خطبہ جمعہ

’’آخرت کی فکر تب ہی ہو سکتی ہے جب خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہو‘‘۔ خطبہ جمعہ فرمودہ 04؍ اکتوبر 2019ء

خطبہ جمعہ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍اکتوبر 2019ء بمطابق 04؍اخاء 1398 ہجری شمسی بمقام جلسہ گاہ جماعت احمدیہ فرانس(تغی شاتو)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کو خالص دینی اجتماع کا نام عطا فرمایا ہے۔ پس اس میں شامل ہونے والے ہر شخص پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ دینی، علمی اور روحانی بہتری اور ترقی کے لیے ہم یہاں آج جمع ہیں اور تین دن اس سوچ کے ساتھ اور اس فکر کے ساتھ یہاں جمع رہیں گے کہ کس طرح ہم اپنی دینی، علمی اور روحانی حالت کو بہتر کریں۔ اگر یہ سوچ نہیں تو یہاں آنا بے فائدہ ہے۔ آج کے اس دَور میں جبکہ دنیا خدا تعالیٰ کو بھلا رہی ہے، ہر مذہب کو ماننے والا اپنے مذہب سے دور ہٹ رہا ہے، جو اعداد و شمار ہر سال سامنے آتے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ہر سال ایک بڑی تعداد اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر ہیں حتٰی کہ مسلمانوں کی بھی جو حالت ہے وہ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ نام کے مسلمان ہیں اور دنیا داری غالب ہے، ایسے میں اگر ہم بھی جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے، اُسے مانا ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں تجدیدِ دین کے لیے بھیجا ہے اور اب ہمارا یہ عہد ہے کہ ہم نے بھی اس مسیح موعود اور مہدی معہودؑ کے مشن کو پورا کرنا ہے، اگر ہم اپنی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ نہیں کرتے تو ہمارا مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنا ایک ظاہری اعلان ہے جو روح سے خالی ہے، ہمارا عہدِ بیعت نام کا عہدِ بیعت ہے جسے ہم پورا نہیں کر رہے، ہمارا یہاں جلسے کے لیے جمع ہونا ایک دنیاوی میلے میں جمع ہونے کی طرح ہے۔ پس ہر احمدی کے لیے یہ بڑا سوچنے کا مقام ہے، ایک فکر کے ساتھ اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر یہ سوچ ہے تو پھر بے فائدہ ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کے انعقاد کی جو اغراض ہمارے سامنے پیش فرمائی ہیں اگر ہم ان کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لیں تو نہ صرف ان تین دنوں کے مقصد کو پورا کرنے والےبن جائیں گے اور جلسے میں شامل ہونے والوں کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو دعائیں ہیں ان کے حاصل کرنے والے بن جائیں گے اور پھر ان کو مستقل اپنی زندگیوں کا حصہ بنا کر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بن جائیں گے اور نہ صرف اپنی حالتوں بلکہ ہماری نیک اعمال کے حصول کے لیے کوشش اور اس پر عمل ہماری آئندہ نسلوں کے دین پر قائم رہنے اور خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والے بنا کر انہیں بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنا دیں گے۔ جہاں دنیا خدا تعالیٰ اور دین سے دور جا رہی ہے ہماری نسلیں خدا تعالیٰ کے قریب ہونے والی ہوں گی اور دنیا کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے کا باعث بن رہی ہوں گی۔

پس اگر ہم نے اپنے عہدِ بیعت کو پورا کرنا ہے، اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو پھر ان اغراض کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے جو جلسے کے انعقاد کی ہیں، ان تین دنوں کو اس عہد کے ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے کہ یہ باتیں اب ہماری زندگیوں کا حصہ ہمیشہ رہیں گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسےکی اغراض بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کی فکر ہو۔ جلسہ پر آنے والوں کے لیے اس لیے جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے کہ ان کو یہاں رہ کر اس ماحول میں رہ کر اپنی آخرت کی فکر ہو۔ خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔ تقویٰ ان میں پیدا ہو۔ نرم دلی پیدا ہو۔ آپس کی محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو، عاجزی اور انکساری پیدا ہو ،سچائی پر وہ قائم ہوں اور دین کی خدمت کے لیے سرگرمی ہو۔

(ماخوذ از شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394)

