متفرق مضامین

جماعتِ احمدیہ اور عید میلاد النبیﷺ

(رحمت اللہ بندیشہ۔ استاد جامعہ احمدیہ جرمنی)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

رسول پاک ﷺ کی معیّن تاریخ ولادت

ہمارے نبی شاہِ دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت واقعہ اصحاب الفیل (جب خانہ کعبہ پریمن کے گورنر ابرہہ نے حملہ کیاتھا)کے پچیس روز بعدہوئی تھی۔معروف طور پریہ تاریخ 12؍ربیع الاوّل مطابق 20؍اگست570ءبیان کی جاتی ہے۔ جب کہ محمود پاشا فلکی مصری کی تحقیق کے مطابق یہ سال 571ء اورتاریخ 20؍اپریل (مطابق 9؍ربیع الاوّل)تھی ۔اورولادت باسعادت سوموار کے دن صُبح کے وقت ہوئی تھی(ملخص از سیرت خاتم النبیین)لیکن یاد رہے تاریخ ولادت کے معین ہونے کی بابت مؤرخین میں اختلاف ہے۔بعض مؤرخین کے اقوال کے مطابق آپ ﷺ کی ولادت رمضان المبارک میں ہوئی ،اسی طرح بعض نے ولادتِ مبارک ماہ محرم یا ماہ صفر بھی بیان کی ہے۔چنانچہ سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ ابن اسحاق کے قول کے مطابق آپﷺ کی پیدائش 12؍ربیع الاوّل سوموار کے دن کو ہوئی تھی۔اس قول کی توضیح کرتے ہوئے حاشیہ میں لکھا ہے کہ آپﷺکی ولادت باسعادت کے معین ہونے کی بابت اختلاف ہے،اگرچہ معروف طور پر ربیع الاوّل بیان کی جاتی ہے۔ زبیر کا قول ہے کہ حضورﷺ کی ولادت ماہ رمضان میں ہوئی،درحقیقت یہ قول اُس قول کے ہی موافق ہے کہ آپؐ کی والدہ ایّام تشریق میں حاملہ ہوئیں تھیں۔ اس طرح اصحاب الفیل کے واقعہ کو بعض اصحاب نے ماہ محرم کا بھی بیان کیا ہے ،اورکہا ہے کہ اس واقعہ کے 25دن بعد حضورؐ کی ولادت ہوئی تھی۔

(سیرت ابن ہشام ۔زیر عنوان ولادۃ رسول اللّٰہ ورضاعتہ ۔حاشیہ نمبر 4۔صفحہ نمبر 161۔دارالمعرفۃ، بیروت،لبنان۔الطبعۃ الثانیۃ 1422ھ۔2001ء)

برصغیر کے مشہوراسلامی مؤرخین علامہ شبلی نعمانی اور سیّد سلیمان ندوی کی مشہورمشترکہ تصنیف ‘‘سیرت النبیؐ ’’میں لکھا ہے کہ

‘‘تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نےدلائلِ ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپؐ کی ولادت 9؍ربیع الاوّل بروز دو شنبہ مطابق 20؍اپریل 571ء میں ہوئی (حاشیہ:محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے وہ کئی صفحوں میں آیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے 1:۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیمؓ(آنحضرت ﷺ کے صغیر السن صاحبزادے)کے انتقال کے وقت آفتاب میں گرہن لگا تھا،اور وہ 10ھ تھا(اور اس وقت آپؐ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا) 2:۔ریاضی کے قاعدے کے حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ (10ھ کا)گرہن 7؍جنوری 632ء۔8 بجکر 30منٹ پر لگا تھا۔ 3:۔اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آپ کی پیدائش 571ء جس میں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاوّل کی پہلی تاریخ 12؍اپریل 571ء کے مطابق تھی 4:۔تاریخ ولادت میں اختلاف ہے لیکن اس قدر متفق علیہ ہیں کہ وہ ربیع الاوّل کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12 تک منحصر ہے۔ 5:۔ ربیع الاوّل مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے۔ان وجوہ کی بنا پر تاریخ ولادت قطعاً 20؍اپریل 571ء تھی)

(سیرت النبیؐ جلد اوّل،حصّہ اوّل صفحہ نمبر 123 از علامہ شبلی نعمانی وسیّد سیلمان ندوی۔زیر عنوان ولادت النبی ﷺ۔ناشر عثمان رشید ۔حذیفہ اکیڈمی الفضل مارکیٹ لاہور پاکستان)

