متفرق مضامین

علمی ترقی کے ذرائع

تقریر جلسہ سالانہ یوکے 2019ء

ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِۚ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ
ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ
ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ

وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ غیب کا جاننے والا ہے اور حاضر کا بھی۔ وہی ہے جو بِن مانگے دینے والا، بے انتہا رحم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے (اور) کبر یائی والا ہے۔ پاک ہے اللہ اُس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔وہی اللہ ہے جو پیدا کرنے والا۔ پیدائش کا آغاز کرنے والا اور مصوّر ہے۔ تمام خوبصورت نام اسی کے ہیں۔ اُسی کی تسبیح کر رہا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

(سورۃ الحشر آیات 23تا25)

معزز سامعینِ کرام

میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ‘علمی ترقی کے ذرائع۔’

لغوی لحاظ سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کے علم کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم کے عرف میں علم اس چیز کا نام ہے جو قطعی اور یقینی ہو۔ عرفِ عام میں کسی بات کو جاننا اور معلومات حاصل کرنا ، ادراک حاصل کرنا ، حکمت معلوم کرنا، یامعرفت حاصل کرنے کو علم کہا جاتا ہے۔

یہ موضوع دیکھنے میں آسان سادہ اور مختصر ہے مگر اگر غور کیا جائےتو اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت رکھتا ہے۔ علم کے بغیر نہ تو دین کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں اور نہ دنیا کے۔علم کا احاطہ ہماری تمام زندگی پر ابتدا سے انتہا تک ہے اور ہماری کوشش اسی طرف لگی رہتی ہے۔ ہماری فلاح علم حاصل کرنے سے ہے۔

قرآنِ کریم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بنی نوع انسان کی تخلیق کے بعد انسان پر سب سے بڑا احسان اور انعام علم کا عطا کیا جانا ہے جس کی بدولت ہم اشرف المخلوقات کہلاتے ہیں۔

حقیقی علم وہ ہے جو محض اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عطا کرتا ہے یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہےاور خشیتِ الہی پیدا ہوتی ہے ۔ علم کے ذریعہ انسان ترقی کرتا ہے اور قوتِ بیان حاصل کرتا ہے۔

علم کا اصل منبع خدائے برحق کی ذات ہے اور وہی اس کا سرچشمہ ہے۔ وہی اول ہے اور وہی آخر اور جو بھی پیتا ہے اسی سے پیتا ہے اور سیراب ہوتا ہے اور اصل عالم اور صاحبِ علم وہی ہے جو کہ اپنے علم کو خود کا حاصل کردہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ یقین کرتا ہے اور اس علم اور کامل یقین کے ساتھ اس کے دَر پر پڑا رہتا ہے۔ اس لیے علم وہی ہے جو اس کے در سے عطا ہو۔

سچا علم قرآنِ کریم سے ملتا ہے نہ کہ یونانیوں کے فلسفہ سے نہ حال انگلستانی فلسفہ سے بلکہ سچا ایمانی فلسفہ قرآنِ کریم کے طفیل ملتا ہے۔ مومن کا کمال اور معراج یہی ہے کہ اُسے حق الیقین کا وہ مقام حاصل ہو جو علم کا ا نتہا درجہ ہے لیکن جو لوگ علومِ حقہ سے بہرہ ور نہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں ان پر نہیں کھلی گو وہ اپنے منہ سے اپنے آپ کو عالم کہیں مگر فی الحقیقت ایسے لوگ علم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جو حقیقی علم سے ملتا ہے ان میں نہیں پا یاجاتا اور وہ سخت خسارہ میں ہیں ۔

قرآنِ کریم سچے علم کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ جو شخص اُن حقائق اور معارف کو پا لیتا ہے جو قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں اسے وہ علم ملتا ہے جو اس کو انبیائے بنی اسرائیل کا مثیل بنا دیتا ہے ۔

ایسا علم جو عمل سے خالی ہے ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ۔ علم تو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سکھانے کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر پھر علم حاصل کرنے کے باوجود وحشی کا وحشی رہنا ہے تو ایسے علم کا کیا فائدہ؟ علم و حکمت ایک خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے ۔دنیا کی تمام دولتوںکو فنا ہے لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں۔

