متفرق مضامین

احمدیت کے علمبردار دو گروہوں کے صدی کے سفر کا تقابلی جائزہ (قسط نمبر 4)

تراجم قرآن مجید

ابتدا سے لے کر آج تک احمدیہ انجمن اشاعت اسلام نے جس چیز کو بڑے فخر اور تعلّی کے ساتھ پیش کیا ہے ،وہ مولوی محمد علی صاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن مجید ہے۔مجاہد اعظم،سلطان القلم، مفسّر قرآن مجیدمبلغ دینِ اسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: ‘‘جب ہم قادیان سے نکلے تو غالباً تین ہی آدمی تھےیا شاید چار ہوں گے، البتہ ایک چیز ہمارے ہاتھ میں تھی ، اور وہ تھا قرآن شریف ۔ جب قرآن شریف لے کر ہم یہاں لاہو ر میں آگئے تو دوسرے گروہ کی طرف سے بھی اعلان ہواکہ ہم اس انگریزی ترجمہ قرآن کی کیا پروا کرتے ہیں ، ہم ایک پارہ ماہوار کے حساب سے اس کام کو جھٹ پٹ ختم کر لیں گے اور ایک پارہ انگریزی ترجمہ کا وہاں سے شائع بھی ہوا ۔ اور انگریزی ترجمہ قرآن وہ کام ہے جس کی خواہش کا اظہار حضرت مسیح موعود نے1891ء میں اپنے دعویٰ کے ساتھ ہی کیا …ہم تو تھے ہی گنتی کے آدمی بس یہیں آکر اللہ تعالیٰ کی قبولیت ظاہر ہوتی ہے ، جوبات ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھی ، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ہاتھوں انجام پا گئی ، دوسری طرف پچیس سال گزر گئے اور ان سے یہ کام اب تک نہیں ہوسکا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الآخَرِ ایک کی قربانی قبول ہوگئی ، دوسرے کی نہ ہوئی… دوسری طرف بڑے بڑے اعلان اور دعوے ہوئے ، آج پچیس سال گزر گئے لیکن قادیان کا ترجمہ ابھی تک نہ چھپا، اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ ترجمہ کہاں ہے اور کب چھپے گا’’۔

( خطبہ جمعہ23دسمبر1938ء ، از حضرت امیر۔پیغام صلح 17جنوری 1939ء صفحہ5 ،6۔جلد 27شمارہ3،4)

‘‘مسلمان کے ہاتھ میں سب سے بڑی دولت خدا کا کلام قرآن شریف ہے، مگر اس کی طرف اُن کی توجہ سب سے کم ہے۔ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے تعمیری کام میں سب سے بالاتر قرآن شریف ہی کی خدمات کاکام ہے ۔1914ء میں انجمن کی بنیاد رکھی گئی اور1918ء کے شروع میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ شائع ہو گیا’’۔

(خطبہ صدارت ، از حضرت امیر۔پیغام صلح 9جنوری 1939 ،صفحہ11 ،کالم2۔ جلد 27شمارہ2)

اب ان کے ایک معتقد کا بیان ملاحظہ ہو:‘‘اب دنیا کی شاید ہی کوئی قابل ذکر لائبریری ایسی ہوگی جہاں اس انجمن کا شائع کردہ انگریزی ترجمۃ القر آن اور سیرت رسولِ پاک ؐمحققین کے قلوب میں اسلام اور بانی اسلام علیہ التحیۃ والسلام کے لیے عزت و محبت کا بیج نہ بو رہے ہوں ۔ اگر مشرق و مغرب میں کسی لٹریچر کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی ہے ، تو وہ وہی لٹریچر ہے جس پر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی مہر ثبت ہے۔آج اگر جاوا، ٹرینیڈا ڈ یا فجی جیسے دور دراز جزائر میں مسیحیت کی بڑھتی ہوئی رَو کو روکنے کے لیے مجاہدین اسلام سینہ سپر ہوکر پہنچتے ہیں،تو وہ اسی انجمن کے جانباز مجاہد ہیں۔ خود مسیحی دنیا کے سربرآوردہ مشنری آج یہ اعتراف کرتے ہیں کہ دنیا میں ایک ہی اسلامی جماعت ہے جواسلام اور پیغمبر اسلام کے ناموس کے تحفظ کا تہیہ کیے ہوئے ہے، اور وہ جماعت احمدیہ لاہور ہے’’۔

(خطبہ افتتاحیہ ، از مرزا مسعود بیگ۔پیغام صلح 4جنوری 1939 ،صفحہ11 ،کالم2۔ جلد 27شمارہ1)

بوم کے سائے کو ظلِ ہما سمجھنے والے اس گروہ قلیل کی اخلاقی گراوٹ پیغام صلح 5مارچ 1975ء کے شمارہ کی اس خبر سے عیاں ہوتی ہے:‘‘روم جل رہاہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔ربوہ رائیڈنگ کلب کے زیر اہتمام چوتھا سالانہ گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ’’۔ اور اگلے شمارے کی خبرمزید ذہنی پستی کی غماز ہے۔ ملاحظہ ہو: ‘‘احمدی گھوڑے اور اللہ کے گھوڑے۔ اگر آپ کو کبھی لاہور میں گھوڑے شاہ کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں مٹی کے بنے ہوئے گھوڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور اگر ربوہ جانے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے کہ ربوہ صحیح معنوں میں ‘گھوڑا گلی’ بنا ہواہے۔ اور وہاں کے ریس کلب کے زیر اہتمام ٹورنامنٹ بھی ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں144؍گھوڑوں نے شرکت کی ۔ یہ ٹورنامنٹ‘ الفضل’ کے الفاظ میں ‘رائیڈنگ کلب’، ‘فرس للرحمٰن ’، ‘خیل للرحمن’ ربوہ کے زیر اہتمام ہواہے۔اس کے علاوہ وہاںمستورات کو ‘رائل پارک’ میں سواری سکھانے کے لیے ایک کلب قائم کی گئی ہے، جس کا نام ‘خولہ کلب ’ ہے ۔ اس کا تذکرہ الفضل نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ عوام کا اس کوچہ میں گزر نہیں اور‘‘خواص’’ کی نظریں ہی یہاں پہنچتی ہیں ۔ کہاں ‘اشاعتِ قرآن ِعظیم ’ کے دعوے اور کہاں یہ بے نمکی’’۔

(پیغام صلح 5مارچ1975ء صفحہ 7۔جلد 62شمارہ 10۔پیغام صلح 12مارچ 1975ء صفحہ 2۔جلد62شمارہ 11)

