یادِ رفتگاں

مجیب الرحمٰن صاحب ایڈووکیٹ۔ ذکر ایک محسن بزرگ کا

(آصف محمود باسط)

30 جولائی کی صبح آنکھ کھلی، موبائل پر پیغامات کھولے تو ان میں کئی پیغامات یہ درد انگیز خبر لیے ہوئے تھے کہ میرے بہت ہی محترم بزرگ مجیب الرحمٰن صاحب ایڈووکیٹ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ دل بیٹھ سا گیا۔ مجیب الرحمٰن صاحب سے میرا دس سالہ تعلق ان کی وفات سے اختتام کو پہنچا۔

دس سالہ یوں کہ مئی 2009ء میں راہِ ہُدیٰ پہلی مرتبہ لائیو نشر ہونا شروع ہوا۔ آغاز میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ تقریباً ہر پروگرام سے پہلے موضوع ِگفتگو کے مطابق شرکا ئےگفتگو کے ناموں کے سلسلےمیں خود رہنمائی فرمایا کرتے۔ یہ راہِ ہُدیٰ کے ابتدائی دن تھے اور یوں یہ پروگرام حضور نے انتہائی نگہداشت میں رکھا ہوا تھا۔ بڑی محبت سے ہر سوال کو سننا، رہنمائی فرمانا اور پھر اس حساب سے خود فرمانا کہ اس موضوع پر تو فلاں صاحب اچھا بول لیں گے، اور فلاں سوال پر فلاں صاحب۔ مجھے ان احباب پر ہمیشہ رشک آیا۔ کیسی خوش قسمتی کی بات ہے کہ کسی محاذ پرکروڑوں سپاہیوں میں سے کسی ایک سپاہی کا نام اس عظیم سپہ سالار کے ذہنِ مبارک میں ابھر آئے۔

جب پہلی مرتبہ 1974ء کے حالات کے حوالہ سے گفتگو کرنی تھی۔ میں حضور کی خدمت میں حاضر تھا اور میرا سوال ابھی مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ارشاد ہوا‘‘مجیب الرحمٰن صاحب کو فون پر لے لو’’۔ میں نے فوراً اپنے نوٹس میں درج کر لیا ۔ پھر آگے مرحلہ تھا 1974ء کے گرد دینی نوعیت کے مباحث کا۔ رہنمائی چاہی تو فرمایا ‘‘ویسے تو مجیب صاحب دینی سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے ۔۔۔’’اور یہ فرماتے ہوئے ساتھ کسی عالمِ دین کا نام بھی عطا فرمادیا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے مجیب صاحب مرحوم سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ان سے غائبانہ تعارف تو تھا مگر کبھی ان سے بات کرنے کا موقع نہ ملا تھا۔ کہیں سے نمبر تلاش کیا اورفون ملایا۔ایک کوہِ وقار تھے (اس اصطلاح کے تمام معنوں میں) اور اس باعث دل پر ان کا رعب تھا۔ مگر جب انہوں نے فون اٹھایا اور مخاطب ہوئے تو سب گھبراہٹ جاتی رہی۔ اس محبت سے مخاطب ہوئے اور ایسی دلچسپ گفتگو فرمائی اور اس قدر حوصلہ افزائی فرمائی کہ گھبراہٹ شرمندگی میں بدل گئی۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ حضور نے خود انہیں شامل کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تو میں نے فون پر ہی سہی مگر ان کا دل باغ باغ ہوتے محسوس کیا۔ میں نے جب پوچھا کہ ‘‘پھر مجیب صاحب، فلاں تاریخ، فلاں وقت ٹھیک رہے گا؟ شامل ہو سکیں گے؟’’ تو حیرت زدہ لہجے میں کہنے لگے کہ‘‘اب تو حکم ہے، اب تو اپنی مرضی کا سوال ہی نہیں۔ جہاں بھی ہوئے، جس حال میں ہوئے ضرور کریں گے’’۔

پھر اسی فون کال میں جو باقی گفتگو ہوئی، اس کے کچھ حصے یہاں بیان کردینا ضروری اس لیے ہے کہ یہ مجیب صاحب کے ساتھ ہرمرتبہ ہونے والی ہر گفتگو کا حصہ ضرور ہوتے۔ ‘‘پروگرام میں اور کون کون ہے؟ باقی احباب کے سوالات کیا کیا ہیں؟ آپ ای میل میں سارے سوالات تو بھیج دیں گے نا؟کتنی دیر کا جواب چاہیے؟’’(آخری سوال پر میرا دل باغ باغ ہوجاتا کیونکہ مجھ سے اس رنگ میں ہمدردی کرنے والے کم کم احباب ہی ہوتے)۔

