رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ جرمنی 2019ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

اس رپورٹ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

……………………………………………

08؍جولائی2019ءبروزسوموار۔(حصہ چہارم۔ آخری)

……………………………………………

بعدازاں ملک مقدونیہ سے آنے والے وفد نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔

مقدونیہ سے احمدی ، غیر احمدی اور عیسائی احباب پر مشتمل 70 احباب نےجلسہ سالانہ جرمنی میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔

٭ اس وفد میں 8صحافی بھی شامل تھے جن میں دو علاقائی TVاور دیگر 6نیشنل ٹی وی یا دیگر نیوز ایجنسی سے منسلک تھے ۔ ان صحافیوں نے جمعہ والے دن حضور انور کی پریس کانفرنس میں شرکت کی اور حضور انور سے سوالات پوچھے۔ اس کے علاوہ جلسہ کے دوران بعض انٹرویو کیے اور ریکارڈنگ کی۔

٭ صحافیوں کے علاوہ وفد میں 15 ؍عیسائی دوست، 23 ؍غیر احمدی مسلمان اور 24؍ احمدی مسلمان شامل تھے۔ کئی مہمان پہلی بار تشریف لائے۔

٭ غیز از جماعت مہمانوں میں سے پانچ نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔

اکثر نے جلسہ سالانہ میں شمولیت ، انتظامات ، تقاریر، رہائش، کھانا وغیرہ کی بہت تعریف کی۔ مہمانوں کو حضور انور کے خطابات خصوصاً بہت پسند آئے اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ حضور بہت سادہ اور عام فہم زبان میں خطاب فرماتے ہیں جس کا دلوں پر اثر ہوتا ہے۔

٭ حضورانور نے استفسارفرمایاکہ وہ نوجوان جو نظم پڑھتا تھا امسال نہیں آیا؟ اس پر وہاں کے مربی سلسلہ نے عرض کیاکہ اس کو چھٹی نہیں مل سکی۔

٭ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دورانِ ملاقات ایک بچہ کی آمین کروائی اور اس سے قرآن کریم کی ایک آیت سنی اوردعاکروائی۔

٭ ایک دوست رمضان صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایاکہ میں 1993ء سے احمدی ہوں ۔ میں نے کوئی سوال نہیں کرنا۔ میں صرف حضورانور کوسلام پہنچانے کے لیے کھڑا ہواہوں۔

٭ ایک دوست نے عرض کیاکہ میں نے گذشتہ سال کھانے کے حوالہ سے بات کی تھی۔ اس سال کھانا بہت اچھا تھا۔ بلقان کے لوگوں کے لحاظ سے بھی کھانا ٹھیک تھا۔

٭ مقدونین وفد کی ایک خاتون ‘ الیگزانڈرا دونیوا’ (Aleksandra Doneva) صاحبہ جلسہ سالانہ جرمنی میں پہلی بار شامل ہوئیں ۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اہل خانہ کے بغیر گھر کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟ کیا اخلاق کے بغیر انسانیت کا تصور ہوسکتا ہے۔ انسان کی حقیقت مذہب اور عقیدہ کے بغیر نہیں ہے اور محبت کے بغیر انسانیت کا کیا تصور ہوسکتا ہے۔ انسان کی روح کی پاکیزگی صرف امن میں رہنے اور امن کو پھیلانے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اسی طرح روح کی پاکیزگی رواداری باہمی عزت و تکریم میں پنہاں ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا پر یقین رکھے اور زمین پر مستقبل کو بہتر بنائے ۔یہ ایک ایسا طریق ہے جس سے ہم انسانیت کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ جماعت احمدیہ یہ تمام امور سرانجام دے رہی ہے۔ احمدی امن کو پھیلاتے ہیں اور امن کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ اخلاقیات کو قائم کررہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ بنی نوع انسان یہ تمام امور سرانجام دیں۔ احمدیت لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کررہی ہے ۔ ان کو عبادت کی لَولگائی ہے۔ احمدیت یہ چاہتی ہے کہ لوگ روحانیت میں اضافہ کرنے والے ہوں۔ ان میں اتحاد قائم ہو وہ خدا کے قریب ہوں۔ امسال جلسہ سالانہ پر میں نے بہت زیادہ اچھے لوگ دیکھے۔ مسکراتے چہروں کے ساتھ جو ہمیں بہت عزت دے رہے تھے۔ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ اچھے اخلاق کے ساتھ اچھی زندگی جی جاسکتی ہے۔

میں شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کا خدا پر یقین اور ایمان بہت مضبوط ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ یہ نیک کام جاری رکھیں گے اس سلسلہ میں زیادہ توجہ اور محبت جاری رکھیں گے اور پھر ایک وقت آئے گا اور لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ زندگی کا اصل مقصد اور valueکیا ہے۔

محبت کے بغیر انسان کچھ نہیں۔ یہ ایک ایسا خلا ہے جس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوسکتی ۔ امید کرتی ہوں کہ آپ آگے بڑھیں گے اور محبت کے ساتھ اس خلا کو پُر کریں گے اور مذہبی اقدار کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

