اگر ہم نے اپنے عہد بيعت کو پورا کرنا ہے، اپني نسلوں کو بچانا ہے، تو پھر جلسے کے انعقاد کی اغراض کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے

شرائطِ بیعت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت پر زور

شرائطِ بیعت پر عمل کرتے ہوئے تکبّر سے بچنے اور ایّامِ جلسہ میں دعا، استغفار اور درور کی طرف توجہ دینے کی تلقین

اپنے ماحول میں ’محبّت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘ کے مطابق زندگی گزارنے اورجلسہ سالانہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دینی، روحانی اور علمی حالت میں بہتری پیدا کرنے کی نصیحت

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ گاہ جماعت احمدیہ فرانس Trie-Château (تغی شاتو) میں تقریبِ پرچم کشائی کی اور پھر خطبۂ جمعہ سے جلسہ سالانہ کا افتتاح فرمایا

(تغی شاتو، 04؍ اکتوبر 2019ء نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) آج سے جماعت احمدیہ فرانس کا ستائیسواں جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ آج کے دن کا سب سے بابرکت اجتماع نمازِ جمعہ کا تھا۔ بعد دوپہر ایک بج کر چالیس منٹ پر بابر منصور صاحب حلقہ مسجد مبارک جماعت پیرس نے جمعے کی پہلی اذان دی۔

تقریب پرچم کشائی

حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تقریبِ پرچم کشائی کے لیے تشریف لائے اور مقامی وقت کے مطابق دو بج کر02 منٹ پر لوائے احمدیت لہرایا جبکہ امير صاحب جماعت احمدیہ فرانس نے فرانس کا قومي پرچم۔ بعد ازاں حضورِ انور نے دعا کروائی اور پھر جمعے کی ادائيگی کے ليے جلسہ گاہ تشريف لے گئے۔ دو بج کر 04 منٹ پر حضورِانور جلسہ گاہ ميں رونق افروز ہوئے۔ بابر منصورصاحب نے جمعے کی دوسری اذان دينے کي سعادت پائی۔

خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشہّد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور نے فرمايا:

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام نے جلسے کو خالص دينی اجتماع کا نام عطا فرمايا ہے۔ پس اس ميں شامل ہونے والے ہر شخص پر يہ واضح ہونا چاہيے کہ دينی، علمی اور روحانی بہتری اور ترقی کے ليے ہم يہاں آج جمع ہيں۔ اور تين دن اس سوچ کے ساتھ اور اس فکر کے ساتھ يہاں جمع رہيں گے کہ کس طرح ہم اپنی دينی، علمی اور روحانی حالت کو بہتر کريں۔ اگر يہ سوچ نہيں تو يہاں آنا بے فائدہ ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آج کے اس دور ميں جبکہ دنيا خدا تعاليٰ کو بھلا رہي ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والا اپنے مذہب سے دُور ہٹ رہا ہے۔ جو اعداد و شمار ہر سال سامنے آتے ہيں ان سے پتا چلتا ہے کہ ہر سال ايک بڑی تعداد اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ وہ خدا تعاليٰ کے وجود کے منکر ہيں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی حالت بھی ہميں يہی بتاتی ہے کہ نام کے مسلمان ہيں اور دنياداری غالب ہے۔ ايسے ميں اگر ہم بھی جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہيں کہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے، اُسے مانا ہے جسے آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي پيشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس زمانے ميں تجديد دين کے ليے بھيجا ہے۔ اور اب ہمارا يہ عہد ہے کہ ہم نے بھي اس مسيح موعود اور مہدئ معہود کے مشن کو پورا کرنا ہے، اگر ہم اپنی حالتوں کي بہتری کی طرف توجہ نہيں کرتے تو ہمارا مسيح موعود کی بيعت ميں آنا ايک ظاہری اعلان ہے جو روح سے خالی ہے، ہمارا عہد بيعت نام کا عہد بيعت ہے جسے ہم پورا نہيں کر رہے، ہمارا يہاں جلسہ کے ليے جمع ہونا ايک دنياوی ميلے ميں جمع ہونے کی طرح ہے۔ پس ہر احمدی کے ليے يہ بڑا سوچنے کا مقام ہے، ايک فکر کے ساتھ اپنے جائزے لينے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر حضرت مسيح موعود عليہ السلام نے جلسہ کے انعقاد کی جو اغراض ہمارے سامنے پيش فرمائی ہيں اگر ہم ان کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے ليں تو نا صرف ان تين دنوں کے مقصد کو پورا کرنے لگ جائيں گے اور جلسہ ميں شامل ہونے والوں کے ليے حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کی جو دعائيں ہيں ان کے حاصل کرنے والے بن جائيں گے اور پھر ان کو مستقل اپنی زندگيوں کا حصہ بنا کر اپني دنيا و عاقبت کو سنوارنے والے بن جائيں گے۔ اور ناصرف اپنی حالتوں بلکہ ہماری نيک اعمال کے حصول کے ليے کوشش اور اس پر عمل ہماری آئندہ نسلوں کے دين پر قائم رہنے اور خدا تعالیٰ کے قريب کرنے والے بنا کر انہيں بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنا ديں گے۔ جہاں دنيا خدا تعالیٰ اور دين سے دور جا رہی ہے ہماری نسليں خدا تعالیٰ کے قريب ہونے والی ہوں گی۔ اور دنيا کو خدا تعالیٰ کے قريب لانے کا باعث بن رہی ہوں گی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر ہم نے اپنے عہد بيعت کو پورا کرنا ہے، اپني نسلوں کو بچانا ہے، تو پھر ان اغراض کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے جو جلسے کے انعقاد کی ہيں۔ ان تين دنوں کو اس عہد کے ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے کہ يہ باتيں اب ہماری زندگيوں کا حصہ ہميشہ رہيں گی۔ حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے ان جلسے کی اغراض کو بيان فرماتے ہوئے فرمايا کہ آخرت کی فکر ہو۔ جلسہ پر آنے والوں ميں آخرت کی فکر پيدا ہو۔ خدا تعالیٰ کا خوف پيدا ہو، تقویٰ ان میں پيدا ہو، نرم دلی پيدا ہو، آپس کی محبت اور بھائی چارے کی فضا پيدا ہو، عاجزی اور انکساری پيدا ہو۔ سچائی پر وہ قائم ہوں اور دين کی خدمت کے ليے سرگرم ہو۔ پس يہ ہے آج ہمارے يہاں جمع ہونے کا مقصد، آپؑ کے ماننے والے ہر فرد، مرد عورت، جوان بوڑھے کو آپ کے ارشاد کے مطابق آخرت کی اس حد تک فکر ہونی چاہيے کہ دنياوی چيزيں اس کے مقابلے ميں کوئی حيثيت نہ رکھتی ہوں۔ اس مادی دنيا ميں رہتے ہوئے يہ بہت بڑا کام ہے، ايک بہت بڑا چيلنج ہے جس کو پورا کرنے کے ليے بڑے جہاد کی ضرورت ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آخرت کی فکر تب ہی ہو سکتی ہے جب خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل يقين ہو۔ اور اس بات پر يقين ہو کہ يہ زندگی تو چند سال ہے زيادہ سے زيادہ کوئی اسّی سال زندہ رہ ليتا ہے، نوّے سال زندہ رہ ليتا ہے يا حد سو سال زندہ رہ ليتا ہے ليکن اتنا عرصہ بھی ہر ايک کو نہيں ملتا۔ بہت سے ہيں جو اس سے پہلے گزر جاتے ہيں۔ اس کے بعد پھر آخرت کي زندگي ہے۔جو ہميشہ کي ہے۔ پس عقل مند انسان وہي ہے جو عارضي چيز کو مستقل چيز پر قربان کر دے ليکن ہوتا يہ ہے کہ ہم اس عارضي چيز پر، اس عارضي زندگي پر، مستقل زندگي کو، قربان کر ديتے ہيں۔ اور پھر اپنے آپ کو يہ دنيادار بہت بڑا اور عقل مند سمجھتے ہيں۔ پس ايک مومن اس کے بر عکس کرتا ہے اور کرنا چاہيے تب ہي مومن کہلا سکتا ہے۔ وہ اپنے دل ميں خدا تعاليٰ کا خوف رکھتا ہے، خدا تعاليٰ کي خشيت اس کے دل ميں ہوتي ہے اللہ تعاليٰ کي محبت تمام دنياوي محبتوں پر غالب آ جاتي ہے۔

