حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دستِ مبارک سے المیرے ہالینڈ کی احمدیہ مسجد ’بیت العافیت‘ کا بابرکت افتتاح

(ادارہ الفضل انٹرنیشنل)

اس رپورٹ کی آڈیو سننے کے لیے درج ذیل لِنک پر کلک کیجیے:

تقریبِ نقاب کشائی، دعا، ریسپشن میں حضورِ انور کا بصیرت افروز صدارتی خطاب

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسجد کے قیام کے بنیادی مقاصد کا بیان

مقامی احمدیوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے عمدہ کردار پیش کرنے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی تلقین

(المیرے، یکم اکتوبر 2019ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 7؍ اکتوبر 2015ء بروز بدھ کواپنے دورۂ ہالینڈ کے دوران شہر المیرے میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ مبارک دن تھا جب اس مسجد کی تعمیر مکمل ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا افتتاح فرمایا۔

المیرے شہر کا مختصر تعارف

المیرے شہر کی تعمیر 20؍ستمبر 1975ءکو شروع ہوئی۔ اس سے قبل یہاں کوئی زمین نہیں تھی بلکہ صرف سمندر تھا۔ المیرے کا مطلب ‘بڑی جھیل’ یا بعض اہل لغت کے نزدیک ‘جدیدجھیل’ہے۔ اس وقت المیرے کی آبادی دو لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور 142 ممالک سے تعلق رکھنے والے مختلف قومیتوں کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔

المیرے اس بات کی وجہ سے مشہور ہے کہ یہاں ہر کوئی آزاد ی سے اپنی من پسند عمارت تعمیر کرسکتا ہے۔ مسجد ’بیت العافیت‘ اس شہر کی ساتویں مسجد ہے اور اس شہر میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نن سپیت سے ساڑھے چار بجے کے قریب المیرے کے لیے روانہ ہوئے اور سوا پانچ بجے جب المیرے پہنچے توصدر جماعت المیرے محترم محمد حنیف Hendrijks اور لوکل مبلغ محترم سفیراحمد صدیقی نے حضورِ انور کا استقبال کیا ۔ اس موقع پر بچیاں دینی نغمات گا رہی تھیں۔

حضور پُر نور سیدھے تختی کی نقاب کشائی کے لیے تشریف لے گئے اور نقاب کشائی کے بعد پانچ بج کر بیس منٹ پر دعا کروائی ۔ اس کے بعد حضورِ انور نے مسجد کے اندر مردانہ حصہ میں جو پہلی منزل پر ہے ساڑھے پانچ بجے ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورلائبریری میں تشریف لائے جہاں پریس کے بعض نمائندگان حضور سے ملاقات کے منتظر تھے۔ اس ملاقات میں درج ذیل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان شامل ہوئے

Volkskrant, Zwolle News, Wired duk, Omroep Flevoland, Saraswati Ar Tv, Saltos Amsterdam, Euro news Belgium

حضورِ انور نے پریس نمائندگان کے سوالوں کے جوابات دیے اور چھے بج کر پانچ منٹ پر مسجد کی عمارت کے معائنہ کے لیے تشریف لے گئے۔

پریس کانفرنس کے بعد حضورِ انور مقامی وقت کے مطابق چھے بج کر 07 منٹ پر تقریبِ افتتاح کے لیے نصب کی جانے والی مارکی میں تشریف لائے جہاں پچاس سے زائد مہمان اور جماعت احمدیہ ہالینڈ کے ممبران حضورِ انور کے منتظر تھے۔ کچھ دیر انتظار کے بعد پروگرام کا آغاز کیا گیا جب مکرم اظہر نعیم صاحب(سیکرٹری امور خارجہ ہالینڈ) نے تلاوت قرآن کریم کے لیے مکرم عطاء القیوم عارف صاحب کو دعوت دی۔ آپ نے سورۃ البقرۃ کی آیات 128 تا 130 کی تلاوت کی اور انگریزی زبان میں ان کا ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

بعد ازاں مکرم سیکر ٹری صاحب امور خارجہ نے بعض معزز مہمانوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت دی۔ سب سے پہلے المیرے سٹی کونسل کی سوشلسٹ پارٹی کے ممبر کو دعوت دی گئی۔

