خطاب حضور انور

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم مجھے بھول گئے، میرے احکامات کو بھول گئے تو اپنی زندگی کی حقیقت کو بھول گئے

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2019ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

(فرمودہ 03؍اگست 2019ء بروزہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ (الحدید21)
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ (الحشر19)

یہ دو آیتیں میں نے تلاوت کی ہیں سورة الحدید کی اور حشر کی۔ پہلی آیت کا ترجمہ ہے کہ

اے لوگو! جان لو کہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل ہے اور دل بہلاوا ہے اور زینت حاصل کرنے اور آپس میں فخر کرنے اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں بڑائی جتانے کا ذریعہ ہے۔ اس کی حالت بادل سے پیدا ہونے والی کھیتی کی سی ہے جس کا اگنا زمیندار کو بہت پسند آتا ہے اور وہ خوب لہلہاتی ہے مگر آخر تُو اس کو زرد حالت میں دیکھتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ گلا ہوا چُورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں ایسے دنیا داروں کے لیے سخت عذاب مقرر ہے۔ اور بعض کے لیے اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضائے الٰہی مقرر ہے اور ورلی زندگی صرف ایک دھوکے کا فائدہ ہے۔

اور دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ

اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور چاہیے کہ ہر جان اس بات پر نظر رکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور تم سب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

میں اپنی باتیں، اصل موضوع شروع کرنے سے پہلے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے رپورٹ ملی ہے کہ یہاں بعض عورتیںتقریروں کے دوران بہت زیادہ باتیں کرتی رہتی ہیں ۔ خاص طور پر جو کرسیوں پر بیٹھی ہوئی ہیں ان کو احتیاط کرنی چاہیے۔ کرسیوں پر بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو آزادی ہے کہ جس طرح چاہیں اس طرح یہاں بیٹھیں اور باتیں کرتی رہیں۔ اس لیے آئندہ سے احتیاط کریں۔

آج دنیا اس قدر مادیت میں گھر چکی ہے کہ دین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دنیا کے عمومی اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک میں بیس پچیس فیصد سے زیادہ لوگ نہیں ہیں جو اپنے آپ کو دین سے منسوب کرتے ہیں اور جو دین سے منسوب کرتے بھی ہیں وہ بھی عملاً دین پر عمل کرنے والے نہیں ہیں۔ بڑی تیزی سے نہ صرف خدا تعالیٰ سے دور جا رہے ہیں بلکہ دین سے دور جا رہے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے وجود کے ہی انکاری ہیں۔ صرف اور صرف دنیا ان کا مطمح نظر ہے اور مسلم دنیا جو ہے اگر ہم اسے دیکھیں تو ان کی اکثریت بھی دینی تعلیم سے دور ہے، بدعات میں گھری ہوئی ہے۔ کہنے کو تو مسلمان ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی ایک موقعے پر فرمایا ہے کہ بڑے زور سے یہ کہتے ہیں کہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں لیکن عمل نہیں ہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 371)

آپ علیہ السلام کے زمانے سے اگر آج کا مقابلہ اور موازنہ کیا جائے تو اَور بھی بری حالت ہو چکی ہے۔ اسلامی اخلاق اور تعلیمات سے دور جا چکے ہیں لیکن احمدیت کی مخالفت کا معاملہ آئے تو کٹ مرنے اور جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ پس جہاں اسلام ہے تو فقط احمدیت کی مخالفت کا نام اسلام ہے اور نام نہاد علماء جن کی اپنی زندگیاں ہی ہر قسم کے گند سے ملوث ہیں اور جس کا اظہار مختلف میڈیا کے ذرائع سے بھی ہوتا رہتا ہے وہ ان کے لیڈر ہیں۔ لیکن بہرحال ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس بات سے ضرور غرض ہے اور ہونی چاہیے کہ دنیا کو آگ میں گرنے سے بچائیں، دنیا کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستے دکھائیں لیکن اس کے لیے یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم اپنے آپ کو اس کے لیے تیار پاتے ہیں؟ کیا ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو ماننے کے بعد اپنے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والا بنا رہی ہیں؟ کیا ہمارے عمل اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ہیں یا ہم بھی باوجود اپنے آپ کوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ منسوب کرنے کے دنیا کے لہو و لعب، کھیل کود اور دل بہلاووں اور بدعات کو دین پر ترجیح دے رہے ہیں۔

