ یہ سب آپ کا گزشتہ 7 سالوں کے ہمارے ساتھ رابطہ اور آپ کے امن کے پیغام کا نتیجہ ہے۔

میئرنے امیر صاحب فرانس سے کہا کہ یہ بات اپنے خلفیہ کو بتاؤ:

کہ اس reception میں اتنے زیادہ افراد اس لیے آئے ہیں کہ چند دنوں سے لوگ باربار میرے پاس آرہے تھے کہ آپ نے کیا اپنے علاقہ میں مسجد بنالی ہے؟

مَیں ان کو بتاتاتھا کہ آپ کی جماعت کس طرح کی ہے، اس لیے میں یہ سوچ کر ان کو اس پروگرام میں لے آیا تا کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ میں جولوگوں کو جماعت احمدیہ کے بارہ میں کہتا ہوں حقیقت ہے، غلط نہیں۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ نیز یہ بھی کہا کہ تم بغیر بتائے جاؤ گے تو وہ آپ کے بیٹھنے کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دیں گے۔

پھر یہ کہنے لگا کہ میں ایک مذہبی آدمی ہوں۔ میرا بھائی پادری ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آج یہاں ایک فرشتہ آپ کے ساتھ ہے۔

Justin Vogel صاحب جو ڈسٹرکٹ کونسل آف Kochersberg کے پریذیڈنٹ ہیں ،نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

شروع میں میرے بہت سے خدشات تھے جب میرے علم میں یہ بات آئی کہ یہاں مسجد بننے والی ہے۔ لیکن جب میں نے آپ لوگوں کا یہ نعرہ سناکہ‘‘محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں’’ تو مجھے یہ خیال ہوا کہ آج کی دنیا میں کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی اتنا پیار سے بھراہوا نعرہ لگانے اور اسے قبول نہ کیاجائے۔
جماعت احمدیہ تو دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک تلوار بن سکتی ہے اور اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ فرانس میں ابھی تک لوگ جماعت احمدیہ کو اتنا تو نہیں جانتے لیکن شدت پسندی اور موجودہ مشکلات کے خلاف احمدیت کو پروموٹ کیا جانا چاہیے اور اس کا حل یہی ہے۔

٭…Luc Ginzcصاحب جو شہر Kienheim کے میئر ہیں ،اپنے خیالات اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں پہلی بار مسجد میں آیا ہوں، اگر مسجد میں آنا یہ چیز ہے تو میں روزانہ مسجد میں آؤں گا ۔مجھے مسجد میں آنا اتنا ا چھالگا اور سکون ملا ہے کہ میں اس کا بیان نہیں کرسکتا۔

٭…Denis Babilonne صاحبہ جو Flag bearers Associationکی پریذیڈنٹ ہے ،نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

جب میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ مسجد جانا ہے تو چند نے انکار کر دیا ،کہ نہیں جانا۔ لیکن جب ہم یہاں آئے تو ہم حیران رہ گئے۔ یہاں کے لوگوں نے ہماری اتنی مہمان نوازی کی اور محبت کا سلوک کیا۔ یہ ہم اب باقیوں کو جا کر بتائیں گے۔ پھر شاید وہ بھی ایک دن مسجد آہی جائیں۔

٭…Martin Wonnerصاحبہ جو نیشنل پارلیمنٹ کی ممبر ہیں نے اپنے Facebook page پر یہ کمنٹ کیا:

سیکولرازم ہماری ریاست کی بنیاد ہے جو کہ آزادی مذہب کا خیال رکھتی ہے۔ یہ میرے خیالات تھے آج مسجد مہدی Hurtigheim کے افتتاح کے موقع پر۔ اگر کچھ منتخب حکومتی عہدیدار جن کے دل ودماغ میں کچھ خدشات و شبہات تھے آج آپ کے بھائی چارہ اور اخوت اورفراخیٔ دل کانشان دیکھتے تو وہ دور ہونے چاہیے تھے۔

اس بات کا مجھے کوئی شک نہیں کہ Hurtigheim والے اور Kochersberg والے، جماعت احمد یہ کاماٹو’’محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں ‘‘کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کریں گے۔

٭…ایک مہمان خاتون نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

جب مجھے مسجد کے افتتاح کی دعوت ملی تو میں نے پہلے انٹر نیٹ پر تحقیق کی کہ یہ کس قسم کے مسلمان ہیں۔ جب مجھے تسلی ہوئی کہ یہ امن پسند اور پیار و محبت کرنے والے لوگ ہیں تو پھر میں نے ارادہ کیا کہ میں ضرور آؤں گی۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں ضرور جاؤں گی۔

چنانچہ وہ اپنے باغ کے انگور کا ایک بہت بڑا ٹوکرا لے کر آئی۔ ادھر آ کر اس نے تمام خدام اور دیگر لوگوں کو وہ انگور تقسیم کئے اور ساتھ اپنے گھر کاایڈریس بھی دے دیا کہ وہاں آؤ اور آ کر اور انگور بھی لے لو۔ وہ آج کی اس تقریب سے بہت خوش تھی۔

ایک ڈاکٹر صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف لائے جن کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔انہوں نے کہا:

ہمیں اس علاقہ میں آپ جیسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ لوگ یہاں ہیں۔ اس وقت دنیامیں جو افرا تفری اور بد نظمی ہے اس ماحول میں آپ کی بہت ضرورت ہے۔ آپ امن قائم کرنے والے اور محبت و پیار کرنے والے ہیں۔

ایک لوکل اخبار میں کوریج

یہاں کی ایک لوکل اخبار‘‘ DNA’’نے (جو صوبہ کی سب سے بڑی اخبار ہے اور اس کی روزانہ کی اشاعت ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔)مسجد کے افتتاح کے حوالے سے خبر شائع کرتے ہوئے لکھا:

فصلوں میں ایک مسجد جو‘‘محبت سب کے لیے’’ پکار رہی ہے

تین سال کے تعمیری کام کے بعد اور گاؤں کے ایک حصہ کی ہچکچاہٹ کے باوجود، جماعت احمدیہ کے افراد اب Hurtigheim میں بنائی گئی ایک نئی مسجد میں نماز ادا کریں گے۔ یہ Kochensberg کی پہلی مسجد ہے۔ اس مسجد کا افتتاح یقیناًایک تاریخی لمحہ ہے۔

اس گاؤں (Hurtigheim) میں داخل ہوتے ساتھ ہی مکئی کے کھیتوں کے درمیان ایک خوبصورت مسجد بنانے کی جماعت احمدیہ کو توفیق ملی۔ تقریباً130کے قریب احمدی اس جماعت سٹراسبرگ میں رہتے ہیں۔ پہلے ایک دوسرےکے گھر میں نمازیں ادا کرتے تھے۔ اب اس مسجد میں آکر نماز ادا کریں گے۔ دنیا کے مختلف ممالک، خاص کر الجزائر اور پاکستان میں persecution کا شکار یہ جماعت وہاں بہت احتیاط سے رہتی ہے۔

2route des romains hurtigheim میں اس جماعت نے اپنایہاں کی پہلی مسجد اور فرانس کی دوسری مسجد بنائی ہے۔ پہلی مسجد Saint Prix میں ہے اور ایک تیسری تعمیری مراحل میں ہے جو کہ Beuvragesمیں ہے۔

اشفاق ربّانی صاحب امیر جماعت احمدیہ فرانس کے مطابق ہم نے اور بہت جگہیں دیکھیں خرید کے قریب قریب بھی پہنچ گئے، مگر یہاں کے میئرنے ہمیں قبول کیا اور اجازت دی۔

حضرت مرزا مسرور احمد خليفۃ المسیح نے فرمایا کہ ہم مساجد کو احباب جماعت کی ضرورتوں اور تعداد کے مطابق بناتے ہیں۔ یہاں 5 مختلف قومیتوں کے احمدی آباد ہیں اور تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور ہمارےلیے اس کی ضرورت تھی۔ تقریباً 5لاکھ یورولگے تعمیری کام پر جو کہ مکمل طور پر جماعت کے احباب نے ادا کئے۔ نماز کا ہال154مربع میٹر ہے جس میں 250 احباب آسکتے ہیں، دودفاتر ہیں اور ایک لائبریری، اورایک چھوٹا ریسپشن ہال ہے۔60گاڑیوں کی جگہ ہے۔ ساتھ ہی منسلکہ ایک گھر ہے جو مربی کی رہائش ہے۔

اشفاق ربّانی صاحب امیر جماعت احمدیہ فرانس کہتے ہیں کہ یہ ایک عام مسجد ہے، جس طرح میئر چاہتے تھے ویسی ہی بنی ہے۔ جو ماحول کا بھی خیال رکھتی ہے اور تعمیراتی روایات کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Hurtigheimکے میئر نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے مجھے کہا اور میرے رویّہ سے اختلاف رائے کیا جو میں نے آپ کی طرف رکھا ہوا تھا، جن میں بیرونی شہر کے لوگ بھی شامل ہیں۔ پھر کہا کہ یہ مسجد ہمیشہ ملکی قوانین کے مطابق تھی اور رہے گی۔ آپ لوگوں کو یہاں 7سال ہو گئے ہیں، آپ ہمارے functions میں شامل ہوتے ہیں، بین المذاہب کانفرنس منعقد کرتے ہیں، نئے سال کے موقع پر سڑکوں کی صفائی کرتے ہیں۔ آپ اپنے یہ کام جاری رکھیں!

پھر کہا کہ ہمارے علاقہ میں مسجد کو تسلیم کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ Kochersberg کے صدر نے کہا کہ پہلے میں نے اس منصوبہ کی مخالفت کی تھی، مگر جب آپ کا ‘‘محبت سب کے لیے ’’والانعرہ میرے سامنے آیاتو پھر میں نے سوچا کہ آج کی دنیامیں کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اتنا اچھانعرہ لگائے اور پھر اس کو قبول نہ کیا جائے۔ پھر انہوں نے اس موقع کو تاریخ ساز قرار دیا۔

ان تمام کے جواب میں خلیفہ صاحب نے فرمایا کہ اسلام کہتا ہے کہ ہمیں اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھنا چاہیے، جس طرح ہم اپنے قریبی اور والدین کا ر کھتے ہیں۔ تمام احباب جو ہماری اس مسجد کے قریب رہتے ہیں ہمارے ہمسائے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی خدمت جاری رکھیں۔

……………………………(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close