متفرق مضامین

’’دُرِّمکنون المعروف کلامِ احمد‘‘ اور اس کے مضامین کا مختصر تعارف

(ڈاکٹر کاشف علی۔ مربی سلسلہ ربوہ)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

مقدمہ

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و مرسلین کی صداقت کی ایک دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوے سے پہلے کی زندگی ایسی پاک و صاف ہوتی ہے کہ اشدترین مخالف بھی ان کے دعوے سے قبل ان کی زندگی پر انگلی نہیں اٹھا سکتے بلکہ کئی صورتوں میں ان کے مدّح ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو دعوے سے قبل تمام لوگ صادق و امین کہتے تھے۔اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دعوے سے قبل اسلام کا ایسا عظیم خادم کہا جاتا تھا کہ جس کی نظیر اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔

قرآن شریف نے اس دلیل کاآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی ذکر کیا ہے اور فرمایا: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ(یونس: 17) پس میں اس (رسالت)سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں،تو کیا تم عقل نہیں کرتے؟

یہ دلیل کسی مرَسل کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ جوشخص اپنی ساری جوانی ایسی پاک دامنی سے گزارے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی داغ نہ لگ سکے بلکہ ہر کوئی اس کی تعریف کرتا ہو تو یہ فطرت انسانی کے برخلاف ہے کہ یک دفعہ عمر کے ایسے حصے میں جب قویٰ ڈھلنا شروع ہوجاتے ہیں اور انسان دنیا سے زیادہ اپنی آخرت سنوارنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور اگلی زندگی کی تیاری کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے،تب وہ ناگہاں ایسا جھوٹ بولے کہ جھوٹ کی جتنی بھی قسمیں ہیں،ان میں سے بدترین قسم ہے یعنی خداتعالیٰ پر جھوٹ بولنا شروع کردے کہ خدا تعالیٰ میرے سے کلام کرتا ہے اور اس نے میرے سپرد دنیا کی اصلاح کا کام سونپا ہے یہ عقلی طور پرممکن ہی نہیں۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی اما م مہدی و مسیح موعود علیہ السلام نے دعوے سے قبل جو زندگی گزاری وہ ایسی پاک تھی کہ اس کی گواہی مخالفین نے بھی دی،فی الحال اس مضمون میں وہ گواہیاں پیش کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ اہل قلم اپنے قلم کے ذریعہ شہادت دیتے ہیں کہ ان کی زندگی کیسی تھی،ان کے قلم سے نکلے ہوئے مضامین بتاتےہیں کہ ان کی خواہشات اور تمنائیں کس جہان سے تعلق رکھنے والی تھیں۔حضرت امام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اپنے اعلان ماموریت سے قبل نثر اور نظم ہر دو طریق پر قلم فرسائی کی ،نثر میں خاص طور پر اسلام کا دفاع اور اس کی خوبیاں بیان کیں اور شعر میں جو شاعر کے دلی جذبات اور اس کی اندرونی حالت کی عکاسی کرتے ہیں ، ایسے مضامین بیان کیے ہیں جوآپ کے اللہ تعالیٰ سے بے پناہ عشق اور اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم سے والہانہ محبت اور انسانیت کو خدا کی طرف لانے کے بے انتہا جذبات کوظاہر کرتے ہیں۔

اس مضمون میں حضرت امام مہدی و مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منظوم کلام دُرِّمکنون کا تعارف اوراس میں بیان ہونے والے مضامین اور نمونے کے طور پر چند اشعار مع اردو ترجمہ پیش کیے جائیں گے۔

دیوانِ فرخ قادیانی

حضرت اقدس علیہ السلام دعویٰ مسیحیت سے قبل اپنے دلی جذبات و احساسات کو شعری انداز میں اپنی ڈائری میں قلم بند فرماتےتھے اور یہ ڈائری آپؑ نے ‘‘دیوان فرخ قادیانی ’’کے نام سے مرتب فرمائی جو آپؑ کی وفات کے آٹھ سال بعد دسمبر 1916 میں ‘‘دُرِمکنون ’’کے نام سے پہلی دفعہ طبع ہوئی۔