آج ہم یہاں اس لیے جمع ہیں اور جلسے پر ہر سال جمع ہوتے ہیں کہ اپنی روحانی، علمی اور اخلاقی حالتوں کو درست کریں۔ تو کیا ہم اس مقصد کے لیے یہاں جمع ہیں یا جلسے کے نام پر ایک سوشل gathering کے لیے جمع ہوئے ہیں؟ کیا ہم عورتیں بھی اور مرد بھی اس جلسے میں اس ارادے اور عہد کے ساتھ آئے ہیںکہ ہم نے اپنے اندر ان دنوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں ا ور انہیں پھر اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے یا صرف اپنے کپڑے اور زیور دکھانے کے لیے ہم یہاں موجود ہیں یا مرد صرف مجلسیں جمانے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ اگر تو ہم مثبت سوچیں رکھتے ہیں ا ور اس کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تو پھر تو ہم ان لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں ورنہ ہماری حالت بھی ان ہی لوگوں کی طرح ہے جو اس زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔

یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں خدا تعالیٰ اس مضمون کو بیان فرماتا ہے کہ دنیا عارضی ہے۔ اس کو مقصود بالذات نہ بناؤ۔ اس کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بناؤ۔ اسی کو سب کچھ نہ سمجھو۔ یہ تو دنیاداروں کا کام ہے جو دنیا کی چکاچوند کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل کود ہے، دل بہلاوے کے سامان ہیں۔ کیا ایک عقل مند انسان اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ وہ سارا دن لہو و لعب اور کھیل کود میں مصروف رہے اور کوئی کام نہ کرے۔ ہاں عارضی طور پر ہم اپنے اصل کاموں سے فارغ ہو کر ضرور کچھ وقت کھیل اور دوسرے مشاغل کر لیتے ہیں جو دماغی اور جسمانی صحت کو قائم رکھنے کے لیے ہیں ۔اور دنیا دار بھی یہ کرتے ہیں لیکن ایک دنیا دار انسان بھی کبھی ہر وقت کھیل کود اور تفریح میں مشغول نہیں رہے گا۔ اگر کھیل کود اور تفریح کے سامانوں میں مصروف رہے گا تو اپنی زندگی برباد کرے گا۔ گھر میں فساد ہو گا، بھوکا مرے گا۔ کئی عورتیں مجھے لکھتی ہیں کہ ہمارے خاوند سارا دن ٹی وی یا انٹرنیٹ پر بیٹھے فضول اور لغو پروگرام دیکھتے رہتے ہیں یا باہر پھر پھرا کر دوستوں میں بیٹھ کر آ جاتے ہیں کیونکہ یہاں حکومتوں کی طرف سے ان کو سوشل ہیلپ مل جاتی ہے۔ بیماری کے نام پر کچھ مل گیا، بڑھاپے کے نام پر کچھ مل گیا یا بڑھاپے سے پہلے ہی جوانی میں ہی چھوٹی موٹی چوٹیں لگیں تو اس کے نام پر مل گیا اور اس چیز نے ان کو سست بھی کر دیا ہے اور وقت ضائع کرنے لگ گئے ہیں۔ اور پھر اگر وقت ہے تو بجائے اس کے کہ دین کو دیں۔ اِدھر اُدھر کے فضول قسم کے پروگرام دیکھنے اور گپیں مارنے میں گزار دیتے ہیں۔ عورتوں کی طرف سے باقاعدہ بعض شکایتیں آتی ہیں کہ کوئی باقاعدہ کام نہیں کرتے۔ اس وجہ سے گھر میں ہر وقت فساد پڑا رہتا ہے۔ لیکن بہت کم ہیں جو یہ لکھیں کہ ہمارے خاوند دنیا داری میں پڑے رہتے ہیں۔ ان کا کام یا دنیا کمانا ہے یا فضول قسم کی تفریحی مصروفیات ہیں اور نماز قرآن کی طرف توجہ نہیں ہے۔ کہنے کو تو یہ مرد احمدی کہلاتے ہیں۔ کبھی ضرورت پڑے تو ڈیوٹیاں بھی دے دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے تعلق کا خانہ خالی ہے یا وہ توجہ نہیں ہے جو ایک احمدی کو ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مومن مرد اور عورت کے نیکیوں کے معیار دنیا داروں سے مختلف ہونے چاہئیں۔ صرف ظاہری کھیل کود اور ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ ہی کے پروگراموں کو یا دوستوں میں بیٹھ کر گپیں مارنے کو ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لہو و لعب نہ سمجھو کہ یہ کھیل کود میں پڑ گئے ہو بلکہ تمہارا صرف اور صرف دنیا کی فکر کرنا، دنیا کے کمانے میں ہی مصروف رہنا، دین کی طرف توجہ نہ دینا یہ بھی لہو و لعب ہے۔ اپنے کمانے میں اتنا محو ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اپنی عبادت کو ہی بھول جاؤ تو یہ ساری چیزیں ایسی ہی ہیں جیسے کہ لہو و لعب۔ پس ہم احمدیوں کو مرد ہوں اور چاہے عورتیں ہوں ہوش کرنی چاہیے، خدا تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ جیسا کہ کل بھی افتتاحی تقریب میں میں نے ذکر کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے ساتھ اگر بیعت کا اقرار ہے تو پھر اپنے عمل اس تعلیم کے مطابق بناؤ جو خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لیے بیان فرمائی ہے ورنہ بیعت کا دعویٰ صرف دعویٰ ہے۔ اس پر عمل نہ کر کےپھر اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہ کرو کہ ہم نے دعائیں بھی بہت کیں ،ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔

