سیرت النبی ﷺ

رسولِ کاملﷺ …عدل اور توازن کا شاہکار

(عبد السمیع خان۔ استاذ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

طینت پاک محمدی ﷺ ۔جو ہر افراط اور تفریط سے پاک تھی

عدم تشدد ،عدم منافرت اور حصول خیر پر مبنی تعلیمات اور اسوہ ٔحسنہ کا تذکرہ

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

ہمارے آقا ومولیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں تھی اور آپ مسلسل اپنے متبعین کو نماز باجماعت کے قیام کی تلقین فرماتے رہتے تھے مگر جب ایک امام نے نماز لمبی پڑھائی جس سے بعض مقتدیوں کو تکلیف ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس امام پر ناراض ہوئے اور فرمایا نماز سے نفرت نہ پیدا کرو مقتدیوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں بیمار بھی اور کام پر جانے والے بھی ۔ انفرادی نماز کوئی جتنی چاہے لمبی کرے۔

بعض صحابہ ؓنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی مصروفیات کی تفصیل سن کر ارادہ کیا کہ ہم شادی نہیں کریں گے ہر دن روزہ میں اور ہر رات تہجد میں گزاریں گے تاکہ گناہوں کی معافی ہو سکے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے پیچھے چلو ۔میں کبھی روزہ سے ہوتا ہوں اور کبھی نہیں۔ رات کو سوتا بھی ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں اور بیویوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہوں۔

جب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓنے اپنا سارا مال مرنے کے بعد وقف کرنے کی خواہش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا اور اولادکے لیے مال چھوڑ کر جانے کی تلقین فرمائی۔

ایک صحابی ؓ کے متعلق کسی نے کہا کہ ہم تو اسے منافقین میں سے سمجھتے ہیں تو فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ کلمہ توحید کا اقرارکرتا ہے ۔

اس طرح کے واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاصہ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کو جذباتی کھیل نہیں بنایا دین کو حقوق العباد کے استحصال کا ذریعہ نہیں بنایا ۔ اللہ کی رضا کو تشدد اور شدت پسندی کے ذریعہ نہیں بلکہ نہایت تواضع اور تسلسل کے ساتھ تمام دنیاوی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے حاصل کرنے کی تعلیم دی۔

آج کی مسلم دنیا کا ایک بڑا حصہ اس توازن سے عاری ہے ۔مذہب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ خود بھی متشدد ہیں اپنی ذات پر بھی غیر معمولی جبر کر کے خدا کے حصول کی تمنا رکھتے ہیں اور غیروں پر بھی یہی ظلم روا رکھتے ہیں شریعت کو اپنی محدود آنکھ سے دیکھتے ہوئے اپنی مذہبی تعبیر کے علاوہ سب کو کافر، جہنمی اور واجب القتل سمجھتے ہیں اور اس نظریہ پر عمل کرنا بھی فرض جانتے ہیں اور ظلم یہ کہ یہ سب کچھ اس رسولِ رحمتؐ کے نام پر کرتے ہیں جو توازن اور عدل کا شاہکار تھا جو حقوق اللہ اور اور حقوق العباد کا چیمپین تھا۔

یہ ایک فکر موضوع ہے آئیے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

کائنات اور میزان

کائنات پر انسان کی سات ہزار سالہ تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ یہ کائنات بہت اعلیٰ درجہ کے توازن اور میزان پر استوارکی گئی ہے زمین کی بالائی فضا سے لے کر بڑھتی اور پھیلتی ہوئی گلیکسیز کے آخری سرے تک ۔سطح زمین پر بسنے والے جانداروں۔ انسانوں سے لے کر نباتات اور جمادات کے ہر ذرے تک۔بطن ز مین میں پانی ، تیل ،معدنیات اورکھولتے ہوئے لاوے سے لے کر ،بیکراں سمندروں میں زندگی کے ہر رنگ سے لے کر اس کی پنہائیوں تک انسان کی دور بین نظر کوئی بھی رخنہ تلاش کرنےسے عاجز ہے ۔ یہی قرآن کریم کا چیلنج ہے اور یہی اس کائنات کی بقا اور اس کے حسن اور دلکشی کا راز ہے ۔ہر ذرہ جس جگہ ہے وہیں آ فتاب ہے۔

تمام ستارے اور سیارے اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں ۔ہر عنصر کا اپنا ایک دائرہ ہے جس کے اندر وہ محدود اختیار رکھتا ہے اور خرابی اور فساد اور بیماری وہیں پیدا ہوتی ہے جہاں کوئی ذرہ اپنے دائرہ سے باہر نکلتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو اپنے دائرے سے باہر نکلنے پر مجبور کرتا ہے ۔اسی عمل پر صحت و بیماری خوشحالی و تنگدستی ،امن اور جنگ اور ظلم و عدل کا انحصار ہے ۔

روحانی دنیا کا سربراہ

یہ کائنات تقاضا کرتی ہے کہ روحانی دنیا کی سربراہی بھی ایسے شخص کے سپرد ہو جو نہایت اعلیٰ درجہ کی میزان پر تخلیق کیا گیا ہو جس کا مزاج افراط وتفریط سے پاک ہو جس کی تعلیمات نہ مشرقی ہوں نہ مغربی بلکہ کُل عالم کی ضروریات پوری کرتی ہوں جو ہر قسم کے تشدد سے مبرا ہو ۔جو ایک حق کے لیے دوسرے حق کو تلف نہ کرے اور جس کی عملی زندگی حسن توازن اور اعتدال کا بے مثال مرقّع ہو۔

ایسا نادر و پاک وجود جس کی کائنات متقاضی تھی وہ ہمارے آقا و مولا سیّد الرسل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے متعلق صرف ان کے تخلیق کار نے ہی دعویٰ نہیں کیا بلکہ ان کی حیات طیبہ کا ہر لمحہ اس کا تائید ی گواہ ہے جس طرح انسانی جسم کے لاکھوں خلیوں میں سے ہر خلیہ آکسیجن سے زندہ ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ہر عمل اور ہر نصیحت میں توازن اور عدل کا دَوردورہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو آج 1400سال بعد بھی اسی رسولؐ کی ضرورت ہے مسلمانوں کو بھی اور غیر مسلوں کو بھی جس کا قرآن لاریب اور جس کی سنت بے عیب ہے جس کی احادیث مستند اور جس کی سیرت طیبہ اور مطہرہ ہے ۔

جس کی زبان بر حق۔ جس کا دل عرش الٰہی اور جس کی روح سچائی اور توازن سے تخلیق کی گئی تھی حقیقت یہ ہے کہ اس کا ہر قدم روشنی۔ ہر ادا دلربا۔ ہر منزل دلفریب۔ ہر معرکہ فتح مبین۔ ہر پڑاؤ سکینت۔ ہر استنباط وحی خفی اور ہر مشورہ نوید ِسحر تھا۔

اس کا ہر عفو دل موہ لینے والا۔ ہر انعام روح پرور اور ہر سزا اصلاح کرنے والی تھی جس کا ہر قول بر حق۔ ہر بات کھری۔ ہر لفظ نپا تلا ۔ ہر عمل پر حکمت۔ ہر نصیحت پر مغز اور ہر حکم فائدہ مند تھا جو اپنے آسما نی آقا کی طرح تمام صفات حسنہ کا جامع اور تمام کدورتوں سے منزہ تھا۔ یہ محض دعویٰ نہیں دلائل کی ایک کہکشاں اپنے ساتھ رکھتا ہے۔آئیے اس کے چند مناظر دیکھیں۔

عبادات سورج چاند کے ساتھ

آپؐ نے منشا ٫الٰہی کے ساتھ ساتھ پانچ نمازیں فرض کیں۔ رمضان کے روزے اور حج فرض کیا ۔ آپ نے نمازوں کے اوقات کو سورج کے ساتھ اور رمضان اور حج کو چاند کے ساتھ باندھ دیا کیونکہ سورج اور چاند شرق و غرب پر یکساں چمکتے ہیں اور اس طرح دنیا کے تمام خطوں کے تمام مسلمانوں کو تمام موسموں میں عبادت اور خوشی کا مزہ چکھایا اور دوسروں کی تکلیف کا احساس بھی دلایا ۔ لیکن غیر معمولی حالات میں کسر،جمع اور سواری پر نماز کے لیے اجتہاد کا دروازہ بھی کھول دیا تاکہ کوئی فرد خدا کی رضا سے محرومی کا عذر نہ کر سکے۔