زمانہ تصنیف

اس مجموعۂ کلام کے زمانہ تصنیف کا یقینی تعین اس وقت نہیں کیا جا سکتا۔ سلسلہ احمدیہ کے پہلے مورخ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓکے نزدیک اس کا زمانہ تصنیف قیام سیالکوٹ کے دور سے شروع ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سیالکوٹ سے واپسی کے بعد۔ خود مجموعہ میں چار مقامات پر 17؍ اکتوبر 1873ء ۔ 31؍ اگست 1876ء ۔ 21؍ستمبر 1876 اور 16؍نومبر1888ء کی تاریخیں درج ہیں۔ لہٰذا قیاسات اور تخمینوں سے الجھے بغیر علیٰ وجہ البصیرت کہا جا سکتا ہے کہ یہ مجموعہ 1873ء سے 1888ء تک کے پندرہ سالہ عرصہ پرمحیط ہے۔

ان اشعار کہنےکا مقصد

حضور اقدس علیہ السلام نے جو بھی اشعار اس مجموعۂ کلام میں لکھے اس کے متعلق آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ میں نے اپنے خداتعالی کی خاطر اور اس کی رضاحاصل کرنے کے لیے لکھا۔ حضور اقدس اپنے دو شعر وںمیں فرماتے ہیں:

ہر چہ گفتم برای او گفتم

بر مرادِ رضای او گفتم

جو بھی میں نے کہا ہے اس (خداتعالیٰ)کی خاطر کہا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی غرض سے کہا ہے۔

گر نیاید بہ گوشِ رغبت کس

ہست ما را رضای مولیٰ بس

اگر کسی کے کان کو (میرا کہا )اچھا نہیں لگتا (تو کوئی بات نہیں)ہمارے لیے تو(ہمارے)مولیٰ کی رضا ہی بہت ہے۔

در مکنون اور درثمین فارسی

یہاں اس نکتہ کا بیان خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے دعوے سے قبل اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرنے کے لیے جس زبان کا انتخاب کیا،وہ فارسی ہے اور تقریبا ًتین ہزار چارسو اشعار کہے ہیں اور دعوے کےبعد بھی حضور اقدس علیہ السلام نے اتنے ہی شعر کہے ہیں جو درثمین فارسی کے نام سے شائع شدہ ہیں۔درثمین فارسی کا ترجمہ تو حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے کیا ہے اس لیے احباب جماعت اس سے محظوظ ہوچکے ہیں اور ہوتے رہتےہیں لیکن درمکنون کا اردو ترجمہ ابھی تک جماعت کی طرف سے شائع نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ حضور اقدس علیہ السلام کے اس شاندار کلام سے باخبر ہیں۔اس لیے اس مضمون میں کوشش کی جارہی ہے کہ مختصر طور پر اس کا تعارف لکھاجائے تا کہ جو عشاق مسیح ہر وقت اس تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں اپنے معشوق کی کوئی بات پتا لگے،وہ اس کو پڑھ کراپنی علمی و عملی پیاس کو بجھانے کی کوشش کرسکیں۔ اور پھر الفضل کے شمارہ جات میں اگر اللہ نے چاہا تواس گراںقدر کلام کا ترجمہ سلسلہ وار شائع کیا جائے گا۔ان شاء اللہ

مضامین کا تعارف

اب در مکنون میں بیان ہونے والےمضامین کا مختصر تعارف اور بطور نمونہ منتخب اشعار کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:

الله تعالیٰ سے عشق

آپ شروع سے ہی اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا کرچکے تھے۔اس لیے ہر چیز میں اس کا جلوہ دیکھتے اور بعض اوقات اپنے قلبی احساسات کو شعر کے قالب میں بھی ڈھالتے۔درمکنون میں اس عشق کے اظہار کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں بطور مثال مندرجہ ذیل اشعار پیش ہیں:

دلبرا سوی خویش راہم دِہ

در حریمِ قدس پناہم دِہ

اےمیرے دلبر، مجھے اپنی طرف راہ دے، (اپنی) حریم قدس میں پناہ دے۔

بربایم چنان ز خویشتنم

کہ نیا بم خبر ز خود کہ منم

اپنی ذا ت کو ایسامٹادوں کہ مجھے اپنے متعلق خبر ہی نہ ہوکہ میرا وجود بھی ہے ۔

رہ نما سوی کوی پاکانم

ای بہ راہت فدا دل و جانم

پاک لوگوں کے کوچہ کی طرف میری راہنمائی کر، اےخدا تیری راہ میں میرے دل و جان فدا ہوں۔

