متفرق مضامین

احمدیت کے علمبردار دو گروہوں کے صدی کے سفر کا تقابلی جائزہ (قسط نمبر 9۔آخری)

تلخ حقیقت

اخبار پیغام صلح یکم جنوری 1975ء کے شمارے میں لکھتا ہے:‘‘الحمد للہ ثم الحمد للہ ہمارا سالانہ اجتماع حسب سابق دارالسلام لاہور میں انعقاد پذیر ہوا، اور نہایت کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔گو ہمارے سالانہ اجتماعات ہمیشہ ہی ہمارے ایمانی عزائم کے آئینہ دار چلے آئے ہیں ، لیکن امسال جلسہ سالانہ جن حالات میں ہوا ، وہ غیر معمولی طور پر صبر، جرأت اور ایمان آزما تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے دین اسلام کی بقا منظور ہے اس لیے

إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیۡنَ ہُم مُّحۡسِنُوْنَ،اور یٰٓاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوْا إِنْ تَنصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرۡکُمۡ وَیُثَبِّتۡ أَقۡدَامَکُمۡ

کے وعدوں کے مطابق اس نے اس مختصر مگر باہمت ناصرِاسلام گروہ کی نصرت کی ۔چنانچہ یہ مٹھی بھر فرزندانِ اسلام نہ غیر اللہ سے خائف وترساں ہوئے ، نہ ان کی ہمتیں پست ہوئیں، نہ ان کے ارادوں عزائم اور قدموں میں لغزش ہوئی ، اور نہ انہیں حزن و غم دبا سکا ۔ اور غلبہ دین اور دنیابھر کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی تڑپ کے زیر اثر یہ لوگ پیر و جوان بچے اور بزرگ زن ومرد اللّٰھم لبیک !لا شریک لک لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تجدید عہد کے لیے دار السلام پہنچ گئے، اور اس طرح اپنی زندگی کا ثبوت مہیا کر دیا’’۔

(پیغام صلح یکم جنوری 1975ء صفحہ 3۔جلد 62شمارہ 1)

دسمبر 2017ء میں ‘حضرت امیر ’بیان کرتے ہیں:‘‘ہمیں اپنی جماعت کا عقیدہ عام کرنا ہے کہ مرزا صاحب نہ نبی تھے،نہ کوئی اور نبی آئے گا۔نہ نیا اور نہ پرانا۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ بہت سارے لوگوں کو ہمارے عقیدے کا نہیں پتا کہ ایسے بھی مٹھی بھر لوگ ہیںجو وہ صحیح عقیدہ رکھتے ہیں،جو مرزا صاحب کا عقیدہ تھا’’۔ (تقریر سالانہ دعائیہ 28-12-2017پیغام صلح یکم تا 30اپریل2018ء صفحہ نمبر4۔جلد 3،شمارہ 7-8)

صاحبان بصیرت کے لیے یہ اقرار قابلِ توجہ ہے کہ یہ جماعت 1974ء میں بھی مٹھی بھر تھی،2017ء میں بھی مٹھی بھر ہی رہی،اور دلیل استقرائی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ آنے والا وقت بھی ان کوقلیل سے قلیل تر کرتا چلا جائے گا،کیونکہ خِشت خام سے فلک بوس عمار ت تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اور کف گیروں سے ملکوں کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں،اپنے منہ میاں مٹھو بنے حقیقت کی دنیا سے بہت دور سپنوںکے محل میں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ مگرامام آخر الزمان نے نئی زمین اور نیا آسمان بنا نے کے لیے جو تخم ریزی کی تھی اس شجر سایہ دار کی آبیاری خلافت کر رہی ہے، اور اس کی گھنی شا خیں اور چھائوں دنیا کے 212ملکوں میں پھیل چکی ہیں۔127مما لک میں جماعت کے باقاعدہ مشن ہائوسز کی کل تعداد 2826ہے۔

( الفضل انٹرنیشنل لندن 14ستمبر 2018ء صفحہ 14۔ جلد 25،شمارہ37)

اس کے بالمقابل احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی مرکزی ویب سائٹ پر کل سترہ ممالک میں قائم جماعتوں کے پتہ جات موجودہیں۔

(http://aaiil.org/text/cntct/contact.shtml)

