خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ (20؍ستمبر 2019ء)

خطبہ جمعہ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍ ستمبر 2019ء بمطابق 20؍تبوک 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، سرے (یوکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

بدری صحابہ کے ذکر میں سے آج جن کے ذکر سے شروع کروں گا وہ ہیں حضرت یزید بن رُقَیشؓ۔ حضرت یزیدؓ کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو اسدبن خزیمہ سے تھا اور حضرت یزیدؓ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔

(السیرة النبویۃ لابن ہشام صفحہ460، باب من حضر بدراً من المسلمین، دارالکتب العلمیہ بیروت2001ء)

بعض نے ان کا نام اَرْبَدْ بھی بیان کیا ہے لیکن یہ درست نہیں۔

(اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ لابن اثیر جلد5 صفحہ452، یزید بن رُقَیش ،دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)

حضرت یزیدؓ کے والد کا نام رُقیش بن رئابتھا اور ان کی کنیت ابو خالد تھی۔ حضرت یزیدؓ غزوۂ بدر، احد اور خندق سمیت تمام دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ شریک ہوئے۔

حضرت یزیدؓ نے غزوۂ بدر میںطَیء قبیلے کے ایک شخص عَمْرو بن سفیان کو قتل کیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ50،یزید بن رُقَیش، داراحیاء التراث العربی1996ء)
(السیرة النبویۃ لابن ہشام صفحہ480، باب من قتل ببدر من المشرکین، دارالکتب العلمیہ بیروت2001ء)

حضرت یزیدؓ کے ایک بھائی کا نام حضرت سعید بن رُقَیشؓ تھا جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ہم راہ مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی، جن کا شمار اولین مہاجرین میں ہوتا ہے۔

(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر جلد2صفحہ475، سعید بن رُقَیش،دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)

حضرت یزیدؓ کے ایک بھائی کا نام حضرت عبدالرحمٰن بن رُقَیشؓ تھا جو غزوۂ احد میں شریک ہوئے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الرابع صفحہ370،یزید بن رُقَیش، داراحیاء التراث العربی1996ء)

حضرت یزیدؓ کی ایک بہن کا نام حضرت آمنہ بنت رُقَیشؓ تھا جنہوں نے شروع میں ہی مکّے میں اسلام قبول کر لیا تھا اور انہوں نے بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینے کی طرف ہجرت کی تھی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثامن صفحہ371،آمنہ بنت رُقَیش، داراحیاء التراث العربی1996ء)

حضرت یزیدؓ جنگِ یمامہ کے روز 12 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ50،یزید بن رُقَیش، داراحیاء التراث العربی1996ء)

اس جنگ کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے، ایک دفعہ پہلے بھی کچھ میں تھوڑا سا مختصر بیان کر چکا ہوں۔

جنگِ یمامہ حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں 11ہجری میں ہوئی تھی۔ بعض مؤرخین کے مطابق 12 ہجری میں ہوئی تھی۔ یہ جنگ مسیلمہ کذّاب کے خلاف یمامہ کے مقام پر لڑی گئی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عکرمہؓ بن ابوجہل کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ ان کے پیچھے ان کی مدد کے لیے حضرت شُرَحْبِیل بن حسنہؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔ حضرت عکرمہؓ نے حضرت شُرَحْبِیلؓ کے پہنچنے سے پہلے ہی مسیلمہ سے لڑائی شروع کر دی تا کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر ہو لیکن مسیلمہ سے انہیں شکست ہوئی۔ اس واقعے کی اطلاع جب حضرت شُرَحْبِیلؓ کوملی تو وہ راستے میں رک گئے۔ حضرت عکرمہؓ نے اپنی سرگذشت حضرت ابوبکرؓ کو لکھی تو حضرت ابوبکرؓ نے انہیں لکھا کہ نہ تم مجھے اس حالت میں ملو اور نہ میں تمہیں دیکھوں اور نہ مدینے واپس آؤ جس سے لوگوں میں بزدلی پیدا ہو بلکہ اپنے لشکر کو لے کر اہل عمان اور مَھرہ کے باغیوں کے ساتھ جا کر لڑائی کرو۔ اس کے بعد یمن اور حضرموت میں باغیوں کے ساتھ جا کر لڑو۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت شُرَحْبِیلؓ کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولیدؓ کے آنے تک اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کو مسیلمہ کذّاب کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک بڑی جماعت روانہ فرمائی۔ انصار کی جماعت کے سردار حضرت ثابت بن قَیسؓ اور مہاجرین کے سردار حضرت ابو حُذَیفہ اور حضرت زید بن خطابؓ تھے۔ حضرت شُرَحْبِیلؓ نے حضرت خالدؓ کے آنے سے پہلے مسیلمہ کذّاب کے خلاف جنگ شروع کر دی اور پسپا ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کے لیے حضرت سَلِیطؓ کی قیادت میں مزید کُمک روانہ کر دی تا کہ پیچھے سے کوئی ان پر حملہ نہ کر سکے۔ حضرت ابوبکرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ میں بدری صحابہ کو استعمال کروں۔ میں انہیں اس حال میں چھوڑنا پسند کرتا ہوں کہ وہ اپنے صالح اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے اور نیک لوگوں کی برکت سے اس سے زیادہ افضل طور پر مصائب کو رفع کر دیتا ہے بجائے اس کے کہ ان سے عملی طور پر مدد لی جائے لیکن بہرحال مجبوریوں کی وجہ سے شامل بھی ہوئے تھے لیکن حضرت عمرؓ کی رائے اس کے برعکس تھی وہ بدری صحابہؓ کو لشکر وغیرہ میں استعمال فرما لیا کرتے تھے۔

بہرحال اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی جبکہ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔ مسیلمہ کذّاب کے ساتھ ایک شخص نَھَارُ الرِّجَال بِنْ عُنْفُوَہْ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں قرآن کریم اور دین کے مسائل سیکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل ِیمامہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا تا کہ وہ مسیلمہ کذّاب کے دعویٔ نبوت کی تردید کرے۔ وہاں جا کر یہ شخص مرتد ہو گیا اور اس بات کی شہادت دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، جھوٹی گواہی ایک دے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسیلمہ کو میرے ساتھ نبوت میں نعوذ باللہ شریک کر دیا گیا ہے۔ بہرحال جب یہ مرتد ہوتے ہیں پہلے بھی اور آج بھی اسی طرح غلط الزام اور جھوٹی باتیں منسوب کرنا ایسے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ بہرحال مسیلمہ کے قبیلہ بنو حَنیفہ پر اس شخص کے ارتداد کا مسیلمہ کے دعویٔ کی نسبت سے کہیں زیادہ برا اثر پڑا کیونکہ یہ تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کے زیر اثر بھی لوگ تھے۔ جب اس نے یہ باتیں کہیں، مسیلمہ کے دعویٔ نبوت کا تو اتنا اثر نہیں تھا لیکن اس کی باتوں سے لوگوں نے اثر لینا شروع کر دیا۔ اس کی گواہی کو سب نے تسلیم کیا اور نتیجةً مسیلمہ کی اطاعت کر لی اور اس سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھو۔ اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں تو ہم پھر اس کے مقابلے میں تمہاری مدد کریں گے۔ ان کی طرف سے یہ بغاوت کا اعلان ہی دراصل جنگ کی اصل وجہ تھی۔

جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ حضرت خالدؓ قریب آ گئے ہیں، اس جنگ کا جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، حضرت خالدؓ کو بھیجنے کا ، حضرت ابوبکرؓ نے جو بھیجا تھا تو اب آگے یوں ذکر ملتا ہے کہ حضرت خالدؓ کے متعلق جب معلوم ہوا کہ قریب آ گئے ہیں تو اس نے عُقْرَبَا مقام پر اپنا پڑاؤ ڈالا اور لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔ لوگ بہت بڑی تعداد میں اس کی طرف آنے لگے۔ اسی دوران مُجّاعہ بن مُرارہ ایک گروہ کے ساتھ باہر نکلا تو مسلمانوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔ حضرت خالدؓ نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور مُجّاعہکو زندہ رکھا۔ یہ جنگ کے لیے نکلے تھے کیونکہ قبیلہ بنو حنیفہ میں اس کی بہت عزت ہوتی تھی۔ ان کے لیڈر کو نہیں مارا، قیدی بنا لیا۔ مسیلمہ کے بیٹے شُرَحْبِیل نے بنو حنیفہ کو انگیخت کرتے ہوئے کہا کہ آج حمیت دکھانے کا دن ہے۔ جب اس کو پکڑا گیا تو مسیلمہ کے بیٹے نے ان کے اس قبیلے کو انگیخت کرائی کہ اگر آج تم نے شکست کھائی تو تمہاری عورتیں لونڈیاں بنا لی جائیں گی اور بغیر نکاح کے ان سے نفع اٹھایا جائے گا لہٰذا آج تم اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے پوری جواں مردی دکھاؤ اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔ بہرحال جنگ شروع ہوئی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہؓ کے پاس تھا جبکہ اس سے قبل وہ عبداللہ بن حفصؓ کے پاس تھا لیکن وہ شہید ہو گئے تھے اور انصار کا جھنڈا حضرت ثابت بن قیسؓ کے پاس تھا۔ گھمسان کی جنگ ہوئی اور وہ جنگ ایسی تھی کہ مسلمانوں کو اس سے پہلے ایسی جنگ کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس جنگ میں مسلمان پسپا ہو گئے اور بنو حنیفہ کے لوگ مُجّاعہکو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے، جس کو حضرت خالدؓ نے قیدی بنایا تھا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے خیمہ کا قصد کیا، وہاں گئے اس طرف بڑھے۔ اس وقت حضرت خالدؓ کی بیوی خیمے میں تھی۔ ان لوگوں نے حضرت خالدؓ کی بیوی کو قتل کرنا چاہا تو مُجّاعہ نے کہا کہ میں نے اسے پناہ دی ہے، انہیں قتل کرنے سے روک دیا۔ مُجّاعہ نے انہیں مردوں پر حملہ کرنے کا کہا اس پر وہ خیمے کو کاٹ کر چلے گئے۔ جنگ پھر سخت ہو گئی اور قبائل بنو حنیفہ سب مل کر سخت حملہ کرنے لگے۔ اس روز کبھی مسلمانوں کا پلڑا بھاری ہوتا کبھی کافروں کا۔ اس جنگ میں حضرت سالمؓ، حضرت ابوحذیفہؓ، حضرت زید بن خطابؓ جیسے معزز صحابہ کرام شہید ہوئے۔
حضرت خالدؓ نے جب مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے ہر قبیلے کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا تا کہ مصائب کا اندازہ لگایا جا سکے اور معلوم ہو سکے کہ کہاں سے مسلمانوں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جنگ میں صفوں کو الگ الگ درست کیا تو مسلمان ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آج کے دن ہم کو فرار کرنے میں شرم محسوس ہو رہی ہے یعنی بڑی قابل شرم بات ہے جو ہمارا حال ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ کوئی مصیبت کا دن نہ تھا۔ مسیلمہ ابھی تک اپنی جگہ پر قائم تھا اور کفار کی طرف سے جنگ کا مرکز تھا۔ حضرت خالدؓ نے یہ پتا کر لیا یہ ان کو احساس ہو گیا کہ جب تک اسے قتل نہیں کیا جائے گا تب تک جنگ بند نہیں ہو گی۔ اس پر حضرت خالدؓ آگے نکلے اور انہوں نے مبارزت طلب کی اور جنگی شعار کا نعرہ لگایا جو اس وقت یَا مُحَمَّدَاہ تھا۔جو بھی میدان میں آیا تو وہ قتل ہوا۔ اس پر مسلمان حرکت میں آئے ۔پھر حضرت خالد نے مسیلمہ کو پکارا۔ وہ سامنے نہیں آیا اور بھاگ گیا اور اپنے ساتھیوں سمیت ہی اپنے باغ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا اور باغ کا دروازہ بند کر دیا ۔ مسلمانوں نے اس باغ کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت براء بن مالکؓ نے کہا کہ اے مسلمانو! تم مجھے دیوار پر چڑھا کر اندر اتار دو۔بڑے جرأت مند، بہادر شخص تھے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے مگر حضرت براءؓ نہیں مانے اور اصرار کیا کہ آپ لوگ مجھے کسی طرح اس باغ کے اندر ڈال دیں۔ چنانچہ مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھایا اور وہاں سے وہ دشمنوں میں کُود پڑے اور باغ کے اندر چلے گئے۔ اندر جا کے انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ مسلمان باغ کے اندر داخل ہوئے۔ پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔ وحشی نے مسیلمہ کو قتل کیاہو۔ یہ شخص وحشی وہی ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔ بہرحال ایک روایت کے مطابق وحشی اور ایک انصاری نے مشترکہ طور پر مسیلمہ کو قتل کیا تھا۔ وحشی نے اپنا بھالا مسیلمہ کی طرف پھینکا اور انصاری نے اپنی تلوار سے اس پر وار کیا۔ دونوں نے ایک ہی وقت میں وار کیا تھا اس لیے بعد میں وحشی کہا کرتے تھے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے کس کے وار نے اس کا کام تمام کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے چیخ کر یہ اعلان کیا کہ مسیلمہ کو سیاہ غلام نے قتل کر دیاہے۔ اس لیے یہ بھی زیادہ امکان ہے کہ وحشی نے قتل کیا۔ حضرت خالدؓ نےمُجّاعہ کے ذریعے مسیلمہ کی لاش کا پتا معلوم کروایا۔

مُجّاعہ نے حضرت خالدؓ سے کہا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں آنے والے لوگ جلد باز اور ناتجربہ کار تھے۔ تمام قلعے جو ہیں وہ بڑے تجربہ کار فوجیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے میرے سے صلح کر لیں اگر اب جنگ کی تو مسلمانوں کا اَور زیادہ نقصان ہو گا۔ بڑی چال چلی اس نے۔ حضرت خالد نے مُجّاعہسے اس شرط پر صلح کر لی کہ صرف جانیں معاف کر دی جائیں گی، تمہیں چھوڑ دیا جائے گا، کچھ نہیں کہا جائے گا، قیدی نہیں بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر شے پر مسلمان قبضہ کر لیں گے۔

