سیرت صحابہ کرام ؓ

تلا شِ حق میں جہاں گردی… حضرت سلمان فارسی ؓ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ٔکرامؓ کی زندگیاں چمکتے ستاروں کی طرح قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ یہ پاک لو گ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبتِ صا لحہ سے مستفید ہو ئے اور حضور سے بلا واستہ آدابِ زندگی کا درس لیا، اور حضور ؐکے بعد حضور کے اقوال اور افعال بیان کر کے امت کے لیے دین کو سمجھنے کا ذریعہ فرا ہم کر گئے رضی اللّٰہ عنہم و رضو عنہ۔

ان چاند ستارہ اصحاب رضی اللہ عنہم میں حضرت سلمان فارسیؓ ایک منفرد مقام کے حا مل ہیں۔آپؓ نے روشنی کی تلاش کے سفر میں جو قربا نیاں دیں ان کا تذکرہ ایمان کو گرما دیتا ہے۔

جب آپؓ نے رسول مقبول ؐؐکے مقدس ہاتھ پر بیعت کی آپؓ نے اپنے حالات حضور سے بیان کیےتو حضوؐر نے آپؓ کو یہ حالات لوگوں کو بھی سنانے کا ارشاد فرمایا۔
آج کی صحبت میںروشنی کی تلاش میں سرگرداں حضرت سلمان فارسیؓ کی داستانِ حیات اور آپؓ کے او صاف اور کمالات کا مجملا ًذکر کر رہا ہوں، جس سے عیاں ہے ا للہ تعا لیٰ سچ کے سچے متلا شیوں کی را ہنما ئی کس طور کرتا ہے، جب سچائی کی تلاش کی سچی تڑپ ہو تو خدا تعا لیٰ کی رحمت نا زل ہو تی ہے اور متلاشی کا ہاتھ پکڑ کو سچائی کے منبع تک پہنچ دیتی ہے کہ انسان خدا تعا لیٰ کے شکر کے اتھا ہ سمندر میں ڈوب جا تا ہے!

خاندانی حالات

سلمان فارسی کی پیدائش ایک متمول ایرانی گھرانے میں تقریبا ً570ء میںہوئی ۔ آپ کا وا لد بخشان بن مائو ار سلان، کنیت ابوالملک، خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر بہت خوش ہوا، اور بڑے چائو سے آپ کا نام “روزبہ مہ یار”یعنی ہنس مکھ، چاند سے چہرے والا، رکھا۔ آپ کی جائے پیدائش قصبہ “جیان” یا “رم ہر موز ’’بیا ن کی جا تی ہے ، جو ایران کے صوبہ اصفہان کے جنوب میں واقع ہے۔

سلمان کا والد علا قے کا بڑا زمیندار اور گائوں کا سردار تھا۔ اس کی ایرانی ساسا نی شاہی دربار تک رسائی تھی۔ سلمان کی والدہ کا ذکر تا ریخ میں نہیں ملتا، اغلباً بچے کی پیدا ئش کے وقت وفات پا گئیں تھیں۔ آپ کو ایک نرس نے پالا پو سا ۔جس کا نا م “مہران”تھا۔

ایرانی کلچر

ایرانی اس زمانے میںآ تش پرست تھے، اور آپ کا والد کٹر آتش پرست تھا، اور علاقے کے آتش کدے کا محافظ تھا۔ اس نے ننھے روزبہ کو دھیان لگا نے کے لیے بچپن ہی سے آتش کدہ میں آگ کی نگرانی سونپ دی تھی، روزبہ سارا دن اپنے ننھے ہاتھوں سے آتش دان میں ایندھن جھونکتا رہتا تھا تا کہ آ گ مسلسل جلتی رہے ۔

باپ روزبہ کی سخت حفاظت کرتا،گھر سے باہر جاتے ہوئے دروازے مقفل کر جاتا، اسے قدرتی طور پر وہم تھا مبادا کو ئی اُسے اغوا نہ کرلے جا ئے۔ اس کا یہ وہم کسی حد تک جائز بھی تھا، کیونکہ اس زمانہ میں ہر طرف ابتری اور لوٹ کھسوٹ پھیلی ہو ئی تھی۔ ایرانی ساسانی، روما کی بزنتینی، اور افریقہ کی ایبی سینین حکو متیں آپس میں بر سرِ پیکار رہتی تھیں۔ متحارب سپاہی ایک دو سرے کے علا قوں میں چھا پے مار کر مردوں ، عورتوں، بچوں اور مویشیوں کو ہا نک کر لے جا تے۔ اس کے علا وہ بردہ فروش بد قماش لوگ قا فلوں کے ساتھ جگہ جگہ پھرتے رہتے، جو نہی کو ئی اکیلا بچہ یا عورت پا تے اغوا کر کے کہیں دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیتے۔