ہمہ عالم ز تو گرفت نظام

ہمہ شی را بہ حکمِ تست قیام

سارے جہاں نے تیرے سے ہی نظام لیا، ہر چیز تیرے ہی حکم سے قائم ہے۔

مرجع جملہ شخص و چیز تویی

مظہر ہر وجود نیز تویی

ہر شخص اور ہر چیز کا مرجع تو ہی ہے (اور) ہر وجود کا مظہر بھی تو ہی ہے۔

کس برون نیست از مشیّتِ تو

ہمہ عالم گرفت رحمتِ تو

کوئی بھی شخص تیری مشیت سے باہر نہیں سارےعالم نے تجھ ہی سے رحمت حاصل کی ہے۔

رحمتی را ز حلم گشت اساس

رحمتی را ز عنف گشت لباس

(کبھی)تیرا حلم تیری رحمت کی بنیاد بنتاہے (اورکبھی) تیری رحمت سختی کے لباس میں نازل ہوتی ہے۔

حبس دیوانہ ای کہ نابینا

رحمتی ہست لیک جور نما

(جس طرح)ایسے دیوانے کو جو نابیناہے، قید کرنا (اس کے لیے)رحمت ہے اگرچہ (وہ قید) ظلم محسوس ہوتی ہے۔

من ندیدم وفا ز ہیچ بشر

جز خداوندِ اعظم و اکبر

میں نے کسی انسان سے وفا نہیں دیکھی بجز اللہ تعالی کےجو اعظم اور اکبر ہے

بود پایم بدوزخ افتادہ

ناگہان لطفِ او ندا دادہ

میرا پاؤں دوزخ میں گرا ہوا تھا کہ اچانک اس کے فضل و احسان نے(مجھے) آواز دے دی۔

ہر کہ یکسر بہ سوی او آید

درِ رحمت بروش بکشاید

جو کوئی بھی مکمل طور پر اس کی طرف آئے وہ اپنی رحمت کا دروازہ اس پر کھول دیتا ہے۔

آپ علیہ السلام کا عشق رسولﷺ

عشق الہٰی کے بعد سب سےاہم مضمون جس کی برکت سے عشق الہٰی نصیب ہوتا ہے عشق رسولﷺ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی منظوم و منثور تحریرات میں جس قدر اپنے آقا و مولا حضرت محمدمصطفیٰﷺ کے ساتھ عشق کا اظہار کیا ہےشاید ہی کسی اور نے اس قدروالہانہ اور مدلل انداز میں اس کا اظہار لکھا ہو، اس حوالہ سےدر مکنون میں سےکچھ منتخب کلام درج ذیل ہے:

ہر کہ در سایہ اش فراگردد

بخدا بہتر از ہما گردد

جو کوئی بھی اس کے سایہ تلے آجائے، خدا کی قسم وہ ہما سے بھی بہتر ہو جاتا ہے۔

فرقتِ یار برد ہوش از من

خاست یکبارگی خروش از من

اچانک میرے اندر (یار سے ملنے کا ایسا شدید)جوش و خروش اٹھا کہ اس یار کی جدائی نےمیرے ہوش و حواس کو سلب کردیا ۔

از جدایی چو نالہ ہا کردم

خلق و عالم گریست از دردم

جدائی کی وجہ سے جب میں بہت رویاا ور گڑگڑایا (تو اس رونے اور گڑگڑانے کی وجہ سے)تمام مخلوق اور جہان میرے درد پر رو دیے۔

چشمہ ہا از دو چشمِ من بچکید

عالمی را غمم بگریانید

میری دونوں آنکھوں سے چشمے پھوٹ پڑے اور ایک عالم کو میرے غم نے رلا دیا۔

از دو عالم رضای تو خوشتر

رنج بردن برای تو خوشتر

دونوں جہانوں (کے پانے)سے تیری رضا زیادہ اچھی ہے اور تیری خاطر تکلیف اٹھانا زیادہ تسکین بخش ہے۔

آپ علیہ السلام کا قرآن سے عشق

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے علاوہ آپ کو سب سے زیادہ عشق اس کلام سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پیارے آقا ومولاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارا اورآپ اپنے اس عشق کا اظہار کچھ اس انداز میں فرماتے ہیں کہ

چون کتاب خدایی را بیند

الفتِ آن کتاب بگزیند

وہ جب بھی الہٰی کتاب یعنی قرآن کریم کو دیکھتا ہے تو اس میں اس کتاب کی محبت بڑھ جاتی ہے۔

