افریقہ

تنزانیہ کی جماعت دالُونی میں مسجد کاافتتاح

(نمائندہ الفضل تنزانیہ)محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ تنزانیہ کو امسال ٹانگا ریجن کی ایک جماعت دالُونی (Daluni) میں مسجد کی تعمیرِ نو کی توفیق ملی۔ یہ گاؤں ٹانگا شہر سے تقریباً 64؍ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک اونچے پہاڑ پر واقعہ ہے۔ اس گاؤں میں جماعت تقریباً 20؍ سال سے قائم ہے اور حاجی عبد اللہ سادالہ (Sadala)صاحب نامی ایک مخلص بزرگ نے مسجد کے لیے زمین ہدیہ کی تھی جہاں مسجد بنائی گئی۔ کافی عرصہ گزرنے کے بعد یہ عمارت خستہ حال ہو چکی تھی۔ چنانچہ اسی جگہ پر اب نئے سرے سے پہلے سے بڑی مسجد بنائی گئی ہے۔ ماہِ مارچ میں دعاؤں، صدقات اور افرادِ جماعت کی مدد سے اس مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور تعمیراتی کا م کا آغاز ہوا ۔

مقامی معلم سلسلہ مکرم محی الدین صاحب کی نگرانی میں خدام نے وقارِ عمل کے ذریعہ بھرپور انداز میں تعمیر میں حصہ لیا۔ تقریباً 2000؍ اینٹیں وقارِعمل کے ذریعہ بنائی گئیں۔ اس علاقہ کا شمار گرم علاقوں میں ہوتا ہے اور برسات کے موسم میں بھی بارشیں بہت کم ہوتی ہیں ۔تعمیراتی مراحل میں سب سے مشکل کام پانی کی مسلسل فراہمی تھی جس میں خاص طور پر احمدی خواتین نے تعاون کیا جو گاؤںسے باہر گزرنے والے دریا سے سائیکلوں پر پانی کے ڈول بھر بھر کے لاتی رہیں۔ اسی طرح پرانی مسجد سے قابل استعمال سامان کو بھی حسبِ ضرورت استعمال میں لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگست میں مسجد کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی جس میں تقریباً 120 افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔

مورخہ 31؍اگست2019ء بروز ہفتہ اس گاؤں کی خوبصورت مسجدکے افتتاح کا پروگرام تھا۔

مکرم امیر و مشنری انچارج مکرم طاہر محمود چوہدری صاحب مسجد کے افتتاح کے لیے تشریف لائے۔

احباب جماعت نے امیر صاحب کا والہانہ استقبال کیا۔

غیر از جماعت احباب بھی بڑی تعداد میں اس مبارک موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے۔

افتتاح کا پروگرام تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔ جس کے بعد نظم پیش کی گئی۔ بعد ازاں تشریف لائے ہوئے سرکاری عہدیداران نے مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر میں مساجد کی تعمیر کی غرض و غایت بیان فرمائی اور اسی طرح غیر از جماعت احباب کے لیے جماعت احمدیہ کا تعارف بھی کروایا۔ گاؤں کی سُنی مسجد کے امام صاحب اپنے وفد کے ہمراہ بھی شامل ہوئے۔ شامل ہونے والے مہمانان نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ اس جگہ سے کچھ دور دیگر مساجد بھی قائم ہیں مگر احمدیہ مسجد علاقے کی سب سے خوبصورت مسجد بن گئی ہے۔ مجموعی طور پر اس پروگرام میں 320؍افراد شامل ہوئے جن میں تقریباً 200 سے زائد غیر ازجماعت احباب بھی تھے۔ دعا کے بعد مسجد کے باہر تمام احباب کی اجتماعی تصویر بنائی گئی اور تمام حاضرین کو کھانا پیش کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس جگہ خانہِ خدا کی تعمیر کے حوالہ سے ہماری اس حقیر سی کوشش کو اپنے حضور قبول فرمائے۔

(رپورٹ: محمد افضل بھٹی ۔ ریجنل مشنری ٹانگا ۔ تنزانیہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. اسلام علیکم۔پہلی بار نیٹ پر الفض پڑ کر خدا شکر ادا کیا اور بہت خوشی ہوی۔ ربوہ والوں کا الفضل تو ایک پسندیدہ ناشتہ تھا جس سے ایک عرصہ سے محروم تھے۔پاکستان کے احمدیوں کے لیئے یہ بہت بڑی نعمت ھے۔دعا ھے کہ خدا تعالی اس سلسلہ کو جاری رکھے اور ھم اس سے الفضل ربوہ کی تشنگی دور کرتے رہیں۔امین۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button