دنیوی نقطہ نظر سے علم حاصل کرنے کے لیے سکول ، کالج یا یونیورسٹی کا رُخ کیا جاتا ہے ۔ سوچ و بچار اور علماء کی صحبت سے بھی علم حاصل کیا جاتا ہے، تحقیق، کُتب و رسائل و جرائد سے بھی علم حاصل کیا جا تا ہے اوربقول میرے 13سال کے بیٹے کے گوگل انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کیا جاتا ہے۔
یہ علوم جو مختلف نوعیتوں کے ہیں انسانی عقل اور حواسِ خمسہ سے حاصل ہو سکتے ہیں ۔ محنت ،لگن، کوشش اور دُعا وہ اوزار ہیں جن سے علمی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ تمام علوم میں سے دو قسم کے علم خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک افضل ہیں۔ علم الادیان اور علم الابدان۔علم نافع الناس بھی ہو سکتا ہے اور تباہی اور بربادی کا موجب بھی۔ یہ تو انسان پر مبنی ہے کہ وہ اس خدائی استعدا دکو کس طرح استعمال کرتا ہے۔علم صرف اس لیے حاصل کرنا چاہیے کہ اپنی انا یا علم کا رعب ڈالنا مقصد نہ ہو بلکہ علم کے نور کو پھیلانا اور اس سے فائدہ اٹھانا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہو۔ اور اس کی مخلوق کی خدمت بھی ہو سکے۔

معزز سامعین!آخر کیا وجہ ہے کہ ہر زمانے میں انسان کےیہ تصور کرنے کے با وجود کہ اُس نے علم میں کمال حاصل کر لیا ہے آنے والا زمانہ نت نئے علوم اور راز افشا کرتا ہے ۔

کیونکہ خدا تعالیٰ ببانگِ دُہل قرآن کریم میں اعلان کرتا ہے:وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ اور کوئی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اسی کے خزانے ہیں اور ہم اُسے نازل نہیں کرتے مگر ایک معلوم اندازے کےمطابق (الحجر:22)

اوروَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ اور وہ اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتناوہ چاہے(البقرۃ:256)

یہ انسان کو خدا تعالیٰ کا وہ نہایت حسین پیغام ہے کہ غیب کی کوئی حد نہیں اور انسان کو ہمیشہ ہی اس تک رسائی کی اجازت دی جاتی ہے لیکن یہ رسائی معین حد تک عطا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں زمانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ہو اور انسان کو مسلسل تحقیق کی طرف مائل کرتی ہے اور یہ احساس دلاتی ہے جو بھی معلوم ہے وہ دراصل غیرمعلوم کا نہایت قلیل حصہ ہے۔ ہمارا آج کا علم ایک ہزار سال قبل کے علم کے مقابلہ میں کروڑوں گونا زیادہ ہے اور ممکن ہے کہ آج سے ہزار سال بعد کا علم آج کے مقابلہ میں اربوں گونا زیادہ ہو۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے یہ احساس دلاتا ہے کہ ہماری سمجھ کس قدر محدور ہے۔

تحقیق کے لا متناہی سفر میں یہ آیت مومن کے لیے ایک راہ نما بن جاتی ہے ان کے لیے نہ تو کوئی خلا ہے نہ عدم ،فقط پردے میں جو علم کے خزائن پر سے اُٹھنے کے لیے تیارہیں۔ ہم اپنے علم پر جتنے بھی نازاں ہوں اس کو علم کُل سے اتنی ہی نسبت ہوتی ہے جتنی رائی کو پہاڑ سے ۔ زمین پر موجود پہاڑی سلسلے تو لا محدور نہیں مگر غیبی علم کے پہاڑی سلسلےابدی اور لا متناہی ہیں اور یہ پیغام واضح ہے کہ انسان جو علم بظاہر اپنی کاوشوں سے حاصل کرتا ہے دراصل اُس کے پس پردہ خدا تعالی کا اذن اور فضل کار فرما ہوتا ہے۔