پس یہ ہے آج ہمارے یہاں جمع ہونے کا مقصد۔ آپؑ کے ماننے والے ہر فرد مرد، عورت، جوان، بوڑھے کو آپؑ کے ارشاد کے مطابق آخرت کی اس حد تک فکر ہونی چاہیے کہ دنیاوی چیزیں اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہ رکھتی ہوں۔ اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے یہ بہت بڑا کام ہے، ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کو پورا کرنے کے لیے بڑے جہاد کی ضرورت ہے۔ آخرت کی فکر تب ہی ہو سکتی ہے جب خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہو اور اس بات پر یقین ہو کہ یہ زندگی تو چند سال ہے، زیادہ سے زیادہ کوئی اسّی سال زندہ رہ لیتا ہے، نوّے سال زندہ رہ لیتا ہے یا حد سو سال زندہ رہ لیتا ہے لیکن اتنا عرصہ بھی ہر ایک کو نہیں ملتا۔ بہت سے ہیں جو اس سے بہت پہلے اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ کی ہے۔ پس عقل مند انسان وہی ہے جو عارضی چیز کو مستقل چیز پر قربان کر دے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم اس عارضی چیز پر، اس عارضی زندگی پر مستقل زندگی کو قربان کر دیتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو یہ دنیا دار بہت بڑا اور عقل مند سمجھتے ہیں۔ پس ایک مومن اس کے برعکس کرتا ہے اور کرنا چاہیے۔ تب ہی وہ مومن کہلا سکتا ہے۔ وہ اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت اس کے دل میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت تمام دنیاوی محبتوں پر غالب آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اس لیے نہیں ہوتی کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں سزا ملے گی بلکہ اس لیے ہے کہ میرا پیارا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور جب یہ محبت کے جذبات ہوں گے تب ہی انسان خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ انسان کا اس دنیا کا ہر عمل آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ میرا خدا ہی ہے جو میری پرورش کے سامان کرتا ہے، میرا خدا ہی ہے جو مجھے اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ان میں ہر قسم کی نعمتیں شامل ہیں دنیاوی بھی اور روحانی بھی۔ اگر میں اس کی عبادت کا حق ادا کرتا رہا، اس خدا کو ہی سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھکا رہنے والا بنا رہا تو اس کی نعمتوں سے حصہ پاتا رہوں گا ان شاء اللہ۔ میں اگر اس کے بتائے ہوئے اوامر اور نواہی کے مطابق زندگی گزارتا رہا تو اس کے فضلوں کا وارث بنتا رہوں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا رہا تو وہ مجھ سے راضی ہو گا۔ پس یہ سوچ ہے اور اس کے مطابق عمل ہے جو یقینا ًاللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس کے انعاموں اور فضلوں کا حاصل کرنے والا بنائے گا اور یہی لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے ہیں، جن کے دل نرم ہوں گے اور ہوتے ہیں کیونکہ ہر لمحہ ان کے دل میں خدا ہوتا ہے۔ یہی ہیں جن کے ایک دوسرے کے لیے خدا تعالیٰ کی خاطر محبت کے جذبات ہوتے ہیں یعنی ان کی محبت اور بھائی چارہ ذاتی اغراض کے لیے نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ پر چلنے والے ہیں جن میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ عاجزی کے اظہار صرف اپنے مرتبے اور دولت کے لحاظ سے بڑے سے نہیں ہوتے، ان ہی کے سامنے عاجزی نہیں دکھاتے جو بڑے ہیں، رتبے میں بڑے ہیں یا دنیادار ہیں بلکہ غریبوں اور مسکینوں سے بھی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو سچائی پر ہر وقت قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قولِ سدید ہی خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور جھوٹ جو ہے وہ شرک کی طرف لے کے جاتا ہے۔ اور جب آخرت کی فکر ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور تقویٰ کی حقیقت جانتے ہیں تو پھر ایک شخص مومن کہلا کر پھر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے اور ان باتوں کے حاصل کرنے والے اور نیکیوں کی روح کو سمجھنے والے ہی ہیں جو دین کی خدمت میں بھی حقیقت میں سرگرم ہوتے ہیں ورنہ تو یہ جو خدمت ہے بظاہر یہ بھی کچھ مفادات کے حصول کے لیے ہو جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں سینکڑوں علماء ہیں جو دین کے نام پر بظاہربڑے سرگرم ہیں اور اندر سے دین کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، جن میں تقویٰ کی کمی ہے، جن میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا، جن کو آخرت سے زیادہ دنیا کے مفادات عزیز ہیں اور نام خدا اور آخرت کا لیتے ہیں۔

