مصروفیات حضور انور

حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات مورخہ 20؍ تا 23؍ جون 2019ء

مورخہ20؍ تا 23؍ جون 2019ءکے دوران حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيزکي گوناگوں مصروفيات کے علاوہ ديگر امورکي ايک جھلک ہديۂ قارئين ہے:

٭…21؍ جون بروز جمعۃ المبارک: حضورِ انور ايدہ اللہ تعاليٰ نے مسجد مبارک ،اسلام آباد ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو ايم ٹي اے کے مواصلاتي رابطوں نيز يو ٹيوب اور ديگر ميڈيا پليٹ فارمز کے ذريعہ ساري دنيا ميں سنا اور ديکھا گيا۔حضور انور نے اپنے خطبہ جمعہ ميں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ فرمايا ۔ نیز محترمہ مریم سلمان گُل (بنت مکرم مبارک صدیقی صاحب) کی وفات پر ان کا ذکر خیر فرمایا اور بعد نماز جمعہ ان کی نمازِ جنازہ (حاضر)پڑھائی۔

٭…22؍ جون بروز ہفتہ:حضورِانور نے مسجد مبارک اسلام آباد ميں نمازِ عصر پڑھانے کے بعددرج ذيل 2؍ نکاحوں کا اعلان فرمايا اوران نکاحوں کے بابرکت ہونے کے ليے دعا کروائي۔ نيز فريقَين کو شرف مصافحہ بخشا اور مبارک باد دي:

٭…عزیزہ اقصیٰ ملک بنت مکرم محمد صدیق ملک صاحب (امریکہ) ہمراہ مکرم شفاعت سالک صاحب ابن مکرم سعادت احمد سالک صاحب (امریکہ)

٭…عزیزہ بشریٰ خاں (واقفہ ٔنو) بنت مکرم چوہدری کولمبس خاں صاحب (جرمنی) ہمراہ مکرم شہزاد وسیم صاحب ابن مکرم شیخ وسیم الدین صاحب (بہاولنگر)

٭…آج شام حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فیملی ملاقاتوں کے بعد مسجد مبارک اور ملٹی پرپز ہال کے درمیانی حصےمیں تشریف لے گئے جہاں مسرور انٹرنیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی 22؍ ٹیموں نیز اس ٹورنامنٹ کی انتظامیہ کی تصاویر حضورِ انور کی معیت میں ہونا طَے پائی تھیں۔ حضورِ انور کے رونق افروز ہونے پر تصاویر ہوئیں جس کے بعد رات ساڑھے آٹھ بجے کے کچھ بعد حضورِ انور ملٹی پرپز ہال میں رونق افروز ہوئے۔ حضورِ انور کے وہاں تشریف لے جانے پر محترم شیخ شوکت علی صاحب آف جرمنی نے (جو جرمنی کی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے ساتھ آئے تھے) فرطِ جذبات میں آ کر ’نعرۂ تکبیر‘ بلند کیا جس کا حاضرین نے پُر جوش انداز میں ’اللہ اکبر‘ کہہ کر جواب دیا۔ یہ حضورِ انور کی موجودگی میں اس ملٹی پرپز ہال میں لگایا جانے والا پہلا نعرہ تھا۔

تمام ٹیمیں نیز مہمانان کرام حضورِ انور کی معیت میں عشائیہ سے لطف اندوز ہوئے۔ حضورِ انور ساڑھے نَو بجے سے کچھ قبل اپنی رہائش گاہ واپس تشریف لے گئے اور پھر کچھ دیر بعد نماز کے لیے تشریف لائے اور نمازِ مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔

٭…23؍ جون بروز اتوار: آج دیگر دفتری ملاقاتوں کے علاوہ Mr Julian Hülsemann کی حضور انور سے ملاقات تھی۔ موصوف جرمنی سے مکرم سیّد سلمان شاہ صاحب (مربی سلسلہ) اور مکرم سلیمان عارف صاحب کے توسط سے تشریف لائے تھے۔ موصوف جرمنی میں پراجیکٹ co-ordinator اور سوشل ورکر ہیں۔ ان کو جماعت سے تعارف تو پہلے سے تھا کیونکہ یہ جماعتی پروگرامز میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے حضور انور سے ملنے اور پیس کانفرنس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ پیس کانفرنس میں کسی مجبوری کی بنا پر یہ شامل نہیں ہوسکے ۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں حضور انور سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک

انہوں نے اپنی ملاقات میں حضور انور سے مختلف امور کی بابت رہنمائی حاصل کی۔ موصوف نے دریافت کیا کہ مختلف قوموں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متحد کرنے کا کیا طریقہ کار ہوسکتاہے؟ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ لوگوں کو اکٹھا کریں تو ہم ہر قوم کے لوگوں کے ساتھ گفت و شنید کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح موصوف نے یورپ کے مستقبل کے بارے میں حضور انور کی رائے دریافت کی جس پر حضور نے اپنی مفید مشوروں سے نوازا۔ حضور انور نے فرمایا کہ جرمنی کا یورپ میں بہت اہم کردار ہے۔ جرمنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔
Mr Julian Hülsemann نے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس ملاقات سے بہت خوشی محسوس ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو حضور انور کی باتوں کی گہرائی کو مکمل طور پر سمجھنے میں شاید کچھ وقت لگے۔ آپ حضور انور کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے خصوصاً اس بات سے کہ اتنی بڑی شخصیت مختلف اقوام کے ساتھ گفت و شنید کرنے کے لیے تیار ہے۔

ملاقات حضورِ انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز

مورخہ 17؍ تا 23؍ جون کے دوران حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے پانچ روز دفتري جبکہ چھے روز ذاتي ملاقاتيں فرمائيں۔ متعدد افسرانِ صيغہ جات، ذيلي تنظيموں کے صدور ، مربيانِ سلسلہ اور ديگر احباب نے حضورِ انور سے اپني دفتري ملاقاتوں ميں ہدايات اور رہنمائي حاصل کي۔

اس عرصہ کے دوران105؍ فيمليز اور61؍ احباب نے انفرادي طور پرحضورِ انور سے ملاقات کي سعادت حاصل کی۔ اپنے آقا سے ملاقات کے ليے حاضر ہونے والے ان احبابِ جماعت کا تعلق 16؍ ممالک سے تھا جن ميں امریکہ، کینیڈا،آسٹریلیا، نائیجر، جرمنی، فِن لینڈ، یونان، سویڈن، ڈنمارک، ناروے، بیلجیم، فرانس، آئرلینڈ، آئس لینڈ،پاکستان اور یوکے شامل ہیں۔

اَللّٰھُمَّ أَيِّدْ اِمَامَنَا بِرُوْحِ الْقُدُسِ
وکُنْ مَعَہٗ حَيْثُ مَا کَانَ وَانْصُرہُ نَصْرًا عَزِيْزًا

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button