الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

آنحضرت ﷺ کی غیر مسلموں سے حسین معاشرت

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اگست 2012ء میں مکرم ہادی علی چوہدری صاحب کی ایک تقریر شائع ہوئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی غیر مسلموں سے حسین معاشرت پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

سورۃالمائدہ کی آیت 9 میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرتے ہوئے عدل قائم کرنے کی نصیحت فرماتا ہے۔ پھرسورۃ الممتحنہ کی آیت 9 میں غیرمسلموں سے حسنِ معاشرت کا سبق دیتے ہوئے فرمایا: اے مسلمانو! اللہ نے تمہیں ان ظالموں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے جو تمہارے دین کو مٹانے کے لیے تمہارے ساتھ لڑرہے ہیں،تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم ان غیر مسلموں کے ساتھ جو تمہارے دین کو جبرا ًروکنے کے درپے نہیں اور تم پر ظلم نہیں کرتے، تعلق نہ رکھو۔ بلکہ تمہیں چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی اور عدل و احسان کا سلوک کرو کیونکہ عدل و احسان کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔

پھر اسلام کی یہ تعلیم کہ ’اللہ تعالیٰ کے ساتھ بلااستثناء سب رسولوں پر بھی ایمان لاؤ‘، حُسنِ معاشرت کی یہ ایسی تعلیم ہے جس کی نظیر کوئی اَور شریعت پیش نہیں کرتی۔ اور ایک مسلمان کا یہ عمل اُسے دوسروں کے دل کے قریب کر دیتا ہے۔

آنحضرتﷺ کی رحمت کا دامن بے انتہا وسیع تھا۔ آپؐ اپنوں اور غیروں سے ہمیشہ رحمت کا سلوک فرماتے تھے۔ دشمنوں سے بھی عفو ودرگزر ہی نہیں بلکہ ان پرلطف و عنایات کی بارش کرتے تھے۔ دشمن بھی آپؐ کے بارہ میں یہ گواہی دیتا تھا کہ یہ وہی تو ہے جس کے ذریعہ نیکی اورصدق و وفا کی پہچان ہوتی ہے۔ آپؐ کفّار کی خوں ریزیوں کو یکسر بھلا کر ان پر اس طرح احسان کرتے تھے جیسے انہوں نے آپؐ پر کبھی کوئی ظلم کیا ہی نہ ہو۔ اپنے دشمنوں کی بھوک پر خود ایک ماں کی طرح تڑپتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنے فارسی منظوم کلام میں فرماتے ہیں کہ ’جو رحم مخلوقِ خدا نے آپؐ سے تجربہ کیا وہ رحم کسی نے اس دنیا میں اپنی ماں سے بھی نہیں پایا‘۔

آنحضورﷺ کی غیرمسلموں سے معاشرت کے حوالہ سے چند روشن مثالیں درج ذیل ہیں:

٭8ہجری میں قریشِ مکّہ کا ایک قافلہ شام سے اناج لے کر مکّہ آرہا تھا۔ راستے میںاس پر جُہَینہ کے ایک قبیلے کی طرف سے حملے کا خطرہ تھا۔آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجرّاحؓ کی قیادت میں تین سو صحابہؓ پر مشتمل ایک لشکرمدینہ سے جُہَینہ کے اس قبیلے کی طرف بھیجا۔یہ مقام مدینے سے پانچ راتوں کی مسافت پر تھا ۔ اس سریّے کامقصدیہ تھا کہ اس ممکنہ حملے سے قافلے کو تحفّظ فراہم کیا جائے۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینے میں انتہائی غربت تھی اور روانہ ہونے والے قافلہ کے ساتھ بھی خوراک کا ذخیرہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔چنانچہ یہ ذخیرہ ختم ہونے لگا تو اہل قافلہ کو فی کس ایک کھجور روزانہ ملنے لگی۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ اس ایک کھجور کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا۔ ہم سارا دن اسی ایک کھجور کواورپھر اس کی گٹھلی کو چوستے رہتے تھے۔ ہمیں ساحلِ سمندر پر نصف ماہ سے زیادہ قیام کرنا پڑا۔ وہاں بھی ہمیں سخت بھوک کا سامنا تھا جس کے باعث ہم لاغر ہو چکے تھے۔ چنانچہ مجبوراً ہم خَبَط درخت کے پتّے کھانے پر مجبور ہوگئے۔