موصوف نے اپنے مختصر خطاب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کوالمیرےشہر میں خوش آمدید کہا اور مسجد کی تعمیر پر مبارکباد پیش کی۔

اس کے بعد المیرے سٹی کونسل کے ایک نمائندہ سٹیج پر تشریف لائے اوراپنی تقریر میں اس امر پر زور دیا کہ مذہبی آزادی سب کے لیے ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ موصوف نے ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنے کو ایک پُرامن معاشرے کی ضرورت قرار دیا۔

بعد ازاں ہالینڈ کی سکھ کمیونٹی کے نمائندے نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ موصوف نے بتایا کہ وہ جماعت احمدیہ سے واقفیت رکھتے ہیں اور قادیان بھی جا چکے ہیں۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کے کاموں کو خراج تحسین پیش کیا کہ جماعت قرآن کریم کا ترجمہ اور خدمت انسانیت کا کام کرتی ہے۔ آخر پر موصوف نے کہا کہ ان کے دل میں حضور انور کی بہت عزت ہے جو بطور خاص لندن سے سفر کر کے المیرے تشریف لائے ہیں اور مسجد کی تعمیر پر مبارک باد دی۔

اس تقریب میں مکرم سیکرٹری صاحب امور خارجہ نے امیر جماعت احمدیہ ہالینڈ مکرم ھبۃ النور فرحاخن صاحب کو بھی دعوت دی کہ وہ سٹیج پر تشریف لا کرجماعت احمدیہ ہالینڈ کی مختصر تاریخ اور تعارف سے لوگوں کو آگاہ کریں۔

مکرم امیر صاحب جماعت ہالینڈ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم آج مسجد بیت العافیت کے افتتاح پر حضورِانور کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح امیر صاحب نے دیگر معزز مہمانوں کا بھی اس موقع پر خیر مقدم کیاجو اس تقریب میں تشریف لائے۔

محترم امیر صاحب نے ہالینڈ میں جماعت احمدیہ کی ابتدائی تاریخ کا تذکرہ فرمایا کہ ہالینڈ میں جماعت کی ابتدا 1926ء میں ہوئی۔ اور پہلے مبلغ یہاں 1946ء میں تشریف لائے۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے 1955ء میں ہیگ کی مسجد مبارک میں جا کر دعا کی تھی جو اس وقت زیر تعمیر تھی۔ یہ مسجد ہالینڈ کی پہلی مسجد تھی۔ بعد ازاں دورِ خلافت رابعہ میں نن سپیت میں مسجد بیت النور کا حصول ہوا اور2008ء میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایمسٹرڈیم میں بیت المحمود کا افتتاح فرمایا۔اسی طرح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2015ء میں المیرے کی مسجد بیت العافیت کا سنگ بنیاد رکھا جس کا آج افتتاح ہو رہا ہے۔ آخر پرامیر صاحب نے مسجد کی تعمیر کے کام میں خدمت کی توفیق پانے والے تمام افراد کے لیے حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔

بعد ازاں سیکرٹری صاحب امور خارجہ نے المیرے کے ڈپٹی میئر کو اظہار خیال کی دعوت دی۔

موصوف نے مسجد بیت العافیت کی تعمیرپر مبارکباد دی۔ مقرر موصوف نے بتایا کہ اس شہر میں ہر ایک کو مذہبی آزادی ہے اور سب ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر ایک کو بلا تفریق مذہب اس شہر میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا چاہیے۔ موصوف نے کہا کہ یہ شہر صرف42سال پرانا ہے اور یہ پہلی نسل ہے جو یہاں پر آ کر آباد ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے اس شہر کی تاریخ ابھی لکھی جا رہی ہے۔ اس شہر میں ہم آج جماعت احمدیہ کا بھی خیر مقدم کر تے ہیں۔

بعد ازاں سیکرٹری صاحب امور خارجہ نے مہمانوں کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا تعارف کروایا اور حضور انور کو خطاب فرمانے کی درخواست کی۔

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چھے بج کر چھیالیس منٹ پر اسٹیج پر رونق افروز ہوئے اور اپنے خطاب کا آغاز فرمایا۔