پوری زندگی عبادت

آپؐ نے ہمیں بتایا کہ جنّ و انس کی تخلیق کا مقصد عبادت الٰہی کا قیام ہے ۔اس حوالہ سے انسان کے لیے لازم تھا کہ وہ زندگی کا ہر لمحہ پرستش میں گزارے جو یقینا ًناممکن ہے مگر رسول اللہﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ ساری زندگی کو عبادت بنا دیا۔ فرمایا کچھ وقت مسجدمیں اجتماعی عبادت کرو ۔کچھ وقت انفرادی عبادت کرو،کچھ وقت ذکر الٰہی میں گزارو ۔باقی اوقات جو تم بظاہر دنیا کے کاموں میں لگاؤ گے اگر ان سب کاموں کو خدا کے حکموں کے مطابق بجا لاؤ گے تو تمہارا لمحہ لمحہ عبادت ہی شمار ہو گا اور تم اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرو گے ۔کیا عظیم توازن اور اعتدال ہے ۔

غلو اور سختی نہیں

عبادات میں آپؐ غلو اور ضرورت سے زیادہ سختی بالکل پسند نہ کرتے تھے ایک زوجہ مطہرہ ؓرات کو نوافل پڑھتی تھیں۔ نیند کے وقت سہارے کے لیے رسی لگائی ہوئی تھی آپؐ نے اس سے روک دیا۔فرماتے تھے حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت اللہ کو بہت پسند تھی وہ کچھ سوتے کچھ جاگتے اور عبادت کرتے اور پھر سو جاتے تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ تہجد کی تلاوت قرآن دل میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت بلند آواز سے کرتے تھے آپؐ نے ان دونوں کو اعتدال کی راہ دکھائی اور فرمایا درمیانی آواز میں تلاوت کیا کرو۔
فرمایا قرآن کی تلاوت بھی نشاط روح سے کرو جب تھک جاؤ تو چھوڑ دو ۔ایک صحابی ؓنے قرآن کا دَور جلد سے جلد مکمل کرنے کی خواہش کی تو فرمایا کم از کم تین دن یا سات دن میں ختم کرو ۔ ایک صحابی کو مسلسل روزے رکھنے سے منع کیا مگر اس نے بڑے اصرار سے اجازت حاصل کی۔وہ بڑی عمر میں جاکر کہتے تھےاے کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرتا۔آپﷺ فرماتے تھے حضرت داؤدؑ کے روزے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے ۔فرمایا بہترین عمل وہ ہے مَادَامَ وَاِنْ قَلَّ ۔جو دوام رکھتا ہو اگرچہ کم ہو۔

روح اور جسم کا متوازن کردار

انسان روح اور جسم دونوں سے مرکب ہے ۔آپؐ نے روح کو افضلیت دی مگر جسم کا کردار فراموش نہیں کیا۔قلب کی صفائی کے ساتھ وضو بھی ضروری قرار دیا ۔ نماز اصل میں تو روح کا قیام رکوع اور سجدہ ہے مگر اس کے مطابق جسمانی حرکات بھی ضروری ہیں۔

روزے کا مقصد منہیات سے رکنے کی تربیت ہے مگر جسم کا بھوکا رہنا بھی ضروری ہے ۔حج تو دراصل روح کی عاشقانہ عبادت ہے مگر مکہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا جسمانی طواف بھی ضروری ہے ۔قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتا ہے مگر جانور کا خون بہانا بھی ضروری ہے۔ زکوٰۃ کا مضمون اپنی تمام صلاحیتوں کو خدا تعالیٰ اور نوع انسان کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے پر پھیلا ہوا ہے مگر اس کے ساتھ ہی مالی قربانی بھی اس کا ایک اہم اور لابُدی حصہ ہے۔

آپ ﷺ پر یہ راز بھی کھولا گیا کہ ہر انسان کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا گیا ہے ۔انسان کی طبعی اور اخلاقی اور روحانی حالتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس کی کوئی بھی صلاحیت بری نہیں اس کا استعمال اس کی بلندی یا پستی کا فیصلہ کرتا ہے طبعی صلاحیتوں کو جب موقع و محل اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو انہی کو اخلاق کہتے ہیں اور جب یہ سب کچھ خدا کی مرضی اور منشا کے موافق ہو تو اسی کا نام روحانیت ہے۔

مواخذہ میں عدل

فرمایا انسان پیدائش کے وقت معصوم ہوتا ہے اس کا ماحول بعد میں اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتا ہے مگر انسان کو یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ان تمام اثرات کو مٹا کر فطرت صحیحہ کی آواز پر لبیک کہے۔ انسان کو کسی کفارےکی ضرورت نہیں اور کوئی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی نہ کسی تناسخ کا وجود ہے ۔اگرکسی شخص تک خدا کا پیغام اور شریعت نہیں پہنچی تو اس سے فطرت کی آواز کے مطابق سلوک کیا جائے گا ۔کم فہم اور مجانین شریعت کے مکلف نہیں سب کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جائے گا ۔ہر ایک پر اس کی وسعت کے مطابق بوجھ ڈالا جائےگا۔

عزت کا عالمی معیار

آپ ؐنے بتایا کہ تمام انسان بحیثیت انسان برابر ہیں ملک رنگ ونسل اور قبیلہ کسی کو معزز نہیں بناتا ۔اللہ کے نزدیک معزز وہی ہے جو زیادہ تقویٰ شعار ہے۔ کالے کوگورے پر اور سرخ کو سفید پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد قبااور مسجد نبوی ؐکی تعمیر کے وقت صحابہ ؓکے ساتھ مل کر مزدوروں کی طرح وقار عمل کیے۔ سفر میں ڈیوٹیاں تقسیم ہوئیں تو خود بھی ایندھن اکٹھا کرنے کا فرض ادا کیا ۔بدر کے وقت مدینہ سے نکلتے ہوئے سواری کے لیے جانور تقسیم ہوئے تو تین تین صحابہ کے حصے میں ایک ایک سواری آئی ۔آپؐ بھی دو صحابہ کے ساتھ سارا رستہ باری باری سوار ہوتے رہے ۔فرماتے مجھے بھی ثواب کی خواہش ہے ۔مجلس میں ہوتے تو مسند یا کسی خاص نشان نہ ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ نووارد پہچان نہ سکتے۔

آپ ﷺنے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو عربی نہ ہوتے ہوئے اپنے اہل بیت میں شامل فرمایا ان کی آزادی کی شرط کے طور پر تین سو پودے لگانے میں شرکت کی ۔غلام زیدؓ کو بھائی قرار دیا ۔حبشی غلام بلالؓ کو آپؐ کی برکت سے حضرت عمرؓ بھی سیدنا بلالؓ کہتے تھے۔

آپؐ کے جھنڈے تلے سوائے تقویٰ اور اہلیت کے ہر تمیز مٹ گئی تھی ۔مساوات کا یہ نظّارہ دنیا نے پہلی بار اس شان کے ساتھ دیکھا کیونکہ یہ دین وحدت اقوام کا دین ہے اور ہرقومی اور نسلی تعصب سےپاک ہے۔تمیز بندہ و آقا اٹھانا اس کو کہتے ہیں۔

دین قَیِّم

آپؐ کو بتایا گیا تھا کہ اب اصل اور خالص دین اسلام ہے اور پہلے مذاہب اپنی مدت پوری ہونے کی وجہ سے یا انسانی دست برد کا شکار ہونے کی وجہ سے باطل اورمردہ ہیں اور ان کے پیرو را ہ حق سے بھٹک چکے ہیں ۔مگر قرآن میں متعدد بار یہ بھی ذکر ہے کہ اہل کتاب کا ایک گروہ آج بھی صالحین پر مشتمل ہے اور وہ خدا سے ڈرتے اور قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دل کی آنکھوں سے پہچانتے ہیں اور امانت کا حق ادا کرتے ہیں ۔

اسلام اس رنگ میں سچائی کا اجارہ دار نہیں بنتا کہ دوسرا ہر مذہب ہر خیر اور بھلائی سے خالی ہے بلکہ آپ ﷺ نے بتایا کہ میں تو سابقہ انبیاء کا تسلسل ہوں ان سب کی خوبیوں کا جامع اور پہلے تمام مذاہب کی ابدی سچائیاں اسلام میں جمع کرکے اسے دین قَیِّم بنا دیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہر قوم اور ہر ملک اور ہر خطہ میں خدا کے نبی ،مامور اور ہادی آئے ہیں اور سب کی عزت اور حرمت ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔

سب الہا می کتابیں اور زبانیں

آپؐ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا سب سے پر جلال لاریب اور با عظمت کلام ہے ۔مگر آپؐ نے اس سے پہلے کسی الہامی کتاب کی تنقیص نہیں کی ان کو اپنے زمانہ اور قوم کےلیے نور، ہدایت اور فرقان قرار دیا اور خود کو ان الہامی کتابوں کی سچائیوں کا مصداق اور ان کی پیشگوئیوں کا موعودقرار دیا ۔جب غزوہ خیبر میں تورات کے بعض اوراق مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور یہود کو ان کی بے حرمتی کا خطرہ ہوا تو آپؐ نے عزت کے ساتھ وہ نسخے یہود کو بھجوا دیے۔

آپؐ کی زبان عربی ام الالسنہ اور الہامی زبان تھی مگر آپؐ نے سب رنگوں اور زبانوں کو خدا کے نشان قرار دیا دوسری الہامی کتب کو سمجھنے کے لیے آپؐ نے زید ؓکو سریانی زبان سمجھنے اور سیکھنے کی نصیحت فرمائی آپؐ کا ایک فارسی الہام بھی روایات میں ملتا ہے اور آپؐ سے حبشی زبان کے کئی الفاظ بولنا بھی ثابت ہے ۔

علم غیب میں اعتدال

خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور اس نے اپنی قدرت کے نمونہ کے طور پر آپؐ کو علم غیب سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا اس لیے قرآن وحدیث میں پیشگوئیوں کا ایک بحرذخار موجود ہے مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک لڑکی نے یہ شعر پڑھا

وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ

یعنی ہم میں ایک نبی موجود ہے جو آنے والے کل کی باتیں جانتا ہے تو آپؐ نے اسے روک دیا۔
بعض پیشگوئیوں اور رؤیا کے مفہوم کو سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگی تو اس کا اظہار کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کی۔

دلآزاری منع ہے

آپؐ کی بعثت کا مقصد وحید توحید کا قیام تھا اور بتوں سے سے سخت نفرت تھی مگر آپؐ نے مشرکوں کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا۔ آپؐ جانتے تھے کہ خدا نےآپؐ کو سب انبیاء سے بڑھ کر مقام عطا فرمایا ہے مگر جب ایک یہودی نے حضرت موسیٰ ؑکو فضیلت دی اور مسلمان نے اسے تھپڑ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کسی کی دل آزاری اور فساد سے منع کیا اور فرمایا مجھے موسیٰؑ پر فضیلت نہ دو ۔ایک بار فرمایا مجھے یونسؑ پر بھی فضیلت نہ دو کسی نے آپؐ کو خَیْرُالْبَرِیَّہ کہا تو رخ فوراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف موڑ دیا۔

مسجد نبویؐ میں غیر مسلم

آپؐ آغاز سے ہی خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کی آرزو رکھتے تھے مگر جب تک خدا نے آپؐ کو حکم نہ فرمایا آپؐ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے پھر جب خدا کی مرضی سے کعبہ ہی قبلہ بنایا گیا تو نماز کا رخ اسی کی طرف ہوگیا ۔جب نجران کے عیسائیوں نے اپنی عبادت کے لیے مسجد نبویؐ سے باہر جانا چاہا کیونکہ ان کا قبلہ کعبہ کے بالکل متضاد سمت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبویؐ کے اندر ہی اپنےقبلہ کی طرف رخ کرکے عبادت کی اجازت عطا فرمائی۔

مشرکوں کو قرآن میں نجس کہا گیا ہے بعض مشرک مہمان آئے تو انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا ۔صحابہ ؓنے عرض کیا تو فرمایا یہاں روحانی نجاست مراد ہے۔

کمزوروں کی دلداری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ نے اسلام کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں شہادتیں پیش کیں ۔قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔دکھ اٹھائے ۔پتھر کھائے مگر ایمان پر آنچ نہ آنے دی لیکن جب بعض صحابہ ؓنے بے اختیاری اور نیم بے ہوشی کے عالم میں کچھ نامناسب کلمات کہہ دیے تو قرآن نے فرمایا اگر ان کو اسلام پر شرح صدر ہے تو اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔

جب بعض صحابہ ؓجنگ احد کی شدت اور مرکزیت کی کمی کی وجہ سے میدان جنگ سے واپس چلے گئے تو ان کی بھی معافی کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا اللہ ان کا دوست ہے ۔ایک جنگی مہم سے کچھ صحابہ واپس بھاگ آئے تو اہل مدینہ نے انہیں الفرارون کہا یعنی فرار ہو کر آنے والے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا لگا تو فرمایا انتم العکارون تم تو اس لیے آئے ہو کہ دوبارہ تیاری کرکے ان پر حملہ کرو اور واقعی ایسا ہی ہوا۔

صفائی میں اعتدال

صفائی اور نظافت کو رسول اللہ ﷺنے شَطْرُالْاِیْمَان یعنی ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ۔ اور ہمیشہ طہارت کے عمدہ ترین طریق اختیار فرمائے خوشبو لگاتے مگر اس کے ساتھ غریبوں سے ملنے جلنےاور ان کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی عار نہ تھی۔

مسجد کی صفائی کو بہت عزیز رکھتے تھے مگر جب ایک کم علم نے مسجد میں پیشاب کردیا اور صحابہ ؓ اسے مارنے کو دوڑے تو آپؐ نے انہیں روک دیا۔جب ایک بچے نے خود رسول اللہ ﷺکے کپڑوں پر پیشاب کیا تو آپؐ نے فرمایا اس پر پانی بہا دو ۔

ایک کمزور دماغ عورت نے آپؐ کو سڑک پر روک لیا اور کہا میرا مطالبہ پورا کرو ۔وہ مدینہ کی گلیوں میں آپؐ کو بے مقصد لے کر پھرتی رہی مگر آپؐ نے برا نہ منایا اور اس کی تسلی کر کے واپس تشریف لائے ۔ایک معمور الاوقات انسان کا غریبوں سے کتنا زیادہ اظہار محبت ہے۔

علم و حکمت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم اور حکمت کے خزانے عطا کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے تھے کہ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا اور فرماتے تھے علم و حکمت مومن کی میراث ہے جہاں سے بھی ملے لے لیا کرو ۔ مہد سے لحد تک علم حاصل کرو۔ علم کی جستجو میں لگے رہو خواہ چین جانا پڑے ۔ اپنے علم پر کبھی غرور نہ کرتے۔ عام دنیاوی معاملات میں فرماتے کوئی عقل کل نہیں تم دنیاوی معاملات کو مجھ سے بہتر جانتے ہو۔

ایک نماز کی رکعات میں کمی بیشی ہوگئی صحابہ نے یاد دلایا تو فرمایا میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں جب اس طرح ہو تو سبحان اللہ کہہ کر یاد کرادیا کرو ۔مشاورت بھی فرماتے مگر فیصلہ خداداد عقل اور دعاؤں سے کرتے اور جب عزم کر لیتے تو خدا پر توکّل کرتے۔

جنگ احد میں آپ ﷺکی رائے تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کرنا چاہیے مگر بدر میں شامل نہ ہونے والے نوجوان صحابہ نے جوش میں اصرار کیاکہ باہر جانا چاہیے ۔آپؐ نے ان کا جذبہ دیکھ کر باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا اور ہتھیار زیب تن کرلیے۔ اس دوران بزرگ صحابہ کےکہنے پر نوجوان سمجھ گئے اور رسول اللہﷺ سے فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی مگر آپؐ نے فرمایا جب خدا کا رسول ہتھیار باندھ لیتا ہے تو اتارا نہیں کرتا۔

مذہبی آزادی

آپ ؐنے مذہبی آزادی کا عالمگیر اعلان کرتے ہوئے فرمایا لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ۔ آپؐ نے فتوحات کے بعد بھی مشرکوں کو اپنے دین پر قائم رہنے کی آزادی عطا کی عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ جتنے معاہدے کیے گئے سب میں ان کی عبادت گاہوں، مذہبی رہنماؤں اور ان کی جائیدادوں ،عورتوں اور بچوں کو امان دی گئی اور اسے توڑنے والے کو خدا اور رسولؐ کا نافرمان قرار دیا گیا۔