٭ 4 ہجری میں مکّہ میں قحط کی وجہ سے بھوک کے سائے منڈلانے لگے اور اگلے سال تک حالات ابتر ہو گئے۔یہ وہی لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ ؓپر مسلسل 13 سال تک ظلم ڈھاتے رہے۔ پھر ہجرت کے بعد آپؐ کے خلاف مسلسل جنگیں کرتے رہے۔ لیکن قحط کے وقت آپؐ نے کفّار مکہ اور خاص طور پر وہاں کے غریبوں کی مدینہ سے امداد کی۔
ایک اور موقع پر مکّہ والوں کی درخواست پر آپؐ نے وہاں کی قحط سالی سے بچاؤ کے لیے دعا کی جو قبول ہوئی اور ابررحمت نازل ہوئی۔

٭ مکہ کی فتح کو آنحضرت ﷺ نے اس طرح امن و سلامتی کے ساتھ ممکن بنایا کہ جنگی خون خرابے کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔ انتقامی کارروائی کرنے کی بجائے آپؐ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے قریش کے گروہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ آج کیا سلوک ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم آپؐ سے بھلائی کے سوا اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ آپؐ توخود ہمارے معزّز بھائی ہیں اور معزّز بھائی کے بیٹے بھی ہیں۔

آپؐ نے فرمایا : آج میں تمہیں وہی کہوں گا جوحضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ جاؤ تم آزاد ہو اور آج تم پر کوئی سرزنش نہیں ہوگی۔

مختلف سنگین قومی جرائم میں ملو ّث جن افراد کے بارہ میں سزائے موت کا اعلان بھی ہو چکا تھا،ان کی ندامت اور معافی پر آپؐ نے ان سے بھی درگزر کا سلوک فرمایا۔

٭ فتح مکّہ کے دنوں میںوہاںقبیلہ بنو خزاعہ کے ایک فرد نے کسی شخص کا قتل کر دیا۔آنحضرت ﷺ نے بنو خزاعہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے خزاعہ والو!قتل سے اپنے ہاتھ روکو۔قتل تو بہت ہو چکا لیکن کیا اس نے کبھی کوئی فائدہ بھی دیا؟تم نے ایک شخص کا قتل کیا جس کی میں لازمًادیت ادا کروں گا۔اس کے بعداس جگہ پر کسی نے کوئی قتل کیا تو مقتول کے ورثاء کو دوفیصلوں میں سے ایک اختیارکرنے کا پورا حق ہوگا یعنی قصاص لیں یا پھر دیت لیں۔

٭ آنحضورﷺ غیرمسلموں سے لین دین کا تعلق قائم فرماتے تھے۔ مدینہ کے یہود کے ساتھ بھی یہی طریق تھا جو فتح مکّہ کے بعد مکّہ کے مکینوں کے ساتھ بھی جاری فرمایا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بنوہوازن سے مقابلہ کے لیے مکّہ سے روانگی سے قبل جائزہ لیا تو متوقّع جنگ کے لحاظ سے اسلامی فوج کے پاس سامانِ حرب بہت کم تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آپؐ نے مکّہ کے مالدار رئیس صفوان بن امیّہ سے کچھ ہتھیار بطور قرض مانگے تو اُس نے آپؐ سے کہا : ’کیا آپ اپنے اقتدار کی وجہ سے میرامال چھیننا چاہتے ہیں؟‘ آپؐ نے فرمایا: ’نہیں، ہم تو عاریۃً مانگ رہے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے ضمانت دینے کے لیے بھی تیّار ہیں‘۔ اس پر وہ آمادہ ہو ا اور اس نے ایک سو زِرہیں دیں جن کے ساتھ خَود اور ڈھالیں وغیرہ بھی تھیں۔ اس موقع پر آپؐ نے اپنے چچازاد نوفل بن حارث سے بھی تین ہزار نیزہ مستعار لیا۔ اسی طرح ابوجہل کے سوتیلے بھائی عبداﷲ بن ابی ربیعہ سے تیس چالیس ہزار درہم قرض لیے۔ یہ بھی مکّہ کا بہت دولت مند شخص تھا۔ اسے بعد میں مسلمان ہونے کی توفیق بھی ملی۔