اسلام میں دو عیدیں ہیں

یادرہے کہ شریعت اسلامی کے مستندمتفق علیہ مأ خذ میں صرف اور صرف دو عیدوں یعنی عید الفطر اورعید الاضحیہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ تیسری کسی عید کا ذکر نہیں ملتا،البتہ جمعہ والے دن کو بھی عید کا دن قرار دیا گیاہے۔علاوہ ازیں مذاہب اربعہ کی مستند ابتدائی اساسی کتب میں بھی اس قسم کی کسی عید کا تذکرہ نہیں ملتا اور نہ ہی عید میلاد النبی ﷺکو منانے کے متعلق کسی بھی قسم کے شرعی احکام ملتے ہیں،جیسا کہ عید الفطراور عید الاضحیہ کی بابت واضح طور پر کتب حدیث میں مذکورہے کہ عیدین کے دن کون کون سے کام خصوصیت سے ادا کیے جائیں گے۔ کس وقت نماز کی ادائیگی ہوگی وغیرہ۔

٭آنحضرت ؐنے اپنی امت کو یہ تاکیدی نصیحت کی ہے:

‘‘فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ’’

یعنی میرے بعد جب اختلافات ہوں گے تو تم میری اورمیرے خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب أبواب السنۃبَابُ اتِّبَاعِ سُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ)

نیزاس زمانہ میں آنحضرت ﷺکی بعثت ثانیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوئی ہے اس لیے آپؑ کی اور آپؑ کے خلفاء کی سنت اور طریق کی اتباع بھی اسی طرح ضروری ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ ایک اَور رسم کے سلسلہ میں بحیثیت حکم وعدل اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ اصولی اور بنیادی نکتہ بیان فرمایا کہ

‘‘پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم ؐ یا صحابہ کرام ؓوائمہ عظام میں سے کسی نے یُوں کیا ؟جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟’’

(ملفوظات جلد 5صفحہ 214-213)

ایک مرتبہ پیسہ اخبار نے عید میلاد منانے کےلیے یہ تحریک کی تھی کہ اس روز تمام مسلمان نہائیں، دھوئیں اور عید منائیں۔ اس کا ذکر جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا :

‘‘اسلام میں صرف دو ہی عیدیں شارع علیہ السلام نے مقرر فرمائی ہیں۔ یا جمعہ کا دن ہے”

(حیات نور باب ہفتم صفحہ 507)

اسی طرح ایک موقعہ پر جماعت احمدیہ شملہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھا کہ عید میلاد کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟اس پر آپؓ نے فرمایا:

“عید میلاد بدعت ہے۔ عیدیں دو ہیں۔ اس طرح تو لوگ نئی نئی عیدیں بناتے جائیں گے۔ اور احمدی کہیں گے کہ مرزا صاحب پر الہام اوّل کے دن ایک عید ہو۔ یوم وصال پر عید ہو۔ آنحضرت ؐ کے سب سے بڑے محب تو صحابہ تھے۔ انہوں نے کوئی تیسری عیدنہیں منائی بلکہ ان کا یہی مسلک رہا کہ

‘‘بزہد و ورع کوش وصدق وصفا ولیکن میفزائے بر مصطفیؐ

اگر عید میلاد جائز ہوتی۔ تو حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)آنحضرت ؐ کے بڑے محب تھے۔ وہ مناتے۔ ایسی عید نکالنا جہالت کی بات ہے۔ اور نکالنے والے صرف عوام کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ان میں کوئی دینی جوش نہیں۔ ’’

(حیات نور باب ہفتم صفحہ508)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ ہم لوگ برتھ ڈے پارٹی یعنی سالگرہ کی تقریب کیوں نہیں مناتے؟

جواباً حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے فرمایا کہ

‘‘ایک احمدی کے لیے ہر طرزِ عمل میں رہ نمائی حضرت نبی کریمﷺکی سیرت پاک سے ملتی ہے۔ چنانچہ پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ؐ نے کبھی اپنی سالگرہ نہیں منائی۔ قطعی طور پر یہ بھی ثابت ہے کبھی کسی نبی نے اپنی سالگرہ نہیں منائی۔ کبھی کسی صحابی نے اپنی یا اپنے بانی مذہب کی سالگرہ نہیں منائی۔ بائبل میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ بنی اسرائیل کے کسی نبی یا خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برتھ ڈے منائی گئی ہو۔ حضرت نبی کریم ؐ کے صحابہؓ آپؐ ہی سے تربیت یافتہ تھے اور کسی سے بھی زیادہ آنحضرت ؐ سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ انہوں نے اس شدید محبت کے باوجود کبھی حضرت نبی کریم ؐ کی سالگرہ نہیں منائی۔ نہ صحابہ نے نہ تابعین نے اور نہ تبع تابعین نے…۔’’(الفضل 14؍فروری 1994ء صفحہ2)

