متفرق مضامین

انگلستان نے ایک سنسنی خیز مقابلہ کے بعد نیوزی لینڈ کو ہرا کر کرکٹ ورلڈ کپ جیت لیا

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے لِیگ مرحلہ کے آخری سات مقابلوں ، سیمی فائنلز اور فائنل پر طائرانہ نظر

تمام شائقینِ کرکٹ اس بات سے آگاہ ہیں کہ بارہویں کرکٹ ورلڈ کپ کا اختتام ہو چکا ہے اور انگلستان نےیہ ورلڈ کپ جیت کر پہلی بار عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

لِیگ مرحلہ کے اختتام پرپوائنٹس ٹیبل کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ ہندوستان15 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا 14 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر،میزبان انگلستان 12 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر، نیوزی لینڈ اور پاکستان11،11پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب چوتھے اورپانچویں نمبر پر ، سری لنکا 8پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر،جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش 7،7پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب ساتویں اور آٹھویں نمبر پر،ویسٹ انڈیز 5پوائنٹس کے ساتھ نَویں نمبر پر، جبکہ افغانستان بغیر کسی پوائنٹ کے ، دسویں نمبر پر رہا۔

ہندوستان ،دفاعی چیمپئن آسٹریلیا ،میزبان انگلستان اور نیوزی لینڈ نے کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے سیمی فائنلز میں جگہ بنا ئی تھی۔پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پوائنٹس کی برابری کے باعث بہتر نیٹ رَن ریٹ کی بنیاد پر نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔

اس ورلڈ کپ کے پہلےاڑتیس مقابلوں کی تفصیل گذشتہ دو اقساط میں بیان ہو چکی ہے۔ اس قسط میں لِیگ مرحلہ کے آخری سات مقابلوں، سیمی فائنلز، فائنل اوراس ورلڈ کپ کے اہم اعداد و شمار کا مختصر سا ذکرپیشِ خدمت ہے:

انتالیسواں مقابلہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلا گیا۔جس میں سری لنکا نے 23 رنز سے فتح حاصل کی۔

چالیسواں مقابلہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مابین کھیلا گیا۔جس میں ہندوستان نے 28رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔

اکیالیسواں مقابلہ انگلستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلا گیا۔جس میں انگلستان نے 119رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔

بیالیسواں مقابلہ افغانستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلا گیا۔جس میں ویسٹ انڈیز نے23 رنز سے فتح حاصل کی۔

تینتالیسواں مقابلہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین کھیلا گیا۔جس میں پاکستان نے 94 رنز سے فتح حاصل کی۔ اس مقابلہ میں شاہین آفریدی نے ورلڈ کپ کے کسی مقابلہ میں 5وکٹیں حاصل کرنے والے سب سے کم عمر گیند باز ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

چوالیسواں مقابلہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلا گیا۔جس میں جنوبی افریقہ نے10رنز سے فتح حاصل کی ۔ 1992ء کے بعد جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی ورلڈ کپ میں یہ پہلی فتح ہے۔
پینتالیسواں مقابلہ ہندوستان اور سری لنکا کے مابین کھیلا گیا۔جس میں ہندوستان نے 7وکٹوں سے فتح حاصل کی ۔

پہلا سیمی فائنل ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلا گیا۔جس میں نیوزی لینڈ نے18رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی۔نیوزی لینڈ کی اننگز کے اختتام پر بارش کے باعث کھیل روک دیا گیا۔مسلسل بارش کے باعث بقیہ کھیل کو اگلے روز کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر یہ مقابلہ اگلے روز مکمل کیا گیا۔ ورلڈ کپ سیمی فائنلز میں ہندوستان کی یہ چوتھی شکست ہے۔نیوزی لینڈ 6سیمی فائنلز میں شکست کے ساتھ سرِ فہرست ہے ۔نیوزی لینڈ نے مانچسٹر (انگلستان )میں اب تک ورلڈ کپ کے تین سیمی فائنلزکھیلے ہیں۔1979ء میں انگلستان کے خلاف 9رنز سے شکست ہوئی اور 1999ء میں پاکستان کے خلاف9وکٹوں سے شکست ہوئی،لیکن اس بار ورلڈ کپ 2019ء میں ہندوستان کے خلاف 18رنز سے فتح حاصل کی۔ نیوزی لینڈ نے دوسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی ہے ۔ اس سے قبل گذشتہ ورلڈ کپ (2015) کے فائنل میں شکست کا سامنا ہوا تھا ۔