پس مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مردوں کو جب بھی کبھی موقع ملے یا میں نے پوچھا کہ تم دنیا میں اتنے پڑے ہوئے ہو اور دین کو بھول رہے ہو، بعض عورتیں شکایت بھی کرتی ہیں تو بعض مردوں کے یہ جواب ہوتے ہیں کہ ہماری بیوی کے مطالبات بہت زیادہ ہیں اور اس وجہ سے گھر میں ہر وقت جھگڑا بھی رہتا ہے۔ تُو تُو مَیں مَیں ہوتی رہتی ہے۔ بچوں پر بھی اس کا بُرا اثر پڑ رہا ہے اس لیے ہمیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور اس کام کی وجہ سے، مصروفیت کی وجہ سے ہم عبادت کی طرف، اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے۔ اوّل تو یہ عذر ہی لغو اور فضول ہے کہ وہ خدا تعالیٰ جو رزق دینے والا ہے اس کا یہ وعدہ ہے کہ جو میری طرف آئے گا میں اس کو رزق بھی دوں گا۔ کل بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات پڑھے تھے۔ اس کو اس لیے بھول جائیں اور اس کا حق ادا نہ کریں کہ ہماری بیوی کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے گویا کہ خدا تعالیٰ کے مقابلے پر بیوی کو لا رہے ہیں۔ ایسے مردوں اور عورتوںکو خدا تعالیٰ کا خوف کرنا چاہیے کہ یہ سوچ شرک کے برابر ہے۔ اور اگر ایسا شرک کرنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈریں۔ اور اگر مردوں کا الزام غلط ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسے جواب دینے والوں کی بیویوں کی اکثریت کی یہ سوچ نہیں ہے جس طرح مرد جواب دیتے ہیں کہ وہ خدا کو بھول کر اپنی بیویوں کا خیال رکھیں اور جن عورتوں کے بارے میں واقعی یہ بات صحیح ہے تو پھر وہ یاد رکھیں کہ ایک احمدی عورت کا یہ مقام نہیں ہے۔ احمدی عورت کو تو خدا تعالیٰ کا خوف کرتے ہوئے اس داغ کو اپنے سے دھونا چاہیے۔ عورت اگر چاہے تو اس صحیح یا غلط الزام کی اصلاح کر سکتی ہے۔ عورت اپنے خاوند کو کہے کہ تم دین کو چھوڑ کر جو دنیا مجھے کما کر دینا چاہتے ہو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح کرے کہ یہ دنیا دار کا کام ہے کہ ایسی باتیں ہوں کہ فلاں رشتے دار کا گھر ایسا ہے تم بھی ایسا گھر بناؤ یا ہمارے پاس اعلیٰ قسم کی کار ہونی چاہیے یا مجھے بڑی شرمندگی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ فلاں سہیلی شادی پر بہت اعلیٰ زیور پہن کر آئی ہوئی تھی اور میرے پاس معمولی زیور تھا یا فلاں عورت کا خاوند بھی تمہارے جیسا ہی ہے اور وہی کام کرتا ہے لیکن اس کی بیوی تو ڈیزائنر کے کپڑے پہنتی ہے۔ یہ لوگ جو یہ سب کچھ کرنے والے ہیں ان کے اندر خدا کا خوف نہیں ہوتا، ان کو غریب کا درد عموماً نہیں ہوتا اور ایک احمدی عورت یہ واضح کرے کہ میں ایسی خود غرض نہیں ہوں، واضح کرے کہ میری توجہ تو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی طرف ہے اور تم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر کے پھر جو تمہارے فرائض اور حقوق ہیں وہ ادا کرو۔