٭ غزوۂ حنین کے لیے روانگی سے قبل مکّہ کے نَومسلموں میں سے دو ہزار افراد نے اسلامی لشکر میں شمولیت کے لیے درخواست کی جسے آپؐ نے بلا تردّد قبول فرمالیا۔نیز 80 مشرکینِ مکّہ نے بھی عرض کیا کہ گو ہم مسلمان نہیں مگر آپؐ کی رعایا ہیں اس لیے آپ کا اورہمارا دشمن سانجھا ہے، لہٰذا ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو بھی اپنے لشکر میں شامل فرما لیا۔ ان میں ان کا سردار صفوان بن امیّہ بھی تھا۔

٭ مکّہ کے جو نَومسلم یا مشرک اسلامی لشکر میں شامل ہوئے اُن میںکئی ایک رؤساء بھی تھے،ایسے لوگوں کی تالیفِ قلب کے لیے اﷲ تعالیٰ کے ارشاد (التوبہ:60) کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ نے ان میں بہت سے لوگوں کو پچاس پچاس اونٹ دیے اور رؤساء کو اس سے زیادہ مثلًا ابوسفیان اور ان کے دونوں بیٹوں یزید اور معاویہ کو 300 اونٹ اور 120اوقیہ چاندی، حکیم بن حزامؓ کو200 اونٹ، نضر بن حارث ثقفی کو 100اونٹ، صفوان بن امیّہ کو100 اونٹ ، قیس بن عدی کو 100اونٹ، سہیل بن عمروکو 100 اونٹ اور حویطب بن عبدالعزّٰی کو 100اونٹ دیے اور مکّے سے باہر کے رؤساء میں سے اقرع بن حابس تمیمی کو 100اونٹ، عُیَینہ بن حصن فزاری کو100اونٹ دیے۔ اسی طرح بعض اَور لوگوں کو بھی ان غنائم میں سے کچھ نہ کچھ دیا۔ قبائلی سرداروں سے حسنِ معاشرت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اُن کی قوم کے دل بھی نرم ہو جاتے ہیں۔

٭ آنحضرت ﷺ نے سفروں کے دوران صحابہؓ کو مقامی لوگوں سے میل جول کی اجازت بھی دی۔ چنانچہ تبوک میں قیام کے دوران بعض صحابہؓ اس علاقہ کے لوگوں میں ہلکی پھلکی تجارت بھی کرتے رہے۔

اگر کوئی کھانا وغیرہ پیش کرتا تو اُس کی تالیف قلب کے لیے آنحضورﷺ قبول فرمالیتے۔

٭ رسول اللہ ﷺ غیرمسلموں سے جس شفقت اور عفو سے پیش آتے تھے، دنیا میں اس کی نظیر لانا ناممکن ہے۔ایک وہ بھی تھا جو آپؐ کو سوتے پا کر قتل کرنے کے لیے آپؐ پر تلوار سونت کرکھڑا ہوگیا تھا لیکن خدا ئی تصرف سے آپؐ کے قبضے میں آگیا اور آپؐ نے اس سے احسان کا سلوک کرتے ہوئے اسے معاف فرمادیا۔

