متفرق مضامین

گھانا کی جھلکیاں (اپنے سہانے سفر کی داستان) (قسط دوم آخر)

پیس کانفرنس کی کچھ باتیں

10؍ نومبر 2018ء کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے لیے جماعت نے Kempinski Hotel ہوٹل میں انتظام کر رکھا تھا جو بڑا شاندار اور خوبصورت سجاوٹ کے ساتھ تیار تھا۔ ہم 34؍ ممبرات لجنہ ہال کے آخر میں پردے میں بیٹھی تھیں جہاں بہنوں کے درمیان میں مہمان بہنیں بیٹھی تھیں جو کہ تعداد میں بہت زیادہ تھیں۔ اکثر مہمان بہنیں تو اپنے خاوندوں کے ساتھ ہی اگلی سیٹوں پر بیٹھی تھیں۔ تقریباََ 300مہمان تھے۔ سب کے لیے I.Dبنا کرگلے میں پہننے کو دیے گئے اور واپسی پر ہرایک کو ایک ایک بیگ دیا گیا جس میں سلسلہ کا لٹریچر اور حضور انور کا لندن سے آمدہ پیغام موجود تھا جو کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا تھا، اس کی بھی کاپیاں بنا کر سب مہمانوں کو دی گئیں۔ تلاوت سے پروگرام شروع ہوا۔ پھر امیر صاحب نے جماعت کا تعارف کرایا اور دعا کرائی ۔ ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جو افریقن ممالک میں حضور کے دورہ جات کے بارے میں تھی اور لوگوں اور بڑے لیڈرز کے تاثرات پر مشتمل تھی ۔ اسے بہت پسند کیا گیا۔ عالمی بیعت کا نظارہ بھی دیکھ کر بڑا اچھا اثر پڑا۔ اس کے بعد امیر صاحب گھانا نے جماعت کی تاریخ،اسلام میں جاری فرقہ وارانہ اختلافات اور مذہبی تعصب وغیرہ کے بارہ میں بیان کیا۔ حضور کا پیغام امیر صاحب نے پڑھ کر سنایا۔پیس پرائز بھی دیے گئے اس کے بعد ڈاکٹر سرافتخار احمد صاحب ایاز کیKey note Speech تھی۔ چونکہ ان کو کھانسی تھی اور گلا بھی بہت خراب تھا بس میں تو محو دعا ہی رہی۔ حضور کی دعائیں ساتھ لے کر تو چلے تھے اللہ نے بہت ہی فضل کیا کہ ایک گھنٹہ کی تقریر میں ایک بار بھی کھانسی نہیں آئی۔ اور تقریربھی بہت پسند کی گئی۔

کھانے کے لیے میز پر پلانٹن رکھے تھے اور ڈرنکس بھی تھے۔ چپس تو نہیں کھا سکتے تھے کہ منہ سے ان کے کھانے سے آواز آتی تھی احتیاطاََ نہ کھاتے کہ شور نہ ہو۔ ماحول بڑا خوشگوار تھا۔ کھانا بھی بڑا اچھا تھا اور مہمان بھی بہت خوش ہو کر گئے۔ تین مہمانوں کی تقاریر تھیں جو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ سب نے جماعت احمدیہ گھانا کی بڑی تعریف کی۔ اللہ کرے کہ یہ پہلی پیس کانفرنس کامیابیوں کا سہرا اپنے سر لے کیونکہ اس کے لیے حضور کی بہت دعائیں اور جماعت کی بہت کوششیں شامل ہیں۔ آمین

