تعارف کتاب

’’سُرمہ چشم آریہ‘‘

نام کتاب: سُرمہ چشم آریہ (روحانی خزائن جلد دوم)
تصنیف: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
ناشر : نظارت نشرو اشاعت ربوہ پاکستان
سن اشاعت ھٰذا: 2008ء۔

ضخامت: 260صفحات

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے دل میں قادیان سے باہر چلہ کشی کرنے کی تحریک اٹھی اور پھر حضورؑ کوالہاماًبتایا گیا کہ ‘‘ایک معاملہ کی عُقدہ کُشائی ہوشیارپور میں ہوگی۔’’

(تذکرہ صفحہ106 )

چنانچہ حضرت اقدس ؑ 22جنوری 1886ء کو ہوشیارپور تشریف لے گئے اور چلہ کشی کے نتیجے میں مصلح موعود اور پردہ غیب میں پوشیدہ جماعت کے شاندار مستقبل کے متعلق بشارتیں پائیں۔ پسر موعود کے متعلق 20فروری 1886ء کی پیشگوئی شائع کرکے ابھی آپؑ ہوشیار پور میں ہی مقیم تھے کہ وہاں کے آریہ رکن ماسٹر مرلی دھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلامی تعلیمات پر چند سوالات پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ حضرت اقدس ؑنے اسے خوش دلی سے قبول فرمایا۔ خدا کا پہلوان تو مدت سے للکا ر رہا تھا کہ کوئی آریہ سماج لیڈر مردِ میدان بنے چنانچہ اب جو خود آریہ سماج کی طرف سے ایک تحریری مذہبی مباحثہ کی طرح ڈالی گئی تو حضورؑ نے اس کو بسرو چشم قبول فرمالیا۔

حضرت مسیح موعودؑ کے سفر ہوشیار پور میں چلہ کشی اور پیشگوئی پسر موعود کے بعد تیسرا اہم واقعہ مباحثہ مرلی دھر ہے۔اس دینی مباحثہ کی کتابی شکل سرمہ چشم آریہ کہلاتی ہے۔ اس مباحثہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے اسلام کے حق میں اور آریہ سماج کے خلاف قوی ،ناقابل تردیداور مضبوط دلائل کے سامنے ماسٹر صاحب ٹھہر نہ سکے اور مباحثہ درمیان میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔بعد میں حضورؑ نے اپنے دلائل کو مکمل کرکے اور بعض حوالہ جات کا اضافہ کرکے یہ روئداد شائع فرما دی۔ حضرت اقدس ؑ کی یہ عظیم کتاب متحدہ ہندوستان میں بہت مقبول ہوئی اور اس کے بہت دُور رس انقلابی نتائج ظاہر ہوئے۔

اس مباحثہ کو غیرجانبدار انہ سطح پر رکھنے کے لیے یہ طے ہوا کہ ماسٹر صاحب ایک نشست میں اسلام پر اعتراضات کریں اور آپؑ ان کے جوابات عنایت فرمائیں۔ دوسری نشست میں حضورؑ آریہ سماج کے مسلّمات پر سوال کریں گے اور ماسٹر صاحب ان کا جواب دیں گے۔ یہ مباحثہ حضرت اقدسؑ کی فرودگا ہ پر 11اور 12مارچ 1886ء کو دو دن میں منعقد ہونا تھا۔یہ بات بھی طے ہوئی کہ بحث کا خاتمہ جواب الجواب کے جواب سے ہو۔

چنانچہ 11مارچ کی پہلی نشست میں ماسٹر صاحب نے معجزہ شق القمر کے متعلق اپنا پہلا اعتراض پیش کیاتو ان کی علمیت کا سارا بھرم کھل گیااور وہ اپنی ناکامی کا داغ مٹانے کے لئے عین اس وقت جب کہ حضورؑ کی طرف سے جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا تو معاہدہ کے خلاف محض رات کی طوالت کے بہانے سے جانے کا قصد کیا اور فرار اختیار کی۔ اکثر ہندو حاضرین نے ان کو روکنے کی کوشش کی اور ان کو کہا کہ ہم کو مرزا صاحب کے جواب سننے کا شوق ہے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔ آخر حضرت اقدسؑ نے فرمایا جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔ اگر آپ اس کو اس وقت ٹالنا چاہتے ہیں تو یہ رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔اس پر انہوں نے بادل نخواستہ اس کا شامل رسالہ کیا جانا تسلیم کرلیا۔ لیکن جواب کا اس مجلس میں تحریر ہوکر پیش ہونا چونکہ ان کو ناگوار تھا اس لئے وہ اٹھ کر چل دئیے۔

