افریقہ

مغربی افریقہ کے ملک مالی میں مرکزی مسجد ’’مبارک‘‘ اور مشن ہاؤس کی تعمیر

اللہ تعالیٰ کے جماعت احمدیہ پر بے شمار فضلوں میں سے ایک فضل یہ ہے کہ جماعت احمدیہ دنیا کے ہر کونے میں تعلیم وتربیت اور تبلیغ کے لیے خلافت کے زیر سایہ مساجد کی تعمیر کی تو فیق پا رہی ہے ۔ یہ مساجد جہاں خداتعالیٰ کی عبادت کو قائم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں وہاں دنیا کو امن و آشتی کا پیغام بھی پہنچاتی ہیں اور تعلیم و تربیت کا ذریعہ بھی ہیں ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ میں بیان فرماتے ہیں:

’’جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے رہا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں، ہر شہر میں مسجدوں کی تعمیر کریں۔ افریقہ کے غریب ممالک کے دور دراز کے علاقوں کے چھوٹے چھوٹے گاؤںاور قصبوں میں بھی مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور بڑے شہروں میں بھی مساجد بن رہی ہیں۔ اسی طرح یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد تعمیر ہو رہیں۔ ہر جگہ جماعت بڑی قربانیاں کر کے مسجدیں بنا رہی ہے۔ جماعت احمدیہ کے پاس نہ تو تیل کی دولت ہے، نہ کسی اَور ذریعہ سے ہم دولت جمع کرتے ہیں،ہاںایمان کی دولت ہے جس کی وجہ سے احمدی قربانی کرتے ہیں۔ پس آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس دولت کی ہمیشہ حفاظت کرنی ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 25اپریل، 2008ء فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

انہی مساجد میں سے ایک وسیع اور خوبصورت مسجد جماعت احمدیہ کوافریقہ کے ایک دوردراز اور غریب ملک مالی کے دارالحکومت باماکو میں تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔ مسجد کے ساتھ اللہ کے فضل سے مرکزی مشن ہاؤس کی تین منزلہ عمارت ،دفاتر اور رہائش کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کا نام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت ’’مسجد مبارک‘‘ عطا فرمایا ہے۔ اس مسجد کی تفصیل سے قبل مالی میں جماعت احمدیہ کے آغاز اورخلافت احمدیہ کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ کے مالی کی جماعت پر فضلوں کی مختصر جھلک پیش ہے۔

خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کوالہاماً خبر دی تھی کہ

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا‘‘

آج دنیا میں بسنے والا ہر احمدی اس بات کا گواہ ہے کہ یہ خدائی الفاظ حرف بحرف پورے ہو چکے ہیں اور آج جماعت احمدیہ کا جھنڈا اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 210سے زائد ممالک میں بڑی آب و تا ب سے لہرا رہا ہے انہی ملکو ں میں سے اللہ کے فضل سے مغربی افریقہ کا یہ ملک مالی ہے ۔اور دنیا کے اس خطہء میں احمدیت کا نفوز بھی حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا ایک ثبوت ہے ۔

اللہ تعا لیٰ کی ان بے شمار تائیدات اور پیش خبریوں کے ذریعہ مالی میں جماعت احمدیہ کا آغا ز مکرم عمر معاذ صاحب کی بیعت سے ہوا جنہیں 1981ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی ۔ آپ کومالی کے پہلے احمدی ہونے کے ساتھ پہلے مبلغ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مکر م عمر معاذصاحب کی بیعت سے لے کر آج تک اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تر قیات کا سلسلہ جاری ہے۔ اور جماعت احمدیہ مالی پر چڑھنے والا ہر دن اللہ تعا لیٰ کی تائیدات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

