دورہ یورپ ستمبر؍ اکتوبر 2019ء

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ کے دستِ مبارک سے مسجد ’مبارک‘ (ویزبادن، جرمنی) کا بابرکت افتتاح

اس رپورٹ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

جماعت احمدیہ کا ایک خاصّہ ہے کہ ہم نے جہاں بھی رہنا ہے خدمتِ خلق کے کام کرنے ہیں (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ کے دستِ مبارک سے تقریبِ نقاب کشائی، حضورِ انور کی امامت میں نمازِ ظہر و عصر کی ادائیگی اور پھر ریسپشن میں معاشرے میں امن اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بے مثال اسلامی تعلیمات سے ماخوذ معرکہ آرا خطاب

integration تب ہوتی ہے جب دوسروں کے جذبات کا بھی خیال رکھا جائے

(ویز باڈن، 14؍ اکتوبر 2019ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) سیّدنا و مولانا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دورۂ یورپ کے تیسرے اور آخری مرحلے پر جرمنی میں رونق افروز ہیں۔ آج جرمنی کے صوبہ ہیسن (Hessen) کے دار الحکومت ویزباڈن (Wiesbaden) میں ‘سو مساجد کی تعمیر’کے منصوبے کی برکت سے تعمیر ہونے والی ‘مسجد مبارک’کے افتتاح اوراس سلسلے میں علاقے کے معزّزین کے ساتھ ایک نشست کا پروگرام تھا۔

حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا قافلہ مسجد مبارک کے افتتاح کے لیے پانچ بجے ‘بیت السبوح’ فرانکفرٹ سے روانہ ہوا۔

جیسے ہی قافلہ ویز باڈن کی حدود میں داخل ہوا پولیس کی دو گاڑیوں اور تین موٹر سائیکلوں پر مشتمل ایک سکواڈ نے قافلے کو اسکارٹ کرنا شروع کر دیا۔ جب تک حضورِ انور ویز باڈن میں رہے یہ پولیس سکواڈ حضورِ انور کے قافلے کے ساتھ رہا۔
ساڑھے پانچ بجے سے کچھ دیربعد بچوں اور بچیوں کے گروپس کی جانب سے مختلف زبانوں میں پڑھے جانے والے دل فریب خیر مقدمی ترانوں کے درمیان امامِ وقت ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا قافلہ جب مسجد مبارک میں پہنچا تو مکرم عمرعزیز (امیر جماعت ویزباڈن)، مکرم محمد مقسوم (جنرل سیکرٹری)، مکرم راشد غفار (سیکرٹری جائیداد)اور مکرم فرہاد غفار (مبلغ سلسلہ) نے حضورِ انور کا استقبال کیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ سے Mr. Christoph Monjura شرفِ مصافحہ حاصل کر رہے ہیں

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں عزیزم دانیال بلال (واقفِ نَو) نے جبکہ حضرت سیّدہ امۃ السبوح بیگم صاحبہ مدّ ظلہا العالی حرم محترم حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی خدمت میں عزیزہ انیقہ احمد (واقفۂ نَو) نے پھولوں کے گل دستے پیش کرنے کی سعادت پائی۔ حضرت بیگم صاحبہ کے استقبال کے لیے محترمہ عطیہ نوراحمد ہیوبش(صدر لجنہ اماء اللہ جرمنی) موجود تھیں۔ اس موقعے پر شہر ویزباڈن کے میئر کے نمائندہ Mr. Christoph Monjura بھی موجود تھے جنہوں نے حضورِ انور سے مصافحے کی سعادت پائی۔ موصوف شہر ویزباڈن کی انتظامیہ میں سوشل، ایجوکیشن، ہاؤسنگ اینڈ انٹیگریشن (Dept. for Social, Education, Housing & Integration of the city of Wiesbaden) کے نگران بھی ہیں۔ بعدہٗ حضورِ انور مسجد مبارک کی یادگاری افتتاحی تختی کی طرف تشریف لے گئے اور اُس کی نقاب کشائی فرمائی۔

