دورہ یورپ ستمبر؍ اکتوبر 2019ء

حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ کا دورۂ جامعہ احمدیہ(جرمنی):خوش قسمت گھڑیوں کا مختصراحوال

(ادارہ الفضل انٹرنیشنل)

اس رپورٹ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

مسرور ہاسٹل اور جامعہ احمدیہ کی عمارت نیز کچن اور لائبریری کا تفصیلی معائنہ ،اساتذہ اور کارکنان کو زرّیں ہدایات

طلبہ جامعہ احمدیہ جرمنی کی حضورِ انور کے ساتھ ملاقات، سوال و جواب اور گروپ فوٹوز

(Goddelau،جامعہ احمدیہ جرمنی، 15؍ اکتوبر 2019ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) جامعہ احمدیہ کا ادارہ جماعتِ احمدیہ میں واعظین کو تیار کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرصہ گیارہ سال سے یورپ کے ملک جرمنی میں بھی جامعہ احمدیہ کی ایک شاخ قائم ہے۔ اس ادارے کو جرمنی میں پہلا پھل 2015ء میں نصیب ہوا جب یہاں سے شاہد کی سند حاصل کرنے والے 16مبلّغین فارغ التحصیل قرار پا کر اپنے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں خدمتِ دین کے لیے پیش ہو گئے۔ تب سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہرسال ایک کلاس اپنی پڑھائی مکمل کر کے میدانِ عمل میں حاضر ہو رہی ہے۔

حضورِ انور کی جامعہ میں تشریف آوری

آج اس ادارے کی ہزار خوش نصیبی کہ سیّدنا و امامنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورۂ جرمنی کے دوران آج کا پروگرام جامعہ احمدیہ جرمنی کا دورہ اور طلبہ سے ملاقات کا تھا۔ اس کے لیے حضورِ انور ڈیڑھ بجے کے بعد مع قافلہ بیت السبوح سے Goddelau کے لیے جہاں جامعہ احمدیہ واقع ہے روانہ ہوئے۔ حضورِ انور تقریباً چالیس منٹ کی مسافت کے بعد جب جامعہ احمدیہ پہنچے تو اساتذہ اور طلبہ نے حضورِ انور کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ جوں ہی حضور پُرنُور کی موٹر جامعہ احمدیہ کے احاطے میں داخل ہوئی پوری فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ حضورِانور کے کار سے باہر تشریف لانے پر پرنسپل جامعہ احمدیہ مکرم شمشاد احمد قمر صاحب نے آگے بڑھ کر اپنے پیارے آقا کو خوش آمدید کہا۔ جامعہ احمدیہ کے طلبہ قطارمیں کھڑے اپنے محبوب آقا کے منتظر تھے۔ پیارے حضور نے ہاتھ ہلا کرانہیں ‘السلام علیکم’ کی دعا سے نوازا اورفرمایا کہ نماز کے لیے آجائیں۔ یہاں سے حضورپیدل جامعہ احمدیہ سے ملحق مسجد بیت العزیز تشریف لے گئے اور دو بج کر بیس منٹ پر نمازِ ظہروعصر جمع کر کے پڑھائیں۔

یہ مسجد لوکل امارت Riedstadt میں واقع ہے۔ اس مسجد کا سنگِ بنیاد 8؍ نومبر2003ء کو نیشنل امیر جماعت جرمنی نے رکھا جبکہ 30؍ اگست 2004ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اس کا افتتاح فرمایا۔ یہ مسجد ادارہ جامعہ احمدیہ جرمنی کے اس جگہ قیام کا وسیلہ بھی بنی۔ نمازوں میں حضورِ انور کی اقتدا میں مقامی امارت کے پانچ حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے احمدی احباب شامل ہوئے جبکہ جامعہ احمدیہ کے اساتذہ، طلبہ اورکارکنان نے جامعہ احمدیہ کے ہال میں نماز ادا کی۔ امام کی آواز کا جامعہ احمدیہ میں سنائی دینے کا مستقل انتظام موجود ہے۔

معائنہ مسرور ہاسٹل

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور دوبارہ جامعہ میں تشریف لے آئے۔ آتے وقت حضور پُرنور نے مسرور ہاسٹل کا تفصیلی معائنہ فرمایا اورازراہِ شفقت بعض ہدایات سے نوازا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حضورِ انور 22؍ اپریل 2017ء کو جامعہ احمدیہ میں رونق افروز ہوئے تھے جبکہ جامعہ احمدیہ کے اس احاطے کا سنگ بنیاد دسمبر 2009ء میں اورافتتاح 17؍ دسمبر 2012ء کو حضور پُر نور ہی کے دستِ مبارک سے انجام پایا تھا۔ جامعہ احمدیہ کا جرمنی میں آغاز خلافتِ خامسہ کے پُر شوکت دور میں 20؍ اگست 2008ء کو بیت السبوح فرانکفرٹ سے ہوا تھا۔