نامہِء یار خویش را خواند

چارۂ کارِ خویش را داند

وہ اپنے یار کے خط کو پڑھتا ہے(اور)اس کو اپنا چارہ سازسمجھتا ہے

از سر صدق و بندگی و نیاز

بوسد آن خطِّ مظہرِ اعجاز

وہ صدق ،عبودیت اور عاجزی کے ساتھ اس اعجاز کے مظہر خط کو چومتا ہے۔

بر سرِ دیدگانِ خود مالد

ہم بیادِ قصورِ خود نالد

(اور)اس کو اپنی آنکھوں پر مَلتا ہے (اور )اپنی کمزوریوں کو یاد کرکے روتا ہے۔

مست گردد بدیدنش یکبار

عشق بازی کند بہ نامہ یار

اسے ایک بار دیکھنے سے ہی بے کل ہوجاتا ہے۔(اس قدر)وہ اپنے یار کے خط سے عشق کرتا ہے۔

پھر آپ علیہ السلام قرآن شریف کی اعجازی تاثیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

آن نبینی کہ جذبۂ قرآن

زندہ کرد است یک گروہ جہان

کیا تو قرآن کی اس کشش کو نہیں دیکھتا کہ اس نے جہان کی ایک جماعت کو (مردہ حالت سے) زندہ کردیا ہے۔

از رہ فہم آن خور یکتا

صد ہزاران شدند مردِ خدا

اس یکتا خورشید کے فہم حاصل کرنے کی راہ سے لاکھوں لوگ مرد خدا بن گئے۔

از سرِ فہم آن گرش خوانی

بر تو افتد جلالِ ربّانی

اگر تو اس کو سمجھ کر پڑھے تو تجھ پرربانی جلال طاری ہوجائے گا۔

ہر کہ قرآن بخواند از اخلاص

از سرِ فہم معنیش چو اخلاص

جو کوئی بھی قرآن کو اخلاص سے پڑھے اور اخلاص سے اس کے معانی کو سمجھے

نیست ممکن کہ ہیبتِ باری

نشود بر خیالِ او طاری

(تو)یہ ممکن ہی نہیں کہ ہیبت باری اس کے افکار پر طاری نہ ہو۔

جملہ قرآن دوای علتِ ما است

چشم بکشا تصوّر تو کجا است

سارا قرآن ہماری بیماریوں کی دوا ہے۔ آنکھیں کھول تو کس خیال میں ہے۔

ہست منشورِ فضل تو قرآن

خنک آنکس کہ رفت بر فرمان

تیری فضیلت کا پروانہ قرآن ہے ۔مبارک وہ جو اُس کے فرمان پر عمل کرے۔

اسلام کی صداقت و حقانیت کا بیان اور ادیان دیگر کا رد

اللہ تعالیٰ نےابتدا سے ہی آپ کے اندر اسلام کی خدمت کا بے پناہ جوش و خروش رکھا تھا۔آپ اپنا اکثر وقت قرآن شریف پر غور و فکر اور دیگر ادیان کی آسمانی کتابوں کو پڑھنے اور دوسرے مذاہب کو پرکھنے میں گزارتے تھے۔دُرِّمکنون میں بھی آپ نے اپنے اشعار میں شرک، بت پرستی،ہندوؤں کے خدا کی حقیقت اور اس کا ردنیز الوہیت مسیح کار د کیا ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار درج ذیل ہیں:

فرخش سوی دوستی خواند

گر بفہمش نیاید او داند

فرخ دوستی کی طرف بلاتا ہے۔ اگر(میری بات) اس کی سمجھ میں نہ آئے تو وہ خود ذمہ دار ہے۔