مُجّاعہہوشیار آدمی تھا اس نے کہاکہ میں قلعے والوں کے پاس جاتا ہوں اور ان سے مل کر مشورہ کر کے آتا ہوں۔ مسیلمہ تو قتل ہو چکا تھا اس لیے طاقت تو ان کی ٹوٹ چکی تھی لیکن اس کی ہوشیاری پھر ان کافروں کے کام آئی۔ مُجّاعہقلعے میں آیا تو وہاں سوائے عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کے اور کمزوروں کے اَور کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے یہ چال چلی کہ عورتوں کو زرہیں پہنائیں اور ان سے کہا کہ میری واپسی تک تم قلعے کی فصیل پر جا کر اوپر کھڑی ہو جاؤ اوپر اور جنگ کا شعار جو ہے برابر بلند کرتی رہو۔ حضرت خالدؓکے پاس آ کر اس نے کہا کہ جس شرط پر میں نے تم سے صلح کی تھی قلعے والے اسے نہیں مانتے، یعنی جانوں کی آزادی اور باقی سب مال مسلمانوں کا۔ اور ان میں سے بعض اپنے انکار کے اظہار کے لیے فصیلوں پر نمودار ہیں اور میں ا ن کی ذمہ داری نہیں لے سکتا، وہ میرے قابو سے باہر ہیں۔ حضرت خالد نے قلعوں کی طرف دیکھا تو وہاں دیکھا کہ وہ سپاہیوں سے بھرے ہوئے تھے، عورتوں نے وہ لباس پہنے ہوئے تھے اس کی چال کی وجہ سے وہاں کھڑی تھیں۔ اس شدید لڑائی میں خود مسلمانوں کو نقصان پہنچا تھا، لڑائی بہت طویل ہوگئی تھی مسلمان چاہتے تھے کہ فتح حاصل کر کے جلد واپس چلے جائیں چنانچہ حضرت خالد نے مُجّاعہسے اس شرط پر صلح کر لی کہ تمام سونا چاندی مویشی اور نصف لونڈی و غلام حضرت خالدؓ کے قبضہ میں دے دیے جائیں گے اور ایک قول کے مطابق چوتھائی قیدیوں پر صلح کر لی۔

اس جنگ میں مسلمانوں کی جانب سے مدینے کے مہاجرین و انصار میں سے تین سو ساٹھ اور مدینے کے علاوہ تین سو مہاجرین شہید ہوئے جبکہ بنو حنیفہ میں سے عَقْرَبا کے میدان میں سات ہزار اور باغ میں سات ہزار اور فرار ہونے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے بھی سات ہزار کفار کو قتل کیا گیا۔ جب یہ لشکر مدینہ واپس پہنچا تو حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہؓ سے فرمایا کہ تُو زید سے قبل کیوں نہ شہید ہوا۔ زیدؓ شہید ہو گیا جبکہ تُو ابھی بھی زندہ ہے ،کیوں نہ تم نے مجھ سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے عرض کیا کہ حضرت زیدؓ نے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگی اور اللہ نے انہیں وہ عطا کر دی اور میں نے اس کی کوشش کی کہ میری طر ف بھی لائی جائے مگر مجھے وہ حاصل نہ ہو سکی۔ بہرحال اسی سال جنگ یمامہ میں صحابہ کرام کی بکثرت شہادتوں کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے تدوین ِقرآن کا حکم دیا تا کہ کہیں قرآن کریم ضائع نہ ہو جائے۔ اس کو جمع کیا گیا۔ یہ یمامہ کی تفصیل تھی۔

(ماخوذ ازالکامل فی التاریخ جلد2 صفحہ218تا223،سنۃ احدی عشر،ذکر مسیلمہ واھل یمامہ،دارالکتب العلمیہ بیروت2006ء)(ماخوذ ازتاریخ الطبری جلد 3 صفحہ300-310باب ذکر بقیہ خبر مسیلمہ الکذّاب وقومہ من اھل الیمامہ،دارالفکر بیروت2002ء)

(ماخوذ از تاریخ ابن خلدون مترجم علامہ حکیم احمد حسین الٰہ آبادی، جلد 3 حصہ اول صفحہ 231دارالاشاعت کراچی 2003ء )

اب اگلے جن صحابی کا ذکر ہو گا ان کا نام ہے حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ۔ ان کا نام عبداللہ بن مَخْرَمہؓ تھا اور کنیت ابومحمد تھی۔ ان کا تعلق قبیلہ بنو عامر بن لُؤیّ سے تھا۔ انہیں عبداللہ اکبر بھی کہا جاتا تھا۔ یہ ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد کا نام مَخْرَمہ بن عبدالعُزّٰی اور والدہ کانام بَہْنانہ بنت صفوان تھا۔ حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کی اولاد میں ایک بیٹے مساحق کا ذکر ملتا ہے جو ان کی بیوی زینب بنت سراقہ سے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ اوائل میں اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔ حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کو دو ہجرتیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔ ابن اسحاق نے حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے جنہوں نے حضرت جعفرؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ یونس بن بُکَیر، سلمہ اور بُکائی نے ابن اسحاق کا یہ قول بیان کیا ہے جس میں انہوں نے حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت کا ذکر کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ جب مدینہ ہجرت کر کے پہنچے تو انہوں نے حضرت کلثوم بن ہِدْمْؓ کے گھر قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کی مؤاخات حضرت فروہ بن عَمْرو انصاریؓ سے کروائی۔ حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ غزوۂ بدر اور بعد کے باقی تمام غزوات میں شامل ہوئے۔

حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ جب جنگِ بدر میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر تیس سال تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں جب یہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 308-309 ’’عَبْد اللہ بن مَخْرَمَہ‘‘ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بِنْ لُؤَيٍّ۔دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 1990ء)(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الثالث صفحہ377- 378 ‘‘عبد اللہ بن مَخْرَمہ’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)

حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کا جذبہ شہادت انتہائی حد تک بڑھا ہوا تھا ۔چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے تھے کہ مجھے اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک میں اپنے جسم کے ہر جوڑ پر خدا کی راہ میں لگا زخم نہ دیکھ لوں۔ چنانچہ جنگِ یمامہ کے روز ان کے جوڑوں پر زخم پہنچے جن کی وجہ سے یہ شہید ہو گئے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد4صفحہ193 عَبْد اللہ بن مَخْرَمہ،دارالفکر بیروت 2001ء )

حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔ جوانی میں بھی بڑی عبادت کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ یمامہ کے سال میں حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ اور حضرت ابوحذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالمؓ ایک ساتھ تھے۔ ہم تینوں باری باری بکریاں چرایا کرتے تھے۔ لشکر کے لیےکچھ مال بھی تھا، اس کی حفاظت کرنی ہوتی تھی ۔ چنانچہ جس دن لڑائی شروع ہوئی وہ دن میرا بکریاں چرانے کا تھا۔ پس میں بکریاں چرا کر آیا تو میں نے حضرت عبداللہ بن مَخْرَمہؓ کو میدانِ جنگ میں زخمی حالت میں گرا ہوا پایا تو میں ان کے پاس ٹھہر گیا۔ انہوں نے کہا اے عبداللہ بن عمرؓ ! کیا روزہ دار نے افطاری کر لی ہے؟ شام کا وقت ہو گیا تھا، میں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا کہ اس ڈھال میں کچھ پانی دے دو کہ میں اس سے افطار کر لوں۔ وہ جنگ میں بھی روزے کی حالت میں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں پانی لینے چلا گیا مگر جب میں واپس آیا تو وہ وفات پا چکے تھے۔

(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الثالث صفحہ 377 ‘‘عبد اللہ بن مَخْرَمہ’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)

( ماخوذ از سیر الصحابہ جلد دوم صفحہ 570 حضرت عبداللہ مَخْرَمہ ؓ مطبوعہ دار اشاعت کراچی)
حضرت عَمْرو بن مَعْبَدؓ اگلے صحابی ہیں جن کا اب میں ذکر کروں گا۔ حضرت عَمْرو بن مَعْبَدؓ کا نام عمیر بن مَعْبَدؓ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ان کے والد کا نام مَعْبَد بن أَزْعر تھا۔ حضرت عَمْرو بن مَعْبَدؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو ضُبَیْعہ سے تھا۔

(السیرة النبویة لابن ہشام صفحہ 465 ، باب الانصار و من معھم ، دار الکتب العلمیة بیروت 2001)

حضرت عَمْرو بن مَعْبَدؓ غزوۂ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ حضرت عَمْرو بن مَعْبَدؓ غزوۂ حنین کے روز ان سو بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے صحابہ میں سے تھے جن کے رزق کا کفیل اللہ تعالیٰ ہو گیا تھا۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ353 ‘‘عمیر بن مَعْبَد’’ ، دارالکتب العلمیة بیروت لبنان 2012ء) جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے رہے۔ ایک روایت میں یہ بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ غزوۂ حنین کے دن ہماری صورتِ حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں پیٹھ پھیرے ہوئے تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے۔

(سنن الترمذی ابواب الجہاد بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّبَاتِ عِنْدَ القِتَالِ حدیث 1689)

غزوۂ حنین کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ ثابت قدم رہنے والے صحابہ کی تعداد کے متعلق مختلف آرا ہیں۔ ان کے مطابق ایسے صحابہ کی تعداد اسّی اور سو کے درمیان تھی۔

(سبل الهدیٰ و الرشاد جلد 05 صفحہ 484، ذکر من ثبت مع رسول اللہ ﷺ یوم حنین، دار احیاء التراث قاھرہ، 1992)

بعض کہتے ہیں سو تھی، بہرحال یہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔

پھر جن صحابی کا ذکراس وقت کروں گا ان کا نام ہے حضرت نعمان بن مالکؓ۔ حضرت نعمان بن مالکؓ کا نام نعمان بن قَوقَل بھی بیان کیا جاتا ہے۔ امام بخاری نے ان کا نام ابن قوقل بیان کیا ہے۔ علامہ بدرالدین عینی جو ایک عالم تھے وہ بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ابن قوقل کا مکمل نام نعمان بن مالک بن ثعلبہ بن اصرم تھا اور ثعلبہ یا اَصْرَم کا لقب قوقل تھا اور نعمان اپنے دادا کی طرف منسوب ہوتے تھے اس لیے انہیں نعمان بن قوقل کہا جاتا تھا۔

(صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر باب الکافر یقتل المسلم…… حدیث 2827)

(عمدۃ القاری جلد14 صفحہ 182-183 کتاب الجہاد والسیر باب الکافر یقتل المسلم…… ، دار احیاء التراث العربی بیروت 2003)

حضرت نعمان بن مالکؓ کی چال میں ذرا لنگڑا پن پایا جاتا تھا۔

(معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم جلد 04 صفحہ 317، باب النون، 2850-النعمان بن قوقل الانصاری، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002)

حضرت نعمان بن مالکؓ کے والد کا نام مالک بن ثعلبہ اور والدہ کا نام عَمْرہ بنت ذیاد تھا اور وہ حضرت مُجَذَّر بن ذیاد کی ہمشیرہ تھیں۔ حضرت نعمانؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو غَنَم ْسے تھا۔ یہ قبیلہ قوقل کے نام سے مشہور تھا۔ ابن ہشام کے نزدیک حضرت نعمان بن مالکؓ نعمان قوقل کے نام سے بھی مشہور تھے اور ابن ہشام نے ان کا قبیلہ بنو دَعْدبھی بیان کیا ہے۔ قوقل کیوں کہلاتے تھے پچھلی دفعہ بھی ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں کہ جب مدینے میں کسی سردار کے پاس کوئی شخص پناہ کا طلب گار ہوتا تو اسے یہ کہا جاتا تھا کہ اس پہاڑ پر جیسے مرضی چڑھ۔ یعنی اب تو امن میں ہے، جس طرح مرضی رہ اور تُو اس حالت میں لوٹ جا کہ تو فراخی محسوس کر، کوئی تنگی نہیں اب تجھے اور کسی چیز کا خوف نہ کھا اور وہ لوگ جو پناہ دینے والے تھے وہ قواقلہ کے نام سے مشہور تھے۔ تاریخ لکھنے والے ابن ہشام یہ کہتے ہیں کہ ایسے سردار جب کسی کو پناہ دیتے تو اسے ایک تیر دے کر کہتے اس تیر کو لے کر اب جہاں مرضی جا۔ حضرت نعمانؓ کے دادا ثعلبہ بن دعد کو قوقل کہا جاتا تھا۔ پناہ دینے والوں میں سے تھے ۔اسی طرح خزرج کے سردار غنم بن عوف کو بھی قوقل کہا جاتا تھا۔ اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت بھی قوقل کے لقب سے مشہور تھے۔ بنو سالم، بنو غنم اور بنو عوف بن خزرج کو بھی قواقلہ کہا جاتا تھا۔ بنو عوف کے سردار حضرت عبادہ بن صامت تھے۔

حضرت نعمان بن مالکؓ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ انہیں صفوان بن امیہ نے شہید کیا تھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نعمان بن مالکؓ کو اَبان بن سعید نے شہید کیا تھا۔ حضرت نعمان بن مالکؓ حضرت مُجَذَّر بن ذیاد اور حضرت عبادہ بن حِسْحاس کو غزوۂ احد کے موقع پر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ414 ‘‘النعمان بن مالک’’ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان 2012ء)(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 158-159 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2008ء)(السیرة النبویۃ لابن ہشام 560صفحہ ذِكْرُ مَن اسْتُشْهِدَ بِأُحُدِ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ صفحہ 468 الانصار ومن معھم ، دار الکتب العلمیہ بیروت 2001)(عمدۃ القاری جلد 14 صفحہ 182 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 2003ء)

