حضرت مصلح موعود ؓ

سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط نمبر 10)

غار ِثور کا ایک واقعہ

جب رسول کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپؐ بھی مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو جا ئیں تو آپؐ اور حضرت ابوبکر ؓ ایک رات کو مکہ سے نکل کر جبلِ ثور کی طرف چلے گئے۔ یہ پہاڑ مکہ سے کو ئی چھ سات میل پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار ہے جس میں دو تین آدمی اچھی طرح آرام کر سکتے ہیں اور بیٹھ تو اس سے زیا دہ سکتے ہیں۔ جب کفّار نے دیکھا کہ آپؐ اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں، باوجود پہرہ کے خدا کے فضل سے دشمنوں کے شر سے صحیح و سالم نکل گئے ہیں اور دشمن باوجود کمال ہو شیاری اور احتیاط کے خائب و خاسر ہو گئے تو انہوں نے کو شش کی کہ تعاقب کرکے آپؐ کو گرفتار کر لیں اور اپنے غضب کی آگ آپؐ پر برسائیں اور فوراً اِدھر اُدھر آدمی دوڑائے۔ کچھ آدمی اپنے ساتھ ایک کھوجی لے کر چلے جس نے آپؐ کے قدموں کے نشانات کو معلوم کرکے جبلِ ثور کی طرف کا رخ کیا۔ جب ثور پر پہنچے تو اس نے بڑے زور سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ لوگ اس جگہ سے آگے نہیں گئے بلکہ پہاڑی پر موجود ہیں۔

کھوجی عام طور سےہوشیار ہو تے ہیں اور گور نمنٹ اور محکمہ پو لیس والے ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھا تے ہیں او ریہ طریق انسان کی دریافت کر نے کا ایک بہت پرانا طریق ہے خصوصاً ان ممالک میں جہاں جرائم کی کثرت ہو اس طریق سے بہت کچھ کام لینا پڑتا ہے اس لیے غیرمہذب ممالک میں اور ایسے ممالک میں کہ جہاں کو ئی باقاعدہ حکومت نہ ہو اس فن کی بڑی قدروقیمت ہو تی ہے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں اس فن کی ترقی بھی ہوجا تی ہے اس لیے عرب اور اس قسم کے دیگر ممالک میں جہاں رسول کریمؐ (فِداہُ ابی و امّی) سے پہلے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور جرائم کی کثرت تھی یہ پیشہ بڑے زوروںپر تھااور نہایت قابل وثوق سمجھا جاتا تھا۔پس کھوجی کا یہ کہہ دینا کہ آپؐ ضرور یہاں تک آئے ہیں ایک بہت بڑا ثبوت تھا اور ایسی حالت میں غار کے اندر بیٹھے ہوؤں کاجو حال ہو نا چاہیے وہ سمجھ میں آسکتا ہے۔

وہ کیسا وقت ہو گا جب رسول کریمؐ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں بغیر سلاح وہتھیار کے غارِثور کے اندر بیٹھے ہوں گے اور دشمن سر پر کھڑا با تیں بنا رہا ہو گا۔غارِ ثور کو ئی چھوٹی سی غار نہیں جس کا منہ ایسا تنگ ہو کہ جس میں انسان کا گھسنا مشکل سمجھا جا ئے یا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو بلکہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانکنے سے آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کو ئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں ۔ پس ایسی حالت میں دنیاوی اسباب کے لحاظ سے مشرکین مکہ کے لیے یہ بات بالکل قرین قیاس بلکہ ضروری تھی کہ وہ کھوجی کے کہنے کے مطابق ذرا آنکھیں جھکا کر دیکھ لیتے کہ آیا رسول کریم ؐ غار میں تو نہیں بیٹھے اور یہ کو ئی ایسا عظیم الشان کام نہ تھا کہ جسے وہ لا پر واہی سے چھوڑ دیتے کہ ایسے ضعیف خیال کی بناء پر اتنی محنت کون برداشت کرے۔پس ایسے انسانوں کا جو ایسے خطرہ کی حالت میں اس غار میں بیٹھے ہو ئے ہوں گھبرا نا اور خوف کر نا بالکل فطرت کے مطابق ہو تا اور میں نہیں سمجھتا کہ کو ئی بہادرسےبہادر انسان بھی اس وقت خوف نہ کر تا لیکن اگر کو ئی ایسا جری انسان ہو بھی جو ایسے وقت میں اپنی جان کی پروا نہ کرےاوربے خوف بیٹھا رہے اور سمجھ لے کہ اگر دشمن نے پکڑ بھی لیا تو کیا ہوا آخر ایک دن مرنا ہے تو بھی یہ امر بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہو گا کہ ایسا آدمی جو ایسے مقام پر ہو کم سے کم یہ یقین کر لے کہ یہ لوگ ہمیں دیکھ ضرور لیں گے کیونکہ عین سرے پر پہنچ کر اور ایسی یقینی شہادت کے باوجود غار میں نظر بھی نہ ڈالنا بالکل اسباب کے خلاف ہے۔