بعدہٗ حضورِ انور نے مسجد مبارک کی پہلی منزل پر واقع ہال میں تشریف لے جا کر نمازِ ظہر و عصر پڑھائیں اور پھر نیچے تشریف لائے اور مسجد کی عمارت اور ملحقہ دفاتر وغیرہ کا معائنہ فرمایا۔ حضورِ انور اپنے معائنے کے دوران مستورات کے حصے میں تشریف لے گئے جہاں پر معائنے کے بعد خوش الحانی کے ساتھ ترانے پڑھنے والی بچیوں نے اپنے پیارے امام سے چاکلیٹ کا تبرک وصول پایا۔ اس کے بعد حضورِ انور نے مسجد کے صحن میں تشریف لا کر بادام کا ایک پودا بطور یادگار لگایا۔ Mr. Christoph Monjura نے بھی اس موقع پر یادگاری پودا لگانے کی سعادت پائی۔ ریسپشن میں شرکت سے روانگی سے قبل حضورِ انور نے مردانہ حصے میں ترانے پڑھنے والے بچوں کو بھی چاکلیٹ سے نوازا۔

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک گھنٹے کے قریب مسجد مبارک میں قیام فرمانے کے بعد تقریباً چار کلومیٹر دور واقع کُرہاؤس(Kurhaus) میں مسجد مبارک کی افتتاحی ریسپشن کو رونق بخشنے کے لیے تشریف لے گئے۔ کُرہاؤس شہر ویزباڈن کے وسط میں واقع ایک عالمی شہرت یافتہ venueہے۔ اس عمارت میں بارہ بڑے ہالز ہیں جہاں مختلف تقریبات،سیمینارز اور سمپوزیم وغیرہ منعقد ہوتے ہیں۔ اس کا 129 میٹر لمبا ستونوں والا ہال (columned hall)یورپ میں اپنی نوعیت کا سب سے لمبا ہال ہے۔

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پونے سات بجے کے قریب اس ہال میں رونق افروز ہونے پرعلاقے کے لارڈ میئرMr. Gert-Uwe Mende نے حضورِ انور کا استقبال کیا۔ حضور انور کے کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہونے پر پروگرام کا آغاز ہوا۔ مکرم ڈاکٹر محمد داؤد مجوکہ (سیکرٹری امور خارجہ جماعت احمدیہ جرمنی) نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ دانیال داؤد نے سورۃ البقرۃ کی آیات 128 تا 130 کی تلاوت کی اور ان آیات کا جرمن ترجمہ نوشیروان خان نے پڑھنے کی سعادت پائی۔ بعد ازاں مکرم عبد اللہ واگس ہاؤزر (امیر جماعت احمدیہ جرمنی) نے ویزباڈن شہر، جماعت احمدیہ ویزباڈن اور مسجد مبارک ویزباڈن اورعمومی طور پر جماعت احمدیہ مسلمہ کا مختصر تعارف پیش کیا۔ مکرم امیر صاحب نے جماعت احمدیہ کی تقریبات اور پروگرامز کا ذکر کرتے ہوئے شہر کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ جماعت احمدیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

اس کے بعد معزز مہمانوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔

٭… مکرم Christoph Manjura نے حضور انور اور معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور خوشی کا اظہار کیا کہ شہر میں رہنے والوں کی ایک کثیر تعداد اس پروگرام میں شامل ہوئی ہے۔ موصوف نے جماعت احمدیہ کے کاموں کو سراہا اور جماعت احمدیہ کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

٭… مکرم Frank-Tilo Becher نے کہا کہ میرے لیے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں اس پروگرام میں شامل ہوں۔ موصوف نےکہا کہ جمہوریت میں ہر مذہب برابر ہے۔ اور تمام مذاہب ملک میں آزادی کے ساتھ اپنی تعلیمات پر عمل کر سکتے ہیں۔ اور جماعت احمدیہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ صوبہ ہیسن (Hessen) میں جماعت احمدیہ اسلام کی تعلیمات پڑھا بھی رہی ہے۔ آخر پر موصوف نے امن کے لیے دعاؤں سے اپنے تأثرات کا اختتام کیا۔