اب تاریخی حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔

یکم جون 1909ء کو صدر انجمن احمدیہ قادیان نے قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کا کام مولوی محمد علی صاحب کے سپرد کیا۔مولوی صاحب نے اس ضمن میں یہ درخواست پیش کی کہ پہلے تراجم اردو انگریزی اور لغات عربی و انگریزی کا مطالعہ کیا جائے گا۔ دو سال میں ترجمہ ہوگا ۔کاغذ وغیرہ کے علاوہ اس کام پر تقریباً چھ ہزار روپے خرچ آئے گا۔ ترجمہ کے کام کے لیے کھلی جگہ پر ایک ہوادار مکان اور دفتر بنوایا جائے ۔6جون کو انجمن نے اس درخواست کو منظور کیا اور پرانی آبادی کے باہر حسب منشا گھر اور دفتر بنوایا گیا۔ ستمبر 1910ء میں مبلغ 411؍ روپے کے ٹائپ رائٹر سمیت کل مبلغ 593؍ روپے کا سامان ترجمہ کے کام کے لیے خریدا گیا۔مئی 1913ء میں مولوی صاحب کو ایک مددگاراور ضروری کتب کے ہمراہ چھ ماہ کے لیے ایک پہاڑی مقام پر بھیجا گیا۔جنوری 1914ء میں مولوی محمد جی صاحب کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ غرض جماعت نے انگریزی ترجمہ کی تکمیل کے لیے معقول مشاہرے کے ساتھ مولوی صاحب کو ہر ممکن سہولت فراہم کی ، تب کہیں تین سال میں ترجمے کاکام مکمل ہوا، اور نوٹ لکھنے کا کام شروع کیا گیا۔ ترجمہ کے نوٹ آخری مراحل میں تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی۔ اور خلافت ثانیہ کا دَور شروع ہوا، جس کے سامنے انہوں نے سرتسلیم خم نہ کیا۔ اب صالحانہ اور دیانت دارانہ طریق یہ تھا کہ مولوی محمد علی صاحب انجمن کے ملازم کی حیثیت سے انجمن کے خرچ پر ترجمے کا جو کام کرچکے تھے وہ اس کے سپرد کر دیتے مگر انہوں نے اس کے برعکس طریق اختیار کیا، اور انجمن کو چھ ماہ کی رخصت کی درخواست دے کر مکمل مسودہ، دفتر کا ٹائپ رائٹر اور دیگر ضروری کتب ہمراہ لے گئے ۔ جب انجمن نے ان اشیا کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہوںنے لکھا: ‘‘میں موجودہ انجمن کے نظام اور اس کی تمام کارروائی کو خلاف قانون سمجھتا ہوں ، اس لیے اس کا وہ ریزولوشن جس کے حوالے سے آپ نے مجھے مخاطب فرمایاہے میرے لیے واجب التعمیل نہیں ہے’’۔

( تاریخ احمدیت جلد 3صفحہ 289تا 293۔ ایڈیشن 2007ء قادیان)

چنا نچہ ‘‘آزادی ضمیر اور حُریت فکر کے علمبردار ،مطلق مذہبی آمریت ، غلامانہ اندھی پیر پرستی کے برخلاف اس مجاہدِ اعظم’’ نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کی کتابوں اور ٹائپ رائٹر کی مدد سے انگریزی ترجمۃ القرآن کی قابل فخر خدمت سر انجام دی۔فرماتے ہیں: ‘‘اشاعت اسلام اور عُلوم فرقان کی خدمت کے جس کام کی توفیق بفضلہ تعالیٰ ہمیں نصیب ہوئی ، یہ کبھی انجام نہ پاسکتی تھی ، اگر 1914ء میں ہم میاں محمود احمد کی بیعت کر لیتے’’۔

( پیغام صلح 12نومبر 1975ء صفحہ 14۔ جلد 62، شمارہ 45۔46)

پھر اس ‘منصور جرنیل’ نے 1951ء کی ابتدا میں ‘‘ہولی قرآن ٹرسٹ’’ قائم کیا :‘‘اور اس کے ٹرسٹیوں میں اپنے علاوہ ان پانچ عزیزوں کے نام لکھے، جن کے متعلق آپ کو یقین تھا کہ وہ ہر حالت میں اس ٹرسٹ کو ان مقاصد کے مطابق چلائیں گے جو آپ چاہتے تھے…اس موقع پر ٹرسٹ ڈِیڈ پر یہ اعتراض اٹھا کہ مولانا صاحب نے اپنے آپ کو حنفی المذہب لکھا ہے، اور احمدیت کو چھپایا ہے ،ٹرسٹ ڈِیڈ تو ایک قابل وکیل نے بنایا تھا، اور اس کی رائے کے مطابق یہ لکھا جانا ضروری تھا کہ یہ حنفی فقہ کے تحت وقف ہوا ہے۔ اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کوحنفی فقہ کا پیرو لکھا ہے ’’۔

(مجاہد کبیر صفحہ345،346،ایڈیشن دسمبر 1962ء۔ ناشر احمدیہ اشاعت اسلام لاہور)

اشاعت قرآن عظیم کے حوالے سے جماعت احمدیہ کو ‘بے نمکی’ کا طعنہ دینے والے اس گروہ کو اپنے بلند بانگ دعاوی کے مقابل پر ایک سو چار سال میں صرف سات زبانوں میں اس پاک کتاب کا ترجمہ کرنے کی توفیق حاصل ہوئی جن میں انگریزی ، اردو، جرمن، ڈچ، سپینش، انڈو نیشین اور جاوانیز ترجمہ شامل ہے۔

(http://www.aaiil.org/text/hq/hqmain.shtml)

پیغام صلح یکم اپریل 1989ء کے پہلے صفحے پر چینی زبان میں ترجمے کا عکس ،یکم جولائی کے شمارے کے پہلے صفحے پر فرانسیسی اور یکم اگست 1989ء کے پیغام صلح کے پہلے صفحے پر جاپانی زبان میں قرآن مجید کے ترجمے کا عکس شائع کیا گیا،مگر وہ تراجم منصہ شہود پہ نہ آسکے۔

دوسری جانب، بظاہر ایک کمزور جماعت کو صرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِباسعادت میں اردو، انگریزی، جرمن، ڈچ، ڈینش، سواحیلی،لوگنڈا، مینڈی،فرانسیسی، ہسپانوی، اٹالین، روسی، پرتگیزی،کِکُویو، کیکامبا، انڈونیشین اوراسپرانتو ،کل سترہ زبانوں میں تراجم قرآن کی ا شاعت کی توفیق حاصل ہوئی۔کلام اللہ کا مرتبہ اور شرف دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے دس ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی قرآنی تفسیر آپؓ کے تبحر علمی کی عملی مثال ہے۔

(سوانح فضل عمر جلد سوم صفحہ 173۔ایڈیشن2006ء ،قادیان)

آج صرف اور صرف خلافت سے وابستہ جماعت حقیقی اور کامل نجات کی راہیں کھولنے والی اس کتاب حمید کی اشاعت و ترویج میں پوری تندہی سے مصروف ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک اکناف عالم میں بولی جانے والی 75زبانوں میں قرآن عظیم کا مکمل ترجمہ شائع ہو چکاہے۔ وباللہ التوفیق!