وطن کی محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ۔آپؐ کو اپنے وطن مکہ سے بہت گہری محبت تھی اور اسے چھوڑنا ہرگز گوارا نہ تھا مگر جب معاندین نے ظلم و ستم کی انتہا کردی تو اہل مدینہ اور انصار آپؐ کی ڈھال بن گئے اور آپؐ نے ان سے ہمیشہ کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرلیا ۔ فتح مکہ کے بعد بھی آپؐ نے مدینہ کو اپنا مرکز بنایا اور اسے مکہ جیسی حرمت بخشی اور وہیں دفن ہونا پسند فرمایا۔

جہاد بالسیف

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں مخصوص جنگی حالات کے پیش نظر ہجرت اور جہاد بالسیف کی غیرمعمولی اہمیت تھی اور اس کی قرآن و حدیث میں بار بار ترغیب دی گئی ہے ۔مگر اویس قرنی، والدہ کی خدمت کی وجہ سے یمن سے آپؐ کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے تو ان کا یہ عذر قبول فرمایا اور ان کو سلام بھیجا ۔ایک شخص جہاد کے لیے حاضر ہوا تو پتا لگا کہ بوڑھے ماں باپ کو روتا چھوڑ آیا ہے فرمایا جاؤ اور ان کی خدمت کا جہاد کرو ۔مشرک والدین سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دی۔ کفریا شرک کے معاملہ میں ان کی اطاعت نہیں کرنی۔

بعض صحابہ کو دشمنوں نے پکڑ لیا تھا اور اس وعدے پر چھوڑا کہ جہاد میں حصہ نہیں لیں گے رسول اللہ ؐنےاس جبری وعدے کا بھی احترام فرمایا۔

ایک نامی پہلوان حالت کفر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے آیا جب کہ ایک ایک فرد کی ضرورت تھی مگر آپؐ نے فرمایا میں کسی مشرک کی مدد نہیں لوں گا لیکن جب اس نے اسلام قبول کرلیا تو اسے لشکر کا حصہ بنا دیا۔

اَکْلُ و شُرْب

آپؐ نے خدا کے حکم سے حلال و حرام کا ایک جامع فلسفہ پیش فرمایا ۔ آپ کی شریعت میں تمام طیبات حلال ہیں ہاں چند چیزوں کو حرام کہا گیا ہے مگر مضطر کے لیے جو غیر باغی اور غیر عادی ہو اسے مناسب حدود کے ساتھ حلال کر دیا جاتا ہے ۔فرمایا: کھانے پینے میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھو ۔کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو۔فرمایا :بہترین دعوت وہ ہے جس میں غریبوں کو بھی بلایا جائے۔مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے۔ ایک مومن کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔

قیام امن

آپؐ امن اور آشتی کے شہزادے تھے ہر ممکن حد تک صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے جب تک خدا نے اجازت نہ دی مدینہ میں بھی تلوار نہ اٹھائی ۔حالت جنگ میں بھی لڑائی سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ۔کہیں سے اذان یا سلام کی آواز آتی تو اسے صلح کے پیغام پر محمول کرتے اور ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔متحارب قبیلوں کے لیے بھی صحابہ کو یہی ہدایت تھی کہ پہلے اسلام کی دعوت دیں پھرصلح کی کوشش کریں اور جنگ کو آخری آپشن بنائیں۔

شجاعت

نہایت شجاع اوربہادرتھے۔ تمام غزوات میں خود قیادت فرماتے۔ جنگیں کیں مگر دفاعی اور مذہبی آزادی کے قیام کے لیے۔ خدا کی راہ میں بار بار جان دینے اور زندہ کیے جانے کی خواہش رکھتے تھے مگر بلاوجہ خون کا ایک قطرہ بہانے کو بھی تیار نہ تھے۔ اس وجہ سے اپنے مقرب صحابی اسامہ ؓ ا ور خالد بن ولید ؓسے بھی ناراض ہوئے کہ اسلام کے اقرار کے باوجود قتل کیوں کیا۔

عورتوں، مذہبی رہنماؤں اور غیر متعلق لوگوں کے قتل و غارت سے منع کرتے حتی ٰکہ درخت کاٹنے سے بھی منع کرتے مگر جب حدیبیہ کے مقام پر آپؐ کے قاصد حضرت عثمان ؓکی شہادت کی افواہ پھیل گئی تو اپنے صحابہ سے اس شرط پر بیعت لی کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کا بدلہ ضرور لیں گے خواہ ایک ایک کر کے سارے کٹ جائیں۔ یہ افواہ درست نہ تھی ورنہ دنیا شجاعت اور قاصد کے احترام میں بہادری کے نئے معجزے دیکھتی۔

لباس

سفید لباس پسند تھا مگر اپنی پسند کسی پر تھوپی نہیں۔سرخ رنگ بھی پہنا ۔جنگی ضرورتوں کے جو پرچم بنائے وہ زیادہ تر کالے اور سفید تھے ۔کپڑے میں کوئی تخصیص نہ تھی ۔اچھا لباس بھی پہنا اور اس کو تحدیث نعمت قرار دیا مگر وہ لباس جو وضو میں مشکل پیدا کرے پسند نہ کرتے ۔وہ بستر جو صبح اٹھنے میں دقت پیدا کرے اسے بدل دیتے ۔وہ پردے جو مشرکانہ تصاویر کے حامل ہوتے اتروا دیتے۔ وہ برتن جن میں کبھی شراب پی جاتی تھی ان کو بھی حرام قرار دیا تاکہ اس طرف توجہ نہ ہو۔

خدا تعالیٰ مصور بھی ہے اور آپؐ اس کے دست قدرت کا جسمانی لحاظ سے بھی شاہکار تھے مگر آئینہ دیکھ کردعا کرتے کہ اے اللہ جیسے میرے جسمانی خدوخال کو خوبصورت بنایا ہے میرے اخلاق کو بھی دلکش بنا دے آپؐ نے فرمایا:

بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ ۔ یعنی میں تو اعلیٰ ترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں اور فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں حسین تر ہے۔

عائلی زندگی میں اعتدال

نکاح اور شادی کے تمدنی معاہدےکو مذہبی تقدس عطا کیا اور فرمایا یہ میری سنت ہے اس سے اعراض کرنے والے کا میرے سے کوئی تعلق نہیں ۔عورتوں سے ہمیشہ حسن سلوک کی تاکید فرماتے تھے کہ اگر تمہیں اپنی بیوی کی بعض باتیں ناپسند ہیں تو بعض پسند بھی تو ہیں یہ کہہ کر برداشت کے دائرہ کو وسیع کردیا۔ جائز ضرورت کی خاطر تعدد ازواج کی اجازت بھی دی۔ بعض مذاہب میں طلاق کی اجازت نہیں مگر آپ نے بعض حالات میں دونوں فریقوں کو علیحدگی کی اجازت بھی دی۔ اسے اَبْغَضُ الْحَلَالِ قرار دیا مگر ساتھ ہی فرمایا سَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ان کو عمدگی سے رخصت کرو اور اگر ڈھیروں ڈھیر مال بھی ان کو دیا ہو تو واپس نہ لو اور اگر فریقین آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس میں بھی روک نہ ڈالو اور بعض شرائط کے ساتھ یہ راستہ حتی الامکان کھول دیا۔

آپؐ کے پاس ایک وقت میں نو کے قریب بیویاں رہیں۔ عمر مختلف ۔قبائل مختلف۔ خیالات مختلف۔ ہر ایک کی پسند جدا جدا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے درمیان حد درجہ عدل قائم فرماتے کسی کو دوسرے کی باری لینے کا حق نہ تھا ۔کسی کو دوسری کے سابقہ عقائد، مذہب ، قد پر انگشت نمائی کا حق نہ تھا ۔کسی کو دوسرے کی دل آزاری کا ہرجانہ دینا پڑتا تھا گھر میں آتے تو ضحاکا بساما ہنستے مسکراتے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے ۔کوئی بلاتا تو لبیک کہہ کر توجہ فرماتے ان کی دینی تربیت کے لیے کوشاں رہتے نماز کا وقت آتا تھا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد کی راہ لیتے ۔یہی وجہ تھی کہ سب بیویاں آپ کی گرویدہ اور عاشق زار تھیں اس کی دلیل وہ وقت تھا جب خدا کے حکم سے آپ نے ان کو دنیا یا آخرت میں سے ایک کو چننے کا اختیار دیا تو سب نے آپؐ کو ہی چنا اور جو آپ سے سیکھا مدتوں دنیا کو سکھاتی رہیں۔ آپﷺہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے اور آپؐ کی ازواج بھی۔ ایک سال بعض ازواج ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بیٹھ گئیں تو ان کے خیمے اتروا دیے کہ یہ بھی اعتکاف کی روح کے خلاف تھا۔