پس ان باتوں کی روح کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ظاہری خول نہ ہو بلکہ روح ہو ،مغز ہو۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس نیت سے جلسے میں شامل ہو رہے ہیںا ور اپنے اندر ان مقاصد کو حاصل کرنے کی ایک تڑپ رکھتے ہیں۔ اگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ماضی میں ہم سے ان باتوں کے حصول کے لیے غلطیاں اور کوتاہیاں ہو گئی ہیں تو آئندہ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ ان نیکیوں کو پیدا کرنے اور انہیں قائم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں اور کریں گے؟ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنے والے ہوں گے، ہم خدا کا خوف اور اس کی خشیت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت دیں گے، ہم تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کی حتی المقدور کوشش کریں گے، ہم اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے نرمی پیدا کریں گے، ہم آپس میں محبت اور بھائی چارے کو اس قدر بڑھائیں گے کہ یہ محبت اور بھائی چارہ ایک مثال بن جائے، عاجزی اور تواضع میں ہم بڑھنے والے بنیں گے، سچائی اور قولِ سدید ہماری ایک خصوصیت بن جائے گا کہ ہر شخص کہے کہ احمدی ہیں جو ہمیشہ سچ پر قائم رہتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور اس کے لیے بڑے سے بڑا نقصان بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ دینی خدمات کے لیے ایسے سرگرم ہوں گے جو ایک مثال ہو گا اور اس کے لیے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے دین کے پیغام کو اپنے ماحول کے ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کریں گے، ان کو بتائیں گے کہ حقیقی اسلام کیا ہے۔

اگر ہم اپنے اس عہد کو پورا کرنے والے بن گئے، ہماری زندگیاں اس کے مطابق گزرنے لگ گئیں تو یقیناً ہم نے عہدِ بیعت پورا کر لیا۔

پس آئیں آج ہم ان باتوں کے حصول کے لیے اپنا لائحہ عمل بنائیں۔ آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا سب سے پہلے اپنی عبادت کی حفاظت کی طرف توجہ کرتا ہے، اس طرف دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری زندگی کا مقصد کیا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔

(الذاریات:57)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ترجمہ اس طرح فرمایا ہے کہ یعنی میں نے جِنّ اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔ فرمایا پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لیے ہو جانا ہے۔ فرمایا یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے ۔گو انسان مقرر کرتا ہے لیکن اس کو حاصل نہیں ہے کیونکہ انسان نہ ہی اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قویٰ اس کو عنایت کیے اس نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرایا ہے، ایک مقصد ٹھہرایا ہے خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر آپؑ فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش کا مدّعا بلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے۔

(ماخوذ از اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414)

پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عبادت اور پرستش کا طریق سکھایا ہے وہ کیا ہے؟ وہ نماز کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔ (النساء:104)

کہ یقینا ًنماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نمازِ موقوتا کے مسئلے کو بہت عزیز رکھتا ہوں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 63)

یہ مسئلہ ایسا ہے جو مجھے بہت عزیز ہے اور بہت پیارا ہے۔ یہ مسئلہ یعنی وقت مقررہ پر نماز پڑھا جانا ضروری ہے۔لیکن اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا ذرا سی بات پر نمازوں کی وقت پر ادائیگی اور لاپرواہی اکثر لوگ برت جاتے ہیں بلکہ وقت ِمقررہ تو الگ رہا بعض نمازیں ہی نہیں پڑھتے۔ پانچ کی بجائے تین چار نمازیں پڑھ لیں گے، سستی دکھا جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی حفاظت کا مومنوں کو ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى۔ (البقرۃ:239)کہ نمازوں کا اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو لیکن کاروباروں اور ملازمتوں کی وجہ سے ہم میں سے بعض ظہر عصر کی نماز ضائع کر دیتے ہیں، ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے یا اپنے شام کے بعض ذاتی پروگراموں کی وجہ سے مغرب عشاء کی نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ نیند کا بہانا کر کے فجر کی نماز ضائع کر دیتے ہیں۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کیا ہم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں؟ جماعت کے خاص پروگراموں اور رمضان کے مہینے میں باجماعت نمازیں پڑھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر لیا ۔باقی سارا سال چاہے اس پر باقاعدہ عمل ہو یا نہ ہو فرق نہیں پڑتا لیکن سنیں اور اس بات کو دیکھیں کہ نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کیا فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۔ (التوبۃ:18) کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد تو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لیے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔

(سنن ابن ماجہ کتاب المساجد و الجماعۃ باب لزوم المساجد وانتظار الصلوٰۃ حدیث 802)

ویسے کہنے کو تو ہم سب اپنے آپ کو ایمان لانے والا کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک مومن وہ ہیں جو اللہ کے گھر کو آباد رکھتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ہے۔ یہاں یہ بھی واضح ہو گیا کہ صرف مسجد آنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان کے ساتھ آنا ضروری ہے اور جو یہ سوچ رکھنے والا ہو گا اسے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو گا ،وہ مسجدوں میں آ کر فتنہ پردازیاں نہیں کرے گا، وہ ان نمازیوں میں شامل نہیں ہو گا جن کی نمازیں ان کے لیے ہلاکت کا باعث ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے ایسے نمازی پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہو جاتے ہیں۔ نہیں بلکہ یہ لوگ حقیقی تقویٰ رکھتے ہیں۔ جو یہ سوچ رکھتے ہوں کہ یوم ِآخرت کا خیال رکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا ہے۔ ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔ ان میں محبت اور پیار اور بھائی چارہ ہوتا ہے۔ ان میں عاجزی ہوتی ہے۔ وہ سچائی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اسلام کی پُرامن تعلیم کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کی مسجدیں خوف کی جگہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی فتنے کی جگہ ہوتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صرف اس مسجد میں نماز کے لیے کھڑے ہو جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے نہ کہ فتنہ و فساد کی غرض سے بنائی گئی مسجد ہے۔ پس جو تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے مسجدوں کو آباد کرتے ہیں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی بھی کرتے ہیں اور حقوق العباد کی بھی ادائیگی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو خوش خبری دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے پہلا حساب جو لے گا اس کے بارے میں فرشتوں کو فرمائے گا کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھو، پہلی بات تو یہ دیکھو کہ بندہ نماز پڑھتا ہے کہ نہیں۔ جن کی نمازیں مکمل ہوں گی ان کے نامہ اعمال میں مکمل نمازیں ہی لکھی جائیں گی وہ تو حساب صاف ہو گیا لیکن آگے پھر فرماتے ہیں کہ جن کی فرض نمازوں میں کمی رہ جائے گی ان کے بارے میں کہے گا کہ اس کی نفلی عبادت دیکھو وہ کیا تھی۔ اگر فرض میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو اس کو نفل سے پورا کر دو۔

(سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب قول النبی کل صلاۃ لا یتمھا صاحبھا تتم من تطوعہ حدیث 864)

پس اللہ تعالیٰ نے یہاں جو میرے بندے فرمایا ہے تو اس لیے کہ یہ لوگ جو ہیں اپنی طرف سے کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والے ہیں اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔ لیکن پھر بھی بشری تقاضے کے تحت کمزوری ہے، بھول چُوک ہو جاتی ہے، بعض حالات ایسے آ جاتے ہیں تو اس کو معاف کرنے اور اپنے بندے کی نیکیوں کے پلڑے کو زیادہ کرنے کے لیے اپنی رحمت اور مغفرت کا سلوک فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نوافل کو فرائض میں ڈال کر فرائض کو پھر پورا فرما دیا۔ اب یہاں دیکھ لیں نوافل پڑھنے والے بھی وہی لوگ ہوں گے جو خالص اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہیں۔ نفل تو ایسی چیز نہیں ہے جو باہر آ کے پڑھی جاتی ہے۔ یہ تو چھپ کر ادا کیے جاتے ہیں، علیحدگی میں پڑھے جاتے ہیں اور یہ نیکی پھر وہی کرتا ہے جس کو اللہ کا خوف ہو گا اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے میرے بندے کہا ہے کہ ان بندوں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ غلطیاں مستقل جاری نہیں رہتیں۔ ان غلطیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سلوک۔ ایک طرف تو یہ بتا دیا کہ نماز کوئی معمولی چیز نہیں ہے اس کا حساب سب سے پہلے ہو گا اس لیے اس کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھو لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے میری بندگی اور عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو پھر نوافل جو تم ادا کرتے ہو ان کا ثواب فرائض کے برابر ہو جائے گا اور مَیں بخشش کی چادر میں تمہیں لے لوں گا۔