٭ مقدونین وفد میں شامل ایک ٹی وی کے صحافی ‘زورانچو زورِنسکی’ (Zoranco Zorinski) صاحب دوسری بار جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
جلسہ میں شمولیت میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ جلسہ کے انتظامات بہت اعلیٰ تھے ۔ میں پچھلے سال بھی یہاں آیا ہوں۔ میرے خیال میں جلسہ کے انتظامات پچھلے سال کی نسبت زیادہ اچھے تھے۔ میرا بعض نئے دوستوں سے تعارف حاصل ہوا۔ میں خصوصاً حضور کے خطابات سے بہت محظوظ ہوا ہوں۔ ان کا ہر لفظ انسانیت کے لیے ایک سبق تھا۔ ان کا پیغام عالمی پیغام ہے کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں۔ یہ پیغام آج تمام انسانیت کے لیے ضروری ہے۔ خدا پر ایمان رکھنا اور تمام انسانوں کی مدد کرنا یہ ایسا کام ہے جو تمام لوگوں کے درمیان اختلافات کو دور کردے گا۔

جماعت احمدیہ لوگوں کو مثبت چیزیں سکھاتی ہے ۔ حضور نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو جو جوابات دیے وہ انسانیت کی بنیادی اقدار کا اظہار کررہے تھے۔ مجھے امید ہے کہ میں ایک دن حضور کے ساتھ انٹرویو کا اعزاز حاصل کروں گا۔ حضور جماعت احمدیہ کے پیشوا ہیں لیکن سب سے بڑھ کر وہ ایسے انسان ہیں جو ہر ایک کو سمجھتے ہیں اور اچھی نصیحت فرماتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مزید لوگ احمدیت قبول کریں گے جو انسانیت کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔

٭ وویو مانیوسکی (Vojo Manevski) صاحب دوسری مرتبہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

میں نے گہرائی میں جاکر احمدی مسلمانوں کے پیغام کو سمجھا ہے۔ بطور صحافی میں نے مختلف مذاہب میں ملتی جلتی تعلیمات کا جائزہ لیا ہے ۔ مذہب کی بنیاد اللہ تعالیٰ سے محبت اور بنی نوع انسان سے محبت پر مبنی ہے۔ یہ ایسا پیغام ہے جس کی آج کے دور میں بہت ضرورت ہے۔ آج کی دنیا کے بہت سے مسائل کا حل جو دنیا کو سخت پریشان کررہے ہیں اس محبت کے پیغام میں ہے۔ آج یورپ کا بہت بڑا مسئلہ دائیں بازو کے سیاستدانوں کی طاقت میں اضافہ ہے جس کا حل صرف گفتگو سے ممکن ہے جو مختلف مذاہب ، کلچر اور Civilizationکے درمیان ہو۔ اگر ہم خدا کی تلاش کریں توہمیں علم ہوجائے گاکہ ہم میں آپس میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے ۔ میں خلیفۃ المسیح کی اس بات کو یاد رکھوں گا کہ سب کتابیں جو آج موجود ہیں وہ ایک شیشے کی طرح ہیں جو وقت کے گزرنے سے مدھم ہوگئی ہیں اور لوگوں کے اعمال کی وجہ سے وہ تعلیم کم نظر آرہی ہے۔ سب الہامی کتابوں کی تشریح درست ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور الفاظ کی تشریح لوگوں کی ضرورت کے مطابق نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہروقت اسلام کی حقیقی تعلیم پر کاربندہوں۔ یہ نہیں کہ آج مومن ہوں اور کل کافر۔

جتنا ہم خدا سے دور ہوں گے اتنے ہی ہم انسانیت اور لوگوں سے دور ہوں گے۔ مادیت کا دور روحانی زندگی اور آپس کے تعلقات کو ختم کررہاہے۔ اس لیے ہم اپنی فیملی اور دوستوں کی حفاظت کریں ۔ تعلقات کی حفاظت کریں۔ میں آخر میں جماعت مقدونیہ کا ممنون ہوں اور تمام دوستوں کا ممنون ہوں جو اس جماعت میں ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کی حفاظت کرے۔

٭ رامیض بائیراوسکی(Ramiz Bajramouski) صاحب نے گزشتہ سال جلسہ سالانہ جرمنی میں شرکت کی تھی اور امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کرکے جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے بیان کیا:

جلسہ کے دوران حضور انور سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے جو میری زندگی میں کام آنے والی باتیں ہیں۔

٭ ایک مہمان رضوان دمیروو (Ridvan Dimirov) صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

جلسہ سالانہ تمام لوگوں کو اس بات کا موقع مہیا کرتا ہے کہ وہ اسلام کے بارہ میں نیز مختلف مذاہب اور کلچرز کے بارہ میں علم حاصل کریں۔ جلسہ میں ساری دنیا سے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جلسہ وہ مقام ہے جہاں ہر کسی کے ایمان اور یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجھے ایک ہی جگہ مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

٭ وفد میں شامل ایک مہمان سیودیان سلیمانوسکی (Sevdjan Sulejmanovski) صاحب نے اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کیا کہ

