متفرق مضامین

الرجی (قسط نمبر 4)

ہوا میں پائے جانے والے ذرات کی دوسری الرجی کی قسم کو oral allergy syndrom یا حساسیت کی علامات کہتے ہیں ۔اس میں مبتلا لوگ اگر ہوا میں پیدا ہونے والے ذرات کی الرجی کا شکار ہوتے ہیں جن میں گھاس کے پولن، درخت کے پولن اور ہاؤس ڈسٹ مائٹ شامل ہوتی ہے تو ان کو سبزیوں، پھلوں اور دوسری کئی چیزوں سے حساسیت ہو سکتی ہے۔ اس میں مریض کو خاص پھل یا سبزی کھانے سے ہونٹوں میں، منہ کے اندراُوپر تالو میں جلن کا احساس ہوتا ہے، خارش ہوتی ہے جو کان میں بھی ہو سکتی ہے ۔بعض دفعہ جلد پر دھپڑ یا لال داغ پڑ جاتے ہیں۔ جن میں جلن اور خارش ہو سکتی ہے۔ یہ علامات کچی سبزیاں یا پھل کھانے سے ہوتی ہے۔ جیسے پہلے بتایا گیا ہے اگر ان کو پکا لیا جائےتو یہ علامات پیدا نہیں ہوتیں۔ عام طور پر یہ علامات شدت سے نہیں ہوتیں۔ اگر کچھ مریضوں میں ایسا ہو تو ان کو ناک بند ہونا ،ناک سے رطوبت آنا، منہ میں چھالے پیدا ہونا اور الٹی آنا یا متلی ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں کو صرف ایک علامت ہوسکتی ہے یا بعض کو علامتوں کا جمگھٹ بھی ہوسکتا ہے۔

جیسے اگر کسی کو درختوں کے پولن کی شدید الرجی ہے تو اسے حساسیت کا یہ اثرCross Reactivity بادام، کیوی، سیب ، کیلے،آم، ٹماٹر اور چند دوسرے پھلوں اور سبزیوں سے علامات پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح گھاس ،کیوی، ٹماٹر، مونگ پھلی ،خربوزہ ،تربوز اور گندم سے حساسیت ہوسکتی ہے۔ اگر کسی کوLatex یا پلاسٹر کی الرجی ہو ،اس کو ربڑ سےالرجی ہو سکتی ہے ۔کیونکہ یہ ربڑ سے بنتا ہے ، جو درخت سے آتا ہے۔ اس شخص کو الاسٹک سے ، میڈیکل میں استعمال ہونے والے آلات سے، دستانوں کے علاوہ گاجر ، کیلے اور سیب سے بھی الرجی ہو سکتی ہے ۔

جن کو ہائوس ڈسٹ مائیٹ کی الرجی ہوتی ہے ۔ ان کو گندم سے حساسیت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس حساسیت کا علاج پھلوں اور سبزیوں جن سے حساسیت ہے، پکا کر استعمال کرنا یا ان کے استعمال سے گریز کرنا ضروری ہے ۔بعض لوگوں کو حساسیت ہوتی ہے لیکن انہیں اپنی اصل الرجی کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس صورت میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریںاور الرجی کا، جلد کا اور جہاں ضروری ہو خون کا ٹیسٹ کروائیں ۔جب تشخیص ہو جائے تو ڈاکٹر سے علاج کروائیں۔ یہ تکلیف بعض اوقات بالکل معمولی ہوتی ہے مگر اس کو نظر انداز نہ کریں۔

ہوا سے پیدا ہونے والی یا ہوا میں پیدا ہونے والے بے ضررذرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی علامات وعلاج کے بارے میں بات کرنے کے بعد اب ہم روز مرہ پیدا ہونے والی بیماری نزلہ، زکام یا کولڈ اور فلو کے بارے میں بات کریں گے۔یہ کافی عام بیماریاں ہیں ۔اپنی علامات کے لحاظ سے تقریباًایک جیسی ہیں۔ مگر کوئی بیماری زیادہ طاقت سے اور کوئی کم طاقت سے انسان پر حملہ کرتیں ہیں۔ عام طور پر یہ بیماریاں دو موسموں کےدرمیان یعنی ایک موسم کے ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے پر انسان پر اثر انداز ہوتیں ہیں۔اس کی شدت دونوں موسموں کے ملنے کے تضاد اور انسان کے اندر پائی جانے والی کمزوری پر ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ بیماری جسے کولڈ (COLD)کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے ۔گلے میں خارش سے شروع ہوتی ہے۔ چھینکیں آتی ہیں۔ خشک کھانسی ہوتی ہے۔ ناک بہتا ہے۔ ناک بند ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ذائقہ اور خوشبو کی حس کم ہوتی محسوس ہوتی ہے ۔تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔سر دُکھتا ہے۔ بخار بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں کو یہ بخار پریشان کن حد تک تیز بھی ہو سکتا ہے۔ وائرس سے پیدا ہونے والی یہ علامات عام طور پر 48 سے 72 گھنٹے میں ٹھیک ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔مگر آپ کو بخار اور تھکاوٹ کے لیے علامتی علاج مثلاً پیراسیٹامول وغیرہ لے لینا چاہیے ۔نیم گرم پانی میں چٹکی بھر نمک ڈال کر غرارے کرنے سے بھی گلے کو سکون ملتا ہے۔ بیماری کے آغاز میں ہی غرارے صبح شام کرنے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ وضو میں جس طرح ناک میں پانی ڈالتے ہیں اس طرح نمک ملے پانے سے ناک کی صفائی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ پانی تقریباً دو لیٹر تک پئیں یعنی پیاس محسوس ہونے پر چائے پی کر گزارا نہ کریں ۔سادہ پانی پئیں، آرام کریں، اور اگر صحت اجازت دیتی ہو تو بکرے کے گوشت کی یخنی لیں ۔یہ سب آپ کو جلد صحت یابی عطا کرتا ہے۔