پس جہاں یہ خوش خبری ہے، جہاں بخشش کی امید دلائی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لیے نوافل کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ پس مومن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کے فضلوں کو جذب کرنے کے لیے جہاں اپنے فرائض کی طرف توجہ دے وہاں نوافل کی طرف بھی توجہ دے کہ اس کی فرائض کی کمیاں پوری ہوتی رہیں۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہیں اور تقویٰ پر چلنے والے ہیں اور اسی تقویٰ کی وجہ سے باقی نیکیاں کرنے کی طرف بھی ان کی توجہ رہتی ہے۔ ان کے دل ایک دوسرے کے لیے نرم ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے بدلے لینے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرنے کی طرف توجہ رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لیے آپس میں پیار اور محبت کا سلوک ہوتا ہے۔ ان کے دلوں میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہوتی ہے۔ پس اس لحاظ سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم میں یہ باتیں ہیں کہ حقیقی عابد ہر قسم کی نیکیوں کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔

اگر کسی میں اپنے بھائی کے لیے محبت کے جذبات نہیں ہیں تو اس میں حقیقی تقویٰ نہیں ہے۔ جس میں نرم دلی نہیں ہے وہ بھی اپنی فکر کرے۔ جس کے گھر میں اس کے بیوی بچے اس سے تنگ ہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہے۔ جو بیویاں اپنے خاوندوں اور بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں اور ناجائز مطالبات کرتی ہیں ان کے دل بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔ پس آپس کے تعلقات میں جو خدا تعالیٰ کی خاطر محبت اور نرمی کا سلوک کرنے والے ہیں وہی حقیقی تقویٰ پر قائم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے، قیامت کا دن ہے میں اپنے اس سایۂ رحمت میں انہیں جگہ دوں گا۔

(صحیح مسلم کتاب البر باب فضل الحب فی اللہ تعالیٰ حدیث (2566))

پس جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کے حکموں کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت کے جذبات رکھتے ہیں وہی اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والے ہیں یا دوسرے لفظوں میں جو یہ نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بھی بن سکتے ہیں۔ پس یہ روح ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ‘محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں’ تو پہلے اپنے گھروں اور اپنے معاشرے میں اس کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو حقیقی رنگ میں یہ پیغام پہنچا سکیں اور پھر یہ ایسا کام ہے جس میں ذرا سی کوشش سے بغیر کسی بڑے مجاہدے کے ہم اللہ تعالیٰ کے سایۂ رحمت میں جگہ پانے والے بن سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر معاشرے کے امن و سکون کو قائم رکھنے اور محبت اور پیار اور بھائی چارے کو بڑھانے کے لیے جو نصائح فرمائی ہیں ان کے بارے میں ایک موقعے پر فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے اکیلا اور تنہا چھوڑتا ہے۔ فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اس کی ضروریات پورا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کردیتا ہے اور جس نے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب میں سے ایک مصیبت اس کی کم کر دے گا اور جو کسی کی ستاری کرتا ہے پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔

(صحیح البخاری کتاب المظالم باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ حدیث 2442)

پس اللہ تعالیٰ تو مختلف طریقوں سے ہم پر اپنی رحمت اور شفقت کی نظر ڈالتا ہے اور ہماری بخشش کے سامان کرتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو اپنی نااہلیوں، اناؤں اور ضدوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا رہتا ہے۔