این ہمان مردمانِ نا مردم

ہر زہ کردند راہ خود را گم

یہ وہی گھٹیا اور بیہودہ لوگ ہیں جو اپنی راہ گم کربیٹھے ہیں۔

ہندوان رام را خدا گویند

ہم ز نارائن این ہوس جویند

ہندورام کو خدا کہتے ہیں۔ (اور )نارائن سےبھی (یہی خدائی کی ) خواہش رکھتے ہیں ۔

ہم بایشر نہند این تہمت

نیز بر کشن اینچنیں تہمت

اور ایشر پر بھی یہی تہمت لگاتے ہیں اور کرشن پر بھی ایسی ہی تہمت لگاتے ہیں

چند بر خود نہید تہمت دین

چیست کفران گر است دین ہمین

کب تک تم اپنے اوپر دین کی تہمت لگاؤ گے، اگر دین یہی ہے تو پھر کفر کیا ہے۔

آن یہودانِ خارج از ایمان

بر عُزیر نہند این بہتان

وہ ایمان سے خارج شدہ یہود (بھی)عزیر پر یہی تہمت لگاتے ہیں ۔

چون نظر می کنیم بہ عیسائی

نیز وارد چنین برسوائی

جب ہم عیسائیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی اِسی وجہ سے رسوا ہوئے ہیں۔

ہر کہ آن زندہ راہمے داند

مُردگان را چرا خدا خواند

ہر وہ شخص جو زندہ خدا کو جانتا ہے وہ مردہ کو کیسے خدا کہہ سکتا ہے۔

ہر کہ مخلوق ہست و ہم فانی

حیف باشد کہ خالقش خوانی

ہر وہ جو مخلوق ہے اور فانی بھی، افسوسناک ہے اگر تو اسے خالق کہے۔

چون بہ دین دگر نظر بکنند

ہمہ تکذیب یکدگر بکنند

وہ جب کسی دوسرے دین کی طرف دیکھتے ہیں تو سب ایک دوسرے کی تکذیب کرنے لگ جاتے ہیں ۔

صحابہ کرام کؓی عظمت کا بیان

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مخلص و فدائی صحابہ کرام،اللہ تعالیٰ کی ذات کا نشان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کے لیے ایک معجزہ کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے حضور اقدس علیہ السلام نے ان سے بھی اپنے عشق کا اظہار کیا ہے اور ان کو دنیا کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

گر کنی بندگی بہ صدق و حضور

از در و بام تو بیارد نور

اگر تو صدق و اخلاص سے اُن کی غلامی اختیار کرےتو (یہ غلامی)تیرے در و بام پر نور کی بارش لے آئے گی۔

بشوندت ہمہ ثنا خوانان

برکابت دوند سلطانان

سب تیرے ثناخواں ہوجائیں گے اور بادشاہ تیرے ہمرکاب ہوکر دوڑیں گے۔

ہست این قومِ پاک را جاہے

کہ ندارد جہان بدوراہے

اس پاک جماعت کا ایسا مقام و مرتبہ ہے کہ دنیا اس تک نہیں پہنچ سکتی ۔

درد دلِ شان بتافت آن ایمان

کہ ابوبکرؓ داشت و عثمانؓ

اُن کے دل میں وہ ایمان چمکتا تھا جو کہ ابوبکرؓ اور عثمانؓ میں تھا۔

اندرون ہا منوّر و روشن

پاک وہم خرقۂ حسینؓ و حسنؓ

اُن کا باطن منور ،روشن ا ور پاک تھا اور وہ حسینؓ و حسنؓ کے ہم خرقہ تھے۔

سلوک کی راہیں

اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنے کے لیے بہت سے سلوک ہیں جو سالک کو طے کرنا ضروری ہوتے ہیں،کچھ کا تعلق ترک شر یعنی بدی سے بچنا ہے جیسے ترک حب دنیا، تکبرسے بچنا،نفس امارہ کو کچلنا،ہرقسم کے شرک سے خود کو بچاناا ور کچھ سلوک نیکیوں کے اختیار کرنے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی جامع تعریف یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی صفات کو اپنانے کی کوشش کرے اوراس طرح فنا و بقا و لقا کے مرتبہ تک پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کو دیکھے جو وہ اپنے اولیاء کے ساتھ رکھتا ہےاور اس طرح ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے معجزات اور نشانات کو دیکھ کر اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کو بچشم بصیرت دیکھ لیتا اوربہشت کا مزہ چکھ لیتا ہے۔حضور اقدس علیہ السلام نے اس کلام میں بہت ہی پرکشش انداز میں اس کوچہ کے قیمتی اسرار و رموز بیان کیے ہیں۔

