خلاصہ خطبہ جمعہ

جلسہ سالانہ کی غرض و غایت اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کی روشنی میں احباب جماعت کو نہایت اہم نصائح

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 05؍جولائی 2019ءبمقام جلسہ گاہ جرمنی DM Arena کالسروئے (Karlsruhe)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 05؍ جولائی 2019ء کوجلسہ گاہ جرمنی DM Arena کالسروئے (Karlsruhe) ،میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا ۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم سعید Gessler صاحب کے حصہ میں آئی۔


تشہد، تعوّذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:

اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں میں سے جو ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آکرملے، ایک بہت بڑا فضل اور انعام جلسہ سالانہ ہے۔جس کے ذریعے ہم اپنی روحانی،اخلاقی اورعلمی بہتری کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کے قرب کےسامان کرسکتے ہیں۔ایک دوسر ے کے حقوق اداکرکے،رنجشوں اور دوریوں کو قرب اور صلح میں بدل کر جلسےکےقیام کےمقصد کو پورا کرسکتے ہیں۔ احمدیوں کی ایک بہت بڑی تعداد سارا سال جلسے کا انتظار کرتی ہے۔ اگلا کیلنڈر سال شروع ہوتے ہی جلسے کی تیاریوں میں مزید تیزی آجاتی ہے۔ یہاں رہنے والوں کے ساتھ پاکستان سے نئے آنے والوں کو بھی بہت انتظار ہوتا ہے۔ وہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے وہاں جلسے منعقد نہیں کرسکتے۔ ایک عرصے سے ان کو پتا ہی نہیں کہ جلسہ سالانہ کیا چیز ہے۔ جرمنی میں اب باہر سے آکر جلسے میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کا شوق اور انتظار جلسے کے مقصد کو حاصل کرنےکےلیے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص اس نیت سے جلسے میں شامل نہیں ہوتا تو اس کا جلسے کا انتظار بھی اور جلسے میں شامل ہونا بھی فضول اور لغو بات ہے۔ ماحول بےشک اثر ڈالتا ہے، لیکن ماحول کے اثر کو قبول کرنےکےلیے انسان کی اپنی کوشش کا بھی دخل ہے۔ پس ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنےوالےہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی جلسےپر آنےوالوں کےلیے کی گئی دعاؤں کے مستحق بنیں۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں حال کے پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کےلیے ہرگز اپنے مبائعین کو اکٹھا کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ وہ علّتِ غائی جس کےلیے میں حیلہ نکالتا ہوں وہ اصلاحِ خلق اللہ ہے۔ حضرت مسیح موعودؑنے اپنی اصلاح نہ کرنے والوں سے صرف بیزاری کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ کراہت کابھی اظہار فرمایا ہے۔ اگر ہم حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے کے بعد بھی دنیاکی محبت کودل میں لیے بیٹھے ہیں ،اللہ اور رسولِ کریم ﷺ کی محبت اس دنیاوی محبت پر حاوی نہیں ہے تو تیس پینتیس یا چالیس ہزار کی حاضری کا کیا فائدہ ہے۔ چند دن پہلے رمضان ختم ہوا ہے جو روحانی اصلاح اور ترقی کا مہینہ تھا۔ اب ایک اور تین دن کا کیمپ ہے جس میں دینی اور علمی ترقی کے موقعے کے ساتھ عبادتوں اور ذکرِ الٰہی کا ماحول ہے۔ نوافل، تہجد اور ذکرِ الٰہی کا ایک اجتماعی رنگ ہے۔ اگر ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو پھر کب اور کس طرح فائدہ اٹھائیں گے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ماننے والوں سے بڑی توقعات وابستہ فرمائی ہیں۔ اس ماحول کا حقیقی فائدہ تب ہی ہوگا جب دنیا کی محبت اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کےمقابلے میں ٹھنڈی ہوجائے۔ اس جلسے کے بعد دنیا کے کام بھی کرنے ہیں،لیکن اس تربیت اور شمولیت کا فائدہ تب ہی ہوگا کہ جب دنیا کےکاموں کے باوجود ،دین کو ہم دنیا پر مقدّم کریں گے۔ جلسےکے دنوں میں یہاں بازار بھی مہیا کیے گئےہیں،سٹال بھی لگتےہیں۔ لیکن جلسے میں شامل ہونےوالے اور سٹال لگانے والےدونوں اس بات کا خیال رکھیں کہ بازاروں میں پھرنا، شاپنگ کرنا،اپنی چیزوں پر منافع حاصل کرنے کی کوشش کرنا دنیاداری ہے۔ اس سےخریدار اور دکان دار دونوں بچیں۔جلسے کی کارروائی خاص طور پر دونوں توجہ سےسنیں۔ وقفوں میں دونوں کا حق ہے کہ بازاروں میں جائیں لیکن بازاروں کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ بازاروں کا حق یہ ہے کہ وہاں پھرتے ہوئے ایک دوسرے کو سلام کریں، ذکرِ الٰہی میں مصروف رہیں۔ دکانوں پر رش نہ کریں۔ دکان دار جائز منافعے سے اپنی چیزیں فروخت کریں۔ناجائز منافع نہ کمائیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے اس جماعت کو حقیقی معرفت،حقیقی تقویٰ اور طہارت دوبارہ قائم کرنے کےلیے بنانا چاہا ہے۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کیے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے۔ خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاؤ، اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔ حضورِ انور نےفرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ تمام قسم کی نیکیاں بجالانا، خداتعالیٰ اور اس کے بندوں کے تمام قسم کے حقوق ادا کرنا اصل تقویٰ ہے۔ اس لحاظ سے اگر ہم جائزہ لیں تو خود ہی ہماری حالتیں ہمارےسامنے آجائیں گی۔بعض لوگ جماعتی کاموں میں اچھے ہیں تو گھر پر بیوی بچّے ان سے تنگ ہیں۔ بعض گھروں کے حق ادا کر رہے ہیں تو عبادت کی طرف توجہ نہیں۔ بعض بظاہر عبادت کرنے والے ہیں تو معاشرے میں ایک دوسرے کا حق مارنے والے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت شمار ہونے کے لیے ہر جہت اور ہر پہلو سے اپنی عملی حالتوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔جلسوں کا اہتمام نیکیوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔ مقررین بھی اپنی تقریروں میں ا س طرف توجہ دلاتے رہیں۔