پہلی نشست کا تو یہ حال ہوا۔دوسری نشست میں حضرت اقدسؑ کا حق تھا کہ پہلے اپنے اعتراض پیش فرماتے مگر ماسٹر صاحب نے وقت ضائع کرنے کے لئے پہلی نشست کے متعلق ایک فضول جھگڑا شروع کردیا۔اور ستیارتھ پرکاش کےایک حوالہ کی ضد کرنے لگےاور مُصر تھے کہ جب تک حوالہ نہ دیا جائے اور اس امر کا تصفیہ نہ ہولے دوسری گفتگو نہیں کر سکتے۔ آخر جب کافی بحث ہو گئی تو حضرت اقدسؑ نے قضیہ ختم کرنے کے لئے یہ تحریر لکھ دی کہ جب ہم یہ بحث شائع کریں گے تو ستیارتھ پرکاش کا حوالہ بھی لکھ دیں گے۔ اس حکمت عملی سے یہ جھگڑا رفع دفع ہوا۔ اور اصل کارروائی شروع ہوئی۔ چنانچہ حضورؑ کی طرف سے آریہ سماج کے متعلق تحریری اعتراض پیش ہوا تو ماسٹر صاحب نے تین گھنٹے میں سوال کے صرف ایک ٹکڑے کا جواب قلمبند کرکے سنایااور دوسرے حصہ سوال کے متعلق جو مکتی(نجات) کے بارے میں تھا یہ جواب دیا کہ اس کا جواب ہم اپنے مکان سے لکھ کر بھیج دیں گے۔ حضور نے ایسا جواب لینے سے انکار کرکے فرمایاکہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے روبرو تحریر کریں۔ اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس مباحثہ کی ضرورت ہی کیا تھی؟مزید فرمایا جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہمیں دے دیں تا اس کا ہم جواب الجواب لکھیں۔ ماسٹر صاحب نے معذرت کی کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے ہم بیٹھ نہیں سکتے۔اس پر حضورؑ کو سخت افسوس ہوا اور آپؑ نے فرمایا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ معاہدہ ہوچکا تھا اسے توڑ دیا۔ نہ آپ نے پورا جواب لکھا اور نہ اب ہمیں جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔بہرکیف یہ جواب الجواب مجبوراً بطور خود تحریر کر کے رسالے کے ساتھ شامل کردیا جائے گا۔ یہ بات سنتے ہی ماسٹر صاحب اپنے رفقاء سمیت اٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ پر صاف کھل گیا کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام تر کارروائی سر تا پا گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔اس نشست میں سامعین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔صدہا مسلمان اور ہندو اپنا کام چھوڑ کر محض مباحثے کی کارروائی دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ اور مکان کا صحن حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ حاضرین میں شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیارپور اور بابو احمد حسین صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس سمیت شہر کے معززین جن میں ڈاکٹرز، وکلاء، حکماء، ہیڈماسٹراور مدرسین وغیرہ شامل ہیں موجود تھے۔ یہ تمام قابل احترا م شخصیات بہت شوق سے مباحثے کی کارروائی کے لئے تشریف لائی تھیں۔ لیکن ماسٹر صاحب موصوف اسلام کی فتح اور آریہ دھرم کی شکست کو دیکھتے ہوئے سراسیمگی اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے مبہوت ہوئےکہ چہرہ پر ہوائیاں چھوٹنے لگیں اور ناکارہ عذر کرکے جواب دیئے بغیر ہی مباحثے سے راہ فرار اختیار کی۔ حضرت اقدسؑ نے ان کو یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ اس وقت مصلحتاً ٹھہرنا نہیں چاہتے تو میں دو روز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کرسکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ مجھے فرصت نہیں ہے۔