تو یہ سوالات ہر گفتگو کا حصہ رہے۔ پھر یہ بھی بتاتےکہ ‘‘جب اس سوال کا جواب دوسرے ساتھی دے چکیں گے تو میں بات کو یہاں سے شروع کر کے یہاں ختم کروں گا۔ میں یہ یہ پوائنٹس بیان کردوں گا، پھر اگر وقت ہوا تو بعد میں تفصیل بھی بیان کی جاسکتی ہے’’۔ بڑی باریکی سے ہر پروگرام کا موضوع سمجھنا، ہر سوال کو اہمیت دینا، دوسرے شرکا کی گفتگو کو تحمل سے سننا اور ان کے جواب کو بھی اہمیت دینا، پوچھے گئے سوال کے مطابق جواب دینا اور پوچھنے والے کے مزاج مطابق بھی۔ یہ مجیب صاحب کی شخصیت کے ایسے پہلو ہیں جو انہیں صرف ناظرین کے لیے ہی ہر دلعزیز نہ بناتےبلکہ میرے لیے یعنی پروگرام کے میزبان کے لیے بھی پسندیدہ مہمان بنا دیتے۔

یہ تو ہمارے پروگراموں کے تیارشدہ خاکےکی بات ہے۔ پروگرام میں لائیو سوالات بھی لیے جاتے اور ظاہر ہے کہ ان کے سیاق و سباق اور دیگر تفصیلات ہم میں سے کسی کو بھی معلوم نہ ہوتیں۔ بحیثیت پروگرام کے میزبان مجھے تو مجیب صاحب کے ساتھ یہ سہولت بھی ہمیشہ حاصل رہی کہ جب بھی لائیو کال پر کوئی ٹیڑھا سائل ٹیڑھا سوال لے کر آنکلا، میں نے وہاں گیند آرام سے مجیب صاحب کو پاس کر دی اور مجیب صاحب بڑے سکون سے سائل کو پورے گراؤنڈ کی سیر کراتے، گول کر کے فاتحانہ شان کے ساتھ گفتگو کی گیند واپس ہمارے سپرد کر کے واپس اپنی پوزیشن پر چلے جاتے۔سائل کا لب و لہجہ جیسا بھی ہوتا، مجیب صاحب کی نجابت ہمیشہ برقرار رہتی۔ بڑے وقار سے، علمی دلائل سے، تاریخی شواہد سےسائل کے مزاج کے مطابق اسے جواب عنایت کیا کرتے۔

راہِ ہدیٰ شروع ہونے کے کوئی سال بعد ایک پروگرام کی تجویز حضور انور کی خدمت میں پیش کی گئی ۔ اس پروگرام کی طرز ایسی نہ تھی جس میں کسی مہمان کو فون پر لیا جائے۔ حضور نے ازراہِ شفقت مجیب صاحب کو لندن بلوانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یوں مجیب صاحب ہمارے باقاعدہ مہمان ہوئے۔ یہ مجیب صاحب سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ مجیب صاحب کی گفتگو سے تو ہمیشہ ہی سیکھنے کو ملتا تھا، اب ان کی شخصیت، ان کی عادات و اطوار اور ان کی حرکت و سکون سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مجیب صاحب یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذات میں ایک اکادمی ہوتے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں فخر ہے کہ میں نے مجیب صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔ بلکہ بہت سوں نے بہت کچھ سیکھا۔ ان کی مجلس میں ہر طرح کے لوگ آتے اور ان کے علم اور تجربہ سے مستفید ہوتے۔ علم اور تجربہ کے ساتھ حسنِ بیان بھی ہو تو اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اورمجیب صاحب کے پاس تو تینوں اجناس وافر مقدار میں تھے۔