پس ہر عورت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ سب کچھ نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم مجھے بھول گئے، میرے احکامات کو بھول گئے تو اپنی زندگی کی حقیقت کو بھول گئے۔ سمجھتے ہو کہ دنیا کو پا کر ہم نے سب کچھ پا لیا حالانکہ تم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا بلکہ سب کچھ گنوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبصورت مثال سے ہمیں سمجھایا ہے۔ فرمایا ہے کہ مال اور اولاد کو فخر کا باعث نہ سمجھو۔ یہ تو صرف ظاہری زینت ہے اس کی مثال اس فصل کی طرح ہے جس کو بارش کا پانی خوب سرسبز کرتا ہے۔ بڑی خوبصورت لہلہاتی ہوئی فصل ہوتی ہے۔ پانی سے اس میں ظاہری طور پر بھی نکھار آتا ہے اور پھر یہ ایک موقعے پر آ کر زرد ہو جاتی ہے۔ اور جب فائدے کا وقت آتا ہے تو اس پر گرم ہوا چلتی ہے اور اسے چورا چورا کر کے ہوا میں بکھیر دیتی ہے۔ انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پس تم لوگ جو اس زندگی کے سامان کو، خوبصورت گھروں کو، خوبصورت کاروں کو، اپنے بینک بیلنس کو، جائیدادوں کو، اولادوں کو بڑائی کا ذریعہ سمجھتے ہو ان چیزوں سے آخر میں تمہارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنی جائیداد چھوڑی ہیں؟ کتنا مال چھوڑا ہے؟ کتنی اولاد چھوڑی ہے؟ پوچھے گا تو صرف یہ کہ تمہارے اعمال کیا تھے؟ کون کون سی پاک تبدیلیاں تم نے اپنے اندر پیدا کیں؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کیا؟ کیا تم نے اپنی اور اپنی اولاد کی عبادتوں کی حفاظت کے لیے کوشش کی؟ کیا تم نے اپنے خاوندوں کو کہا کہ مجھے تمہارے پیسے سے زیادہ تمہارا اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا پسند ہے؟ مجھے تمہارے لیے یہ پسند ہے کہ اپنے بچوں کے سامنے ایسا نمونہ بنو جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہو۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دین و دنیا کی جنتوں کی وارث بن گئیں ۔ اگر نہیں تو پھر ان گرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے خوفزدہ ہونے کا مقام ہے جو اسی طرح جھلسا کر ریزہ ریزہ کر دیتی ہیں جس طرح فصلوں کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہیں۔

مردوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں وہ سب کچھ صرف عورتوں کے ساتھ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہاں مومنوں کے لیے کہا ہے، دنیا والوں کے لیے کہاہے، اپنی مخلوق کے لیے کہا ہے، انسانوں کے لیے کہا ہے۔ مردوں کا یہ جواب انہیں ان گرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے بچانہیں سکے گا کہ میری بیوی بہت مطالبے کرتی تھی، میں مجبور تھا کہ اپنی نمازیں وقت پر ادا کروں یا پوری پانچ نمازیں بھی پڑھ سکوں یا اور اس لیے میں ادا نہیں کر سکا۔ پس مردوں کے لیے بھی خوف کا مقام ہے۔ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آ کر ان لوگوں میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جو آخرین کو پہلوں سے ملانے والے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر نیکی کی بات میں ان پہلوں کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے، ان کے پیچھے چلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے نمونے پر چلنے کی کوشش کریں گے تو یہ سوال نہیں ہوگا کہ بیوی نے مطالبہ کیا اور اس کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مجھے زیادہ کام کرنا پڑا اور میں اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کر سکا۔ یا بیوی کا یہ جواب نہیں ہو گا کہ یہ میرا خاوند میری بات نہیں مانتا اور وقت ضائع کرتا ہے، دنیا داری میں پڑا ہوا ہے اور میرا نام لگا دیتا ہے۔ ہاں اس زمانے میں ان پہلوں میں اگر شکایات تھیں تو یہ شکایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں کہ خاوند بیوی کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ یہ دن میں بھی اور رات میں بھی عبادت میں لگی رہتی ہے اور میرے حق ادا نہیں کرتی۔ یہ شکایت بیوی سے خاوند کو تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنی گھریلو ذمہ داریاں اور خاوند کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی نصیحت فرمائی۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 213 حدیث 11823 مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

