حضرت مصلح موعود ؓ

سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط نمبر 19)

حضرت فاطمہ ؓکا سوال

(گزشتہ سے پیوستہ ) پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ ایسے محتاط تھے کہ غرباء کا مال جب تک ان کے پا س نہ پہنچ جائے آپؐ کو آرام نہ آتا اور آپؐ کسی کے حق کے ادا کر نے میں کسی قسم کی سستی یا دیر کو روانہ رکھتے ۔لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کر تا ہوں ثابت کر تا ہے کہ آپؐ اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کو ئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپؐ نے اموال کو خود اپنے ہی لو گوں میںتقسیم کر دیا۔

حضرت علیؓ فر ما تے ہیں اَنَّ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا شَکَتْ مَا تَلْقٰی مِنْ اَثَرِا الرَّحَا فَاَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبْیٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْ ہُ فَوَجَدَتْ عَائِشَۃَ فَاَخْبَرَ تْھَا فَلَمَّا جَآءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ بِمَجِیْیءِ فَاطِمَۃ قَالَ فَجَآءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْنَا وَقَدْ اَخَذْنَا مَضَا جِعَنَا فَذَھَبْتُ لِاَ قُوْمَ قَالَ عَلیٰ مَکَا نِکُمَا فَقَعَدَ بَیْنَنَا حتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَیْہِ عَلیٰ صَدْرِیْ وَقَالَ اَلاَاُ عَلِّمُکُمَا خَیْرًا مِمَّا سَاَلْتُمَا نِیْ اِذَا اَخَذْتُمَا مَضَا جِعَکُمَاتُکّبِّرَااَرْبَعًا وَّثَلَاثِیْنَ وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَتَحْمَدَ اثَلَاثَۃً وَّ ثَلَاثِیْنَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمَا مِنْ خَادِمٍ

(بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالبؓ)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے شکایت کی کہ چکی پیسنے سے انہیں تکلیف ہو تی ہے۔ اسی عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے۔پس آپؓ آنحضرت ؐ کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپؐ کو گھر پر نہ پا یا اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دےکرگھرلوٹ آئیں۔جب آنحضرتﷺگھر تشریف لائےتو حضرت عائشہؓ نے جنابؐ کو حضرت فاطمہؓ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے آپؐ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فر ما یا کہ اپنی اپنی جگہ پرلیٹے رہو۔پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔جب آپؐ بیٹھ گئے تو آپؐ نے فر ما یا کہ میں تمہیں کو ئی ایسی بات نہ بتا دوں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبْحَا نَ اللّٰہ کہو اور تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہو پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہو گا۔

اس واقعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آنحضرت ﷺ اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ با وجود اس کے کہ حضرت فاطمہؓ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپؓ کے ہاتھوں کو تکلیف ہو تی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے ان کو خادم نہ دیابلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔آپؐ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ ؓ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لیے آپؐ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ ؓ میں تقسیم کر نے کے لیے آتے تھے اور حضرت علی ؓ کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ ؓ بھی اس کی حق دار تھیں لیکن آپؐ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کاکچھ نتیجہ نکالتے اور با دشاہ اپنے لیے اموال الناس کو جا ئز سمجھ لیتے پس احتیاط کے طور پر آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپؐ کے پا س اس وقت بغرض تقسیم آئیں کو ئی نہ دی۔

اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ جن اموال میں آپؐ کا اور آپؐ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فر مایا ہے ان سے آپؐ خرچ فر ما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے ہا ں جب تک کو ئی چیز آپؐ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔اگر کو ئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پا ک وجود کے خدام میں سے۔ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔

مذکورہ با لا واقعات سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جا تا ہے کہ آنحضرت ﷺ نہایت محتاط تھے اور ہر معاملہ میں کمال احتیاط سے کام کر تے تھے خصوصاً اموال کے معاملہ میں آپؐ نہایت احتیاط فرماتے کہ کسی کا حق نہ مارا جا ئے اور عارضی طور پر بھی لوگوں کو حق رسی میں دیر کر نا پسند نہ فر ما تے بلکہ فوراً اغرباء کو حقوق دلوا دیتے تھے۔اب میں اسی امر کی شہادت کے لیے ایک اَور واقعہ بیان کر تا ہوں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ لوگوں کے اموال کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے ایمانوں کا بھی خیال رکھتے تھےاور کبھی ایسے چندوںکو قبول نہ فر ما تے جو بعد میںکسی وقت چندہ دہندگان کے لیے وبال جان ثابت ہوں یا کسی وقت اسے افسوس ہو کہ میں نے کیوں فلاں مال اپنے ہا تھ سے کھو دیا آج اگر میرے پاس ہو تا تو میں اس سے فا ئدہ اٹھاتا۔