عدل و انصاف

عدل اور انصاف کے معاملہ میں کوئی چیز مزاحم نہ ہوسکتی تھی ۔اپنا ذاتی نمونہ پیش کر کے دکھایا ۔وفات سے کچھ عرصہ قبل فرمایا کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ بدلہ لے سکتا ہے ایک صحابی نے کہا ایک دفعہ میدان جنگ میں صفیں درست کراتے ہوئے آپ کا نیزا مجھے لگ گیا تھا اور میرے جسم پر کپڑا نہیں تھا آپ نے فرمایا بدلہ لے لو اور جسم سے کپڑا اٹھایا تو صحابی نے دیوانہ وار بوسہ لے لیا۔

ایک سفر کے دوران بھیڑ میں ایک شخص کا پاؤں آپؐ کے پاؤں پر آگیا تو آپؐ کو سخت تکلیف ہوئی اور آپؐ نے ایک چھڑی سے اسے دُور ہٹایالیکن آپؐ کے دل میں اس کی تکلیف کا احساس باقی رہا اور اگلے دن اس سے معذرت کی اور 80 بکریوں کا تحفہ اسے عطا فرمایا۔

قریش کی ایک معزز عورت نے چوری کی آپؐ نےحسب حکم الٰہی اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔دیگر صحابہ نے مشورہ کے ساتھ آپؐ کے بہت پیارے صحابی حضرت اسامہ بن زید ؓ کےذریعہ اس کی سفارش کروائی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا اور فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔انصاف کے قیام کا یہی طریق ہے کہ کسی چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کا فرق نہ کیا جائے۔

ادب و احترام

رسول اللہﷺبڑی عمر والوں کا احترام بھی سکھاتے تھے۔ فرمایا جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا اور چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔مگر اصولوں کو فراموش نہ کرتے ۔ایک بار آپ نے مجلس میں کوئی چیز تقسیم کرنا چاہی تو آپ کے دائیں طرف ایک بچہ اور بائیں طرف حضرت ابوبکرؓبیٹھے ہوئے تھے۔ آپ عام طور پر دائیں طرف سے تقسیم شروع کرتے تھے آپ نے ابوبکرؓ کو پہلے دینے کے لیے اس بچے سے اجازت طلب کی مگر اس نے رسول اللہ ﷺکے تبرک کو چھوڑنے سے ادب کے ساتھ انکار کر دیا تو رسولِؐ خدا نے پہلے اسے عطا فرمایا ۔

کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے سے منع کیا اور اگر کوئی بیٹھ گیا تو پہلے آدمی کی واپسی پر اسی کا حق فائق قرار دیا ۔ایک دفعہ آپ کی مجلس میں ایک شخص آیا تو آپؐ اسے جگہ دینے کے لیے سکڑ گئے ۔اس نے کہا یا رسولؐ اللہ آپ تکلیف نہ کریں تو فرمایا یہ مومن بھائی کا حق ہے۔

بچوں پر شفقت

بچوں سے نہایت پیار اور شفقت کا تعلق تھا۔ نواسے حسن ؓ اور حسین ؓ خطبہ کے دوران بھی آکر آپؐ کے سینے پر چڑھ جاتے آپ کی نواسی حالت سجدہ میں آپؐ پر بیٹھ جاتی ۔سواری بن کر نواسوں کو پشت پر بٹھا لیتے۔

فرمایا :اپنی اولاد کی بھی عزت کرو ۔بچے آپؐ کے پاس آ کر کھیلتے رہتے تھے تو آپ خوشی محسوس کرتے اور ان کے لیے دعائیں کرتے ۔ایک یتیم سے فرمایا:میں تمہارا باپ اورعائشہ تمہاری ماں ہے ۔مگر ساتھ ہی تربیتی امور کو ملحوظ رکھتے ۔جب آپؐ کے ایک نواسے نے صدقہ کی ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی تو اس کے منہ میں انگلی ڈال کر اسے فورا ًنکال دیا اور فرمایا آل محمد صدقہ نہیں کھاتے ۔ایک بچے نے کھانے کی پلیٹ میں ہاتھ مارنا شروع کیے تو اسے کھانے کے آداب سکھائے۔ ایک بچے نے درخت پر پتھر مار کر پھل گرائے تو اس کی بھی تربیت فرمائی۔

توکل

نہایت درجہ متوکل تھے مگر مدینہ کے ابتدائی دنوں میں رات کو شور سننے پر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوکر جائزہ لیتے ہیں اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں ۔تیروں کی بوچھاڑوں میں بھی اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبکا نعرہ لگا کر آگے بڑھتے زخموں سے چور بدن اور دشمن کے نرغے میں گھرے ہونے کے باوجود اُعْلُ ھُبلکے مقابلہ پر اللّٰہ اَعْلٰی وَاَجَلکی صدا بلند کرتے۔ ہجرت کے سفر میں غار ثور میں پناہ گزینی کے وقت جب دشمن سر پر تھا تو فرمایا ۔انَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ سفر کے دوران جب سراقہ تعاقب کرتے اور تیر چلاتے ہوئے سر پر آ پہنچا تب بھی کوئی گھبراہٹ اور فکر نہ تھی سراقہ ٹھوکریں کھا کر معافی مانگتا ہے تو اسے امان نامہ دے دیتے ہیں ۔کسریٰ کے کنگن عطا ہونے کی خوشخبری سناتے ہیں مگر اللہ پر کامل توکل کے باوجود عام حالات میں حفاظت کے تمام ممکنہ سامان اختیار فرماتے ہیں ۔صحابہ خود بھی اس بات کا خیال رکھتے اور رسولؐ اللہ کے پہرہ پر مستعد رہتے اور دعائیں حاصل کرتے۔

مدینہ کے کناروں پر آباد ایک قبیلہ مسجد نبویؐ کی دوری کی وجہ سے شہر کے قریب آنا چاہتا ہے تو اسے وہیں ٹھہر کر حفاظت کی ذمہ داری ادا کرنے کا فرماتے ہیں ۔احد میں جبل عینین پر 50تیراندازوں کا دستہ مقرر کر کے فرمایا کسی حال میں یہ جگہ نہ چھوڑیں مگر انہوں نے غلطی کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو سچا ثابت کیا اورجان کی قربانیوں سے غلطی کے دھبے دھوئے۔

دعا اور تدبیر

آپ ؐکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتوحات اور نصرتوں کے وعدے کیے گئے تھے اور تمام نامساعد حالات کے باوجود آپ کو ان پر کامل یقین تھا لیکن خدا تعالیٰ کی صفت استغنا سے کبھی بھی مستغنی نہ ہوئے ہمیشہ ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ظاہری تدابیر اور دعاؤں میں لگے رہتے ۔جنگ بدر سے پہلے بھی آپ کو فتح کی بشارت مل چکی تھی مگر بدر سے پہلے اپنے خیمہ میں اس قدر الحاح اور زاری کے ساتھ دعا کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ سے برداشت نہ ہوتا تھا گڑگڑانے سے روکنے کی کوشش کے باوجود آپ نہ رکے کہ شاید بشارت کا کوئی مخفی پہلو یا شرط ایسی نہ ہو جس کی وجہ سے یہ پیشگوئی ٹل جائے ۔

ہجرت مدینہ کی آپ کو بشارت دی گئی تھی مگر آپؐ نے احتیاط کی ساری راہیں اختیار کیں ۔حضرت ابو بکر ؓکے ساتھ خفیہ پروگرام طے کیا ۔رات کو نکلے ۔مدینہ شمال میں تھا مگر آپ بالکل الٹ جنوب کی طرف گئے اور غار ثور میں چھپ گئے ۔3دن بعد وہاں سے نکلے اور غیر معروف راستوں سے گزرتے ہوئے مدینہ کی طرف سفر کیا۔

آخرت میں آپؐ کے اعلیٰ ترین مقامات کی آپ کو خبر دی گئی تھی مگر پھر بھی قرآن آپ کی زبان سے کہتا ہے مَااَدْرِی مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْمیں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوگا ۔کثرت سے توبہ اور استغفار کرتے اور خدا تعالیٰ کی عظمت سے ہمیشہ لرزہ براندام رہتے ۔ساری ساری رات عبادت میں کھڑے ہوکر عبدشکور بنتے اور عاجزی سے بخشش طلب کرتے رہتے تھے۔