لجنہ اماء اللہ گھانا

اب میں کچھ اپنی لجنہ کی کارگزاری بتاتی چلوں یہاں کی لجنہ کی تجنید 34,210ہے۔ ناصرات اس کے علاوہ ہیں ہر سیکرٹری اپنا اپنا کام اپنے شعبہ کی ٹیم کے ساتھ مل کر بڑی اچھی طرح کر رہی ہے۔ سب نے رپورٹ کارکردگی پڑھ کر سنائی اور خامیوں اورسستیوں کو بھی بتاکر بہنوں کو توجہ دلائی۔ ضیافت والی سیکرٹری کو بجٹ کی شکایت تھی۔ انہیں پاکستانی کھانے پکانے نہیں آتے مگر پسند کرتی تھیں اس لیے میں نے اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب ‘قرینہ ضیافت’ تحفتہََ صدر صاحبہ لجنہ کو دی، جس پر سب بہنیں بہت خوش ہوئیں کہ ہم اس کی انگلش ٹرانسلیشن کر لیں گی اور خوب مزے مزے کے کھانے پکائیں گی۔ ایک بہن نے کہا کہ جب تم اگلی بار گھانا آؤگی تو ہم تمہیں پاکستانی کھانے پکا کر کھلائیں گے۔ واپسی پر بالکل ایسے ہی ایک علاقے سے ہمیں گزارا گیا جیسا کہ ہمارے پاکستان میں چنیوٹ یا سرگودھا میں لکڑی کا فرنیچر خوبصورت ترین اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز نہایت خوبصورتی سے بنی ہوئی تھی۔ سڑک کے ایک طرف کا سارا حصہ اس بزنس کی وجہ سے اٹا پڑا۔ تھا ناریل کی لکڑی اور کھال کو بھی استعمال میں لاکر بہت کچھ بنایا گیا تھا۔ میں نے ایک خوبصورت باسکٹ جو بانس کی چھال سے بنی تھی خرید ی جوپھلکے رکھنے کے لیے اچھی لگی وگرنہ بیڈ، ڈریسنگ ٹیبل اور صوفہ سیٹ بھی تھے۔ قیمتیں بہت زیادہ تھیں لندن سے موازنہ کیا تو کچھ زیادہ ہی مہنگی لگیں۔ ہم نے احمدیہ ہسپتال سویڈروکا وزٹ بھی کیا جوڈاکٹر صاحبزادہ رفیع احمدخان اور ان کی مسز رفعت خان مل کر مشکل حالات میں بہت خوبی سے چلا رہے ہیں۔ اس ہسپتال میں 25میٹرنٹی بیڈ اورآپریشن تھیٹر ہے۔ بالکل سادہ سی عمارت مگر اللہ کا فضل ہے بڑی کامیابی سے یہ سب محنت، خلوص اور ہمدردی سے وقف کر کے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس ہسپتال میں میٹرنٹی ونگ کا نام حضرت والدہ صاحبہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ناصرہ میٹرنٹی ونگ رکھا گیاہے۔ یہ ڈاکٹر خان صاحب اور ان کی والدہ نے اپنے خرچ پر بنوایا ہے۔ اللہ تعالی اس نام کی برکت سے سب خدمت کرنے والوں کی تائید فرما رہا ہے۔ غربت بھی نظر آتی ہے۔ کار میں بیٹھے ہوں تو بھی فقیر بند شیشوں پر تھپتھپا کر اور ہاتھ پھیلا کر مانگتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ سب کو کچھ نہ کچھ دیں۔ شاید اسی لیے ڈاکٹر صاحب چھوٹے نوٹ تڑواکر ساتھ لے کر چلے تھے کہ کہیں بھی گاڑی آہستہ ہو یا ٹریفک لائٹس پر رکیں تو خدمت کا موقع ملتا رہے ۔ ٹرین اس ملک کے صرف بعض حصوں تک محدود ہے البتہ بسیں بکثرت ہیں حتیٰ کہ سکول بسیں بھی چلتی ہیں۔ Lake Weija دیکھنے گئے جو راستے میں ہی پڑتی تھی اس کا پانی سارے اکرا کو ملتا ہے۔ Highwayپر جاتے ہوئے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے پیس سمپوزیم کا بہت بڑے سائز کا پوسٹر بہت نمایاں جگہ پر آویزاں تھا۔صاف دیکھا جا سکتا تھا ہر آنے جانے والی کار والا یہ پڑھنے کے لیے ضرور آہستہ ہو جاتا ہو گا جبکہ اس پوسٹر پر حضور انور کی بہت بڑی تصویر بھی آویزاں تھی اور پیس سمپوزیم کا ساراپروگرام بھی آویزاں تھا۔ ماشاء اللہ اس فنکشن کو اللہ تعالیٰ نے کافی شہرت دی اور کامیابی بھی دی۔ الحمد للہ

کاسوا کی طرف جاتے ہوئے ہمارے ڈرائیور صاحب نے بتایا کہ اگر ہم تھوڑا سا سڑک سے ہٹ کر سمندر کی جانب جائیں تو گھانا کی ایک خوبصورت Beachدیکھ سکتے ہیں جس کا نام Blue Diamond Resort ہے ۔ یہ جگہ واقعی بڑی خوبصورت تھی۔ سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہریں ہماری طرف بڑھ رہی تھیں ۔ساتھ بنے خوبصورت ہوٹل سے کھانا آرڈر کر لیا اور سمند ر کی طرف منہ کر کے Coconut Water اور چکن روسٹ کا جو مزا اس روز آیا وہ یاد رہے گا ۔ کھانا ہضم کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی اورسفید ریت میں دور تک نکل گئے۔ جب لہریں اونچی ہو کر ہماری طرف تیزی سے بڑھنے لگیں تو ہم نے واپسی کا سوچا اور سب نے اذان کی آواز جو سنی تو جھٹ مڑکر دیکھا کہ افتخار صاحب چند خدام کے ساتھ چٹائیاں بچھا کر نما زکے لیے ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔ مجھے ایسے میں طوالو یا د آگیا۔ چونکہ وہاں جو ہمارا گھر تھا بالکل ایسا ہی نظارہ ہوتا تھا۔ کبھی کبھی تو سمندر کی اونچی لہریں ہمارے گھر کے برآمدے میں بھی آجاتی تھیں۔ ہم نے مردوں کے پیچھے نماز یں قصر کر کے پڑھیں ۔ یاد رہے ہماری بیٹی عزیزہ ڈاکٹر سعدیہ سلمہابھی ہمارے ساتھ شامل تھیں۔