پس بڑے خوف کا مقام ہے، بڑے سوچنے کی ضرورت ہے ان دنوں میں جبکہ ہمارے جذبات، خیالات نیکی کی طرف مائل ہوئے ہوئے ہیں، ہم اس سوچ کے ساتھ یہاں آئے ہیں کہ ایک جلسے میں شامل ہونا ہے جہاں نیکی کی باتیں سنیں گے، اپنے جائزے لیں، اپنے جائزے لیتے ہوئے اپنی عبادتوں کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں، نرم دلی، آپس کی محبت اور عاجزی کی حقیقت پہچاننے کی کوشش کریں اور یہ اس لحاظ سے بھی ہم پر ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو عہدِ بیعت باندھا ہے اس میں شرک سے پرہیز، نمازوں کی ادائیگی؛ فرض نمازیں بھی اور نوافل کی ادائیگی کے ساتھ ہم نے یہ عہدِ بیعت بھی کیا ہے کہ ہم عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے نفسانی جوشوں سے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیں گے۔ صرف آپس کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، جماعت کے ممبران کے لیے ہی نہیں۔ ٹھیک ہے اپنے گھر سے شروع کرو، آپس میں بھی ہونا چاہیے پھر مسلمانوں کے لیے پھر عام مخلوق کے لیے بھی، ہر ایک کے لیے ہمارے دل میں ایک پیار اور محبت کے جذبات ہونے چاہئیں۔ نفسانی جوشوں سے ہمیں خالی ہونا چاہیے۔ اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنے والے ہم ہوں۔ ہمارے ایسے سلوک ہوں جس سے ہم ایسے بن جائیں کہ ہر ایک ہمارے ان رویوں کو، ہماری نیکیوں کو پرکھنا چاہے تو پرکھ سکے۔ یہ دیکھنا چاہے کہ کیا یہ معیار جو کہتے ہیں اس کے مطابق ہیں؟ کیا ہم اس کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ تو اگر یہ معیار ہیں اور دوسرا جب ہمیں پرکھتا ہے اس کے مطابق پرکھ لے کہ واقعی یہ ہیں تو تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم حقیقی مومن ہیں اور ہم بیعت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ بیعت جو ہم کرتے ہیں اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ تکبّر کو مکمل طور پر چھوڑ کر عاجزی اور مسکینی کی زندگی بسر کروں گا۔

(ماخوذ از ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564)

یہ عاجزی اور مسکینی کا پیدا کرنا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کے انعقاد کے مقاصد میں سے ایک مقصد بیان نہیں کیا بلکہ ہم نے آپؑ سے جو عہدِ بیعت کیا ہے اس میں یہ عہد ہے کہ میں عاجزی اور مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔ پس یہ عہد پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور یہی سچائی کی طرف پہلا قدم ہے کہ ہم نے جو عہد بیعت کیا ہے اس کو پورا کریں۔ پس بیعت کی شرائط بھی پڑھتے رہنا چاہیے، پڑھتے رہیں اور دیکھیں کہ کیا ہم سچائی کے ساتھ ان پر قائم ہیں، اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو دنیا کی اصلاح کا دعویٰ جو ہم کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ اس سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہو گی ورنہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو کہتے کچھ اَور ہیں اور کرتے کچھ اَور ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ناپسند فرمایا ہے۔ ہمارے عمل ہماری سچائی کی بجائے ہمارے جھوٹ کی تصدیق کرنے والے ہوںگے۔ اور جب یہ قول و فعل کا تضاد ہو گا تو پھر خدمتِ دین کا دعویٰ اور اس کے لیے سرگرمی کا اظہار جو ہے وہ بھی غلط ہو جائے گا۔

بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سچے ہیں، آپؑ کا دعویٰ سچا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپؑ سے کامیابیوں کا وعدہ کیا ہوا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مخلصین کی جماعت دینے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے لیکن اگر ہماری حالتیں ایسی نہیں تو پھر ہم ان میں شامل نہیں ہوں گے جو آپ کے سلسلے کے مددگار ہوں۔ پس بیعت کی برکات کے حصول کے لیے اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے، جو جلسے کی اغراض آپ نے بیان فرمائی ہیں ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے جلسے کے یہ تین دن ہمیں اس غور کرنے کے لیے میسر آئے ہیں۔ ان دنوں میں ہر ایک اپنا جائزہ لے۔ بجائے اس کے کہ اِدھر اُدھر کی باتوں میں اپنا وقت گزاریں دعا ، استغفار اور درود کی طرف ہمیں متوجہ رہنا چاہیے اور تب ہی ہم اس جلسے سے حقیقی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
میری تمام جماعت اس وصیت کو توجہ سے سنے کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ یہ ہے تقویٰ کا معیار۔ کسی قسم کی بھی کوئی برائی ان میں نہ ہو ۔ فرمایا وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں، کوئی تکلیف نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ غرض ہر قسم کے معاصی اور جرائم، ہر قسم کے گناہ جو ہیں اور جرم جو ہیں اور ناکردنی اور نا گفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں۔ ہر قسم کی برائیوں سے، نفس کے جذبات سے بچے رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے بن جائیں۔ ایسے ہو جائیں جن کے دل پاک ہیں، جن سے کبھی شرارت سرزد نہیں ہوتی اور ہمیشہ غریب مزاج رہتے ہیں۔ عاجزی ان میں رہتی ہے اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔ اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنج وقتہ نمازکو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدّی اور غبن اور رشوت اور اتلاف ِحقوق اور بے جا طرف داری سے باز رہیں۔ لوگوں کے حقوق تلف کرنے، غلط طرف داریاں کرنی، غلط کسی کو نقصان پہنچانا اس سے باز رہو۔ اور کسی بدصحبت میں نہ بیٹھیں۔ بری صحبتیں جو ہیں ان سے بچیں۔ نوجوانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور بچوں کے والدین کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دیکھیں کہ ہمارے بچے اس معاشرے میں کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں ،پھر ویسے ہی بن جائیں گے۔ اور اگر بعد میں ثابت ہو ،بعض دفعہ نہیں پتا لگتا کہ صحبت کیسی ہے فرمایا کہ اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اُن کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے، بیٹھتا اٹھتا ہے، اس کے ساتھ میل ملاقات ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے یا حقوقِ عباد کی کچھ پروا نہیں کرتا یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بدچلن آدمی ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دُور کرو، اس سے تعلق ختم کرو، جو اچھی سوسائٹی ہے، اچھی کمپنی ہے وہ ایک احمدی کی ہونی چاہیے۔

فرمایا اور ایسے انسان سے پرہیز کرو جو خطرناک ہے اور چاہیے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا، کسی مذہب کا آدمی ہو، کسی قوم کا آدمی ہو، کسی گروہ کا ہو تمہارے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ اور ہر ایک کے لیے سچے ناصح بنو۔ نصیحت کرنی ہے تو سچے ناصح بن کے، سچے نصیحت کرنے والے کی طرح نصیحت کرو یعنی تمہارا قول اور فعل ایسے ہوں کہ اس نصیحت کا بھی اثر ہو اور کسی قسم کی طرف داری نہ ہو۔ فرمایا اور چاہیے کہ شریروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجالس میں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھوکر کا موجب ہوں گے۔ فرمایا میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں پر کاربند ہوں اور چاہیے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔ کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذباتِ نفس کو دبائے رکھو۔ کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ میں اور مہذبانہ طریق سے گفتگو کرو۔ اگر کوئی جہالت سے پیش آئے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے اٹھ جاؤ۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنا دے کہ تمام دنیا کے لیے نیکی اور راست بازی کا نمونہ ٹھہرو۔ تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راست باز بن جاؤ۔ تم پنج وقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کیے جاؤ گے۔ تمہاری جو شناخت ہے وہ کیا ہے یہی کہ تم پنج وقتہ باقاعدہ نمازیں پڑھنے والے ہو اور تمہارے اخلاق بہت اعلیٰ ہیں یہ چیزیں پیدا ہو جائیں تمہارے میں تو سمجھو تم نے بیعت کا حق ادا کر دیا ہے۔ فرمایا اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ یہ نصیحت میں کر رہا ہوں لیکن جس میں بدی کا بیج ہے وہ پھر نصیحت پر قائم نہیں رہے گا۔

(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46 تا 48 اشتہار نمبر 188)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں، آپ کی نصائح اور توقعات پر ہم پورا اترنے والے ہوں اور ہم اس جلسےسے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دینی روحانی اور علمی حالت کو سنوارنے والے بھی ہوں اور یہ نیکیاں پھر ہم میں ہمیشہ قائم بھی رہیں۔

(الفضل انٹرنیشنل 25؍اکتوبر 2019ء صفحہ 5تا8)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close