افریقہ

مجلس خدام الاحمدیہ تنزانیہ کے نیشنل اجتماع2019ء کا انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس خدام الاحمدیہ تنزانیہ کو مورخہ 14تا 16جون 2019ء اپنا نیشنل اجتماع منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔ یہ سہ روزہ اجتماع Kitonga میں قائم جلسہ گاہ میں منعقد ہوا ۔اجتماع کی مجموعی حاضری 500رہی۔ تینوں دن رہائش اور خوراک کا انتظام جلسہ گاہ میں ہی کیا گیا۔ انتظامات کے سلسلے میں خدام نے بڑی محنت سے وقارِ عمل کے ذریعہ پورے احاطہ کی صفائی اورتزئین و آرائش کی ۔

اجتماع کا آغاز بروز جمعۃ المبارک ہوا ۔ حاضرین نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ سُنا ۔ تنزانیہ کا وقت GMTوقت سے تین گھنٹے آگے ہے۔اس کے بعد صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ تنزانیہ مکرم رمضان حسن Naujaصاحب نے تمام شاملین کا استقبال کیا اور اجتماع کے مقاصد کی طر ف توجہ دلائی۔ امسال مجلس خدام الاحمدیہ تنزانیہ کی انتہائی خوش نصیبی تھی کہ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہِ شفقت اجتماع کا مرکزی عنوان ’’عبادت‘‘ رکھا اور خدام و اطفال تنزانیہ کے نام انگریزی زبان میں اپنا خصوصی پیغام بھی بھجوایا۔اس پیغام کا اردو ترجمہ ہدیۂ قارئین ہے۔

مکرم صد رخدام الاحمدیہ تنزانیہ تقریر کرتے ہوئے

مجلس خدام الاحمدیہ تنزانیہ کے
سالانہ اجتماع 2019ءکےلیے پیغام

میرے پیارےاورحضرت مسیح موعود ؑکے روحانی فرزندو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکثر ممالک میں جہاں جماعت احمدیہ مستحکم ہے وہاں مجلس خدام الاحمدیہ اور دوسری ذیلی تنظیموں کا بھی قیام ہو چکا ہے۔اور ذیلی تنظیموں کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر عمر کے احمدیوں کی اخلاقی، دینی اور روحانی تربیت کی طرف خاص توجہ دی جائے۔ذیلی تنظیموں کو اس لیے قائم کیا گیا ہےتاکہ ممبران جماعت کو اپنے دین کی طرف قریب لایا جائے اور انہیں ان کی انفرادی ذمہ داریاں سمجھائی جائیں۔نیز ممبران جماعت کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے دنیاوی امور کی انجام دہی اورضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے رہنمائی کرنا بھی ذیلی تنظیموں کے کاموں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ذیلی تنظیموں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ دین کی خدمت اور ملک و قوم دونوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دلائیں اور یہ خدمت اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہونی چاہیے۔
سب سے بنیادی عہد جو ہر مسلمان کرتا ہے وہ ’’کلمہ‘‘ ہے۔ یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ و سلم )اللہ کے رسول ہیں۔ یہ وہ بنیادی الفاظ ہیں جن پر اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہے۔اور ہماری ذیلی تنظیموں کے عہدوں میں جن میں آپ کے خدام الاحمدیہ کا عہد بھی شامل ہے ان سب کا آغاز ایمان کے اس اقرار سے ہوتا ہے۔پس سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچنے والے ہر خادم اور ہر طفل کو لازماً سنجیدگی کے ساتھ اس عہد کے معانی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