ہم سالٹ پانڈ بھی گئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ہماری پہلی مسجد بنی ہے جو بزرگوارم نیّر صاحب مرحوم نے بنوائی تھی۔ ان بزرگوں کی قربانیوں اور محنتوں کو پھل لگے دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ یہ علاقہ سالٹ پانڈ کہلاتا ہے۔ سب سے پہلے مبلغ 1921ءمیں یہاں آئے تھے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔ جس کے مشن ہاؤس میں ہم آج بیٹھے تھے۔ ایک ربوہ سے آئے ہوئے مبلغ تھے ان کی دو بیویاں تھیں اور بڑے خوش تھے۔ بنیاد کے چھ سال بعد اس مسجد کا افتتاح ہوا۔ 1954ء میں۔ کافی پرانی مسجد نظر آرہی تھی۔ مولانا جو وہاں تھے ان کی بیگم صاحبہ نے ناریل درخت سے اتروا کر اورStrawلگا کر ہماری مہمان نوازی کی جبکہ ہم لندن میں پیکٹوں میں خرید کر coconut waterپیتے ہیں۔ افریقہ کے اپنے ہی مزے ہیں اور یاد آتے ہیں۔ 17اکتوبر میرے بیٹے کا یوم پیدائش تھا جو اب اس دنیا میں نہیں ہے تین سال ہو گئے ہیں میں کافی اداس تھی مگر چونکہ یہ سفر بھی شاید اللہ تعالیٰ نے جماعتی ترقی اور خدمات دکھانے کے لیے بنایا تھا اس پرہم جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔

کماسی کا سفر

آج 17؍ اکتوبر ہے اور ہم کماسی جانے کے لیے ائرپورٹ پر آئے ہیں کیونکہ بذریعہ کار وقت بھی بہت لگتا اور سفر بھی کٹھن ہے۔جماعت کا مشورہ یہی تھا کہ ہم ہوائی جہاز سے جائیں اور صبح جا کر رات کو واپس اکرا آجائیں سو یہ اچھا تجربہ تھا۔ صرف 30منٹ کی فلائیٹ، چھوٹا ساجہاز وہ بھی کھچا کھچ بھرا ہوا۔ انگریزوں کے علاوہ چینی اور افریقن تو بہت زیادہ تھے فوراََ ہی لینڈنگ کی اناؤنسمنٹ ہو گئی اور ہم نے اپنا اپنا جوس جو ملا تھا ختم کیا اور زمین کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے اور پھر واپس کار میں بیٹھ گئے اور کماسی مشن ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے۔ یہاں کا مشن ہاؤس 1965میں شروع ہوا جبکہ صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تھے ۔ کماسی علاقے میں 5زونز(Zones) ہیں۔ ایک بڑی جماعت ہے۔ ہمارے ایک مخیر احمدی بھائی الحاج یوسف صاحب نے غانا میں 100مساجد بنائی ہیں ماشاء اللہ اور سارے غانا میں تمام احمدیوں نے مل کر ہزار سے زائد مساجد تعمیر کی ہیں۔ حافظ جبریل مرحوم کی فیملی بھی کماسی میں ہے اور عبد الوہاب آدم مرحوم بھی یہیں کے رہنے والے تھے۔ یہاں 32جماعتیں ہیں۔ 2014ءسے نماز دو جگہ ہوتی ہے۔ جماعت کی ایک لائبریری بھی ہے۔ جمعہ کی نماز کے لیے تیسری مسجد بھی تیار ہو گئی ہے ۔کماسی کا تعلیم الاسلام سینئر ہائی سکول غانا کےTop tenسکولوں میں سے ہے۔ یہاں اسلام احمدیت کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ دی جاتی ہے سب مذہبوں کے بچے یہاں پڑھتے ہیں کوئی مذہبی امتیاز یا تعصب نہیں ہے۔ طلباء کی کل تعداد 4000ہے۔ 2000سے زیادہ بچے بورڈنگ میں رہ رہے ہیں۔ انتظام اور صفائی اور اطاعت کا اتنا اعلیٰ معیار تھا کہ دیکھ کر دل سے اس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لیے دعائیں نکلیں۔ اس سکول کے نام کی برکت سے ہی میرے خیال میں ساری برکتیں چل رہی ہیں۔200سے زیادہ سٹاف ہے جو بڑی عمدگی سے اپنی ڈیوٹیاں ادا کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ یہاں کے سکول کا معیار بہت بلند ہے اور ہر آنے والے مہمان کا استقبال اپنے مخصوص طریق سے کیڈٹ کور کی پریڈ اور مارچ پاسٹ کر کے بینڈ بجا کر سلامی دیتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں یہ دیکھ کر بہت حیران رہ گئی کہ شدید گرمی میں پسینے سے شرابور مگر منظم اپنے خوبصورت یونیفارم میں ایک طرف لڑکیاں اور دوسری طرف لڑکے اپنے دوسرے رنگ کے یونیفارم میں کھڑے رہے پھر ڈاکٹر صاحب کی تقریر تھی ان کو چھتری دے دی گئی کیونکہ گرمی شدید تھی ۔ آدھا گھنٹہ تقریر جس میں نظام کو سراہنے کے علاوہ تبلیغی پہلو بھی مقدم تھا بہت پسند کی گئی اور نعرے بھی افریقن انداز میں جوش وخروش سے لگائے گئے کہ مزا آگیا۔ ہمارے لیے یہ ایک تاریخی دن تھا کبھی ایسا دیکھا نہ تھا۔ جلدی جلدی دوپہر کا کھانا کھایا اور شام 5؍ بجے اسی جہاز سے واپس آگئے ۔کماسی میں جماعت کے دو میڈیکل ہسپتال ہیں اور ایک ہیومیوپیتھی کلینک ہے۔ جماعت کا اچھا اثرورسوخ ہے ماشاء اللہ۔ آبادی تقریباََ 4ملین ہے اکرا کے بعد دوسرا نمبر ہے۔ پاکستانی بہت کم ہیں البتہ انڈین بہت ہیں چینی اور لبنانی بھی کافی ہیں جو یہاں کاروبار کرتے ہیں۔