(الفضل انٹرنیشنل لندن 14ستمبر 2018ء صفحہ 14۔ جلد 25،شمارہ37)

مسیح محمدی کے حقیقی دعاوی اورتعلیم کی علمبردا رجماعت کو یہ بھی سعادت نصیب ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کے ذریعہ 1993ء میں عالمی درس القرآن کا آغاز فرمایا۔ پھرجولائی 1994ء میں اِسی آسمانی مائدہ کے توسط سے عالمی ترجمۃ القر آن کلاس کا آغاز ہوا، اور مسیح دوراں کے اس مطہر خلیفہ نے اس پاک کتاب کے اسرارورموز کھول کر عرفان کے دریا بہائے ،قرآن کریم کے فیض کے چشمے جاری کیے اور اس پرحکمت کتاب سے عشق کے اسلوب سکھائے،اور 24فروری 1999ء کو 305گھنٹے کی کلاسز کے ذریعہ ایم ٹی اے پر ترجمۃ القرآن کا دَور مکمل کیا۔

این سعادت بزور بازو نیست ۔ تانہ بخشدخدائے بخشندہ

برلن مشن

گذشتہ ایک سو سال سے احمدیہ انجمن لاہور کے لٹریچر میں جس مشن کو ایک عظیم کارنامے اور بڑی کامیابی کے طور پر نمایاں کیا جاتا ہے وہ برلن مشن کا قیام ہے۔جہاں کی مسجد کو ایشیائی اور یورپی فن تعمیر کے امتزاج کا شاہکار اور ‘مِنی تاج محل’ (mini Taj Mahal)قرار دیا جاتا ہے۔اس عظیم الشان کارنامے کے بارے میں ان کے بزرگان کے تحریر کردہ حقائق درج ذیل ہیں: ‘‘تبلیغ اسلام میں مشکلات کا مقابلہ کرنا احمدیت کے جوش کا خاص امتیاز ہے۔1922ء میں جرمنی میں ایک مشن کی بنیاد رکھی گئی۔اور اس کے ساتھ برلن میں ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد ڈالی گئی… مسجد نہایت شاندار اور خوبصورت ہے، 46 فٹ لمبی اور 40فٹ چوڑی ہے۔ اور اس کے ساتھ مبلغ کے رہنے کا مکان بھی ہے۔اس کے علاوہ ایک سہ ماہی رسالہ مسلمش ریویوبھی جرمن زبان میں جاری کیا گیا ہے، جو مفت تقسیم ہوتا ہے۔قرآن مجید کا جرمن ترجمہ شائع کیا گیا۔ اس مشن کے اثر سے کئی سوجرمن جو اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہیںداخل اسلام ہو چکے ہیں، جن میں ڈاکٹر حمید ماروس پی ایچ ڈی معروف جرمن فلاسفر قابل ذکر ہیں’’۔

( مجدّد اعظم جلد سوم صفحہ334۔ بار اوّل مارچ 1944ء)

‘‘دوسرا مشن 1922ء میں برلن دارالخلافہ جرمنی میں قائم کیا گیا، اور مشن کے قیام کے ساتھ ہی یہاں ایک مسجد بنوانے کی تجویز ہوئی ۔چنانچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرچ سے ایک عالی شان مسجد جو برلن مسجد کے نام سے مشہور ہے بنوائی گئی۔ جرمن زبان میں ایک سہ ماہی رسالہ بھی نکلتا ہے اور مفت تقسیم ہوتا ہے۔مسجد میں باقاعدہ لیکچر اسلام کے متعلق ہوتے ہیں، جن سے اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں… اس مشن کے ذریعہ وسط یورپ میں علما اور فضلا کا ایک گروہ اسلام میں داخل ہوا ہے’’۔

(خطبہ صدارت، بسلسلہ سلور جوبلی۔ پیغام صلح 9جنوری 1939ء صفحہ 12 ۔ جلد 27، شمارہ 2)

‘‘برلن مسجد کے پہلو میں ایک دکان اور فلیٹ بنانے کی تجویز ۔سرینام کے ایک متمول دوست نے پانچ ہزار مارک اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کا ذمہ لے لیا۔آج29اگست 1970ء کو ایک مختصر سی نجی مجلس میںراقم نے اس امر کا ذکر کیا کہ برلن مسجد کا احاطہ وسیع ہے۔ اس کے تین اطراف میں شاہی سڑکیں ہیں ۔ اس احاطہ کے کسی گوشہ میں اگر ایک دکان تعمیر کی جائے اور اس میں کشمیر اور پاکستان کے نوادرات اور دوسرا مال فروخت کیا جائے تو اس سے برلن مشن کے اخراجات کسی حد تک پورے ہو سکتے ہیں اور اگر دکان میں مال بڑھایا جائے تو برلن مشن کے پورے اخراجات بھی میسر آسکتے ہیں۔ اس پر ایک صاحب جن کا نام محمد راجہ صاحب ہے نے کہا کہ میں اس کام کے لیے پانچ ہزار جرمن مارک دیتا ہوں۔ اس پر مزید گفتگو چلی تو میں نے تجویز کیا کہ اگر اس دکان پر مختصر سا رہائشی مکان تعمیر کیا جائے، تو اس مکان سے کرایہ کی رقم بھی وصول ہوتی رہے گی۔ اس پر راجہ صاحب موصوف نے کہا کہ اس حصہ کی تعمیر پر جو رقم تجویز کی جائے گی وہ بھی میں ادا کروں گا ۔ میں نے اس پر تجویز کیا کہ اس عمارت کا نام محمد راجہ میموریل ہائوس رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ایسا نہ کریں، میں رضا ئےالٰہی چاہتا ہوں …میں نے کہا انجمن آپ کی قدر دانی کرتے ہوئے اس تعمیر کا نام محمد راجہ میموریل ہائوس رکھے گی ۔ اس پر انہوں نے یہ تجویز منظور کر لی’’۔

(مکتوب حضرت امیر صدر الدین۔پیغام صلح 16ستمبر 1970ء صفحہ 1۔جلد 58شمارہ 37)