اور یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جس کے اِذن اور مرضی کے بغیر انسانی جستجو اور کوشش بار آور نہیں ہو سکتی۔ حصولِ علم کی انسانی کوشش مناسب وقت پر اس وقت کا میاب ہوتی ہے جب یہ کوشش تخلیق ِالٰہی کے منصوبہ کے حسبِ حال ہو ۔

خدا تعالیٰ قرآن کریم میں اپنی تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ -یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحبِ عقل لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی اگر غور کرو تو ایک نئی شان ہے۔ دوسرے سیاروں کو تو ہم نے دُور سے دیکھا ہے اور سائنسدانوں نے اپنے علم کے مطابق کچھ اندازے لگا کر، کچھ دھندلی سی تصویریں دیکھ کر ہمیں ان کے بارہ میں بتایا لیکن ان کی گہرائی کا ہمیں پتا نہیں لیکن یہ زمین جس میں خداتعالیٰ نے ہمیں آباد کیا اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صنّاعی کے عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ یہ آیات جو آج سے 14، 15سو سال پہلے صحرا ئے عرب میں ایک ایسے انسان پر اتریں جس کو دنیا کا علم نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے اسے کامل انسان بنا دیا۔ زمین اور آسمان کی پیدائش کے بارے میں گہرے راز بتائے اور فرمایا کہ ان چیزوں کو دیکھ کر ایک مومن انسان بے اختیار کہتا ہے کہ مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا۔ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اے اللہ تعالیٰ تو نے ساری چیزیں ایسی پید اکی ہیں جو جھوٹ نہیں ہیں۔ پس ہمیں کبھی ایسا نہ بنا جو اس کو جھوٹ سمجھنے والے ہوں، غلط سمجھنے والے ہوں۔ اور ہم اس کی وجہ سے تیری عبادت سے بے اعتنائی کرنے والے ہوں۔ تیری عبادت نہ کرنے والے ہوں اور نتیجۃً پھر تیرے عذاب کے مورد بنیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

‘‘قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِم … اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جلشانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی’’۔ حقیقی عقل اسی کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اس سے مدد مانگتا ہے اور اس کی صنّاعی پر، اس کی مخلوق پر، اس کی پیدائش پر غور کرتا ہے۔ فرمایا کہ ‘‘اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو’’ مومن جو ہے وہ بڑا فراست والا ہوتا ہے۔ ‘‘کیونکہ وہ الٰہی نور سے دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو، سوچو۔ تدبر اور فکر کے لیے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہوجائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گا’’۔ اس وقت جب یہ چیزیں ہوں گی کہ تقویٰ کی راہوں پہ قدم مارو۔ عقل سے کام لو، خداتعالیٰ کی طرف جھکو۔ قرآن کریم پر غور و فکر کرو تو تب حقیقت میں رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا کا مطلب سمجھ آئے گا اور پھر دل سے یہ دعا نکلے گی سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار اے اللہ تو پاک ہے۔ ہماری غلطیوں کو معاف کر، ہمارے گناہوں کو معاف کر۔ ہمیں ہمیشہ ان راہوں پر چلا جو تیری رضا کی راہیں ہیں تاکہ ہم آگ کے عذاب سے بچتے رہیں۔ جب انسان ان باتوں کو سمجھتا ہے تب اللہ تعالیٰ جو صانع حقیقی ہے۔ جو ہر چیز کوپیدا کرنے والا ہے اس کاثبوت سامنے آ جائے گا۔اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں‘‘۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ 41,42 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

آج انسان سائنس میں بڑی ترقی حاصل کرچکا ہے ۔ یہ ترقی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے بیان کر دی تھی کہ انسان دنیا میں ہر علم میں ترقی کرے گا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیرنہیں ہوسکتا۔ہر چیز جو دنیا میں موجود ہے چاہے اس کا علم ہمیں ہے یا نہیں وہ خداتعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اور پھر انسان پر اس رب العالمین کا یہ احسان ہے کہ جو چیزیں بھی خداتعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس کو اشرف المخلوقات کے لیے فائدہ مند بنایا تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ اور جوں جوں دنیا تحقیق کے ذریعہ خداتعالیٰ کی مختلف قسم کی پیدائش کے بارہ میں علم حاصل کر رہی ہے اس میں انسانی فوائد واضح طور پر نظر آتے چلے جا رہے ہیں۔