مگر گفتار سے غالباً کچھ اَور ثابت کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ ‘حضرت امیر’ فرماتے ہیں:‘‘آج ہم سب کے لیے ایک رُوحانی دن ہے، کیونکہ قادیان میں حضرت صاحب کی جسمانی اولاد پیچھے رہ گئی،جیسے ان کا جسم وہاں چلا گیا ، لیکن ان کے روحانی بیٹے ‘‘حضرت مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ ’’لاہور آگئے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیہ انجمن لاہو ر کی بنیاد رکھی گئی ۔ ہمیں چاہیے کہ اس پہچان کو کبھی نہ بھولیں ، اور کبھی نہ چھپائیں’’۔‘‘ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ احمدیہ انجمن کو قائم ہوئے ایک صدی پوری ہوچکی ہے ، اور انجمن نے اس عرصہ میں جو کامیابیاں حاصل کیں وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں ۔ بے شک اللہ ہی عزت دینے والا ہے اور ہماری کامیابیاں اسی کے مرہون منت ہیں۔ہماری اندرون ملک اور بیرون ملک شاخیں پھل پھول رہی ہیں، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں’’۔

(پیغام صلح یکم تا 30اپریل 2014ء صفحہ1۔جلد 101،شمارہ 7،8)

‘‘تحریک احمدیت اور احمدیہ انجمن لاہور چند روز کی داستان کا نام نہیں ،چند سالوں یا دہائیوں کی کہانی نہیں ، یہ ایک سے زائد صدی کا قصہ ہے، اعلائے کلمۃ اللہ کے عظیم الشان مقصد کے لیے عظیم الشان کامیابیوں اور قربانیوں کی داستان ہے’’۔

(پیغام صلح یکم تا 31دسمبر 2014ء صفحہ 2۔جلد 101، شمارہ 23،24)

ہماری جماعت جو آج سے سو سال پہلے 3مئی 1914ء کو ‘‘احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ’’ کے نام سے قائم ہوئی …ہمیں قادیان چھوڑ کر لاہور آئے سو سال ہو گئے ۔ جہاں آج ہم صد سالہ موقع پر یہ خوشی منا رہے ہیں ، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کی خوشی منائیں ، اور انکا ذکر کریں ، کیونکہ وہ ہمارے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہیں ۔ ہم ان دنوں کو یاد کریں جب ہماری تبلیغ آزاد تھی، اور ہم ترقی کرتے گئے۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب کے خطبات کا مجموعہ بھی شائع ہوا، قرآن کے تراجم بھی کیے گئے اور دوردراز ممالک میں پہنچائے گئے ، مبلغین بھی بیرونی ممالک جاتے رہے۔ ووکنگ مشن میں لارڈہیڈلے جیسے عیسائی مسلمان ہوئے ، برلن میں مسجد تعمیر ہوئی، اور اللہ اکبر کی آذانیں وہاں دی گئیں۔اور دنیا کے کونوں تک ہمارا یہ پیغام پہنچا’’۔

(پیغام صلح یکم تا 31مئی 2014ء ، صفحہ 2۔ جلد 101، شمارہ 9،10)

حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ ہر زمانے میں غلبہ دلائل و براہین سے کام لینے والوں کو ملا، اور‘‘ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ’’ سورۃیوسف آیت : 109۔ اس زمانے میں بھی اما م الزمان نے دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے جس جنگ کی بنیاد رکھی ہے اس کے جانشین ان ہی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس جہاد کبیر میں مصروف ہیں۔آج صرف خلیفۃ المسیح کی ذات ہے جو ظلمتوں کی یورش میں شمس بازغہ بن کر چمک رہی ہے۔ اور ایک کے بعد دوسرا خلیفہ خوش نوائی کے ساتھ حروف تازہ کے سبھی قرینے سمیٹ کر اس جہانِ خفتہ کو جگا بھی رہا ہے اور سجا بھی رہا ہے۔ اور رفتہ رفتہ جہانِ نو کا نظام اتر رہا ہے اور کوئی نہیں جو اِن آسمانی نوشتوں کو بدل سکے۔کیونکہ جس ربِ ذو الجلال نے اپنے عاشق صادق کو فتح مبین کی خبر دی، اُسی نے اس کے غلام ِصادق کو فتح نمایاں کا مژدہ سنایا۔ فرماتے ہیں: ‘‘خدا تعالیٰ کسی صادق کو بے جماعت نہیں چھوڑتا ۔ انشااللہ القدیر سچائی کی برکت ان سب کو اس طرف کھینچ لائے گی۔ خدا تعالیٰ نے آسمان پر یہی چاہا ہے ، اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے’’۔

( اشتہار 7دسمبر 1992، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل، صفحہ 341)

