متفرق مضامین

شادی بیاہ کے موقع پر بد رسومات و بدعات سے بچیے

(قدسیہ محمود سردار۔لاہور پاکستان)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

کچھ عرصہ پہلے میری ایک غیراز جماعت دوست سے ملاقات ہوئی تو وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے بہت پریشان تھی کہ اس کی شادی کرنی ہے اور سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح کریں؟ میں نے کہا تم سادگی کے ساتھ اس کی شادی کردو۔ کہنے لگی ‘‘بیٹی کی شادی کرنا کوئی آسان کام ہے؟ بیٹی کا برائیڈل ڈریس، جیولری ، جہیز وغیرہ کا لاکھوں کا خرچ!میک اَپ و فوٹو شوٹ لاکھوں کا خرچ ۔ مایوں ، مہندی، شادی اور دوسرے کھانوں کے فنکشن پر لاکھوں کا خرچ۔ بیٹی کے سسرال والوں کو قیمتی تحائف دینے ہیں وہ بھی لاکھوں کا خرچ ۔اور دیگر سو طرح کے اخراجات ہیں! اس لیے کچھ قرض لیں گے۔ کچھ جائیداد بیچیں گے تاکہ بیٹی کی شادی عزت اور شان و شوکت سے کرسکیں۔ اگر ہم یہ سب نہ کریں گے تو رشتہ دار، برادری والے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔’’

پھر کہنے لگی ‘‘تم لوگ بڑے خوش قسمت ہو!تم لوگ ان رسم و رواج سے آزاد ہو! میں نے کہا ‘‘الحمد اللہ ہم واقعی بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا، جنہوں نے اپنی جماعت کو شرک ، رسم و رواج، دکھاوے، نمائش، فضول خرچی و اسراف کی زنجیروں سے آزاد کرایا اور بدعات کے ان طوقوں سے رہائی بخشی۔’’پر دل میں مَیں نے سوچا ہم میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو ان بد رسومات کے چنگل میں پھنس کر خوشی خوشی ان طوقوں کو اپنے گلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ غیر اللہ کی محبت، غیر اللہ کا خوف، غیر اللہ کا رعب ان کے پیش نظر رہتا ہے۔

دین میں کوئی نئی بات یا نئی رسم نکالنا بدعت کہلاتا ہے

یہ بدعتیں اور بدرسومات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہیں کیونکہ ان کا اپنا تو کوئی وجود نہیں ہوتا۔ بدعات کا سلسلہ ہمیں معاشرہ میں جابجا نظر آتا ہے ۔ خواہ وہ شادی بیاہ کی رسومات ہوں، پیدائش و وفات کی رسومات ہوں، غیروں کے تہوارمنانے کی رسومات ہوں، بدعات، رسم و رواج، فضولیات، تکلف، تصنع، نمائش کی دوڑ جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

یہ ہمارے مذہب کی شان کے خلاف ہے کہ اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر غیروں کی تقلید کی جائے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی حقیقی اسلام ہے ۔ بدعات اور بدرسوم کی راہیں شرک تک لے جاتی ہیں۔ ہمارا پاک اور سچا مذہب زندگی میں آسانیاں بانٹتا ہے جبکہ یہ بدرسوم و بدعات زندگی میں مشکلات ، تکالیف اور پریشانی کا موجب بنتی ہیں اور آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ سے دور کردیتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومن کی یہ پہچان بتائی ہے کہ

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ

(المومنون:4)

وہ لغو کاموں اور لغوباتوں سے اعراض کرتے ہیں۔

ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ سورۃ الا عراف آیت 158 میں فرماتا ہے:

اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

‘‘جواس رسول نبی اُمّی پر ایمان لاتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور اُن کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور اُن پر ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور اُن سے اُن کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے جو اُن پر پڑے ہوئے تھے۔ پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔’’

ہمارے پیارے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں :

مَن اَحۡدَثَ فِی اَمۡرِنَا ھَذَا مَالَیۡسَ مِنۡہُ فَھُوَرَدۡ

(بخاری کتاب الصلح)

‘‘جس نے ہماری شریعت میں کوئی نئی بات داخل کی جو خلافت شریعت ہے تو وہ ردّ کردینے کے قابل ہے’’

ایک دوسری جگہ آپ ﷺ فرماتے ہیں:

‘‘جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو خود اس پر عمل کرنے کا اجر بھی ملے گا اور ان کا بھی اجر ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کچھ کمی ہو اور جس نے اسلام میں کوئی براطریقہ ایجاد کیا تو اس پر (اس کے اپنے عمل کا بھی) بوجھ ہوگااور ان سب کے گناہوں کا بھی بوجھ ہوگا جو اس کے بعد اس برائی پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے بوجھوں میں کوئی کمی ہو۔ ’’