٭… مکرم Gert-Uwe Mende (لارڈ میئر آف ویزباڈن) نےحضور انور کو خوش آمدید کہنے کے بعد مسجد مبارک کی تعمیر پر مبارک باد پیش کی۔ موصوف نے بتایا کہ ویزباڈن کے افراد جماعت نے اس مسجد کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ نیز بتایا کہ مسجد کی تعمیر سے قبل ہمارے اندر ایک خوف تھا لیکن آپ نے مختلف پروگرامز منعقد کر کے ہمارے خوف کو دور کیا۔ موصوف نے شہر کے رہنے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ایک دوسرے سے واقفیت بڑھائیں اور گفت و شنید کریں اور یہ مسجد ایک بہت اچھی جگہ ہے جہاں یہ کام ہو سکتا ہے۔ میری طرف سے آپ سب کے لیے برکت کی دعائیں ہیں۔

خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مہمان مقرّرین کی تقاریر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ساڑھے سات بجے کے قریب منبر پر تشریف لائے اور تقریب کو بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔ تشہد، تعوّذ اور تسمیہ کے بعد حضورِ انور نے تمام معزّز مہمانوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کا تحفہ عطا فرمایا اور فرمایا کہ

آج جماعت احمدیہ اس ہال میں اس فنکشن کا انعقاد اس لیے کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس شہر میں ایک مسجد بنانےکی توفیق عطافرمائی ہے۔ اور یہ خالصۃً جماعت احمدیہ کے لیے تو ایک مذہبی فنکشن ہے اور خوشی کاباعث ہے ۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اس شہر کےلوگ بڑے کھلےدل اور دماغ کے ہیں اور انہوں نے جماعت احمدیہ مسلمہ کے اس مذہبی فنکشن میں جو ان کی مسجد کی تعمیرمکمل ہونے پر اس کے افتتاح کا فنکشن تھااس میں شامل ہونےکےلیے نہ صرف حامی بھری بلکہ شامل بھی ہوئے اور آج مجھے آپ کی جو اکثریت نظر آرہی ہے وہ اس بات کاثبوت ہے کہ اس شہر کے رہنےوالےلوگ بڑے کھلےاور روشن دماغ کے لوگ ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مسجد کے نام سے بعض دفعہ بعض لوگوں میں تحفظات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ گوکہ اس شہر میں مختلف قسم کے لوگ آباد ہیں، مختلف مسلمان فرقے بھی آباد ہیں۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے تحفظات غیر مسلم دنیا میں پیدا ہوتے رہتےہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مسجد بنانے کااصل مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسی جگہ میسر آجائے جہاں ہم اپنی مذہبی تعلیم کے مطابق ایک خداکی عبادت کر سکیں۔ مغربی دنیا میں، غیر مسلم دنیا میں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں شاید غلط قسم کی منصوبہ بندی بھی ہو سکتی ہے، بعض شدت پسند لوگ بھی آسکتےہیں۔ لیکن قرآن کریم نے جو مسجد کامقصد بتایا ہے وہ یہ ہے کہ ایک خدا کی عبادت کے لیے جمع ہو اور پھر یہ بھی بتایا کہ تمہاری عبادت بھی ایسی ہونی چاہیے جو خدا تعالیٰ کےحق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حق بھی ادا کرنے والی ہو۔ اسی لیے قرآن کریم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی نمازیں ان لوگوں پر الٹا دی جاتی ہیں، ان کو واپس کر دی جاتی ہیں، ان لوگوں کے لیے نقصان کا اورہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں جو یتیموں کا خیال نہیں رکھتے، مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے، غریبوں کا خیال نہیں رکھتے اور انسانی قدروں کا کسی بھی لحاظ سے خیال نہ رکھنے والے ہوں۔ پس ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ ایک حقیقی مسلمان جب مسجد کا نام لیتا ہے تو وہ ایک ایسی عمارت کا نام لیتا ہے جس میں جا کر،جمع ہو کر وہ ایک خدا کی عبادت کرے اور وہاں پھرجہاں اپنے لیے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے وہاں دنیا کے لیے بھی دعا کرے کہ دنیا میں بھی اور ماحول میں بھی امن اور سلامتی پیدا ہو۔ اور اسی لیے ہمارے بانی جماعت احمدیہ جن کو ہم مسیح موعودعلیہ السلام مانتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اگرکسی علاقے میں اسلام کا تعارف کروانا ہے تووہاں مسجد بنا دو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر اسلام کا تعارف بُرا کروانا ہوتا تو پھر تو مسجد بنانے کا نہ کہا جاتا۔ تعارف تو تب ہی ہوتا ہے جب مثبت ہو۔ اسی لیے جب مسجد بنتی ہے تو لوگ دیکھتے ہیں کہ مسلمان کیا کرتے ہیں۔ اور وہ دیکھتے ہیں کہ حقیقی مسلمان صرف عبادت ہی نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کا حق بھی ادا کرتے ہیں، خیال رکھتے ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ قرآنِ کریم میں ہمسایوں کے حقوق کا ذکر ہے۔ اور ہمسائے سے مراد انسان کے ساتھ رہنے والے، اس کے ساتھ سفر کرنے والے، اس کے ساتھ کام کرنے والے وغیرہ سب لوگ ہیں۔ اس شہر میں ایک ہزار کے قریب احمدی رہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو سارا شہر ہی احمدیوں کی ہمسائیگی میں آ جاتا ہے۔ اور ہمسائے کا کیا حق ہے؟ اس بارے میں حضرت بانیٔ اسلام ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے ہمسائے کے حقوق ادا کرنے کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے لگا کہ گویا اس کو وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا یعنی اس کا اس قدر خیال رکھنے کا حکم ہے جیسا کہ قریبی، خونی رشتہ داروں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کا ایک حقیقی مسلمان کو مسجد میں عبادت کے لیے جاتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارے نیشنل امیر صاحب نے اس شہر کے بارے میں ذکر کیا کہ یہاں چشمے بھی ہیں اور پانی کی فراوانی ہے۔ شاید آپ لوگوں کو جن کے پاس پانی بسہولت میسر ہے یہ احساس نہیں ہوسکتا کہ جن ملکوں میں پانی کی قلّت ہے ان میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ افریقہ میں اسّی فی صد ایسے علاقے ہیں جہاں پانی کی سہولت نہیں۔ اور چھوٹے چھوٹے بچے بالٹیاں اپنے سروں پر اٹھا کر دو دو ، تین تین کلومیٹر دور جا کر پانی لے کر آتے ہیں۔ اور سارا دن اسی کام میں مصروف رہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ تعلیم سے بھی محروم رہتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس شہر کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی کہ یہاں کا تعلیمی معیار بھی بہت بلند ہے۔ اب وہ لوگ جو گندے تالابوں سے پانی لیتے ہیں اور سارا دن پانی لانے اور غربت کی وجہ سے تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتے ان ملکوں میں جماعت احمدیہ ان کی تعلیم کے لیے سکول بھی بناتی ہے اور پانی کے لیے سولر پمپ اور ہینڈ پمپ (hand pump)بھی لگاتی ہے۔ اور جب صاف پانی زمین سے نکلتاہے تو اس وقت جولوگوں اور بچوں کے چہروں پر خوشی ہوتی ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ وہ یورپ میں رہنے والے ایسے آدمی کی طرح کی ہوتی ہے جس کی کئی ملین کی لاٹری نکل آئی ہو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارے صاف پانی کے پراجیکٹس، ماڈل ولیج کے پراجیکٹس صرف احمدیوں کے لیے نہیں ہیں۔ بلکہ جماعت کی طرف سے کیے جانے والے خدمتِ خلق کے کاموں سے فائدہ اٹھانے والے اسّی فیصد لوگ احمدی نہیں عیسائی ہیں، یا پیگن یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کی پھر اس طرح مذہب کی طرف توجہ بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارا مقصد خالص ہو کر انسانیت کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ ہم خدمتِ خلق کے کام غریب دنیا میں بہت بڑھ کر کررہے ہیں۔ اوریہ جماعت احمدیہ کا ایک خاصّہ ہے۔ کہ ہم نے جہاں بھی رہنا ہے خدمتِ خلق کے کام کرنے ہیں۔