حضرت نعمان بن مالکؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوۂ احد کے لیے نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عبداللہ بن أبی بن سلول سے مشورہ کے وقت عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بخدا میں جنت میں ضرور داخل ہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ تو حضرت نعمانؓ نے عرض کیا اس وجہ سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں لڑائی سے ہرگز نہ بھاگوں گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا۔ چنانچہ وہ اسی روز شہید ہو گئے۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ المجلد الخامس صفحہ 322 ‘‘النعمان بن مالک الخزرجی’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)

خالد بن ابو مالک جعدی روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں یہ روایت پائی کہ حضرت نعمان بن قوقل انصاریؓ نے دعا کی تھی کہ مجھے تیری قسم اے میرے رب! ابھی سورج غروب نہیں ہو گا کہ میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ جنت کی سرسبزی میں چل رہا ہوں گا۔ چنانچہ وہ اسی روز شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی کیونکہ میں نے اسے دیکھا، یہ کشفی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپؐ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ جنت میں چل رہا تھا اور اس میں کسی قسم کا لنگڑا پن یا لڑکھڑاہٹ نہیں تھی۔

(معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم جلد 04 صفحہ 317، النعمان بن قوقل الانصاری، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے جبکہ صحابہ اسے فتح کر چکے تھے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! مجھے بھی حصہ دیں۔ سعید بن عاص کے ایک بیٹے نے کہا کہ یا رسول اللہ! اسے حصہ نہ دیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓنے کہا کہ یہ نعمان بن قوقل کا قاتل ہے۔ ابن سعید بن عاص نے کہا کہ اس پر تعجب ہے ہم پر اکڑتا ہے۔ ابھی ضأن پہاڑی، جو تہامہ کے علاقہ میں ہے اور حضرت ابوہریرہ کے قبیلے دوس کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے کہتے ہیں اس کی چوٹی پر سے بکریاں چراتا ہمارے پاس آ گیا ہے اور مجھ پر عیب لگاتا ہے کہ میں نے ایک مسلمان مرد کو قتل کر دیا تھا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ جس کو اللہ نے میرے ہاتھ سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔ بڑا ہوشیاری سے بیان دیا۔ سفیان کہتے تھے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ دیا یا نہیں۔

(صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر بَابُ الكَافِرِ يَقْتُلُ المُسْلِمَ …… حدیث 2827 )(معجم البلدان جلد 2 صفحہ 223)

حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضرت نعمان بن قوقلؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر میں فرض نمازیں ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حرام چیزوں کو حرام قرار دوں اور حلال چیزوں کو حلال قرار دوں اور اس پر کچھ بھی زیادہ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! مَیں اس پر کچھ بھی زیادہ نہ کروں گا۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 23 صفحہ 78 مسند جابر بن عبد اللہ ، مؤسسۃ الرسالۃ 2008)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقلؓ مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اے نعمان! دو رکعتیں ادا کرو۔ یہ جمعہ کی جو سنتیں ہیں ان کا بھی مسئلہ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ،آپؐ نے انہیں کہا کہ دو رکعتیں ادا کرو اور ان میں اختصار سے کام لو۔ مختصر طور پر جمعہ کی سنتیں پہلے پڑھ لو ۔ خطبہ شروع ہو گیا ہے دو رکعت ادا کرو اور مختصر پڑھو۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دو رکعت نماز پڑھے اور وہ دونوں رکعتیں ہلکی ہوں۔

(معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم جلد 04 صفحہ 317، النعمان بن قوقل الانصاری، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002)

پھر جن صحابی کا اس وقت ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت خُبَیْب بن عدی انصاریؓ۔ حضرت خُبَیْب بن عدیؓ انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو جَحْجَبٰی بن عوفسے تعلق رکھتے تھے۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جزء1 صفحہ681 ، ‘خُبَیْب بن عدی’ دار الفکر 2003ء)

حضرت عمیر بن ابو وقاصؓ نے جب مکّے سے مدینے ہجرت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت خُبَیْب بن عدیؓ کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔

(عیون الاثر جلد اول صفحہ 232 ذکر المؤاخات، دارالقلم بیروت، 1993ء)

حضرت خُبَیْب بن عدیؓ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور انہوں نے اس جنگ میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ غزوۂ بدر میں مجاہدین کے اسباب کی نگرانی ان کے سپرد تھی۔

(سیرالصحابہ جلد 3 حصہ چہارم صفحہ 309 ادارۂ اسلامیات لاہور)

حضرت خُبَیْب بن عدیؓ چار ہجری میں واقعۂ رجیع میں شامل تھے۔ حضرت خُبَیْب بن عدیؓ اور حضرت زید بن دَثِنَہؓ کو مشرکین نے قید کر لیا اور انہیں مکہ ساتھ لے گئے اور مکّے پہنچ کر ان دونوں صحابہ کو فروخت کر دیا گیا۔ حارث بن عامر کے بیٹوں نے حضرت خُبَیْبؓ کو خریدا تا کہ وہ اپنے باپ حارث کے قتل کا بدلہ لے سکیں جسے بدر کے روز خُبَیْبؓ نے قتل کیا تھا۔ ابن اسحاق کے مطابق حُجَیْر بن ابو اِھاب تمیمی نے حضرت خُبَیْبؓ کو خریدا تھا جو حارث کی اولاد کا حلیف تھا۔ اس سے حارث کے بیٹے عقبہ نے حضرت خُبَیْبؓ کو خریدا تھا تا کہ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لے سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عُقبہ بن حارث نے حضرت خُبَیْبؓ کو بنو نجار سے خریدا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو اِھاب، عکرمہؓ بن ابوجہل، اَخْنَس بن شُرَیْق، عبیدہ بن حکیم، امیہ بن ابو عُتْبہ حضرمی کے بیٹوں نے اور صفوان بن امیہ نے مل کر حضرت خُبَیْبؓ کو خریدا تھا۔ یہ سب وہ افراد تھے جن کے آباء غزوۂ بدر میں قتل کیے گئے تھے۔ ان سب نے حضرت خُبَیْبؓ کو خرید کر عُقبہ بن حارث کو دے دیا تھا جس نے انہیں اپنے گھر میں قید کر لیا تھا۔

(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء2 صفحہ23تا25،‘خُبَیْب بن عدی’ دار الکتب العلمیۃ بیروت2002ء)

(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 513)

