متفرق مضامین

برصغیر پاک و ہند میں موجود مقدس مقامات

(مبارز نجیب وڑائچ۔ ربوہ)

جن کو مسیح الزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیننےبرکت بخشی

مقدمہ کی پیروی کے لیے گورداسپور جانا

مولانا دوست محمد شاہد صاحب مؤرخ احمدیت تاریخِ احمدیت جلد اول میں رقم طراز ہیں کہ

‘‘ایک دفعہ جبکہ حضرت اقدس کی عمر پچیس تیس برس کی تھی۔ آپ کے والد بزرگوار کا اپنے موروثیوں سے درخت کاٹنے پر ایک تنازعہ ہو گیا۔ آپ کے والد بزرگوار کا نظریہ یہ تھا کہ زمین کے مالک ہونے کی حیثیت سے درخت بھی ہماری ملکیت ہیں اس لیے انہوں نے موروثیوں پر دعویٰ دائر کردیااور حضور کو مقدمہ کی پیروی کے لیے گورداسپور بھیجا۔ آپ کے ہمراہ دو گواہ بھی تھے۔ حضرت اقدس ؑجب نہر سے گذر کر پتھنانوالہ گاؤں پہنچے تو راستے میں ذرا سستانے کے لیے بیٹھ گئے اور ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا ابا جان یونہی زبردستی کرتے ہیں درخت کھیتی کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ غریب لوگ اگر کاٹ لیا کریں تو کیا حرج ہے۔ بہرحال میں تو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتاکہ مطلقًا یہ ہمارے ہی ہیں۔ ہاں ہمارا حصہ ہو سکتے ہیں۔ موروثیوں کو بھی آپ پر بے حد اعتماد تھا۔ چنانچہ جب مجسٹریٹ نے موروثیوں سے اصل معاملہ پوچھا تو انہوں نے بلا تأمّل جواب دیا کہ خود مرزاصاحب سے دریافت کرلیں۔ چنانچہ مجسٹریٹ نے حضور سے پوچھا حضور نے فرمایا کہ میرے نزدیک درخت کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کھیتی میں ہمارا حصہ ہے۔ ویسے ہی درختوں میں بھی ہے۔ چنانچہ آپ کے اس بیان پر مجسٹریٹ نے موروثیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس کے بعد جب حضور واپس قادیان تشریف لائے تو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو باہر تھا مرزا صاحب اندر گئے تھے ان سے معلوم ہوگا۔ اس پر حضرت صاحب کو بلایا گیا۔ حضور نے سارا واقعہ بلا کم و کاست بیان کردیا جسے سُن کر آپ کے والد بزرگوار سخت برہم ہوئے اور‘‘ملاں ملاں’’کہہ کر کوسنے لگے اورکہا کہ گھر سے نکل جاؤ اور گھر والوں سے تاکیدًا کہا کہ ان کو کھانا ہرگز نہ دو۔ حضور دو تین دن تو قادیان ہی میں رہے اور آپ کی والدہ صاحبہ محترمہ ؓآپ کو کھانا بھجواتی رہیں لیکن بعد میں آپ والد صاحب کی مزید ناراضگی کی وجہ سے قادیان سے بٹالہ چلے گئے جہاں کوئی دو ماہ تک ‘‘پناہ گزین’’رہنا پڑا۔ اور پھر بیمار ہونے پر والد صاحب مرحوم نے حضور کو واپس بلا لیا۔’’

(روایت میاں اللہ یار صاحب ٹھیکداراز روایات صحابہ حصہ نہم صفحہ 193-192)

(تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 73-72مؤلفہ دوست محمد شاہد شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close