انجانی چاہت

روز بہ کا والد گھر سے با ہر جاتے وقت دروازوں کو مقفل کر جاتا، ننھے روبہ کا کھیلنے کے لیے کو ئی دوست نہیںتھا، نہ ہی اَور کو ئی کام، آگ میں مسلسل دیکھنے سے بچے کے دل میں قدرتی طور پر ایک خلا سا پیداہو گیا تھا، کسی ان دیکھی چیز کی چا ہت! روز بہ نے آ تش پرستی میں دل لگا کر اس انجانی چاہت کی تسکین حاصل کر نے کی کوشش کی، اسے مذہب سے اس قدر دلچسپی پیدا ہو گئی کہ سولہ سترہ سال کی عمر میںاس کے ذمے معبد میں پادری کے فرائض سپرد کر دیے گئے۔مگر پھر بھی تسکین نہ ملی ۔

کلیسا میں

اب روبہ18-19سال کا صحت مند نوجوان تھا، باپ اسے کبھی کبھی اپنی نگرانی میں باہر جا نے کی اجازت دے دیتا۔ ایک روز والد گھر میں ایک کمرہ تعمیر کر نے میں مصروف تھا، اس نے روبہ کو کھیتوں میں جا کر کام کی نگرانی کر نے کو کہا ۔ کھیتوں کی طرف جا تے ہو ئے روبہ کا گزررستے میں ایک کلیسا کے پاس سے ہوا، جہاں سے آتی ہو ئی عبادتی ترانوں کی آواز روزبہ کو بھلی لگی۔ کلیسا میں داخل ہوا وہاں راہبوںسے بات چیت ہوئی۔ عیسا ئیت کے معتقدات کے متعلق معلوم ہوا۔ معلوم ہوا عیسائیت کے بڑے معبد ملک شام میں ہیں۔غروبِ سورج تک کلیسا میں رہا، کھیتوں میں نہ جا سکا۔ جب شام تک گھر نہ لوٹا، تو سخت فکرمندی میں والد نے اس کی تلاش میں کئی لو گوں کو مختلف جہات میںدوڑا یاہوا تھا۔

گھر لو ٹا تو والد نے سکھ کا سانس لیا ۔ جب اسے پتہ چلا کہ روبہ کھیتوں پر گیا ہی نہیں، اور سارا دن کلیسا میں گزار آیا ہے ، سخت ناراض ہوا۔اس پر مستزاد کہ روبہ سے تکرار ہو ئی: روبہ کہتا عیسوی مذہب آتش پرستی سے بہتر ہے ، جبکہ والد آتش پرستی کے گُن گا تا رہا۔ روبہ کی عیسائی معتقدات پر سخت ایمانی کو دیکھ کر و الد کا ماتھا ٹھنکا،خطرہ بھانپتے ہو ئے اس نے روز بہ کو ڈرایا دھمکایا اور ایک کمرے میں پا بہ زنجیر کر کے بندکر دیا۔
روبہ کی نگران عورت مہران روبہ سے اپنے بچے کی طرح محبت کر تی تھی، قید میں وہی اس کی ضروریات کا خیال رکھتی، اُسے بچے پر والد کی سختی اچھی نہ لگتی، وہ چا ہتی تھی روبہ باپ کے ظلم سے بچنے کے لیے کہیں بھاگ جا ئے۔روبہ نے ایک دن مہران کو اعتماد میں لے کرکلیسا میں راہبوں کو پیغام بھجوایاکہ جب شام جانے کے لیے کو ئی قافلہ تیار ہوتو اُسے اطلاع دیں۔

چند دن بعدعیسائیوں کا ایک تجارتی قا فلہ ملک شام کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔روبہ کو اطلاع ہو ئی، مہران کی مدد سے زنجیر یں کھولیں اور رات کے اندھیرے میں روبہ جا قافلے میں شامل ہوااورگرفتاری سے بچنے کے لیے روبہ نے اپنا حلیہ عیسائی راہب جیسا اور نام “سلمان”میں بدل لیا۔
جب والد کو روبہ کے بھاگ نکلنے کا پتہ چلا، اس نے اپنے گماشتے روبہ کی تلاش میں دور و نزدیک بھجوا دیے۔

ملکِ شام میں

اب کہانی سلمان کی زبان سے سنیے :

‘‘میںقافلے کے ساتھ مُلکِ شام پہنچا، تو میں نے وہاں کے بڑے راہب کا پتہ پو چھا، اس سے ملا، اپنے حالات بیان کیے اور گرجے میں قیام اوراُس کی خدمت کی اجازت چاہی۔اُس نے میرا شوق دیکھ کر اپنے پاس ٹھہرا لیا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیامجھے پتہ چلا راہب سخت دنیا داراور بد دیانت آدمی تھا،لوگوں سے خیرات وصول کرکے بجائے غریبوں پر خرچ کر نے کے اپنے خفیہ خزانے میں جمع کر تا جا تا۔خدا ئی تقدیر کے مطابق وہ جلدراہیٔ ملک عدم ہوا۔میں نے اُس کے پوشیدہ خزانے کا لوگوں کو بتادیا۔لوگوں نے بجائے دفن کر نے کے اس کی لاش کو سنگسار کر دیا۔اور گرجے کا انتظام ایک اَور راہب کے سپرد کر دیا جو بہت عبادت گزاراور نیک تھا۔میںنے اس کی صحبت سے کچھ عرصہ فائدہ اُٹھایا ہی تھاکہ وہ جلد مرض الموت سے بیمارپڑگیا، میں نے اُس سے بسترِ مرگ پر کسی اَور نیک آدمی کا پتہ معلوم کیا جس کے پاس اُس کی موت کے بعد جا سکوں، اس نے مجھے موصل میںایک راہب کا پتہ بتایا ۔ اس کی وفات کے بعد میں موصل روانہ ہو گیا۔