دوسرا سیمی فائنل میزبان انگلستان اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے مابین کھیلا گیا۔جس میں انگلستان نے8وکٹوں سے فتح حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی۔انگلستان نے چوتھی بار ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی ہے ۔ اس سے قبل 1987,1979 اور 1992 میں تینوں بار فائنل میں شکست کا سامنا ہوا ۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں آسٹریلیا کا یہ آٹھواں سیمی فائنل تھا، اور پہلی بار اُسے شکست کا سامنا ہوا۔ اس سے قبل 6سیمی فائنلز میں فتح حاصل کی، جبکہ ایک سیمی فائنل Tieہوا۔

فائنل مقابلہ میزبان انگلستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلا گیا۔دونوں ٹیموں کے سکور برابر ہو گئے تھے اور اس مقابلہ کا فیصلہ سوپر اوور میں ہوا ۔ جس میں دونوں ٹیموں کے سکوردوبارہ برابر ہوگئے تھے ۔ مگر انگلستان اور نیوزی لینڈ میں سے انگلستان نے زیادہ باوَنڈریز لگائی تھیں ،اس بنا پر انگلستان نے اس مقابلہ میں فتح حاصل کی اورانگلستان نےیہ ورلڈ کپ جیت کر پہلی بار عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
اس فائنل مقابلہ کونہ صرف کرکٹ تاریخ، بلکہ دنیائے کھیل کا بھی بہترین فائنل مقابلہ کہنا بے جا نہ ہوگا ۔
اس ورلڈ کپ کے اہم اعداد و شمار پیشِ خدمت ہیں:

اگرگیند بازوں کی انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو آسٹریلیا کے مچل سٹارک 27 وکٹوں کے ساتھ سرِ فہرست رہے ۔کسی ایک مقابلہ میں بہترین کارکردگی پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی کی رہی، اُنہوں نےبنگلہ دیش کے خلاف 35رنز کے عوض6 وکٹیںحاصل کیں۔ بہترین سٹرائیک ریٹ(15.07)ہندوستان کے محمد شامی کا رہا۔ جبکہ بہترین اوسط(6.00) سری لنکا کے اینجلو میتھیوز کی رہی اسی طرح بہترین اکانومی بھی(3.00)اینجلو میتھیوز کی ہی رہی۔ہندوستان کےJasprit Bumrahنےسب سے زیادہ Maiden اووَرز کروائے۔ جن کی تعداد 9اوورزہہے۔ سب سے زیادہ Dot Balls انگلستان کے جوفرا آرچر نے کروائیں۔اُن کی Dot Ballsکی تعداد369رہی۔

اگربلے بازوں کی انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو ہندوستان کے روہت شرما 648 رنز کے ساتھ سرِ فہرست رہے۔کسی ایک مقابلہ میں سب سے زیادہ انفرادی رنز(166)آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر کے رہے۔بہترین اوسط(86.57) بنگلہ دیش کے شکیب الحسن کی رہی۔بہترین سٹرائیک ریٹ(150.00) آسٹریلیا کے گلین میکس ویل کا رہا۔ انگلستان کے بین سٹوکس ، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن اور ہندوستان کے ویرات کوہلی نے سب سے زیادہ 5،5نصف سنچریاں بنائیں۔ تیز ترین نصف سنچری کا اعزاز آسٹریلیا کے ایلکس کیرے نے 25گیندوں میں حاصل کیا۔ سب سے زیادہ سینچریاں (5)ہندوستان کے روہت شرما نے بنائیں۔تیز ترین سنچری کا اعزاز انگلستان کے Eoin Morganنے57گیندوں میں حاصل کیا۔سب سے زیادہ چوکے (67) ہندوستان کے روہت شرمااور انگلستان کے جونی بیئرسٹو نےلگائے۔جبکہ سب سے زیادہ چھکے(22) انگلستان کے Eoin Morganنے لگائے۔

فائنل میچ میں بہترین کھلاڑی (Man of the Match)کا اعزاز بلاشبہ بہترین کھیل پیش کر کے انگلستان کو سوپر اووَر اور پھر جیت تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بین سٹوکس نے حاصل کیا۔ جبکہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی (Man of the Tournament)عمدہ پرفارمنس کے ساتھ نیوزی لینڈ کے کین ولیم سَن قرار پائے۔اور اس طرح سات ہفتے جاری رہنے والا یہ ٹورنامنٹ جس میں دس ٹیموں کے مابین 48 مقابلے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button