آج 96سال گزرنے کے بعد بھی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی یہ عظیم الشان مسجد یکا وتنہا کھڑی ہے ۔ کوئی شگوفہ پھو ٹا، نہ کوئی نیا غنچہ کھلا۔ نہ میموریل ہائوس بنے ، نہ کوئی نوادرات بکے۔نہ مسجد کو بھرنے والی جماعت پیدا ہوئی، نہ قربانی کرنے والا گروہ تیار ہوا۔بلکہ حقیقت کیا ہے ، حضرت امیر فرماتے ہیں: ‘‘برلن مسجد کی خوبصورتی کو دیکھ کر وہاں کے مونو منٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس مسجد کو ان عمارتوں میں شامل کر دیا جو تاریخی عمارات ہوتی ہیں۔ جہاں ہم نے اس کی مرمت پہ خرچہ کیا ، وہاں مونومنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ جرمنی میں یہ واحد مسجد ہے جو نہ صرف سب سے پرانی عمارت ہے بلکہ واحد اسلامی عبادت گاہ ہے جس میں بغیر فرقہ واریت ، قومیت ، شہریت ، مُلکیت سب کے لیے عبادت اور سیاحت کے دروازے کھلے ہیں … یہ مسجد آج بھی یورپ میں مقبول ترین مسجد ہے اور ان شاء اللہ یہاں سے ہی اسلام کا سورج طلوع ہوگا… آج ہم اس مقام پرکھڑے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مسیح الزمان کو سفید پرندے پکڑنے کی پیشگوئی کی تعبیر پوری ہونے والی ہے ۔ ان شاء اللہ۔ اِس تعبیر کی بنیاد تقریباً سو سال پہلے مسجد برلن کے ذریعہ ہو چکی تھی۔حضرت مولانا محمد علی (امیر اوّل) نے فیصلہ کیا کہ برلن میں مسجد تعمیر کی جائے گی، اور حضرت مولانا صدر الدین جو ہمارے دوسرے امیر تھے، ان کے ذمہ یہ کام لگا اور پانچ سال کی مسلسل محنت نے ایک چٹیل میدان میں ایک شاندار تاج محل نما عمارت کھڑی کر دی … دوسری جنگ عظیم میں جب سارا برلن تباہ ہو گیا تو ہماری مسجد کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔بہر حال شدید بمباری سے مسجد کو نقصان پہنچا… اُس وقت منو منٹ ڈیپارٹمنٹ نے 80 فیصد خرچ کا حصہ دیا ، اور جماعت کے ذمہ 20فیصد آیا۔لیکن اب بدلتے وقتوں اور جرمنی کی مالی مشکلات کی وجہ سے منومنٹ ڈیپارٹمنٹ صرف 20 فیصد ادا کر رہا ہے، اور باقی 80 فیصد جماعت نے برداشت کرنا ہے … اس لیے آج میں دنیا بھر میں بسنے والے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں ، اور اس یقین کے ساتھ کہ ہم اپنے بزرگوں کی روایات کو قائم کرتے ہوئے فراخ دلی سے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس کار خیر میں حصہ لیں گے۔اس مسجد کو قائم رکھنے کا واحد ذریعہ اور اہمیت یہی ہے کہ کل کو اس کے ذریعہ یورپ میں اسلام پھیلے گا … اسی کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ‘‘سورج مغرب سے طلوع ہوگا’’ پوری ہوگی’’۔

( حضرت امیر کی بین الاقوامی اپیل برائے جامعہ مسجد برلن۔ پیغام صلح یکم تا 31جنوری 2017ء صفحہ 11،12۔ جلد 02، شمارہ 1،2 )

یہ وہ اعتراف حق ہے جو حضرت امیر کی زبان سے جاری ہوا،کہ سو سال میں جرمنی میں وہ جماعت پیدا نہ ہو سکی جو چالیس فٹ کی اس مسجد کی تزئین نَو کا خرچ خود برداشت کر سکے۔اور اس کے لیے ساری دنیا کی جماعتوں سے مالی مدد طلب کی جاری ہے ۔

اب نظام خلافت کے تابع جماعت کا حال سنیے: ‘‘1923ء کے آخر میں مولوی مبارک علی صاحب بی اے بنگالی اور ملک غلام فرید صاحب ایم اے کی کوشش سے یورپ میں دوسرا اسلامی مشن جرمنی میں قائم ہوا۔ مولوی مبارک علی صاحب جو 1920ء سے لندن میں تبلیغِ اسلام کر رہے تھے لندن سے سیدھے برلن بھجوائے گئے ۔اور ملک غلام فرید صاحب ایم اے کوحضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے قادیان سے بتاریخ 23نومبر 1923ء کو روانہ فرمایا، جو 18 دسمبر 1923ء کو برلن پہنچے… حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا ارادہ یہاں شاندار اسلامی مرکز قائم کرنے کاتھا، اور اس کے لیے مسجد برلن کی تحریک بھی آپ نے فرمائی، مگر جرمنی کے حالات یکا یک بدل گئے …جس مسجد کی تعمیر کا خرچ پہلے تیس ہزار روپے اندازا کیا گیا تھا وہ پندرہ لاکھ روپے بتایا جانے لگا۔چنانچہ مئی1924ء میں یہ مشن بند کردیا گیا، اور ملک غلام فرید صاحب لندن چلے گئے۔اور مورخہ 20 جنوری 1949ء کومحترم چودھری عبد اللطیف صاحب بی اے کے ذریعہ اس مشن کا احیاء ہوا۔

( تاریخ احمدیت ،جلد4۔صفحہ 411،412۔ایڈیشن 2007ء قادیان)

1948ء میںجرمنی میں خط و کتابت کے ذریعہ کم و بیش بیس افراد پر مشتمل جماعت قائم ہوچکی تھی، جس کی دیکھ بھال محترم شیخ ناصر احمد صاحب مبلغ سلسلہ سوئٹزرلینڈکر رہے تھے جو متعلقہ حکام سے اجازت لے کر گاہے گاہے جرمنی تشریف لے جاتے رہے۔ایک بار ہمبرگ ریڈیو نے آپ کی تقریر بھی نشر کی۔

( تاریخ احمدیت ،جلد11۔صفحہ 84۔ایڈیشن 2007ء قادیان)

مورخہ20جنوری1949ءکومحترم چودھری عبد اللطیف صاحب بی اے واقف زندگی کے ذریعہ جرمنی میں ازسرنو مشن جاری ہوا۔آپ نے ہمبرگ شہر کے وسط میں ایک سرکاری عمارت کے وسیع ہال میں پہلا تبلیغی اجلاس منعقد کیا۔اور بفضل خدا اسی شہر میں آپ کی رہائش کا انتظام ہوا۔1954ء کے شروع میں محترم شیخ ناصر احمد صاحب مبلغ سلسلہ سوئٹزرلینڈ کو قرآن مجید کے جرمن ترجمہ کی اشاعت کی توفیق ملی، جس نے قبول عام کی سند حاصل کی، اور ملک کے علمی طبقہ پر گہرا اثر ڈالا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ یورپ کی کسی زبان میں شائع ہونے والا قرآن مجید کا پہلا ترجمہ تھا۔اسی سال نومبر میں احمدی یورپی مشنوں کی چوتھی کانفرنس ہمبرگ میں ہوئی، جس میں انگلستان، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور سپین کے مجاہدین شامل ہوئے۔جون 1955ء میں اس ملک کے بھاگ جاگے جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جرمنی کا پہلا تاریخی سفر اختیار فرمایا، اور 25تا 29جون اس ملک میں رونق افروز رہے، اور: ‘‘قومیں اس سے برکت پائیں گی’’کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔اس دَورے کے دوران آپؓ نے جرمنی میں جلد مسجد تعمیر کرنے کا ارشاد فرمایا،چنانچہ 22فروری 1957ء کو ہمبرگ میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اورمورخہ 22جون 1957ء کو محترم چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب نے اس مسجد کا افتتاح کیا۔ اس کے صرف دو سال بعد مولا کریم نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جماعت کو دوسری مسجد تعمیر کر نے کی توفیق دی۔ محترم چودھری عبداللطیف صاحب انچارج مشن جرمنی نے 8مئی 1959ء کو اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا، اور محترم چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب نے مورخہ16ستمبر1959ء کو اس مسجد کا افتتاح کیا۔جرمنی میں روحانی انقلاب کی بنیاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں رکھی جاچکی تھی ، اس بنیاد کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نافلہ موعود سیدنا حضرت مرزاناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث جولائی 1967ء میں جرمنی تشریف لے گئے ۔