(خطبہ جمعہ 18؍ جون 2004ء)

خداتعالیٰ قرآن کریم میں علم کی فضیلت ایسے بیان فرماتاہے:

قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں؟(الزمر:10)

اور یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ اللہ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خصوصاً ان کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے(المجادلہ :12)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دعا وَ قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا سکھا کر مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ یہ دعا صرف برائے دعا ہی نہیں کہ منہ سے کہہ دیا کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ کر اور یہ کہنے سے علم میں اضافے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ بلکہ یہ توجہ ہے کہ ہر وقت علم حاصل کرنے کی تلاش میں رہو، علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔

اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم یا دعا پر سب سے زیادہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے، اللہ تعالیٰ تو خود آپؐ کو علم سکھانے والا تھااور قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب آپ پر نازل فرمائی جس میں کائنات کے سربستہ اور چھپے ہوئے رازوں پر روشنی ڈالی۔ جس کو اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی شاید سمجھ بھی نہ سکتا ہو۔ گزشتہ تاریخ کا علم دیا، آئندہ کی پیش خبریوں سے اطلاع دی لیکن پھر بھی یہ دعا سکھائی کہ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔ ہر انسان کی استعداد کے مطابق علم سیکھنے کا دائرہ ہے اور وہ راز جو آج سے پندرہ سو سال پہلے قرآن کریم نے بتائے آج تحقیق کے بعد دنیا کے علم میں آ رہے ہیں۔

آج یہ ذمہ داری ہم احمدیوں پر سب سے زیادہ ہے کہ علم کے حصول کی خاطر زیادہ سے زیادہ محنت کریں، زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی قرآن کریم کے علوم و معارف دئیے گئے ہیں۔ اور آپؑ کے ماننے والوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں انہیں علم و معرفت اور دلائل عطا کروں گا۔ اس کے لیے کوشش او ر دعا کہ اے میرے اللہ! اے میرے رب! میرے علم کو بڑھا،۔ سب سے پہلے قرآن کریم اور دینی علم حاصل کرنے کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بے بہا خزانے مہیا فرمائے ہیں ان کی طرف رجوع کریں، ان پر چل کرہم دینی علم اور قرآن کے علم میں ترقی کر سکتے ہیں اور پھر اسی قرآنی علم سے دنیاوی علم اور تحقیق کے راستے کھل جاتے ہیں۔

(‎ خطبہ جمعہ 18؍ جون 2004ء)