جماعت احمدیہ کی طرف سے جلسہ ہائے سیرت النبیﷺ کا منظّم آغاز

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام سےایک شخص نے مولودخوانی پر سوال کیا ۔اس پر آپؑ نے فرمایا :
‘‘آنحضرت ﷺ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اولیاء اور انبیا ء کی یا د سے رحمت نازل ہو تی ہے اور خودخدانے بھی انبیاء کے تذکر ہ کی ترغیب دی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جا ویں جن سے تو حید میں خلل واقع ہو تو وہ جا ئز نہیں ۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔ آج کل کے مولودوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہو تے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں ۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے ۔ آنحضرت ﷺکی بعثت، پیدائش اور وفات کا ذکر ہوتوموجب ثواب ہے۔ ہم مجاز نہیں ہیں کہ اپنی شریعت یاکتاب بنا لیویں ۔

بعض ملا ں اس میں غلوکر کے کہتے ہیں کہ مولودخوانی حرام ہے ۔اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کر وگے ؟ کیونکہ جس کا ذکر زیا دہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہو تی ہے ۔

مولود کے وقت کھڑا ہو نا جائز نہیں ۔ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہو تاہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح آگئی ہے بلکہ ان مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بد معاش لوگ ہو تے ہیں وہا ں آپ کی روح کیسے آسکتی ہے اوریہ کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے ؟وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ(بنی اسرائیل :37)دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیے ۔جب تک وہابی جو کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے۔ انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے ۔جب کسی نبی، ولی کا ذکر آجاوے تو چِلَّا اٹھتے ہیں کہ ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے؟انہوں نے انبیاء کے خوارق سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہا ، دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتیٰ کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا ۔ہم نہیں کہتے کہ انبیا ء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو ۔خدا تعا لیٰ بارش بھیجتا ہے ہم تواس پر قادر نہیں ہو تے مگر با رش کے بعد کیسی سرسبزی اورشادا بی نظر آتی ہے ۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی با رش ہے۔

پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرا بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے مگر سب کی قیمت الگ الگ ہو تی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں۔انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا ہو تا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا ۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہو گا بلکہ خدا نے تووعدہ کیا ہے کہ جواُن سے محبت کرتا ہے وہ انہیں میں سے شمار ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہو گا جس میں صرف میں ہی ہو ں گا۔ایک صحا بی روپڑاکہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے مَیں کہاں ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔پس سچی محبت سے کام نکلتا ہے۔ایک مشرک ہرگز سچی محبت نہیں رکھتا۔…

…جب تک انسان برا ہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تعا لیٰ تک پہنچ نہیں سکتا جو شخص خدا تعالیٰ پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجاوے۔

دوسر ے گروہ میں سوائے قبرپر ستی اور پیرپرستی کے کچھ روح با قی نہیں ہے ۔قرآن کو چھوڑدیا ہے۔خدا نے امت وسط کہا تھا، وسط سے مراد ہے میانہ رَو۔ اور وہ دونوں گروہ نے چھوڑدیا۔ پھر خدا فر ما تا ہے اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ(آل عمران :32)کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قر آن پڑھا تھا ؟اگر آپؐ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے ہا ں آنحضرت ﷺ نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپؐ اس پر روئے بھی تھے ۔جب یہ آیت آئی وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓوُلَا ءِ شَھِیْدًا(النساء:42)آپؐ روئے اور فرمایا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا ۔آپ کو اپنے گواہ گزرنے پر خیال گزرا ہو گا۔ ہمیں خودخواہش رہتی ہے کہ کو ئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں ۔آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کا م کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے ۔سچے مو من کے واسطے کا فی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کا م آنحضرت ﷺ نے کیا ہے کہ نہیں ۔اگر نہیں کیا تو کر نے کا حکم دیا ہے کہ نہیں؟ حضر ت ابراہیم ؑ آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولودنہ کروایا؟’’(بدر 27؍مارچ 1903ء صفحہ 73۔74)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دَور خلافت میں جب ایک آریہ سماجی راجپال نے ‘‘رنگیلا رسول’’نامی کتاب شائع کی اور اس میں مقدس بانی اسلامﷺکی نسبت نہایت درجہ دلخراش اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں جس پر حکومت کی طرف سے مقدمہ چلا۔ یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا کہ امرتسر کے ہندورسالہ ‘‘ورتمان’’نے مئی 1927ء کی اشاعت میں ایک بے حد دلآزار مضمون شائع کیا جس میں ایک آریہ دیوی شرن شرمانے افسانوی صورت میں آنحضرتﷺ کے خلاف یہ دکھانے کی کوشش کی کہ (معاذاللہ) مبتلائے عذاب ہیں اور اس کی وجہ (نعوذباللہ من ذالک)شہوت رانی ہے اس شرمناک فسانہ میں حضور ﷺاور حضور ﷺکے مقدس اہل بیت کے نام بھی بگاڑ کر پیش کیے گئے تھے۔

اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے جہاں اپنے مومنانہ رد عمل کا اظہار فرمایا وہیں مومنوں کی رہ نمائی بھی کی اور حکومت کوبھی اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری کارروائی کی طرف توجہ دلائی ۔قرآن و حدیث کی رہ نمائی میں اس مسئلے کے حل کے لیے آپ ؓنے آنحضرت ﷺکی سیرت مبارکہ کو عام کرنا تجویز کیا اور فرمایا:

‘‘لوگوں کو آپ ﷺپر حملہ کرنے کی جرأت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ آپؐ کی زندگی کے صحیح حالات سے نا واقف ہیں یا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ نا واقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریمﷺ کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ ؐکے حالات زندگی اور آپ ﷺکی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ ﷺکے متعلق زبان درازی کرنے کی جرأت نہ رہے۔’’

(الفضل 13-10جنوری 1928ء-خطبات ِمحمود جلد نمبر 11صفحہ نمبر 271)

اس مقصد کے لیے آپؓ نے ایک مقررہ تاریخ پرملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کےہمہ گیر جلسوں کے انعقاد کروا نے کا اعلان کیا اور اس سلسلہ میں حضورؓ نے ابتدائی مرحلہ میں فوری رنگ میں یہ تجویز کی کہ ‘‘مسلم آؤٹ لک’’کے مدیر و مالک کی قید کے پورے ایک ماہ بعد یعنی 22؍جولائی 1927ء کو جمعہ کے دن ہر مقام پر جلسے کیے جائیں جن میں مسلمانوں کو اقتصادی اور تمدنی آزادی سے متعلق آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔ نیزاس دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کا کام اپنے ہاتھ میں لے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی اس آواز پر جو آپ ؓنے قادیان سے بلند کی تھی پورا ہندوستان گونج اٹھا اور جیسا کہ آپؓ نے تحریک پیش کی تھی22؍جولائی کو مسلمانان ہند نے ہر جگہ کامیاب جلسے کیے اور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ان تاریخ ساز جلسہ ہائے سیرت النبی ﷺ کی وجہ آغاز اور ہماری ذمہ داریوں کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ

‘‘خلافت ثانیہ میں ایک انتہائی بے ہودہ کتاب‘‘رنگیلا رسول’’کے نام سے لکھی گئی۔ پھر ایک رسالے ‘‘ورتمان’’ نے ایک بےہودہ مضمون شائع کیا جس پر مسلمانان ہند میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ ہر طرف مسلمانوں میں ایک جوش تھا اور بڑا سخت رد عمل تھا۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسیح الثانی نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ‘‘اے بھائیو! میں درد مند دل سے پھر کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑپڑتا ہے۔ وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے’’۔ اب یہ حدیث کے مطابق ہے غصہ کو دبانے والا اصل میں بہادر ہوتا ہے۔فرمایا کہ ‘‘بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اسے پورا نہ کرے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔’’آپؓ نے فرمایا اسلام کی ترقی کے لیے تین باتوں کا عہد کرو۔ پہلی بات یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ پہلے خود اپنے عمل ٹھیک کرو۔ دوسرے یہ کہ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے۔ اسلام کی تعلیم دنیا کے ہر شخص کو پتہ لگے۔ آنحضرت ﷺکی خوبیاں، محاسن خوبصورت زندگی پتہ لگے، اُسوہ پتہ لگے۔ تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لیے پوری کوشش کریں گے۔اب ہر ایک مسلمان کا عام آدمی کا بھی لیڈروں کا بھی فرض ہے۔ اب دیکھیں باوجود آزادی کے یہ مسلمان ممالک جو آزاد کہلاتے ہیں آزاد ہونے کے باوجود ابھی تک تمدنی اور اقتصادی غلامی کا شکار ہیں۔ ان مغربی قوموں کے مرہون منت ہیں ان کی نقل کرنے کی طرف لگے ہوئے ہیں۔ خود کام نہیں کرتے زیادہ تر ان پر ہمارا انحصار ہے۔ اور اسی لیے یہ وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے جذبات سے یہ کھیلتے بھی رہتے ہیں۔ پھر آپؓ نے سیرۃ النبیﷺ کے جلسے بھی شروع کروائے۔ تو یہ طریقے ہیں احتجاج کے، نہ کہ توڑ پھوڑ کرنا فساد پیدا کرنا۔ اور ان باتوں میں جو آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کی تھیں سب سے زیادہ احمدی مخاطب ہیں۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ10؍فروری2006ء۔خطباتِ مسرورجلد4صفحہ 82-81)