٭ قیامِ تبوک کے دوران یحنّہ(یوحنّا) بن روبہ حاکمِ اَیلہ آپؐ کا خط ملنے پر خود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے ساتھ شام، یمن،بحر کے بعض علاقوں کے نمائندے بھی تھے۔ اسی طرح علاقہ جَرَبا ء اور اَذْرُح کے لوگ بھی تھے۔ جب وہ آنحضرت ﷺکی ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے انہیں مصالحت کی پیشکش کی۔چنانچہ اسی وقت ان تمام علاقوں کے نمائندوں سے مصالحت اور اَمان طے ہوگئی اور معاہدہ کی شرائط تحریر کی گئیں۔

اَیلہ کے قریبی علاقے مَقنا پر بھی یحنّہ بن رُوبہ ہی حکومت کرتا تھااوراس نے کسی وقت یہاں کے یہودکو ملک بدر کر دیا تھا۔چنانچہ جب آپؐ نے یحنّہ کو امن کی تحریرلکھ کردی تو اس میں ان اُجڑے ہوئے لوگوں کے لیے بھی رحمت کا معاہدہ بنایا کہ ’’اہلِ مَقنا کو ان کے سامان سمیت ان کے اپنے وطن میں بھیج دو‘‘۔

آنحضرت ﷺ نے یحنّہ کو اس کی ریاست کی حکمرانی پر قائم رکھا۔یہ ریاست چونکہ ساحلِ سمندر پر تھی۔اس لیے آپؐ نے اپنے ایک خط میں خاص طور پر بحری امور کابھی ذکر فرمایا اور یہ بھی لکھا کہ ’… کسی کے لیے اس پانی کا روکنا جائز نہیں ہو گا جس پر وہ آتے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کے بحری اور برّی راستوں سے جن پر وہ سفر کرتے ہیں انہیں روکا جائے گا‘۔

مقنا والے بھی یہود تھے اور مدینہ، خیبر، وادی القرٰی، تیماء اور فدک میں بھی یہود بستے تھے۔لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی نسبت اہلِ مقنا سے آنحضرت ﷺ کا رویّہ زیادہ رحیمانہ تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام کے خلاف کسی سازش میں ملو ّث نہ تھے۔ نیز اَیلہ کی حکمرانی اور پھر رومی سلطنت کے تسلّط کے تحت ہونے کی وجہ سے جبر کا شکار تھے۔

٭ میثاقِ مدینہ کا مطالعہ کریں اور پھر آنحضرتﷺکے خیبر کے یہود کے ساتھ مختلف اوقات میں معاملات کو ملاحظہ فرمائیں۔ آنحضرتﷺ نے جس رحمت اور نرمی کا سلوک ان یہود سے فرمایا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔قومی جرموں کی وجہ سے مدینہ سے یہود کے انخلاکے بعد بھی بہت سے یہود وہاں مقیم تھے۔ باوجود اس کے کہ ان میں سے کئی مختلف سازشوں، ریشہ دوانیوں اور منافقتوں میں ملو ّث رہے، مگر آپؐ نے ان سے ہمیشہ ہی رحمت کا سلوک فرمایا۔ آپؐ تو یہ خواہش اور اُمید رکھتے تھے کہ کاش یہود میں سے دس افراد ہی آپؐ پر ایمان لے آتے تو اس قوم کی کایا پلٹ جاتی۔

تاریخ شاہد ہے کہ آپؐ ہمیشہ ہی یہود سے رحمت کا سلوک فرماتے تھے۔مثلاًایک یہودی قبیلہ بنو عُرَیض علاقہ وادی القریٰ میں آباد تھا اوروہ قبیلہ بنو سعد ہذیم کا حلیف تھا۔ان دونوںکاآپس میں معاہدہ تھا کہ بنوعریض اِ نہیں ہر سال غلّہ کی معیّنہ مقدارادا کیا کریں گے اور اس کے بدلے میںبنو سعد ہذیم دوسرے قبائل کے مقابلے میں ان کا دفاع کریں گے۔ان دونوں قبائل کے وفد آنحضرت ﷺکی خدمت میںمدینہ پہنچے ۔کچھ دن قیام کے بعد یہ لوگ واپس ہونے لگے تو آنحضرت ﷺنے بنو سعد ہذیم کے سردار حضرت جمرہ بن نعمانؓ کو ایک جاگیر تحفۃً عنایت فرمائی اور بنو عریض کویہ تحفہ دیا کہ وہ جتنا غلّہ بنو سعد ہذیم کو اپنے معاہدہ کی رُو سے دیں گے ، اتنا ہی بیت المال سے اُنہیں ادا کر دیا جایا کرے گا۔ یہ آپؐ کی رحمت تھی جو ہمیشہ، مسلسل اور ہر سمت میں آباد قبائل اور قوموں پر وسیع رہی۔