بخاری میں واقعۂ رجیع کی بابت کچھ تفصیلات یوں بیان ہوئی ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کا ایک دستہ حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا اور عاصم بن ثابت انصاریؓ کو جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے اس کا امیر مقرر کیا۔ یہ لوگ چلے گئے۔ جب ھَدَأَہ مقام پر پہنچے جو عُسْفان اور مکّے کے درمیان ہے تو ان کے متعلق کسی نے بنو لَحْیان کو خبر کر دی جو ھُذیلقبیلے کا ایک حصہ ہے۔ یہ خبر سن کر بنو لَحْیان کے تقریباً دو سو آدمی جو سب کے سب تیر انداز تھے نکل کھڑے ہوئے اور ان کے قدموں کے نشانوں پر ان کے پیچھے پیچھے گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے وہ جگہ دیکھ لی، وہاں تک پہنچ گئے جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں ۔جہاں یہ دس آدمی رکے تھے اور کھجوریں کھائی تھیں جو مدینے سے بطور زادِ راہ کے لے کے آئے تھے، سفر کے کھانے پینے کا سامان لے کے آئے تھے، تو وہاں بیٹھ کر انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔ وہاں کھجوروں کی گٹھلیاں پھینکیں تو انہیں دیکھ کر انہوں نے کہا کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں، مدینے کی کھجوریں ہیں اور پھر وہ قدموں کے نشان پر ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے ان کو آتے دیکھا تو انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے لی۔ ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے کہ نیچے اتر آؤ اور تم اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو اور ہماری طرف سے تمہارے لیے یہ عہد ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت جو اس دستے کے امیر تھے بولے کہ یقیناً اگر میں اپنے آپ کو سپرد کروں گا تو آج کافر کی امان پر ٹیلے سے اترنا ہو گا اور میں کافر کی امان پر ٹیلے سے نہیں اتروں گا ۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اپنے نبیؐ کو ہمارے متعلق خبر کر دے۔ ان لوگوں نے اس پر تیر چلائے اور عاصم کو سات آدمیوں سمیت مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر تین آدمی عہد و پیمان پر اعتماد کرتے ہوئے، ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے پاس نیچے آ گئے۔ ان میں خُبَیْب انصاری اور ابن دَثِنَہ اور ایک اَور شخص تھے۔ جب یہ نیچے آ گئے تو کافروں نے ان کو قابو کر لیا۔ انہوں نے اپنی کمانوں کی تندیاں کھولیں اور ان کی مشکیں کسیں، اس سے ان کو باندھ دیا۔ تیسرا شخص کہنے لگا کہ یہ پہلا دغا ہے۔ بخدا میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میرے لیے ان لوگوں میں راحت بخش نمونہ ہے جو شہید ہوئے۔ میں تو یہیں ہوں۔ شہید کرنا ہے تو کرو۔ انہوں نے اسے کھینچا اور کشمکش کی کہ وہ کسی طرح ان کے ساتھ جائیں مگر وہ نہ مانے۔ آخر انہوں نے ان کو مار ڈالا اور خُبَیْب اور ابن دَثِنَہ کو پکڑ کر لے گئے اور جا کر مکّے میں ان کو بیچ دیا۔ یہ جنگِ بدر کے بعد کا واقعہ ہے اور خُبَیْب کو بنو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے خرید لیا اور خُبَیْب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔ خُبَیْب ان کے پاس قید رہے۔

ابن شہاب کہتے تھے کہ عبیداللہ بن عیاض نے مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے ان سے ذکر کیا کہ جب انہوں نے اتفاق کر لیا کہ انہیں مار ڈالیں گے۔ جنہوں نے ان کو خرید کر قیدی بنایا تھا وہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ اب ان کو قتل کر دینا ہے، شہید کر دینا ہے تو خُبَیْبؓ نے اسی قید کے دوران میں ایک دن ان سے استرا مانگاکہ اسے استعمال کریں۔ یہ بڑا مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس نے استرا دے دیا۔ حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ اس وقت میری بے خبری کی حالت میں میرا ایک بچہ خُبَیْب کے پاس آیا اور انہوں نے اس کو لے لیا۔ اس نے کہا کہ میں نے خُبَیْبؓ کو دیکھا کہ وہ بچے کو اپنی ران پر بٹھائے ہوئے ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے۔ میں یہ دیکھ کر اتنا گھبرائی کہ خُبَیْبؓ نے گھبراہٹ کو میرے چہرے سے پہچان لیا اور بولے تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔ میں تو ایسا نہیں ہوں کہ یہ کروں۔ حارث کی بیٹی کہا کرتی تھی کہ بخدا میں نے کبھی ایسا قیدی نہیں دیکھا جو خُبَیْب سے بہتر ہو۔ پھر کہنے لگی کہ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن ان کو دیکھا کہ خوشہ انگور ان کے ہاتھ میں تھے، انگوروں کا ایک گچھا ان کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس سے انگور کھا رہے تھے اور وہ زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور ان دنوں مکّے میں کوئی پھل بھی نہ تھا۔ کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خُبَیْبؓ کو دیا۔ جب ان لوگوں کو حرم سے باہر لے گئے کہ ایسی جگہ قتل کریں جو حرم نہیں ہے تو خُبَیْبؓ نے ان سے کہا مجھے اجازت دو کہ میں دو رکعتیں نماز پڑھ لوں اور انہوں نے ان کو اجازت دے دی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں اور کہنے لگے مجھے یہ گمان نہ ہوتا کہ تم یہ خیال کرو گے کہ میں اس وقت جس حالت میں نماز میں ہوں گھبراہٹ کا نتیجہ ہے ، مجھےکوئی مرنے کی گھبراہٹ ہے تو میں ضرور یہ نماز لمبی پڑھتا۔ پھر انہوں نے اپنے خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔ جب ان کو شہید کرنے لگے اس وقت انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔ پھر حضرت خُبَیْبؓ نے یہ شعر بھی پڑھےکہ

وَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا

عَلٰی اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِیْ

وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَأْ

یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ

کہ جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جا رہا ہوں مجھے پروا نہیں کہ کس کروٹ اللہ کی خاطر گروں گا اور میرا یہ گرنا اللہ کی ذات کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے کیے ہوئے جسم کے جوڑوں کو برکت دے سکتا ہے۔

علامہ حجر عسقلانی جو بخاری کے شارح ہیں وہ غزوۂ رجیع کے تحت ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت خُبَیْب نے شہادت کے وقت یہ دعا مانگی کہ اَللّٰهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا۔ کہ اے اللہ! ان دشمنوں کی گنتی کو شمار کر رکھ۔ یہ جو میرے دشمن ہیں ان کو گنتی کر لے تا کہ ان سے بدلہ لے سکے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْھُمْ اَحَدًا اور انہیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔

(بخاری کتاب المغازی باب ھل یستاسر الرجل؟ …… حدیث 3045)

(فتح الباری شرح صحیح البخاری للامام ابن حجر عسقلانی جزء7 صفحہ488قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی)

بہرحال انہوں نے نفل پڑھے اور آخر حارث کے بیٹے عُقبہ نے حضرت خُبَیْب بن عدیؓ کو وہاں جا کے پھر خُبَیْبؓ کو قتل کر دیا، شہید کر دیا اور ایک اَور روایت بخاری میں ہے اس کے مطابق حضرت خُبَیْب کو ابو سَرْوَعَہ نے قتل کیا تھا اور یہ خُبَیْب ہی تھے جنہوں نے ہر ایسے مسلمان کے لیے دو رکعت پڑھنے کی سنت قائم کی جو اس طرح باندھ کر مارا جائے۔