(جرمن مشن کا احیاء تاریخ احمدیت جلد 12،صفحہ 137تا155۔ ایڈیشن 2007ء)

یوں امام آخر الزمان کے ایک کے بعد دوسرے خلیفہ نے اس سرزمین پر قدم رنجہ فرما کر جرمن قوم کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی دعوت دی، اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں یورپ کی مضبوط ترین جماعت قائم ہے۔صد سالہ جشن تشکر کے موقعے پر 1989ء میں طاہر و مطہر خلیفہ نے جماعت جرمنی کو شکرانے کے طور پر سو مساجد تعمیر کرنے کی تحریک کی، اور جماعت نے اس پر لبیک کہتے ہوئے کام شروع کیا ۔ پھر 7ستمبر 2004ء کو مسجد بیت الہدیٰ کے افتتاح کے موقعے پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امیر صاحب جرمنی کے حوالے سے فرمایا :‘‘انہوں نے کہا ہے کہ اس خلافت کے دور میں سو مساجد کا وہ وعدہ جو خلافت رابعہ کے دور میں کیا تھا اس کو پورا کرنے والے ہوں ۔حضور نے فرمایا کہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ یہ عہد کریں کہ سو مساجد کا کیا وہ تو ہم چند سالوں میں بنا لیں گے ، اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو خلافت خامسہ کے اس دور میں تو ہم جرمنی کے ہر شہر میں مسجد بنائیں گے’’۔

( الفضل انٹرنیشنل 8اکتوبر 2004ء صفحہ 12۔ جلد 11،شمارہ 41)

چنانچہ اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے 53مساجد کا افتتاح عمل میں آچکا ہے۔ 6مساجد زیر تعمیر ہیں، اور 8مساجد کی تعمیر کے لیے قطعہ اراضی خریدا جاچکا ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل2نومبر2018ء صفحہ15۔ جلد 25،شمارہ 44)

تائید ایزدی سے اپریل 2017ء تک جرمنی میں جماعتوں کی مجموعی تعداد 258تھی ،اور 52مبلغین سلسلہ خدمات میں مصروف ہیں ۔

( الفضل انٹر نیشنل 12مئی 2017ء صفحہ 11۔ جلد 24،شمارہ 19)

جلسہ سالانہ کا نظام بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جرمنی میں سایہ فگن ہے ۔28دسمبر 1975ء کو مسجد فضل عمر ہمبرگ سے اس بابرکت سلسلے کا آغاز ہوا۔ جس میں 70خوش نصیب شامل ہوئے، اور یہ سلسلہ قدم بقدم چلتا ہواناصر باغ گروس گیرائو،اور مئی مارکیٹ من ہائم سے ہوتا ہوا 2017ء میں کارلسروئے کنونشن سنٹر کے بلند و بالا ہالز میں پہنچ چکا ہے اور شاملین کی تعداد چالیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

(الفضل انٹر نیشنل لندن 14ستمبر 2018ء صفحہ 11۔جلد 25،شمارہ37)

امریکہ مشن

مصنف مجاہد کبیررقمطرازہیں:‘‘اپریل1946ء میں امریکہ میں تبلیغی مشن قائم ہوا، اور بشیر احمد صاحب منٹوسان فرانسسکو کے لیے روانہ ہوئے۔ اسٹیشن پر مولانا محمد علی صاحب اور جماعت کے سب اکابرین نے ان کو الوداع کہی، یہ پہلا مشن تھا جو تبلیغی مراکز قائم کرنے کے سلسلہ میں شروع کیاگیا’’۔

(مجاہد کبیر صفحہ 267،ایڈیشن دسمبر 1962ء۔ ناشر احمدیہ اشاعت اسلام لاہور)

مسعود بیگ صاحب بیان کرتے ہیں:‘‘ہمارے نہایت ہی قیمتی بزرگ ماسٹر محمد عبد اللہ صاحب جو آج سے 45سال قبل جزائر فجی میں تبلیغ اسلام کے لیے گئے تھے وہاں سالہا سال خدمت اسلام کے بعد کیلیفورنیا امریکہ منتقل ہو گئے ہیں۔ اور ان کے ہونہار فرزند ان جو اسی جذبہ سے سرشار ہیں دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ چنانچہ امریکہ میں بھی انہوں نے ‘مسلم سوسائٹی آف امریکہ ’قائم کر دی ہے ، جہاں سے اسلام پر کتابچے شائع فرماتے رہتے ہیں’’۔

(سالانہ رپورٹ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ،بابت سال 1974-75 از مرزا مسعود بیگ ،جنرل سیکر یٹری ۔ صفحہ 21)

اس وقت احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی مرکزی ویب سائٹ پر امریکہ کے درج ذیل ایڈریس موجودہیں۔مگر یہاں مساجد ہیں یاتبلیغی مراکزیہ سوال تشنہ طلب ہے۔

1- AAIIL (USA),PO Box 3370,Dublin,OH 43016,USA
2- AAIIL (New York),91-05
197 Street,Hollis,NY 11423,USA
3- AAIIL (California),36911 Walnut Street,Newark California 94560,USA

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں:

حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ امریکہ کے پہلے مبلغ کے طور پر 26جنوری 1920ء کو انگلستان کی بندرگاہ Liverpool ‘لیورپول’ سے عازم سفر ہوئے، اور مورخہ15فروری 1920ء کو امریکہ کی بندرگاہ (Penns Landing) فلاڈلفیا (Philadelphia)پر اترے۔ لیکن آپ کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، اور سمندر کے کنارے ایک مکان میں قید کر دیا گیا۔اس محصور مبلغ اسلام نے اسیری میں بھی اپنے مقصد کو نہ بھلایا اور توفیق ایزدی سے دوماہ میں پندرہ قیدیوں کو کلمۂ حق پڑھا لیا۔ادھر جب سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے اس مبلغ کی اسیری کی اطلاع ملی تو آپ نے امریکی حکومت کو للکارتے ہوئے فرمایا:‘‘امریکہ جسے طاقتور ہونے کا دعویٰ ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا ، اور انہیں شکست دی ہوگی۔روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کرکے نہیں دیکھا۔ اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں وہ ہرگز شکست نہیں دے سکتا ، کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ ہم امریکہ کے اردگرد کے علاقوں میں تبلیغ کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنا کر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ روک نہیں سکے گا۔اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ایک دن ‘لاالٰہ الّا اللّٰہ مُحَمَّد رَسُولُ اللّٰہ’کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی’’۔