ٹمالے کی سیر

اگلے دن کا پروگرام بھی کار سے اترتے ہی ہمیں بتا دیا گیا کہ کل صبح 9؍ بجے ہوٹل سے چلنا ہے تیار رہیے گا آپ کوTamaleلے کر جانا ہے۔ یہ سفر بھی ہوائی جہاز سے ہی کرنا تھا۔یہاںقریب ہی Salagaمیں ایک سکول میں ہمارے پیارے حضور خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ پڑھاتے تھے۔یہ ایک سیکنڈری سکول ہے جس کو دیکھنے کا ہمیں بہت شوق تھا۔ حضور کا گھر بھی دیکھنا تھا ۔ اکرا سے ٹمالے کے لیے ایک گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ A.W.AیعنیAfrican World Airlineسے ہم نے سفر کیا بہت چھوٹا سا جہاز ہے 50کے قریب مسافر ہیں۔ ہم احمدیوں کے علاوہ تمام گھانین اور اکادکا انگلش اور کوئی دو تین چینی لوگ نظر آرہے ہیں۔ کچھ کھانے پینے کی بھی باتیں ہو جائیں کہ یہ کام بھی تو ساتھ ہی لگا ہوا ہے ہمیں پینے کے لیے اورنج جوس اور ایپل جوس دیا گیا اورCroissantدیے گئے جبکہ دن کے بارہ بج رہے تھے۔ ہم جب پلین سے باہر آئے تو پھر گرمی… درجہ حرارت 35تھا ۔خیال تھا کہ ہمارے پیارے حضور اس گرم ترین علاقہ میں رہتے اور اتنی محنت سے کام کرتے تھے تبلیغ بھی اور تعلیم کا بھی۔ جگہ کا نامSalagaہے ، جہاں جانے کے لیے راستے اور سڑکیں انتہائی خراب تھے۔ اس سکول میں بھی حضور نے پڑھایا ہے سبھی لوگ حضور کو بہت یاد کرتے ہیں۔ حضور کی سادگی اور محنت و ہمت کی سب داد دیتے ہیں۔

یہ علاقہ چاولوں کی فصل کے لیے بڑا مشہور ہے۔ ائرپورٹ بڑا چھوٹا مگر بہت صاف ہے ۔ فضا صاف اور سرسبز زرخیز ہے۔ Salaga میں اب کوئی پاکستانی نہیں رہتا۔ اس شہر سے بورکینافاسو صرف 200میل دور ہے۔ Tamaleشہر میں 250احمدی آباد ہیں۔ یہاں کی ہریالی اور زرخیزی کی وجہ سے ہمیں بتایا گیا کہ اس جگہ پیارے حضور نے گندم اگائی تھی اور یہ تجربہ بڑا کامیاب رہا تھا۔ یہاں کی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے رکشہ چلتے دیکھا جسے یہ لوگ Yellow Yellowکہتے ہیں۔ عورتیں اپنے بچوں کو سائیکل یا موٹر سائیکل پر ہی سکول چھوڑنے جاتی ہیں۔ اب ہم ایک بڑی لمبی اور پکی سڑک سے گزر کر مقامی صدر صاحب کے گھر جا رہے ہیں۔ اس سڑک کا نام Oxford streetہے جس کے کنارے کنارے دوکانیں اور بڑے سٹور بھی ہیں۔اکرا کے برعکس یہاں بہت سی عورتیں موٹرسائیکل چلاتی ہوئی بھی نظر آئیں۔ ہم دو بجے مشن ہاؤس پہنچے مقامی صدر صاحب کی بیگم اور بیٹیوں سے ملے بڑی خوشی ہوئی اچھی بااخلاق بہنیں ہیں پھر ہم جلد مسجد چلے گئے جو بتایا گیا کہ بہت چھوٹی ہوتی تھی لیکن اب ماشاء اللہ کافی بڑی بن گئی ہے۔ نمازیں قصر کر کے ڈاکٹر صاحب نے پڑھائیں۔ عورتیں بھی کافی تعداد میں جمع ہوئی تھیں سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ایک گروپ فوٹو میں نے اپنے کیمرے سے لیا۔ سب شامل ہوئیں۔ اب ہم اپنے پیارے حضور کا گھر دیکھنے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر یہی احساس ہوا کہ واقعی قربانی اور سادگی کی اعلیٰ مثال اگر کسی نے دیکھنی ہو تویہاں ضرور آئے۔ نہایت سادہ بے روغن مکان۔ دراصل مکان تو اینٹوں کا ہوتا ہے اور رہنے والوں سے گھر بنتا ہے اور باروغن اور بارونق ہوجا تا ہے مکینوں کی اداسی نمایاں تھی۔ آپا جان کے کچن کو بھی میں نے اندر جاکر دیکھا۔ اگرچہ فضا کھلی اور صاف تھی مگر مسکن اداس ہی نظر آیا۔ دو لجنہ کی بہنوں نے نگرانی اور صفائی کا ذمہ لیا ہوا ہے۔ ایک کمرہ آفس بنا رکھا ہے جو جماعت کے پرائمری سکولوں کے ایڈمنسٹریٹر کا دفتر ہے۔ آفس کو دیکھ کر میرا تو دل بھر آیا۔ اپنے آقا کی یاد اور حضرت آپا جان کے اداس گھر کی یادیں دل میں بس گئی ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ کمرہ حضور کا بیڈروم ہوا کرتا تھا۔ باہر واپس آئے تو ہمارے دکھانے کے لیے ایک رکشہ والے کو بلا رکھا تھا جو دیکھ کر پاکستان اور خاص طور پر ربوہ یاد آگیا۔