1987ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مکرم عمر معاذ صاحب کی تقرری جامعہ احمدیہ پاس کرنے کے بعدبطور مبلغ سلسلہ مالی فرمائی اور اس کے ساتھ ہی جماعت احمدیہ کی ترقی کے نئے باب کا آغاز ہوا اور اللہ کے فضل سے چند سالوں میں ہزاروں افراد کو جماعت احمدیہ میں داخل ہونے کی تو فیق ملی ۔ 1990ء میں ملک میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت اور عمر معاذ صاحب کی اسیری کی وجہ سے ان کی تقرری آئیوری کوسٹ کر دی گئی مگروقتاً فوقتاً آپ خلافت کے تابع فرمان مالی میں جماعتی امور کا جائزہ لینے کے لیے تشریف لاتے رہے اور سعید روحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو تا رہا اور با لآخر 2003ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم عمرمعاذ صاحب کی تقرری بطور صدر جماعت مالی کے کی ۔آپ نے دوبارہ مالی آنے پرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کام کاآغازکیا اور 2005ء میں اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی مالی میںرجسٹریشن کا کام مکمل ہوا ، جس کی وجہ سے مبلغین کی آمد اور جماعتی کاموں کے لیے نئی راہیں ہموار ہوئیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 2011ء میں مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب کی بطور امیر جماعت احمدیہ مالی تقرری فرمائی اوربعد ازاں ان کی بر کینا فاسو تقرری کے بعد مکرم ظفر احمد بٹ صاحب2016ء سے بطور امیر اور مشنری انچارج خد مت کی توفیق پا رہے ہیں۔

جماعت احمدیہ مالی پر شروع ہی سے اللہ کے بے پناہ فضل ہورہے ہیںجن کا احاطہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے ۔ ایک فرد واحد سے شروع ہونے والی جماعت آج لاکھوں سعید روحوں پر مشتمل ہے ۔ آج اللہ کے فضل سے مالی میں12مرکزی مبلغین کے علاوہ25؍ لوکل مشنریز اور 15؍معلمین خدمت سلسلہ کی توفیق پا رہے ہیں ۔ نظام جماعت کا قیام495؍جگہوں پر ہو چکا ہے۔ مجلس انصاراللہ ،مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کا فعال نظام قائم ہے جو اپنی تمام سرگرمیاں عمدہ طریق پر ادا کر رہے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کے ایک خاص فضل جماعت احمدیہ مالی پر ریڈیو احمدیہ کی صورت میں ہے ۔ جماعت احمدیہ مالی کے اللہ کے فضل سے اس وقت 17؍ ریڈیو اسٹیشن کام کر رہے جو اوسطاًروزانہ 18؍ گھنٹے حضرت مسیح موعود ؑ اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچاتے ہیں اوریہ پیغام اللہ کے فضل سے ملک کی 8؍ ملین کی آبادی سن سکتی ہے۔ ریڈیو کے خاص پرگرامز میں تفسیر ،در س قرآن وحدیث،تبلیغی و تربیتی پروگرامز اور حضور انور ایدہ اللہ کے تمام خطبات و تقاریر کو براہ راست نشر کرنا ہے ۔اس کے علاوہ اللہ کے فضل سے 2014ء سے Noor ul Islamکے نام سے جماعت احمدیہ ایک رسالہ فرانسیسی زبان میں چھاپ رہی ہے جس کو بہت پسند کیا جا تا ہے۔

جماعت احمدیہ مالی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آغاز سے اب تک 55؍ مساجد بنانے کی توفیق ملی ہے۔
جماعت احمدیہ مالی کی ترقی میں Humanity Firstاور IAAAEکا بھی بہت بڑاکردارہے ۔ Humanity Firstکے تحت اللہ کے فضل سے اب تک6؍سکول تعمیر ہو چکے ہیں اور 2؍زیرِ تعمیر ہیں۔ 2؍سلائی سکول، ایک لینگویج سنٹر اور 1کلینک خدمت انسانیت میں پیش پیش ہیں۔ اس کے علاوہ Humanity First کے تحت ہزاروں افراد کی میڈیکل کیمپز ، راشن ،تعلیم اور صاف پانی کی صورت میں امداد کی گئی ہے۔