اور عورت کی طرف سے اگر یہ شکایتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچیں کہ میں تیار ہو کر اپنا حلیہ ٹھیک کر کے اس لیے نہیں رہتی کہ میرے خاوند کو میرے سے کوئی غرض ہی نہیں ہے۔ وہ میری طرف دیکھتا ہی نہیں۔ رات کو وہ عبادت کرتا رہتا ہے، دن کو وہ روزے رکھتا ہے۔ میری طرف اس کی توجہ ہی نہیں ہے تو پھر کس کے لیے میں تیار ہوں؟ کس کے لیے میں بنوں اور سنوروں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد کو بلا کر کہا کہ میرے اُسوے پر چلو، میں عبادت بھی کرتا ہوں اور گھر کے اور بیوی کے حقوق بھی ادا کرتا ہوں۔ چنانچہ چند دن کے بعد وہ عورت دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو ملی تو بڑی تیار ہوئی ہوئی تھی بنی سنوری ہوئی تھی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ یہ تبدیلی کیسی ہے تو اس نے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بعد اب میرا خاوند میری طرف توجہ کرتا ہے اور اس لیے پھر میں نے بھی اپنا حلیہ درست کر لیا ہے۔

(مجمع الزوائد جلد 4 صفحہ 396 حدیث 7612 کتاب النکاح مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)

وہ عورتیں بنتی سنورتی تھیں تو فیشن کے لیے نہیں، دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں، دنیا سے متاثر ہوکر نہیں بلکہ اپنے گھروں میں ایک پاکیزہ ماحول بنانے کے لیے۔ پس یہ ایک احمدی عورت کا شیوہ ہونا چاہیے کہ میک اپ کر کے، بغیر پردے کے انہوں نے بازاروں میں نہیں پھرنا۔ اگر شادی سے پہلے بھی یہ لڑکیوں میں ہے تو صرف اپنے عورتوں کے ماحول میں یا اپنے محرم رشتے داروں کے سامنے تیار ہونا اور بننا سنورنا ہے۔ یہ نہیں کہ فلاں گھر کے ساتھ ہمارے فیملی تعلقات ہیں، فیملی دوست ہیں، ان کے گھر آنا جانا ہے اس لیے ان کے مردوں سے بھی پردے اور حجاب ختم ہو جائیں اور بن سنور کر ان کے سامنے پیش ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ حیاء عورت کا زیور ہے اور یہی وہ زینت ہے جس پر عورت کو فخر ہونا چاہیے نہ کہ دنیا کے کھیل کود اور بہلاوے کے سامان اور سوشل gathering اور غیر گھروں میں جا کر لڑکیوں کا راتوں کو رہنا کہ اس خاندان سے ہماری پرانی دوستی ہے۔ جب حجاب کھلتے ہیں تو پھر بے حیائیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہی کچھ ہم اس نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔

میں یہ باتیں کر رہا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ اگر یہاں کوئی پریس والے ہوں گے تو کہہ دیں گے کہ دیکھو عورت کے حقوق کی باتیں ہمارے سامنے کرتے ہیں لیکن اپنی لڑکیوں اور عورتوں پر اس طرح پابندی لگا رہے ہیں تو یہ جو بھی چاہے کہیں۔ اگر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے تو پھر ہم نے وہی کرنا ہے جو ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے۔ یہ بھی واضح کر دوں کہ چھوٹی عمر کے لڑکوں کا بھی راتوں کو باہر رہنا اسی طرح لغو ہے جس طرح لڑکیوں کا رہنا۔ لڑکوں کو بھی دوسروں کے گھروں میں تفریحی پروگراموں کے نام پر راتیں نہیں گزارنی چاہئیں۔ ماں باپ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ان قدروں کی حفاظت مرد اور عورت کریں گے تو اپنی دینی تعلیم اور اقدار پر بھی قائم رہیں گے۔ ہاں جہاں اللہ اور اس کے رسول نے یہ اجازت دی ہے کہ کچھ وقت کے لیے حجاب اتار دو یا غیر مرد کو چہرہ دکھا دو تو وہاں یہ جائز ہے۔ ڈاکٹر کے پاس یا رشتے کے وقت یا بعض اَور مجبوریوںکی وجہ سے اتارنا پڑتا ہے لیکن وہ مجبوریاں جائز ہونی چاہئیں۔ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی ہمیں تلقین کی گئی ہے۔ ان کے نمونے کیا تھے؟ عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا کیا نمونہ دکھایا کہ آپ نے ایک شخص کو یہ کہنے پر کہ فلاں جگہ میں رشتہ کر رہاہوں۔ آپؐ نے اسے فرمایا جاؤ اور اسے کہو کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے کہ رشتے سے پہلے میں آپ کی بیٹی کو دیکھ لوں۔ لڑکی کا باپ اس بات پر دروازے کے باہر آ کے بڑا ناراض ہوا کہ میں بالکل اپنی بیٹی کو تمہارے سامنے نہیں لاؤںگا۔ بیٹی یہ باتیں سن رہی تھی۔ گھر کے دروازے سے اپنا چہرہ باہر نکال کر کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے اور ان کا یہ حکم ہے تو میرا چہرہ دیکھ لو۔ مرد کا بھی تقویٰ دیکھیں کہ اس نے فوراً اپنی نظریں نیچی کر لیں کہ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا پاس اس قدر ہے، احترام ہے تو میں اس تقویٰ کی بنیاد پر ہی رشتہ طے کرنا چاہتا ہوں اور اب مجھے چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

(ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 39 صفحہ 140-141، خطبہ بیان فرمودہ 6 جون 1958ء)

پس یہ ہے ایک حقیقی مسلمان لڑکی کی شان اور اطاعت کا معیار اور یہ ہے ایک مسلمان لڑکے کے تقویٰ کا معیار کہ دین کو ہر صورت میں دنیا پر مقدم کیا۔ کیا ہمارے معیار یہ ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشتے کے وقت تم لڑکی کی شکل اور صورت دیکھتے ہو، اس کی دولت دیکھتے ہو، اس کا خاندان دیکھتے ہو، خوبصورت ہے، دولت مند ہے یا اچھے خاندان کی بیوی تمہیں ملے۔ لیکن فرمایا کہ اصل چیز جو تمہیں دیکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ تم یہ دیکھو کہ اس میں نیکی اور تقویٰ ہے۔ تم اس کا دین دیکھو۔

(صحیح البخاری کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین حدیث 5090)

اگر اس بات کا خیال ہمارے لڑکے اور لڑکیاں رکھیں تو پھر دنیاوی خواہشات اور زینت اور تفاخر کے بجائے دین دار لڑکوں کو لڑکیاں بھی پسند کریں گی اور لڑکے بھی دین دار لڑکیوں کو پسند کریں گے۔ ظاہری ساز و سامان اور خوبصورتی کے بجائے دین دار گھروں میں اور لڑکیوں کے ساتھ رشتے ہوں گے اور پھر ایسے معاشرے میں دوڑ دنیا کی زینت اور دولت اور تفاخر کے لیے نہیں ہو گی، اس کے پیچھے نہیں پڑے رہیں گے بلکہ دین میں بڑھنے کے لیے دوڑ ہو گی۔ اس کوشش میں ہوں گے کہ کون سا خاندان اور کون سا گھر دینی لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہے۔ ہمارے لڑکے جماعت کے اندر دین دار لڑکیاں تلاش کریں گے نہ یہ کہ ہم جب تک واقفیت نہ ہو، جب تک دوستی نہ ہوہم کس طرح رشتے کر سکتے ہیں؟ اور لڑکیوں میں بھی احساس پیدا ہو رہا ہے کہ لڑکے باہر رشتے کرتے ہیں۔ جو ایسا کرتے ہیں ان گھروں میں ان کی ماؤں کی تربیت صحیح نہیں ہے۔ کیوں بچوں، لڑکوں کے ذہنوں میں بچپن سے ہی نہیں ڈالا جاتا کہ تم نے نیک اور دین دار لڑکی سے رشتہ کرنا ہے۔ اگر مائیں اپنے بچوں کی تربیت، خاص طور پر لڑکوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ تمہیں دین دار لڑکی سے شادی کرنی چاہیے تو لڑکے بھی پھر دین پر قائم ہوں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ لڑکے کہیں کہ ہماری بیویاں تو دین دار ہوں اور ہم آزاد ہوں، جو چاہیں کرتے پھریں۔ دین دار لڑکی بھی پھر دین دار خاوند کو ہی تلاش کرے گی۔ وہ یہی چاہے گی کہ لڑکا بھی دین دار ہو۔ پس ہمارے لیے فخر کی جگہ ہمارا دین اور اس کے احکامات پر عمل ہونا چاہیے نہ یہ کہ فخر کی جگہ یہ ہو کہ ہم لہو و لعب اور دنیا دکھاوے میں پڑے ہوئے ہوں۔
ایک موقعے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بڑا انذار فرمایا ہے۔ اور اس بات پر فرمایا کہ عورتیں جو دنیا کی دنیاوی چیزیں ہیں ان کا لوگوں کے سامنے اظہار کرتی ہیں۔ فرمایا کہ جو عورت سونے کے زیور بناتی ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتی ہے اور اس کے لیے عورتوں یا مردوں کو دکھاتی ہے۔ صرف باہر نہیں دکھاتی بلکہ اپنی عورتوں کو بھی فخر سے دکھاتی ہے تو فرمایا کہ اس عورت کو عذاب دیا جائے گا۔ بڑا انذار ہے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الخاتم باب ما جاء فی الذھب للنساء حدیث 4237)