اللہ نے عاصم بن ثابتؓ کی دعا جس دن وہ شہید ہوئے وہ قبول فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتایا جو پہلے ذکر ہو چکا ہے عاصم بن ثابتؓ نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دے جو اس قافلے کے لیڈر تھے جن میں حضرت خُبَیْبؓ بھی شامل تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو بتایا کہ جو ان لوگوں کے ساتھ واقعہ ہوا ہے اور جو انہیں تکلیف پہنچی تھی اور جب کفارِ قریش کو بعض لوگوں نے بتایا کہ عاصمؓ قتل کیے گئے ہیں تو انہوں نے عاصمؓ کی طرف کچھ آدمیوںکو بھیجا کہ ان کی لاش میں سے ایسا حصہ لائیں کہ جس سے وہ پہچانے جائیں۔ عاصمؓ نے بدر کے دن ان کے بڑے بڑے لوگوں میں سے ایک شخص کو قتل کیا تھا تو عاصمؓ کی لاش پر بھڑوں کا ایک جھنڈ بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا جو سائبان کی طرح اس کے اوپر چھایا رہا اور ان کی لاش کو کفار کے بھیجے ہوئے آدمی کچھ نقصان نہ پہنچا سکے اور ان سے بچا لیا، وہ کوئی ٹکڑہ نہ کاٹ سکے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوہ الرجیع و رعل و ذکوان و بئر معونہ …… حدیث 4086-4087)

حضرت خُبَیْبؓ کو جب شہید کیا جانے لگا تھا تو اُس وقت انہوں نے یہ بھی دعا مانگی کہ اے اللہ! میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک سلام پہنچا سکوں پس تو خود میری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پہنچا دے۔ جب حضرت خُبَیْبؓ قتل کیے جانے کے لیے تختہ پر چڑھے تو پھر دعا کی۔ کہتے ہیں کہ ایک مشرک نے جب یہ دعا سنی کہ اَللّٰهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًاکہ یعنی اے اللہ! ان کی گنتی کو شمار کر رکھ اور ان کو چن چن کر قتل کر تو وہ خوف سے زمین پر لیٹ گیا۔ کہتے ہیں کہ ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو زمین پر لیٹ گیا تھا حضرت خُبَیْبؓ کے قتل میں شریک تمام لوگ زندہ نہ رہے، سب ختم ہو گئے۔ حضرت معاویہ بن ابو سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ اس موقعے پر موجود تھا۔ جب میرے والد نے حضرت خُبَیْب کی دعا سنی تو وہ مجھے زمین پر گرانے لگے۔ اَور بھی کچھ لوگ ہوں گے بہرحال پہلی روایت ہے، ایک دوسری روایت یہ بھی ہے۔ عُروہ بیان کرتے ہیں مشرکین میں سے جو اس موقعے پر موجود تھے ان میں ابو اِھَاب، اَخْنَس بن شُرَیْق، عُبَیْدہ بن حکیم اور امیہ بن عُتبہ شامل تھے۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو بتایا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ نے فرمایا، مجلس لگی ہوئی تھی بیٹھے ہوئے تھے آپؐ نے فرمایا وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا خُبَيْبُ کہ اے خُبَیْب تجھ پر خدا کی سلامتی ہو اور قریش نے انہیں قتل کر دیا ہے۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری للامام ابن حجر عسقلانی جزء7 صفحہ488قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی حدیث نمبر4086)

آپؐ نے یہ بھی فرمایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سلام پہنچانے کا انتظام کر دیا۔ یہ شرح صحیح بخاری کی ہے اس میں یہ لکھا ہے۔

حضرت خُبَیْبؓ کو جب شہید کر دیا گیا تو مشرکین نے ان کا چہرہ قبلے کے علاوہ دوسری طرف کر دیا لیکن ان مشرکین نے حضرت خُبَیْبؓ کا چہرہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دیکھا تو وہ قبلہ رخ تھا۔ وہ لوگ بار بار حضرت خُبَیْبؓ کے منہ کو دوسری طر ف پھیرتے تھے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے چنانچہ مشرکین نے انہیں اسی حال پر چھوڑ دیا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ جزء2 صفحہ227 ، ‘خُبَیْب بن عدی’دار الکتب العلمیہ بیروت2005ء)

ایک اَور روایت میں یہ بھی ہے کہ قریش نے خُبَیْبؓ کو ایک درخت کی شاخ سے لٹکا دیا اور پھر نیزوں کی چوکیں دے دے کر قتل کیا۔ اس مجمعے میں ایک شخص سعید بن عامر بھی شریک تھا۔ یہ شخص بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت تک اس کا یہ حال تھا کہ جب کبھی اسے خُبَیْبؓ کا واقعہ یاد آتا تھا تو اس پر غشی طاری ہو جاتی تھی ظلم کرنے والوں میں یہ شامل تھا بعد میں مسلمان ہو گیا ۔

( ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 515تا516)

ان کے حوالے سے کچھ واقعات اَور بھی ہیں۔ اب یہ آئندہ بیان ہوں گے۔

اس وقت ایک تو میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ شعبہ تاریخ احمدیت جو ہے انہوں نے اپنی ایک ویب سائٹ شروع کی ہے اور اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر مشتمل ہے جس میں تاریخ احمدیت اور سیرت و سوانح سے متعلق جماعتی جو طبع شدہ مواد ہے وہ دیا جا رہا ہے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام، خلفائے احمدیت، اصحابِ احمد، شہدائے احمدیت، درویشانِ قادیان،مبلغین سلسلہ اور دیگر بزرگانِ سلسلہ کی سیرت و سوانح سے متعلق کتب ہیں، مقالہ جات ہیں، مضامین ہیں، یادگار تصاویر ہیں، تاریخِ احمدیت کی جتنی جلدیں اب تک شائع ہو چکی ہیں وہ تمام جلدیں، ذیلی تنظیموں، ممالک اور شہروں کی جماعتی تاریخیں ہیں، بزرگان سلسلہ کی قلمی تحریرات ہیں، بعض تبرکات کی تصاویر ہیں، اخبارات اور رسائل کے اہم اور نادر تراشے ہیں۔ تحقیقی اور تاریخی مضامین دیے گئے ہیں، اہم جماعتی تقاریب اور جماعتی عمارات مثلاً مساجد اور مشن ہاؤسز، مرکزی ادارہ جات، تعلیمی ادارہ جات، ہسپتال، ڈسپنسریز، گیسٹ ہاؤسز وغیرہ کی تصاویر ہیں ان کا حتی الوسع تعارف دیا گیا ہے۔ یوٹیوب کے ایک ویڈیو چینل کے ذریعے ایم ٹی اے کی بعض نادر ڈاکیومنٹریز وغیرہ بھی دی گئی ہیں۔ اس ویب سائٹ میں جماعت احمدیہ کے ابتدا سے اب تک کے اہم تاریخی واقعات پر مشتمل timeline بھی دی جا رہی ہے۔ تو ان شاء اللہ جمعے کے بعد میں اس ویب سائٹ کو لانچ بھی کر دوں گا۔