IAAAE کی زیر نگرانی اللہ کے فضل سے 3 ماڈل ویلیج مکمل ہو گئے ہیں اس منصوبہ کے تحت افریقہ کے دور دراز گاؤ ں میں بجلی ، پانی ،صحت اور صاف پانی ایگریکلچر کے علاوہ روزگار کی سہولت پہنچائی گئی ہے ۔ IAAAEکے درجنوں رضاکاروں نے پانی کے نلکے لگا کر یا مرمت کر کے لاکھوں افراد کو صاف پانی مہیا کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سولر انرجی کے ذریعہ سینکڑوں افراد کو بجلی کی سہولت پہنچائی گئی۔
آغاز سے ہی مالی میں جماعت احمدیہ مالی ایک کرایہ کی عمارت کو بطور مشن ہاؤس اور مسجد کے طور استعمال کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کے ساتھ ایک مرکزی مسجد اور مشن ہاؤس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی چنانچہ اس غرض سے2011ء میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظور ی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مالی کی جماعت کو کولیکورو ہائی وے پر ایک 2500مربع میٹر کا وسیع پلاٹ خریدنے کی توفیق ملی۔ مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کا کام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے IAAAEکے سپرد کیا جنہوں نے انتہائی محنت سے مالی کے لوکل Architectکے ساتھ ملکر ایک نہایت خوبصورت اور جامع نقشہ مسجد اور مشن ہاؤس کا تیار کیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے بعدمالی کی ایک کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ تعمیر کا معاہدہ طے پایااور اللہ کے فضل سے اس کی تعمیر کا آغازمارچ 2017ء کو ہوا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس مسجد کی بنیاد کے لیے مسجد مبارک قادیان کی ایک اینٹ دعا کے بعد مالی بھجوائی ۔اس بابرکت اینٹ کے ذریعہ مکرم تمیم ابو دقہ صاحب نمائندہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا سنگ بنیادمورخہ 4؍اپریل2017ء کو دعا اور 4؍بکروں کی قربانی کے ذریعہ رکھا۔سنگ بنیاد کے موقع پر ایک انتہائی پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میںحکومتی اعلیٰ شخصیات کے علاوہ باماکو شہر کے معززین بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔

اس مسجد کی تعمیر کا کام مالی کی ایک چائینیز کنسٹرکشن کمپنی نے کیا لیکن اس کام کی نگرانی مسلسل IAAAEکے رضاکاروں نے کی جو وقتاًفوقتاً انگلستان ،جر منی ،پاکستان اور دوسرے ممالک سے تشریف لاتے رہے اور تعمیر کے مختلف مراحل کی رپورٹ آغاز سے ہی حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میںپیش کرتے رہے اور پیارے آقا حسب ضرورت تعمیر کے مراحل میں اپنی ہدایات سے نوازتے رہے۔ اس وسیع پروجیکٹ کی تعمیر کا کام اللہ کے فضل سے دو سال کے بعد مارچ 2019 میں مکمل ہوا۔یہ وسیع اور خوبصورت مسجد مالی کی جدید عمارتوں میں سے ایک ہے اور ہر دیکھنے والی آنکھ اپنی طرف کھینچتی ہیںاور دل ساتھ ہی اللہ کی حمد سے پر ہو جاتا ہے کہ جماعت بغیر کسی غیر معمولی وسائل سے اس طرح کی عظیم مساجد کی تعمیر کی توفیق پا رہی ہے۔