تشہّد و تعوّذ کے بعد حضورِ انور نے تمام معزز مہمانوں کو ‘السلام علیکم ورحمۃ اللہ’کا تحفہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ ہماری مسجد کے افتتاح پر تشریف لائے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آج دنیا میں اسلام کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور بہت سے لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں۔ اس صورت حال میں آپ کا ہماری دعوت قبول کر کے یہاں تشریف لانا آپ کی کشادہ دلی اورمختلف قوموں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں آمادگی کی نشان دہی کرتا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا دین فردِ واحد کو اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرنے کی مکمل اجازت دیتا ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ دین کو اختیار کرنے میں کوئی جبر نہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مسجد کے افتتاح کی یہ تقریب خالصۃً مذہبی نوعیت کی ہے اور احمدی انتہائی خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مسجد کو بنانے کی توفیق دی ہے جہاں ہم اُس کی عبادت کر سکیں گے۔ اگرچہ آپ مہمانوں کا مسجد سے ایسا کوئی جذباتی لگاؤ تو نہیں ہو گا لیکن پھر بھی آج ہماری خوشی میں شامل ہونے کے لیے آپ سب یہاں تشریف لائے ہیں۔ مزید یہ کہ ایک دوسرے کے دین کے بارے میں سیکھنا اور ایک دوسرے کے عقائد کے بارے میں معلومات لینا باہمی رواداری اور محبت کو فروغ دینے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے بھی میں آپ کے یہاں آنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام معاشرے کے امن کو تباہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں آج آپ کو اسلام میں مسجد کے مقام اور اس کے کردار کے بارے میں کچھ باتیں بتاؤں گا۔

اس کے بعد حضورِ انور نے مسجد کے قیام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