سیرت النبیﷺ منانے کے متفرق طریق

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گلشنِ وقفِ نَو (خُدّام)کلاس منعقدہ مؤرخہ 10؍اپریل 2011ء میں عید میلادالنبی کے حوالے سے فرمایا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ہم عید میلاد النّبیؐ اس طرح تو نہیں مناتے کہ حلوے،مانڈے بانٹے جائیں اور جلوس نکالے جائیں ۔ دو مختلف فرقوں کے جُلوس نکل رہے ہوں ۔ آپس میں clash ہو جائے تو لڑائیاں ہو جائیں ۔ قتل ہو جائے،جس طرح بعض جگہوں پہ ہوتا ہے ۔لیکن ہم بعض معاملات میں زیادہ ہی rigid ہو گئے ہیں کہ شاید عید میلاد النّبیﷺمنانا بالکل غلط ہے اور خدانخواستہ گناہ والی بات ہے ۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ۔

حضور انور نے فرمایا کہ قادیان میںعید میلاد النّبیؐ،عید والے دِن منائی جاتی تھی ۔1933ء کی رپورٹس میںاس کا ذکر ملتا ہے ۔ باقاعدہ ایک جُلوس processionہوتا تھا ۔ چراغاں بھی ہوا کرتا تھا ۔ گھروں میں لوگ لائٹیں بھی لگایا کرتے تھے ۔ ربوہ میں بھی ہوتا رہا ہے ۔ بعض دفعہ قادیان میں جھنڈیاں بھی لگائی جاتی تھیں ۔
ایسی چیزیں جو بِدعت بن جائیں،نئی نئی باتیں ہو جائیں وہ تو منع ہیں لیکن یہ کہنا کہ بالکل ہم منا ہی نہیں سکتے (یہ غلط ہے)۔

اگر کہیں ایسا ماحول ہو جو غیروں کا ماحول ہو اُن میں اگر آنحضرت ﷺ کی پیدائش کااِظہار کرنا ہو،کیونکہ آپ ؐ کی پیدائش بھی حضرت ابراھیمؑ کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھی اُس لحاظ سے بھی منایا جا سکتا ہے ۔
پھر سیرت النّبی ﷺ کے حوالہ سے بھی منایا جا سکتا ہے۔ لیکن اُس میں ایسی باتیں پیدا کر لینا جس کا اسلام کی تعلیم سے تعلق نہیں وہ غلط ہے ۔

حضور انور نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ ربوہ میں میلاد النّبیؐ کے حساب سے جلسے بھی ہوتے تھے ۔ چراغاں بھی ہوتا تھا ۔ قادیان میں بھی ہوتا تھا ۔ مَیں ایک غلط فہمی کو removeکرنا چاہتا تھا کہ ایسابھی نہیں ہے کہ خدانخواستہ ہم سیرۃ النّبیؐ،میلاد النبیؐ منا لیں گے تو گناہ ہو جائے گا ۔ بعض حالات میں بعض لوگوں کو بعض ملکوں میں دِکھانے کے لیے منائی بھی جاتی ہے …۔

قادیان میں بھی 1928ء میں بھی 1933ء میں بھی اُس کے بعد میں بھی مختلف جلسوں کی رپورٹس الفضل میں ملتی ہیں کہ عید میلاد النبیؐ منائی گئی ۔ سیرۃ النّبیؐ کے جلسے کیے گئے ۔ جُلوس بھی نکلا بازاروں میں اور پھر جلسے ہوئے ۔ لڑائیاں نہیں ہوئیں جیسے آج کل ہوتی ہیں ۔ اسی طرح ربوہ میں بھی لوگ چراغاں کرتے تھے ،گھروں کو سجاتے تھے ۔

(ماخوز ازگلشنِ وقفِ نَو (خُدّام) 10؍ اپریل 2011ء)

مروّج عید میلاد النبی ؐکی مختصر تاریخ اور سیرت النبیﷺ کو منانے کا درست طریق

عید میلاد النبی موجودہ مروّج شکل میں منانے کی تاریخی حقیقت اور اس کو صحیح طور پر منانے کی بابت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ 13؍مارچ 2009ء میں فرماتے ہیں کہ:

‘‘بعض لوگ جو ہمارے معترضین ہیں، مخالفین ہیں، ان کا ایک یہ اعتراض بھی ہوتاہے ۔مجھے بھی لکھتے ہیں ، احمدیوں سے بھی پوچھتے ہیں کہ احمدی کیوں یہ دن اہتمام سے نہیں مناتے؟… اصل میں احمدی ہی ہیں جو اس دن کی قدر کرنا جانتے ہیں…پہلے مَیں یہ بھی بتا دوں کہ مولود النبیؐ جوہے، یہ کب سے منانا شروع کیا گیا۔ اس کی تاریخ کیا ہے؟مسلمانوں میں بھی بعض فرقے میلاد النبیؐ کے قائل نہیں ہیں۔