چنانچہ حضورؑ نے چند ماہ بعد ہی یعنی ستمبر 1886ء کو یہ مباحثہ ‘‘سرمہ چشم آریہ ’’ کے نام سے شائع فرما دیا۔ جس میں آپؑ نے ستیارتھ پرکاش کا مطلوبہ حوالہ اور اس کے علاوہ وہ جوابات بھی جو مباحثے میں ناتمام رہ گئے تھے اس خوبصورتی سے شامل فرمادیئے کہ کتاب کو ایک تاریخی دستاویز اور عظیم شاہکار کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ حضور ؑ نے اس کتاب میں آریہ سماج پر زبردست تنقید کی اور معجزات و خوارق قرآنی، عجائبات عالم ، روح کے خواص، کشف قبور، انسان کامل اور قانون قدرت جیسے مسائل پر بھی بڑی لطیف روشنی ڈالی اور بالخصوص بتایا کہ خدائی قانون کا احاطہ جب کسی انسان کے لئے ممکن نہیں تو کسی معجزہ کو قانون قدرت کےمنافی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟

کتاب کا ردّ لکھنے والے کے لئے حضور نے 500روپے کا انعامی اشتہار بھی دیااور اس کے لئے منشی جیون داس صاحب سیکریٹری آریہ سماج کو ثالث تجویز فرمادیا کہ اگر وہ قسم کھا کر شہادت دے دیں کہ کتاب کا جواب دے دیا گیا ہے تو محض ان کی شہادت پر حضور یہ انعام دے دیں گے۔ اس انعامی چیلنج پر آریہ سماج نے بالکل چُپ سادھ لی۔ اس کے علاوہ حضورؑ نے اسی کتاب میں پانچ اور انعامی چیلنجز بھی دئیے جن میں کتاب کے آخر پر مندرج ‘‘ اشتہار صداقت انوار بغرض دعوت مقابلہ چہل روزہ’’ بھی شامل ہے۔ اس میں فرمایا کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس حاضر رہیں پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کرکے دکھلادیں تو مبلغ پانسو روپیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بہ پایہ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔

سُرمہ چشم آریہ کا مطلب ہے آریوں کی آنکھ کے لئے سرمہ یعنی ان کی روحانی آنکھیں کھولنے اور بینائی بحال کرنے کے لئے ایک علاج۔ حضورؑ نے اس کتاب کے ٹائٹل پررقم فرمایا ہے: ‘‘دربارہ ردِّ اصولِ وید و اثباتِ حقیقت اصول قرآن شریف’’ اور درج ذیل فارسی کے دواشعار بھی رقم فرمائے ہیں جن میں آپؑ نے روحانی آنکھ کی روشنی حاصل کرنے اورچشم بینا کے لئے عقلمندوں کو یہ سرمہ حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

سُرمہ چشم آریہ کی تالیف و تصنیف تو حضورؑ نے اپریل 1886ء تک مکمل کرلی تھی مگر حضور کی بیماری اور طباعت کی متعدد مشکلات کے باعث اس کے چھپنے کا کام اسی سال ستمبر میں ختم ہوا۔

اس کتاب کی اشاعت کے وقت حضرت مسیح موعود ؑ کے مالی حالات ٹھیک نہ تھے۔ آپؑ نے حضرت مولانا نورالدینؓ کے نام خط میں فرمایا: ‘‘سرمہ چشم آریہ میری باربار کی علالت کے توقف سے چھپا …… اس کے بعد رسالہ سراج منیر چھپنے والا ہے اور جو اس کے لئے روپیہ جمع تھا وہ سب اس میں خرچ ہو گیا ہے اس لئے آنمخدوم بھی اپنے گردو نواح میں دلی توجہ سے کوشش کریں کہ دست بدست اس کے خریدار پیدا ہوجائیں۔ اس پر پانچ سو روپیہ کا کاغذ قرضہ لے کر لگایا گیا ہے۔ منشی عبد الحق صاحب اکونٹنٹ شملہ نے یہ پانچ سو روپیہ قرضہ دیا۔ چارسو روپیہ اَور تھا جو اسی پر خرچ ہوا۔ یہ موقعہ نہایت محنت اور کوشش کرنے کا ہے تا سراج منیر کے طبع میں توقف نہ ہو۔ اس رسالہ سرمہ چشم آریہ کی قیمت ایک روپے بارہ آنے ہے۔ اگر آپ کی محنت سے سو رسالہ بھی فروخت ہو جاوے تب بھی ایک حق نصرت آپ کے لئے ثابت ہو جائے گا۔ ’’

(مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 17)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں اس کتاب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ چنانچہ حضورؑ اپریل 1889ء میں علی گڑھ تشریف لے گئے تو وہاں مولوی اسماعیل صاحب کی خواہش پر جمعہ کی نماز کے بعد حضور کی تقریر تجویز ہوئی۔ مگر تقریر سے پیشتر حضور نے اعلام الٰہی کے تحت تقریر کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر مولوی صاحب نے لکھا کہ بہ سبب عجز بیانی اور خوف امتحانی انکار کردیا۔ اس کے جواب میں حضورؑ نے سرمہ چشم آریہ کے مباحثہ کو اپنی عالمانہ تقریر کے ثبوت میں پیش کرتے ہوئےفرمایا: ‘‘گر میں تقریر کرنے سے عاجز ہوتا تو وہ کتابیں جو میری طرف سے تقریری طور پر عین مجلس میں اور ہزارہا موافقین اور مخالفین کے جلسہ میں قلمبند ہوکر شائع ہوئی ہیں جیسے سرمہ چشم آریہ وہ کیونکر میری ایسی ضعیف قوت ناطقہ سے نکل سکتی تھیں اور کیونکر یہ میرا عالیشان سلسلہ زبانی تقریروں کا جس میں ہزار وں مختلف طبع اور استعداد آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ مغز خوری کرنی پڑتی ہے آج تک چل سکتا۔ ’’

(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 19)

(اس عالیشان کتاب کی اشاعت اور مباحثہ ماسٹر مرلی دھر کی تفصیلات تاریخ احمدیت جلد اول میں موجود ہیں۔)

سرمہ چشم آریہ جیسی معرکۃ الآراءاور شہرہ آفاق کتاب کی اشاعت پر بہت سے علماء، اخبارات اور دیگر افراد خراج تحسین دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں اس کتاب پر ریویو کرتے ہوئے لکھا: ‘‘یہ کتاب لاجواب مؤلف براہین احمدیہ مرزا غلام احمد رئیس قادیان کی تصنیف ہے۔… اس میں جناب مصنف کا ایک ممبر آریہ سماج سے مباحثہ شائع ہوا ہے جو معجزہ شق القمر اور تعلیم وید پر بمقام ہوشیار پور ہوا تھااس مباحثہ میں جناب مصنف نے تاریخی واقعات اور عقلی وجوہات سے معجزہ شق القمر ثابت کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں آریہ سماج کی کتاب (وید) اور اس کی تعلیمات و عقائد (تناسخ وغیرہ) کا کافی دلائل سے ابطال کیا ہے۔…حمیت و حمایت اسلام تو اس میں ہے کہ ایک ایک مسلمان دس دس بیس بیس نسخہ خرید کر ہندو مسلمانوں میں تقسیم کرے۔…… ’’

(اشاعۃ السنہ جلد 9نمبر 6صفحہ 145)

مشہور عیسائی اخبار نورافشاں (6جنوری 1887ء) نے سرمہ چشم آریہ پر ان الفاظ میں تبصرہ لکھاکہ ‘‘حقیقت تو یہ ہے کہ اس کتاب نے آریہ سماج کو پورے طور پر بے نقاب کرتے ہوئے اسے پاش پاش کردیا ہےکتاب کے فیصلہ کن دلائل کا رد کرنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔’’

(بحوالہ لائف آف احمد، صفحہ 121)

خود ماسٹر مرلی دھر بھی اس مباحثہ کی یاد آخر دم تک بھلا نہیں سکے۔ چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس رائے کا اظہار کیاکہ ‘‘مرزا صاحب غیر معمولی علم رکھتے ہیں۔ میں نے علمائے اسلام میں وہ چیز نہیں دیکھی جو ان میں ہے۔’’

(حیات احمد جلد 2)

غیر ازجماعت عالم مولوی سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنی یہ رائے شائع کی کہ ‘‘…مرزا صاحب نے اپنی اس کتاب میں نہ صرف اس معجزہ بلکہ معجزات انبیاء کی پرزور و مدلل وکالت کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ معجزات و خوارق کا وقوع عقلاً ممکن ہے محدود انسانی عقل اور علم اور محدود انفرادی تجربات کو اس کا حق نہیں کہ وہ ان معجزات وخوارق کا انکار کریں اوراس کائنات کے احاطہ کا دعوٰی کریں وہ بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ انسان کا علم محدود مختصر اور امکان کا دائرہ بہت وسیع ہے ان کا اس پر بھی زور ہے کہ مذاہب و عقائد کے لئے ایمان بالغیب ضروری ہےاور اس میں اور عقل میں کوئی منافات نہیں اس لئے کہ عقل غیر محیط ہے ’’۔