مسجد کے قیام کا بنیادی مقصد خدائے واحد کی عبادت کرنا ہے۔

اس کے قیام کا دوسرا مقصد مسلمانوں میں باہمی اتحاد، اخوّت اورمحبت پیدا کرنا ہے۔

کسی بھی مسجد کے قیام کا تیسرا مقصد غیر مسلم لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کروانا اور معاشرے کے حقوق ادا کرنا ہے۔ اور مسلمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں پر اکٹھے ہو کر وہ اپنے ہمسایوں اورپھر اپنے معاشرے، اپنی سوسائٹی کے حقوق بہتر طور پر مِل کر ادا کر سکیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ یاد رکھیں! ایسی مسجد جو حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی ترویج نہیں کرتی وہ ایک کھوکھلی عمارت کے سوا اَور کچھ نہیں۔ اسلامی تاریخ میں جابجا ہمیں ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے مسجد کی تعمیر کے یہ مقاصد ثابت ہوتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ نبی اکرمﷺ کے دور میں ایک مسجد دھوکا دہی اور مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت اور تفریق پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس کی تعمیر سے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں مثلاً یہود کے درمیان خلیج کو بڑھانے اور نفرت کے بیج بونے کا بھی ارادہ کیا گیا تھا لیکن قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس مسجد کو گرا دیں کیونکہ اس کی تعمیر کے پیچھے بدنیتی کارفرما تھی۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اگر مسجد معاشرے میں امن کے فروغ کا مرکزنہیں بنتی اور نفرت کو پھیلانے کا کام کرتی ہے تو کبھی بھی اپنی تعمیر کے حقیقی مقصد کو پورا نہیں کر سکتی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مسجد کے قیام کے مقاصد تب ہی پورے ہو سکتے ہیں جب اس میں عبادت کرنے والے نہ صرف یہ کہ اللہ کی عبادت کریں بلکہ اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کریں۔ ایک مسجد کی تعمیرکے مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ وہاں آنے والے تمام افراد انسانیت سے محبت کرنے والے ہوں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسجد خالصتاً مذہبی عبادت گاہ ہے اس لیے اسے دنیاوی اور مادی معاملات اور معاشرے میں برائی پھیلانے والے تمام کاموں سے دور رکھنا چاہیے۔ مسجد میں صرف وہی تقاریب کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن سے خدائے واحد کی عبادت کی ترویج ہوتی ہو یا جن میں اسلام کی تعلیمات کو پورا کرنے کی تلقین کی جاتی ہو یا جن سے انسانیت کی ضروریات پوری ہوتی ہوں۔اسی لیے ہم مسجد میں اپنی اخلاقی اور روحانی حالت میں بہتری کے لیے اور اپنے ہمسایوں اور معاشرے کی خدمت کے لیے یہاں تقریبات کرتے ہیں۔ ہماری مساجد میں ایسی تقاریب بھی ہوتی ہیں جن کی بدولت غریبوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اور معاشرے کے کمزور طبقے کی ضروریات کا خیال کیا جاتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ کے فضل سے مخلوقِ انسانی کی بے لَوث خدمت کے اس کام کو کرنے کے لیے ہم نے ایک بین الاقوامی تنظیم ‘ہیومینٹی فرسٹ’(Humanity First) کو قائم کیا ہے جس کے ذریعہ ہم دکھی انسانیت کی بلا تفریق رنگ و نسل خدمت کرتے ہیں۔ اگر ہم افریقہ میں اپنی جماعت کے لیے مساجد کی تعمیرکرتے ہیں تو وہاں لوگوں کی خدمت کے لیے ہسپتال، کلینکس اور سکول بھی تعمیر کرتے ہیں جن سےاستفادہ کرنے والوں کی غالب اکثریت احمدی نہیں ہوتی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ افریقہ کے دور دراز علاقوں میں غریبوں کو صاف اور صحت بخش پانی مہیا کرنے کے لیے بھی ہمارے پروجیکٹس چل رہے ہیں۔ آپ کے لیے اس بات کا تصور کرنا شاید ممکن نہیں کہ وہ لوگ جن کے گھروں میں پینے کا صاف پانی میسّر نہیں، جو نسل در نسل اپنے سروں پر برتن اٹھائے میلوں دور چل کر جوہڑ کا گندا پانی پینے کے لیے گھر لاتے رہے اور پانی بھی ایسا کہ جس کے پینے سے بیماریاں لگنے کا اندیشہ بہت بڑھ جاتا ہے، جب ایسے لوگوں کو ان کے گھروں کے اندر صاف پانی مہیا ہوتا ہے تو ان کی خوشی کا کیا عالم ہوتا ہے۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا انہیں دنیا بھر کا خزانہ مل گیا ہو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک مسلمان تب ہی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرسکتا ہے جب وہ اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے والا ہو۔ اگر وہ مخلوق کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کی دعائیں اسے کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے دعا کرتے ہیں لیکن اس کی مخلوق کا حق ادا نہیں کرتے قرآنِ کریم کے مطابق خدا ان سے ناراض ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا مساجد میں آنا محض ایک بے بنیاد عمل ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک مسجد جہاں ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کی طرف مبذول کرتی ہے وہاں انسان کے حقوق اور اس کی خدمت کی طرف بھی ہمیں توجہ دلاتی ہے۔ اس لیے آپ میں سے کسی کو یہاں مسجد کے تعمیر ہونے سے پریشان ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام بارہا اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ النساء کی آیت 37 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے ہمسایوں کا خیال کرنا چاہیے، ان سے محبت کا تعلق رکھنا چاہیے اور چاہے ان سے تعلق نہ بھی ہو تب بھی ان کی ضرورت کے وقت ان کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ہمسایہ اسلام میں صرف ساتھ رہنے والے کو نہیں کہتے بلکہ ساتھ کام کرنے والے،ماتحت، ساتھ سفر کرنے والے، اور سب سے بڑھ کر اس کے علاقے میں رہنے والے تمام لوگ ہمسائے کی اسلامی تعریف کے زمرے میں آ جاتے ہیں۔