حضورِ انو رنے فرمایا کہ ایک مومن میں خوف اور خشيت اللہ تعاليٰ کي اس ليے نہيں ہوتي کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں سزا ملے گي بلکہ اس ليے ہے کہ ميرا پيارا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ اور جب يہ محبت کے جذبات ہوں گے تب ہي انسان خدا تعاليٰ کے حکموں پر عمل کرنے کي بھي کوشش کرتا ہے۔ انسان کا اس دنيا کا ہر عمل آخرت کو سامنے رکھتا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو يہ يقين ہوتا ہے کہ ميرا خدا ہي ہے جو ميري پرورش کے سامان پيدا کرتا ہے۔ ميرا خدا ہي ہے جو مجھے اپني نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ان ميں ہر قسم کي نعمتيں شامل ہيں۔ دنياوي بھي اور روحاني بھي ۔ اگر ميں اس کي عبادت کا حق ادا کرتا رہا اس خدا کو ہي سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھکا رہنے والا بنا رہا تو اس کي نعمتوں سے حصہ پاتا رہوں گا ان شاء اللہ۔ ميں اگر اس کے بتائے ہوئے اوامر و نواہي کے متعلق زندگي گزارتا رہا تو اس کے فضلوں کا وارث بنتا رہوں گا۔ اگر اللہ تعاليٰ کي مکمل اطاعت کرتے ہوئے اور تقويٰ پر قائم رہتے ہوئے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا رہا تو وہ مجھ سے راضي ہو گا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ يہ سوچ ہے اور اس کے مطابق عمل ہے جو يقيناً اللہ تعاليٰ کے وعدے کے مطابق اس کے انعاموں اور فضلوں کا حاصل کرنے والا بنائے گا۔ اور جو یہ سوچ رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں۔ یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے ہیں، جن کے دل نرم ہوں گے اور ہوتے ہیں کیونکہ ہر لمحہ ان کے دل میں خدا ہوتا ہے ۔ یہی ہیں جن کے ایک دوسرے کے لیے خدا تعالیٰ کی خاطر محبت کے جذبات ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی محبت اور بھائی چارہ ذاتی اغراض کے لیے نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔ جن میں عاجزی پیدا ہوتی ہے، عاجزی کے اظہار سے اپنے مرتبہ اور دولت کے لحاظ سے بڑے نہیں ہوتے، انہی کے سامنے عاجزی نہیں دکھاتے جو بڑے ہیں، رتبہ میں بڑے ہیں یا دنیادار ہیں۔ بلکہ غریبوں اور مسکینوں سے بھی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں جو سچائی پر ہر وقت قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قول سدید ہی خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ اور جھوٹ جو ہے وہ شرک کی طرف لے کر جاتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ جب آخرت کی فکر ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور تقویٰ کی حقیقت کو جانتے ہیں تو پھر ایک شخص مومن کہلا کر پھر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے۔ اور ان باتوں کے حاصل کرنے والے اور نیکیوں کو سمجھنے والے ہی ہیں جو دین کی خدمت میں بھی حقیقت میں سرگرم ہوتے ہیں۔ ورنہ بظاہر جو خدمت ہے یہ بھی کچھ مفادات کے حصول کے لیے ہو جاتی ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں جو سینکڑوں علماء ہیں جو بظاہر دین کے نام پر بڑے سرگرم ہیں لیکن اندر سے دین کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، جن میں تقویٰ کی کمی ہے، جن میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا، جن کو آخرت سے زیادہ دنیا کے مفادات عزیز ہیں اور نام خدا اور آخرت کا لیتے ہیں۔ پس ان باتوں کی روح کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ظاہری خول نہ ہو بلکہ روح ہو، مغز ہو۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس نیت سے جلسے میں شامل ہو رہے ہیں اور اپنے اندر ان مقاصد کو حاصل کرنے کی ایک تڑپ رکھتے ہیں۔ اگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ماضی میں ہم سے ان باتوں کے حصول کے لیے غلطیاں اور کوتاہیاں ہو گئی ہیں تو آئندہ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ ان نیکیوں کو پیدا کرنے اور انہیں قائم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اور کریں گے؟ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنے والے ہوں گے، ہم خدا کا خوف اور اس کی خشیت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت دیں گے؟ ہم تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کے لیے حتی المقدور کوشش کریں گے؟ ہم اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے نرمی پیدا کریں گے؟ ہم آپس میں محبت اور بھائی چارے کو اس قدر بڑھائیں گے کہ یہ محبت اور بھائی چارہ ایک مثال بن جائے؟ عاجزی اور تواضع میں ہم بڑھنے والے بنیں گے؟ سچائی اور قول سدید ہماری ایک خصوصیت بن جائے گا کہ ہر شخص کہے کہ یہ احمدی ہیں جو ہمیشہ سچ پر قائم رہتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور اس کے لیے بڑا سے بڑا نقصان بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ دینی خدمات کے لیے ایسے سرگرم ہوں گے جو ایک مثال ہو گا اور اس کے لیے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے دین کے پیغام کو اپنے ماحول کے ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

حضور انور نے فرمایا: اگر ہم اس عہد کو پورا کرنے والے بن گئے ہماری زندگیاں اس کے مطابق گزرنے لگ گئیں تو یقیناً ہم نے عہدبیعت پورا کر لیا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انسان کے مقصد پیدائش یعنی خدا تعالیٰ کی عبادت کے حوالہ سے نمازوں کی ادائیگی کی طرف خاص طوجہ دینے کی طرف توجہ دلائی اوراس حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ بعد ازاں حضورِانور نے اخلاق فاضلہ اختیار کرنے کی طرف بھی خاص توجہ دلائی۔

خطبہ جمعہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں، آپؑ کی نصائح اور توقعات پر پورا اترنے والے ہوں اور اس جلسے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دینی، روحانی اور علمی حالت کو سنوارنے والے بھی ہوں اور یہ نیکیاں ہم میں پھر ہمیشہ قائم بھی رہیں۔

جمعۃ المبارک کے اس بابرکت اجتماع میں فرانس سمیت اٹھارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 1270 احبابِ جماعت (مرد 839، خواتین 431) شامل ہوئے۔ ان میں سے فرانس کے مقامی احباب کی تعداد 857 اور مہمانوں کی تعداد 413 تھی۔ میزبان ملک کے علاوہ جن ممالک سے لوگ جمعہ میں شامل ہوئے ان میں الجیریا، بیلجیم، بورکینا فاسو، کینیڈا، آئیوری کوسٹ، گیمبیا، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، مالی، پاکستان، سینیگال، سپین، سوئٹزرلینڈ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

(رپورٹ: عرفان احمد خان، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برائے دورۂ یورپ ستمبر، اکتوبر 2019ء اور فرّخ راحیل)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button