ہفتہ بھر میں اگر آپ کے علامات ٹھیک نہ ہو ںبلکہ کھانسی کے ساتھ بلغم شروع ہوجائے ،جس کا رنگ پیلا یا ہرا ہو، سانس لینے میں دشواری ہو تو جلد اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ کیونکہ اب آپ کا وائرل انفیکشن، بیکٹیریا کا انفیکشن بن گیا ہے جو کہ خود بخود جلد ٹھیک نہیں ہوتا جیسے کہ وائرس انفیکشن ٹھیک ہو جاتا ہےجس کے لیے آپ کو اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یاد رہے کہ اگر غیر ضروری طور پر اینٹی بائیوٹکس لی جائیں تو وہ جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ کیونکہ وہ آپ کے جسم کے اچھے جراثیم جو آپ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور ہمیں دوسرے انفیکشن سے بچاتے ہیں ان کو ماردیتے ہیں۔ اس عمل کے بد اثرات پیدا ہوتے ہیں جیسے پیٹ کا خراب ہونا، معدے کا درد، جسم سے زیادہ مقدار میں پانی نکل جانا، جسم کی قوت مدافعت کم ہونا وغیرہ۔ بہت سے لوگ گھروں میں پڑی ہوئی اینٹی بائیوٹک خود ہی کھا کر اپنا علاج کرنا چاہتے ہیں اور اگر اس دوائی کے استعمال کرنے کی تاریخ گزر چکی ہو تو اس کی پروا نہیں کرتے ۔اور سمجھتے ہیں کہ کچھ تو اثر ہو گا۔ ان کو جاننا چاہیےکہ ان دوائیوں میں بہت مختلف قسم کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو ان کا کیمیائی ڈھانچہ تبدیل کر دیتی ہیں۔ اور وہ بہت زیادہ نقصان کا باعث ہوسکتی ہیں۔

فلو بھی وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے ۔مگر یہ شدت سے حملہ آور ہوتی ہے ۔اس وائرس کی بہت سی قسمیں ہیں ۔یہ وائرس اپنی انسانوں کو انفیکشن دینے کی طاقت اپنی Mutationاور شکل بدلنے سے کم یا بڑھاتے رہتے ہیں ۔اس لیے یاد رکھیںکہ اگر آپ کو ایک دفعہ فلو ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ کو دوبارہ نہ ہو۔ عام طور پر انسانوں کے لیےH3N2 اور H1N1اور انفلوائزا A+Bبیماری کا باعث ہوتے ہیں ۔یہ متعدی بیماری ہے یعنی آسانی سے ایک انسان سے دوسرے کو لگ جاتے ہیں۔ اور گندے ہاتھوں،چھینکوں، کھانسی اور ناک کی رطوبتوں کے ذریعہ دوسرے انسان کے سانس سے اس کے جسم کے اندر داخل ہو کر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ بعض حالات میں تو جانوروں کےفلو کے جراثیم انسانوں میں بھی بیماری پھیلاتے ہیں اور مشکل حالات پیدا کرتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے سوائن فلو کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر موسم میں ہر ساتواں شخص فلو کا شکار ہوتا ہے اور اسکول جانے والے بچوں کا تیسرا حصہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے ۔

اس بیماری میں تیز بخار ہوتا ہے۔ شروع میں خشک آواز دار کھانسی ہوتی ہے ۔گلا خراب ہوتا ہے ۔جسم کانپتا ہے۔ جسم میں بہت درد ہوتا ہے۔ سر درد ہوتا ہے۔ تھکاوٹ اور کمزوری کا بہت احساس ہوتا ہے۔ ایک شخص کو کچھ یا ساری علامتیں ایک وقت میں ہو سکتیں ہیں اور یہ بہت آہستہ ٹھیک ہوتیں ہیں۔کہ مریض ٹھیک ہونے میں چار ہفتے تک لے سکتا ہے جس کا انحصار جسم کے اندر مدافعتی طاقت میں ہے۔