تین منزلہ مسجد میں ایک منزل زیر زمین ہے ۔ مسجد میں 1200؍مربع میٹر کے دومرادانہ ہال اور600؍مربع میٹر کا زنانہ ہال ہے۔ ان تمام ہالز میں مجموعی طور پر 3200؍ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد کے زیر زمین ہال کے ساتھ ربوہ ایف ایم ریڈیو اور MTAکے دفاتر اور سٹوڈیوز ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس احاطہ سے ریڈیو احمدیہ کی نشریات کا آغاز ہو چکا ہے۔ سجد کی بالائی عمارت پر ایک وسیع لائبریری اور قرآن کریم کی نمائش کا 80؍مربع میٹرکا ہال ہے ۔ مسجد کے زنانہ ہال کے ساتھ لجنہ کا دفتر ہے۔نمازیوں کی سہولت کے لیے مردانہ اور زنانہ اطراف دو جدید بلاکس وضو،ٹائلٹس و باتھ روم تعمیر کیے گئے ہیں۔
اس مسجد کے دو بلند اور خوبصورت مینار ہیں جن میں سے ہر ایک کی لمبائی30میٹر ہے۔ یہ مینارے باماکو شہر کی ہر اونچی جگہ سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مسجد کے عین درمیان میں ایک نیلے رنگ کا ایک خوبصورت گنبد ہے جس کا قطر 8؍ میٹر ہے۔اس گنبد کے اوپر لگانے کے لیے ٹائل خاص طور پر اسپین سے منگوائی گئی۔ گنبد کے اندر ایک قیمتی اور خوبصورت فانوس آویزاں کیا گیا ہے جو مکرم اعصام الخامسی صاحب صدر جماعت احمدیہ مراکش نے خصوصی طور پر مراکش سے خرید کر ہدیہ کیا ہے ۔ مسجد کے مردانہ اور زنانہ ہال میں نرم دہ اور خوبصورت قالین نما صفیں بچھائی گئیں ہیں۔اذان اورنمازیوں کی سہولت کے لیے جدید ساؤنڈ سسٹم مسجد کے تمام ہالز اور میناروں کے ساتھ انسٹال کیا گیاہے۔مسجد کی خوبصورتی کو قائم رکھنے اور موسمی اثرات سے بچانے کی غرض سے مسجد کی تمام بیرونی دیوروں پر پینیٹ کرنے کی بجائے ٹائل لگائی گئی ہے جو کہ مسجد کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے۔

اس مسجد کے ساتھ ایک تین منزلہ وسیع عمارت مرکزی مشن ہاؤس کی تعمیر کی گئی ۔ اس تین مزلہ عمارت کے گرائونڈ فلور پر ایڈمنسٹریشن بلاک بنایا ہے جس میں ملکی امیر کے آفس کے علاوہ نائب امیر آفس اور دو آفس کے علاوہ استقبالیہ اور ایک وسیع کانفرنس ہال بنایا گیاہے۔پہلی منزل پر امیر صاحب کی رہائش میں تین بیڈ رومز ،ڈائننگ ہال و کچن کے علاوہ د و کمروں پر مشتمل ایک گیسٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عمارت کی تیسری منزل پر Humanity First Maliکے تعاون سے دو وسیع کمروںکے ساتھ ایک ہال مہمانو ںکے قیام و طعام کی غرض سے تعمیر کیا گیا۔مشن ہاؤس کی عمارت میں ایک وسیع باورچی خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے ۔ مسجد میں پانی کی ضرورت کے تحت دو بور کیے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ایک وسیع پندرہ ہزار لیٹر کا ٹینک نصب کیا گیا ہے جو کہ پانی کی تمام ضروریات کو احسن طور پر مکمل کرتا ہے۔ مسجد کے احاطہ میں بجلی کی بندش کی صورت میں آٹومیٹک جنریٹرانسٹال کیا گیا ہے۔