حضرت مسیح موعودؑاللہ تعالیٰ کے کامل بندوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کرلیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ جو لوگ خداتعالیٰ سے سچا تعلق اور محبت پیداکرلیتے ہیں وہ کسی حالت میں بھی خداتعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔

حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے ڈیوٹیاں دینے والوں کو بھی اپنی زبانیں ذکرِالٰہی سے تر رکھنے کی نصیحت فرمائی۔ فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے یہ الفاظ ہمیں فکرمیں ڈالنے والے ہونے چاہئیں کہ آسمان پر میری جماعت تب شمار ہوگے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں احمدی ہونے کی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس لیے وہ ہجرت کرکے یہاں آئے۔ پس ان سب باتوں کے باوجود اگر ہم اپنے عملوں کی کمی کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل نہ ہوں تو یہ کتنے گھاٹے کا سودا ہے۔ پس ان دنوں میں ہمیں یہ بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ ہم ان لوگوں میں شمار نہ ہوں جن سے خداتعالیٰ راضی نہیں۔ جلسے کے دوران اور وقفوں میں اور رات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دعا کریں اور عہد کریں کہ اے خدا ہم نیک نیت ہوکر تیرے مسیح کے جاری کردہ اس جلسے میں شامل ہوئے جو یقیناً تیری خاص تائیدات اور علم سے جاری ہوا۔ پس تُو ہمیں اپنی تمام برکات سے متمتع فرما۔

حضرت مسیح موعودؑ نے افرادِ جماعت کے آپس میں تودّد و تعارف کوان جلسوں کا ایک مقصد قرار دیا ہے۔ جو اپنے بھائی سے خدا کی خاطر محبت کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے بہت نوازتا ہے۔ پس ان دنوں کو آپس کی رنجشیں دُور کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ سالانہ کو شعائراللہ میں داخل فرمایا ہے۔ جو لوگ شعائراللہ کے تقدّس کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہیں۔ آنحضرتﷺ کے اس ارشاد کو ہمیں پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔ ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ کیا یہ ارشاد ہماری حالتوں کی عکاسی کرتا ہے،ہمارے عمل اس کے مطابق ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو قضاء میں، ملکی عدالتوں میں مقدمات جانے ہی نہیں چاہئیں۔پس کینوں اور رنجشوں سے بچتے ہوئے، اپنے دلوں سے میل نکال کر روحانی اور اخلاقی حالتوں میں انقلاب لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عہدےداران اور ڈیوٹی دینے والوں کے اخلاقی معیار بہت بلند ہونے چاہئیں۔ جلسے کے ماحول میں صلح اور صفائی میں کارکنوں کو پہل کرنی چاہیے۔عہدےداروں کو اپنے آپ کو خادم سمجھنا چاہیے۔ ان میں برداشت کا مادہ زیادہ ہونا چاہیے۔

حضورِ انور نے افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ بعض عہدےداروں نے اپنے عہدوں کا خیال نہیں رکھا جس کی وجہ سے انہیں تبدیل بھی کرنا پڑا۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ جلسے کے ماحول میں ذکرِ الٰہی اور عاجزی میں بڑھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں اور نظامِ جماعت کے بارے میں دلوں میں رنجش نہ لائیں۔ بیعت کے حق کی ادائیگی کی نسبت نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خوب یاد رکھو کہ دنیا کچھ چیز نہیں۔ لعنتی ہے وہ زندگی جو محض دنیا کے لیے ہےاور بدقسمت ہے وہ جس کا تمام ہم و غم دنیا کےلیے ہے۔ ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور پر میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی۔ انسان کے نفسِ امّارہ میں سب سے زیادہ تکبّر کی پلیدی ہے۔ خداتعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔

حضورِ انورنے فرمایا کہ آپ جو میرے سامنے بیٹھے ہیں،خداتعالیٰ کی نظر میں آپ میں سعادت تھی جو خدا نے حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کی توفیق عطافرمائی۔ یہ پہلا قدم ہے،انتہا نہیں۔ اس کی انتہا کےحصول کےلیے اُس تعلیم پر عمل کرنا ضروری ہےجو آپ کو دی گئی ہے۔ ہر احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے احمدیت کا چہرہ ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے حضرت مسیح موعودؑکی ایک دعا پیش فرمائی جس میں آپؑ نے نہایت درد کے ساتھ خدا کے حضور جماعت پر رحمت کا ہاتھ لمبا رہنے کی التجا کی ہے۔ اس دعاکے دوسرے حصے میں آپؑ نےاللہ تعالیٰ سے منحرف ازلی بدبخت کو اپنی طرف سے بھی منحرف ہونے کی بھی دعا کی ہے۔ حضورِ انور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی حالت سے بچائے، ہمارے ایمانوں کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ فرمایاکہ جلسے کے بابرکت اور ہرقسم کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے بھی دعائیں کرتے رہیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button