مگر ہمارا رسول ؐ (فداہ ابی وامی )کیا کر تا ہے؟حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں

کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا اَنَا بِاَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ اَنَّ بَعْضَھُمْ طَاْطَاَ بَصَرَہٗ رَاٰنَا قَالَ اُسْکُتْ یَا اَبَا بَکْرٍ اِثْنَانِ اَللّٰہُ ثَالِثُھُمَا

بخاری جلد اول کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی صلعم واصحابہ الی ا لمدینۃ)

میں رسول کریم ﷺ کے سا تھ غارمیں تھا میں نے اپنا سراٹھا کر نظر کی تو تعاقب کر نے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریمؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! اگر کو ئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فر ما یا۔چپ اے ابی بکر۔ہم دو ہیں ہمارے سا تھ تیسرا خدا ہے (پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں)۔

اللہ اللہ کیا توکّل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہوجانے کے آپؐ یہی فر ما تے ہیں کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے خدا تو ہمارے سا تھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟

کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو۔یہ جرأت و بہادری کا سوال نہیں بلکہ توکّل کا سوال ہے۔ خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرأت ہی ہوتی توآپؐ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑلیں گے تو کیا ہوا ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔مگر آپؐ کو ئی معمولی جرنیل یا میدان جنگ کے بہادر سپا ہی نہ تھے۔ آپؐ خدا کے رسول تھے اس لیے آپؐ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کو بتا یا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے سا تھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔

یہ وہ توکّل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا۔جو ایک پر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔شاید کو ئی مجنون ایسا کر سکے کہ ایسے خطرناک موقع پر بے پروا رہے۔لیکن میں پو چھتا ہوں کہ مجنون فقدان حواس کی وجہ سے ایسا کہہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوںکو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔

پس رسول کریم ﷺ کا توکّل ایک رسو لا نہ توکّل تھا اور جسےخدا تعالیٰ نے اسی رنگ میں پو را کر دیا۔ آپؐ نے خدا تعالیٰ پر یقین کر کے کہا کہ میرا خدا ایسے وقت میں مجھے ضائع نہیں کرے گا اور خدا نے آپؐ کے توکّل کو پورا کیا اور آپؐ کودشمن کے قبضہ میں جا نے سے بچالیا اور اسے اس طرح اندھا کر دیا کہ وہ آپؐ کے قریب پہنچ کر خائب و خاسر لوٹ گیا۔

