حضرت مصلح موعود ؓ

سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط 31)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

ہم نے مختصراً آنحضرت ﷺ کی زندگی سے ثابت کیا تھا کہ آپؐ میں استقلال کا مادہ ایسے درجہ تک پا یا جا تا تھا۔کہ اس کی نظیر دنیامیں ملنی مشکل ہے۔اب ہم اسی مضمون کو ایک اَور پیرا یہ میں بیان کر کے آپؐ کے استقلال کے ایک اَور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔

جن لوگوں نے انسان کے اخلاق کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور اس کی مختلف شا خوں پر نظر امعان ڈالی ہے وہ جا نتے ہیں کہ عوام میں جو اخلاق مشہور ہیں ان سے بہت زیا دہ اخلاق انسان میں پائے جا تے ہیں۔لیکن قلت تدبریا اخلاق کی کثرت کی وجہ سےیا تو سب اخلاق ابتدامیں معلوم نہیں ہو سکے یا یہ کہ ان میں سے ایک قسم کے اخلاق کا نام ایک ہی رکھ دیا گیا ہے۔اور اخلاق کی چند انواع مقرر کرکے ان کے نام رکھ دیے گئے ہیں۔اور آگے ان کی شناخت اسماء کی بجا ئے تعریف ہی کافی سمجھ لی گئی ہے۔

استقلال جو ایک نہایت مفید اور دوسرے اخلاق کو چمکا دینے والا خلق ہے،اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن کا نام لغت میں موجود نہیں۔بلکہ سب اقسام کو استقلال کے نام سے ہی یاد کیا جا تا ہے لیکن انسانی اخلاق کا وسیع مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ اس خلق کی بھی کئی قسمیں ہیں۔

جن میں سے دوبڑی قسمیں یہ ہیںکہ ایک استقلال وہ ہوتا ہے جس کا ظہور بڑے کاموں میںہو تا ہے اور دوسرا وہ جس کا ظہور چھوٹے کا موں میں ہو تا ہے چنانچہ انسانوں میں دو قسم کے انسان پا ئے جا تے ہیں بعض ایسے ہیں کہ اہم اور وسیع الاثر معاملات میں جب وہ لگ جا تے ہیں تو گو ان کے راستہ میں خطرناک سے خطر نا ک مصائب پیش آئیں وہ اپنے کا م سےدست بر داری نہیں کر تے اور کُل دنیاکی مخالفت کے باوجود اپنا کام کیے جا تے ہیں۔لیکن انہی لوگوں میں بعض ایسے پا ئے جاتے ہیں کہ رو زمرہ کے کاموں میں جو نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہوں یا ان کا دائرہ اثر ایسا وسیع نہ ہو جیسا کہ اول الذکر کا وہ استقلال نہیں دکھا سکتے۔بلکہ چند دن سے زیا دہ ان کے ارادہ اوران کے عمل کو ثبات حاصل نہیں ہو تا۔

اس جماعت کے خلاف ایک ایسی بھی جماعت ہے۔جو چھوٹےاورمحدودالاثر معاملات میں تو خوب استقلال سے کام کر لیتے ہیں۔لیکن جب کسی مہتمم بالشان کام پر ان کو لگا یا جاوے تو ان کا استقلال جا تا رہتا ہے اور وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور مفوضہ کام کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہیں ہو تے۔

پس ان دونوں گروہوں کو ہم گو صاحب استقلال تو کہیں گے لیکن ہمیں یہ بھی سا تھ ہی اقرار کر نا پڑے گاکہ اگر ایک استقلال کی ایک قسم سے محروم ہے تو دوسرا دوسری سے اور حقیقی طور پر صفت استقلال سے متصف انسان وہی ہو گا جو دونوں صورتوں میں اپنے استقلال کو ہا تھ سے نہ دے۔اور خواہ امورمہمہ ہوںیا امورِمحدود الاثر،اس کا استقلال اپنا اثر ظاہر کیے بغیر نہ رہے۔
جب ہم آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری پر نظر ڈالتے ہیں تو آپؐ استقلال کی ہر قسم میں کامل نظر آتے ہیں۔چنانچہ یہ بات کہ ان امور میں جنہیں آپؐ نے اپنی زندگی کا مقصد قراردے لیاتھا۔آپؐ کیسے مستقل مزاج ثابت ہو ئے ہیںپہلے لکھ آیا ہوں۔اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شرک کی بیخ کنی اور حق کے پھیلانے میں ہی آنحضرت ﷺ نے استقلال کا اظہار نہیں کیا، بلکہ آپؐ کے تمام کاموں سے آپؐ کی کبھی نہ تھکنے والی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ ؓ آپؐ کی اس عادت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فر ما تی ہیں:

وَکَانَ یَقُوْلُ:خُذُوْا مِنَ الْعَمَل، مَا تُطِیْقُوْنَ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا وَاَحَبُّ الصّلٰوۃِ اِلٰی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَادُوْوِمَ عَلَیْہِ وَاِنْ قَلَّتْ وَکَانَ اِذَا صَلّٰی صَلٰوۃً دَاوَمَ عَلَیْھَا(کتاب الصوم باب صوم شعبان)

ترجمہ :آپؐ فر ما یا کرتے تھے ۔کہ وہ عمل کیا کرو جس کے ادا کر نے کی تم میں طاقت ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں ملول ہو تا یہاں تک کہ تم ملول نہ ہو جاؤ۔(یعنی جس قدر بھی دعا اور عبادت کرو۔اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں رکتا۔ہاں تم خود ہی تھک کر رہ جاؤ تو رہ جاؤ۔ اس لیے اس قدر عمل مت کروکہ آخر طبیعت میں نفرت پیدا ہو جائے۔او ر اس طرح اللہ تعالیٰ کے گنہگار بنو) اور آنحضرت ﷺ کو نمازوں میں سب سے پیا ری و ہ نما زہو تی تھی جس پر دوام اختیار کیا جا ئے۔خواہ تھوڑی ہی ہو اور آنحضرت ﷺ جب کسی وقت نماز پڑھتےتھےتو پھر اس وقت کو جا نے نہ دیتے تھے۔ہمیشہ اس وقت نماز پڑھتے رہتے۔

حضرت عائشہ ؓ کی اس گوا ہی سے نہایت بیّن اور واضح طور سے یہ بات ثا بت ہو جا تی ہے کہ آنحضرت ﷺ کااستقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔اور خواہ بڑے کا م ہوں یا چھوٹے۔آپؐ استقلال کو کبھی ہا تھ سے نہ جا نے دیتے تھے۔چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتا ئج نکلتے ہیں۔

1۔ صحابہؓ کو استقلال کاسبق پڑھانا۔اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا۔ کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کر نے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہو تا ہے۔اور آپؐ کا اس بات سے صحابہ ؓ کو رو کنا درحقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دینا تھا۔اوریہ آنحضرتﷺکی خصوصیت ہےجس میں کوئی نبی آپؐ کاشریک نہیںکہ آپؐ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کر تے یا بدی سے روکتے تو ہمیشہ اس نیکی کےحصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے۔یا اس بدی کا اصل باعث ظا ہر کر تے تا کہ اس سے اجتناب کرکے انسان اس بدی سے بچ جائے۔اور اسی اصل کے ما تحت آنحضرت ﷺ نے استقلال کی تعلیم بھی صحابہ ؓ کو دی۔یعنی انہیں منع فر ما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اس پر اپنی خوشی سے ہا تھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جا ئے۔

2۔ اس شہا دت سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ آپؐ خود بھی اس تعلیم پر عمل پیرا تھے۔اور اس عبادت کو پسند فر ما تے جس پر دوام ہو سکتا ہو۔خواہ وہ تھوڑی ہی ہو۔ اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے۔کہ آپؐ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا۔استقلال کو ہا تھ سے نہ جا نے دیتے۔

3۔ تیسرے یہ بات بھی ثا بت ہو تی ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپؐ استقلال کو ہا تھ سے نہ جانے دیتےاور یہ ایک خاص با ت ہے۔کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہو تا ہے۔اگر کو ئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے۔اور دوسرے دن نہ کرے۔تو اس کا ایسا کر نا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔لیکن آنحضرت ﷺ اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپؐ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فر ما تے کہ ایک دن ایک عبادت کرکے دوسرے دن چھوڑ دیں۔بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کر تے تو دوسرے دن پھر کرتے تا کہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو اور یہ بات آپؐ کے استقلال پر خاص رو شنی ڈالتی ہے۔