مجیب صاحب کو سٹوڈیو لے جانے اور واپس گیسٹ ہاؤس واقع گریسن ہال روڈ لے جانے کی خدمت جہاں تک ممکن ہوتا، میں اپنے سپرد ہی رکھتا۔ مجبوری میں کسی ساتھی سے درخواست کرتا۔ جب انہیں لینے گیا، وقت پر تیار پایا۔ اور بہت تیار پایا۔ یعنی جوابات کے لحاظ سے تو ہمیشہ سے معلوم ہی تھا کہ مجیب صاحب باقاعدہ تیاری کرتے ، مگر اب جب سٹوڈیو میں بیٹھ کر پروگرام ریکارڈ کروانے کی بات آئی تو دیکھا کہ مجیب صاحب لباس میں بھی اہتمام کرتے اور بڑی نفاست سے تیار ہوتے۔مگر تکلف کبھی نظر نہ آیا۔ باوقار مگر سادہ لباس رکھتے۔ گرد بہت کم ہونے کے باعث یہاں انگلستان میں جوتوں کی صفائی کے لیے وہ اہتمام نہیں کرنا پڑتا جو پاکستان میں ہوتا ہے، مگر مجیب صاحب جوتے بھی پاکستانی اہتمام سے صاف کرتے ۔میں وقتِ مقررہ سے کچھ پہلے پہنچ جاتا تا کہ کسی مدد کی ضرورت ہو تو کر سکوں۔ وقت مقررہ پر مجیب صاحب بالکل تیار ہوتے۔

کتاب سے محبت کرنے والے آدمی تھے۔ سرہانے ہمیشہ کتابیں پڑی ہوتیں۔ باریکی سے مطالعہ کرتے ، مصنف کی بات کو پرکھتے، سمجھتے اور پھر سمجھاتے۔ اکثر کہتے کہ اس مصنف نے ایک کتاب کا حوالہ دیا ہے، وہ کتاب کہیں سے حاصل ہوجائے تو یہ مضمون اَور بہتر سمجھ آجائے۔ کئی مرتبہ مجھے پاکستان سے فون کر کے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ ایک کتاب نئی شائع ہوئی ہے۔ یہاں پاکستان میں فی الحال دستیاب نہیں ۔ ہو سکے تو لندن سے حاصل کر کے مجھے بھجوادیں۔ یا یہ کہ لے کر رکھ لیں، آؤں گا تو لے لوں گا۔پاکستان میں 1953ء کی احمدیہ مخالف سرگرمیوں پر علی عثمان قاسمی کی کتاب شائع ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ مجھے لندن وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب مجیب صاحب کا فون آیا۔ یعنی پاکستان میں رات 1 بجے کا وقت ہوگا۔ پہلےمجھے پوچھا کہ پڑھ لی ہے، جب میں نے بتایا کہ جی پڑھ لی ہے، تو دو تین مقامات کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کتاب انہیں پسند بھی آئی تھی، اس کے بعض حصوں سے انہیں اختلاف بھی تھا اور بعض حصے ان کی رائے میں مزید تفصیل کے متقاضی تھے۔ تینوں طرح کے خیالات کا اظہار بھرپور اور مناسبِ حال جذبات کے ساتھ کیا۔بتانا یہاں یہ مقصود ہے کہ نئی شائع ہونے والی کتب کا علم رکھنا، انہیں حاصل کرنا اور پھر انہیں سمجھ کر ان پر تبصرہ بھی کرنا اور دوسروں کو پڑھنے پر آمادہ کرنابھی مجیب صاحب کا خاص مشغلہ تھا۔