اسلام کی پہلی تین صدیاں جو بہترین صدیاں کہلاتی ہیں ان صدیوں کے لوگوں میں نبی کریم ؐسے جو محبت پائی جاتی تھی وہ انتہائی درجہ کی تھی اور وہ سب لوگ سنت کا بہترین علم رکھنے والے تھے اورسب سے زیادہ اس بات کے حریص تھے کہ آنحضرت ؐکی شریعت اور سنت کی پیروی کی جائے۔ لیکن اس کے باوجود تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کسی صحابیؓ یا تابعی جو صحابہؓ کے بعد آئے، جنہوں نے صحابہؓ کو دیکھا ہوا تھا، کے زمانے میں عیدمیلادالنبیؐ کا ذکر نہیں ملتا۔ وہ شخص جس نے اس کا آغاز کیا، اس کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ عبداللہ بن محمد بن عبداللہ قداح تھا۔ جس کے پیرو کار فاطمی کہلاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اس کا تعلق باطنی مذہب کے بانیوں میں سے تھا۔ باطنی مذہب یہ ہے کہ شریعت کے بعض پہلو ظاہر ہوتے ہیں، بعض چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی یہ اپنی تشریح کرتے ہیں۔ ان میں دھو کے سے مخالفین کو قتل کرنا، مارنا بھی جائز ہے اور بہت ساری چیزیں ہیں اور بے انتہا بدعات ہیں جو انہوں نے اسلام میں داخل کی ہیں اور ان ہی کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔

پس سب سے پہلے جن لوگوں نے میلاد النبی ؐ کی تقریب شروع کی وہ باطنی مذہب کے تھے اور جس طرح انہوں نے شروع کی وہ یقینا ًایک بدعت تھی۔ مصر میں ان کی حکومت کا زمانہ 362ہجری بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اَوربھی بہت سارے دن منائے جاتے تھے ۔ یوم عاشورہ ہے۔ میلاد النبیؐ تو خیر ہے ہی۔ میلاد حضرت علیؓ ہے۔ میلاد حضرت حسنؓ ہے۔ میلاد حضرت حسینؓ ہے۔ میلا د حضرت فاطمۃ الزہرا ؓہے۔ رجب کے مہینے کی پہلی رات کو مناتے ہیں۔درمیانی رات کو مناتے ہیں۔ شعبان کے مہینے کی پہلی رات مناتے ہیں۔پھر ختم کی رات ہے۔ رمضان کے حوالے سے مختلف تقریبات ہیں اور بے تحاشا اَور بھی دن ہیں جو مناتے ہیں اور انہوں نے اسلام میں بدعات پیدا کیں ۔ جیسا کہ مَیں نے کہا مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو بالکل اس کو نہیں مناتے اور عید میلا دالنبیؐ کوبدعت قرار دیتے ہیں ۔یہ دوسرا گروہ ہے جس نے اتنا غلو سے کام لیا کہ انتہا کر دی۔

بہرحال ہم دیکھیں گے کہ اس زمانے کے امام نے جن کو اللہ تعالیٰ نے حکم اور عدل کرکے بھیجا ہے انہوں نے اس بارے میں کیا ارشاد فرمایا۔

ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مولو د خوانی پر سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ
‘‘آنحضرت ؐکا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اور اولیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خود خد انے بھی انبیاء کے تذکرہ کی ترغیب دی ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔ آج کل کے مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں۔ اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تووہ ایک وعظ ہے۔ آنحضرت ؐ کی بعثت، پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۔ہم مجاز نہیں کہ اپنی شریعت یا کتاب بنا لیویں’’

(ملفوظات جلد سوم صفحہ160-159)

آنحضرت ؐ کی سیرت اگربیان کرنی ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن آج کل ہوتا کیا ہے؟ خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں ان جلسوں کو سیرت سے زیادہ سیاسی بنا لیا جاتا ہے، یا ایک د وسرے مذہب پہ یا ایک دوسرے فرقے پہ گند اچھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے…

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کے تسلسل میں کیا فرماتے ہیں،مَیں آگے پیش کرتاہوں۔فرمایا کہ محض تذکرہ آنحضرت ؐکا عمدہ چیز ہے۔‘‘اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپؐ کی اتباع کے لیے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے’’(ملفوظات جلد سوم صفحہ 159حاشیہ ۔جدید ایڈیشن )‘‘قرآن شریف میں بھی اس لیے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْراھِیْمَ(مریم:42)’’(ملفوظات جلد سوم صفحہ 159حاشیہ )

‘‘لیکن ان تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں’’۔ فرمایا کہ ‘‘یہ یاد رکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔مولو د کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملا لی گئی ہیں۔ جس میں ایک جائزاور موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔ آنحضرت ؐ کا تذکرہ موجب رحمت ہے مگر غیر مشروع امور و بدعات منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔ ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خود شریعت بناتا ہے۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ160جدید ایڈیشن)

اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت ؐکا تذکرہ ہی حرام ہے۔(نعوذ باللہ)۔ یہ ان کی حماقت ہے۔‘‘آنحضرت ؐ کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بےباکی ہے۔ جبکہ آنحضرت ؐ کی سچی اتباع خداتعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی تحریک ہوتی ہے۔ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔’’
‘‘ ہاں جو لوگ مولود کے وقت کھڑے ہوتے ہیں اوریہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت ؐ ہی خود تشریف لے آئے ہیں’’۔ (یہ بھی ان کا ایک طریق کار ہے۔ جلسہ ہوتا ہے مولود کی محفل ہو رہی ہے، اس میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجلس بیٹھی ہوئی ہے تقریر کرنے والا مقرر کچھ بول رہا ہے، کہتا ہے آنحضرت ؐ تشریف لے آئے اور سارے بیٹھے ہوئے لوگ کھڑے ہو گئے)فرمایا کہ یہ جو ‘‘خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت ؐ تشریف لے آئے ہیں۔ یہ اُن کی جرأت ہے۔ ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ ہیں’’۔(لوگ تو ایسے بیٹھے ہوئے ہیں جو نماز بھی پانچ وقت نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ بعض تو نمازیں بھی نہیں پڑھنے والے ہوتے، عید پڑھنے والے ہوتے ہیں صرف یا صرف محفلوں میں شامل ہو جاتے ہیں)۔ فرمایا کہ ‘‘کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ ، سودخور اور شرابی ہوتے ہیں۔ آنحضرت ؐ کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق؟ اور یہ لوگ محض ایک تماشہ کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں، پس اس قسم کے خیال بیہودہ ہیں’’

(ملفوظات جلد سوم صفحہ160-159 حاشیہ )

جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرتؐ کی عظمت کو دل میں جگہ نہیں دیتا وہ بے دین آدمی ہے۔‘‘انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔ خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ دنیا کے لیے اس میں برکات ہوتے ہیں۔ اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔ اولیاء اورانبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے’’

(ملفوظات جلد سوم صفحہ161جدید ایڈیشن)

…پس اصل بات یہ ہے کہ آنحضرتؐ کا تذکرہ میرے نزدیک جیسا کہ وہابی کہتے ہیں حرام نہیں بلکہ یہ اتباع کی تحریک کے لیے مناسب ہے۔ جو لوگ مشرکانہ رنگ میں بعض بدعتیں پیدا کرتے ہیں وہ حرام ہے۔

اسی طرح ایک شخص نے سوال کیا تو اس کو آپؑ نے خط لکھوایا اور فرمایا کہ میرے نزدیک اگر بدعات نہ ہوں اور جلسہ ہو اس میں تقریر ہو، اس میں آنحضرتؐ کی سیر ت بیان کی جاتی ہو، آنحضرتؐ کی مدح میں کچھ نظمیں خوش الحانی سے پڑھ کے سنائی جائیں وہاں تو ایسی مجلسیں بڑی اچھی ہیں اور ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کس طرح اپنی اس عشق و محبت کی جو محفلیں ہیں ان کو سجانا چاہتے ہیں یا اس بارہ میں ذکر کرنا چاہتے ہیں، فرماتے ہیں:‘‘خدافرماتاہے اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ(آل عمران:32 )’’کہ اگر اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ یہ قرآن کریم کی آیت ہے۔ فرمایا کہ‘‘کیا آنحضرت ؐنے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟’’ (آج کل کے یہ مولوی مجلسیں کرتے ہیں۔ محفلیں کرتے ہیں تو اس قسم کی بدعات کرتے ہیں کہ اس کے بعد روٹیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ قرآن پڑھا گیا تو یہ مولود کی روٹی ہے۔ بڑی بابرکت روٹی ہو گئی۔ تو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اللہ سے محبت کرنی ہے تو آنحضرت ؐ کی پیروی کرو اور آنحضرت ؐ کی اگر پیروی کرنی ہے تو کیا کہیں یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا؟)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ‘‘اگر آپؐ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے۔ ہاں آنحضرت ؐ نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپؐ اس پر روئے بھی تھے۔ جب یہ آیت وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَآءِ شَہِیْدًا (النساء:42)’’ (اور ہم تجھے ان لوگوں کے متعلق بطور گواہ لائیں گے۔ قرآن سنا ضرور کرتے تھے اور اس پر آپؐ جب یہ آیت آئی کہ آپؐ گواہ ہوں گے تو آپؐ اس پر رو پڑے۔یہ رونا اصل میں آپؐ کی عاجزی کا انتہائی مقام اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح یہ مقام آپؐ کو عطا فرمایا)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں اس سے‘‘آپؐ روئے اور فرمایا بس کر مَیں اس سے آگے نہیں سن سکتا۔ آپؐ کو اپنے گواہ گزرنے پر خیال گزرا ہو گا’’(ملفوظات جلد سوم صفحہ 162)