کسی بھی عمر میں علم حاصل کرنے سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ: ‘‘دنیا میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے، جوانی عمل کا زمانہ ہوتا ہے اور بڑھاپا عقل کا زمانہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی رو سے ایک حقیقی مومن ان ساری چیزوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے۔ اس کا بڑھاپا اسے قوت عمل، اور علم کی تحصیل سے محروم نہیں کرتا۔ اس کی جوانی اس کی سوچ کو ناکارہ نہیں کر دیتی بلکہ جس طرح بچپن میں جب وہ بولنے کے قابل ہوتا ہے ہر بات کو سن کر اس پر فوراً جرح شروع کر دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ فلاں بات کیوں ہے اور کس لیے ہے اور اس میں علم سیکھنے کی خواہش انتہا درجہ کی موجودہوتی ہے۔ اسی طرح اس کا بڑھاپا بھی علوم سیکھنے میں لگا رہتا ہے۔ اور وہ کبھی بھی اپنے آپ کو علم کی تحصیل سے مستغنی نہیں سمجھتا۔ اس کی موٹی مثال ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات میں ملتی ہے، آپ کو پچپن، چھپّن سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ الہاماً فرماتا ہے کہ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے ساتھ ہمارا سلوک ایسا ہی ہے جیسے ماں کا اپنے بچے کے ساتھ ہوتاہے۔ اس لیے بڑی عمر میں جہاں دوسرے لوگ بیکار ہو جاتے ہیں اور زائد علوم اور معارف حاصل کرنے کی خواہش ان کے دلوں سے مٹ جاتی ہے اور ان کو یہ کہنے کی عادت ہو جاتی ہے کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے، تجھے ہماری ہدایت یہ ہے کہ ہمیشہ خداتعالیٰ سے دعا کرتا رہ کہ خدایا میرا علم اور بڑھا، میرا علم اور بڑھا۔ پس مومن اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں بھی علم سیکھنے سے غافل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں وہ ایک لذت اور سرور محسوس کرتا ہے اس کے مقابل میں جب انسان پر ایسادور آ جاتا ہے جب وہ سمجھتا ہے میں نے جوکچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے اگر میں کسی امر کے متعلق سوال کروں گا تو لوگ کہیں گے کیسا جاہل ہے اسے ابھی تک فلاں بات کا بھی پتہ نہیں تو وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی عمر کے آدمی تھے مگرپھر بھی کہتے ہیں رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَو تٰی۔ … جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ابراہیم! توُ تو پچاس ساٹھ سال کا ہو چکا ہے اور اب یہ بچوں کی سی باتیں چھوڑ دے۔ بلکہ اس نے بتایا کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔ پس ہر عمر میں ترقی علم کی تڑپ اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ الٰہی میرا علم بڑھا۔ کیونکہ جب تک انسانی قلب میں علوم حاصل کرنے کی ہر وقت پیاس نہ ہو اس وقت تک وہ کبھی ترقی حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔

(تفسیر کبیر جلد نمبر 5 صفحہ469، 470)

حصول ترقی و علم کے لیے آنحضرتﷺ نے ہمیں بعض دعائیں سکھائیں وہ پیش کرتا ہوں :

اے میرے اللہ مجھے ایسا علم عطا فرما جو میرے لیے فائدہ مند ہو اور ایسے عمل کی توفیق دے جو نیک اور مناسب حال ہو اور اس توازن کے نتیجہ میں مجھے اپنی رضا کی دولت سے مالا مال کردے۔

اے میرے مولا !جو علم تو نے مجھے عطا فرمایا ہےاُسے میرے لیے فائدہ مند بنا دے اور ہر وہ علم مجھے سکھلاتا چلا جا جو میرے لیے فائدہ مند ہو اور اے میرے خدا مجھے علم میں ہمیشہ ترقی عطا فرما۔

حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ جب صبح کی نماز ادا کرتے تو سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا کرتے کہاَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَیِّبًا وَعَمَلًا مَُتَقَبَّلًا کہ اے اللہ میں تجھ سے ایسا علم مانگتا ہوں جو نفع رساں ہو۔ ایسا رزق جو طیب ہو اور ایسا عمل جو قبولیت کے لائق ہو۔

(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الصلوٰۃ والسنۃ۔ باب ما یقال بعدالتسلیم۔ حدیث نمبر925)

علمی ترقی کے بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں :

حدیث میں آتا ہے کہ اُطْلبُواالْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلَی اللَّحْدِ یعنی چھوٹی عمر سے لے کے، بچپنے سے لے کے آخری عمر تک جب تک قبر میں پہنچ جائے انسان علم حاصل کرتا رہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔

(سنن ابن ماجہ المقدمہ باب ثواب معلم الناس الخیر)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوب چرو۔ صحابہ ؓنے عرض کی کہ حضوریہ ریاض الجنۃ(یعنی جنت کے باغ)کیا چیز ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ مجالس علمی۔ یعنی مجالس میں بیٹھ کر زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرو۔

(الترغیب الترھیب۔ باب الترغیب فی مجالسۃ العلماء جلد نمبر ۱ صفحہ ۷۶۔ بحوالہ الطبرانی الکبیر)

