خلاصہ خطبہ جمعہ

جلسہ سالانہ پر تشریف لانے والے مہمانوں کے جذبات و احساسات اور تأثرات کا نہایت ایمان افروز تذکرہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍اگست2019ءبمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن (سرے)، یوکے

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامسایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز نے 08؍ اگست 2019ء کومسجد بیت الفتوح مورڈن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا ۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم فیروز عالم صاحب کے حصہ میں آئی۔

تشہد،تعوذ،تسمیہ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا
گذشتہ اتوار کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو۔کے کا سہ روزہ جلسہ سالانہ اختتام کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ کی ان گنت برکات اور افضال جن کے ہم ان جلسوں کے ذریعے حامل بنتے ہیں ، افرادِ جماعت اور غیروں پر جلسےکے ماحول کا جو اثر ہوتا ہے ان باتوں کا ذکر مَیں جلسے کے بعد کے خطبہ جمعہ میں کرتا ہوں۔

حضورِ انور نے ازراہِ شفقت تمام کارکنان اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بےنفس معاونین ،مرکزی دفاتر اور ایم ٹی اے کے مستقل کارکنان اور رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہا۔ اس کے بعد بعض افراد کے تاثرات پیش فرمائے۔

مسلم کمیونٹی بینن کے وائس پریزیڈنٹ مالے ہو صاحب جلسے میں شامل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے بیس سے زیادہ حج کیے ہیں لیکن جماعت کے جلسے میں اس سےکہیں بہتر انتظامات دیکھنے کاموقع ملا۔ انہوں نے جلسے کے ماحول،انتظامات، رہائش اور کارکنان کے جذبے کی تعریف کی۔ حضورِ انور کے خطابات کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کے ذریعے ہمیں صحیح اسلام کا پیغام ملا۔ برکینا فاسو کے وزیر داخلہ ومذہبی امور سیمون سوادوگو صاحب ( Simeon Sawadogo)کہتے ہیں کہ جلسے میں شامل ہوکر میرے بہت سے سوالات حل ہوگئے۔ جلسے کے مقدس اور پاکیزہ ماحول نے روحانی طورپر میری بہت مدد کی۔ جلسے کے کارکنان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ رضا کار ٹائلٹ صاف کر رہے تھے، پلیٹیں دھورہے تھے، چھوٹے بچے پانی پلا رہے تھے یہ سب کچھ جذبہ ایثار کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے مسجد فضل دیکھی اور اس ابتدائی مسجد کی سادگی،کشش اور خوب صورتی سے متاثر ہوئے۔

برکینا فاسو کے ہی ایک ممبر پارلیمنٹ سایوبا اور راگوصاحب (Sayouba Quedraogo) نے جلسے کے منظم اور متحرک ماحول کو پسند کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ آج اسلام احمدیت کے ذریعہ پھیل رہا ہے۔

یونان کے چیف ریبائے گیبریل نیگرین صاحب (Gabriel Negrin) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے انہیں اس بین الاقوامی جلسے میں شامل ہونے کی سعادت عطافرمائی۔ وہ کہتے ہیں کہ جلسے کا ہر پہلو جماعت احمدیہ کے نصب العین ‘‘محبت سب کے لیے’’کو اجاگر کرتا ہے۔ جلسے کے انتظامات کے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے لیے میرے مطابق کھانا تیار کیا گیا، میری عبادت کے فرائض کےلیے انتظام کیا گیا، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن میرے میزبانوں نے یہ سب میرے لیے کیا۔

جاپان سے بدھ مت کے معبد کے چیف Yoshida Nichiko کہتے ہیں کہ جلسے کے ماحول کو دیکھ کر دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ کھانے سے لےکر تقاریر تک سب پروگرام منظّم تھے۔ حضورِ انور کے خطابات کے متعلق کہتے ہیں کہ دنیا کواس وقت اسی پیغام کی ضرورت ہے کہ مذہب کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم کی مدد سے ہم ایک دوسرے کے حقوق ادا کرسکتے ہیں۔

ارجنٹائن کی ایک خاتون جودیس(Judith) صاحبہ جن کے خاوند نےدس ماہ پیشتر احمدیت قبول کی تھی، یہ خود عیسائی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھےتقاریر میں امام جماعت احمدیہ کے اختتامی خطاب نے بہت متاثرکیا۔ جس میں آپ نے بڑی تفصیل سے اسلامی تعلیمات کے ذریعے قائم ہونے والے ہیومن رائٹس پر روشنی ڈالی۔
لائبیریا کے منسٹر برائے پوسٹ انٹیلی کمیو نی کیشن Kooper W. Kruahصاحب صاحب کہتے ہیں کہ جلسے کے مختلف پروگراموں کا انعقاد ایسے خوب صورت طریقے سے کیا گیا کہ مجھے اس میں کسی قسم کی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ شاملینِ جلسہ کی طرف سے ایک دوسرے کے لیے عزت اور اخوت کے جذبات دیکھنے کو ملے۔

