امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دستِ مبارک سے ’مسجد مہدی‘ سٹراس برگ، فرانس کا افتتاح

تقریبِ نقاب کشائی، خطبہ جمعہ میں مسجد کی تعمیر کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے کی تلقین

مسجد مہدی کی تعمیر اور احاطے میں موجود عمارات اور ھالز کے بعض کوائف کا تذکرہ

(سٹراس برگ، 11؍ اکتوبر 2019ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) جماعت احمدیہ فرانس کے لیے آج نہایت ہی تاریخ ساز دن تھا۔ جماعت احمدیہ فرانس کواللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورِ انور کے ارشاد کی تعمیل میں شہر سٹراس برگ سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر Hurtingheim کے علاقے میں ایک نئی مسجد ’مہدی‘ تعمیر کرنے کی توفیق ملی جس کا افتتاح آج امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمانا تھا۔

مسجد ’مہدی‘ سٹراس برگ کا اندرونی ہال (فائل فوٹو)

مکرم منصور احمد مبشر صاحب مبلّغ سلسلہ سٹراس برگ نے بتایا کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب 2010ء میں یہاں دورے پر تشریف لائے تو فرمایا کہ یہاں پر جماعت احمدیہ کی مسجد ہونی چاہیے کیونکہ سٹراس برگ کی دنیاوی اہمیت بھی ہے، یہاں یورپین یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق بھی موجود ہے۔ چنانچہ حضورِ انور کے ارشاد کی برکت سے جماعت احمدیہ فرانس کو 2012ء میں ایک پرانی فیکٹری خریدنے کا موقع ملا اور یہاں پر مسجد کی تعمیر کی اجازت کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں۔

6؍ جنوری 2016ء کو مقامی انتظامیہ کو اس کا نقشہ برائے منظوری جمع کروایا گیا اور ٹھیک پانچ ماہ بعد 6؍ جون 2016ء کو اس کی اجازت مل گئی۔ اس مسجد کی تعمیر میں مسجد خدام الاحمدیہ کا مالی اورعملی تعاون شاملِ حال رہا۔ چنانچہ تعمیر کے اخراجات کے لیے چندہ دینے کے ساتھ ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ نے خصوصاً اور دیگر احبابِ جماعت نے عموماً اس فیکٹری میں موجود ایک بڑے ہال کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے بہت سے وقارِ عمل بھی کیے۔

یادگاری تختی کی تقریبِ نقاب کشائی

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ سے قبل مقامی وقت کے مطابق دو بج کر چار منٹ پر مسجد کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور پھر دعا کروائی۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد میں تشریف لے گئے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔

نمازِ جمعہ کے لیے پہلی اذان ایک بجکر چالیس منٹ ہوئی تھی۔ چنانچہ حضورِ انور کی تشریف آوری کے بعد بھی تیونس سے تعلق رکھنے والے احمدی دوست فیصل جمائی (Faisel Jemai) نے ہی دینے کی سعادت حاصل کی۔

اپنے خطبۂ جمعہ کے آغاز میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ التوبہ کی آیت 18 کی تلاوت فرمائی۔ نیز سٹراس برگ میں تعمیر ہونے والی اس مسجد اور اس علاقے کی جماعت کا تعارف بیان فرمایا۔حضورِ انور نے فرمایا کہ یہاں اس شہر سٹراس برگ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نو مبائعین اور غیر پاکستانی احمدیوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔بلکہ تقریباً 75فیصد غیر پاکستانی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔

حضورِ انور نے مسجد کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے اس کی افادیت کچھ اس طرح بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں انہیں ایک مسجد عطا فرمائی ہے اور اب یہاں کے رہنے والے احمدی پہلے سے بڑھ کر جماعتی نظام سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق بھی عطافرمائے ۔