موسموں کے بدلنے پر اپنا اور خاص کر اپنے پر انحصار کرنے والے لوگوں کا بہت خیال رکھیں مثلاً بچے، والدین اور آپ کے دیگر رشتہ دار وغیرہ۔ سولہ سال سے کم اور پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔اگر آپ پر انحصار کرنے والے لمبی بیماری جیسے ذیابیطس، بلڈپریشر اور کسی دوسری بیماری کا شکار ہیں تو ان کو خاص توجہ دیں اور جہاں ضرورت ہو ڈاکٹر سے مشورہ بھی لیں۔ بظاہر بے ضرر سمجھی جانے والی بیماریاں آپ کے توجہ نہ دینے پرپیچیدگی کا شکار کرسکتیں ہیں ۔
بہت سے لوگ اگر اُن کو چھینک آئے تو روک لیتے ہیں ،یہ بیماری بڑھنے کا باعث بنتا ہے۔ جب چھینک یا کھانسی کریں ٹشو پر کریں اور اس کو فوراً کوڑے کے ڈرم میں پھینکیں ۔اپنی جیب میں بالکل نہ رکھیں۔ یہ وائرس کچھ عرصہ بعد اپنی ہیئت بدل کر آپ پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ کپڑے والے رومال کو اگر استعمال کریں تو اس کو جلد بدلیں اور چھینکوں کے ایک دور کے بعد دھوئیں ۔ استعمال کے بعد اسے ساتھ نہ رکھیں۔ ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور خشک کریں۔ پانی زیادہ پئیںکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وائرس ہمارے جسم کی رطوبتوں اور پیشاب کے ذریعہ نکلتا ہے ۔گھر میں بیٹھ کر بیماری کے ٹھیک ہونے کا انتظار نہ کریں کہ ایک کمرے میں بند بیٹھے رہیں اور اسی کمرے کو گرم رکھیں ۔بلکہ گرم کپڑے جیسے سویٹر ، بنیان ، قمیص ،کوٹ وغیرہ پہنیںتا کہ گرم ہوا کپڑوں میں اکٹھی رہے اور آپ گرم رہیں۔ اور اگر آپ کوٹ اتار بھی دیں تو جسم کے درجہ حرارت کو فرق نہ پڑے۔ پورے گھر کو گرم رکھیں اپنے آپ کو فعال رکھیں ۔گھر کی کھڑکیاں دروازے بند رکھیں مگر جہاں آپ کپڑے سکھاتے ہیں اس کمرے کو دن میں ضرور ہوا لگوائیں ورنہ وہاں فنگس ہو جائے گی ۔اور اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر فنگس جیسے بعض دفعہ کھڑکیوں کے کونوں پر کالی لائن سی ہوتی ہے اسے بلیچ سے صاف کریں۔ اگر یہ چھت پر ہے تو پروفشنل مدد لے کر اس کو صاف کرائیں ۔آرام بھی کریں۔ گھر کے پکے تازہ کھانے کھائیں ۔شہد کا استعمال کریں ۔بخار دور کرنے والی دوائیں جیسے پیراسیٹا مول ہے لیں۔ ایسپرین بھی لے سکتے ہیں ۔مگر دمہ کے مریض کو ایسپرین اور اس کی طرح کی اور دوائیاں نہیں لینی چاہیے۔ کیونکہ ان کو دمہ کا اٹیک ہو سکتا ہے اور پیٹ میں بھی تکلیف ہو سکتی ہے۔ یخنی اور تازہ پھلوں کا رس بھی بہت فائدہ دیتا ہے۔ چھوٹے بچوں، بوڑھوں یا لمبی بیماری کے مریضوں کو فلو کی ویکسین لگانے کا بہت زور دیا جاتا ہے اور ریسرچ سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ تقریبا 80؍ فیصد لوگوں کو فلو کے خلاف قوت مدافعت دیتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ لگوانے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ چند فیصد لوگوں کو ٹیکہ لگنے سے بھی ہلکی قسم کا فلوہو سکتا ہے ۔مگر ہر شخص پر اس ٹیکے کا ری ایکشن مختلف ہوتا ہے۔

صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ صحت مند رہیں، صحت مند رہ کر انسانیت کی خدمت کریں۔ اپنے اچھے اعمال سے متحرک ہو ں۔ خدا تعالی ہمیں بیماروں کو صحت دینے والا بنائے ۔آپ خود اور اپنوں پر انحصار کرنے والوں کی صحت اور حفاظت کا فرض پورا کرنے والے ہوں۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button