(صحیح مسلم)

بانی سلسلہ احمدیہ سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے ، گلے کا ہار ہو رہی ہیں اور ان بری رسموں اور خلاف شرع کاموں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے…سو آج ہم کھول کر با آواز بلند کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے۔ یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے اور جو جو کچھ اللہ جلّشانہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اور اس کے رسول ﷺ نے ہدایت کی ہے۔ اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں، نہ دائیں اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں اور اس کےبر خلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں’’۔

(مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 84)

ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بد رسومات سے بچنے کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘جو پھندے پہلی قوموں میں پڑے ہوئے تھے پہلی نسلوں میں پڑے ہوئے تھے ، اپنے دین کو بھول کر رسم و رواج میں پڑ کر یہودیوں اور عیسائیوں نے گلوں میں جو پھندے ڈالے ہوئے تھے اب وہی باتیں بعض مسلمانوں میں پیدا ہو رہی ہیں ۔ اگر ہم میں بھی پیدا ہوگئیں تو پھر ہم کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم اس وقت آنحضرت ﷺ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔ پس یہ طوق ہمیں اتارنے ہوں گے… اگر ہم بے احتیاطیوں میں بڑھتے رہے تو یہ طوق پھر ہمارے گلوں میں پڑ جائیں گے۔ جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے گلوں سے اتارے ہیں۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 15؍جنوری 2010ء)

ایک دوسری جگہ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

‘‘پہلا مطالبہ سادہ زندگی کا ہے ۔ آج جب مادیت کی دوڑ پہلے سے بہت زیادہ ہے اس طرف احمدیوں کو بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ سادگی اختیار کرکے ہی دین کی ضروریات کی خاطر قربانی دی جاسکتی ہے…شادیوں، بیاہوں پر فضول خرچیاں ہوتی ہیں اگر یہی رقم بچائی جائے تو بعض غریبوں کی شادیاں ہو سکتی ہیں۔ مساجد کی تعمیر میں دیا جا سکتا ہے اور کاموں میں دیا جا سکتا ہے ۔ مختلف تحریکات میں دیا جاسکتا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 3؍نومبر 2006ء)

یہ ہم پر خدا تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو آج کے دور میں دین ِ حق کی تجدید کے لیے آئے کی بیعت میں شامل ہونے اور خلافت جیسی عظیم الشان نعمت سے فیض یاب ہونے کی توفیق ملی۔

ہمارے پیارے امام سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے متعدد خطبات میں بدعات اور بد رسوم سے اجتناب کے متعلق پُر حکمت اور بابرکت ارشادات فرمائے ہیں ۔ آپ نے شادی کے مہنگے کارڈ سے لے کر شادی بیاہ کی ساری بد رسوم (جہیز، شادی، ولیمہ کے بھاری اخراجات ، ڈانس، ناچ، شادیوں پر کھانوں کا ضیاع، شادیوں کے موقع پر بے پردگی، فضول خرچی و اسراف، مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور اس کو شادی جتنی اہمیت دی جانا، دکھاوا، نمود و نمائش اور دیگر بیہودہ رسم و رواج)کے بارے میں کھول کھول کر وضاحت فرمائی ہے آپ افراد جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

‘‘اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔ آنحضرت ﷺ تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کی ا ور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہوکر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا وہوس سے باز آجائے گا یعنی کوشش ہوگی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا وہوس سے بھی باز رہوں گا تو قناعت اور شکر پر زور دیں۔ یہ شرط ہر احمدی کے لیے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب اپنے اپنے وسائل کےلحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مدنظر رکھنا چاہیے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍نومبر 2005ء)

بد رسومات اور بدعات کی تفصیل

اب میں شادی بیاہ کے موقع پر بد رسومات اور بدعات کی کچھ تفصیل پیش کرتی ہوں۔ اس سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت والدین، عہدیدار، فرد جماعت ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پیار و حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ اگر ہم ان بدرسومات میں حصہ لے رہے ہیں تو ہم اپنے پیارے امام حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اطاعت نہیں کر رہے ہیں۔اور اگر اطاعت نہیں تو شادی جیسے مقدس اور اہم فریضہ میں برکت کیسے پڑ سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہر حکم کی کماحقہ اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کی بدعات ، بے ہودہ اور لغو رسومات سے اجتناب کرنے والا۔ اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنے والا بنائے ۔ آمین