(الفضل قادیان 15اپریل 1920ء صفحہ 11،کالم 3۔جلد7،شمارہ78)

مئی 1920ء میں آپ کو قید سے آزاد کر کے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی،اور آپ نے نیویارک میں ایک مکان کرایہ پر لےکر جماعت احمدیہ مسلمہ کے مشن کی بنیاد رکھی۔1921ء میں آپ شکاگو منتقل ہوئے، اور باقاعدہ ایک عمارت خرید کرجماعت کا مرکز قائم کیا۔1950ء میں جماعت کا مرکز شکاگو سے واشنگٹن منتقل ہوا۔ اور آج خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور خلافت کی برکت سے امریکہ کی تمام ریاستوں کے بڑے بڑے شہروں میں74جماعتیں قائم ہیں۔ جماعت کی 53مساجد اور 26مشن ہائوسز ہیں۔

(الفضل انٹر نیشنل لندن 9نومبر 2018ء صفحہ 11۔ جلد 25، شمارہ 45)

اور مسجد بیت الرحمٰن میری لینڈ،مسجد بیت الحمید کیلیفورنیا اور مسجد بیت السمیع ہیوسٹن جیسی وسیع و عریض اور پرشکوہ مساجد سے امریکہ کے قریہ قریہ میں خدائے واحد کا نام گونجتا ہے۔ اور آج امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کی سالاری میں باقی دنیا کی طرح امریکہ میں بھی جماعت احمدیہ آسمانی رفعتوں کو چھو رہی ہے، اور بلندی کی طرف محو پرواز ہے۔

ہے عرفانِ اسلام ہر سمت جاری
فلک گیر ہے اب صدائے خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:‘‘اب میں لدھیانہ کے لوگوں کو اور ان لوگوں کو جو باہر سے آئے ہوئے ہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آسمان کی آواز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بلند کی ہے اسے بند کرنا آسان نہیں ۔ یہ جماعت شروع میں صرف چالیس افراد پر مشتمل تھی ، مگر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے ۔ تمام دنیا نے ہماری مخالفت کی، مگر سب مخالف ناکام ہوئے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے ، اور دنیا کی کوئی طاقت احمدیت کی ترقی روک نہیں سکے گی …جو خدا آسمانوں اور زمینوں کا خدا ہے ، جو پہلوں کا خدا ہے،حال کا خدا ہے اور آئندہ کا خدا ہے جس کے ہاتھ میں میری اور سب کی جان ہے اور جس کے سامنے مر کر ہم سب نے پیش ہونا ہے ، میں اسی خدائے قہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ باتیں اُسی نے مجھے بتائی ہیں ، اور اسی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ میرے ماننے والوں کو منکرین پر قیامت تک غلبہ اور فوقیت دے گا ۔ میں انسان ہوں مرسکتا ہوں ، مگر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر اس کا یہ وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ اس سلسلہ کی تائید کے لیے خداتعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور روز بروز یہ سلسلہ پھیلتا چلا جائے گا ، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پیغام ان ممالک تک جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے ضرور پہنچے گا ۔ اور جس طرح پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں ،اور پھر ان سے نہریں نکلتی ہیں ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی نہریں میرے ذریعہ ساری دنیا میں جاری ہوں گی’’۔

( اہل لدھیانہ سے خطاب۔ انوار العلوم جلد 17، صفحہ 281، 282۔ایڈیشن 2008، قادیان)

جلسہ سالانہ

‘‘ا س جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں،یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیار کی ہیںجو عنقریب اِس میں آ ملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں’’ ۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 341 )

یہ وہ دلنشیں اور دلربا پیشگوئی ہے جو اس زمانہ کے مسیح حضرت مرزاغلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک قلم سے نکلی۔ خدائے قادر کے وعدوں پر غیر متزلزل ایمان ،اور جماعت کے اقوام عالم میں پھیلنے کے پختہ یقین سے پُر ،نفسانی جوش سے مبراتقویٰ کے پانی سے دُھلے یہ الفاظ جب اُس مسیح دوراں کے قلم سے نکلے تو اس کے ہاتھ کا بویا ہوا بیج ابھی مٹی سے سر نکال رہا تھا۔مگر اس کی دور بین نگاہ تمام دنیا کو اپنی سچائی کے تحتِ اقدام دیکھ رہی تھی ۔ پہلے جلسہ سالانہ میں 75پروانے شمع کے گرد جمع ہوئے،اور تاریخ احمدیت میں امر ہو گئے ۔ مگروہ مرد میدان جانتا تھا کہ اُس کے لفظ لفظ اور حرف حرف کو برکت بخشنے والا خدا اپنے فضل سے جماعت کے نفوس و اموال میں حیرت انگیز برکت بخشنے کے ساتھ جلسہ سالانہ کے نظام کو بھی عالمگیر بنائے گا۔ اور آج آسمان اس بات کا گواہ ہے کہ ہر سال نوے کے قریب ممالک میں نظام خلافت سے وابستہ افراد جماعت اپنے اپنے جلسہ سالانہ کا انعقاد کر کے اُس کے دعوے کی سچائی پر اپنے اخلاص کی مہر لگاتے ہیں۔اور قدرت ثانی کا مظہر اس کا حقیقی جانشین اور اس کا خلیفہ جس جگہ موجود ہو ،دنیا کے کونے کونے سے عشّاق اس کی ذات والا صفات کے گرد جمع ہو کر شجرئہ ایمان کی آبیاری کرتے ہیں۔ اور مسیح دوراں کی لازوال دعائوں سے جھولیاں بھر کر واپس روانہ ہوتے ہیں۔