طہارۃ النّفس۔احسان کی قدر

دنیا میں بہت سے لو گ ایسے ہو تے ہیں کہ اس بات کے تو طالب رہتے ہیں کہ دوسرے ان پر احسان کریں لیکن اس بات کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ جن لوگوں نے ان پر احسان کیا ہے ان کے احسانات کو یا درکھ کر ان کا بدلہ بھی دیں۔ایک دو احسانات کا یادرکھنا تو الگ رہا والدین جن کے احسانات کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ان کے احسانات کو بھی بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں ۔اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی محبت سے مجبور ہو کر یا اپنا فرض خیال کرکے کیا ہمیں اب کیا ضرورت ہے کہ خوامخواہ ان کی خبر گیری کر تے پھریں۔لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کا حال دنیا سے بالکل مختلف تھا۔آپؐ پر جب کو ئی شخص احسان کر تا تو آپؐ اسے ہمیشہ یا درکھتے تھے اور کبھی فراموش نہ کرتے تھے۔اور ہمیشہ آپؐ کی کو شش رہتی تھی کہ جس نے آپؐ پر کبھی کو ئی احسان کیا ہو۔ اسےاس کے احسان سے بڑھ کر بدلہ دیں۔یوں تو آپؐ کا اپنے رشتہ داروں، دوستوں،مریدوں، خادموںا ور ہم وطنوں سے سلوک شروع سے آخر تک ہمارے اس دعوے کی تصدیق کر رہا ہے لیکن ہم اسے واضح کر نے لیے ایک مثال بھی دے دیتے ہیں۔جس سے معلوم ہو جا ئے گا کہ آپؐ کو اپنے محسن کے احسان کا کس قدرخیال رہتا تھا اور کس طرح اسے یاد رکھتے تھے۔بدر کی جنگ کے نام سے کون سا مسلمان نا واقف ہو گا یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فر قان رکھا ہے او ر یہی و ہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعویٰ کے سا تھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لیے مٹا دیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج ان کا نام لیواکوئی با قی نہیں۔اور اگر کوئی ہے تو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کر نا بجا ئے فخرکے عار خیال کر تا ہے۔غرضیکہ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا فر ما ئی تھی اور بہت سے کفار قید بھی ہو ئے تھے۔

وہ لوگ جو گھر سے اس ارا دہ سے نکلے تھے کہ آنحضرتؐ اور آپؐ کے اتباع کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کر دیں گے۔اور جن کے دل میںرحم کا خیال تک بھی نہ تھا ان سے جس قدر بھی سختی کی جا تی اور جو سزائیں بھی ان کے لیے تجویز کی جاتیں بالکل روا اور مناسب تھیں۔لیکن ان کی شرارت کے مقابلہ میں آنحضرتؐ نے ان سے جو نرم سلوک کیا یعنی صرف ایک خفیف ساتاوان لے کر چھوڑ دیا۔وہ اپنی آپ ہی نظیر ہے مگر اس نرم سلوک پر بھی ابھی آپؐ کے دل میں یہ تڑپ با قی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپؐ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کو ئی اَو رمعقول وجہ پیدا ہو جا ئے۔تو میں ان کو بلا تاوان لیے چھوڑدوں۔چنانچہ اس موقعے پر آپؐ نے حضرت جبیرؓ سے جو گفتگو فر ما ئی وہ صاف ظاہر کر تی ہے کہ آپؐ کا دل اسی طرف ما ئل تھا کہ کو ئی معقول عذر ہو تو میں ان لو گوں کو یو نہی چھوڑدوں۔ ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پو لیٹیکل نقص تھے۔جن کی وجہ سے آپؐ بلا کافی وجوہات کے یو نہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔اس گفتگو سے جہاں مذکورہ با لا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظا ہر ہو تا ہے کہ آپؐ کو اپنے محسنوںکے احسانات کیسے یاد رہتے تھے اور آپؐ ان کا بدلہ دینے کےلیے تیار رہتے تھے۔حضرت جبیر ؓفر ما تے ہیں کہ اِنَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ اُسَارٰی بَدْرٍلَوْکَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا ثُمَّ کَلَّمَنِیْ فِیْ ھٰٓؤُلَآءِ النَّتْنٰی، لَتَرَکْتُھُمْ لَہٗ۔ (بخاری کتاب الجہاد باب ما منّ النبیﷺ علی الاساری) یعنی نبی کریم ﷺ نے قید یانِ بدر کے متعلق فر ما یا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہو تا۔اوران نا شدنیوں کے حق میں سفارش کر تا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔یہ کیا ہی پیارا کلام ہے۔ اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔جن کے سینوں میںاحسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔

شا ید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے نا واقف ہوں۔اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لیے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اس موقعہ پر مطعم بن عدی کو یاد فر ما یا اور خواہش فر ما ئی کہ اگر آج وہ ہو تا تو میں ان قید یانِ جنگ کو اس کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔

آنحضرت ﷺجب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کرکے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہا شم اور بنو عبد المطلب سے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپرد نہیں کر دیتے۔کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کو ئی شخص بنو ہا شم اور بنو مطلب کے ہا تھ نہ کو ئی چیز فروخت کرے گا۔نہ ا ن سے خرید ے گا اور نہ ان کےسا تھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔اس با ئیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لیے حضرتؐ کے چچا ابو طالب کو مذکورہ با لا دونوں گھرا نوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔اور چو نکہ مکہ ایک وادی غیر ذی زرع میںواقع ہے۔کھانے پینے کی سخت تکلیف ہو نے لگی اور سوائے اس کے کہ کو ئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جا ئے ان لو گوں کو ضروریات زندگی بھی میسر آنی مشکل ہو گئیں۔ اور قریباً دو سال تک یہی معاملہ رہا۔اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا جب حالت انتہا کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پا نچ شخص اس بات پر آمادہ ہو ئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلا ئی جا ئے۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیا دہ نہیں دیکھ سکتے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھا ئیں اور آرام سے زندگی بسر کیں۔مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اس طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور باوجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہا تھ فروخت نہ کیا جائے۔ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں کرسکتے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کو رے نہ تھے۔ان کی تا ئید میں کھڑے ہو گئے اور آخر و ہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔اور آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہو ئے۔مطعم بن عدی بھی ان پا نچ اشخاص میں سے ایک تھا اور یہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔

علاوہ ازیں جب آنحضرت ﷺ طائف کے لوگوں کو دعوت اسلام دینے کے لیے تشریف لے گئے۔اور آپؐ سے وہاں کے بدمعاشوں نے سخت ظلم کا سلوک کیا اور آپؐ کے پیچھےلڑکے اور کتے لگا دیے تو آپؐ کو واپس مکہ میں آنا پڑا لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے۔اور آپؐ کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھااس وقت مطعم بن عدی نے آگےآکر آپؐ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپؐ کو پناہ د ی۔
یہ وہ احسانات تھےجو مطعم بن عدی نے آپؐ پر کیے تھے۔اور جبیرؓ بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کر تا ہے کہ آ پ ؐکو ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کاش وہ زندہ ہو تا۔اور میں اس کے احسانات کا بدلہ اتارتا۔

چونکہ مطعم نے آپؐ کو اور آپؐ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کو شش کی تھی جس میں آپؐ بوجہ قریش کے غیر منصفا نہ معاہدہ کے گرفتار تھے۔اور پھر اس وقت جبکہ آپؐ کے دشمن آپؐ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پرآمادہ تھے آپؐ کو پناہ دی تھی۔آپؐ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کرکےکہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میںخیال کر تے تھے آج میرے ہا تھ میں گرفتار ہیں فوراً مطعم کے اس احسان کی طرف گئی اور اس احسان کو یاد کرکے فر ما یا کہ جس طرح مطعم نے ہمیں قید سے آزاد کر وایا تھا اور دشمنوں کی تکلیف سے بچایا تھا آج اگر وہ زندہ ہوتا تو ایسے خطر ناک دشمنوں کو میں اس کی سفارش سے قید سے آزاد کر دیتا ۔ اور ہر ایک تکلیف سے امن دے دیتا۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button