1) شادی بیاہ کی مخلوط دعوتیں کرنا۔ (دعوتوں پر پردے کا انتظام جماعتی روایات کے مطابق ہونا چاہیے)
2) چھوٹی سی بارات کی صورت میں مہندی لے جانا۔
3) اگر لڑکی کی مہندی کی تقریب ہو تو اس پر مردوں کا پیلے رنگ کے دوپٹے گلے میں ڈال کر گھومنا۔
4) جوتا چھپانا اور پھر پیسوں کا مطالبہ کرنا۔
5) لڑکی کو مایوں بٹھانا اور سسرال کی طرف سے پیلے کپڑے اور ابٹن وغیرہ لگانا۔
6) دودھ پلائی کی رسم۔ ناچ کرنا۔ (لڑکیوں کا لڑکیوں میں ناچ بھی منع ہے)۔
7) دلہن اور دلہا کا بیوٹی پارلرز سے تیار ہونے پر بے جا اسراف۔
8) بِد دینا۔ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی والوں کو بِد دی جاتی ہے جو بعد میں رشتہ داروں میں بانٹی جاتی ہے ۔ بِد کی اشیاء میں چھوہارے ،کشمش، بادام، ناریل، مکھانے وغیرہ۔
9) جوڑے دینا۔ (لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کے گھر کے تمام افراد کو کپڑے کے جوڑے دیے جاتے ہیں)
10) غیر مردوں سے خواتین کی ویڈیو بنوانا۔ (نیز ڈرون کے ذریعہ بھی خواتین کی طرف ویڈیو بنانا مناسب نہ ہے۔)
11) عورتوں کی طرف مرد ویٹروں کا کھانا تقسیم کرنا۔
12) دولہے کو عورتوں کی طرف بلانا اور نامحرم مردوں کا ساتھ ساتھ ہونا اور آداب پردے کا خیال نہ رکھنا۔
13) مردوں کا موبائل فون کے ذریعے نامحرم خواتین کی تصاویر بنانا۔
14) ماڈرن کہلانے کے شوق میں پردہ کا خیال نہ رکھنا۔
15) منگنی کے بعد لڑکے اور لڑکی کے ضرورت سے زائد روابط اور والدین کی چشم پوشی۔
16) دلہن کے کپڑوں میں لہنگا وغیرہ کا اسراف کرنا۔
17) منگنی پر بڑی بڑی دعوتوں میں اسراف کرنا۔
18) تقریب رُخصتی میں جماعتی روایات یعنی تلاوت اور دعا کے بغیر رخصت کرنا۔
19) دلہن کو بوقت رُخصتی قرآن کے نیچے سے گزارنا۔
20) دلہن کو گھر لانے کے بعد دلہا اور دلہن دونوں کو قرآن کے نیچے سے گزارنا۔
21) وقت کی پابندی نہ کرنا اور وقت کا ضیاع کرنا۔
22) دعوتی کارڈ پر بے جا اسراف کرنا۔
23) دلہا کے گھر کی عورتوں کا پلیٹ میں مہندی سجا کر اور موم بتیاں جلاکر گانا گاتی ہوئی دلہن کے گھر جانا۔
24) سربالا بنانا۔
25) میوزیکل گروپ کی شکل میں لڑکیوں کا ڈانس وغیرہ کرنا۔
26) لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے والوں کو زیور اور خاص پارچاجات کی تاکید کرنا۔
27) مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہنانا۔
28) حق مہر نمائش کی خاطر استطاعت سے بڑھ کر مقرر کرنا۔
29) جہیز کا مطالبہ اور نمائش کرنا۔
30) ڈیک(Sound System) کا استعمال ۔ (صرف تقریب ِ رخصتی یا ولیمہ کے موقع پر تلاوت، نظم یا دعا کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے نیز بیک گراؤنڈ میوزک کی اجازت نہ ہے۔)
31) مہندی، رسم یا رونق کے حوالے سے کارڈ وغیرہ چھپوانا۔
32) شادی سے قبل تقریبات منعقد کرنا اور کہنا کہ یہ رونق کی مجالس ہیں۔
33) چھوٹے گھر کی وجہ سے لڑکے یا لڑکی کی علیحدہ ہال بُک کروا کر مہندی کی مجالس کرنا۔ بعض اوقات ایسی مجالس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں کےخاندان اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
34)آتش بازی ، ہوائی فائرنگ یاڈھول بجانا۔
35) سٹیج بعض دفعہ مردوں اور خواتین کے درمیان بنادیا جاتا ہے ۔ جہاں دلہن اور دلہا کو بٹھانا ہو وہ خواتین کی طرف پردہ میں ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام بدعات سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر معاملے میں دستور العمل قرار دینے والے ہوں۔ آمین

٭٭٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button