مگر خود فریبی کی دبیز تہوں تلے دبایہ گروہ اپنے بارے میں کیسی خوش فہمی میں مبتلا ہے ، اس کی نظیر ان تحریروں سے بخوبی عیاں ہوتی ہے:‘الحمد للّٰہ ثم الحمد للّٰہکہ ہمارا اڑسٹھواں جلسہ سالانہ دسمبر 1982ء بھی خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضل سے ہر لحاظ سے کامیاب اور پررونق رہا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جن بے شمار نعمتوں اورا فضال سے نوازا ہے، ان میں سے ایک نعمت غیر مترقبہ ہمارا یہ جلسہ سالانہ بھی ہے ، جس کی بنیا د ہمارے امام اور مجدد وقت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے حکمت الٰہیہ کے ماتحت 1891ء میں رکھی تھی ۔ اس وقت سے اب تک ہمارا یہ سالانہ اجتماع ہر سال دسمبر کے مہینہ میں منعقد ہوتا ہے ، جس میں شامل ہونے کے لیے اسلام اور قرآن کی اشاعت کے لیے جنون اور درد رکھنے والے سینکڑوں مرد اور خواتین اور بچے بوڑھے اور جوان دور دراز مقامات سے دیوانہ وار چلے آتے ہیں… ان سب کے دلوں میں ایک ہی لگن ایک ہی آرزو اور ایک ہی تڑپ ہے، کہ اس دور کے مصائب میں گرفتار دنیا قرآن اور اسلام کے نور سے منور ہو جائے… کچھ دل کو پگھلا نے والے منظر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پتھر دل بھی موم ہو جاتے ہیں۔ حضرت امیر قرآن کے مختلف زبانوں میں تراجم اور تمام دنیا میں ان کی اشاعت کے لیے اپنی تقریر میں ان الفاظ میں اپیل کرتے ہیں کہ :‘‘میں خدا کے دروازے کا فقیراور محتاج ہوں ، اور قرآن کی اشاعت کی خاطر اپنی اس چھوٹی سی جماعت کے سامنے ہاتھ پھیلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا’’تو جذبات سے مغلوب اس تھرتھراتی آواز پر آپ کی جماعت کے بچے بھی اپنی جیب خرچ سے سارا سال بچائی ہو ئی رقم بھی دے ڈالتے ہیں’’۔

(پیغام صلح 5جنوری 1983ء صفحہ 2۔ جلد70، شمارہ 1)

‘‘ہمارا سالانہ دعائیہ 24تا 27دسمبر 1991ء دارالسلام کالونی لاہور میں منعقد ہوا، اور تائید ایزدی سے بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوا۔ اس دعائیہ کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ایک صدی پیشتر یعنی ماہ دسمبر1891ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (خداتعالیٰ ان پر سلامتی نازل کرے)کے مبارک وجود کے زیر سایہ پہلا سالانہ دعائیہ منعقد ہوا تھا۔ان سو سالوں میں جماعت احمدیہ ہر سال دسمبر کے آخری عشرہ میں اکٹھے مل کر اپنے اللہ کے حضورعاجزانہ طور پر دین حقہ کے بارے میں اپنے گذشتہ سالوں کی کوشش کو تحدیث نعمت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے ، اور جہاں کوتاہی رہ گئی ہو اس کی اپنے اللہ سے مغفرت طلب کرتی اور آئندہ کے منصوبوں کا لائحہ عمل تیار کرتی رہی ہے۔ اس دیوانی جماعت کی ان چار دنوں کی علمی اور عملی تجاویز اور آہ ِسحرگاہی کو رب کریم نے ہمیشہ ہی قبولیت بخشی ہے ، اور پہلے سے بڑھ کر اپنے افضال کی بارش کی ہے۔ ان کی قربانیوں اور خشوع و خضوع میں ڈوبی ہوئی نمازوں نے وہ کام کیے ہیں ، جو بڑی بڑی سلطنتوں کے بادشاہوں سے بھی نہ ہو سکے’’۔

(پیغام صلح یکم جنوری 1992ء صفحہ 2۔جلد 75،شمارہ 1)

لفّاظی سے لبریز اور ملمع سازی سے پُر یہ بلند و بانگ دعویٰ پڑھ کر انسان ور طۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے ، کہ یہ کیسے لوگ ہیں ،کس دھوکے میں مبتلا ہیں، کیونکہ اِن کے دعاوی اور اُن کے حقیقی نتائج میں حیرت انگیز فرق ہے، اور ان کے درمیان ایک عمیق خلیج حائل نظر آتی ہے۔ قرآن مجیدکی اشاعت کا درد رکھنے والے ان دیوانوں نے ایک سو چار سال کے طویل عرصے میں کتنی زبانوں میں اس پاک کتاب کے تراجم دنیا کے سامنے پیش کیے۔اُن کی نیم شبی دعائوں کے بدلے جو افضال الٰہی بارش کی طرح نازل ہو رہے ہیں ان کے ثمر کہا ں ہیں؟۔ حقیقت میں تو ابھی خزاں ہی خزاں ہے۔ جماعت قادیان کے جلسہ کی حاضری کو معمہ قرار دینے والوں نے خود کبھی جلسہ کی معین حاضری اپنی رپو ٹس میں شائع کیوں نہیں کی؟

روزِ روشن کی طرح واضح حقیقت یہ ہے کہ سو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے جلسے میں چند سو لوگ شامل ہوتے ہیں ،پاکستان کے علاوہ دنیا کے آٹھ، دس ملکوں سے اِکا دُکا مہمان رونق افروز ہوتے ہیں ۔ اور پاکستان سے باہر کسی بھی ملک میں جلسہ سالانہ کا نظام اس طرح جاری ہو ہی نہیں سکا ، جس کی پیشگو ئی خدا سے علم پاکر حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔نہ وہ قومیں ان کی آغوش میں آسکیں جس کی خبر اس پیشگوئی میں موجود ہے۔تازہ ترین حقائق ملاحظہ ہوں:‘‘مورخہ 15تا 17ستمبر 2017ء لاہور تحریک احمدیہ کا ‘‘پہلا یورپی سالانہ جلسہ ’’ جرمنی میں منعقد ہوا۔برلن مسجد میں ہونے والے اس جلسہ میں شرکت کے لیے احباب پاکستان، جرمنی ،برطانیہ،ہالینڈ،سویڈن،سوئٹزرلینڈ، یوکرائن، سرینام، ٹرینیڈاڈ، امریکہ اورانڈونیشیا سے تشریف لائے۔الحمد للہ حضرت امیر کی انتھک کاوش اور ممبران کی شمولیت سے یورپ کا یہ پہلا کنونشن انتہائی کامیاب رہا’’۔

(پیغام صلح یکم تا 31اکتوبر 2017ء صفحہ 24۔ جلد 2، شمارہ 19،20)

ایک صدی سے قائم کامیابی اور کامرانی کے جھنڈے گاڑنے والی اس فدائی جماعت کے اس انتہائی کا میاب کنونشن کے تمام شرکاء ایک گروپ فوٹو میں سما گئے ،جس کی رپورٹ اور تصاویر The HOPE Bulletinاکتوبر 2017ء کے شمارے میں شائع شدہ ہے۔

(http://www.aaiil.org/text/articles/hope/2017/hopebulletin2017.shtml)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ارشادکل بھی اہل پیغام کے لیے مثل ِآئینہ تھا،آج بھی ہے: ‘‘مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے جلسے پر بھی اتنے آدمی نہیں ہوتے جتنے یہاں عام جمعہ کے دن جمع ہوتے ہیں۔چنانچہ اس وقت بھی جمعہ کے لیے جتنے لوگ بیٹھے ہیں اتنے کبھی بھی انہیں اپنے جلسہ میں نصیب نہیں ہوتے’’۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 5دسمبر ۔روزنامہ الفضل قادیان 12دسمبر 1941ء ۔جلد 29، شمارہ 281)