دوسری ایک افسوسناک خبر ہے کہ ہمارے پرانے مشنری صفی الرحمٰن خورشید صاحب جو افریقہ میں بھی اور جگہوں پر بھی مبلغ رہے ہیں اور پھر نصرت آرٹ پریس کے مینیجر تھے۔ ابن حکیم حفیظ الرحمٰن سنوری صاحب۔ 16؍ستمبر کو 75سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پا گئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کا میں جنازہ غائب ابھی پڑھاؤں گا۔

آپ حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے تھے۔ صفی الرحمٰن خورشید صاحب کے والد بھی واقفِ زندگی تھے اور حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت پر سندھ کی زمینوں پر انہوں نے خدمات انجام دیں۔ صفی الرحمٰن صاحب کی ابتدائی تعلیم ربوہ میں تھی ۔پھر ان کی والدہ نے ایک خواب دیکھی جس کی بنا پر 1961ء میں یہ جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخل ہوئے اور 1970ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی سے ان کی ایک بیٹی اور دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ ان کی بیٹی بھی یہیں رہتی ہیں، روشن آرا ،جمیل احمد صاحب کی اہلیہ ہیں۔ جامعہ پاس کرنے کے بعد صفی الرحمٰن صاحب کچھ عرصہ ربوہ میں مرکزی دفاتر میں رہے۔ اس کے بعد چکوال میں مربی رہے اور وہاں ایک سال تک صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت حکیم عبداللہ صاحب کے ساتھ مل کر انہوں نے خدمت کی توفیق پائی۔

1972ء میں ان کو سیرالیون بھیج دیا گیا اور کہتے ہیں کہ افریقہ روانگی کے وقت حضرت خلیفة المسیح الثالثؓ نے یہ ہدایت فرمائی کہ افریقن سے محبت کرتے رہنا اور کہتے ہیں کہ اس نصیحت کو میں نے پلّے باندھا۔ پھر ایک دفعہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی نصرت کا اپنا ایک واقعہ بیان کیا ۔کہتے ہیں کہ سیرالیون میں دور دراز کے علاقے میں لمبا پیدل اور کشتی پر سفر کر کے شام کے وقت ایک آبادی میں پہنچے اور ایک بوڑھے افریقن احمدی بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہاں پہنچے تو گاؤں کا چیف وہاں موجود نہیں تھا لہٰذا ان کے جو اصول ہیں، روایات ہیں اس کے مطابق چیف امام کے پاس گئے۔ چیف امام نے بات سننے سے انکار کر دیا اور گاؤں سےنکال دیا ۔ رات ہو رہی تھی، کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔واپس چل پڑے۔ تھوڑی دور گاؤں سے جنگل کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا اور وہاں ایسا علاقہ تھا جہاں سمندر کی یا دریا کی، پانی کی لہریں بھی آ جایا کرتی تھیں۔ کہتے ہیں ہم چل رہے تھے، بڑے پریشان تھے تو ایسے وقت میں ایک طرف سے ایک آدمی نے آواز دی جو اونچی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا اور پھر اس نے ہمیں اپنے جھونپڑے میں پناہ دے دی۔ کچھ دیر کے بعد پھر کچھ آوازیں آنا شروع ہوئیں، لوگ بلا رہے تھے ہمیں اور قریب آئے تو پتا لگا کہ کہہ رہے تھے کہ چیف امام نے تمہیں واپس بلایا ہے کیونکہ جب سے اس نے تمہیں نکالا ہے تمہارے جاتے ہی اس کے سر میں شدید درد شروع ہو گئی ہے۔ اس پر اس نے کہا ہے کہ بلا کے لاؤ شاید ان کی وجہ سے میرے سر میں درد ہے۔ بہرحال یہ واپس گئے، اس نے سارے گاؤں والوں کو جمع کیا اور کہتے ہیں وہاں رات کو ہم نے تبلیغ کی۔ دس بارہ لوگوں نے احمدیت قبول کر لی اور کہتے ہیں چیف امام کی سردرد کے لیے ہم نے سورۂ فاتحہ کا دَم کیا تو وہ بھی اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان کی رہائش کا بھی انتظام کر دیا اور نہ صرف یہ بلکہ بیعتیں بھی عطا فرما دیں۔

وہاں ان کو سیرالیون میں پرنٹنگ پریس جاری کرنے کا شروع کرنے کا بھی موقع ملا۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؓ نے وہاں خاص مشینیں بھجوائیں جو وہاں لگائی گئیں۔ اس زمانے میں پہلے وہاں پریس کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔ بہرحال انہوں نے اس کو بڑی کامیابی سے چلایا اور حضرت خلیفة المسیح الثالثؓ اس پریس کی وجہ سے ان کی کافی تعریف کیا کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد ان کا تقرر نائیجیریا میں ہو گیا۔ وہاں بھی انہوں نے جماعت کا پریس جاری کیا اور بڑی کامیابی سے چلایا بلکہ اس دوران میں ایک حادثہ بھی پیش آیا کہ کام کرتے کرتے پریس کی مشین میں آ کےان کی ایک انگلی کٹ گئی، اور بڑا علاج کرایا لیکن ٹھیک نہیں ہوتی تھی۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کو جب پتا لگا تو آپؒ نے ان کو کہا کہ لندن آ کر علاج کرواؤ اور پھر اللہ کے فضل سے یہ ٹھیک بھی ہو گئی۔ پھر رقیم پریس جب یہاں قائم ہونا تھا۔ یہ یہاں تھے ۔حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ تم یہاں پہ پریس لگانے کی کوشش کرو اور جو کمیٹی تشکیل دی اس میں مصطفیٰ ثابت صاحب اور مبارک ساقی صاحب بھی شامل تھے۔ اس میں ان کو بھی شامل کیا اور پھر یہاں اس وقت سے پریس بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے۔

سترہ سال ان کو افریقہ کے ممالک میں سیرالیون اور نائیجیریا میں خدمت کی توفیق ملی۔ پھر1988ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے دورۂ افریقہ کے دوران ان کو فرمایا کہ کیمرون جاؤ، وہاں جماعت شروع کرو۔ چنانچہ بڑی مشکلوں سے ان کو ویزہ ملا۔ یہ وہاں گئے اور ایک ماہ تک کیمرون میں رہے اور وہاں تبلیغ کے مواقع بھی پیدا ہو گئے۔ ریڈیو پر آپ کے انٹرویو شائع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورے کے دوران ایک خاندان نے بیعت کی توفیق بھی پائی۔ 1988ء میں یہ واپس پاکستان آ گئے۔ پھر لاہور میں بطور مربی خدمت کی توفیق پائی۔ یہاں بھی مختلف مواقع پر جلسے پہ آیا کرتے تھے۔ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں خدمات بجا لاتے رہے مختلف۔ 1991ء سے نصرت آرٹ پریس کے مینیجر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی ۔پھر کچھ عرصے سے سٹروک (stroke)کی وجہ سے بیمار تھے تو انہوں نے ریٹائرمنٹ بھی لے لی۔

اللہ تعالیٰ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے درجات بلند کرے اور ان کی ایک بیٹی ہے اس کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے، اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 11؍اکتوبر 2019ء صفحہ 5تا 10)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button