(قادیانیت صفحہ 62)

حکیم ابو تراب عبد الحق صاحب ایڈیٹر اہلسنت امرتسر ایک ہندو کے اس اعتراض کا کہ ‘‘حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معجزے تھے یا نہیں ’’ حسب ذیل جواب دئیے ہیں: ‘‘حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جیسے قرآن مجید خود معجزہ عطا کیا ویسے دیگر معجزات بھی عطا فرمائے تھے جیسے معجزہ شق القمر جس کےمتعلق مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا مناظرہ پنڈت مرلی دھر سے ہوا تھا جس کی تفصیل سرمہ چشم آریہ میں موجود ہے اور پنڈت جی لاجواب ہوگئے تھے اور شکست اٹھائی تھی ’’۔

(اہلسنت 21فروری و یکم مارچ 1921ء)

سرمہ چشم آریہ کی تالیف منظر عام پر آنے کےبعدلوگوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیااور اس کے مضامین سے اکتساب فیض کیا جس کی وجہ سے انقلابی اثرات مرتب ہوئے اور اس کی غیر معمولی تاثیر کی وجہ سے بہت سےنیک فطرت افرادحلقہ بگوش احمدیت ہوئے، اس سلسلہ میں چند واقعات پیش خدمت ہیں۔

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی تحریر فرماتے ہیں کہ ‘‘جب سرمہ چشم آریہ طبع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار نسخے مجھے اور چار منشی چراغ محمد صاحب کو کپور تھلہ بھیجے۔چراغ محمد صاحب دینانگر گورداسپورکے رہنےوالے تھے۔ محمد خان صاحب، منشی اروڑے صاحب ، منشی عبدالرحمٰن صاحب اور خاکسار سرمہ چشم آریہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر محمد خان صاحب، منشی اروڑا صاحب بعد میں قادیان گئے۔ منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے۔ چنانچہ تین چار روپیہ کی مٹھائی ہم نے پیش کی۔ حضور نے فرمایا یہ تکلفات ہیں۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ ہمیں آپ کی تواضع کرنی چاہئے۔ ہم تینوں نے بیعت کے لئے کہا کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر ہم تینوں بیعت کا ارادہ کرکے گئے تھے۔ آپؑ نے فرمایا۔ مجھے بیعت کا حکم نہیں۔ لیکن ہم سے ملتے رہا کرو۔ پھر ہم تینوں بہت دفعہ قادیان گئے اور لدھیانہ میں بھی کئی دفعہ حضور کے پاس گئے۔ ’’

(سیرت المہدی جلد 4 صفحہ 30)

حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری حضرت مسیح موعودؑ کی پہلی ملاقات کے لئے 1887ء میں قادیان آئے۔آپ حضورؑسے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ‘‘ غرض میں مرزا صاحب سے رخصت ہوا۔ چلتے وقت انہوں نے اس کمترین کو براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ کی ایک ایک جلد عنایت کی۔ انہیں میں نے پڑھا۔ ان کے پڑھنے سے مجھ کو معلوم ہوا کہ جناب مرزا صاحب بہت بڑے رتبے کے مصنف ہیں۔ ’’

حضورؑ سے دوسری ملاقات کے لئے آپ 1894ء میں قادیان آئے اور بیعت کرلی۔

(اصحاب احمد جلد 14صفحہ 118)

حضرت قاری غلام یٰسین صاحب فرماتے ہیں: ‘‘خاکسار قریباً سولہ یا سترہ برس کا تھا۔ جب میں نے سرمہ چشم آریہ جو ان دنوں ہی شائع ہوئی تھی۔ اتفاقاً مجھے اس کے پڑھنے کا موقع مل گیا۔ اس کے پڑھنے سے دل پر اثر ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد میں قادیان آیا۔ نماز کے وقت حضورؑ تشریف لائے۔ بعد نماز حضور نے دریافت کیاکہ کہاں سے آئے ہو۔ میں نے عرض کیا۔ کھاریاں ضلع گجرات سے آیا ہوں۔ کیونکہ کھاریاں میں میں اس وقت قافیہ پڑھتا تھا مولوی فضل الدین صاحب کے پاس۔پھر میں نے عرض کیا۔ میں نے آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ پڑھی ہوئی ہے۔ اس میں میں نے پڑھا ہےکہ جو شخص صدق دل سے میرے پاس آئےاسے بھی الہام ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ مجھے بھی الہام ہو۔ آپ نے فرمایا پھر تم میرے پاس رہو۔میں نے عرض کیا۔ کتنی دیر۔ فرمایا 2سال۔ مگر میں نے طالبعلم ہونے کا عذر کیا۔ اور ایک ہفتہ ٹھہرا۔ اس کے بعد بھی رابطے قائم رہےاور 1887ء میں بیعت کرلی۔ ’’