ظہرانے میں شرکت

یہاں سے حضورِ انور کھانے کی مارکی میں تشریف لائے جہاں صدارتی میز کے علاوہ اٹھارہ میزیں نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب طریق سے لگائی گئی تھیں۔ اس نشست کی تیاری میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ بیک وقت آقا اپنے خدام کو اورطلبہ اپنے امام کو دیکھ سکیں۔ کھانے میں باربی کیو کا انتظام کیا گیا تھا چنانچہ طلبہ کی مقرر کردہ ٹیمیں گرم گرم باربی کیو میزوں پر پہنچا رہی تھیں۔ حضور پُرنور کے ساتھ میز پر محترم امیر صاحب جرمنی، محترم پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ جرمنی، محترم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب لندن، محترم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اورمحترم انچارج صاحب پریس اینڈ میڈیا آفس لندن کو بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضورِ انور کی خدمت میں استاد جامعہ احمدیہ محترم طارق احمد ظفرصاحب کھانا پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتےرہے۔ حضورِ انورنے اس دوران ان سے کھانے سے متعلق بعض امور بھی دریافت فرمائے۔

دوپہر سوا تین بجے کے بعد حضورِ انور نے طلبہ کومیٹنگ ہال میں جانے کا ارشاد فرمایا۔ طلبہ کے ہال میں منتقل ہونے کے دوران تقریباً دس منٹ تک حضور محترم امیر صاحب جرمنی اور محترم پرنسپل صاحب سے گفتگو فرماتے رہے۔ اس کے بعد پیارے حضور جامعہ احمدیہ کے ہال میں تشریف لائے جہاں طلبہ ترتیب کے ساتھ بیٹھ چکے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہال میں جانے سے قبل حضور پُر نوراس مقام پر بھی تشریف لے گئے جہاں بار بی کیو تیارکیا جار ہا تھا۔ حضورِ انور نے ازراہِ شفقت وہاں کام کرنے والے کارکنان سے گفتگو فرما کر ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور کھانے کی تیاری خصوصاً گرِل کی تیاری کا نسخہ دریافت فرمایا۔

طلبہ جامعہ احمدیہ کی ملاقات

حضورِ انور کے اپنے خدام کے ددرمیان براجمان ہونے کے بعد اس ملاقات کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جوعزیزم حافظ احتشام احمد نےکی۔عزیزم ظافر احمد نے حدیث پیش کی جس کے بعد عزیزم رانا شیراز احمد نے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا کلام ‘عہد شکنی نہ کرو اہلِ وفا ہو جاؤ’ ترنم سے پڑھا۔ اس کےبعد عزیزم محفوظ منیرنے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک ارشاد ‘وقف اورخدمتِ دین’ کے بارے میں پیش کیا۔ بعدہٗ دو بچوں نے تقاریرکیں۔ حضورِ انور کے ارشاد پرعزیزم صہیب احمد نے ‘خانہ کعبہ وقف کی بنیادہے’جبکہ عزیزم سلیمان احمد نے ‘وقف کی اہمیت اور اس کی برکات’کے موضوعات پر پانچ پانچ منٹ اظہارِ خیال کیا۔
اس کے بعد حضورِ انور نے ہرکلاس میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کے بارے میں اس طرح استفسار فرمایا کہ حضورجس ‘درجہ’ کا نام لیتے طلبہ تعداد عرض کر دیتے۔ اس وقت خدمتِ دین کی خاطراپنی زندگی وقف کرنے کے انمول جذبے کے ساتھ جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی کل تعداد 116ہے۔

جامعہ احمدیہ جرمنی میں بھی یہ طریق رائج ہے کہ طلبہ باضابطہ طور پر حضرت خلیفۃ المسیح ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی خدمت اقدس میں اسلام آباد (ٹلفورڈ) حاضر ہو کر روحانی اور علمی فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔ حضورِ انور نے طلبہ سے پوچھا کہ قانونی مجبوریوں کی وجہ سے کون کون ملاقات کے لیے ابھی تک لندن نہیں آسکا۔ اس پر بہت سارے ہاتھ کھڑے ہوئے۔ حضورِ انور نے فرمایا پھر آج یہی ملاقات ہے۔ سوال پوچھ لیں جوپوچھنے ہیں۔ سوال پوچھنے والے طلبہ کی اکثریت ان نوجوانوں پر مشتمل تھی جو گذشتہ چند سالوں میں پاکستان سے ہجرت کر کے جرمنی آباد ہوئے تھے۔ حضورِ انورازراہِ شفقت ہرسوال کرنے والے سے اس کے خاندان کا مختصر تعارف پوچھتے نیز یہ کہ پاکستان میں کس جگہ سے تعلق ہے۔ زیادہ تر بچوں نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں دعا کی درخواست کی۔