اکرا واپسی اور آخری جمعہ

آج جمعہ ہے اور 19؍ تاریخ ہے اور یہاں ہمارا آخری جمعہ ہے۔ حضور کا خطبہ سنایا جاتا ہے پھرامیر صاحب جمعہ پڑھاتے ہیں۔ خطبہ انگلش میں دیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کا مقامی زبان میں رواں ترجمہ کرتے ہیں۔ نماز کے بعد میاں وقاص صاحب سے ملاقات ہوئی جو کل رات ہی لندن سے بمع فیملی مشن ہاؤس پہنچے تھے، مسجد تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس طرح آج کی رونق دوبالا ہو گئی ہے۔ سیدہ صاحبزادی ھبةا لروف دونوں چھوٹے بیٹوں عماد اور معاذ کے ساتھ ہمارے پاس آگئیں۔ بڑی خوش دلی اور اخلاق سے سب کو ملیں اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔ چونکہ آپ اس ملک میں عرصہ تک رہ چکی ہیں اور یہیں سکول میں اپنی تعلیم بھی مکمل کی ہے اس لیے یہ دیکھ کر بڑا اچھا لگ رہا تھا کہ عزیزہ سب بہنوں سے گھانین زبان میں باتیں کر رہی تھیں۔لجنہ نے مجھے بتایا کہ یہ پہلی پاکستانی بچی ہیں جو ہماری زبان بولتی ہیں۔ سب بہنیں بہت خوش ہوئیں ان سے مل کر۔ آج20؍ تاریخ ہے۔ لندن گھر میں بات ہوئی تو بچوں نے بتایا کہ یہاں تو4ڈگری ہے جبکہ گھانا میں آج 35؍ڈگری ہے۔ Tamaleمیں بھی یہی حال تھا۔ ہمارے آقا نصرت جہاں سکیم کے تحت حضرت خلیفہ ثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر وقف عارضی کے تحت Salaga میں1971ء میں سکول کے پرنسپل مقرر ہوئے تھے۔ دو کمروں کا مکان تھا اور اسکول بھی چھوٹا سا تھا مگر اب اللہ کے فضل سے ترقی کر کے شاندار عمارت بنادی گئی ہے الحمدللہ۔