آج میں نے احمدیت قبول کی ہے اور اس اعزاز پر بہت خوش ہوں۔ امسال جلسہ پر میں نے زیادہ تعداد میں لوگوں کو دیکھا۔ کھانا اور رہائش اچھی تھی۔ خلیفۃ المسیح کی تقاریر بہت اچھی تھیں کیونکہ اسلام کے بارہ میں وہ بہت اچھے انداز میں بتاتے ہیں۔ خصوصاً جب وہ اسلام کے بارہ میں مختصر الفاظ میں وضاحت بیان فرماتے ہیں۔ وہ آسان اور سادہ الفاظ میں بتاتے ہیں ۔ میرے خیال میں 2019ء کا جلسہ بہت کامیاب رہا ۔

٭ ایک دوست نے سوال کیاکہ قرآن کریم کے حوالہ سے خلافت کے بارہ میں رہنمائی فرمادیں۔
اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنین سے، نیک لوگوں سے یہ وعدہ فرمایاہے کہ جو نیک لوگ ہوں گے اور اعمالِ صالحہ بجالانے والے ہوں ان کو خلافت کا انعام عطاہوتارہے گا۔

حضورانور نے فرمایا: آپ نے عبادات بجالانی ہیں اور خدا سے تعلق قائم کرناہے۔ خلافت کے ساتھ جڑے رہیں، اطاعت کریں، خداسے تعلق رکھیں اور اپنے اعمال درست کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں خاتم الخلفاء ہوں۔ اب مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق اور واسطہ سے ہی آگے خلافت جاری ہونی ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی خلافت نہیں ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور خلافت جاری رہ سکتی ہے۔ ایسی خلافت جو شدت پسندی کی تعلیم دیتی ہے، دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہے، مارکٹائی پر ابھارتی ہے یہ ہرگز خلافت نہیں ہے۔

٭ ایک دوست نے سوال کیاکہ کیا آنحضرت ﷺ کی کوئی حدیث ایسی ہے جس میں ذکر ہو کہ مسیح نے کب آنا تھا؟

اس سوال کے جواب میں حضورانور نےفرمایا: حدیث ہے کہ نبوت کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔ پھر ایذارساں بادشاہت ہوگی، پھر اس کے بعد اس سے بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی۔ پھر یہ ظلم وستم کا دور ختم ہوگا اور پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔

حضورانورنےفرمایا:آنحضرتﷺنےآنےوالے مہدی کی نشانیوں میں سورج ، چاند گرہن کو بھی ایک نشان قراردیا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح مہدی کا دعوی کیا تو لوگوں نے کہا کہ چاند، سورج گرہن کا نشان پورا نہیں ہوا۔ چنانچہ 1894ء میں سورج ، چاند کو گرہن لگا اور پھر 1895ء میں ویسٹ میں سورج ، چاندکوگرہن لگا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت فرمائی کہ دعوۃ الامیر کا ترجمہ مقدونین زبان میں کریں۔ اس میں آنے والے مسیح و مہدی کی نشانیوں کا ذکر ہے۔ ان کو بتادیں۔ اور اس کتاب کا ترجمہ جلد کروائیں۔
٭ ایک صاحب نے عرض کیاکہ میرا تعلق مقدونیہ کے ایک شہر سے ہے۔ ہم ہیومینٹی فرسٹ کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ ہم کو بچوں کے لیے ایک گاڑی مہیاکی گئی ہے۔

٭ ایک دوست نے عرض کیاکہ میں حضورانور کا شکریہ اداکرتاہوں کہ مجھے حضور سے براہِ راست بات کرنے کا موقع ملا۔ ہم جرمنی جماعت کا بھی شکریہ اداکرتے ہیں کہ لوگ خودزمین پر سورہے ہوتے تھے اور ہم ہوٹل میں رہتے تھے۔

٭ بعض احباب نے ایک مزید مربی بھجوانے کی درخواست کی۔ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ آپ کو ایک مربی دیا ہواہے۔ انشاء اللہ مزید بھی بھجوادیں گے۔

٭ ایک غیر ازجماعت خاتون نے عرض کیاکہ میں پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئی ہوں اور سارے نظام سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ جس طرح لوگ ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے، بہت حیران کن تھا۔ میں آئندہ بھی آؤں گی اور آپ کی جماعت کا حصہ ہوں گی۔

٭ جانی رجیپوو(Jani Redjepov) صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں پہلی بار اپنی فیملی کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوا ہوں۔ جلسہ بہت اچھا رہا۔ جلسہ ایک شاندار تجربہ تھا۔ ہماری بہت اچھی مہمان نوازی کی گئی ۔ حضور انور نے بہت مفید باتیں بیان فرمائیں۔ مقدونیہ میں میں نے جب پہلی بار احمدیت کا پیغام حاصل کیا تو مجھے احساس ہوگیا تھا کہ احمدیت کا پیغام لوگوں کے لیے مثبت رہنمائی کا کام ہے۔ پہلے میری فیملی نے اس پیغام کو قبول کیا اور پھر میری رہنمائی کی ۔ جلسہ سالانہ میں شرکت کا انتظام کرنے پر آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔

٭ تانیہ لازارووا (Tanja Lazarova) صاحبہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

میں پہلی بار جلسہ میں شامل ہوئی ہوں ۔ یہاں میرے لیے سب کچھ نیا تھا اور بہت اچھا تھا۔ تمام انتظامات ہر لحاظ سے بہت اچھے تھے۔ خصوصاً کام کرنے والے رضاکاران کا انداز بہت دوستانہ تھا۔ مسکراتے چہروں کے ساتھ پیش آرہے تھے۔ کھانا بہت لذیذ تھا۔ حضور انور کے خطاب بہت علمی تھے اور سب کے لیے آسانی سے سمجھ آنے والے تھے۔

مزید کہتی ہیں کہ‘‘ جو نئے مہمان تھے وہ جماعت کے انتظامات اور مہمان نوازی سے بہت متاثر تھے۔ اور حضور انور کے خطابات اور تبحر علمی سے بہت متاثر تھے اور دوبارہ آنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے رہے ۔ ’’

مقدونیہ کے وفد کی حضورانور کے ساتھ یہ ملاقات چھے بج کر 45منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر وفد کے ممبرا ن نے شرفِ مصافحہ حاصل کیا اور تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

………………………………………………………………………

بعدازاں پروگرام کے مطابق ملک بلغاریہ سے آنے والے وفد نے چھے بج کر 45 منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی۔

امسال جلسہ سالانہ جرمنی میں شرکت کے لیے بلغاریہ سے 49 افراد پر مشتمل وفد شامل ہوا ۔ اس میں 15 احمدی اور 34 غیر از جماعت و عیسائی احباب شامل ہوئے۔ان میں سے 16 افراد By Air اور 33 افراد بذریعہ بس 30 گھنٹے سے زائد کا سفر کر کے جلسہ میں شامل ہوئے۔

٭ بلغاریہ کے وفد میں شامل ایک خاتون Temenyika Korcheva صاحبہ نے بیان کیا : میں نے جلسہ سالانہ پر دیکھا کہ بہت سے لوگ ، پوری دنیا سے آئے ہیں اور ایک جگہ پر اکٹھے ہیں اور یہ تمام لوگ خدا کی تسبیح وتحمید میں لگے ہوئے تھے۔ جلسہ کی تقاریر میں بہت ہی خوبصورت پیغامات سنے ، جن کی آج انسانیت کو بہت ضرورت ہے ۔

میں نے جلسہ میں یہ بھی دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو شروع سے ہی محنت سے کام کرنا سکھایا جاتا ہے جیسا کہ وہ ہمیں پانی پلاتے تھے۔ یہ جلسہ مجھے بہت ہی اچھا لگا اور میری خواہش ہے کہ اگلی دفعہ بھی ضرور آؤں۔

٭ وفد میں شامل ایک اور خاتون Galia صاحبہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

میں تینوں دن جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئی۔ میں جلسہ کی مہمان نوازی اور انتظامات سے بے حد متاثر ہوں۔ میں ان خوش اخلاق اور نیک ارادے رکھنے والے لوگوں سے بھی بہت متاثر ہوئی ہوں جن سے میں جلسہ کے موقع پر ملی۔ اس کے علاوہ مجھے نظمیں بہت پسند آئیں اور ان کا بلغارین ترجمہ بھی۔

٭ وفد میں شامل ایک عیسائی خاتون Yulia Zlatanova صاحبہ نے بیان کیا : میں اس بات کو سوچ کر بہت جذباتی ہو رہی ہوں کہ میں بھی احمدیہ جماعت کے جلسہ پر ان ہزارہا شاملین کے ساتھ شامل ہوئی ہوں۔ بے شک میں عیسائی ہوں ، لیکن مجھے حضور کی تقاریر بہت پسند آئیں۔ حضور کی دعائیں دل پر اثر کرنے والی تھیں۔ تلاوت قرآن کریم بھی مجھے بہت پسند آئی نیز اس کا ترجمہ بھی۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ طلباء کو انعامات اور میڈل دینے کے لیے خلیفۃ المسیح خود کھڑے ہوئے ۔ میری خواہش ہے کہ حضور کی تمام دعائیں قبول ہو جائیں تا کہ تمام مذاہب اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔

٭ بلغارین وفد کی ایک خاتون Krasrmira Manikatova صاحبہ نے ذکرکیا: مجھے تیسری مرتبہ جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ اور ہر سال مجھے نئی سے نئی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ میں تقاریر کو بہت غور سے سنتی ہوں کیونکہ میں ایک Physiotherapist اور Psychologist ہوں۔ میں ان تقاریر میں بتائی جانے والی جماعت احمدیہ کی تعلیم کے ذریعے،اپنے ہر مریض کے مسائل بہتر رنگ میں حل کرسکتی ہوں۔ اس کے علاوہ ان تقاریر سے میں اپنے لیے بھی مفید نصائح اکٹھی کر کے لے جاتی ہوں جو میری ذاتی اورپروفیشنل زندگی میں بہت مددگا رہوتی ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی جلسہ کے انتظامات میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

