کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے

پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے کونوا مع الصادقین (توبہ:119) صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دُور بیٹھ رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے، اس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پا لیں اور اس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رسول کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں، وہ فلاح پا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں؎

ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں

ایں خیال است و محال است و جنوں

دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت ہو۔ پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصُول کی اُمید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بار ہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اٹھائیں۔ مگر بہت کم توجّہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں، مگر اس کی پَروا کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہو گی۔ وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر بد قسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اُس میں شامل ہونے کی فکر کی۔ لیکن اس نے کچھ قدر نہ کی۔ وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور اُن باتوں سے جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے۔ وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیزگار ہوں۔ مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیے ۔ انہوں نے قدر نہیں کی۔ مَیں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل ِعلمی کے بعد تکمیلِ عملی کی ضرورت ہے۔ پس تکمیل عملی بدُوں تکمیلِ علمی کے محال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے ۔ تکمیل علمی مشکل ہے۔ بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور اُن باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کررہا ہے۔

پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خدا پر ایمان لاتے ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا سچاوعدہ کرتے ہو، تو مَیں پوچھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا ہوتا ہے ۔ کیا کونوا مع الصادقین(التوبہ:119) کا حکم منسوخ ہو چکا ہے؟ اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچّی خوش قسمتی یہی ہے، تو اللہ تعالیٰ کو مقدّم کر لو۔ اگر ان باتوں کو ردّی اور فضول سمجھو گے، تو یاد رکھو خدا تعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھہرو گے۔

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 124۔125)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button