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

‘‘اس امت کے مجدّدین میں سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب چودھویں صدی کے مجدّدہیں،اور آئندہ بھی حدیث کی پیشگوئی کے مطابق مجدّدپیدا ہوتے رہیں گے۔ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مرزا صاحب نبی نہیں صرف مجدّدیت کے منصب پر فائز ہیں۔ حضرت مرزا صاحب کا ماننابنیاد دین میں سے نہیں نہ جزو ایمانیات ہے۔اس لیے ان کو نہ ماننے والا کوئی شخص کافر نہیں ہوسکتا۔ حضرت امیر کا صد سالہ شمارہ کے لیے پیغام:‘‘ہمارا عقیدہ ہمیشہ سے یہی ہے اور ہمیشہ یہی رہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی پرانا اورنہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے۔اور یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، اور اس الزام کی تردید اپنی کتب ،تقاریر اور اشتہارات کے ذریعہ تا حیات کرتے رہے’’۔

(پیغام صلح یکم تا 31دسمبر 2013ء صفحہ نمبر 3جلد 100شمارہ 23-24)

گذشتہ ایک سو سال سے یہ اعلان کرتے کرتے اہل پیغام کے حلق سوکھ گئے ،اور قلموں کی سیاہی خشک ہو گئی ۔مگر آج بھی عامۃ المسلمین انہیں اپنا حصہ ماننے پہ تیار نہیں۔جبکہ وہ ذاتِ والا صفات فرماتی ہے:‘‘جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حَکم ٹھیراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پائو گے پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لیے آسمان پر اس کی کوئی عزت نہیں’’۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 حاشیہ صفحہ64)

پس یہ لوگ جری اللہ فی حلل الانبیاء کے مقام رتبے اور شان کو کم کرکے رب العالمین کی ناراضگی مول لے رہے ہیں۔ وہ جماعت جس نے ابتدا ہی سے ‘‘اِنَّ اللّٰہ مَعَنَا’’ کا ماٹو چنا ،جسے منّور دل اور مخلص انسانوں کی جماعت قرار دیا گیا، جس کے بانی کو ‘‘توحید کا منّاد، قرآن کا نقیب،حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا سچا عاشق،مادیّت اور دہریّت کے دورِ ظلمت میں بھٹکتے ہوئے انسانوں کو نورِ یقین سے پُر کرنے والا’’قرار دیا گیا، اور جس کی رُوح پر فتوح پر سلام بھیجے جاتے ہیں۔جن کے سرکردہ افراد کے بارے میں یہ غیر متقیانہ اور غالیانہ دعویٰ کیا گیا کہ:‘‘ہماری جماعت کے اکابرین وہ پہاڑ تھے جو کائنات کا توازن قائم رکھتے ہیں’’۔یہ سب کچھ ہوتے ہوئے خدا کی معیت کا سایہ ان کے سروں سے کیوں اٹھ گیا، اور فتح و کامرانی کیوں ان کے نصیب سے کوسوں دور ہے، کیوں ان کی زمین روزبروز کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ ہے کوئی رجل رشید جو اس حقیقت پر غورکرسکے؟؟؟۔

حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:‘‘اس تاریکی کے زمانے کا نور میں ہی ہوں۔ جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا ، جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں’’۔(مسیح ہندوستان میں ،روحانی خزائن جلد 15،صفحہ 13)
‘‘میں دیکھتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے دنیا میں مامور کرکے بھیجا ہے، اُسی وقت سے دنیا میں ایک انقلاب عظیم ہو رہا ہے ، یورپ اور امریکہ میں جو لوگ حضرت عیسیٰ کی خدائی کے دلدادہ تھے اب ان کے محقق خود بخود اس عقیدہ سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں ۔ اور وہ قوم جو باپ دادوں سے بتوں اور دیوتوں پر فریفتہ تھی ، بہتوں کو ان میں سے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ بت کچھ چیز نہیں ہیں ، اور گو وہ لوگ ابھی روحانیت سے بے خبر ہیں اور صرف چند الفاظ کو رسمی طور پر لیے بیٹھے ہیں ، لیکن کچھ شک نہیں کہ ہزار ہا بیہودہ رسوم ، بدعات اور شرک کی رسیا ں انہوں نے اپنے گلے پر سے اتار دی ہیں ۔ اور توحید کی ڈیوڑھی کے قریب کھڑے ہو گئے ہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانے کے بعد عنایت الٰہی ان میں سے بہتوں کو اپنے ایک خاص ہاتھ سے دھکا دیکر سچی اور کامل توحید کے اس دار الامان میں داخل کر دے گی جس کے ساتھ کامل محبت اور کامل خوف اور کامل معرفت عطا کی جاتی ہے ۔ یہ امید میری محض خیالی نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے۔ اس ملک میںخدا کی حکمت نے یہ کام کیا ہے تا جلدتر متفرق قوموں کو ایک قوم بنا دے اور صلح اور آشتی کا دن لاوے ، ہر ایک کو اس ہوا کی خوشبو آرہی ہے کہ یہ تمام متفرق قومیں کسی دن ایک قوم بننے والی ہیں’’۔ ( لیکچر لاہور ،روحانی خزائن جلد 20صفحہ 181)