ایک مرتبہ ایم ٹی اے کے لیے ایک پروگرام کیا جس میں ڈاکٹر عائشہ جلال، فرانسس رابنسن، ایین ٹالبٹ جیسے مشاہیر مدعو کیے گئے۔ حضور سے رہنمائی کی درخواست کی گئی تو حضور نے مجیب صاحب کو پروگرام کا میزبان مقرر فرمایا۔ میرا ارادہ انہیں بطور ماہرِ قانون پروگرام میں مہمان کے طورپر بلانے کا تھا اور میزبان کے لیےذہن میں ایک اور نوجوان وکیل کا نام تھا۔ مگر حضور نے فرمایا ، میں نے ارشاد نوٹ کیا اور مجیب صاحب کو مطلع کردیا۔ مجیب صاحب خود بھی ہمیشہ سے بطور ماہرِ قانون پروگراموں میں شامل ہونے کے عادی تھے۔مجیب صاحب نے خندہ پیشانی سے یہ ذمہ داری قبول کی۔ اس پریشانی کا ذکر ضرور ایک آدھ مرتبہ کیا کہ میزبانی کا تجربہ نہیں، پتہ نہیں حضور کی توقعات کے مطابق کر بھی سکوں گا کہ نہیں۔ لیکن اس ایک پریشانی کے علاوہ(جو کہ فطری تھی)، مجیب صاحب نے بطور میزبان پروگرام کی ایسی تیاری کی جو ہر میزبان کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔عائشہ جلال، فرانسس اور ٹالبٹ جنوبی ایشیا کی تاریخ کے مستند ماہرین ہیں۔ اس میدان میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان مشاہیر کی اصل کتب منگوائیں، لفظ بہ لفظ پڑھیں۔ کتب کے مضامین کو بھی سمجھا، کتب کے مصنفین کو بھی سمجھا۔ ان دنوں میں صبح ملنے کے لیے حاضر ہوتا تو مجیب صاحب کو مطالعہ میں غرق پاتا، شام کو جاتاتو مزید غرق پاتا۔ پروگرام کے مہمان کس مزاج کےہیں ، جماعت کے بارہ میں ان کی رائے کس نوعیت کی محسوس ہوتی ہے، ان سے کیا سوال پوچھا جائے اور کس طرح پوچھا جائے۔ ان دنوں مجیب صاحب کا اوڑھنا بچھونا یہی سوال تھے، اور وہ صبح شام اس اوڑھنے بچھونے کی ادھیڑ بُن میں لگے ہوئے تھے۔

پروگرام ریکارڈ ہونے کا دن آیا۔ مجیب صاحب جیسے میزبان کو دیکھ کر کسی پر بھی رعب طاری ہونا فطری بات تھی۔ ان کے علم و فضل کے باعث بھی اور پھر ان کی عمر اور وجود کے باعث بھی ۔ پروگرام سے پہلے ان مہمانوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں مجیب صاحب ان سے دوستی کر چکے تھے۔ بہت اعلیٰ گفتگو ریکارڈ ہوئی۔ مجیب صاحب نے کہیں اپنی علمیت نہ جتائی، مگر سوالات اس طرح پیش کیے جو ان کے گہرے مطالعہ کا پتہ دیتے رہے۔ اچھے آدمی سے اچھا جواب حاصل کرنے کے لیے اچھا سوال کرنا بھی ضروری ہے۔ تو مجیب صاحب کی میزبانی میں خیر کے اتنے پہلو یکجا ہو گئے اور ہمیں بہت عمدہ پروگرام میسر آگئے۔

اس پروگرام کے علاوہ ایک اور پروگرام کے لیے ایک مرتبہ پاکستان کے مشہور وکیل اور ماہرِ قانون عابد حسن منٹو صاحب کو لندن مدعو کیا گیا۔ ساتھ مجیب صاحب کو پروگرام میں شامل ہونے کے لیے دعوت دی گئی۔ میزبانی کے فرائض برادرم امجد محمود خان صاحب نے سرانجام دینا تھے۔ اس پروگرام کے لیے بھی مجیب صاحب کو دن رات مطالعہ میں مصروف دیکھا۔ پاکستانی قوانین کی بات تھی اور یہ مجیب صاحب کا خاص مضمون تھا۔ جماعتی مقدمات کے سلسلہ میں سب کچھ مستحضر بھی یقیناً ہوگا۔ مگر ان دنوں بھی جب دیکھا، کتاب کو کھول کر آنکھوں کے بہت قریب کیے، علم کو جذب کرتے دیکھا۔ ایسے تیاری کرتے جیسے اگلے روز کو ئی امتحان ہو۔ یہ پروگرام میں شامل ہونے والے مہمانوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے۔ جب مجیب صاحب سے میری شناسائی ہوئی، مجیب صاحب کو چلنے پھرنے میں دقت لاحق ہوچکی تھی۔ وہیل چیئر کا استعمال کرتے۔ میں انہیں مسجد فضل سے مسجد بیت الفتوح کار میں لے کر پہنچتا، وہاں سے وہیل چیئر میں انہیں بٹھا کر سٹوڈیو کی طرف لے جاتا اور وہاں وہ اپنی نشست پر براجمان ہوجاتے۔ مگر جب باہر کے مہمانوں کے ساتھ پروگرام کیے تو ہمیشہ سٹوڈیو کے باہر وہیل چیئر روکنے کا کہتے اوراٹھ کر چل کر اندر تشریف لے جاتے۔ کہتے کہ باہر کے مہمان ہیں، ان کے سامنے میں وہیل چیئرمیں نہیں جانا چاہتا، چل کر جاؤں گا۔ دقت سے ہی سہی مگر خود چل کر مہمانوں کے پاس پہنچتے اور پھر ریکارڈنگ شروع ہو جاتی۔