بیماروں کی عیادت کے لیے جاتے ،دوائیں تجویز کرتے، اپنی نگرانی میں مسجد نبویؐ میں حضرت سعد بن معاذ ؓکے علاج کے لیے خیمہ لگوایا۔آپ کے علم طب پر مبنی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں مگر آپؐ کامل اور حقیقی شافی اللہ تعالیٰ کو سمجھتے۔ خود بھی دعائیں کرتے اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے تھے۔

شاعری

آپؐ اَفْصَحُ الْعَرَب اور نہایت قادر الکلام تھے ۔مسحور کن اور دلوں کو موہ لینے والا کلام کرتے ۔مگر شاعر نہ تھے اور خدا تعالیٰ نے مخفی حکمتوں کی بنا پر آپ کو شعر کہنا نہیں سکھایا کیونکہ شاعروں کی عمومی پہچان یہ ہے کہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں ۔مبالغہ آرائی کرتے ہیں اور سچائی کے خلاف باتیں کرتے ہیں اس لیے عموماً را ہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگ ہی ان کی پیروی کرتے ہیں۔ مگر خدا کے کلام میں ایمان رکھنے والوں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کا استثناء کیا گیا ہے ۔اس لیے آپؐ صحابہ ؓکے شعر سنتے تھے ان سے محظوظ ہوتے تھے ۔چنانچہ خندق کی کھدائی کے وقت صحابہ کے شعروں کے جواب میں آپ بھی شعر پڑھتے رہتے حضرت حسان بن ثابت ؓکو مدافعانہ اشعار کہنے کا ارشاد فرمایا اور یہ دعا کی کہ اللہ روح القدس سے تیری مدد فرمائے ۔آپؐ کے ایک دو شعر روایات سے ثابت ہیں

إِن أَنتِ إِلّا إِصبَعٌ دَميتِ

وَفي سَبيلِ اللَهِ ما لَقيتِ

اور

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب

اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب

فرماتے تھے بعض شعروں میں حکمت کی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بعض بیان جادو اثر رکھتے ہیں ۔زمانہ جاہلیت کے شاعر لبید جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے کے ایک شعر کو سچائی پر مبنی قرار دیا

اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلَا اللّٰہُ بَاطِلُ

یعنی اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔کبھی کبھی آپؐ کی مجلس میں صحابہ زمانہ جاہلیت کے اشعار سنایا کرتے تو آپ تبسم فرماتے۔

محنت اور خدمت

ہمیشہ محنت کر کے کھانے کی تلقین کرتے دوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے کی سختی سے ممانعت کی ۔بعض صحابہ کو فرمایا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچو یہ مانگنے سے بہتر ہے مگر ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی بھرپور ہدایت فرمائی ۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ آپؐ کے پاس کوئی مانگنے والا ایسا نہیں آیا جس کو آپؐ نے لَا یعنی انکار کیا ہو ۔

مکہ والوں پر آپؐ کی ہجرت کے بعد قحط کا عذاب آیا اور ابو سفیان آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کو حتی الامکان مدد کی تلقین کی ۔فاقہ کش آتے تو ضرور ت پوری کرتے اصحاب صفہ مسلسل آپؐ کے رحم وکرم پر تھے اور مورخین کہتے ہیں کہ ایک وقت میں80کے قریب یہ تعداد ہوتی تھی جو آپ کے دسترخوان سے کھاتے تھے۔

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓنے آپ کو دیے گئے تحفہ میں نئی قمیص مانگ لی تو مجلس کے خاتمہ پر ان کو بھجوا دی دوسرے صحابہ ان سے ناراض ہوئے تو کہنے لگے یہ تو میں نے کفن کے لیے مانگی ہے ۔
غریبوں یتیموں اور مسکینوں کی امداد کے لیے قرآن و حدیث میں متعدد مرتبہ ذکر ہے اور اس کو اعلیٰ نیکی قرار دیا گیا ہے مگر ناجائز طور پر یہ مال لینا سخت جرم ہے۔

قرض

قرض لینا پسندنہ تھا اور ہمیشہ دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ قرض سے بچانا۔ فرماتے قرض لینے والا جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔مگر مجبوری کے عالم میں قرض بھی لیا غریبوں کی مدد کے لیے، جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے اور گھریلو ذمہ داریوں کی خاطر۔ صحابہ،بعض دوسرے لوگوں اور یہودیوں سے بھی قرض حاصل کیا ۔مگر ہمیشہ عمدگی کے ساتھ ادا کیا ۔قرض خواہ کی سخت باتیں بھی برداشت کیں مگر اس کے احسان کا پاس کیا اور ہمیشہ بڑھا کر واپس کیا ۔ اس بارہ میں بھی عجیب عدل ہے کہ قرض پر رقم بڑھانے کی شرط کرنا سود اور حرام قرار دیا مگر اپنی خوشی سے احسان مندی کے طور پر بڑھا کر دینے کی عادت ڈالی۔

تفریحات

آپؐ کی طبیعت نہایت نفیس تھی اس لیے عام دنیاوی میلوں ٹھیلوں اور سطحی قسم کی تفریحات سے بلند تھی ۔بچپن میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان لغویات سے محفوظ رکھا اور بھرپور جوانی میں بھی۔آپؐ نے آلات موسیقی اور گانے بجانے کو مَزَامِیر شیطانیعنی شیطانی آلات قرار دیا ۔تاہم عرب کے مخصوص ثقافتی ماحول میں ہلکی پھلکی تفریح کے طور پر عوام الناس کو اجازت بھی دی ۔آپؐ کی مدینہ آمد پر انصار بچیوں نے دف بجا کر آپ کو خوش آمدید کہا ۔شادی کے موقع پر نغمات کی اجازت دی مگر پیشہ ور عورتوں کو نہیں۔ عیدوں وغیرہ کے موقع پر حبشیوں نے مسجد نبوی میں جنگی کرتب دکھائے تو آپؐ نے حضرت عائشہ ؓ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے یہ نظارہ دکھایا مگر خود کبھی ان چیزوں سے دل نہ لگایا ۔ہاں قرآن خوش الحانی سے سننا پسند کرتےتھےاور بعض صحابہ سے باصرار سنا ۔ یہ کام اتنا لطف انگیز تھا کہ آپؐ بعض قبائل کو قرآن کی تلاوت کی لحن سے پہچان لیتے تھے۔

مسکراہٹ اور مزاح

آپؐ کی ذمہ داریاں بہت وسیع تھیں اور وقت بہت محدود تھا دشمنوں کی اذیت اور تکالیف اس پر سوا تھیں ۔ اس لیے آپؐ ہمیشہ متفکر رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ شاید آپ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔ بعض دفعہ ساری ساری رات مخالفین کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگتے رہتے ۔ہر قسم کے صدمے سہے مگر آپؐ کی مسکراہٹ کو کوئی نہ چھین سکا۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا ہو اور مسکرائےنہ ہوں۔ لطیف مزاح بھی فرماتے بچوں سے کھیلتے ۔ایک بچے کو ذوالاذنین فرمایا یعنی دو کانوں والے ۔ایک بوڑھی صحابیہ نے جنت میں جانے کے لیے دعا کی درخواست کی تو فرمایا کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی وہ پریشان ہوئی تو فرمایا جنت میں سب عورتیں جوان ہو کر جائیں گی ۔ایک شخص نے سواری کے لیے اونٹ مانگا تو فرمایا میں تمہیں اونٹ کا بچہ دوں گا اس نے کہا میں بچہ لے کر کیا کروں گا۔ فرمایا ہر اونٹ کسی اونٹ کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔

آپؐ کی مجالس میں صحابہ جاہلیت کے قصے سناتے رہتے اور رسول ؐبھی آپ کے ساتھ مسکراتے۔ آپ کی محفل نہایت بےتکلف اور مزے دار ہوتی تھی اتنی روح پرور کہ صحابہ جنت اور جہنم کو قریب محسوس کرتے تھے مگر بعد میں جب یہ کیفیت جاتی رہتی تو رسولؐ اللہ سے پوچھتے کہ لگتا ہے ہم منافق ہو گئے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم ہمیشہ اس اعلیٰ درجہ کی کیفیت میں نہیں رہ سکتے۔ انسان کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں ۔ قبض و بسط کی صورتِ حال جاری رہتی ہے۔ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ورنہ انسان انسان نہ رہے فرشتہ بن جائے۔ہمیشہ اطاعت کی تعلیم دیتے تھے مگر فرمایا لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَّۃِاللّٰہِ۔اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت جائز نہیں۔