گھانا کے مقامی بازار مکولا میں

اس علاقے کا نام Makolaہے جہاں سے ہم گزر رہے ہیں اسے سنٹرل اکرا، یا لاہور کی انارکلی سمجھ لیجیے ۔ایک مارکیٹ کے بیچوں بیچ ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ کل واپس جانا ہے آپ نے کچھ نہیں خریدا ضرور دیکھ لیں اگر کچھ پسند آئے تو لے لیں۔ رش اس قدر تھا کہ الامان و الحفیظ والا معاملہ تھا۔ کندھے سے کندھا ٹکرا رہا تھا اور شدید دھوپ اور گرمی۔ ہوا کا نام نہیں سر پر بھی عورتوں اور مردوں نے سامان اٹھایا ہوا گویا سارا گھر کا گھر چلتا جا رہا ہے۔ گاڑی سے اترنے کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا بلکہ ڈرائیور نے ہمیں کہا کہ اپنے کار کے دروازے Lockکر کے رکھیں اور ہینڈ بیگ بھی اندر کی طرف رکھیں یعنی دروازے سے دور ،وگرنہ بعض اچکے جھٹ سے دروازہ کھول کر بیگ اچک کر رش میں روپوش بھی ہو جاتے ہیں۔ خیر دھیرے دھیرے چلتے چلتے آخر دومیل لمبی نمائش نما مارکیٹ میں سے گزر کر باہر آئے تو شکر کیا۔ اب ہمیں ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ یہ نظارہ تو آپ کو صرف دکھانے کے لیے تھا جو یہاں روزانہ ہی ہوتا ہے اور یہاں کے لوگ اس کے عادی ہیں ۔ ایک الگ چھوٹی سی اور دوکانوں والی مارکیٹ جیسی ہمارے لاہور پاکستان اور قادیان میں بھی ہیں لے گئے اور کہا کہ یہاں آپ کار سے اتر کر کوئی سووینیئر لے سکتی ہیں۔ میں نے کیا لینا تھا۔ بچیوں کے لیے موتیوں کے بنے ہوئے BraceletsاورKeychainsلیے اور اپنے لیے گرمی کے لیے ایک کھلی چپل جو گھانا کے فلیگ کے رنگوں سے بنی ہوئی تھی اچھی لگی اور سستی بھی لگی صرف 6پونڈز کی میں نے خریدی جو یہاں لندن میں بھی سب کو پسند آئی ہے۔ اب میں تو کار میں آکر جھٹ سے بیٹھ گئی کہ ذراACتو چلے گا مگر باہر جو دیکھنے کو گرمی نظر آتی تھی مگر بڑے تحمل اور آرام سے دوکاندار مسکراتے چہروں سے بیٹھے کاروبار کیے جا رہے ہیں مگر آپس میں شاید سمجھوتہ ہوتا ہو گا کہ ایک آدمی سر پر ٹوکرے میں ٹھنڈے پانی سے بھرے پلاسٹک کی کیتلیوں میں پانی ہر دوکاندار کو دیے چلا جاتا ہے اور دوکان والا جھٹ سے اپنے دانتوں سے اس پلاسٹک کا ایک کونا کاٹ کر سارا پانی فٹا فٹ پی جاتا ہے۔ آخر پیاس تو سبھی کو لگتی ہے۔ کسی کسی دوکان والے کے پاس بجلی کا پنکھا ہے تو اردگرد کے دکاندار بھی دوکان چھوڑ کر ہوالینے اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ مارکیٹ میں پھرتے ہوئے تو پسینہ سر آنکھوں سے ہوتا ہوا کانوں تک آجاتا تھا۔ زندگی میں کبھی ایسا نہ ہوا تھا مگر شاید عادت کی بات ہوتی ہے کہ سب کام برابر روٹین کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ساری ضروریات زندگی سر پر اٹھائے لیے پھرتے ہیں اور بیچ کر گزارہ کرتے ہیں۔ صبح نو بجے سے شروع کر کے رات گئے تک کام کرتے ہیں اپنے آرام اور سہولت کے لیے۔ دلچسپ معلوم ہو گا کہ سر پر رکھی مارکیٹ میں کچھ اشیا گنوادوں جو پڑھ کر آپ کو معلومات حاصل ہونگی۔ مثلاََ چادریں، تولیے، پینے کا پانی، جوس ہر قسم کا، جوتے ، جرابیں، اناناس ، پپیتا، بچوں کے کپڑے حتیٰ کہ سوٹ کیس اور ہینڈبیگ تک آپ کار میں سفر کرتے ہوئے یا گھر میں بیٹھے ان بیچنے والوں کو رکوا کر خرید سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سوٹ کیس کو لگانے والے تالے بھی راہ چلتے خرید سکتے ہیں۔ ہے نا مزے کی بات۔ سبزیاں اور فروٹ تو ہمارے ملک میں بھی آواز لگا کر بیچنے والے آجاتے ہیں مگر گھر کی ضرورت کا سارا سامان کبھی ایسے بکتا نہ دیکھا تھا……

کچھ ذکر کھانوں کا

اب کھانے کی باتیں بھی ہو جائیں کہ یہ بھی زندگی کا ضروری حصہ ہے۔ ہمارے لیے کھانے کا مسئلہ بہت بڑا تھا۔ شاید زیادہ عرصہ رہتے تو عادت بھی ہو جاتی اور اپنی پسند کی اشیاء بھی ڈھونڈ کر پکا لیتی۔ یہ لوگ کافی spicesوالاکھانا کھاتے ہیں۔ سبز کیلے اور کساوا بہت ہوتا ہے ناریل بکثرت ہے اور دوسرے ممالک کی طرح کاروباری کام میں بھی اس کی لکڑی، تیل اور پتوں سے بہت کچھ بنا کر فروخت کرتے ہیں۔ عورتیں بڑی محنتی اور سخت جان ہیں مرد پر بوجھ تو کیا بلکہ مرد کی ممدومعاون بھی ہوتی ہیں اور بہت بچے پیدا کرتی ہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ مائیں بھی ہیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا ان کا مقصد اول ہوتا ہے اور ہر کام کرنے کی عادت ڈالنا اور سخت جان بنانا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی سکھاتی ہیں۔ البتہ جو دینی تعلیم کی کمی تھی وہ ہماری جماعت احمدیہ کی ماؤں نے اس ملک میں ہر تنظیم سے منسلک ہو کر اپنے نونہالوں کو کسی سے بھی پیچھے نہیں چھوڑا۔ اطاعت ، سچائی، صفائی کے علاوہ بڑوں کا ادب اور مدد کرناسکھایا ہے سب کام دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے ۔ 4سال کے بچے کو اپنے کپڑے دھونے کی عادت ڈالنے کے لیے صابن کی ٹکیہ دے کر بیسن میں پانی ڈال کر اپنی شرٹ کو دھونا سکھانا مجھے عجیب سا لگا۔ مگر اس بچے کی ماں کہنے لگی کہ کل کو یہ جامعہ یا سکول جائے گا تو کیا کرے گا میں تو ساتھ نہیں جاؤں گی اس کو ابھی سے عادت ڈال رہی ہوں کہ خود کو سنبھالے ……