موصل میں

مو صل میںبتائے ہو ئے پتہ پر پہنچا، تعارف کرایا، راہب نے مجھے اپنے ساتھ رہنے اور عبادت کر نے کی اجازت دے دی۔میں نے اسے واقعی پارسا پایا۔ مجھے ابھی کچھ عرصہ ہی اس کی صحبت میںگزرا تھا کہ شومئے قسمت یہ بزرگ بھی بیمار پڑگیا۔بسترِمرگ پر میں نے اُس سے کسی اَور بزرگ کے متعلق پوچھا، اُس نے نصیبین میں ایک بزرگ کا بتایا، جو صراطِ مستقیم پر تھا۔

نصیبین میں

نصیبین میں اس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنی روئیداد سفر عرض کی اور اپنی سرپرستی میں لینے کی درخواست کی، بزرگ نے اجازت دی ۔ میں نے اسے گزشتہ بزرگوں کی طر ح ایماندار پایا۔ مگر وہ بھی مرض الموت میں جلد گرفتار ہوا، مجھے مرتے وقت عموریہ شہر میں ایک بزرگ کا پتہ دیا۔

عموریہ میں……نویدِ ظہورِ نبی آخر الزمانؐ

عموریہ پہنچا ، ڈھونڈتا ہوا بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنے حالات عرض کیے اور ان کی مصاحبت میں ٹھہرنے کی اجازت چاہی۔میرا وفورِ شوق دیکھ کر بخوشی اجازت دے دی۔میں نے انہیںبہترین راہ نما پایا۔

عموریہ میںمیَں نے کاروبار کی ٹھانی، کچھ بھیڑبکریاں اور گائیں خرید لیں۔وقت ہنسی خوشی عبادات میں سکون سے گزرنے لگا۔جب یہ راہب مرض الموت سے بیمار ہو ئے ، میں نے سچائی کی تلاش میں اپنی تگ ودو بیان کرکے آئندہ کے لیے ہدایت کی درخواست کی۔انہوں نے جواب دیا :

بیٹے ! مجھے تو ارد گرد اَور کو ئی قابلِ اعتبار شخص نظر نہیں آتا۔ہاں البتہ اتنا بتا دوں یہ نبی آخر زماںؐ کے نزول کا زمانہ ہے جو دینِ ابراہیمی کے ساتھ ملکِ عرب میں مبعوث ہو گا ، وہ سیاہ لاوا کے پتھروں کی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا ،جس میں کھجور کے درخت بکثرت ہیں ۔ اِس کے علاوہ اُس نبی کی نمایاں علامات یہ ہیں:

1 ۔ وہ صدقہ قبول نہیں کرے گا۔
2۔البتہ تحفہ سے کھا لے گا۔
3۔اس کی پشت پر مہرِنبوت ہو گی۔

اگر ہو سکے تو اُس علاقے میں جاکراس سے ملاقات ضرور کر نا۔بزرگ راہب کچھ دن بعد فوت ہو گئے۔ میں کچھ دن عموریہ میں رہا۔

ایک دن جب میں جنگل میں اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا، میرے پاس سے بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ ملکِ عرب جانے کے لیے گزرا ۔میری اُن سے بات چیت ہوئی، میں نے انہیں اپنے ساتھ ملکِ عرب لے جا نے اور سفر میں سواری مہیا کر نے کے عوض اپنے جانوروں کا ریوڑ دینے کا وعدہ کیا۔

وادی ا لقریٰ میںاور قافلہ والوں کی بد عہدی

وادی القریٰ پہنچ کر میں نے حسبِ وعدہ اپنے جانور ان کے حوالے کر دیے، مجھے بے نام و نشان پا کر قافلہ والوں نے مجھ پر یہ ستم کیا کہ مجھے اپنا غلام ظاہر کر کے ایک یہودی کے پاس بیچ دیا۔

مجھے اس علاقے میں کھجور کے درخت بکثرت نظر آئے، مجھے کسی قدر اطمینان تھا کہ میں اپنی منز لِ مُراد کے قریب پہنچ گیا ہوں۔میرے یہودی مالک کے ایک رشتہ کو جو قبیلہ قریظہ سے تھا، میں پسند آ گیا، اور وہ مجھے خرید کر یثرب لے گیا۔