اسی طرح اہلِ مقنا کو آپؐ نے نہ صرف حاکمِ اَیلہ سے رہائی دلائی بلکہ ان کو شہری حقوق واپس دلوائے اور اُن کے تحفّظات کی ذمّہ داری خود سنبھال کر ان کا تعلق براہِ راست اپنے ساتھ قائم کیا ۔حاکمِ اَیلہ سے معاہدے کے بعد مدینے آنے پر آنحضرت ﷺ نے اہلِ مقنا کو خط لکھا کہ: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے گاؤں واپس جا رہے ہو۔ جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس پہنچے تو تم خود کو حفظ و امان میں سمجھو کیونکہ اب تمہارے لیے اللہ کا اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ اور رسول اللہ نے تمہارے گناہ اور وہ سب خون، جن کے لیے تمہارا تعاقب کیا گیا تھا، معاف کردیے ہیں۔ تمہارے گاؤں میں رسول اللہ کے سوا اور رسول اللہ کے نمائندے کے سوا نہ تمہارا کوئی شریک ہو گانہ حصّہ دار۔ آج کے بعد سے تم پر نہ کوئی ظلم ہوگا اور نہ زیادتی۔ اور اللہ کا رسول تمہیں ان تمام چیزوں سے بچائے گا جن سے وہ خود اپنے تئیں بچاتا ہے۔ جو چیزیں رسول اللہ نے یا رسول اللہ کے نمائندے نے معاف کردی ہیں ان کے سوا تمہارے بُنے ہوئے کپڑوں، تمہارے غلاموں، تمہارے گھوڑوں اور تمہاری زِرہوں میں سے اللہ کے رسول کے لیے حصّہ ہے۔ جو کچھ تمہارے نخلستانوں میں پیداہو اور تمہارے ماہی گیر شکار کریں اور تمہاری عورتیں کاتیں، ان سب میں سے ایک چوتھائی تم پر واجب ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہے تمہارا ہے۔

نیز یہ کہ رسول اللہ نے تمہیں ہر قسم کے جزیہ اور بیگار سے مستثنیٰ کردیا ہے۔ اگر تم سنو گے اور اطاعت کروگے تو رسول اللہ تمہارے عزّت داروں کی عزّت کریں گے اور تمہارے قصور معاف کریں گے۔ اہلِ مقنا میں سے جو مسلمانوں سے بھلائی کرے گا، وہ بھلائی خود اس کے اپنے لیے ہوگی۔ اور جو برائی کرے گا، وہ بُرائی بھی اس کے اپنے لیے ہی ہوگی۔ تم پر کوئی امیر نہیں ہوگا مگر وہ جو خود تم میں سے ہو یا پھر رسول اللہ کی جانب سے مقررکردہ ہو۔

٭ انفرادی طور پر بھی اگر کوئی یہودی آپؐ سے زیادتی یا بدکلامی کرتا تو آپؐ اس سے عفو درگزر کرتے اور اسے کسی قسم کا ضرر نہ پہنچنے دیتے تھے۔ چنانچہ ایک یہودی زید بن سعنہ نے آپؐ کو کچھ قرض دیا اور جلد بڑی گستاخی سے آپؐ کے کندھے سے چادر کھینچتے ہوئے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ صحابہؓ میں سے بعض اس پر سختی کرنا چاہتے تھے مگر آپؐ نے انہیں روک دیا۔ آپؐ کا یہی عفو و کرم اس کی ہدایت کا موجب بن گیا۔