اور اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کلمہ کا پہلا حصّہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس سب سے بنیادی اور اوّلین اصول جس کے مطابق ہر مسلمان مرد اور عورت کو اپنی زندگی لازما ً بسر کرنی چاہیے وہ توحید ہے۔یعنی اس کامل ایمان اوریقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ لیکن یہ بات کافی نہیں کہ ان الفاظ کا صرف زبانی اقرار کیا جائے بلکہ اس اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ذریعہ سے اپنےایمان کا اظہار ہونا چاہیے۔اور سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور اعلیٰ ترین عبادت نماز ہے یعنی صلوٰۃ۔قرآن کریم کے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم پنجوقتہ فرض نمازیں ادا کریں۔ پس اگر ہم نمازوں کی ادائیگی میں سُست ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہمارا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اقرار بے فائدہ ہے،کسی اہمیت کا حامل نہیں اور جھوٹا اقرار ہے۔نہایت خوبصورتی اور حکمت سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اس نکتہ کی وضاحت فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی محبوب و مطلوب اور مقصود نہیں ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ہے کہ جب انسان کی خدا تعالیٰ سے ایسی حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرنے ولا ہو، تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اس پر اس کے ایمان میں آگئی ہے۔ تب وہ اس بات کا دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کا اقرار سچا ہے اور جھوٹ پر مبنی نہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 59۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )

آپؑ نے تعلیم دی کہ سچا مسلمان وہی ہے جس کا دل اور روح خدا تعالیٰ کی محبت سے مخمور ہے اور وہ اس ایمان میں رچا ہوا ہے کہ اللہ کےسوا اَور کوئی معبود نہیں۔پس اس معیار کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ انسان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اقرار صرف سطحی اور اس کے الفاظ کھوکھلے ہیں۔

کلمہ کا دوسرا حصہ اس پختہ ایمان کا متقاضی ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ یعنی محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ کلمہ کا جو دوسرا جزو ہے وہ نمونہ کے لیے ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تمام بنی نوع انسان کے لیے بہترین نمونہ ہیں کیونکہ آپؐ خدا تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری میں کامل انسان تھے۔ یقیناً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم عظیم اخلاق کے مالک تھے اور تمام انسانیت کے لیے اسوہ ٔ حسنہ یعنی بہترین نمونہ تھے۔پس ہر احمدی مسلمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک نمونہ کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارے نَوجوانوں کو لازماً یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ وہ سنہری کنجی ہے جس سے ہم کامیابی کے دروازے کھول سکتے ہیں ۔اور ہم اسی ایک امید پر قائم ہیں کہ اسلام کی اصل حقیقت دنیا کے لوگوں پر ظاہر کرنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔

آج کل کی دنیا میں لوگ دین کو چھوڑ کر اپنی ذاتیات کو اس حد تک ترجیح دیتے ہیں کہ انہیں اپنے خالق سے پیار اور محبت کا اظہار کرنے کا احساس ہی نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہی اس کے حقوق ادا کرنے کا ۔ ہم میں سے بھی بعض کو دنیاوی مال اور دنیاوی کامیابی حاصل کرنے کا اتنا جنون ہے کہ وہ مقررہ وقت پر نماز ادا کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔یا اپنی فیملی کے معاملات میں اتنے مصروف ہیں کہ وہ اپنے اوّلین فرض کو یعنی خدا تعالیٰ سے پیار کرنے اور اس کی عبادت کرنے کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔یہ طرز عمل ایک حقیقی اور سچّے مسلمان کا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے پیار کو ہر چیز پر بالا رکھیں گے تب ہی ہم انصاف کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ ہم اپنے ایمان کو فوقیت دے رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔

اللہ کرے کہ ہم اپنے طرزِ عمل سے دنیا کو اس بات پر قائل کرنے والے ہوں کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو پیار کے پُل بنانا چاہتے ہیں اور جو معاشرے کی ہر سطح پر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں۔اللہ کرے کہ ہم اپنے عملی نمونہ سے یہ ظاہر کرنے والے ہوں کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو ہر بدامنی اور ہر تنازعہ کو دنیا سے ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عظیم مقصد کو پورا کرنے والے ہوں، اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والے ہوں اور دنیا کے ہر حصہ میں اسے پھیلانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ پوری دنیا میںمجلس خدام الاحمدیہ کو مسلسل برکت دیتا چلا جائے اور ہر لحاظ سےدنیا میں تمام خدام کو برکات سے نوازے۔ آمین۔