یہ وہ توکّل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔حضرت موسیٰ سے بھی ایک موقع پر اس قسم کے توکّل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنیٰ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے فر عونیوں کو دیکھ کر کہا کہ اِنَّا لَمُدْ رَکُوْنَ ہم ضرور گرفتار ہو جا ئیں گے اس پر حضرت موسٰی نے جواب میں کہااِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ (الشعراء:63)لیکن رسول کریمﷺ کا توکّل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپؐ کے سا تھی پر بھی اثر ڈالا اور حضرت ابوبکرؓ نے موسائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جا ئیں گے بلکہ یہ کہاکہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں۔اور یہ ایمان اس پر تَو کا نتیجہ تھا جو نور نبوت اس وقت آپؐ کے دل پر ڈال رہا تھا۔دوسرے حضرت موسیٰ ؑ کے سا تھ فوج تھی اور ان کے آگے بھا گنے کی جگہ ضرور موجود تھی لیکن رسول کریمؐ کے سا تھ نہ کو ئی جماعت تھی اور نہ آپؐ کے سا منے کو ئی اَور راستہ تھا۔ اسی طرح اور بھی بہت سے فرق ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔

آپؐ کی ایک دعا

رسول کریم ؐکو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھاکہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شَے سے توجہ ہٹا لیتے ۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ آپؐ آج کل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تا رک نہ تھے کیونکہ اسباب کا ترک گو یا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کر نا اور اس کی پیدا ئش کو لغو قرار دینا ہے۔لیکن اسباب کے مہیا کر نے کے بعد آپؐ بکلی خدا تعالیٰ پر توکّل کر تے اور گو اسباب مہیا کر تے لیکن ان پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے او ر صرف خدا ہی کے فضل کے امید وار رہتے۔ حضرت ابن عباس ؓ فر ما تے ہیں کہ آپؐ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فر ما تے۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السّٰمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْم (بخاری جلد 2کتاب الدعوات باب الدعا عند الکرب ) کو ئی معبود نہیں سوائے اللہ کے وہ رب ہے بڑے تخت حکومت کا۔اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔وہ آسمانوں کا رب ہے وہ زمین کا رب ہے۔وہ بزرگ تخت کا رب ہے۔(یعنی میرا بھروسہ اور توکّل تو اسی پر ہے)

اپنی اولاد کو صدقہ سے محروم کر دیا

اسلام کے عظیم الشان احکام میں سے زکوٰۃ اور صدقہ کے احکام ہیں ۔ہر مسلمان پر جس کے پاس چالیس سے زائد روپے ہوں اور ان پر سال گزر جا ئے فرض ہے کہ ان میں سے چالیسواں حصہ وہ خدا کی راہ میں دے دے۔یہ مال محتا جوں اور غریبوں پر خرچ کیا جاتاہے اور وہ لوگ جو کسی سبب سے اپنی حوائج کو پورا کر نے سے قاصر ہوں اس سے فائدہ اٹھا تے ہیں یا ابناء السبیل کو مدددی جاتی ہے۔اس کے محصلوں کی تنخواہ بھی اس میں سے ہی نکلتی ہے غرض کہ محتاجوں کی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے شریعت اسلام نے یہ قاعدہ جا ری کیاہے اور اس میں بہت سے ظاہری اور با طنی فوائدمدّ نظر ہیں لیکن اس کا ذکر بے موقع ہے۔زکوٰۃ کے علا وہ جو ایک وقت مقررہ پر سر کار کے خزانہ میں داخل ہو کرغرباء میں تقسیم کیے جا نے کا حکم ہے صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہر ایک ذی استطاعت کو مناسب ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے غریب بھا ئیوں کی د ستگیری کرے اور حتی الوسع ان کی امداد میں دریغ نہ کرے۔

رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور بعد میں بھی جب تک اسلامی حکومت رہی چونکہ زکوٰۃ باقاعدہ وصول کی جا تی تھی اس لیے ایک کثیر رقم جمع ہو جا تی تھی اور خزانہ شاہی کی ایک بہت بڑی مد تھی اور اگر رسول کریمﷺ چاہتے تو اپنی اولاد کے غرباء کا اس رقم میں سے ایک خاص حصہ مقرر کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سادات ہمیشہ غربت سے بچ جا تے اور افلاس کی مصیبت سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جا تےلیکن رسول کریم ؐ کے سینہ میں وہ دل تھا جو توکّل علی اللہ سے پر تھا اور آپؐ کی تو جہ غیراللہ کی طرف پھر تی ہی نہ تھی۔ اس قدر رقم کثیر خزانہ میں آتی تھی اور تھی بھی غرباءکے لیے ۔کسی کا حق نہ تھی کہ اس کی تقسیم ظلم سمجھی جا تی۔ایسی حالت میں اگرآپؐ اپنی اولاد کے لیے بصورت غربت ایک حصہ مقرر کر جا تے تو یہ بات نہ لوگوں کے لیے قابل اعتراض ہو تی اور نہ کسی پر ظلم ہو تا۔لیکن وہ با غیرت دل جو آپؐ کے سینہ میں تھا اور وہ متوکل قلب جو آپ رکھتے تھے کب برداشت کر سکتا تھا کہ آپؐ صدقہ و زکوٰۃ پر اپنی اولاد کے لیے صورت گزارہ مقرر کر تے ۔پھر آپؐ کو تو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ان کا متکفّل ہو گا او ر خود ان کی مدد کرے گا۔آپؐ کے دل میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں آسکتا تھا کہ ان کے لیے کسی سامان کے مہیا کر نے کی مجھے ضرورت ہے اس لیے آپؐ نے اپنی اولاد کے لیے اس رقم میں سے کو ئی حصہ ہی مقرر نہ کیا۔اللہ اللہ ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جن لو گوں کے ہاتھوں میں حکومت ہو تی ہے وہ کو شش کر تے ہیں کہ کسی طرح اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لیے کچھ سامان کر جائیں لیکن آپؐ نے نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی اولاد کے لیے زکوٰۃ میں سے کوئی حصہ نہ مقرر کیا بلکہ ان کو بھی خدا پر توکل کر نے کا سبق سکھایا اور انہیں حکم دے دیا کہ تمہارے لیے اس مال سے فائدہ اٹھا نا ہی نا جائز ہے۔

زکوٰۃ کے علاوہ لوگ اپنے پاس سے صدقات دیتے ہیں ممکن تھا کہ سا دات کو وہ اس میں شریک کر لیتے لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو اسی توکل کا سبق دینا چاہا کہ اسے صدقات سے بھی محروم کر دیا اور زکوٰۃ و صدقہ دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد کے لیے زکوٰۃ و صدقہ لینا ناجا ئز ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے

کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤْتٰی بِا لتَّمَرِعِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَیَجِیْئُ ھٰذَا بِتَمَرِہٖ وَھَذَا مِنْ تَمَرِہٖ حَتّٰی یَصِیْرَ عِنْدَہٗ کَوْمًا مِنْ تَمرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا یَلْعَبَانِ بِذٰلِکَ التَّمرِ فَاَخَذَا اَحَدُھُمَا تَمْرَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ فِیْہِ فَنَظَرَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَخْرَجَھَا مِنْ فِیْہِ فَقَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا یَاْ کُلُوْنَ الصَّدَقَۃَ

(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اخذ صدقۃ التمر عند صرام النخل)

کھجور کے کٹنے کے وقت رسول کریم ﷺ کے پاس کھجور یں لا ئی جاتی تھیں۔ہر ایک اپنی اپنی کھجوریں لا تا تھا اور رسول کریم ﷺ کے آگے رکھ دیتا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس ایک ڈھیر ہو جا تا۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ان کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔پس ان کی طرف رسول کریمؐ نے دیکھا اور کھجور ان کے منہ سے نکال دی اور فر ما یا کہ تجھے علم نہیں کہ آل محمدؐ صدقہ نہیں کھا یا کر تے۔

اللہ اللہ کیسی احتیاط ہے۔کیا ہی توکل ہے ایک کھجور بچے نے منہ میں ڈال لی تو اس میںحرج نہ تھا۔لیکن آپؐ کا توکل ایسا نہ تھا جیسا کہ عام لوگوں کا ہو تا ہے۔آپؐ چاہتے تھے کہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں وہ ایمان اور توکل پیدا کر دیں کہ بڑے ہو کر وہ کبھی صدقات کی طرف تو جہ نہ کریں اور خدا کی ہی ذات پر بھروسہ رکھیں۔

(………جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button