حضورِ انو رنے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس شہر کے احمدیوں نے مسجد بننے سے قبل خدمتِ خلق کے جو کام کیے ہیں اب اس مسجد کے بننے کے بعد پہلے سے بڑھ کر کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ حقیقی اسلام یہ ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہو وہاں خدا کی مخلوق کی بھی خدمت ہو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کی پہلی سورت میں آتا ہے کہ اس خدا کی تعریف کرو جو سب جہانوں کو پالنے والا ہے، یہودیوں کا بھی، عیسائیوں کا بھی، ہندوؤں کا بھی، مسلمانوں کا بھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ بانیٔ اسلام ﷺ نے ہمیشہ انسانی قدروں کو سامنے رکھا اوراسی لیے قرآن کریم نے بھی آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام شدّت پسند مذہب ہے اور شدّت پسندی کی تعلیم دیتا ہے لیکن اسلام نے کبھی بھی شدّت پسندی کی تعلیم نہیں دی۔ اگر ہم تاریخ کو انصاف کے ساتھ دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ بانیٔ اسلامﷺ کے شروع کے تیرہ سال مکےمیں انتہائی تکلیفوں میں کٹے اور آپؐ نے کبھی ان تکالیف کا بدلہ نہیں لیا۔ آپؐ ان ظلموں کی وجہ سے مدینہ ہجرت کر گئے۔ مدینہ گئے تو وہاں بھی کفّار نے امن سے اور سکون سے رہنے نہیں دیا اور حملہ کیا۔ اس وقت قرآن کریم میں جو پہلا حکم ہے جنگ کرنے کا یا سختی سے جواب دینے کا وہ نازل ہوا یعنی ہجرتِ مدینہ کے بعد۔ یہ حکم قرآنِ کریم کی سورۃ الحج میں موجود ہے۔ کہ اب ان ظالم لوگوں کا جواب دینا ضروری ہے کیونکہ اگر ان کو جواب نہ دیا گیا تو یہ لوگ صرف مسلمانوں کو ختم نہیں کرنا چاہتے، قرآنِ کریم میں بڑا واضح لکھاہے کہ یہ لوگ ہر قسم کے مذہب کے خلاف ہیں۔ ان کے حملوں سے پھر synagogue بھی محفوظ نہیں رہیں گے، چرچ بھی محفوظ نہیں رہیں گے، مندر بھی محفوظ نہیں رہیں گے اور مساجد بھی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف اپنی مسجدوں کی حفاظت کرو۔ فرمایا کہ یہ لوگ دین کے دشمن ہیں اور کسی مذہب کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اس لیے مسلمانوں نے ان کا جواب دیا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی مدد ان کے ساتھ تھی اس لیے باوجود اس کے کہ مکے کی فوج بڑے ساز و سامان سے لیس ہو کر آئی تھی اور مسلمانوں کی فوج ان کی فوج کا تیسرا حصہ تھی اور بے سرو سامان تھی، مسلمانوں نےجنگ کی اور وہ جیت گئے۔ اور یہ مسلمانوں کی پہلی جنگ کا پسِ منظر تھا۔ یہ بنیادی وجہ تھی جس کی وجہ سے قرآن کریم مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دیتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ پھر اس میں بھی نرمی کا سلوک نبی اکرمﷺ نے روا رکھا۔ جنگ کے بعد کفار کے قیدیوں میں سے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے، نبی اکرم ﷺ کا خیال تھا کہ کیونکہ تعلیم بھی انسان کو حاصل کرنی چاہیے اس لیے جودشمن کافر قیدی پڑھنا لکھنا جانتے ہیں وہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو ان کو قید سے آزاد کر دیا جائے گا۔ آپؐ نے اپنے دشمنوں سے اس حد تک نرمی کا سلوک کیا صرف اس لیے تا کہ انسانی قدریں قائم ہوں، مسلمان علم سے آراستہ ہوں، علم پھیلے اور لوگوں کی جہالت دورہو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ بانیٔ اسلامﷺ جب مکے میں تھے تو وہاں کے بڑے بڑے سرداروں نے مل کر مظلوموں کی مدد کے لیے ایک تنظیم بنائی۔ آپؐ بھی ایک اعلیٰ خاندان سے تھے تو آپ بھی اس تنظیم کا حصہ بنے۔ لیکن جب نبوّت کا دعویٰ فرمایا تو بڑے سردار آپؐ کے خلاف ہو گئے۔ لیکن آپؐ کو مظلوموں کی مدد کا اس قدر احساس تھا کہ مدینےآ کے بھی آپؐ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ لوگ جن کے ساتھ میں نے ایک معاہدہ کیا تھا وہ لوگ باجود اس کے کہ اب میرے مخالف ہیں،باوجود اس کے کہ مجھے نبوت مل چکی ہے، باوجود اس کے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد میرے ساتھ ہے اور میں مدینہ کی ریاست کا سربراہ ہوں اگر وہ مجھے اس کام کے لیے بلائیں تو آج بھی میں انسانیت کی خدمت کے لیے ایک عہدیدار کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ممبر کی حیثیت سے خدمت کے لیے تیارہوں۔