٭ بلغارین وفد کی ایک عیسائی خاتون Ivanka Marinovaصاحبہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا :

مجھے پہلی دفعہ جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ میں ساری چیزیں دیکھ کر حقیقت میں حیران رہ گئی ہوں ۔ خاص طور پر ان بچوں سے بہت متاثر ہوئی جو گلاسوں میں ہمیں پانی دیتے تھے۔ کھانا بہت عمدہ، لذیذ ، تازہ اور گرم گرم پیش کیا جاتا تھا، ہمیں بس کے سفر میں اور ہوٹل کی رہائش میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ بے شک میں عیسائی ہوں لیکن جماعت احمدیہ سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

٭ ایک دوست Usman Mehmodov صاحب نے بیان کیا: میں جلسہ کے انتظامات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ کے استقبال اور تمام انتظامات سے میں بہت خوش ہوں۔ علاوہ ازیں حضور کی تقاریر جن میں مذہب کی خوبصورتی بیان کی گئی تھی، بہت ہی متاثر کن تھیں۔ میں آپ کی ہمت پر حیران ہوں کہ کس طرح آ پ بے سہاروں کی مدد کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ مجھے State سیکرٹری کی تقریر بھی اچھی لگی۔ اللہ کرے کہ اس جیسے خیالات رکھنے والے اور لوگ بھی پیدا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ مساجد کی تعمیر کی جاسکے۔

٭ بلغارین وفد کی ایک خاتون Diana Denkovaصاحبہ نےبتایا: مجھے پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ مجھے تمام انتظامات بہت اچھے لگے۔ جب میں جلسہ گاہ پہنچی تو بہت حیران ہوئی کہ کیسے ہزار ہا لوگوں کے لیے عمدہ انتظامات اور حفاظتی نقطۂ نگاہ سے انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسی طرح مجھے حضور ا نور کی تقاریر بہت پسند آئیں۔ خاص طور پر میں اس بات سے متاثر ہوئی کہ طلبہ کو حضور نے خود اسناد اور میڈل دیے۔ مجھے نظمیں بھی بہت اچھی لگیں۔ میرا خیال ہے کہ سب لوگوں کو آپ کی دعاؤں پہ غور کرنا چاہیے اور عمل بھی کرنا چاہیے تا کہ دنیا میں امن قائم ہو۔

٭ بلغارین وفد کی ایک اور خاتون ممبر Ruja Metodieva صاحبہ نے کہا : میں جلسہ کے تمام انتظامات سے بہت متاثر ہوں اور خاص طور پر اس بات کا ذکر کرنا چاہتی ہوں کہ اس دفعہ یورپ کے نئے نئے ممالک سے بھی عورتیں جلسہ پر شامل ہوئیں۔

٭ وفد میں شامل ایک دوست Ognyan Manikatovصاحب بیان کرتے ہیں: میزبانوں کی طرف سے مہمان نوازی کے انتظامات بہت ہی عمدہ تھے۔ جلسہ گاہ کے ہال میں بھی تمام انتظامات میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ تھی۔ تینوں دن کے اجلاسات انتہائی اچھے گزرے۔ تقاریر بہت ہی سبق آموز تھیں اور عمدہ طور پر تیار شدہ تھیں۔ حضور کی تقاریر بہت ہی متاثر کن تھیں اور ان میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے بہت دلچسپ واقعات اور مثالیں تھیں۔ میں آپ سب کے پُرجوش استقبال اور اعلیٰ اخلاق سے بہت خوش ہوں۔

٭ وفد کی ایک ممبر سویتلینا (Svetlena Pavlova) صاحبہ نے بیان کیا کہاس جلسہ میں شامل ہوکر یوں محسوس ہورہاتھا کہ میں ایک روحانی سفر میں شامل ہوں جس نے میرے احساسات کو زندہ کردیاہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی تقاریر سن کر یوں لگا کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات قریب ہی ہے۔ اس جلسہ میں تمام شاملین سے ہی پیار اور محبت کا سلوک کیاجارہاتھا۔

٭ ایک مہمان خاتون Miss Biserka Petrova Gramatikovaنے بیان کیاکہ جب میں نے اپنے والد کے ساتھ اس جلسہ میں شرکت کا ارادہ کیا تو یہ تو ذہن میں تھا کہ یہ ایک نئی طرز کا تجربہ ہوگا لیکن جب شامل ہوئی تو محسوس ہوا کہ یہ تو نہایت خوبصورت اور خوبیوں کے حامل انسانوں کا ایک ایسا گروہ ہے جس میں تمام لوگ پیار ومحبت کی بہترین مثال ہیں۔ حضورانور کی تقاریر سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ مسلمانوں کا ایک بہت ہی چھوٹا ساحصہ ہے جو دہشت گردی کررہاہے ۔ جن کی وجہ سے میڈیا تمام مسلمانوں کو ہی بدنام کرنے پر لگاہواہے۔ اس جلسہ میں شمولیت میرا بہت اچھا تجربہ تھا۔