یوراگوئے کی ایک خاتون پروفیسر صاحبہ کہتی ہیں کہ تیس سال سے زائد عرصے سے اسلامی ممالک اور تنظیموں کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ آپ کے جلسے میں شامل ہوکر وہ امتیازی باتیں دیکھی ہیں جو کہیں اَوردیکھنے کو نہیں ملیں۔ ایک لیڈر کے ذریعے یکجہتی کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ ہر کوئی اپنے خلیفہ سے اطاعت اور اخلاص کا غیرمعمولی رشتہ رکھتا ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ وہ معیار ہے جو ہمارے دوستوں کو بھی نظر آتا ہےاور حاسدوں کو بھی نظر آتا ہے۔ یہ نہیں کہ ظاہری طور پر چند دنوں کے لیے ہم یہ خوبی دکھائیں ، بلکہ یہ خوبی ہمیشہ ہمارے اندر رہنی چاہیے۔

مراکش کے ایک دوست فلسفے کے پروفیسر ہیں وہ کہتے ہیں کہ جلسے سے ہم نے بہت اچھا تاثر لیا ہے۔ جماعت کو قریب سے دیکھنے کا بڑا اچھا موقع ملا۔ جلسے کے ذریعے مخالفین کے پروپیگنڈے کا جھوٹ بھی ہم پر کھل گیا۔

گنی کناکری کے مذہبی امور کے انسپکٹر جنرل الحاج وکیل یاتارا صاحب کہتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھی کہ احمدی احباب کی تربیت خالص اسلامی تعلیمات کے مطابق کی گئی ہے۔ مجھےدوسرے اسلامی ممالک کے علاوہ سعودی عرب بھی جانے کا بارہا اتفاق ہوا ہے لیکن ایسا اسلامی بھائی چارے سے بھرپور ماحول کہیں میسر نہیں آیا۔

شانتل مارتھ ایتالی صاحبہ جو بینن میں کونسلر جنرل ہیں وہ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے پچاسویں جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی تھی، اب بھی وہی روحانی ماحول ہے جو اس وقت تھا۔ مہمان نوازی بہت عمدہ تھی۔ نمائشیں بہت اعلیٰ تھیں۔

بینن کے ممبر پارلیمنٹ کوملن پترس (Comlan Patrice) صاحب کہتے ہیں پہلی دفعہ جماعت احمدیہ کے جلسےمیں شامل ہوا۔ مختلف رنگ و نسل اور زبانیں بولنے والے افراد کو یوں بغیر پولیس یا فوج کے، ڈسپلن رکھنا یقیناً آپ کی محنت اور جماعتِ احمدیہ کے ساتھ الٰہی تائیدات سے ہی ممکن ہوا ہے۔

گیبون کے سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ سو سے زیادہ ممالک کے ہزاروں افراد کا جلسے میں شامل ہونا میرے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔ آپ کا اسلام حقیقی اسلام ہے اور آج دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔
گیبون سے ہی پاسدالوودونکا صاحب جو وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر کیبنٹ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں مسلمان نہیں ہوں لیکن میں اب اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہوں ۔

سینٹرل افریقن ریپبلک کے صدر کے مشیر حیری علی گونیسا صاحب نے جلسے کے انتظامات کی تعریف کی اور کہا کہ جماعتِ احمدیہ کا ایک مقصد ہےکہ دنیا میں بھائی چارہ قائم ہو ،وہ اس کےلیے دن رات محنت کرتےہیں جبکہ دوسری تنظیموں میں اخلاص کی کمی ہے۔ کہتے ہیں کہ مجھ پہ عالمی بیعت کا بہت اثر ہوا۔ میں احمدی نہیں ہوں لیکن جب آپ بیعت لے رہےتھے تو اس وقت مَیں اپنے آپ سے وعدہ کر رہا تھاکہ مَیں اس جماعت کی حتی ٰ المقدور اپنے ملک میں مدد کروں گا۔

فِرناندو گریفیت(Fernando Griffith)، پیراگوئے کے وائس منسٹر آف ریلجن جلسے میں شامل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جماعتِ احمدیہ کو جان کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔

ماسکو کے الدار سافن صاحب (Ildar Safan)نے جلسے میں شرکت کے بعدکہاکہ رضاکاروں کا کام دیکھ کر بہت اچھا لگا، جو بڑی خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ ہروقت مسکراتے چہروں کے ساتھ مددکرنے کےلیےتیار رہتے۔