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ‘‘ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں’’۔ یہ ہے اتباع آنحضرت ؐکی۔ پھر لکھتے ہیں کہ ‘‘آنحضرت ؐ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔ سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت ؐ نے کیا ہے کہ نہیں ؟ اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ حضرت ابراہیم ؑ آپؐ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے۔ کیا وجہ کہ آپؐ نے ان کا مولود نہ کروایا؟’’(ملفوظات جلد سوم صفحہ 162)

آنحضرتؐ نے ان کی پیدائش کا دن نہیں منایا۔

بہرحال خلاصہ یہ کہ مولود کے دن جلسہ کرنا، کوئی تقریب منعقد کرنا منع نہیں ہے بشرطیکہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعات نہ ہوں۔ آنحضرتؐ کی سیرت بیان کی جائے۔ اور اس قسم کا(پروگرام)صرف یہی نہیں کہ سال میں ایک دن ہو۔ محبوب کی سیرت جب بیان کرنی ہے تو پھر سارا سال ہی مختلف وقتوں میں جلسے ہو سکتے ہیں اور کرنے چاہئیں اور یہی جماعت احمدیہ کا تعامل رہا ہے، اور یہی جماعت کرتی ہے۔ اس لیے یہ کسی خاص دن کی مناسبت سے نہیں، لیکن اگر کوئی خاص دن مقرر کر بھی لیا جائے اور اس پہ جلسے کیے جائیں اور آنحضرت ؐ کی سیرت بیان کی جائے بلکہ ہمیشہ سیرت بیان کی جاتی ہے ۔ اگر اس طرح پورے ملک میں اور پوری دنیا میں ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ بدعات شامل نہیں ہونی چاہئیں ۔کسی قسم کے ایسے خیالات نہیں آنے چاہئیں کہ اس مجلس سے ہم نے جوبرکتیں پالی ہیں ان کے بعد ہمیں کوئی اور نیکیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیساکہ بعضوں کے خیال ہوتے ہیں۔ تو نہ افراط ہو نہ تفریط ہو۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13؍مارچ 2009۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3؍ اپریل 2009ء صفحہ 5تا 6)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 2

  1. الحمدو للّٰہ الفضل نا مساعد حالات میں بھی شائع ہوتا رہا یہ صرف خلافت ہی کی برکت سے ہوا ۰
    الفضل پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے اللہ تعلٰی الفضل کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور تمام کارکنان کو بہترین جزا عطا فرمائے ان کے مال اور نفوس میں برکت عطا فرمائے آمین ثم آمین

  2. Alfazal
    السلام وعلیکم ورحمة اللہ
    جرمنی بھر میں جلسہ ہائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منائے گئے اوپر کے اقتباسات سے یہ واضع ہوتا ہے یوم مولود منانا منع ہے مگر ایک راستہ نیک تذکرے کا کھلا ہے جس کا تعلق یوم مولود یا برتھ ڈے سے ہرگز نہیں بلکے دین کی خاطر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے پوری دنیا میں ایک ہی دن منانے کا ذکر بھی موجود ہے جو بہت اچھا ہے جیسے یوم مسیح موعود علیہ السلام یوم مصلح موعود رضی اللہ عنہ اسی طرح یوم رسولۖ منانا بھی انتہائی احسن کام ہے مگر ایک نقطہ اوپر کے اقتباسات سے واضع ہوتا ہے کہ یوم مولود یعنی پیدائش کا دن یعنی برتھ ڈے دنیاوی اغراض کے لئیے منانا جائز نہیں لیکن اوپر کے اقتباسات میں یوم پیدائش والے دن کو ہی جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد کرنا یاکسی اور دن منعقد کرنا ہر دو صورت میں جائز قرار دیا گیا ہے اور سال کے باقی دنوں میں بھی منقعد کرنا اور سال میں کئی بار منعقد کرنا اور پورے ملک میں ایک ہی دن اکٹھا جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد کرنا احسن ہے اور ایسے جلسے سال میں کئی بار منعقد کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے جس سے یہ بات تو قطعی واضع ہے کہ ہم جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش نہیں مناتے اور نہ ان بدعات کے قائل ہیں اس لئیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے سال میں ایک بار نہیں بلکہ بار بار ہوتے تھے اور ہوتے رہیں گے انشاءالله مگر ایک تاثر جو صرف برتھ ڈے منانے کا بعض دلوں پیدا ہو سکتا تھا اُس کا بہترین طریقہ سے مداوا ہوگیا ہے اور افراد جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا دل کھول کر تذکرہ کریں اور بار بار جلسہ ہائے سیرت منانے کی توفیق پائیں آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close