ایک بچے نے حضورِ انور سے دریافت کیا کہ جامعہ احمدیہ کی تعلیم کے دوران کسی ایسی زبان میں داخلہ لیا جا سکتا ہے جو جامعہ میں نہ پڑھائی جارہی ہو۔ حضورِ انور نے فرمایا جو جامعہ میں داخل ہوگیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے جامعہ کی تعلیم مکمل کرے۔ جب تعلیم مکمل ہو جائے تو اپنا رجحان بتا کر انتظامیہ کو درخواست کرسکتا ہے۔ ہم دل چسپی رکھنے والوں کو دوسری زبانیں بھی پڑھواتے ہیں۔ لیکن اس کا فیصلہ انتظامیہ نے کرنا ہے اورانتظامیہ جو فیصلہ کرے آپ نے بحیثیت واقف زندگی اس پرعمل کرنا ہے۔

یہ دل چسپ ملاقات جس میں مزاح کے لطیف مواقع بھی پیدا ہوتے رہے شام ساڑھے چاربجےکے قریب ختم ہوئی۔

اپنے پیارے امام کی معیت میں گروپ فوٹوز

طلبہ جامعہ احمدیہ جرمنی کی اس ملاقات کے بعد گروپ فوٹو ہوئے۔ ہر کلاس کے طلبہ پر مشتمل گروپ نے حضورِ انور کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تصاویراتروائیں۔ ایک تصویراساتذہ جامعہ احمدیہ اورایک کارکنان جامعہ احمدیہ نے بھی حضورِ انور کی معیت میں بنوانے کی سعادت پائی۔ آخر پرحضورِ انور کے ہمراہ جامعہ احمدیہ کے تمام طلبہ کا ایک گروپ فوٹو ہوا۔

معائنہ

تصاویر کے بعد حضورِ اقدس پرنسپل صاحب کے آفس میں تشریف لے گئے اورکچھ امور کی بابت ہدایات عطا فرمائیں۔ حضورِ انور یہاں سے دفترجامعہ احمدیہ، پھرسٹاف روم اور پھر کلاس روم میں تشریف لے گئے اورتفصیلی معائنہ فرماتے ہوئے بعض ہدایات سے نوازا۔

یہاں سے فراغت کے بعد حضور کینٹین میں تشریف لے گئے۔ آج کے اس فنکشن میں اساتذہ و کارکنان جامعہ احمدیہ کی بیگمات بھی مدعو تھیں جو اس وقت وہاں موجود تھیں۔

اس کے بعد حضورِ انور نے جامعہ کے کچن کا تفصیلی معائنہ فرمایا۔ حضور پُر نور نے ازراہِ شفقت کارکنان سے بعض امور بھی دریافت فرمائے۔

کچن کے تفصیلی معائنہ کے بعد حضورِ انور نے جامعہ احمدیہ کی عمارت کی پہلی منزل پر موجود لائبریری جامعہ احمدیہ کا تفصیلی معائنہ فرمایا اور محترم الیاس منیر صاحب سے لائبریری میں شامل کی جانے والی نئی کتب کی تعداد دریافت فرمائی۔

لائبریری کے معائنے سے فراغت کے بعد امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خدام کی طرف سے لگائے جانے والے پُر جوش الوداعی نعروں کی گونج میں موٹر میں سوار ہوئے اور قافلہ پانچ بجے کے قریب بیت السبوح کے لیے روانہ ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ جامعہ احمدیہ جرمنی کے لیے حضورِ انور کی تشریف آوری کا یہ اعزاز مبارک فرمائے اور تمام واعظینِ سلسلہ کو اپنے پیارے امام حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات اور منشائے مبارک کے مطابق حصولِ علم اورخدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: عرفان احمد خان، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برائے دورۂ یورپ ستمبر، اکتوبر 2019ء)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 2

  1. ما شا ء اللہ ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالی کے کامیاب دورہ جات کو دیکھ کر ہر لمحہ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالی آپ کے پر نور وجود کو ہمارے ملک بینن میں بھی ایک بار پھر لائے اور ہمیں بھی یہ سعادتیں حاصل ہوں کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالی کی اک نظر ہم پر پڑے آمین۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close