نظام وراثت

کامل اور عادلانہ تعلیم وراثتی نظام کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ قرآن کریم کا نظام وراثت ایسا عظیم الشان ۔جامع اور مکمل ہے کہ حساب دان بھی اس سے لطف اٹھاتے ہیں۔ انسان کی جتنی بھی ذمہ داریاں ہیں اور جس حد تک جس فرد کے حوالہ سے ہیں اس کو اتنا ہی حصہ دیا گیا ہے۔ اولاد بیوی خاوند ماں باپ بہن بھائی اور ان کی تمام شکلیں اور پھر یہ بھی فرمایا کہ تقسیم وراثت کے وقت یتامیٰ اور مساکین آجائیں تو ان کا حصہ بھی نکالو ۔جہاں حق محسوس کیا مگر کسی حکمت کے تحت براہ راست نہیں دیا وہاں وصیت کی تلقین فرمائی جیسے یتیم پوتے کے حق کے لیے دادا کو نصیحت فرمائی۔ بعض معاملات میں اسلامی حکومت اور معاشرہ کو ذمہ دار قرار دیا ۔

وارث کے لیے وصیت کو روک دیا اور ورثہ کی تقسیم میں مسلم یا غیر مسلم ورثاء میں کوئی فرق نہیں کیا۔اس کی بنیاد رحمی رشتوں پر رکھی اگر دشمن مسلمانوں کے ساتھ ورثہ کے تبادلہ پر راضی ہوں تو مسلمانوں کو بھی کوئی روک نہیں۔

کہاں ہیں وہ مذاہب جو تقسیم ورثہ کا نظام ہی نہیں رکھتے اور کہاں ہیں وہ مہذب ممالک جہاں کوئی منصفانہ تقسیم نہیں ہے۔ آؤاور ہمارے عادل اور کامل رسولؐ کی پناہ میں آ جاؤ۔

منافقین

قرآن نے منافقوں کو نہایت سخت الفاظ میں یاد کیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے بعض منافقوں کے ناموں سے بھی مطلع فرمایا تھا مگر جب تک خدا نے ان کے لیے جنازہ اور قبر پر کھڑے ہونے سے روکا نہیں آپؐ ان کے لیے رحم کے پر جھکاتے رہے بلکہ جب خدا نے فرمایا کہ تو ستّر بار بھی ان کے لیے استغفار کرے گا تو میں نہیں بخشوں گا تو آپؐ نے فرمایا میں ستّر سے زیادہ بار استغفار کرلوں گا۔
آپؐ ہمیشہ منافقوں کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے واقعہ افک برپا کیا ۔آپؐ کی زوجہ مطہرہ پر الزام لگایا مگر آپؐ کے دل میں نفرت کا کوئی بھی بیج نہ بوسکے ۔ آپؐ نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے کفن کے لیے اپنا کرتہ عنایت فرمایا کہ اس نے آپؐ کے چچا عباس کے لیے ایک بار اپنا کرتہ دیا تھا۔

سب کی عزت

آپ ﷺسید الکائنات اور خیر البشر تھے سب انسانوں سب نبیوں اور سب شاہوں سے برتر مگر سب سے عزت کے ساتھ پیش آتے اور عزت کرنے کی تعلیم دیتے غلاموں اور لونڈیوں کو بھی مناسب الفاظ میں خطاب کرنے کی ہدایت دی ایک صحابی نے غلام کو اس کی ماں کے حوالہ سے طعنہ دیا تو فرمایا تجھ میں جاہلیت کی رگ باقی ہے۔

انصار کے ایک سردار آئے تو فرمایا قُوْمُوْا لِسَیِّدِکُمْ اپنے سردار کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ مگر اپنے بارہ میں فرمایا میری اس طرح تعظیم نہ کرو جیسے شاہان عجم کی رعایا کرتی ہے یعنی انہیں خدائی منصب دیتی ہے اور اس کے مطابق تعظیم کرتی ہے۔ فرمایا جو چاہتا ہے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

آپؐ نے شاہان عالم کو خطوط لکھے تو ان کے دستورکو پورا کرتے ہوئے آپؐ نے مہر کے طور پر اپنے نام کی انگوٹھی بنوائی اور ہر ایک خط پر مہر ثبت کی اور بادشاہوں کو عزت و احترام سے خطاب کیا ۔مومن کی جان و مال اور عزت کو اسی طرح حرمت والا قرار دیا جس طرح مکہ اور خانہ کعبہ اور ذوالحجہ کا مہینہ قابل حرمت ہے۔

تادیبی کارروائی

رسول کریمؐ رحم اور عفو کا پیکر تھے ۔تحمل اور صَرف نظر آپؐ کی عادت مستمرہ تھی لیکن جہاں جہاں ضرورت محسوس کرتے تھے وہاں تادیبی کارروائی بھی کرتے، ناراض بھی ہوتے اور معاملات کی درستی فرماتے اور اس میں بھی اصلاح کا پہلو غالب رہتا۔

ایک بار مجلس میں غیر ضروری سوالات پوچھے گئے تو آپؐ ناراض ہوئے اور فرمایا:پوچھو جو پوچھنا ہے اس پر بھی بعض نہ سمجھے اور بے کار سوال شروع کر دیے۔ اس پر آپؐ مزید ناراض ہوئے تو حضرت عمر ؓگھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور حکمت کے ساتھ آپؐ کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ ایک بیوی نےکسی دوسری بیوی کے گھر سے آیا ہوا کھانا گرا دیا جس سے برتن بھی ٹوٹ گیا ۔ آپؐ نے وہ کھانا خود اکٹھا کیا اور اسے ویساھی برتن واپس کرنے کا ارشاد کیا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپؐ نے تبوک میں شامل نہ ہونے والے تین صحابہ کو مقاطعہ کی سزا دی مگر اس میں بھی رحم کا پہلو غالب رہا حضرت کعب بن مالک ؓکہتے ہیں کہ جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا تو رسول کریم ؐمحبت بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہے ہوتے ۔جب میں آپؐ کی طرف دیکھتا تھا تو آپؐ دوسری طرف منہ کر لیتے ۔

آپؐ نے شرعی سزائیں بھی نافذ کرائیں چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ زنا پر سزا بھی دی مگرسزاؤں کے نفاذ میں یا غصہ میں کبھی ایسے بے قابو نہیں ہوئے کہ غصہ پر کنٹرول نہ رہا ہو یا سخت زبان استعمال کی ہو یا کسی کے جذبات کو ناجائز طور پر ٹھیس پہنچائی ہو ۔غصہ بھی بر محل اور حدود کے اندر تھا۔
ایک شخص کی مسلسل ناروا کارروائیوں پر ایک صحابی نے عرض کیا کہ اسے قتل کرا دیا جائے تو فرمایا میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کراتا پھرتا ہے۔

مذہبی رواداری کے رہنما اصول

مذہبی رواداری اورعالمی امن کے قیام کے لیے آپ نے جو رہنما اصول اختیار فرمائے اور قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ان پر تو ضخیم کتب لکھی جا سکتی ہیں مگر ان کا ایک اصولی خلاصہ درج ذیل ہے :

1 ۔ مذہب میں شامل کرنے یا نکالنے کے لیے طاقت کا استعمال منع ہے
2۔ہر شخص کو آزادی ہے جو مذہب چاہے اختیار کرے
3 ۔ اسلام سے ارتداد پر دنیا میں کوئی سزا نہیں
4۔سب دنیا کے مذہبی پیشواؤں کی عزت کی جائے
5 ۔دوسروں کے مقدسین اور جھوٹے معبودوں کو بھی برا بھلا نہ کہا جائے
6 ۔مشترک عقائد کی بنیاد پر تعاون کی دعوت دی جائے
7 ۔ بلا لحاظ مذہب و دشمنی عدل کیا جائے
8 ۔امن کے قیام کے لیے بلا امتیاز تعاون کیا جائے
9۔غیروں کی خوبیوں کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا جائے
10 ۔جو غیر امن سے رہنا چاہتے ہیں ان کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہ کی جائے