مجیب صاحب وہ آدمی تھے جو نہ صرف خود خلافتِ احمدیہ سے بے پناہ محبت رکھتے، بلکہ نوجوانوں کے دل میں بھی اس محبت کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتےتھے۔حضور کو خط لکھتے، کئی دفعہ پہلے خود پڑھتے، بعض دفعہ مجھے بھی دیا کہ پڑھ کر دیکھیں کچھ غلط تو نہیں لکھ دیا۔ بڑی محبت سے خط لکھتے، پھر بڑی شدت سے جواب کا انتظار کرتے۔ جواب آتا تو پھولے نہ سماتے۔

ایک مرتبہ لندن آئے ہوئے تھے اور میری فرمائش پر مجھے اپنی زندگی کے حالات سنا رہے تھے۔ کہنے لگے کہ ‘‘میرے والد مجھے مبلغ سلسلہ بنانا چاہتے تھے۔ مجھے سخت ملال ہے کہ میں ان کی خواہش پوری نہ کرسکا’’۔ یہ کہتے ہوئے شدت جذبات سے آبدیدہ ہوگئے۔ اس حسرت کابیان کئی مرتبہ کیا اور ہر مرتبہ جذبات کی آندھی سے آواز لڑکھڑاجاتی رہی۔ پھر ایک مرتبہ بتایا کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرنے کی درخواست عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اگلے روز بتایا کہ میں نے درخواست لکھ بھیجی ہے۔ اس وقت مجیب صاحب کی عمر 80 کے لگ بھگ تو ضرور ہوگی۔ مجیب صاحب واپس چلے گئے۔ یہ بات دوبارہ نہ چھڑی۔ میرے بھی ذہن سے بات اتر گئی اور کبھی پوچھ نہ سکا کہ اس درخواست کا کیا بنا۔ کئی ہفتوں بعد ایک رات ان کا فون آیا۔میں گھبرایا کہ اللہ خیر کرے، اس وقت مجیب صاحب کا فون۔ فون اٹھایا تو آواز میں خوشی نمایاں تھی۔ کہنے لگے کہ جواب آگیا۔ میں نے عرض کی کہ کون سا جواب؟ فرمانے لگے کہ وہی جو وقف کرنے کی خواہش حضور انور کو لکھی تھی اس کا جواب آگیا۔ حضور نے فرمایا ہے کہ آپ جو کام کررہے ہیں، وہ وقف ہی کی روح سے کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور مزید خدمت کی توفیق دے۔یہ سند مل جانے پر مجیب صاحب کی خوشی میں دہرا رنگ تھا۔ ایک ان کے اپنے دل کی خوشی اور دوسرے شاید یہ کہ ان کے والد مرحوم مولانا ظل الرحمٰن صاحب کی روح کو بھی شاید حضور کے اس جواب سے سکینت ملی ہو کہ اگرچہ مجیب صاحب باقاعدہ وقف تو نہ کر سکے مگر خلیفۂ وقت نے ان کی خدمات کو ایک واقفِ زندگی کی خدمات کے طور پرقبول فرمالیا ہے۔

