حضرت مصلح موعود ؓ

سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط 28)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

طہارۃ النّفس۔ تحمّل

ہم پہلے حضرت علی ؓ کے ایک واقعہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نہایت بر دبار تھے ۔بہت سے بادشاہوں کے جو اپنے خلاف بات سن کر یا اپنی مرضی کے نا موافق حرکت دیکھ کر نہایت غصہ اور جو ش سے بھر جا تے ہیں اکثر چشم پو شی اور اعراض سے کام لیتے تھے اور ایسا طریق اختیار کر تے جس میں تحمل کا پہلو غالب ہو۔ اب ہم ایک اَور ایسا ہی واقعہ بیان کر تے ہیں جو ایک دوسرے پہلو سے آپؐ کے تحمل پر رو شنی ڈالتا ہے اور آپؐ کی صفاتِ حسنہ کو اَور بھی رو شن کرکے ظا ہر کر تا ہے۔

آنحضرتﷺہوازن پر فتح پا کے واپس آ رہے تھے اوراس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہا تھ آئے ان کی تقسیم کا سوال درپیش تھا۔آپؐ کا منشا تھا کہ اگر ہوازن تا ئب ہو کر آجائیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دیے جائیں لیکن دن پر دن گذرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کو ئی وفد طلب گار معافی ہو کر نہ آیا۔بہت دن تک آپؐ نے تقسیم ِاموال کے کام کو تعویق میں رکھا ۔لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا کہ اموال تقسیم کر دیے جائیں۔چنانچہ جعرانہ پہنچ کر آپؐ نے ان اموال کو تقسیم کر نا شروع کیا۔منافق تو ہمیشہ اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ کو ئی موقعہ ملے توہم آپؐ پراعتراض کریں۔کو ئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخو یصرہ التیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہاکہ آپؐ اس تقسیم میں عدل کو مدنظر رکھیں جس سے اس کی مرادیہ تھی کہ آپؐ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابرؓ سے یوں روایت کیا ہے کہ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ:حَدَّثَنَا قُرَّۃٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو ابْنُ دِیْنَارٍ، عَنْ جَابِراِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ غَنِیْمَۃً بِالْجِعْرَانَۃِ، اِذْ قَالَ لَہٗ رَجُلٌ:اِعْدِلْ فَقَالَ لَہٗ:(لَقَدْ شَقِیْتَ اِنْ لَمْ اَعْدِلْ)۔(کتاب الجہاد باب ومن الدلیل علی ان الخمس لنوائب المسلمی)یعنی آنحضرت ﷺ اموال غنیمت کو جِعرا نہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپؐ کو کہا کہ آپؐ عدل سے کام لیں۔آپؐ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تُو بڑی بے برکتی اور بد بختی میں مبتلا ہو گیا۔اللہ اللہ !کیسے خطر ناک حملہ کا جواب وہ پا ک رسول ؐکس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔ آنحضرت ﷺسے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی با تیں برداشت کر سکتے۔بلکہ حضرت عمرؓ اور خالد بن ولید ؓتو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوارکھینچ کر کھڑے ہوجاتے تھے۔مگر آنحضرت ﷺ ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العہد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالا نے ایک مومن کا فرض ہو تا ہے اور جو ایک ذرا سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپؐ کے ارد گرد کھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے سا تھ ہمیں کس طرح عمل کر نا چاہیے ۔ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیا ئی سے آپؐ سے کہنا کہ حضورذرا عدل مد نظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطر ناک فعل تھا۔جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہو تی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فر ما ئے ہیں۔دوسرے ان تمام مواعید پر پا نی پھر جا تا تھا جو اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے حضور کیے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہو نے کے لیے کرنے پڑتے ہیں۔تیسرے سیا سی لحاظ سے آپؐ کے رعب کو ایک خطر ناک نقصان پہنچا نے والے تھے۔اور چوتھے نومسلموں کے لیے ایک نہایت بد نظیر قائم کر نے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ ؓ کے دلوں میں بھری ہو ئی تھی۔پس وہ الفاظ جو ذوالخو یصرہ کے منہ سے اس وقت نکلے ایک دنیاوی دربارمیں خطر ناک سے خطرناک سزا کا فتویٰ دلا نے کے لیے کافی تھے۔اور اگر زمانہ قدیم کے درباروں میں ایسا انسان قتل کا مستوجب خیال کیا جا تا تو موجودہ دورِ دستور یت میں بھی ایسا آدمی سزا سے محفوظ نہ رہ سکتا لیکن وہ بادشاہ ہر دو جہاں اس کے گستاخانہ کلام کے جواب میں کیا کہتا ہے؟کیا اسے سزا کا حکم دیتا ہے؟ کہ تا ان نو مسلموں پر آپؐ کا رعب بیٹھ جائے جو نہایت نگران نگاہوں سے صحابہؓ اور آنحضرت ﷺ کے تعلقات کو اس لیے دیکھتے رہتے تھے کہ ان سے اندازہ لگاسکیں کہ یہ تعلقات مصنوعی یا حقیقی،یاعارضی ہیںیا مستقل، سطحی ہیں یا ان کی جڑیں دل کے تمام کو نوں میں مضبوطی سے گڑی ہو ئی ہیں کیا وہ میرا پیارا اگر اسے کسی بدنی سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا ۔تو کم سے کم زبانی طور پر ہی اسے سخت تہدید کر تا ہے کہ اگر ایسے الفاظ پھر تمہارے منہ سے نکلے تو تم کو سخت سزادی جا ئے گی؟نہیں وہ بھی نہیں کر تا۔کیا وہ اسے اپنے سامنے سے دور ہو جا نے کا حکم دیتا ہے؟نہیں!وہ اس سے بھی اجتناب کر تا ہے۔پھر اس مجرم کے لیے وہ کیا سزا تجویز کر تا ہے! وہ باوجود صحابہ کی چڑھی ہوئی تیوری کے اور باوجود ان کے ہاتھوں کے بار باردستہ تلوارکی طرف جا نے کے اسے نہایت پُرحکمت اور پر معنی جواب دیتا ہے جس سےبہتر جواب کو ئی انسانی دماغ تجویز کر ہی نہیں سکتا وہ اسے خود اسی کےفعل سے ملزم کر تا ہے خود اسی کے اقوال سے قائل کر تا ہے خوداسی کے اعمال سے شرمندہ کرتا ہے وہ کہتا ہے تو یہ کہ لَقَدْ شَقِیْتَ اِنْ لَّمْ اَعْدِلْ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تُو بدبختی کے گڑھے میں گر گیا۔کیونکہ تُو نے تو مجھے خدا کارسول سمجھ کر بیعت کی ہے۔اور دعویٰ کر تا ہے کہ میں آپؐ کو خد اکی طرف سے یقین کر تا ہوں اور مجھے اپنا رہنما اور پیشوا قرار دیتا ہے تو ان خیالات کے باوجود اےنادان! جب تو مجھے انصاف سے دور اور عدل سے خالی خیال کر تا ہے تو تجھ سے زیادہ بد بخت اور کو ن ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو ایک ایسےشخص کے پیچھے لگا تا ہے جو اتباع کےقابل نہیں اور اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کر تا ہے جو جھوٹ بولنے میں کو ئی عیب نہیں دیکھتا اور اگر تو مجھے نبی نہیں خیال کرتابلکہ جھوٹاخیال کر تا ہے تو پھر بھی تُو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کےپھر میرے سا تھ رہتا ہے اور ظا ہرکر تا ہے کہ میں آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔

اللہ اللہ !کیسا پا ک جواب ہے کیسا مسکت اور مبکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیا دار سوائے اس کےکہ زندہ ہی مر جا ئے اَور کو ئی جواب نہیں دے سکتا۔یہ تھا آپؐ کا تحمل یہ تھی آپؐ کی بردباری جو آپؐ کو دنیا کے تمام انسانوںسے افضل ثابت کر تی ہے۔بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کو سن کر خاموشی سے اپنےحلم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا تحمل بھی لغو نہ تھا اگر آپؐ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا آپؐ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھا یا اور ایسا نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لیے ہدایت تھا۔کاش !اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرکے پھر اعتراضات سے نہیں رکتے کیونکہ ان کو یادرکھنا چاہیے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔

اب ایک اور مثال درج کر تا ہوں ۔جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ

اَنَّہُ بَیْنَا ھُوَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ النَّاسُ،مُقْبِلًا مِنْ حُنَیْنٍ،عَلِقَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاَعْرَابُ یَسْئَلُوْنَہٗ،حَتّٰی اِضْطَرُّوْہُ اِلٰی سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَہٗ، فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَعْطُوْنِیْ رِدَائِیْ،فَلَوْ کَانَ عَدَدُ ھٰذِہِ الْعِضَاہِ نَعَمًا لَقَسَّمْتُہٗ بَیْنَکُمْ،ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِیْ بَخِیْلًا وَلَا کَذُوْبًا،وَلَا جَبَا نًا (بخا ری کتاب الجہادباب ما کان النبی ﷺ یعطی المؤلّفۃ قلوبھم)