٭ وفد کے ایک ممبر Mr Peter Gramatikov جن کا تعلق بلغاریہ کے شاہی خاندان سے ہے اور وہ خود مصنف اور یونین آف جرنلسٹ کے ممبرہیں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:حضورانور کی تقاریر انسانی روح کو زندہ کردیتی ہیں۔ جلسے میں شمولیت سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔

بلغاریہ کے وفد کی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات سات بج کر پانچ منٹ تک جاری رہی ۔ آخر پر وفد کے ممبران نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی اور شرفِ مصافحہ بھی حاصل کیا۔

………………………………………………………………………

اس کے بعد ملک کوسووو (Kosovo) سے آنے والے وفد نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ شرفِ ملاقات پایا۔ یہ ملاقات سات بج کر سات منٹ پر شروع ہوئی۔

اِمسال جلسہ سالانہ جرمنی کے موقعہ پر کوسووو سے 45 افراد کو شرکت کرنے کی توفیق ملی۔اِن میں سے 30؍ احباب احمدی اور 15؍غیر از جماعت دوست شامل تھے۔

٭ ایک دوست نے عرض کیاکہ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطابات کا ہم پر گہرا اثرہواہے۔ ہمیں حضورانور کی دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ جو نصائح حضورانور نے فرمائی ہیں ہم ان پر عمل کرسکیں۔

٭ کوسووو کے وفد میں ایک دوست Mr. Shaip Zeqirajiصاحب دوسری بار جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔ جب ان کو جلسہ سالانہ کی اطلاع ملی تو بہت خوش ہوئے مگر جیسے ہی سفر کے اخراجات سامنے آئے تو کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ لیکن خلیفہ وقت کا دیدار کرنے اور جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی تڑپ کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی گائے بیچ کر اس جلسہ میں شامل ہونے کے اخراجات پورے کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ محبت حضور انور سے ہے۔ جب میں پچھلے سال حضور انور سے ملا تو محسوس ہوتا تھا کہ حضور سے ایک نور نکل رہا ہے اور وہی نور اس بار بھی محسوس ہو رہا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا ہورہاہے۔

اس پر حضورانور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ان کو ایمان و اخلاص میں بڑھاتارہے۔

٭ کوسووو کے وفد میں شامل ایک دوست Mr. Skender Asllaniصاحب جوکہ البانین زبان اور لٹریچر کے استاد ہیں اور انہیں اس سال بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے ، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

انتظامات بہت اعلیٰ پائے کے تھے۔ ڈھونڈنے پر بھی کوئی نقص نہیں ملا۔ تقاریر کا معیار بہت عمدہ تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات بہت پراثر تھے۔

انہوں نے کہا کہ سفر کی تھکاوٹ اس قدر تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ لیکن حضور انورکو دیکھنے اور پہلی دفعہ آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد تھکاوٹ کا نام و نشان نہ رہا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا ابھی ایک لمبی نیند کے بعد جاگا ہوں۔

بیعت کرنا ایک انعام ہے جس کی قدر ہم سب کو کرنی چاہیے کیونکہ اس ماحول میں ایک ہاتھ پر جمع ہونا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

٭ وفد میں شامل ایک اور دوست Mr. Gani Gashiصاحب جو کہ کوسووو میں موجود واحد نابینا سکول میں استاد ہیں، ان کو پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا۔ Humanity Firstکے تحت ان کے اسکول میں ایک پروگرام منعقد ہوا تھا جہاں سے جماعت احمدیہ کا تعارف ہوا۔

وہ کہتے ہیں: میں نے لوگوں سے جماعت احمدیہ کے جلسہ کے بارہ میں یہی سنا تھا کہ ایک خاص طاقت ہے جو سارے جلسہ کا انتظام چلا رہی ہوتی ہے ورنہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ مَیں خود تو دیکھ نہیں سکتا تھا اس لیے سوچا جلسہ میں شامل ہوتاہوں۔

وہ بیان کرتے ہیں: کان ایسا آلہ ہے جو سچی بات کو پہچان لیتا ہے۔حضور انور کے خطابات کو سننے کے بعدخاکسار نے یہی محسوس کیا ہے کہ پیارے حضور کو محبت صرف احمدیوں سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں سے ہے۔ خاکسار سمجھتا ہے کہ دنیا کو بچانے اور راہ راست پر لانے والی صرف یہی ایک آواز اور جماعت ہے۔

٭ کوسووو کے وفد میں ایک دوست Mr. Kushtrim Alhadaraj صاحب پچھلی بار بھی جلسہ پر شامل ہوئے تھے۔ ان کا بیٹا 4سال کا ہے اور چل نہیں سکتا تھالیکن کسی نے ان کو مشورہ اور توجہ دلائی کہ حضور انور کو دعائیہ خط لکھیں۔