(رجسٹر روایات جلد 8 صفحہ 238)

سرمہ چشم آریہ ایسے عظیم الشان مضامین پر مشتمل ہے کہ غیر اور مخالفین اس کتاب کے کئی حصے حضرت مسیح موعودؑ اور کتاب کے نام کے بغیر اپنی کتب میں شائع کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً مولانا صوفی محمد ابراہیم صاحب قصوری نقشبندی نے اپنی تالیف ‘‘خزینہ معرفت’’ جو میاں شیر محمد صاحب کی سوانح اور ملفوظات پر مشتمل ہے۔ مذہبی حلقوں میں مشہور اور مقبول ہےاور تصوف کا گہرا رنگ لئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کے اب تک متعدد ایڈیشنز چھپ چکے ہیں۔ مولانا صاحب نے اس کتاب میں آنحضرت ﷺ کی اعلیٰ و ارفع شان تحریر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کی کئی کتب سے آپؑ کا ذکر کئے بغیر بھرپور استفادہ کیا ہے۔خزینہ معرفت کا ایک اقتباس سرمہ چشم آریہ کے حاشیہ صفحہ 188تا 204سے معمولی کمی بیشی کے ساتھ لفظاً لفظاً اخذ کیا گیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے معروف اہل قلم اسرار الرحمان بخاری صاحب اپنی ضخیم تالیف ‘‘اسلام اور مذاہب عالم ’’ کے صفحہ 333پر تحریر کرتے ہیں۔ ‘‘رسول اکرمؐ اتم الوہیت ہیں۔ ان کا کلام خدا کا کلام ان کا ظہور خدا کا ظہور ہے ’’یہ مایہ ناز اور پُر معرفت فقرہ جس میں شان مصطفیٰ ﷺ کا ایک جامع اور وجد آفریں تخیل پیش کیا گیا ہے دراصل سرمہ چشم آریہ صفحہ 229۔ 233کے حاشیہ سے ماخوذ ہے۔ حضرت اقدسؑ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ‘‘کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے ’’۔

3؍ اکتوبر 1898ء کو حضرت مسیح موعود ؑ نے بعد نماز فجر فرمایا: ‘‘رات کو بعد تہجد لیٹ گیا تھوڑی سی غنودگی کے بعد دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سرمہ چشم آریہ کے چار ورق ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ آریہ لوگ اب خود اس کتاب کو چھپوا رہے ہیں۔ ’’ ( الحکم 8۔ اکتوبر 1898ء صفحہ 6) ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں آریوں کے قبول حق کے لئے یہ کتاب بہت اہم کردار ادا کرے گی۔ اس حوالے سے حضرت اقدسؑ کو اور الہامات بھی ہوئے۔ فرمایا: ‘‘خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تُو ہی ہے آریوں کا بادشاہ’’۔ (تتمہ حقیقۃالوحی صفحہ 85)۔ اسی طرح ایک بار الہام ہوا: ‘‘آریوں کا بادشاہ آیا ۔’’ (تذکرہ صفحہ313)

پس اس کتاب کو پڑھ کر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعوؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقریر و تحریر کا ایسا عظیم الشان ملکہ عطا کیا گیا تھا جو صرف انبیاء کے حصہ میں ہی آیا۔ آپؑ کو ایسی قلم دی گئی تھی جس نےتلواربن کر اسلام کی صداقت اور آنحضورﷺ اور قرآن مجید کی حقانیت کو سب مذاہب کے اصول و عقائد و تعلیمات پر غالب کردیا اور اسلام کو فتح دلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ روحانی خزانے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانہ میں مسیح موعود نے لٹائے۔ آئیے ہم ان کو آگے بڑھ کر حاصل کریں اور ان کو اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا وارث بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button