مسجد کے احاطہ میں دو کمرے، گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کی پارکنگ اور تین گراسی پلاٹ تیار کیے ہیں۔مین گیٹ و مسجد کے سامنے گراسی پلاٹ کے درمیان میں ایک خوبصورت فوارہ نصب کیاگیا ہے جو کہ خوبصورت روشنیوں اور پانی کے ساتھ مسجد کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے ۔اس فوارے کو کوریا کی ایک کمپنی نے مسجد کے احاطہ میں نصب کیا۔مسجد کے احاطہ کے اندرون اور بیرونی دیوار کے ساتھ وسیع پارکنگ کا انتظام موجود ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر مسجد کی سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے مسجد کی بیرونی دیوار کے ساتھ حفاظتی باڑ کے علاوہ CCTVکیمروں کا جدید سسٹم بھی نصب کیا گیاہے۔
اللہ کے فضل اور خلافت احمدیہ کی مسلسل نگرانی اور راہنمائی میں مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ۔مسجد مبارک اور مشن ہاؤس کی تعمیر پراللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو خاطر خواہ رقم خرچ کرنے کی توفیق ملی۔ گو کہ اس مسجد کی تعمیر کا تمام خرچ مرکز کی طرف سے ادا کیا گیا ، لیکن مالی کی جماعت کے غریب احباب کو مکرم امیر صاحب مالی کی تحریک پراس مسجد کی تعمیر کے لیےہزاروں پائونڈزکی قربانی کرنے کی توفیق ملی۔ جس میں مرد ،خوا تین،بچے بوڑھے سب نے اپنی استعداد سے بڑھ کر حصہ لیا۔اسی طرح مسجد کی تعمیر کے دوران مسلسلIAAAE ممبران اور جماعت احمدیہ مالی کے افراد کو یہاںوقار عمل کرنے کی توفیق ملی جس سے بہت سا زائد خرچ بچانے کی توفیق ملی۔ا للہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں کی قربانی کو قبول فرمائے۔

مسجد کی تعمیر کے حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیر نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا:

’’مالی میں بھی ایک بہت بڑی مسجد بنی ہے دوسری عمارات بھی بنی ہیں۔ ایک بڑ ا اچھااور مکمل کمپلیکس ہے۔جو بھی دیکھتا ہے وہاںبڑی تعریف کرتاہے۔مالی میں تو لوگ اب یہ باتیں کرتے ہیںکہ اتنی بڑی مسجد اور جودوسری عمارتیں بنائی گئیں ہیں ۔ یہ لگتا ہے کہ بہت بڑی امیر جماعت ہے کوئی۔دنیاوی لحاظ سے تو ہم امیر نہیں ہیںلیکن اصل ہماری امارت جو ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں امیر بنایا ہے ۔اللہ تعالی کی مدد سے ہے اللہ تعالی کے فضلوں سے پس ہمیشہ جب تک ہم اللہ تعالی کے فضلوں کو مانگتے رہیں گے اللہ تعالی اپنے فضل نازل فرماتا چلا جا ئیگا اسکے حق ادا کرتے چلے جائیں گے اللہ تعالی اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔گزشتہ دنوں امریکہ سے ایک ڈاکٹر صاحب وقف عارضی پرمالی گئے ہوئے تھے کہتے ہیں جب ایئر پورٹ جا رہا تھابڑی دور سے ایک بہت خوبصورت مسجد ایک بڑی بلڈنگ دیکھی میں نے ڈرائیور سے پوچھا یہ کس کی مسجد ہے بڑی خوبصورت بنائی ہوئی ہے اس نے کہا یہ احمدیوں کی مسجد ہے یہیں تو آپ جا رہے ہیں۔تو ہر دیکھنے والا اس کی تعریف کرتا ہے بڑا منصوبہ تھا الحمدللہ مکمل ہوااور اس کی پلاننگ احمدی آرکیٹیکٹ نے کی تھی اللہ تعالی انکو جزاء دے انہوں نے یہ کام کیا۔‘‘

(رپورٹ: مکرم احمد بلال صاحب۔ مربی سلسلہ سیکاسو)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. لحمد للہ علی ذلک.ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور فن تعمیر کا شاہکار ہے.مغربی افریقہ کی چند خوبصورت ترین مساجد میں شمار کیا جا سکتا ہے.مالی کے دو بڑے شہروں کو ملانے والی اہم ترین شاہراہ پر واقع ہے اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گزرنے والے مسافروں کیلئے تبلیغ کا بہت اچھا ذریعہ ہے.یہ سب خلافت کی برکات ہی ہیں کہ جن کے طفیل دنیا کے طول و عرض میں عوام الناس مستفید ہو رہے ہیں.اللہ کرے جماعت احمدیہ کو دنیا کے ہر حصہ میں ایسی بے شمار مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملتی چلی جائے.آمین ثم آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close