منزلِ مراد

جب میں یثرب پہنچا تو شہراور ماحول دیکھ کرمجھے یقین ہو گیاکہ میری یہی منزلِ مراد ہے۔میں جب یثرب میں تھا تو اس وقت نبی کریم ؐمکہ میں نبوت کا دعویٰ کر چکے تھے ۔مگر غلام ہو نے اور بیگار میں مصروف ہو نے کے باعث مجھے علم نہ ہو سکا تھا۔کارِ خدا ایک دن جبکہ میں کھجور کے درخت پر چڑھا کھجوریں اتار رہا تھا، مرے مالک کا ایک عزیز وہاں آیا، اور اسے کہنے لگا: “خدا بنی قیلہ کوغارت کرے، وہ اس وقت قبا میں ایک ایسے شخص کا استقبال کر رہے ہیں، جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے”۔اس کی یہ بات سن کر مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، اور مجھے محسوس ہوا میں اپنے مالک پر درخت سے گرنے والاہوں، میں فوراً درخت سے نیچے اُتر آیا۔اور اس شخص سے پوچھا ابھی ابھی تم کیا بات کر رہے تھے۔ میرے مالک نے میری بات کو دخل در معقولات تصورکرتے ہوئے میرے منہ پر زوردارتھپڑ رسید کیا، اور بڑبڑاتے ہو ئے کہا “ تمہارا ان باتوں سے کیا تعلق، چل اپنا کام کر!”۔

قبا میں

میں نے تھوڑی تھوڑی کر کے کچھ کھجوریں پس انداز کی ہوئیں تھیں، ایک دن کام سے فارغ ہو کر میں یہ کھجوریں لے کر مسجد قبا میں رسولِ خدا کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی مجھے معلوم ہوا ہے آپؐ ایک صالح مرد ہیں، آپ کے کچھ ساتھی حاجت منداور غریب الدیار لوگ ہیں، میرے پاس یہ کچھ کھجوریں ہیں یہ میںآپ کی نظر کرتا ہوں، یہ کہہ کر میں نے کھجوریں آپؐ کے سامنے رکھ دیںآپؐ نے ساتھیوں سے فرمایا، کھاؤ، اور اپنا ہاتھ روک لیااور کچھ بھی نہ کھایا۔اس طرح راہب کی بتائی ہوئی پہلی علامت پوری ہو ئی۔
چنددن بعد میں پھر کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، اس وقت تک آپؐ مدینہ میں داخل ہو چکے تھے، میں نے کھجوریں ہدیہ کے طور پر پیش کر دیں۔اب کے نہ صرف صحابہ نے بلکہ آپ نے بھی کھجوریں تناول فرمائیں۔اس طرح دو سری علامت پوری ہو ئی۔

اگلی بار جب آنحضور ؐکی خدمت حاضر ہوا آپؐ ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد قبرستان میں تھے ۔ آپ دو چادروں میں ملبوس تھے، میںنے پیش ہو کر سلام پیش کر کے آپؐ کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔آپؐ چشمِ بصیرت سے میرا مدعا جان گئے۔میری درخواست پر چادر اٹھا ئی، میں نے تسلی کے ساتھ مُہرِنبوت کو دیکھا، اور روتا ہوا آپؐ کے قدموں میں گرگیا، آپؐ کے پاؤں چومنے لگا۔آپؐ نے فرمایا اُٹھو، میں حضوؐر کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا، اور اپنے سفر کی ساری روئیداد سنا دی، آپؐ نے اپنی روائیداد صحابہ کو بھی سنا نے کو کہا!

رحمت الالعالمینؐ کی شفقت اور میری آزادی

حضور ؐنے فرمایا، اپنی آزادی کا اپنے مالک کے ساتھ فیصلہ کر لو۔ میں نے اپنے مالک سے بات کی، اس نے دو شرائط پیش کیں:1۔کھجور کے تین سو پودے لگا کر دوں۔2۔چالیس اوقیہ سونا ادا کروں

میں نے یہ شرائط دربارِ نبوتؐ میں پیش کر دیں۔آپؐ نے نہایت شفقت کے ساتھ اپنے صحابہ ؓکو فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو۔چنانچہ ایک صحابیؓ نے پندرہ، دوسرے نے تیس……اور اس طرح جلد ہی پودوں کی تعداد پوری ہو گئی۔حضور نے فر مایا، جاؤ گڑھے کھودو، جب کھود چکو، مجھے آکر بتلاؤ ۔میں خود آکر پودے لگاؤں گا۔

گڑھے کھودنے میںبھی صحابہؓ نے میری مدد کی۔ جب کام مکمل ہو گیا، میںحضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوا، حضوؐر میرے ساتھ مو قع پر تشریف لے گئے۔ ہم لوگ پودے قریب رکھتے جاتے، حضوراپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں گڑھوں میں لگاتے جاتے یہاں تک کہ کام ختم ہو گیا۔خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں سلیما ن کی جان ہے پودے خوب چلے، ایک بھی ضائع نہ ہوا۔ اس طرح خدا کی مہر بانی سےیہودی کی پہلی شرط پوری ہوئی۔مگردوسری شرط کے لیے سونا مہیا کر نا تومیرے بس میں کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔

ایک دن حضوؐر نے صحابہؓ کے ذریعے مجھے بلایا، میں حاضر ہوا، آپ نے مرغی کی انڈے کے برابر مجھے سونا دے کر فرمایا: لو اس سے یہودی کا دوسرا مطالبہ بھی پورا کر دو۔میں نے عرض کیا جس قدر سونا میرے ذمہ ہے یہ تو اس کے لیے کا فی نہ ہو گا۔فرمایا لو تو سہی !اللہ تعالیٰ اسی سے تمہاری ادائیگی کا سامان مہیا کر دے گا۔ میں نے وہ سونا لے لیا، خداکی قسم جب اس کا وزن کیا توپورا چالیس اوقیہ تھا، اور اس طرح میں نے شفقتِ رسول کے طفیل غلامی سے رہائی پا ئی”۔

غلامی سے رہائی پا نے کے بعد، سلمان زیادہ سے زیادہ وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گزارتے۔ بڑے فخر سے اپنا تعا رف کرواتے : “میں سلمان ہوں، اسلام کا بیٹا، آدم علیہ السلام کی ذریت سے”۔واقعی سلمان کے واقعاتِ زندگی قر آنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کے ارشادِ مبارک(29:70)کے مطابق جو صداقت کا جویاں ہو ،اللہ تعالیٰ اس کا سینہ صداقت قبول کر نے کے لیے کھول دیتا ہے۔

سلمانؓ کا ارتقائے اخلاص و عشق اور جنگی خدمات

اسلام قبول کر نے کے بعد آ پ سلمان الفا رسیؓ کے نام سے پکا رے جانے لگے، زیادہ وقت عبا دات میں گزارتے ، محنت مزدوری کر کے گزر بسرکرتے۔ آپ نے چونتیس پینتیس سال مختلف مما لک کا سفر کیا ہوا تھا، اس لیے آپ کو مختلف قو موں کے کلچر، عادات اور جنگی علوم و فنوں سے آگا ہی حا صل تھی، ا ٓپؓ کا یہ تجربہ مسلما نوں کے بہت کام آیا۔ آپؓ جنگِ بدر میں غلام ہو نے کے با عث حصہ نہ لے سکے تھے ۔البتہ آ زاد ہو نے کے بعد سلمان ؓنے ہر لڑائی میں بھرپور حصہ لیا۔

آ پؓ د راز قد تنو مند مضبوط جسم کے مالک تھے، لڑائی میں دادِ شجاعت دیتے ، آپؓ کا وار دشمن سہ نہ سکتا تھا۔ نیز آپؓ نے خدا کے فضل سے ذہنِ رسا پا یا تھا۔ آ پؓ کو اسلا م کے دفاع میں طرح طرح کی تدابیر سو جھتی رہتی تھیں ، اس طرح آپؓ نے اسلام کے ابتدائی ایام میں بھر پور خدمت کی۔جس کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جا ر ہی ہیں:

جنگِ احزاب

جنگِ احزاب کے وقت مسلمان مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے فکر مند تھے۔ سلمان الفارسیؓ نے شہر کے گرد خندق کھودنے کی تجویز پیش کی جسے نبی کریم ﷺنے قبول فرمایا۔ ایران میں یہ دفاعی حربہ عام طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ دشمن کی فوج کے سپہ سا لار ابو سفیان کی تمام جنگی تدا بیر اس حربے نے نا کام بنا دیں، اور دشمن فوج مونہہ کی کھا کر بے نیل و مرام وا پس پلٹ گئی۔

غز وہ طائف

غز وہ طا ئف کے وقت سلمان ؓ کی بیدار مغزی مسلما نو ں کے کا م آئی، دشمن نے طائف کے گرد بڑی مضبو ط فصیل بنا چھوڑی تھی، جس کی بنا پریہ لوگ مسلمانوں کو نت نئے طر یقوں سے تنگ کرتے رہتے تھے۔ آخر جوا باً جب مسلما نوں نے طا ئف پر حملہ کیا تو طا ئف والے قلعہ بند ہو گئے۔محا صرہ لمبا ہوتا گیا مضبوط اور اونچی فصیل کے آگے مسلما نوں کی کچھ پیش نہیں جا ر ہی تھی ، بلآخر سلمانؓ کی تجویز پر غلیل کی طرز پر منجنیقیں (catapult) بنا ئی گئیں ، جن سے بر سا ئے ہو ئے بڑے بڑے پتھروں نے فصیل کوآناً فاناً پاش پاش کر دیا، ا و راس طرح سلمان ؓکی حسنِ تد بیر سے قلعہ چند دنوں میں فتح ہو گیا۔

فتحِ عراق و ایران

حضرت عمر ؓکی خلا فت کے دو ران سولہویں ہجری میں حضرت سلمانؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ دونوں عراق اور ایران کی مہم پر روانہ ہو ئے۔ عراق کی فتح کے بعد جب ایران کی طرف پیش قدمی کی تو را ستہ میں دریائے فرات سخت طغیا نی میں تھا۔اور ایرانیوں کو یقین تھا کہ عرب فوج دریا کبھی عبور نہ کر سکے گی، اس لیے ایرانی پرُ سکون اور مسلمانوں کی بے بسی کا تماشہ دیکھنے کے منتظر تھے۔