پس جیسا کہ پہلے بھی ایک صحابیہ کے حوالے سے ذکر ہوا ہے کہ بننا سنورنا، زیور پہننا اس نے اس لیے نہیں کیا کہ اس کے خاوند کی اس پر توجہ نہیں تھی۔ بننا سنورنا زیور پہننا منع نہیں ہے مگر اس پر فخر کرنا اور اس کا غیر ضروری اور نامناسب اظہار کرنا یہ غلط ہے۔ خوشی کے موقعے پر لڑکیاں عورتیں بنتی سنورتی ہیں اور یہ جائز ہے مگر اس کا اظہار صرف محرم رشتوں کے سامنے ہو نہ یہ کہ سڑکوں اور بازاروں میں پھریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے۔

(صحیح البخاری کتاب الایمان باب الحیاء من الایمان حدیث 24)

پس جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ عمل کریں گی یا مرد یہ نیک عمل کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت کی چادر کے نیچے آ جائیں گے جو ہر گرم ہوا سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے اور نہ صرف گرم ہواؤں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ ٹھنڈی خوش گوار ہواؤں سے پھر انسان فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔ پس اس کے لیے کوشش کی ضرورت ہے۔ دینی احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ شیطان سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی ضرورت ہے۔ شیطان نے تو آدم کی پیدائش سے ہی قسم کھائی ہوئی ہے کہ میں انسانوں کو ورغلاؤں گا۔ انہیں نیکیوں پر چلنے کی بجائے دنیا کی زینت اور چمک دکھاؤں گا۔ لہو و لعب میں مبتلا کروں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی یہی فرمایا کہ میں کسی کو زبردستی نیکیوں کی طرف نہیں بلاؤں گا۔ انسانوں کو کہہ دیا کہ تمہیں آزادی ہے، میرے احکامات پر عمل کرو یا شیطان کے پیچھے چلو لیکن یہ یاد رکھو کہ شیطان کے پیچھے چلنے والوں کو پھر دائمی جنتوں سے محروم رہنا پڑے گا۔ پس یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہیں یا شیطان کے پیچھے چل کر دین سے دور جانا چاہتے ہیں۔ دنیا کے عارضی سامانوں پر خوش ہونا چاہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی دائمی جنتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک احمدی کو مرد ہو یا عورت اس طرح اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آ کر آخرین میں شامل ہو کر پہلوں سے ملنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں یا کر رہی ہوں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر تم صحیح رنگ میں میری پیروی کرو گے تو پھر جو کچھ صحابہ نے دیکھا تم بھی دیکھو گے۔(درثمین اردو صفحہ 56)اور میری پیروی انہی احکامات پر چلنے میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ اس رہ نمائی پر عمل کرنے میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ یہ ورلی زندگی متاع الغرور ہے، دھوکے کا عارضی سامان ہے۔ پس عارضی سامان کے پیچھے ہم کیوں اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔

جو دوسری آیت میں نے تلاوت کی ہے وہ نکاح کے خطبے میں بھی پڑھی جاتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایمان تقویٰ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ایمان اور تقویٰ کا یہ مضمون میں نے کل بھی بیان کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر چلنے والی ہر جان کا یہ کام ہے کہ وہ اپنی کل پر نظر رکھے۔ یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ صرف حال کی حالت نہ ہو مستقبل کی بھی فکر ہو۔ یہ دنیا کے سامان تو آج کی چیزیں ہیں کل نہیں ہوں گی۔ کل کے کام آنے والی چیز تقویٰ ہے، وہ نیکیاں ہیں جو تم نے اس جہان میںکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہے جن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ دولت اور دنیاوی عزت اور دنیاوی علم یا فیشن یا اس قسم کی چیزیں ان چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سوا ل نہیں کرے گا۔