٭ قبیلہ بنو حنیفہ جو یمامہ میں آبادتھا 9ہجری میںاس کا سترہ افرادکا وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد کے تقریباً سب ارکان نے اسلام قبول کیااوریہ لوگ چند دن مدینے میں ٹھہرے۔ ان میں مُسَیْلَمَہ بن حبیب عرف مسیلمہ کذّاب بھی تھا۔ آنحضرت ﷺ حضرت ثابت بن قیسؓ کے ہمراہ خوداس سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے۔آپؐ کے ہاتھ میںکھجور کی ایک چھڑی تھی۔مسیلمہ آپؐ سے کہنے لگا کہ آپؐ اُس کی حکومت کے راستے میں روک نہ بنیںاور اُسے اپنے بعد اپنا جانشین مقرر کر دیں تو وہ آپ ؐ کی پیروی کر لے گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’اگر تُو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے تومیں تجھے یہ بھی دینی پسند نہیں کروں گا۔اﷲ تعالیٰ نے تیرے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے وہ نافذ ہو کر رہے گا۔مجھے تیرا انجام دکھایا گیاہے۔پس میں جا رہا ہوں،باقی باتیں ثابت بن قیسؓ سے پوچھ لو۔اگر تُو نے مجھ سے پیٹھ پھیری تواللہ تعالیٰ تجھے ذلیل و خوار کردے گا‘‘۔ حسنِ معاشرت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ایک معاند آپؐ کے سامنے اپنے آپ کوآپؐ کی ریاست میں حقدار بنا کر آپؐ کے مقابل پر کھڑا ہو رہا ہے۔ آپؐ اسے کچھ نہیں کہتے بلکہ اسے اس کے انجام سے آگاہ کر کے اسے تقدیر کے دھارے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ مسیلمہ نے واپس جاکر آپؐ کی زندگی میں ہی نبو ّت کا دعویٰ کیا اور بھاری تعداد میں لوگوں کوبھی ساتھ ملا لیا۔ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اس نے حضرت ابوبکرؓ کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا تو حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کھا کر لڑائی میںقتل ہوا۔

٭ طائف کاسب سے بڑا اور جنگجو قبیلہ بنو ثقیف تھااور بہت بڑی اہمیّت کا حامل تھا۔اس قبیلے کا 19 ارکان پر مشتمل وفد 9ہجری میںمدینے آیا۔ اس وفد کا سربراہ عبد ُیالِیل تھا جس نے 13 سال پہلے آنحضرت ﷺ کی دعوتِ اسلام کو نہ صرف گستاخی کے ساتھ ردّ کر دیا تھا بلکہ آپؐ کو شہر سے نکل جانے پر بھی مجبور کیاتھا اور پھر آوارہ لڑکے آپؐ کے پیچھے لگادیے جنہوں نے مسلسل تین میل تک آپؐ کا پیچھا کیا اور آپؐ پر پتھر برسائے۔ اس سے آپؐ کا بدن مبارک خون سے ترَبتر ہوگیا۔ آپؐ نے اس کے بدلے میں ان کی ہلاکت کی نہیں بلکہ ہدایت کے لیے دعا کی تھی۔جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبولیّت بخشاچنانچہ آج وہی شخص ایک وفد کے ہمراہ آپؐ کی غلامی کا جو ٔا پہننے کے لیے بھی آپ ؐکی خدمت میں حاضر ہواتھا۔وفد مدینے پہنچا تو آپؐ نے اسے خوش آمدید کہا اور اس کے لیے مسجد میں ہی خیمہ لگوادیا۔

گو یہ لوگ اسلام کی آغوش میں آنے کے لیے حاضر ہوئے تھے، لیکن ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کوطائف سے نکالنے اور زخمی کرنے کے جرم میں ملوّث اور دوسری مرتبہ غزوۂ حنین میں آپؐ سے برسرِ پیکار ہوچکے تھے۔ان سنگین جرائم کے بارے میں آپؐ نے ان سے کوئی گلہ شکوہ تو کجا، ان کا تذکرہ بھی نہیں کیا۔