حقیقت بھی تو یہی ہے۔ مجیب صاحب کو جماعتی خدمت کی جس طور پر توفیق ملی، وہ نہایت قابلِ رشک ہے۔ عدالتوں میں جماعت کے موقف کو پیش کرنا اور پورے رعب اور دبدبے کے ساتھ پیش کرنا۔ بین الاقوامی اداروں کے سامنے جماعت ِ احمدیہ کو پاکستان میں درپیش مسائل کو بیان کرنا۔ ہارورڈ اور ایسے ہی اور موقر تعلیمی اداروں میں اقلیتوں اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ناروا سلوک پر تجزیے پیش کرنا۔ یہ سب اور بہت کچھ مجیب صاحب کے دائرۂ خدمت میں شامل تھا۔ قانونی معاملات میں حضور انور انہیں مختلف بورڈز اور کمیٹیز میں شامل فرماتے اور آپ کی رائے کو اہمیت دیتے۔ اس سے بڑھ کر خدمت کیا ہوگی۔
یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ آج کل طاقت اور اختیار کی دوڑ ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اختیار ملے اور طاقت ملے، authorityحاصل ہو۔ مجیب صاحب کو دیکھ کر مجھے اکثر یہ خیال آتا کہ authority دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک اختیار والی اور دوسری وہ جو سند کے معانی رکھتی ہے۔ کیوں نہ اختیار والی authorityکےپیچھے دوڑ لگانے کی بجائے اس بات کو ترجیح دی جائے کہ کسی مضمون، کسی فن، کسی ہنر میں سند کا درجہ حاصل کریں اور خلیفۃ المسیح کے سلطانِ نصیر بنیں۔ مجیب صاحب جماعتی قانونی معاملات میں authority کا درجہ رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس خلا کو ، جو خاصا بڑا خلا ہے، جلد پورا فرمائے اور حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو اس میدان اور ہر میدان میں سلطانانِ نصیر عطا فرماتا چلا جائے۔

مجیب صاحب سے میرا آخری رابطہ 11 جولائی کو ہوا۔ ان کی ای میل موصول ہوئی جس میں انہوں نے لکھا کہ دل کا دورہ پڑا ہے۔ طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہوں ۔ بیمار ہوں اور لیٹا اپنے عزیزوں کے بارہ میں سوچ رہا تھا کہ تمہاراخیال آیا۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے خلافتِ احمدیہ پر ایک کتاب لکھی ہے ۔ مجھے بھی بھجوادو تو

It will give me a new desire to live. Can you please send it to me

میں نے انہیں جواب لکھا کہ میں بھجوانے کا انتظام کرتا ہوں۔ جلسہ کے دن قریب تھے۔ خیال آیا کہ بہترین طریق یہی ہے کہ جلسہ پر آنے والے مہمانوں میں سے کسی کے ہاتھ انہیں کتاب بھجوادوں گا۔ جلسہ کی مصروفیات زور پکڑتی گئیں۔ کتاب میں نے خرید کر رکھ چھوڑی تھی اور اب کسی کو دینی تھی کہ وہ ساتھ لیتے جائیں۔ جلسہ کی مصروفیات میں روز صبح اٹھ کر فون کو دیکھنا کہ کوئی ایسا پیغام یا ای میل تو نہیں جو فور ی توجہ کی طالب ہو معمول ہے۔ 30 جولائی کو اٹھ کر جب موبائل دیکھا تو یہ افسوسناک خبر ملی کہ مجیب صاحب چل بسے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اب انہیں کتاب کہاں بھجواؤں۔ انہیں کس طرح اپنے دل کا حال لکھوں؟یہی لکھ دیتا ہوں۔

‘‘میرے بہت ہی محترم مجیب الرحمٰن صاحب۔ سلام مسنون کے بعد عرض ہے کہ کتاب کے بارہ میں آپ کے الفاظ مجھ میں زندگی کی نئی تمنا پھونک گئے۔ آپ کی بہت سی باتوں نے مجھ میں کئی مرتبہ زندگی کی نئی تمنا پھونکی۔ خلافت احمدیہ کے لیے میرے دل میں جو محبت ہے، اس کے لیے میں اپنے والدین کے بعد جن لوگوں کا شکر گزار ہوں، ان میں آپ بھی شامل ہیں۔ اور جہاں تک کتاب بھیجنے کا سوال ہے، تو مجیب صاحب، اب میں آپ کو کتاب نہیں بھجواسکتا۔ لاکھ چاہتے ہوئے بھی نہیں بھجوا سکتا۔ اب یہ حسرت لے کر جیوں گا مگر نہیں بھجوا سکوں گا۔ جہاں آپ چلے گئے وہاں ڈاک جاتی ہی نہیں۔ کاش بھجواسکتا۔ میں نے آپ سے کئی پروگراموں کے لیے کئی فرمائشیں کیں۔ آپ نے ہمیشہ پوری کیں۔ آپ نے ایک فرمائش کی اور میں پوری نہ کرسکا۔ مجھ سے تاخیر ہوگئی۔ معاف کر دینے کی درخواست کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔ والسلام۔ ’’

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button