ایک اور جگہ روایت ہے کہ اصل میں علم وہی ہے جس کے ساتھ تقویٰ ہو۔ تو اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کبھی کسی قسم کا علم بھی تقویٰ سے دور لے جانے والا نہ ہو۔ علم وہی ہے جو تقویٰ کے قریب ترین ہو اور تقویٰ کی طرف لے جانے والا ہو، خداتعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہو۔

حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص علم کی تلاش میں نکلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتاہے۔ اور فرشتے طالب علم کے کام پر خوش ہو کر اپنے پر اس کے آگے بچھاتے ہیں اور عالم کے لیے زمین و آسمان میں رہنے والے بخشش مانگتے ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کی مچھلیاں بھی اس کے حق میں دعا کرتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی دوسرے ستاروں پر۔ اور علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء روپیہ پیسہ ورثہ میں نہیں چھوڑ جاتے بلکہ ان کا ورثہ علم و عرفان ہے جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ بہت بڑا نصیب اور خیر کثیر حاصل کرتا ہے۔

(ترمذی کتاب العلم باب فضل الفقہ)

معزز سامعینِ کرام!

ایک فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں بہت ترقیات کیں یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم اور تجربہ نہیں ۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

سچ تو یہ ہے کے دریائے غیرمتناہی علم و قدرت باری جل شانہٗ کے آگے ذرّہ ناچیز انسان کی کیا حقیقت ہے کہ دم مارے۔ اور اس کا علم اور تجربہ کیا شے ہے تا اس پر نازل کرے سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاکیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ۔

قادرِ مطلق جس نے انسان کی رُوح اور ہر ایک مخلوق اور ہر ذرّہ کو محض اپنے ارادہ کی طاقت سے پیدا کرکے وہ استعدادیں اور قوتیں اورخاصیتیں اُن میں رکھیں جن پر غور کرنے سے ایک عجیب عالم۔ عظمت اورقُدرتِ الٰہی کا نظر آتا ہے اورجن کے دیکھنے اور سوچنے سے معرفت الٰہی کا کامل دروازہ کھلتا ہے۔ اُسی قادرِ توانا کی مدح اور حمد میں محو رہنا چاہیے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی ایک چیز بھی موجود نہیں ۔وہی ایک ذات عجیب الحکمت و عظیم القدرت ہے جس کے فقط حکمی طاقت سے جو کچھ وجود رکھتا ہے پیدا ہوگیا۔ ہر ایک ذرہ اَنْتَ رَبِّی اَنت رَبِّیکی آوازسے زبان کشا ہے۔ ہر ایک جان انت مالکی انت مالکی کی شہادت سے نغمہ سرا ہے۔ وہی حکیمِ مطلق ہے جس نے انسانی روحوں کو ایک ایسا پُر منفعت جسم بخشا کہ جو اِس جہان میں کمالات حاصل کرنے اور اُس جہان میں اُن کا پورا پورا حظ اُٹھانے کے لیے بڑا بھارایار و مددگار ہے۔ روح اور جسم دونوں مل کر اس کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ اور ظاہری باطنی دونوں قوتیں اُس کی شہادت دے رہی ہیں۔ وہی محسنِ حقیقی ہے جس نے وفاداری سے ایمان لانے والوں کو ہمیشہ کی رستگاری کی خوشخبری دی اور اپنے صادق عارفوں اور سچے محبوں کے لیے اس جنتِ دائمی کا وعدہ دیا جو بدرجۂ اکمل و اتم مظہر العجائب ہے جس کی نہریں اسی دنیوی حیات میں جوش مارنا شروع کرتی ہیں۔ جس کے درخت اسی جگہ کی آبپاشی سے نشوونما پاتے جاتے ہیں۔ اُس کی قدرت و حکمت ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے اور اُس کی حفاظت جو ہر ایک چیز کے شامل حال ہے اُس کی عام خالقیت پر گواہ ہے۔ اس کی حکیمانہ طاقتیں بے انتہا ہیں۔ کون ہے جو اُن کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اُس کی قادرانہ حکمتیں عمیق در عمیق ہیں۔ کون ہے جو اُن پر احاطہ کرسکتا ہے۔ ہرایک چیز کے اندر اُسکے وجود کی گواہی چھپی ہوئی ہے۔ ہر ایک مصنوع اُس صانع کامل کی راہ دکھلارہا ہے۔ موجود بوجود حقیقی وہی ایک رب العالمین ہے اور باقی سب اُس سے پیدا اور اُس کے سہارے سے قائم۔