جب حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ نے بپھرے دریا کو سامنے دیکھا ، تو اپنی ایک خواب کی بنا پر یہ نعرہ لگاتے ہوئے اپنا گھوڑا پا نی میں ڈال دیا:ا للہ تعالیٰ ہمیں فتح یا ب کرے گا، اور خدا کے دشمن ہاریں گے! اس نعرے نے مسلمانوں میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔ حضرت وقاصؓ کی تتبع میں سلمانؓ نے نعرہ بلند کیا :

‘اسلام نے ہمیں خوشحا لی عطا کی ہے ، ہم اللہ کی مدد سے اس دریا کو اُسی آسانی سے عبور کریں گے ، جس آسا نی سے ہم صحرائوں کو عبور کر تے آئے ہیں، ا للہ کی قسم جس کے ہا تھ میں سلمان کی جان ہے! ہماری فوج جیسے اس کنا رے سے دریا میں اترے گی ویسے ہی دریا کے دوسرے کنارے سے دریا عبور کر کے نکلے گی ، ہما را ایک بھی آد می ضا ئع نہیں ہوگا!

اللہ ُ اکبر کا نعرہ بلند کر کے سلمانؓ نے بھی اپنی فوج کے ساتھ گھوڑے بے د ھڑک پا نی میں ڈال دیے۔ تا ریخ گواہ ہے کہ سوائے ایک پیا لے کے جو پا نی میں گر گیا تھامسلما نو ں کا اَور کو ئی نقصان نہ ہوا۔

اُدھر ایرا نی اپنی دانست میں مطمئن و شا داں تھے کہ مسلمان فو ج دریا عبور نہیں کر سکے گی اور تما شا دیکھنے کے منتظرتھے، مگر جب اسلامی فوج کو بے خوف و خطربپھرے ہوئے در یا کو عبور کرتے دیکھا توایرانی حواس با ختہ ہو کر قلعہ بند ہو گئے۔ قلعہ بندایرانیوںسے سفا رتی بات چیت کے لیے حضرت وقاصؓ نے سلمانؓ کو معمور کیا۔ آپؓ نے ایرانیوں کو مخا طب کر کے کہا:

“ایرانیو سنو!میں بھی تمہاری طرح نسلاً ایرانی ہوں۔ میں تمہارے ساتھ مہر با نی کا سلو ک کروں گا۔ تمہارےلیے تین شرائط ہیں:

1۔ اگر تم اسلام قبول کر لو تو تم ہما رے بھا ئی ہو، تمہارے بھی ہم جیسے حقوق ہو ںگے۔

2۔ دوسری صورت میں تم ہمیں جزیہ دو، ہم تم پر عدل و انصا ف سے حکو مت کر یں گے۔

3۔ تیسری صورت جنگ کی ہے، جس میں ہم دونوں کا نقصا ن ہو گا۔”

ایرانی آپس میں مشورہ کے بعدصلح پر تیار ہو گئے ، اس طرح سلمان کی حسنِ سفارت سے بغیر کسی قا بلِ ذکر لڑائی کے ایران فتح ہو گیا اور نبی کریم ﷺکی خندق کی کھدائی کے وقت کی ہو ئی ایرانی پیش گو ئی پوری ہوئی۔

(الطبری)

حضرت سلمانؓ کا صحا بہ کرامؓ میں مقام

غز وۂ احزاب کے وقت خندق کی کھدائی کے دوران ایک پتھر توڑ تے ہوئے حضو ر ﷺ نے سلمانؓ کو مخا طب کر کے آئندہ کے لیے عظیم الشان خوشخبریاں عطا فرما ئیں۔ اور حضرت سلمانؓ کو اپنے خاندان میں شا مل فرمایا۔ (بخاری)

حضرت سلمانؓ، حضرت صہیبؓ اور حضرت بلال ؓکی دل آزاری کر نے کو حضور ﷺ نے نا پسند فرمایا ۔ (مسلم)

حضور ﷺ نے سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر 4کی تشریح میں حضرت سلمانؓ کے شا نے پر ہا تھ رکھ کر آ خری زمانہ میں اسلام کی احیا میں کچھ ایرانی النسل لوگوں کی خدمات کی طرف اشارہ فرما یا ۔ (بخاری)

اوصافِ حمیدہ

حضرت سلمانؓ کی خداداد ذہا نت کا ذکر او پر گزر چکا ہے۔ سلمان تنو مند قد آور شخصیت کے حا مل تھے۔ آپؓ کے سر اور داڑھی کے با ل لمبے اور گھنے تھے۔ عربی کے الفاظ ذرا چبا چبا کر ادا کر تے۔ آپ صحا بہ ؓمیں سب سے زیادہ با علم تھے، یہ علم آپؓ نے سا لوں پر محیط مختلف مما لک میں قیا م کے دوران حاصل کیا تھا، اسی طرح آپ کو مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا، اور آپؓ کو اسلام کے علا وہ عیسا ئیت اور ا پنے آبا ئی مذہب آتش پرستی سے متعلق لٹریچر میں عبور حا صل تھا۔