پھر فرماتے ہیں: ‘‘خدا نے اس ویرانہ کو یعنی قادیان کو مجمع الدیار بنا دیا کہ ہر ایک ملک کے لوگ یہاں آکر جمع ہوتے ہیںاور وہ کام دکھلا ئے کہ کوئی عقل نہیں کہہ سکتی تھی کہ ایسا ظہور میں آجائے گا ۔ لاکھوں انسانوں نے مجھے قبول کر لیا اور یہ ملک ہماری جماعت سے بھر گیا ۔ اور نہ صرف اس قدربلکہ ملک عرب اور شام اور مصر اور روم اور فارس اور امریکہ اور یورپ وغیرہ ممالک میں یہ تخم بویا گیا ، اور کئی لوگ ان ممالک سے اس سلسلہ میں داخل ہو گئے۔ اور امید کی جاتی ہے کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ ان مذکورہ بالا ممالک کے لوگ بھی اس نورِآسمانی سے حصہ لیں گے۔ نادان دشمن جو مولوی کہلاتے تھے ا ن کی کمریں ٹوٹ گئیں اور وہ آسمانی ارادے کو اپنے فریبوں اور مکروں اور منصوبوں سے روک نہ سکے ۔ اور وہ اس بات سے نوامید ہو گئے کہ وہ اس سلسلہ کو معدوم کر سکیں ، اور جن کاموں کو وہ بگاڑنا چاہتے تھے وہ سب کام درست ہو گئے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک’’۔

( براہین احمدیہ حصہ پنجم ،روحانی خزائن جلد 21،صفحہ 95 ،96)