والسلام
(دستخط)مرزا مسرور احمد
خلیفۃ المسیح الخامس

……………………………………………………………………………

اسی پیغام کی مناسبت سے سٹیج ڈیزائن کیا گیا اور اجتماع کے تینوں دن یہ پیغام مع سواحیلی ترجمہ حاضرین کو پڑھ کر سنایا جاتا رہا۔

مسابقت کی روح قائم رکھنے کی خاطر خدام اور اطفال (معیار صغیر و کبیر)کےمتعدد علمی اور ورزشی مقابلہ جات کروائے گئے۔ خدام کے علمی مقابلہ جات جلسہ گاہ میں جبکہ اطفال کے لیے قریبی مسجد میں انتظام کیا گیا تھا۔جلسہ گاہ کے احاطہ سے منسلکہ گراؤنڈز میں ورزشی مقابلہ جات کا اہتمام کیا گیا۔ تمام مقابلہ جات میں شاملین نے خوب تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔

شاملین اجتماع

اجتماع کے تینوں دن بیداری اور باجماعت نماز تہجد کا انتظام کیا گیا ۔ نماز فجر کے معاً بعد درس القرآن ہوا۔ اس کے بعد خدام مل کر سیر اور معمولی ورز ش میں شامل ہوتے رہے۔ مختلف شعبہ جات میں خدام کی ڈیوٹیاں لگائی گئیںاور انہیں مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ پہلے دن شام کے وقت مجلس انصار سلطان القلم کے ممبران کی میٹنگ ہوئی۔ دوسرے دن مختلف علاقوں کے عہدیداران کا اجلاس ہوا اور شعبہ خدمت خلق کے تحت خدام نے 50 یونٹ خون کا عطیہ دیا ۔ مکرم موسیٰ عیسیٰ مشعری صاحب (مبلغ سلسلہ) نے خدام اور اطفال کو ’’خلافت احمدیہ سے تعلق‘‘ کے عنوان پر تربیتی لیکچر دیا۔ مکرم مہتمم صاحب مال نےجماعتی اور تنظیمی چندہ جات کا تعارف پیش کیا اور مکرم مہتمم صاحب اُمور طلباء نے ’’جسمانی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اسی طرح مکرم صدر صاحب مجلس نے خدام الاحمدیہ کی طرف سے رواں سال میں ہونے والی مساعی کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ اجتماع کے موقع پر رواں سال میں ہونے والے پروگرامز کی ایک تصویر ی نمائش کا بھی انتظام کیا گیا جسے شاملین نے خوب سراہا۔ اس نمائش کا ایک حصہ جماعتی کتب پر مشتمل تھا۔ مکرم صدر صاحب خدام الاحمدیہ یوگنڈا کے نمائندہ بھی بطور مہمان اس اجتماع میں شامل تھے۔

اجتماع کے تیسرے دن دوپہر کو اختتامی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تلاوت اور نظم کے بعد مکرم صدر صاحب مجلس نے رپورٹ پڑھ کر سنائی ۔ انہوں نے بتایا کہ گو امسال اجتماع کی حاضری گزشتہ سالوں سے زیادہ ہے تاہم جن دور دراز علاقوں سے خدام کا دارِسلام حاضر ہونا مشکل ہے ان کے لیے اگلے ماہ قریبی جگہوں پر ریجنل اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ مہمان خصوصی مکرم طاہر محمود چوہدری صاحب (امیر و مشنری انچارج تنزانیہ )نے اعزاز حاصل کرنے والے خدام اور اطفال میں انعامات تقسیم کیے ۔ آپ نے اجتماع میں شامل ہونے والوں کو مبارک باد دی اور اس امر پر زور دیا کہ خدام اپنے تربیتی اور علمی معیار کو بڑھائیں ۔

MTA تنزانیہ کی ٹیم نے تمام پروگرامز کی ریکارڈنگ کی۔ ملک کے بڑے ٹی وی چینل ITV نے اجتماع کی کوریج کی اور نوجوانوں کی صحت افزا سرگرمیوں کے بارہ میں خبر بھی نشر کی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس اجتماع کے بابرکت ثمرات پیدا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ:شہاب احمد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل تنزانیہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button