کھانے کی بات اورپسند بیچ میں ہی رہ گئی کچھ کھانوں کے نام لکھے دیتی ہوں شاید آپ کو بھی گھانا آنے کا تجربہ ہو تو یہ نام ضروریاد رکھیں۔ فوفو،یہ کھانا سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان لوگوں کے plantainاورکساوا کا ذکر تو آچکا ہے یہ لوگ سوپ بھی کئی طرح کے بناتے ہیںOcra Soup, Ground Nut Soup اورPalm Nut Soup مشہور ہیں۔ ایک اور ڈش جس کو بانکو کہتے ہیں مکئی سے بنتی ہے اور مچھلی یا اوکرا سوپ کے ساتھ کھاتے ہیں۔چاولوں کے گیند نما گولے بنا کر سوپ میں ڈبو کر کھاتے ہیں اچھے مزے کی ڈش ہوتی ہے اس کو Motowکہتے ہیں۔ اتوار کے دن جو کھانا اکثر بنایا جاتا ہے اُسے ریڈ ریڈ کہتے ہیں ۔ گھانا کی چاکلیٹ اور کوکو بہت مشہور ہے جو بڑی مزے کی ہوتی ہے اور سردی میں خاص طور پر کھانے کا مزا دیتی ہے۔ K.F.Cاور چائینز بھی کھایا مزے کا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم کو کار میں کافی لمبے سفر کرنے پڑے دور دور کے علاقوں میں جانے کے لیے اور ڈاکٹر صاحب کو چائے اور کافی کی عادت ہے پینی پسند کرتے ہیں مگر گھانا میں Gas stationپر رک کر گیس تو کار میں بھروائی لیکن چائے کافی تو نہیں ملتی تھی اور نہ ہی کوئی کینٹین تھی۔ گھانا میں سفر کے دوران پانی۔ چائے۔ کھانا وغیرہ حسب ضرورت ساتھ ضرور رکھنا چاہیے ۔

سفر کی متفرق باتیں اور یادیں

ایک رات جب ہم سالٹ پانڈ سے واپس آرہے تھے تو راستے میں ہماری کار پنکچر ہو گئی۔ گھپ اندھیرے میں باہر کچھ نظر بھی نہ آتا تھا۔ جنگل ہی لگتا تھا ۔ ڈرائیور نے چیک کیا تو دیکھا کہ اس کے پاس سپیئر ٹائر نہیں ہے۔کافی پریشانی والی صورت ہو گئی لیکن جلد ہی اللہ تعالیٰ نے دعائیں سنیں اور ایک دوسری گاڑی ہمیں لینے آگئی ورنہ وہاں تو پانی تک ملنا مشکل تھا۔ ہمیں گھانا جماعت کا خلوص تو یہاں جلسہ سالانہ پر حضور کی آمد اور جلسہ گاہ سے واپسی پر جوبہنیں نعرے لگایا کرتی تھیں اس سے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ یہ کس قدر عقیدت رکھتی ہیں اور حضور بھی ان سب کو وقت دیتے۔ رک کر سنتے اور مسکراتے ہوئے زنانہ جلسہ گاہ سے واپس تشریف لے جاتے۔ اب ہمیں بخوبی اندازہ ہوا ہے کہ ان لوگوں میں کس قدر خلافت سے محبت اور جذبہ و جوش ہے۔ اللّٰھم زد فزد

یہاں میں نے نوٹ کیا کہ ہر بہن اور بچی اپنے ہاتھ میں چھوٹا سا سفید تولیہ ضرور رکھتی ہے اور جونہی چہرے پر پسینہ آتا ہے صاف کر لیتی ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ صفائی اور خوشبو کا خیال رکھتی ہیں۔