ایک دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کے سا تھ تھے اور آپؐ کے ساتھ اَور بھی لوگ تھے ۔آپؐ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے ۔راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آگئے۔اور آپؐ کےپیچھے پڑگئے اور آپؐ سےسوال کرنے لگے۔اور آپؐ پر اس قدر زور ڈالاکہ ہٹا تے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے۔جس سے آپؐ کی چادر پھنس گئی۔پس آپؐ ٹھہر گئے اور فر ما یا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہو تے (یعنی بہت کثرت سے ہو تے )تو بھی مَیں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پا تے ۔اللہ اللہ ! یہ وہ شخص ہے جسے نا پاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں۔اور طرح طرح کے نا پاک الزم لگا تے ہیں یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے ہیں کیااس تحمل والا انسان ظالم یا مغلوب الغضب ہو سکتا ہے؟کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہو سکتا ہے؟عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطر نا ک دشمن کو شکست دے کر واپس آرہا ہے۔ ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھُوٹا ۔ زبردست سے زبردست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیںاور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدان جنگ سےواپس آرہا ہے مگر کس شان سے اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔کچھ عرب آکر آپؐ سےسوال کر تے ہیں اور پیچھے ہی پڑجاتے ہیں کہ کچھ لیے بغیر نہیں لوٹیں گے آپؐ بار بار انکار کر تے ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔پھر اور پھر سوال کر تے ہیں اور باوجود آپؐ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیںضرور کچھ دلوایا جائے مگر آپؐ باوجود اس شان کے کہ سا رے عرب کو آپؐ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی ان سے کیا سلوک کر تے ہیں ان کے با ر بار کے سوال سے ناراض نہیں ہو تے۔ ان پر خفگی کااظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو بتاتے ہیں کہ آپؐ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ورنہ ضرور ان کو بھی دیتے۔ لیکن وہ لوگ پھر بھی مصر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟کیا اس لیے نہیں کہ کل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے سا تھی بھی پیچھے ہٹ جا تے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جا تا ہے۔ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوںکو اس کے پاس جس زورسے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا ۔بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہو گا ۔پھر کیا اس لیے نہیں کہ آپؐ کے اخلاقِ حسنہ اور آپؐ کے حسنِ سلوک کا دنیا میں ایسا شہرہ تھا کہ با دیہ نشین عرب بھی اس بات سے نا واقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہوگا۔ ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپؐ پر اس قدر زور ڈال رہے تھے۔اور باتوں سے ہی آپؐ سے کچھ وصول نہیں کر نا چاہتے تھے بلکہ جب نا امیدی ہو گئی تو آپؐ کو پکڑ کر اصرارکرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔اور آپؐ ان سے ہٹتے ہٹتےراستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آپؐ کی چادر کا نٹے دار درختوں میں جا پھنسی۔اور اس وقت آپؐ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملا مت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔اگر میرے پاس کچھ ہو تا تو میں ضرور تم کو دے دیتاحتٰی کہ سامنے کھڑے ہو ئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا۔اور ہر گز بخل نہ کر تا نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھا تا۔دنیا کا کو ئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتا وہ جو اپنی عزت اور اپنی بڑا ئی کے طلب گار ہو تے ہیں۔وہ اس قدر تحمل نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقعہ پر جب آپؐ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا تھا مذکورہ با لا جواب دینا اپنی نظیر آپ ہی ہے۔اور دنیا کا کوئی بادشاہ کو ئی حاکم کو ئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔پھر آپؐ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔فر ما تے ہیں…کہ اگر ان درختوں کے برا بر بھی اونٹ ہو تے تو میں تمہیں دے دیتا۔اور تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ایک موٹی نظر والےانسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن دانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپؐ نے فر ما ئے بالکل موقعہ کےمطابق تھے۔اور ان سے بہتر لفظ اَور ہو ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سےمتعلق ہے۔پس آپؐ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تا تو تم مجھے بخیل نہ پا تے یعنی تمہیں معلوم ہو جا تا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا اور جھوٹا بھی نہ پا تے۔یہ اس لیے فر ما یا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔پس فر ما یا کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جا تا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لیے بچالوں اور نہ مجھے بزدل پا تے۔یعنی میرا تمہیںمال دینا اس وجہ سے نہ ہو تا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جا تا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔لیکن میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔
شاید کوئی شخص کہے کہ آپؐ کے اتنا کہہ دینے سے کیا بنتا ہےکہ اگر میرے پاس ہو تا تو میں دے دیتا کیا معلوم ہے کہ آپؐ اس وقت دیتے یا نہ دیتے۔مگر یادرکھنا چاہیے کہ ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے دارد ۔میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کا تحمل کیسا تھا اور کس طرح آپؐ نا پسند اور مکر وہ با تیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے۔اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعاً نہ فر ما تے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تا معترض کو کو ئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے۔آپؐ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہو گا۔اور اگر کو ئی بہت مصر ہو تو میں آپؐ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپؐ نے تحمل فر ما یا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فر ما یا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہے۔اور وہ یہ کہ انس بن مالکؓ بیان فر ماتے ہیں کہ کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ نَجْرَ انِیٌّ غَلِیْظُ الْحَاشِیۃِ فَاَدْرَکَہٗ اَعْرَابِیٌّ فَجَذَ بَہٗ جَذْبَۃً شَدِیْدَ ۃً،حَتّٰی نَظْرْتُ اِلیٰ صَفْحَۃِ عَاتِقِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اَثَّرَتْ بِہٖ حَاشِیَۃُ الرِّدَآءِ مِنْ شِدَّۃِ جَذْبَتِہٖ۔ثُمَّ قَالَ :مُرْلِیْ مِنْ مَالِ اللّٰہِ الَّذِیْ عِنْدَکَ، فَالْتَفَتَ اِلَیْہِ فَضَحِکَ ،ثُمَّ اَمَرَلَہٗ بِعَطَاءٍ۔(بخاری کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤ لفۃ قلوبھم)

یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے سا تھ چل رہا تھا اور آپؐ نے ایک نجران کی بنی ہو ئی چادراوڑھی ہو ئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپؐ کے قریب آیا اور آپؐ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے سا تھ آپؐ کی گر دن پر خراش ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آپؐ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں پس آپؐ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اورمسکرا ئے اور فر ما یا کہ اسے کچھ دے دو۔

اس مثال سے آپؐ کا تحمل پہلی مثال سے بھی زیا دہ ظا ہر ہو تا ہےپہلی مثال سے تو یہ ظاہر ہو تا تھا کہ آپؐ کے پاس کچھ تھا نہیں اور کچھ سا ئل آپؐ سے بار بار انعام طلب کر تے تھے اور جبکہ آپؐ انکار فر ما رہے تھے کہ میرے پاس کچھ نہیں اور وہ لینے پر مصر تھے۔ان لوگوں کا آپؐ پر زور کر نا سمجھ میں آسکتا ہے اور خیال ہو سکتا ہےکہ چو نکہ وہ لوگ سخت محتاج تھے اور ان کی حالتِ زار تھی۔اور نا امیدی میں انسان کے حواس ٹھکانے نہیں رہتے اس لیے ان کی زیادتی پر آپؐ جیسے رحیم انسان کا تحمل کر نا کچھ تعجبات سے نہ تھا لیکن دوسرا واقعہ اس واقعہ سے بہت زیادہ آپؐ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے کیونکہ اس شخص نے بغیر سوال کے آپؐ پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کی کو ئی وجہ نہ تھی نہ اس نے سوال کیا تھا نہ آ پؐ نےانکار فر ما یا تھا نہ اسے کو ئی نا امید ی پیش آئی تھی۔مال سامنے موجود تھا آپؐ دینے کو تیار تھے پھر بلا وجہ اس طرح گستا خی سے پیش آنا ایک نہایت ہی نا شائستہ حرکت تھی اور اس کے سوال پر اسے ڈانٹنا چاہیے تھا۔اور پھر اس نے جو طریق اختیار کیا تھا وہ صرف گستاخانہ ہی نہ تھا کہ یہ خیال کر لیا جا تا کہ چلو اس سے کو ئی حقیقی نقصان تو ہوا نہیں جا ہل آدمی ہے اور جنگلی ہے اور آدابِ رسولؐ سے نا واقف ہے۔اسےمعاف ہی کر دینا بہتر ہو گا بلکہ وہ ایذا رسانی کا طریق تھا اور اس کی اس حرکت سےآنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف بھی پہنچی اور گر دن مبا رک پر خراش بھی ہو گئی بلکہ اس حدیث کو حمام نے اس طرح روایت کیا ہےکہ چادر پھٹ گئی اور اس کا حاشیہ چمڑہ کوپھاڑ تا ہوا گوشت تک گھس گیا پس وہ شخص اس بات کا پو رے طور پر مستحق تھا کہ اسے آپؐ سختی سے علیحدہ کر دیتے۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپؐ اس سے یہ سلوک فر ما تے ہیں کہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا تے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اسے بھی ضرور کچھ دے دو۔گو یا مسکرا کر اسےبتا تے ہیں کہ میں تمہارے جیسے نادانوں کو جو آدابِ رسول سے نا واقف ہیں بجائے ڈانٹنے کے قابلِ رحم خیال کر تا ہوں اور بجا ئے ناراضگی کے تمہاری حالت پر مسکرا تا ہوں کہ تم میرے تحمل سے ہی فا ئدہ اٹھاؤ۔

(باقی آئندہ )

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button