مکہ میں جب تکالیف بڑھ گئیں اور ظالموں کے ظلموں سے تنگ آکر آنحضرت ﷺ کو پہلے اپنے صحابہ ؓکو دوسرے ممالک میں نکل جا نے کا حکم دینا پڑا اور بعد ازاں خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنا وطن عزیز ترک کرکے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کر نی پڑی تو آپؐ پہلے مدینہ سےکچھ فاصلہ پربنی عمرو بن عوف کے مہمان رہے اور دس دن سے کچھ زیادہ وہاں ٹھہرے اس کے بعد آپؐ مدینہ تشریف لا ئے اور چو نکہ یہاں مستقل طور پر رہنا تھا اس لیے مکانات کی بھی ضرورت تھی اور سب سے زیادہ ایک مسجد کی ضرورت تھی جس میں نماز پڑھی جائے اور سب مسلمان وہاں اکٹھے ہو کر اپنے رب کا نام لیں اور اس کے حضور میں اپنے عجزو انکسار کا اظہار کریں اور آنحضرت ﷺ جو ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی کے خیال میں رہتے تھے اور آپؐ کا ہر ایک فعل عظمت الٰہی کو قائم کر نے والا تھا آپؐ کو ضرور بالضرور سب سے پہلے تعمیر مسجد کا خیال پیدا ہو نا چاہیے تھا۔چنانچہ جب آپؐ مدینہ میں داخل ہو ئے تو سب سے پہلے آپؐ نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ آپؐ اپنے محبوب و مطلوب کےذکر کا مقام اور اس کے حضور گرنے اور عبادت کر نے کی جگہ تیار کریں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہمارے مطاع وآقا خاتم النّبیّٖن ﷺ کی زوجہ مطہّرہ تھیں آ پ نے ایک طویل حدیث میں تمام واقعہ ہجرت مفصل بیان فرمایا ہے۔آپؓ فر ما تی ہیں

فَلَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ فِیْ بَنِیْ عَمْرِوبْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشَرَۃَ لَیْلَۃً وَاُسِّسَ اْلمَسْجِدُ الَّذِیْ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی وَصَلَّی فِیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ فَسَارَ یَمشِیْ مَعَہُ النَّاسُ حَتّٰی بَرِکَتْ عِنْدَمَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْہِ یَوْ مَئَذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَکَانَ مِرْبَدً الِلتَّمْرِ لِسُھَیْلٍ وَسَھْلٍ غُلَا مَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی حَجْرِ سَعَدِبْنِ زُرَارَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ بَرِکَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ ھٰذَا اِنْ شَاءَاللّٰہُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغُلَا مَیْنِ فَسَاوَ مَھُمَا بِلْمِرْبَدِ لِیَتَّخِذَہٗ مَسْجِدًا فَقَالَابَلْ نَھَبُہٗ لَکَ یَآرَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَبیٰ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّقْبَلَہٗ مِنْھُمَا ھِبَۃً حَتّٰی اِبْتَاعَہٗ مِنْھُمَا ثُمَّ بَنَاہُ مَسْجِدًا

(بخاری کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی ﷺواصحابہ الی المدینۃ)

نبی کریم ﷺ بنی عمر و بن عوف میں کچھ دن ٹھہرے۔دس دن سے کچھ اوپر اور اس مسجد کی بنیادرکھی جس کی نسبت قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھی پھرآپؐ اپنی سواری پر سوار ہو ئے اور آپؐ کے ساتھ لوگ پا پیادہ چلنے لگے۔آپؐ کی اونٹنی چلتی گئی یہاں تک کہ وہ مدینہ کے اس مقام پر پہنچ کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں مسجد نبوی تیار کی گئی اور اس وقت وہاں مسلمان نماز پڑھا کر تے تھے۔اس مقام پر کھجوریں سکھا ئی جا تی تھیں۔اور وہ دویتیم لڑکوں کا تھا جن کا نام سہیل اور سہل تھا اور جو سعد بن زرارہ ؓ کی ولایت میں پلتے تھے۔جب یہاں آپؐ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپؐ نے فر ما یا کہ ان شاءاللہ یہاں ہی ٹھہریں گے۔پھر رسول کریم ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو بلوایا اور ان سے چاہا کہ اس جگہ کی قیمت طے کرکے انہیں قیمت دے دیں تاکہ وہاں مسجد بنائیں۔اوردونوں لڑکوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم قیمت نہیں لیتے بلکہ آپؐ کو ہبہ کر تے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ہبہ لینے سے انکار کیا اور آخر قیمت دے کر اس جگہ کو خرید لیا۔

اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہو تی ہے کہ مدینہ میں داخل ہو تے ہی پہلا خیال آپؐ کو یہی آیا کہ مسجد بنا ئیں اور پہلے آپؐ نے اس کے لیے کو شش شروع کی اور آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جو جوش تھا اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ جا تا ہے۔ دوسرے یہ امر ثابت ہو تا ہے کہ آپؐ معاملات میں کیسے محتاط تھے۔