خدائے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے کے لیے ایک عقلی قوت رکھی ہے اسی طرح انسان میں کشف اور الہام کے پانے کی بھی ایک قوت مخفی ہے جب عقلِ انسانی اپنی حدِّ مقررہ تک چل کر آگے قدم رکھنے سے رہ جاتی ہے تو اس جگہ خدائے تعالیٰ اپنے صادق اور وفادار بندوں کو کمال عرفان اور یقین تک پہنچانے کی غرض سے الہام اور کشف سے دستگیری فرماتا ہے اور جو منزلیں بذریعہ عقل طے کرنے سے رہ گئی تھیں اب وہ بذریعہ کشف اور الہام طے ہوجاتی ہیں اور سالکین مرتبہ عین الیقین بلکہ حقّ الیقین تک پہنچ جاتے ہیں۔یہی سنت اللہ اور عادت اللہ ہے جس کی رہنمائی کے لیے تمام پاک نبی دنیا میں آئے ہیں اور جس پر چلنے کے بغیر کوئی شخص سچی اور کامل معرفت تک نہیں پہنچا ۔عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکر دوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لیے صرف جوہرِ عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوّت بھی اس کی فطرت میں رکھی ہے۔ سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے وسائل خداشناسی انسان کی سرشت کو عطا کیے ہیں۔ ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خداشناسی سے بکلّی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے اور ان قوتوں کو ہمیشہ بیکار رکھ کر ضائع کردینا اور ان سے فائدہ نہ اٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے سو ایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بیکار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے ۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

‘‘علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔ یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس سے خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر:29)۔ اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوئی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے’’۔

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 195۔ الحکم جلد 7 صفحہ 21)

محض اس علم میں کچھ شرف اور بزرگی نہیں جو صرف دماغ اور دل میں بھرا ہوا ہو بلکہ حقیقت میں علم وہ ہے کہ دماغ سے اتر کر تمام اعضاء اس سے متأدّب اور رنگین ہو جائیں اور حافظہ کی یادداشتیں عملی رنگ میں دکھائی دیں۔ سو علم کے مستحکم کرنے اور اس کے ترقی دینے کا یہ بڑا ذریعہ ہے کہ عملی طور پر اس کے نقوش اپنے اعضاء میں جمالیں۔ کوئی ادنیٰ علم بھی عملی مزاولت کے بغیر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا بلاشبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہماری دائمی فتوحات کیلیے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جماعت کو بشارت دیتے ہوےفرماتے ہیں کہ:

‘‘خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔ اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔ اور میرے فرقہ کے لوگ اِس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے۔ اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھادے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں تجھے برکت پربرکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو اے سُننے والو! اِن باتوں کو یاد رکھو۔ اور اِن پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔’’

پس اے مسیحِ محمدی کے پیرو کارو !اے غلام احمد کےماننے والو! ہم تو خدائے بزرگ و برتر کی اس نگاہِ محبت کے امین ہیں جو جس پیڑپر پڑی اُسے سبزہ زار کر گئی جس شاخ پر پڑی اُس کو ثمر بار کر گئی۔ ہم تو اُس رسولِ عربی کی امت ہیں جس کے لیے عالمِ کون و مکاں مسخر کیے گئے۔ پس اے شجرِ اسلام کی سر سبز شاخو جان لو کہ کاتبِ تقدیر نے انسانوں کی سرداری تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اُٹھو احساسِ زیاں کی مشعلیں روشن کرو، چراغِ آرزو کو جادۂ منزل بنا دو کہ پھر

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے

دیکھیں گے تجھے دور سے گردُوں کےستارے

ناپید ترے بحرِ تخیل کے کنارے

پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

تعمیرِ خودی کر، اثرِ آہِ رسا دیکھ

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button