حضور اقدس اور دیگر شعراء فارسی

حضرت اقدس علیہ السلام نے در مکنون میں ایک نظم میں دوسرے بزرگ فارسی زبان کے شعرا کا ذکر بڑی عزت اور احترام سے کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس زمانہ میںمیرے جیسا شاعر کوئی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے الہاماً فارسی میں آپ کے اس بات کے سچا ہونے کی گواہی دی ہے اور فرمایا ‘‘در کلام تو چیزی است که شعرا را دران دخلی نیست ’’یعنی تیرے کلام میں ایسی بات ہے کہ دوسرے شعرا اس سے عاجز ہیں۔ پس دنیا والے چاہے اس کلام کی قدر کریں یا نہ کریں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے کلام کے بے نظیر ہونے کی شہادت دے دی تو اب ہم احمدیوں کافرض ہے کہ اس اعلیٰ کلام کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ آپ کے کلام کا بے نظیرہونا اظہر من الشمس ہوجائے۔ آپ فرماتے ہیں:

کجا شد ثنائی کہ بروی ثنا است

نظامی کجا رفت و جامی کجا است

تعریف کے قابل ثنائی کہاں گیا،نظامی کدھرگیااور جامی کہاں ہے۔

کجا رفت فردوسی و انوری

کہ کردند در شعر پیغمبری

فردوسی و انور ی بھی کہاں گئے جنہوں نے شعر میں پیغمبری کی۔

کجا رفت خاقانی و عنصری

کہ بودند مر شعر را جوہری

خاقانی اور عنصری بھی کہاں گئے جو کہ شعر میں گراں قیمت پتھر کی حیثیت رکھتے تھے۔

کجا رفت آن شیخِ شیرین زبان

ہمان مصلح الدّین مہِ آسمان

اور وہ شیریں زبان بزرگ کہاں گیا۔ (ہا ں)وہی مصلح الدین جو آسمان کا چاند ہے۔

گذشتند و زیشان سخن ماند یاد

کہ بودند اندر سخن اوستاد

وہ سب گذرگئےاوران کا کلام یادگار رہ گیا کیونکہ وہ شعر وسخن کے استاد تھے۔

ہمہ بی نظیر اند در شاعری

خرد پروران در سخن پروری

وہ سب شاعری میں بے نظیر ہیں (اور)شعر کہنے میں خردپرور ہیں۔

نشد شاعری مثلِ شان در بلاد

کنون شاعر استم کہ مثلم مباد

دنیا میں ان جیسا کوئی شاعر پھرنہیں ہوا اب میں ایساشاعر ہوں کہ میری نظیر نہیں ملتی۔

کجا رفت آن خسرو اندر سخن

کہ می سوزد از سوز او جان و تن

شاعری میں وہ خسرو کہاں گیا جس کے سوز سخن سے جسم و جان پرسوز طاری ہوجاتا ہے۔

کجا رفت حافظ کہ دیوانِ او

دہد یاد از رفعتِ شانِ او

وہ حافظ کہاں گیا جس کا دیوان اس کی بلند شان کی یاد دلاتا ہے۔

رہِ راستی آورد در مقال

ازین اعتبار است افتد بفال

وہ ایسی سچائی پر مبنی بات کرتا ہے کہ اس کےکلام سے فال لی جاتی ہے۔

ان اشعار سے پتا لگتا ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام نے مذکورہ بالا سب فارسی کے بزرگ شعر ا کو پڑھا تھا اسی لیے ان کی اس قدر تعریف فرمائی ہے۔بہرحال،اس مضمون کو اس نکتہ پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لیے مامور کیا اور آپ کی دعوے سے قبل کی زندگی میں آپ کے افکار کا جائزہ لینا ہو تو دُرِّمکنون واحد کلام ہے جو منظوم صورت میں آپ نے لکھااور اگر کوئی منصف مزاج اس کلام کو پڑھے گا تو بخدا اس کے پاس چارہ ہی نہیں سوائے اس کے کہ گواہی دے کہ آپ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کے سچے عاشق اور اسلام کا سچا درد رکھنے والے اور انسانیت کو خدا کی طرف لانے کےلیے ایک خاص جوش اپنے دل میں رکھنے والےتھے۔اللہ تعالیٰ ہم احمدیوں کو توفیق دے کہ آپ کے کلام کی قدر کرنے کا جو حق ہے وہ حق اداکرنے والے ہوں اور آپ کے کلام کو پڑھ کر صرف علمی حظ اٹھانے والے نہ ہوں بلکہ جو اس کلام کا اصلی مقصد ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے رسول سے محبت وہ اپنے پیدا کرنے والے ہوں۔آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close