آ نحضرت ﷺ کی زندگی کے دوران آپ نے قر آنِ کر یم کا تر جمہ فارسی زبان میں کیا جو کسی بدیسی زبان میںپہلا قرآنِ کریم کا ترجمہ خیال کیا جا تا ہے ۔ حضرت سلمانؓ کو صحابہ پیار سے ‘اچھے سلمان ’کے لقب سے پکار تے تھے۔حضرت علیؓ کہتے کہ آپؓ حضرت لقمان کی طرح عقل مند ہیں۔ کعب الا حبار کہتے ‘سلمان سمندر کی طرح علم سے پرُ ہے، جو کبھی بھی خشک نہیں ہوتا ’۔

سلمانؓ جہاں ایک ندڑ سپا ہی تھے وہاں منکسر مزاج ، صلح پسند مسلمان، جہاں کہیں فتنہ دیکھتے اس کے ازالہ کی کو شش کرتے۔ حضرت عمرؓ کے لبا س کے سلسلے میں جب لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوا ، تو فتنہ رفع کر نے کی خا طر آپؓ نے بھری محفل میں سوال کر کے فتنہ کا ازالہ کر دیا ۔

(بخاری)

مواخات

حضورﷺنےسلمانؓ اورابوالدردؓاکےدرمیان مواخات قا ئم فرمائی تھی۔ایک دفعہ جب سلمانؓ ابو الدردؓا کے ہاں مہمان ٹھہرے، انہوں نے دیکھا کہ ابو الدردؓا تقریباً ساری رات عبادت میں گزارتے ہیں، تو سلمان نے انہیں ایسا کرنے سے ایسے پرحکمت الفاظ میں منع کیا کہ جنہیں حضور ﷺ نے بھی پسند فرما یا۔ “ٹھیک ہے تیرے ر بّ کا تم پر حق ہے کہ تم اس کی عبا دت کرو، لیکن یا د رکھو تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے خاندان کا بھی تم پر حق ہے، تمہیں ہر ایک کا حق ادا کرنا چا ہیے’۔

(بخاری)

اسی طرح ایک بار ابوالدردا ؓنے سلمانؓ کو یہ لکھ کر مدعو کیا کہ ‘(مدینہ)متبرک شہر میں آؤ۔’ سلمان نے جواباً تحریر کیا ‘کوئی جگہ خودسے متبرک نہیں ہو تی ، بلکہ اُس جگہ کو وہاںرہنے والوں کے اعمال اسے متبرک بنا تے ہیں’۔

ابو الدرداؓ حکمت کا کام کر تے تھے ۔ اس بارے میں سلمان نے اُنہیں نصیحت کی ‘‘احتیاط کے ساتھ لوگوں کی بیماری کو مدّ نظر رکھ کر علا ج کر نا، اگر تم لو گوں کا علا ج دیا نتداری سے بیماری کو سمجھتے ہو ئے کرو گے، تو تمہیں بشارت ہو، وگرنا تمہارا ٹھکا نا جہنم ہو گا”۔(موطا)

سلمان ؓ بطور گورنر مدین

حضرت عمر فاروقؓ نے عراق فتح ہونے پر سلمان ؓکو عراق کا گور نر نامزد کیا اور آپؓ تیس ہزار فوج کے سپہ سا لا ر تھے۔آپؓ کو پا نچ ہزار درہم تنخواہ کے طور پر ملتے تھے جو آپؓ غریبوں میں تقسیم کر دیتے اور اپنا گزارہ محنت مزدوری کر کے کر تے، جس کے لیے معمو لی سے معمولی مز دوری کر نے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ۔ آپؓ اپنی اس طرح کی طرزِ زندگی پر معترض لو گوں کو جواب دیتے:‘میں اپنے ہا تھ سے کما ئے ہو ئے سے کھا نا پسند کر تا ہوں’۔

آپؓ ا نتہائی سا دہ لِباس پہنتے جو عام طور پر تین چادروں پر مشتمل ہو تا۔ ایک دن جب آپؓ با زار سے گزر رہے تھے، تو ایک مسا فر نے آپؓ کو مزدور سمجھ کر آ وا ز دی اور سامان اٹھانے کو کہا۔ آپؓ نے سامان اُٹھا کر اس کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ جب آ پؓ سا مان اُ ٹھا ئے ہو ئے گلیوں میں گزررہے تھے تو راستے میں لوگ کو آپؓ کو ادب سے سلام کر تے دیکھ کر مسا فربڑا حیران ہوا۔ آخر لوگوں سے پو چھا معا ملہ کیا ہے؟ جب اسے پتہ چلا کہ یہ مشہور صحا بی ٔرسول اور مدائن کے گور نر سلمان الفارسی ہیں۔ تو وہ بڑا پریشان ہوا اس نے بہت معذرت کی اور سامان کو وہیں رکھ دینے کی درخوا ست کی۔ مگر سلمانؓ نے کہا کہ وہ اسے منزل تک پہنچا کر ہی آئیں گے۔