حضورِ انور نے اپنے خطبہ کے آغاز میں پڑھی جانے والی آیت کا ترجمہ اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ پڑھتا ہوں کہ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ اور نمازوں کو قائم کرتا ہے۔اور زکوٰۃ دیتا ہے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا سو قریب ہے کہ ایسے لوگ کامیابی کی طرف لے جائے جائیں۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مساجد تعمیر کرنے والوں اور آباد کرنے والوں کی یہ خصوصیات بیان فرمائی ہیں کہ اللہ پر ایمان لانے والے ہیں یعنی اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ سب طاقتوں کا سرچشمہ اور مالک خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے مقابل پر سب ہیچ ہے۔ پس اس ایمان کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا اور اس کی عبادت انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آگے جھکنے والوں کو بھی ایمان اور یقین میں بڑھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد میں آنے والوں کے لیے یہ خصوصیت یا شرط بیان کی ہےکہ وہ یوم آخرت پر یقین بھی رکھتے ہیں کیونکہ آخرت پر یقین ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی  طرف مائل کرتا ہے۔ ایسی عبادت جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کی جائے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کی روشنی میں آخرت پر ایمان کی ضرورت،مسجدوں کو آباد رکھنے، پنجوقتہ نمازوں کو قائم کرنے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت کو بڑھانے کی طرف توجہ دلائی اور ان امور کی اہمیت بیان فرمائی۔ حضورِ انور نے ان ارشادات کی روشنی میں مذہب کا حقیقی مقصد یعنی دنیا کے تمام انسانوں میں وحدت جمہوری پیدا کرنے کے حوالے سے کچھ ارشادات بیان فرمائے اور مسجد کو آباد کرنے اور پنجوقتہ نماز باجماعت ادا کرنے کی حکمت اور افادیت بیان فرمائی۔

اپنے خطبۂ جمعہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مہدی کے مختصر کوائف بیان فرمائے:

یہ سارا رقبہ 2640 مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ پہلے بھی 15 کمروں پر مشتمل ایک عمارت موجود تھی جسے دوبارہ مرمّت کر کے تیار کیا گیا ہے اور یہ بھی اب قابلِ استعمال ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا ہال تھا۔ مسجد اور ہالز کا مسقف حصہ 303؍ مربع میٹر ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے آرکیٹکٹ نے نقشے کے مطابق ایک ملین یورو کا اندازہ خرچ بتایا تھا جس کو مجلس خدام الاحمدیہ نے ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مسجد 5 لاکھ 30 ہزار یورو میں مکمل ہو گئی۔ اب تک خدام الاحمدیہ کی طرف سے ساڑھے 3 لاکھ یورو ادا کیے گئے ہیں۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ خدام الاحمدیہ ان شاء اللہ باقی رقم بھی ادا کر دے گی۔ اس مسجد میں مقامی انتظامیہ کے اندازے کے مطابق 250؍ افراد کی گنجائش موجود ہے،50 گاڑیوں کی مسقف پارکنگ ہے جس میں بوقت ضرورت سوا سو افراد آ سکتے ہیں، یہاں پر ایک جماعتی دفتر، لجنہ اماء اللہ کا دفتر، 4 کمروں پر مشتمل ایک مربّی ہاؤس، ایک گیسٹ ہاؤس اور بہت سے غسل خانے بھی موجود ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس مسجد میں باقاعدہ مینار کی تعمیر کی اجازت تو نہیں ملی لیکن مسجد کے دائیں حصے میں آٹھ میٹر کی بلندی پر ایک گنبد رکھنے کی اجازت مل گئی ہے جبکہ مسجد کے اندر محراب بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے مبارک فرمائے اور ان خدام کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر میں قربانی کی ہے۔ اور اس مسجد کی آبادی کی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور خدام اور جماعت کے افراد کی عبادت کے معیار بھی بلند ہوتے چلے جائیں۔

جمعہ کے اجتماع کے لیے مقامی انتظامیہ (کونسل) نے 250؍ افراد کی شرکت کی اجازت دی تھی اس لیے انتظامی طور پرفرانس کی جماعتوں کی نمائندگی میں بعض معیّن افراد کو مدعو کیا گیا۔ اس لیے جمعے کے اجتماع میں 195 مرد اور 76 خواتین شامل ہوئے۔ فرانس سے باہر جرمنی، سوئٹزرلینڈ، بیلجیم، کینیڈا، پرتگال اور برطانیہ سے لوگ بطور خاص اس تاریخی اجتماع میں شامل تھے۔ فرانس اور خصوصاً سٹراس برگ کی جماعت کے ممبران جنہوں نے حضور کی اقتدا میں نماز جمعہ و عصر ادا کی ان کا تعلق پاکستان، تیونس، مراکش، الجیریا، گھانا، ماریشس، مالی، کومورو، ترکی، فرانس، گنی بساؤ، سینیگال، ویتنام اور آئیوری کوسٹ سے تھا۔

ادارہ الفضل انٹرنیشنل اس نئی مسجد کی تعمیر اور حضورِ انور ایّدہ اللہ الودود بنصرہ العزیز کے دستِ مبارک سے اس کے افتتاح پرجماعت احمدیہ فرانس کو مبارک باد پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے امام کے ارشادات کی روشنی میں مساجد کو تعمیر کرنے اور پھر ان کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: عرفان احمد خان، نمائندہ خصوصی الفضل انٹرنیشنل برائے دورۂ یورپ ستمبر، اکتوبر 2019ء)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button