اہل مدینہ نے بار بار درخواست کرکے آپؐ کو بلا یاتھا اور خود جا کر عرض کی تھی کہ آپؐ ہمارے شہر میں تشریف لا ئیں اور ہم آپؐ کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں گے اور جان ومال سے آپؐ کی خدمت کریں گے اور جہاں تک ہماری طاقت ہو گی آپؐ کو آرام پہنچا نے کی کوشش کریں گے۔غرض کہ بار بار کی درخواستوں اور اصرار کے بعد آپؐ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تشریف لا ئے اور مدینہ والوں کا فرض تھا کہ آپؐ کو جگہ دیتے اور حق مہمان نوازی اداکرتے اور مسجد بھی تیار کراتےاور آپؐ کی رہائش کے لیے بھی مکان کا بندوبست کر تے اور وہ لوگ حق کو سمجھتے بھی تھے اور ہر طرح خدمت کے لیے حاضر تھے مگر چو نکہ آپؐ کے تمام کام اللہ تعالیٰ کے سپردتھے اور ہر ایک فعل میں آپؐ اسی پر اتکال کر تے تھے اس لیے آپؐ نےاپنی رہا ئش کے لیے ایسی جگہ کو پسند کیا جہاں اللہ تعالیٰ آپؐ کو رکھنا پسند کرے اور بجا ئے خود جگہ پسندکر نے کے اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیا کہ خدا تعالیٰ جہاں اسے کھڑا کرے وہیں مسجد بنائی جا ئے اور وہیں رہائش کا مکان بنایا جائے۔اب جس جگہ آپؐ کی اونٹنی کھڑی ہو ئی وہ دو یتیموں کی جگہ تھی اور وہ بھی آپؐ کے خدام میں تھے اور ہر طرح آپؐ پر اپنا جان ومال قربان کر نے کے لیے تیار تھے اور بطور ہبہ کے وہ زمین پیش کرتے تھے مگر باوجود اس کے کہ آپؐ اہل مدینہ کے مہمان تھے اوروہ لڑکے مہمان نوازی کے ثبوت میں آپؐ کو وہ زمین مفت دینا چاہتے تھے آپؐ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اوراس کی وجہ وہ احتیاط تھی جو آپؐ کے تمام کاموں میں پا ئی جا تی تھی۔

اول تو آپؐ یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ نا بالغ بچوں سے بغیر معاوضہ کے زمین لیں کیونکہ ممکن تھا کہ وہ بچپن کے جو ش و خروش میں آپؐ کی خدمت میں زمین پیش کر دیتے لیکن بڑے ہو کر ان کے دل میں افسوس ہو تا کہ اگر وہ زمین ہم بیچ دیتے یا اس وقت ہمارے پاس ہو تی تو وہ زمین یا اس کی قیمت ہمارے کام آتی اور ہماری معیشت کا سامان بنتی۔اس احتیاط کی وجہ سے اس خیال سے کہ ابھی یہ بچے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھ سکتے آپؐ نے اس زمین کے مفت لینے سے بالکل انکار کر دیا۔گووہ لڑکے اپنے ایمان کے جوش میں زمین ہبہ کر رہے تھے اور اگر آپؐ اسے قبول کر لیتے تو بجائے افسوس کر نے کے وہ اس پر خوش ہو تے کیونکہ صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کےبچے بھی جوانوں سے کم نہ تھے اور چودہ پندرہ سال تک کے بچے مال تو کیا جان دینے کے لیے تیار ہو جا تے چنانچہ بدر کی جنگ میں دو ایسے بچے بھی شامل ہو ئے تھے۔پس باوجود اس کے کہ وہ بچے تھے اور ابھی کم سن تھے مگر بظاہر حالات ان کے ایمانوں کے اندازہ کرنے سے کہا جاسکتا تھا کہ وہ اس پر کبھی متأسف نہ ہوں گے مگر پھر بھی رسول کریمﷺنے مناسب نہ جانا کہ امکانی طور پر بھی ان کو ابتلا میں ڈالا جا ئے اور اسی بات پر اصرار کیا کہ وہ قیمت وصول کریں اور اگر چاہیں تو اپنی زمین فروخت کردیں ورنہ آپؐ نہیں لیں گے۔آخر آپؐ کے اصرار کو دیکھ کر ان بچوں اور ان کے والیوں نے قیمت لے لی اور وہ زمین آپؐ کے پاس فروخت کر دی۔آج کل دیکھا جاتا ہے کہ یتامیٰ سے بھی لوگ چندہ وصول کر تے ہیں اور بالکل اس بات کی پروا نہیں کر تے کہ شاید ان کو بعد ازاں تکلیف ہو اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بالکل خدا کا خوف نہیں کر تے مگر رسول کریم ؐنے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ باوجود اس کے کہ آپؐ حق دار تھے اور اہل مدینہ کے مہمان تھے آپؐ نے ان یتامیٰ سے بغیر قیمت زمین لینے سے انکار کر دیا اور باصرار قیمت ان کے حوالہ کی۔افسوس کہ کامل اور اکمل نمونہ کےہوتے ہو ئے مسلمانوں نے اپنے عمل میں سستی کر دی ہے اور یتامیٰ کے اموال کی قطعاً کو ئی حفاظت نہیں کی جا تی۔ان کے اموال کی حفاظت تو الگ رہی خود محافظ ہی یتامیٰ کے مال کھا جا تے ہیں اور اس احتیاط کے قریب بھی نہیں جا تے جس کانمونہ رسول کریمؐ نے دکھا یا ہے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔

٭…٭(جاری ہے )٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button