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پھر آپؐ نے معاشرے میں مہاجر مسلمانوں کی integration کے لیے بھی خاص اقدامات فرمائے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہintegration تب ہوتی ہے جب دوسروں کے جذبات کا بھی خیال رکھا جائے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپؐ بیٹھے تھے تو ایک بچے کا جنازہ گزرا۔ آپؐ کھڑے ہو گئے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ تو ایک یہودی بچے کا جنازہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا یہ یہودی بچہ انسان نہیں تھا؟ آپ کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں انسانی قدروں کو سمجھنا چاہیے تب ہم دنیا میں اور معاشرے میں درست طور پر پیار، محبت، امن، صلح اور آشتی کی فضا قائم کر سکتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ integration کیا چیز ہے؟ میرے لیے integration یہ ہے کہ جبکہ اس شہر میں بہت سے احمدی دوسرے ملک سے آ کر آباد ہوئے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس شہر کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں۔ تعلیم حاصل کریں اور ملک کی خدمت کریں۔ معاشرے میں لوگوں کی خدمت کریں اور ان کی بہتری کے لیے کام کریں۔ گورنمنٹ پر بوجھ نہ بنیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ اسی بات کی اپنے ممبران کو تلقین کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پڑھ لکھ کر اس ملک کی خدمت کریں۔ انہیں اس سے ذاتی فائدہ بھی ہو گا اور ملک کو بھی فائدہ ہو گا۔ اسی لیے سائنس کے میدانوں میں اور دوسرے میدانوں میں جماعت اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتی ہے تا کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک کی خدمت کرسکیں۔

حضورِ انور نے احمدیوں کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس ملک کا بڑا احسان ہے کہ انہوں نے آپ کو جگہ دی ہے اور آپ یہاں آزادی سے عبادت کر سکتے ہیں۔ اب اس احسان کا بدلہ آپ تب ہی اتار سکتے ہیں جب اس ملک کے لیے پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ خدمت کریں گے۔ یہی حقیقی integration ہے۔ اور جب تک ہماری یہ سوچ رہے گی مجھے امید ہے کہ جماعت احمدیہ کی نیک نامی بھی رہے گی اور آپ لوگ بھی یہی محسوس کریں گے کہ جماعت احمدیہ کی مسجد کسی فتنے اور فساد کی جگہ نہیں بلکہ احمدی پہلے سے بھی بہتر طور پر آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔

مجھے پتہ لگا ہےکہ لارڈ میئر صاحب مسجد کے علاقے میں ہی رہتے ہیں اور احمدیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کا صحت مند حصہ بنتے ہیں۔ اب میں احمدیوں کو کہتا ہوں کہ مسجد کے بننے کے بعد تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ شہر کے لوگوں اور ملک کے لوگوں کی خدمت کریں اور ثابت کریں کہ ہم امن کی فضا میں رہناچاہتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم لوگوں کویہ چیز دیکھنی چاہیے کہ ہم لوگ انسان ہیں اورجیسا کہ میں نےشروع میں کہا خدا تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کی پہلی سورت میں ہی یہ بتادیا کہ وہ ربّ العالمین ہے۔ وہ یہودیوں کا بھی خدا ہے ،وہ عیسائیوں کو بھی خدا ہے اور ہندوؤں کا بھی اور مسلمانوں کا بھی اور ہر ایک سے رحم کا سلوک کرنےوالا ہے۔ اور جو مذہب کو نہیں مانتے، جو خدا کو نہیں مانتے وہ ان کا بھی خدا ہے۔ وہ ان کوبھی ضروریات زندگی مہیا کر رہا ہے۔ اور باقی جو مذہب پر نہ عمل کرنا ہے، خدا کو نہ ماننا ہے یا مذہبی تعلیمات پرعمل نہ کرنا ہے یا خدا کے مقابلے پر کسی کوکھڑا کرنا ہے اس کی سزا اگر ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اگلے جہان کی زندگی میں ہے نہ کہ اس میں۔ اور اس جہان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ تم ہرایک سے شفقت اور پیار اور محبت کاسلوک کرو بلکہ قرآن کریم میں یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ مذہب کےبارے میں، امن قائم رکھنے کے لیے محبت اور پیار کی فضا کو قائم کرنے کے لیے تم لوگ کسی کے بتوں کو بھی بُرا نہ کہو۔ کیونکہ پھر اس کے مقابلے میں وہ تمہارے خدا کوبرا کہیں گے۔ پھر آپس میں گالم گلوچ کا یہ سلسلہ چل جائے گا اور پھر اس سے پیاراورمحبت اورامن کی فضا قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس لیے قرآن کریم کی تعلیم کو اگر دیکھیں تو وہاں تو ہر جگہ یہی نظرآئےگا کہ جتنی نرمی کی تعلیم ہے اس پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ اور یہی ہماری جماعت احمدیہ کی تعلیم ہے اور یہی تعلیم ہے جس کو ہم دنیا میں اسلام کے حوالے سے پھیلاتے ہیں۔ اور یہی تعلیم ہے جس پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا میں امید رکھتا ہوں کہ ہمارے یہاں کے رہنے والےاحمدی پہلے سے بڑھ کر اس مسجد کی تعمیرکے بعد اس تعلیم پرعمل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس علاقے میں، اس شہرمیں اسلام کی جو پیار اور محبت کی تعلیم ہے اور اپنے دوستوں سے ان کے اپنے رویے پہلے سے بڑھ کر پیار اورمحبت کو پھیلانے والے ہوں گے۔ اور میں دعا بھی کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ توفیق بھی عطا فرمائے۔ شکریہ۔

حضور انور نے 7 بجکر 55 منٹ پر اجتماعی دعا کروائی۔ پروگرام کے بعد مہمانوں کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔ اس پروگرام کی حاضری ساڑھے چار سو کے قریب رہی جن میں سے 370 غیر از جماعت مہمان تھے۔

KurHaus، ویز بادن جرمنی

بعد ازاں تقریب میں شامل ہونے والے پریس ممبران نے حضورِ انور سے ملاقات کی اور حالاتِ حاضرہ اور جماعتِ احمدیہ کے متعلق بعض سوالات پوچھے۔ رات نو بجے کے قریب حضورِ انور کا قافلہ بیت السبوح کے لیے روانہ ہو گیا۔

(رپورٹ: عرفان احمد خان، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل دورۂ یورپ ستمبر، اکتوبر 2019ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اللہ تعالیٰ کے فضل سے الفضل انٹرنیشنل کی ویب سائیٹ میں ضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بابرکت دورۂ جرمنی کی بروقت کوریج کی وجہ سے حضور انور کی تمام مصروفیات کا علم ہو رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے ۔ آمین ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور انور کا بابرکت و کامیاب دورۂ یورپ اپنے جلو میں بے شمار برکتوں کو سمیٹے ہوئے ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قدم قدم پر ہمارے پیارے امام کا حافظ وناصر ہو اور ہمیشہ روح القدس سے آپ کی تائیدونصرت فرماتا رہے ۔ آمین
    ہالینڈ ، فرانس اور جرمنی میں مساجد کے افتتاح کی بابرکت تقریباب منعقد ہوئیں ۔ حضور انور نے جلسہ سالانہ ہالینڈ اور جلسہ سالانہ فرانس میں بنفس نفیس شرکت فرمائی اور روح پرور خطابات سے نوازا۔ اللہ کرے کہ ممبران جماعت حضور انور کے منشااور خواہش کے مطابق اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور اسلام احمدیت کے پرامن اور حقیقی پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ جلد جلد دنیا اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندوں سے بھرجائے اور ہر سُو اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں اور نبی کریم ﷺ پر دن رات درود وسلام بھیجا جائے ۔ اللہ کرے کہ وہ دن جلد جلد آئیں جب پاکستان اور دیگر اسلامی حکومتیں اور اُن کے عوام مہدی آخرالزمان علیہ السلام کی جاری کردہ روحانی چشمے سے سیراب ہوکر حقیقی مسلمان بن جائیں اور اسلام کی ترقی اور اشاعت میں اپنا کردار ادا کریں ۔ آمین اللھم آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close