ان عظیم اصولوں کے حوالے سے رسولؐ اللہ کا نمونہ حسب ذیل ہے

عام تمدنی اور معاشرتی تعلقات میں کسی قوم کا فرق نہیں کیا۔ سب کو سلام کرتے تھے غیر مسلم مہمان کو سات بکریوں کا دودھ پلایا اور اپنے اہل خانہ کو بھوکا رکھا ۔یہودی عورت کی دعوت بھی قبول کی جس نے کھانے میں زہر ملا دیا تھا ۔ایک یہودی مخیر کے باغ کا تحفہ بھی قبول کیا۔

یہودی بیمار نوجوان کی عیادت بھی کی یہودی کے جنازہ کے لیے احتراماً کھڑے ہوگئے بدر میں مقتول دشمنوں کو دفن کرایا ۔خندق میں ہلاک ہونے والے سردار نوفل کی لاش کو واپس کرنے کے لیے کفار نے دس ہزار درہم کی پیشکش کی مگر آپؐ نے بغیر کسی رقم کے واپس کر دی۔

ابولہب اور عتبہ جیسے پڑوسی کی ایذاؤں پر صبر کیا ۔یہودی کو چھینک آئی تو اسے دعا دی۔ یہودیوں سے لین دین اور قرض کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بوقت وفات بھی آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی ۔ یہودیوں کی سختی اور بدتمیزی بھی برداشت کی۔معاہدہ حلف الفضول کی پابندی کرتے ہوئے ایک غیر مسلم اراشی نام کے لیے جانی دشمن ابوجہل کے پاس گئے اور قرض واپس د لوایا۔ ایک قتل کے مقدمہ میں مسلمانوں کے مقابلہ پر یہودیوں کے حق میں فیصلہ کیا۔

مدینہ کے دو یہودی قبیلوں بنو قینقاع اور بنو نضیر کو ان کے جرائم کی پاداش میں جلا وطن کیا تو سارا سامان ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی حتیٰ کہ ان کے وہ بچے بھی جو نذر کے طور پر یہودی بنائے گئے تھے اور درحقیقت یہودی نہ تھے وہ بھی ساتھ لے گئے۔

امانت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے نہایت اعلی معیار قائم کیے ہجرت کے وقت حضرت علی ؓ کو مشرکین کی امانتیں واپس کر کے مدینہ آنے کا ارشاد فرمایا جبکہ اس مقصد کے لیے ان کی زندگی داؤ پر لگ گئی تھی ۔خیبر کے موقع پر مسلمان ہونے والے چرواہے کو یہودیوں کی بکریاں قلعہ کی طرف لوٹانے کا حکم دیا۔ اس موقع پر یہود کا کچھ مال مسلمانوں نے لے لیا تو وہ بھی لوٹا دیا۔ کئی مواقع پر لوٹی ہوئی چیزوں کے استعمال کی ممانعت کی۔ جنگ میں مشرکین کے مقتول بچوں کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کیا ۔

حدیبیہ کا معاہدہ فائنل ہونے سے پہلے ہی ابوجندل کو مشرکوں کے پاس واپس بھجوا دیا ۔اسی موقع پر کافروں کے اصرار پر اپنے ہاتھ سے رحمان اور رسول اللہ کے الفاظ مٹا دیے۔ جب حضرت علیؓ نے فرطِ جذبات میں کاٹنے سے انکار کیا تو اسے بھی برداشت کیا۔ میثاق مدینہ میں یہود اور مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے ایک ا مت قرار دیا اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا۔

اسوہ حسنہ

اس کی حیات مقدسہ پہاڑی چوٹیوں کی طرح سربلند، سمندروں کی طرح بےکنار اور میدانوں کی طرح گلستاں در گلستان پھیلی ہوئی ہے ۔نہ جانے 63سال کی عمر میں اس نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا۔ زندگی کے جس دور سے گزرا اسوہ حسنہ بنتا چلا گیا جس رہ پر قدم مارا اسے صراط مستقیم بنا دیا ۔جس کا ہر رنگ صبغۃ اللہ ۔ہر اشارہ قبلہ نما ۔جس کا ہر سفر وسیلہ ظفر۔ جس کا ہر کام موجب راحت تھا ۔جس کی ہر دعا جانفزا ۔جس کا ہربلاوا اور پیام زندگی کا نقیب تھا۔

وہ میز ان کا ایسا شاہکار تھا کہ اس کا ہر دن دعوت الی اللہ سے معمور اور ہر رات خدا کے حضور اشکوں سے بھرپور تھی۔ اس کا ہر خلق خلق عظیم تھا اس کا ہر لمحہ یاد خدا سے عبارت تھا۔ اس کا چلنا پھرنا سونا جاگنا انسانیت کی فلاح کے لیے تھا۔ اس کا ہر فیصلہ قول فیصل ۔ہر دلیل برہان قاطع اور اس کا سایہ ظل الٰہی تھا ۔اس کی صحبت جنت اور اس سے دوری عذاب ہے۔

آپؐ قرب الٰہی کے سب سے بلند مقام سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے مگر اس کے لیے انسانی جذبات اور مخلوق کو ڈھال نہیں بنایا نہ مخلوق سے قطع تعلق کیا نہ اس کا حق مارا اور نہ اس کو دکھ پہنچایا بلکہ جوں جوں خدا کے قریب ہوتے گئے آپ نوع انسان پر رحمت کے ساتھ اور زیادہ جھکتے گئے ۔آپ نے عبادت کو بھی معراج عطا کی اور خدمت خلق کو آخری شکل دی۔دنیا کی نعمتیں بھی قبول کیں ۔ زندگی سے بھی لطف اندوز ہوئے مگر کہیں سختی وتشدد نہیں کہیں ظلم و ستم نہیں کہیں مار دھاڑ نہیں اور اسی فیضان نظر کا اثر تھا کہ غلاموں کو آزاد کیا تو ایسی حکمت سے کہ غلام آزاد ہونے کو تیار نہ تھے ۔قیدیوں سے پیار کیا تو وہ آپ کے غلام بے دام بن گئے۔ شراب حرام کی تو اعلان کی تصدیق کیے بغیر مدینے کی گلیوں میں شراب بہائی جانے لگی اور پانچ وقت کی شراب کی جگہ پانچ نمازوں نے لے لی ۔وہ جو دن رات عورتوں اور گانے بجانے میں گزارتے تھے وہ عشق قرآن میں محو ہو گئے اور شعر کہنے چھوڑ دیے۔

انقلاب عظیم

آپ ﷺنے انقلاب عظیم برپا کیا مگر روحوں کو جیت کر ۔دل فتح کیے مگر نرمی اور پیار کے ساتھ۔انسانیت کو خدا سے ملایا مگر دل خون کیے بغیر ۔بلند ترین مناصب پر پہنچے مگر کسی کا حق چھین کر نہیں ۔سنگلاخ زمینوں کو سر سبز و شاداب وادیوں میں بدل دیا مگر محبت اور الفت کی موسلادھار بارشوں سے۔بادشاہ علاقے فتح کرتے ہیں تو فوجیں دھڑادھڑ مفتوحہ علاقوں میں داخل ہوتی ہیں اور فساد برپا کرتی ہیں مگر جب آپ ﷺ کو اللہ کی نصرت اور فتح آئی تو لوگ جوق در جوق دین امن و سلامتی میں داخل ہونے لگے اور ہر طرف خدا کی تسبیح اور استغفار کی صدائیں تھیں ۔

آج کا انسان بھی اگر یہی منظر دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے تو اسے انہی راہوں پر چلنا ہو گا جو محمد مصطفی ﷺ نے قائم کی ہیں وہی نور چاہیے جو رحم اور عفو کے چشمے سے پھوٹتا ہے وہی حکمت چاہیے جو حسن سلوک سے عطا ہوتی ہے وہ عالمگیریت چاہیے جو نور الٰہی سے ملتی ہے کاش جلد ایسا ہو۔حضرت مسیح موعودؑ سورۃ نور کی آیت کریمہ نمبر 36مِنْ شَجَرَۃٍ مُبَارَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

(شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجودِ مبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام لوگوں کے لیے عام علیٰ سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا) اور شجرئہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنے طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ بلکہ نہایت توسط و اعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغِ وحی روشن کیا گیا ہے۔ سو روغن سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی معہ جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمۂ صافی سے پروردہ ہیں۔ اور وحی کا چراغ لطائف محمدیہ سے روشن ہونا ان معنوں کرکے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا۔ اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہریک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی۔ سو انجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔ سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغِ وحی فرقان اس شجرئہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ یعنے طینت معتدلہ محمدیہ ﷺکے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے۔ نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی۔ بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔ اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے ۔

(براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 193 )

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close