یہ کہتے ہیں کہ ابھی دعائیہ خط لکھے ہوئے دو دن ہی گزرے تھے کہ بیٹے نے اپنے قدموں پر چلنا شروع کردیا اور الحمدللہ اب وہ چلتا ہی نہیں بلکہ بھاگتا بھی ہے۔ خلیفۃ المسیح ہی ہیں جو اپنے لوگوں سے سچی محبت رکھتے ہیں اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔

٭ ایک دوست نے عرض کیاکہ کوسووو میں پچانوے فیصد مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت مولوی سے منسلک نہیں ہے بلکہ پیچھے ہٹے ہوئے ہیں تو وہاں تبلیغ کرنے کا سب سے احسن طریق کیاہوگا؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ان کو چاہیے کہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان لائیں۔ اخباروں میں آرٹیکل ، مضامین لکھیں کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہے۔ وہ اپنے بندوں سے کیا چاہتاہے۔ تو سب سے پہلے خدا کے وجود کی طرف لائیں۔ خدا کا حق ہم کس طرح اداکرسکتے ہیں۔ پھر اس کے بندوں کے حقوق ہیں۔ امن و سلامتی کے پیغام پر بروشر تقسیم کریں۔ ایسے آرٹیکل لکھیں کہ لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ ہو۔ لوگوں کا دنیاداری کی طرف رجحان زیادہ بڑھ گیاہے۔

حضورانور نے فرمایاکہ اصل یہ ہے کہ توجہ پیداہو۔ جب توجہ پیداہوگی تو تبلیغ کے لیے پھر اگلا قدم شروع ہوگا۔ ان ملکوں میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اب چاہتی ہے کہ امن کے لیے کوئی چیز تلاش کریں۔ اس کے لیے بہرحال ہمیں پیغام دینا پڑے گا۔

حضورانور نے فرمایا: ان مسلمان ملکوں میں تبلیغ بڑا چیلنج ہے۔

٭ وفد میں شامل ایک دوست Mr Labinot Rexhadصاحب وہاں ایک ‘ہائی سکول ’کے پرنسپل ہیں اور پہلی دفعہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:جلسہ سالانہ نے مجھ پر ایک خاص جذباتی اثر ڈالاہے۔ جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ہال میں تشریف لاتے تو نعروں کا بلند ہوجانا اور اسی طرح حضور کا فرمانا کہ ‘بیٹھ جائیں۔’ تو اتنے بڑے مجمع کا فوراً بیٹھ جانا ، یہ دنیا میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔

حضورانور کے خطابات ہر قسم کے علوم سے مرصع تھے اور انسان کی توجہ کو کھینچتے تھے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ یہ جلسہ 3دن کا نہیں بلکہ 30دنوں کا ہونا چاہیے۔ انتظامات میں کوئی کمی دیکھنے کونہیں ملی۔ اگلےسال کے جلسہ میں شامل ہونے کے لیے بے قرار ہوں۔ میرا اِرادہ بیعت کرنے کا نہیں تھا لیکن بیعت کے دوران طبیعت میں ایسا اثر پیدا ہوا کہ خود بخود ہی ہاتھ اٹھ گیا اور الفاظ دہرانے شروع کردیے۔

٭ کوسووو کے وفد میں ایک اور دوست Mr Afrim Hoxhaصاحب پہلی مرتبہ اپنی فیملی کے ہمراہ جلسہ میں شامل ہوئے ہیں اور 5؍ افراد کی ساری فیملی کو بیعت کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بیان کیا:

پہلے مجھے بیعت کا ایک ڈر تھا کہ کس طرح ہوگی اور جسم گھبراہٹ سے کانپ رہاتھا لیکن پیارے حضور کو دیکھنے اور بیعت کرنے کے بعد طبیعت میں سکون سا محسوس ہونے لگا اور جسم کانپنا بند ہوگیا۔

٭ کوسووو کے وفد میں شامل ایک دوست Mr Minator Nalokwصاحب بیان کرتے ہیں: اپنے احساسات اور جذبات کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ خلیفۃ المسیح سے ملنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی مکمل اور کامیاب ہوگئی ہے۔ میری زندگی میں کب سے ایک خواہش تھی کہ کوئی ایسا وجود مجھے ملے جو دنیا کی فکر کرنے والا ہو اور جس سے مل کر میرے تمام مسائل اور تکلیفیں حل ہوجائیں ۔ میرا اس جلسہ میں شامل ہونا خدائی تصرف سے تھا اور بیعت کرتے وقت مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ گویا کہ میں خدا کے قریب ہوگیا ہوں۔

کوسووو کے وفد کی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات 7 بج کر 12 منٹ تک جاری رہی ۔ آخر پر وفد کے ممبران نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی اور احباب نے شرفِ مصافحہ بھی حاصل کیا۔

………………………………………………………………………

بعدازاں افریقہ کے ممالک سے آنے والے مبلغین، معلمین اور احبابِ جماعت نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

٭ حضورانور نے سب کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ کیا آپ اپنے ملکوں میں ایساجلسہ کریں گے؟ جس پر سب نے کہا کہ ہم ان شاء اللہ کوشش کریں گے۔