سلمانؓ الفارسی کے اقوال

سلمانؓ کسی حد تک صوفی تھے۔ آپؓ کے اقوال میں تصوّف کی جھلک پا ئی جا تی ہے۔ سلمان اپنا زیادہ وقت یادِ الٰہی اور نماز میں گزارتے، جب تھک جاتے تو خدا تعا لیٰ کی صفات پر غورو فکر کر تے۔ وہ اپنے سے مخاطب ہو کر اکثر کہتے ، ‘‘اٹھو، تم نے اپنا آرام کا وقت گذار لیا ہے، اب اٹھو اور عبادت کرو”۔

سلمانؓ اکثردنیا کی بے ثبا تی اور لوگوں کی عقبہ سے بے پرواہی پر اپنی حیرت کا یوں اظہار کر تے :“لوگ اپنی ساری عمر دنیا کی چھو ٹی چھو ٹی منفعتوں کی خا طر خرچ کر دیتے ہیں، انہیں ذرہ بھر بھی موت کا خیال نہیں آتا جو اٹل ہے اور انہیں ایک دن دنیا سے اُچک کر لے جا ئیگی”۔

ایک دفعہ، جب سلمانؓ مسجدِ نبویؐ میں نمازِظہر کےلیے پہنچے تو اَور صحابہ بھی آذان کا انتظار کررہےتھے،وہ ایک دوسرے سے قبیلے کے متعلق سوال کرنے لگے ، ہر کو ئی اپنے اپنے قبیلے کا نام بتا تا جا تا :‘میرا تعلق تمیم قبیلے سے ہے ، میرا تعلق قریش ، الائوس وغیرہ وغیرہ سے ہے۔ سلمانؓ نے اپنی باری پر اپنے قبیلے کا تعارف یوں کروایا :

“میں اسلام کا بیٹا ہوں، میں گم ہو گیا تھا، اللہ نے میری راہ نمائی محمدﷺ تک کی، میں غریب تھا، اللہ نے محمدﷺ کے طفیل مجھے امیر کر دیا۔ میں غلام تھا ، اللہ نے محمد ﷺ کے طفیل آزادی کی نعمت سے نوازا، اب یہی میرا قبیلہ ہے’’۔ حاضرینِ مجلس سلمانؓ کے اس عالمانہ جوا ب پر حیران رہ گئے۔

سلمانؓ کی عا ئلی زند گی

آپؓ کی عا ئلی زندگی کے متعلق تا ریخ کسی قدر خاموش ہے، اگر چہ احا دیث میں آپؓ کے ایک بیٹے عبداللہ بن سلمان الفارسیؓ کا ذکر ملتا ہے، جو خود بھی جیّد صحا بؓہ میں سے تھے۔

وفات

حضرت سلمان الفارسیؓ بڑھا پے میں مدائن میں اپنے سادہ سے گھر کے سا منے ایک بڑے سا یہ دار درخت کے نیچے اپنی گزر بسر کے لیے کھجور کی پتیوں سے ٹو کریاں بیچنے کے لیے بنایا کر تے تھے، لو گ آپؓ کے گرد ا کٹھے رہتے ۔آپؓ اپنے محبوب آقا ﷺ کی خواہش کے مطا بق انہیں اپنے تلا شِ حق کے واقعات سناتے اور لو گوں کے ایمان کو تازہ کر تے۔

روایات کے مطا بق آپؓ کی وفات 80یا 88سال کی عمر میں مدائن ہی میں ہو ئی۔ یہ حضرت عثمان ؓکی خلا فت کا زما نہ تھا۔آپؓ کا مقبرہ عرفِ عام میں ‘سلمان پاک ’کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ جہاں ‘سلمان المحمدی’آ سودہ ٔخاک ہیں، جو اسلام کے جانثار سپوت تھے۔

ستم ظریفی ملا حظہ ہو، آپؓ کے مقبرہ کے قریب ہی ‘طاقِ کسریٰ ’کے آثار ہیں، وہی نو شیر واں شاہِ ایران کا محل جس کی دیواروں میں حضرت نبی ٔپا ک ﷺ کی ولا دتِ با سعا دت کے وقت درا ڑیں پڑ گئی تھیں۔ جو ایک طرح سے مسلما نوں کے ہاتھوں عراق کی فتح کی پیش گو ئی تھی۔

مشعلِ راہ

حضرت سلمانؓ کی زندگی مسلسل جہدو جہدسے عبا رت تھی ، اور خدائی وعدہ کے مطا بق:

“جو ہماری راہ میں کو شش کرتے ہیں ، ہم ان کی اپنی طرف راہ نمائی کر تے ہیں ’’۔ (29:70) آپؓ نے اپنے مقصدِ حیات کو پا لیا۔

حضرت سلمانؓ کاتعلق ایک صاحبِ حیثیت ایرانی خاندان سے تھا، آپؓ اپنی خاندانی حیثیت میں شاہِ ایران کے در بار میں اچھا عہدہ پا سکتے تھے۔ مگر آپؓ نے سچ کی تلاش میں سب نا ز و نعم ٹھکرا کر گھر بار چھوڑ دیا، غلامی کی زنجیریں قبول کیں،آخر سچا ئی کو پا لیا۔

رضی اللّٰہ عنہُ ورضو عنہُ۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close