٭ یمن کے علاقہ نجران کے عیسائیوں کاساٹھ افراد پر مشتمل وفد جب مدینہ پہنچا تو آنحضرت ﷺاس وقت نمازِ عصر کے بعد مسجد میں صحابہؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔مسجد میں پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ ان کی عبادت کا وقت ہو گیا ہے لہٰذا وہ عبادت کرنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے انہیں مسجدِنبوی میں عبادت کرنے پر خوش آمدیدکہتے ہوئے صحابہؓ سے فرمایا کہ جس طرح بھی وہ چاہتے ہیں، انہیں اپنی عبادت کرنے دیں۔ چنانچہ ان عیسائیوں نے آزادی کے ساتھ مشرق کی جانب رُخ کر کے اپنی عبادت کی۔

عبادت کے بعد آپؐ نے انہیں امن وسلامتی پر مبنی اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے اس سے انکار کیااور آپؐ سے تفصیلی بحث کی۔

وفدِنجران کے ان اکابرین نے آنحضرت ﷺ کی اس دعوت کو ایمانی اور دینی لحاظ سے تو قبول نہ کیا مگر اسلام کے پُر امن نظام کو تسلیم کرتے ہوئے آپؐ کی خدمت میں عرض کی کہ وہ آپؐ سے صلح کی درخواست کرتے ہیں اور جو حکم آپؐ انہیں دیںگے وہ انہیں قابلِ قبول ہو گا۔آپؐ نے ان سے جن امور پر صلح قبول کی اور معاہدہ لکھ کر دیااس کا ایک حصہ یہ تھا کہ : ’’… نجران اور ان کے آس پاس والوں کی جان، مال، مذہب، ملک، زمین، حاضر، غائب اور ان کی عبادتگاہوں کے لیے اللہ تعالیٰ اور محمّد نبی ﷺ کی ذمّہ داری ہے۔نہ تو کوئی اسقف(غالباً آرچ بشپ۔ناقل) اس کے منصب سے، نہ کوئی راہب اس کی رہبانیت سے، اور نہ کوئی کاہن اس کی کہانت سے ہٹایا جائے گا۔‘‘

تقریباً ایسا ہی معاہدہ آپؐ نے یمن کے ایک اَور قبیلے بنوحارث بن کعب کے وفد کے لیے بھی تحریر فرمایا۔

ہمارے پاک نبی ﷺ کی یہ تحریریں قیامت تک یہ گواہی دیتی چلی جائیں گی کہ آپؐ حقیقی طور پر عملاً اور مؤثر رنگ میں مذہبی رواداری، آزادیٔ ضمیر اور انسان کے جان مال، عزت، نفس اور جذبات کے تحفظ کے سامان کرنے والے تھے۔ چنانچہ ساری زندگی مذہبی آزادی کے لیے آنحضرت ﷺکی جدّوجہد کی اعلیٰ مثال ہے۔اس کے ذریعے آنحضرت ﷺ نے اسلامی حدودِ مملکت میںنہ صرف آزادیٔ ضمیر ومذہب کو قائم فرمایا بلکہ اسے احکامِ شریعت میں بھی داخل فرمایا۔ ان احکام کے ذریعے آپؐ نے اسلامی سلطنت تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی مہیّا کی جو اسلامی سلطنت کا مطیع و محکوم تھا۔ آپؐ نے ان کے جملہ حقوق کا تحفّظ نیز فرائض کا تعیّن کر کے انہیںپُرامن زندگی جینے کااعزاز واعتمادعطا فرمایا۔

ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ تو وہ رحیم و کریم وجود تھے جو اپنی مسجد میں خدا کا شریک ٹھہرانے والوں کو بھی عبادت کے لیے جگہ دیتے تھے۔آپؐ تو وہ تھے جواپنے خون کے پیاسے دشمن کو بھی اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دیتے تھے۔ آپؐ نے صرف یہی نہیں فرمایا کہ جو مسلمان کسی ایسے غیرمسلم کے قتل کا مرتکب ہوگا جو کسی ( لفظی یا عملی) معاہدے کے نتیجے میں اسلامی حکومت میں داخل ہوچکا ہے وہ ( علاوہ اس دنیا کی سزا کے) قیامت میں جنّت کی ہوا تک سے محروم ہو گا۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ جو مسلمان کسی ایسے غیر مسلم پر جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہے کوئی ظلم کرے گا یا اسے کسی قسم کا نقصان پہنچائے گایا اس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی دلی خوشی اور رضامندی کے لے گا تو اے مسلمانو! سن لو کہ قیامت کے دن مَیں اس غیر مسلم کی طرف سے ہو کر اس مسلمان کے خلاف خدا سے انصاف چاہوں گا۔
پس حسنِ معاشرت کے شہنشاہ،ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یہ وہ حسین نمونہ اور حسین تعلیم تھی جسے آج بھی ہم مسلمانوں کو اپنے پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

……٭……٭……٭……

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا نومبر 2012ء میں مکرم پروفیسر محمد اسلم صابر صاحب کا نعتیہ کلام شائع ہوا ہے۔ اس نعت میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

آپؐ پر لاکھوں درود اور آپؐ پر لاکھوں سلام
ہو قبولِ بارگاہ یہ ہدیہ از احقر غلام
لفظ نکلے آپؐ کے سب کوثر و تسنیم سے
اِک جہاں زندہ ہوا ہے آپؐ کی تعلیم سے
بے ہنر بے علم لوگوں کو مرے پیارے رسولؐ
آپؐ نے سکھلائے آکر کیا عجب زرّیں اصول
دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوم لائق ہوگئی
اور سب اقوامِ عالم پر وہ فائق ہوگئی
سیکھ لیں انساں نے پھر توحید کی باریکیاں
ہوگئیں عنقا دلوں سے شرک کی تاریکیاں
رحمۃٌللعالمیں ہے آپؐ کا قدسی وجود
آپؐ پر لاکھوں سلام اور آپؐ پر لاکھوں درود

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اکتوبر 2012ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نعت شامل اشاعت ہے۔ اس نعت میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

ہم کو عشقِ مصطفی ؐ میں سب لقب اچھے لگے
ملحد و گستاخ ، کافر ، بے ادب ، اچھے لگے
ہم نے سیکھے ہیں محمدؐ سے قرینے پیار کے
زخم کھانے کے دعا دینے کے ڈھب اچھے لگے
اُن کا بھی دعویٰ یہی کہ آپؐ سے منسوب ہیں
جن کو دہشت اور تشدّد کے کسب اچھے لگے
دشمنِ جاں ہیں مرے پر اُمّتی ہیں آپؐ کے
بس اسی رشتے سے مجھ کو سب کے سب اچھے لگے
دھیرے دھیرے منکشف ہوتی ہے عظمت آپؐ کی
آپؐ گزرے سب دنوں سے بڑھ کے اب اچھے لگے

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جولائی 2012ء میں مکرمہ خانم رفیعہ صاحبہ کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

جو سمجھے ہم رموزِ غم تو گھبرایا نہیں کرتے
متاعِ اشک اب آنکھوں سے برسایا نہیں کرتے
طلاطم میں جو بحرِ آگہی کے کُود جاتے ہیں
مُرادوں کے جواہر بِن لیے آیا نہیں کرتے
مرے ویرانۂ دل میں بپا جشنِ مسرّت ہے
ہم اب آنکھوں سے آبِ ناب برسایا نہیں کرتے
اگرچہ جسم پابندِ سلاسل کر دیا جائے
مگر جذبات قید و بند میں آیا نہیں کرتے
مئے عشقِ محمد مصطفیؐ کی بے خودی میں ہیں
سرور و کیف سے باہر کبھی جایا نہیں کرتے
ملا اِک دلربا محبوب جب چاہیں وہ ملتا ہے
ہم اپنے درمیاں اب غیر کو لایا نہیں کرتے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button