اسی طرح تمہارا کل تمہاری اگلی زندگی کے علاوہ تمہاری اولاد اور تمہاری نسل بھی ہے۔ اس کی تربیت تقویٰ کی بنیادوں پر کرو تو یہ اولاد بھی تمہارے درجات کی بلندی کے کام آئے گی۔ نیک اولاد دین پر قائم رہنے والی اولاد تمہارے لیے دعا کرنے والی اولاد ہو گی۔ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے والی اولاد تمہارے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے گی۔ پس عورت کے ذمہ اولاد کی تربیت کی جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کا حق ادا کرتے ہوئے اسے پورا کرنے سے ہی اس بات کا اظہار ہو گا کہ تم کل کے لیے کیا آگے بھیج رہے ہو۔ اگر مائیں بچوں کی صحیح تربیت بچپن سے کریں تو الا ماشاء اللہ نیک اولاد پروان چڑھے گی، دین پر قائم رہنے والی اولاد پروان چڑھے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ (اللہ تعالیٰ) تمہارے ہر عمل سے خوب باخبر ہے۔ وہ ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہماری سوچوں کو بھی جانتا ہے۔ ہماری مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ہماری نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ پس اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ اسے یہ علم ہے کہ ہم جب اپنے آپ کو زمانے کے امام سے منسوب کرتے ہیں تو کس حد تک اس کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ اپنے عملوں سے ہم کس حد تک اپنے آپ کو مسیح موعود کی جماعت سے جڑنے کا حق دار بنا رہے ہیں۔ اپنی اولاد کی تربیت سے کس حد تک ہم انہیں ایک احمدی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہمیں بنانا چاہتے ہیں۔ اگلی نسلوں کی تربیت اور ان کو دین پر قائم رکھنے اور ان کے دین کی حفاظت آپ کا کام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کے لیے آپ کو نگران بنایا ہے۔ آج کی مائیں بھی اور وہ لڑکیاں بھی جو کل ان شاء اللہ تعالیٰ مائیں بننے والی ہیں اس بات کو سمجھیں، غور کریں، منصوبہ بندی کریں، اپنی حالتوں کے جائزے لیں، اپنے دینی علم کو بڑھائیں، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے کے لیے ان تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں جو ممکن ہیں۔ اپنی نسلوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں شامل ہونے کے بعد اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔ دنیا ہمارا مقصود نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا کے لہو و لعب ہمارا مطمح نظر نہیں ہونے چاہئیں۔ پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

اگر آپ کے عمل اس تعلیم کے مطابق نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔ اگر ہماری عبادتوں کے وہ معیار نہیں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔ اگر ہمارے اخلاق کے وہ معیار نہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔ اگر ہماری حیاء کے وہ معیار نہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔ اگر ہمارے آپس کے معاشرتی تعلقات وہ نہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔ اگر ہمارا ظاہر و باطن ایک نہیں۔ اگر ہم بغیر دینی علم میں اضافے کے صرف اس لیے احمدی ہیں کہ ہمارے باپ دادا احمدی تھے تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس بات پر نظر نہیں رکھ رہے کہ ہم نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے بلکہ ہم اس دنیا کے عارضی سامان کے دھوکے میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ مرد بھی اور عورتیں بھی۔ پھر آپ کے بچوں کے دین پر قائم رہنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ پھر اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ آپ اور آپ کی اولادیں اللہ تعالیٰ کی دائمی جنتوں کو حاصل کرنے والی بن سکیں گی۔ پس اگر اپنی اور اپنی نسلوں کی دنیا و عاقبت سنوارنی ہے تو بڑی سنجیدگی سے، بڑی کوشش سے، بڑے مجاہدے سےہمیں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کسی کے ماں باپ کتنے نیک تھے یا انہوں نے کتنی قربانیاں دیں یا کتنی مالی اور جانی قربانیاں پیش کیں۔ اُن کے عمل کا صلہ اُنہیں ملے گا اور ہمارے عمل کا صلہ ہمیں ملنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں بھی فرمایا تھا جو آپؐ کو اپنے سب بچوں سے پیاری تھیں کہ وہ بھی اس لیے نہیں بخشی جائے گی کہ میری بیٹی ہے۔ رسول اللہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں بخشی جائے گی بلکہ فرمایا کہ تمہارے عمل ہی تمہارے کام آئیں گے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب فی قولہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین حدیث (204)

تو پھر باقیوں کو کس قدر کوشش کرنی چاہیے اور ہمارے لیے کتنا خوف کا مقام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر احمدی عورت اور مرد کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اپنے عملوں کو اس طرح ڈھالیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں۔ اس دنیا کے عارضی سامانوں کی بجائے اس بات پر نظر رکھنے والے ہوں کہ ہم نے اپنے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close