آج یہاں ہمارا آخری دن ہے میں نے لجنہ کی بہنوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ کی لجنہ سے تو میری اچھی ملاقاتیں، باتیں اور میٹنگز وغیرہ ہوئی ہیں مگر ناصرات الاحمدیہ سے میں نہیں مل سکی کیا بچوں کے سکولوں کی وجہ سے چھٹیاں نہ تھیں؟ ہوا کیا کہ مجھے صدر صاحبہ نے پیغام بھیجا کہ پرسوں آپ کا سفر ہے اس لیے کل صبح نو بجے آپ مسجد کے اوپر والے ہال میں آجائیں آپ کی ناصرات سے ملاقات ہے۔ میں بہت خوش ہوئی کہ یہ تو بہت ہی اچھا ہو گا عین وقت پر مَیں اور عزیزہ سعدیہ ہال میں جو داخل ہوئیں تو کیا خوب نظارہ تھا سٹیج بنا ہوا تھا امیر صاحب کی بیگم، صدر لجنہ اماء اللہ اور سیکرٹری ناصرات الاحمدیہ کے علاوہ تمام عاملہ ممبرات جو سٹیج کے دوسری طرف کرسیوں پر بیٹھی نظر آرہی تھیں اور اسی طرح گراؤنڈ فلور پر یعنی دو سیڑھیاں اتر کر بچیوں کی کرسیاں ایسی ترتیب سے رکھی تھیں کہ گویا سکول کی کلاس ہونے والی ہے ۔سب پیاری پیار ی بچیاں سفید یونیفارم اور سکارف لیے ہوئے تھیں۔ بچیوں نے اھلاََ وسھلَاو مرحبا َکہہ کر اور ساتھ ہی لاالہ الا اللہ کے گیت بلند آواز میں گا کر ہمارا استقبال کیا اور جلسہ گاہ لندن کی یاد دلا دی ۔ پروگرام کے مطابق تلاوت سے پروگرام شروع کیا گیا آج کے اجلاس کا موضوع نماز تھا۔ وضو سے لےکر سلام پھیرنے تک تمام حرکات اور آداب باقاعدہ پیش کر کے بتائے۔ وضو کرنے کے بعد ایک بچی نے مصلے پرکھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ بتایا۔ اسی طرح سے جس موضوع کی بات ہوتی اس پر ایک حدیث پڑھوائی جاتی۔ ایک ایک بچی نے خوب تیاری کی ہوتی تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بارش مانگنے پر کیا دعا مانگتے تھے۔ رسول پاک کی سیرت اور بچوں کی تربیت کس طرح فرماتے تھے۔ مل کر کھانا کھانا۔ دائیں ہاتھ سے کھانا اپنے آگے سے کھانا کھانا وغیرہ وغیرہ باقاعدہ ایک پلیٹ میں کھانا ڈالاہوا تھا اور دو تین بچیاں اردگرد بیٹھی کوئی لڑرہی تھیں تو دوسری اس کو سمجھا رہی تھیں کہ ایسے کرو اپنے آگے سے کھانا لو جلدی نہ کرو، بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔ سارے آداب تجربے سے بتاتی جاتی تھی کہ دوسروں کو بھی مدعو کرو برکت ہو گی کھانے میں وغیرہ وغیرہ۔ گرمی کی شدت تھی پنکھے کی ہوا بھی گرم ہوا دے رہی تھی ۔ صدر صاحبہ نے سب کے لیے ٹھنڈے پانی کے پیکٹ منگوا کر سب کو پینے کے لیے دیے۔اس کے بعد بچیوں کا کوئز پروگرام بھی تھا جو بہت اچھا معلوماتی اور مذہبی اور تربیتی سوالوں پر مبنی تھا پوزیشن لینے والی بچیوں کو انعامات دیے گئے ۔میں نے کہا کہ جن بچیوں کو کچھ بھی نہیں ملا آپ ان کو یہ چاکلیٹ ہی تقسیم کردیں یہ جوجار(Jar)بھرا رکھا ہے سٹیج پر۔ کسی بچی کو خالی نہ جانے دیں اس پر بہت خوش ہوئیں۔ پھر مجھے تقریر کرنے کو کہا گیا۔ اللہ کے فضل سے عاجزہ نے کھڑے ہو کر مائیک پر تقریر کی جسے معلوم ہوتا ہے کہ پسند کیا گیا ہو گا کیونکہ خوب نعرے لگائے لاالٰہ الا اللہ کے جو بہت اچھا لگتا تھا۔ دراصل ہر مقرر کے آنے پر اور جانے پر نعرے لگانا ان کا طریق تھا پھر اجتماعی دعا کروائی گئی ۔ اس پروگرام میں تقریباََ 200ناصرات اور 60لجنہ موجود تھیں بعد میں ناصرات نے اپنے ہینڈی کرافٹ دکھانے کے لیے مجھے بلایا جو ہال کے ایک کونے میں سجا رکھے تھے۔ یہ دیکھ کر بڑی خوش ہوئیں کہ اس روز میں بھی گھانین Dressپہنے ہوئے تھی اور عزیزہ سعدیہ سلمہابھی۔ Handicraft میں موتیوں کا استعمال زیادہ تھا جس سے گلے کے ہار ، چوڑیاں یا Bracelets، بالیاں اوربروچ وغیرہ بنائے ہوئے تھے بڑی صفائی اور محنت سے۔اب ہم سب کو خداحافظ کر کے ہوٹل واپس آگئے کہ صبح کی تیاری کرنا تھی مگر بڑا لطف آیا آج مجھے ناصرات الاحمدیہ گھانا کا یہ پروگرام دیکھ کر……

یہ سفر ہمارا یادگار سفر ٹھہرا۔ یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں اور اب بھی جب کہیں بھی گھانا کا ذکر ہوتا ہے تو مجھے یہ سب کچھ یاد آجاتا ہے اوربہت دعا ئیں نکلتی ہیں اس جماعت کے لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دے آمین ۔ہمارے آقا کے قدموں کی برکت سے وہاں رہتے ہوئے جو دعائیں ہوئی ہوں گی وہی رنگ لا رہی ہیں اور برکتیں مل رہی ہیں۔

اللھم زد فزد آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button