برازیل کے Mauro Henrique صاحب جو Petropolisکونسل کے صدر ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنے ملک برازیل کی نمائندگی میں اس عظیم اسلامی جلسہ سالانہ میں شمولیت کی بےحد خوشی ہے۔ خلافت کے احترام کا نظارہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے ہی خلیفہ کہیں بھی آتے ہیں تو ہزاروں افراد کا مجمع یک دم خاموش ہوجاتا ہے۔

ایکواڈور کے ایک علاقے کے بشپ اُرلی میسیاس آرو صاحب (Orli Mesias Haro ) نے جلسے کے ماحول کو ایک بڑی فیملی کی دعوت کی طرح پایا۔ حضورِ انور کی تقاریر کی نسبت کہتے ہیں کہ اُن تقاریر میں تمام وہ لوازمات موجود تھے جو ہمارے مطمح نظر کو بدلنے کےلیے ضروری ہیں۔

سلوینیا سے باربرا ہوچے وار بالون صاحبہ (Barbara Hocevar Balon) عیسائیت کی پروفیسر کہتی ہیں کہ میں نے کبھی ایسا اسلام نہیں دیکھا جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق جماعت احمدیہ کا مؤقف زیادہ قابلِ یقین اور حقائق کے مطابق ہے۔

بوسنیا کے سینائد صاحب( Senaid) ہیومینٹی فرسٹ کی نمائش کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اس کارِ خیر کے آغاز کا سبب میرا ملک تھا جہاں جنگ کے دوران جماعت احمدیہ نے اپنی بے لوث خدمات پیش کی تھیں۔
سلوینیا سے ایک مصنف مؤانس سنانووچ (Muanis Sinanovic) کہتے ہیں کہ ایک بات جو مجھے پسند آئی وہ یہ کہ احمدی جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے ،ہمارا قول و عمل ایک ہونا چاہیے۔

اسی طرح رشین مہمان عزت صاحب، اٹلی سے میڈالینا (Madalena)صاحبہ، فرانس سے منسٹری آف جسٹس کے جواد بولامل صاحب(Jawad Boulaamayl)، برازیل کے ڈان فرانسسکو صاحب(Don Francisco)، عیسائی کیتھولک فرقے کے سائنس دان اور برٹش سوسائٹی آف ٹیورن شراؤڈ کےسابقہ ایڈیٹر ہیوفیرے صاحب(Hugh Farey)، کیمبرج یونی ورسٹی کے پروفیسر پیٹرو ولیمزصاحب، کولمبیا کے ایک کالم نویس Jesus Gabalam صاحب ، بولیویا کے ایک ٹی وی شو کے میزبان آراندیا صاحب (Arandia)، یوکرائن کے ایگر صاحب ، میکسیکو سے ماریہ صاحبہ (Maria)پیراگوئے کی نومبائعہ خاتون اسی طرح ہالینڈ، امریکہ اور سپین کے وفود کی شکل میں شرکت کرنے والے مہمانوں نے بھی جلسے کے انتظامات کو سراہا اور اسے علمی،اخلاقی اور روحانی حوالوں سے کامیاب سرگرمی قرار دیا۔
خطبے کے آخر میں حضورِ انور نے مکرم مجیب الرحمٰن صاحب ایڈووکیٹ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا اعلان کیااور ذکرِ خیر فرمایا ۔ آپ 30؍ جولائی کو ربوہ میں 85 برس کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کے والد محترم مولانا ظل الرحمٰن صاحب مربی سلسلہ تھے۔ مجیب الرحمٰن صاحب کا بچپن قادیان میں گذرا۔ آپ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ 1980ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؓ نے آپ کو جماعت احمدیہ راول پنڈی کا امیر مقرر کیاتھا 1998ء تک آپ امیر رہے۔ جماعت کے کئی مقدمات میں آپ کو بے لوث خدمت کی توفیق ملی۔ مجلس شوریٰ کی سٹینڈنگ کمیٹی اور فقہ کمیٹی کے رکن رہے۔ صدر انجمن احمدیہ کے قواعدوضوابط کی تدوین میں ان کو خدمت کا موقع ملا۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دینی و دنیاوی علم بہت تھا اور بولتے بھی بہت اچھا تھے اس حوالے سے ایک خاص ملکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہواتھا۔ آپ کو دنیا بھر میں مختلف فورمز پر جماعت اور اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچانے کا موقع ملا۔ آپ کے تین بیٹے ہیں۔

آخر میں حضورِ انور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ آمین۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button