نبی اکرمﷺ کی ایک حدیث کے مطابق ایک مسلمان کے چالیس گھروں تک رہنے والے اس کے ہمسائے ہیں۔ تو ہم کہہ سکتےہیں کہ جو لوگ اس مسجد میں عبادت کے لیے آئیں گے سارا شہر ہی ان کی ہمسائیگی میں آ جائے گا۔ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ ہم ان سب کے حقوق ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم ان کا کوئی حق نہیں مار رہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ ایسا کرنا ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیلؑ نے ایک مرتبہ ہمسائے کے حقوق پر اتنا زور دیا کہ مجھے لگا کہ خدا ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار ہی نہ ٹھہرا دے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کی تعمیر ہماری مقامی جماعت پر اپنی سوسائٹی اور اپنے معاشرے کی خدمت کی ذمہ داری عائد کرتی ہے کیونکہ پورا شہر ہماری ہمسائیگی میں آجاتا ہے۔ اس طرح اس شہر کے ہم پر بہت سے حقوق ہیں جو ہمیں پورے کرنے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ کبھی بھی آپ کو ہماری ضرورت پڑے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہر طرح آپ کی مدد کے لیے حاضر ہوں گے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ مقامی احمدی ہر وقت اپنے ہمسایوں اور شہر اور مقامی کمیونٹی کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لائیں گے۔

حضورِ انور نے المیرے شہر کے مقامی احمدیوں کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کو اعلیٰ اخلاق اور رواداری کا نمونہ پیش کرنا ہے اور حقیقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنی نیکی سے لوگوں میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے خوف کو دور کرنا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مجھے یقین ہے کہ اب جبکہ یہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے اب ہماری جماعت اور اس شہر کے لوگوں کے باہمی تعلقات مزید بہترہوں گے اور دوستی کا جو تعلق ہمارے درمیان پیدا ہوا ہے وہ دن بہ دن مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔ ان شاء اللہ

مجھے یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو تسلّی ہو جائے گی کہ یہ مسجد امن پسند مرکز اورانسانیت کی پاسداری کرنے کی علم بردار ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ دنیا کی موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر ہم سب کو اپنے مذہبی فرق بھلا کر انسانیت کے نام پراکٹھے ہونے کی ضرورت ہے تا کہ ہم مل کر اپنی قوم کی بہتری اور دنیا میں قیامِ امن کے لیے کام کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اور ہم میں یہ استطاعت پیدا کرے کہ ہم ایسا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ آمین۔

حضورِ انور کا خطاب سات بج کر دس منٹ تک جاری رہا جس کے بعد حضورِ انور کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہو گئے۔ بعد ازاں حضورِ انور نے سات بج کر بارہ منٹ پر اجتماعی دعا کروائی۔ اس محفل میں موجود ہر مہمان نے اپنے اپنے طریق کے مطابق اس دعا میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد یہ بابرکت محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس تقریب کے بعد مہمانوں کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمازِ مغرب و عشاء ساڑھے آٹھ بجے جمع کرکے مسجد‘بیت العافیت’میں پڑھائیں اور پونے نو بجے کے بعد نن سپیت کے لیے روانہ ہو گئے اور دس بجے سے کچھ پہلے بخیر و عافیت بیت النور نن سپیت پہنچ گئے۔

مسجد ‘بیت العافیت’ کے کوائف

مسجد بیت العافیت کے مختصر کوائف کچھ یوں ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے 1436؍ مربع میٹرزمین 2012ء میں خرید ی گئی جبکہ دورانِ تعمیر 247؍ مربع میٹر زمین مزید خریدی گئی۔ اس طرح اس کا کل رقبہ 1683 مربع میٹر ہے۔ یہ قطعہ زمین ابتدائی طور پر دو لاکھ 76؍ ہزار یورو میں خریدا گیا تھا۔ مسجد کی تعمیر 634؍مربع میٹر پر کی گئی ہے۔ اس کی تعمیرپر تقریباً اٹھارہ لاکھ یورو خرچ آیا۔ مسجد کی عمارت دو منزلہ ہےجس کے زیریں حصے میں ملٹی پرپز ہال (multi purpose hall )اوردفاترہیں۔ بالائی منزل پر مسجد اور مربی ہاؤس کی تعمیر کی گئی ہے۔

abdulhaq_compier@

اللہ تعالیٰ اس مسجد کے قیام کو المیرے کے لیے بابرکت فرمائے اور ہم سب احمدیوں کو حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نصائح پر عمل کرتے ہوئے حقیقی احمدی اور حقیقی مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: عرفان احمد خان، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برائے دورۂ یورپ ستمبر، اکتوبر 2019ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button