٭ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نائیجیریا سے آنے والوں سے پوچھاکہ آپ کو جلسہ کیسالگا؟ اس پر ایک دوست نے عرض کیاکہ بہت اچھا انتظام تھا۔ بڑا جلسہ تھا اور سارے کام بڑی خوش اسلوبی سے طے پائے۔

٭ حضورانور نے فرمایا کہ نائیجیریامیں بہت زیادہ تیل ہے۔ لیکن وہاں کرپشن ہے۔ ایک احمدی کو اپنا رول اداکرنا چاہیے اور اس پر بہت محنت کرنی چاہیے۔

٭ ایک دوست نے سوال کیاکہ نومبائعین کو ہم کس طرح نظام کا حصہ بنائیں؟

اس پر حضورانور نے فرمایا جو آرہے ہیں وہ سچے پیغام کی وجہ سے آئے ہیں۔ دعاؤں سے ، اخلاص سے، ایمان میں مضبوطی سے اپنا نمونہ قائم کریں۔ان کی اچھی تربیت کریں اور ان کو ٹریننگ دیں۔ ان نئے آنے والوں کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ کم ازکم میر اخطبہ جمعہ ضرور سنیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جلسہ کے آخری دن جو میرا خطاب تھا وہ صرف جرمنی جماعت کے لیے نہ تھا بلکہ ساری دنیا کے لیے تھا۔ اس کو followکریں۔ میں نے Charter of Preachingدیاہے۔ آنحضرتﷺ کا اسوہ حسنہ بتایاہے۔ اس کو اختیار کریں اوراس پر عمل کریں۔

حضورانور نے فرمایا: اپنے ملک کے لیڈروں کو کہیں ملک کی خدمت میں ایماندار ہوں اور سید القوم خادمہم بنیں۔ عوام کی خدمت کریں اور ملک کی پراگریس کے لیے کام کریں اور محنت کریں۔

٭ ایک صاحب نے واقفینِ نو بچوں کے حوالہ سے دریافت فرمایا تو اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم سکھائیں۔اردو سکھائیں اور دوسری زبانیں سکھائیں۔ ہمیں ڈاکٹرز، ٹیچرز اور وکیلوں کی ضرورت ہے۔ مختلف زبانوں کے ماہرین کی ضرورت ہے۔

٭ نائیجیریا سے آنے والے ایک دوست نے عرض کیاکہ جو حکومت کے ساتھ کھڑا ہوتاہے اس پر باغیوں کی طرف سے دہشت گرد حملے ہوتے ہیں۔ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جو حکومت کے خلاف کھڑا ہوتاہے اس کا ساتھ تو نہیں دینا۔ حکمت سے کام لیں ۔ کسی بھی فساد کو روکنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں ۔ حکومت والے آتے ہیں تو ان کو جو بھی صورت حال ہو بتادیں۔

٭ ایک دوست نے عرض کیاکہ بینکوں سے قرض لےکر لوگ قرضوں میں دب جاتے ہیں۔اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:بینکوں سے قرض ہی کیوں لیتے ہیں؟ یہ طریق ہی غلط ہے۔ اس کو avoidکرنا چاہیے۔ قرض نہیں لینا چاہیے۔ قرض لےکر خود ہی پھنستے چلے جاتے ہیں۔

٭ کانگو کنشاسا سے آنے والے ایک صاحب نے عرض کیاکہ کانگومیں بہت سارے مسائل تھے۔ الیکشن تھا۔ فسادات کا خطرہ تھا۔ حضورانور کی دعاؤں سے امن رہا۔ سارا مسئلہ بخوبی طے پاگیا۔ کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ موصوف نے وہاں جماعت کی ترقی کے لیے دعا کی درخواست کی۔

افریقن احباب کی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ یہ ملاقات آٹھ بج کر 10 منٹ تک جاری رہی ۔ آخر پر وفد کے ممبران نے ملک وائز تصاویر بنوانے کی سعادت پائی اور شرفِ مصافحہ بھی حاصل کیا۔

………………………………………………………………………

٭ بعدازاں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے جہاں پروگرام کے مطابق فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔

آج شام کے اس سیشن میں 16 فیملیز کے 60؍افراد نے ملاقات کی سعادت پائی اور اس کے علاوہ سات افراد نے انفرادی طور پر شرفِ ملاقات پایا۔ جرمنی کی بعض جماعتوں کے علاوہ ملاقات کرنے والوں کا تعلق پاکستان، بینن، گھانا، سیرالیون، تنزانیہ ، آئرلینڈ ، گیمبیا ، ری یونین آئی لینڈ، ملائیشیا ، ساؤتومے اور ماریشس سے تھا۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام ساڑھے نو بجے تک جاری رہا۔

بعدازاں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

دس بجے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشریف لاکر نماز مغر ب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورانور کی اجازت سے مکرم صداقت احمدصاحب مبلغ انچارج جرمنی نے دس نکاحوں کا اعلان کیا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس دوران ازراہِ شفقت تشریف فرمارہے اور آخر پر دعا کروائی۔
بعدازاں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی جائے رہائش پر تشریف لے گئے۔

……………(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button