حرف آخر

ایک ہی مذہب اور ایک ہی پیشوا کا عَلم اکناف عالم میںبلند کرنے کے لیے آج صرف اور صرف جماعت احمدیہ ہی دن رات سرگرم عمل ہے۔آج صرف خلیفۃ المسیح ہی ہے جو امن عالم کے لیے دیرپااور دور رس نتائج کے حامل مشورے اور تجاویز ارباب اختیار کے سامنے بلاخوف و خطر بیان کرتا ہے،درپیش خطرات اور ان کے بد نتائج سے آگاہ کرتا ہے،کامل شریعت کے احکام اور کامل انسان کا اسوہ کھول کھول کر بیان کرتا اور اسلام کا روشن تر چہرہ عوام و خواص کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ خلیفۃ المسیح کی ذات ہی ہے جو کل عالم کا درد اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ من میں بسائے روزانہ چشمِ تصور میں ملک ملک پہنچتا اور اُن کے لیے امن وآشتی کی دعا کرتا ہے۔یہ احمدیوں کا امام ہی ہے جو سچے دلوں کی دولت اور اخلاص کے سرمائے سے مالامال ہے،اس کی ایک آواز پر عشاق اٹھتے اور بیٹھتے ہیں،اور اس کی تحریک پر تن من دھن لٹا دینا اپنے لیے قابل اعزاز سمجھتے ہیں۔ آج روئے زمین پر صرف اور صرف خلیفۃ المسیح کی ذات ہے جسے خدا تعالیٰ نے وہ جماعت بخشی ہے جو نفاق اور تباغض سے پاک تھی، ہے اور رہے گی اُس قادر وقدیر نے اِس جماعت میں جذب اور ہمت اور استقلال کے حامل اور قرآن و حدیث کے ایسے عاشق با عمل پیدا کیے جو دعائوں کا سہارا لیتے ہوئے خطرناک سے خطرناک ابتلائوں میں بھی ثابت قدم رہے ، اور ان کے پائے ثبات اور استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں آئی ، اور اس کا صدق و وفا قائم دائم ہے، اور بفضل خدا آئندہ بھی رہے گا۔جماعت احمدیہ میں مالی قربانی کا عالمی مربوط نظام ہے جو جذبہ و ایثار کی انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور حقیقی شکر کا جذبہ ان اموال کی مقدار اور معیار بڑھاتا چلا جارہا ہے۔ احمدیہ انجمن لاہور کے امیر آج بھی لاکھوں کے خرچ کی بات کرتے ہیں،اور یہاں ایسے جانثاراں خلافت ہیں جو تنہا ایک ایک کروڑ روپے اور ایک ایک ملین امریکی ڈالرجماعتی ضرورتوں کے لیے قربان کر دیتے ہیں اور دینے والا پھر ان کی جھولیاں بھر دیتا ہے ۔سر چودھری محمد ظفر اللہ خان جیساعالمی شہرت یافتہ جج ،نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات ڈاکٹر عبد السلام، ماہر لسانیات محمد احمد مظہر ،مرزا مظفر احمد جیسا عالمی ماہرِ اقتصا دیات ،ثاقب زیروی جیسا نعت گو ، عبید اللہ علیم جیسا قادر الکلام شاعر، اختر حسین ملک اور عبد العلی ملک جیسے جرنیل علم و معرفت میں کمال حاصل کر کے اِس فرقہ کی پہچان بنے ہوئے ہیں ۔ سینکڑوں نگینے لوگوں نے جان کے نذرانے پیش کرکے اس چمن کے اجالوںمیں اضافہ کیا اور ابدی زندگی کا جام پیا، اور ان کے پسماندگان نے صبرو رضا کے ساتھ اپنوں کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا ۔آج روئے زمین پر صرف خلیفۃ المسیح کی ذات ہے جس کے خطبات روحانی ،اخلاقی ،تربیتی اور اصلاحی تعلیم سے مزین ،علوم قرآنیہ و علوم جدیدہ سے لبریز خزانہ ہیں۔اور صرف احباب جماعت کے لیے ہی مشعل راہ نہیں ،بلکہ اقوام عالم کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے بھی روشن مینار ہیں، اور آج صرف اسی پر نسل ِانسان کی روحانی شادابی کا انحصار ہے۔خلافت کے زیر سایہ جماعت احمدیہ اس حصن حصین میں داخل ہے جو امام الزماں نے اپنوں کے لیے تیار کیا ہے،کیونکہ خلافت ہی نبوت کے فیضان کو محفوظ کرتی ہے۔ اُس ذوالجلال و الاکرام خدا کا سایہ کل بھی اس جماعت پر تھا ،آج بھی ہے اور تاابد رہے گا۔

اللّٰہُ مَوْلَاناَ وَ کَافِلُ اَمْرِنَافِی ھَذِہِ الْدُنْیا وَبَعْدَ فَنَاءِ ۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :‘‘خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا ،کیونکہ خدا نے جس راستے پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے۔ جو تعلیم مجھے دی گئی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے، اور جن ذرائع کو اختیار کرنے کی مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و بامراد کرنے والے ہیں اس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پائوں سے نکل رہی ہے ، اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتا دیکھ رہا ہوں ۔ وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں ، اتنی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے’’۔

( الموعود، انوار العلوم جلد 17صفحہ 584۔ایڈیشن 2008ء قادیان)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘‘خلافت کے قیام کا مدعا توحید کا قیام ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ اٹل ہے ایسا کہ جو کبھی ٹل نہیں سکتا، زائل نہیں ہو سکتا، اس میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئے گی … اور کوئی قوم اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی جو جماعت احمدیہ کا مقام اس دنیا میں ہے وہ کسی اور جماعت کا نہیں ۔پس کامل بھروسہ اور کامل توکل تھا اللہ تعالیٰ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمدیہ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا ، ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا ۔ زندہ تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبوسے معطر رکھتے ہوئے اس شجر طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھے گا ،جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ ایسا شجر طیبہ جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی’’۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 11جون 1982ء۔خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ 2،3۔ایڈیشن 2007ء)

‘‘اب آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا ۔ جماعت بلوغت کے مقام پرپہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں ۔اور کوئی دشمن آنکھ ، کوئی دشمن دل ،کوئی دشمن کی کوشش اس جماعت کابال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمدیہ انشا اللہ تعالیٰ اُسی شان کے ساتھ نشو ونما پاتی رہے گی،جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی’’۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 18جون 1982ء۔خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ18۔ایڈیشن 2007ء)

ہمیں کچھ کِیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جو پاک دل ہووئے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے

تمّت بالخیر

…………………………………………………………

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button