گذشتہ پندرہ سال سے مسجد بیت الفتوح لندن سے اکناف عالم میں براہ راست نشر ہونے والا خطبہ جمعہ اس حقیقت کو روزروشن کی طرح واضح کرتا ہے کہ جتنے لوگ ہر ہفتے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں ، اتنے سال میں ایک بار اہل پیغام کے جلسہ سالانہ میں جمع نہیں ہوتے۔اس حقیقت کوپرکھنے کے لیے پیغام صلح دسمبر 2018ء کا شمارہ حاضر ہے جس میں جلسہ سالانہ 2017ء کی کچھ تصاویر شائع شدہ ہیں۔

( تصویری صفحات پیغام صلح یکم تا 31دسمبر 2018۔جلد 3شمارہ 23)،24 )

http://aaiil.org/urdu/articles/paighamesulah/2018/paighamsulh_201812.pdf

قیام پاکستان کے بعد ایک جلسہ کے موقع پرحضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:‘‘پیغامی اعتراض کیا کرتے تھے کہ قادیان سے مسیح موعود کے نام کی وجہ سے احمدیوں کو جو محبت ہے ، اس کی وجہ سے میں کامیاب ہواہوں۔ آج ان کا بھی لاہور میں جلسہ ہورہا ہے۔ اور ان کے اس مرکز میں ہورہا ہے جو35 سال سے ان کا مرکز چلا آرہا ہے۔ وہ ذرا ربوہ کے اس جلسہ کے مقابل پر اپنے جلسہ کوبھی دیکھیں۔اور پھر سوچیں کہ ان کے اعتراض کی کیا حقیقت ہے۔اگر میںقادیان کی وجہ سے جیتا تھا، تو آج قادیان سے محرومی کی وجہ سے مجھے ہارنا بھی تو چاہیے تھا۔اگر واقعہ میں ان کا اعتراض درست ہوتا، توقادیان، وہاں کے شعائر، مقبرہ بہشتی، مساجد ، مینار اور کروڑوں کی جائیداد چھوڑ کر یہاں آجانے کی وجہ سے جماعت میں کمزوری آجانی چاہیے تھی۔ اسے سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ سلسلہ نعوذباللہ جھوٹا ہے۔ مگر اتنے بڑے ابتلا اور اتنی خطرناک ٹھوکر کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے میری جماعت متزلزل نہیں ہوئی۔وہ پہاڑ کی طرح مضبوط کھڑی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک کھڑی رہے گی،جب تک کہ کفر اس سے ٹکرا کر پاش پاش نہ ہو جائے’’۔

(تقریر جلسہ سالانہ 27دسمبر 1949ء۔ الفضل یکم جنوری 1950ء صفحہ 2،کالم 3۔ جلد 3،شمارہ297)

پس خدا تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وابستہ یہ خدائی جماعت کل بھی ایک مضبوط پہاڑ کی طرح کھڑی تھی اور آج بھی پوری آن بان اور شان کے ساتھ قائم و دائم ہے۔توفیق ایزدی سے آج یورپ ، افریقہ ، ایشیا، امریکہ اور جزائر میں قائم جماعت ہائے احمدیہ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلے اپنے ذاتی جلسہ گاہوں میں باقا عدگی کے ساتھ ‘‘جلسہ سالانہ’’ منعقد کرتی ہیں۔ صرف حدیقۃ المہدی میں ہر سال تمام سہولتوں سے آراستہ ایک عالی شان عارضی شہر کا قیام،سو کے قریب ممالک سے ہزاروں عشاقانِ خلافت کا پروانوں کی طرح شمع کے گرد جمع ہونا، اور دنیا کے کناروں تک اس روح پروراجتماع کا براہ راست نشر ہونا اس جماعت کی سچائی کی اتنی روشن دلیل ہے کہ ‘‘چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک’’۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز فرماتے ہیں:‘‘ پہلے تو صرف قادیان میں یہ جلسہ سالانہ ہوا کرتے تھے ، لیکن آج دنیا کے ہرملک میں یہ ٹریننگ کیمپ لگتا ہے جس میں مسیح محمدیؐ کے ماننے والے اپنے اصلاح نفس کے لیے جمع ہوتے ہیں ،اپنی اصلاح کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں … یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ احمدیت نے بڑھنا ہے اور پھولنا ہے اور پھلنا ہے انشاء اللہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوا لسلام سے وعدہ ہے۔ آج ان ملکوں میں جو غیر پاکستانی احمدی ہیں یا مختلف قومیتوں کے احمدی ہیں ، یہ آئندہ فوج در فوج احمدیت میں داخل ہونے والوں کے لیے نمونہ بننے والے ہیں۔اس لیے ان کی نیک تربیت کریں ،ان سے تعلق بڑھائیں ، ان سے پیار محبت کا سلوک کریں ان کے لیے نمونہ بنیں’’۔

( الفضل انٹر نیشنل 29مارچ 2013ء صفحہ 1۔جلد 20شمارہ 13)

ایک اور موقعے پر فرمایا:‘‘دنیاکے کونے کونے میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پہنچ چکی ہے۔دنیا کے کونے کونے میں حضرت مسیح موعود کے لنگر قائم ہیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹے رہیں تو اس نے نہ کبھی ہمیں چھوڑا ہے نہ کبھی چھوڑے گا۔ قربانیاں بے شک دینی پڑتی ہیں، اور احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیتے ہیں لیکن ہر قربانی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو لیے ہوئے ایک نیا راستہ ہمیں دکھاتی ہے’’۔

( الفضل انٹر نیشنل17؍ اپریل 12015ء صفحہ5۔جلد 22شمارہ 16)

نظام وصیت

وہ فرستادہ، جو خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا، اور جو خدا کی ایک مجسم قدرت تھا،دسمبر 1905ء میں قادر مطلق کے حکم سے ترقی اسلام اورلارَیب کتاب کی عالمگیر اشاعت کے لیے ایک نظام نو کی بنیاد رکھتا ہے،اور وحی کی بنیاد پر اس کی شرائط اور قواعد و ضوابط پوری شرح و بسط کے ساتھ اپنی قلم سے تحریر کرتا ہے، اور کامل الایمان اصحاب کو جلد اس نظام کا حصہ بننے کی تلقین کرتا ہے۔آ پؑ فرماتے ہیں:

‘‘ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔ اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں…میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے، اور اس کو بہشتی مقبرہ بنا دے…پھر میں تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم! اے خدائے غفور ورحیم ! تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اِس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں، اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بد ظنی اپنے اندر نہیں رکھتے… اس قبرستان کے لیے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیںاور نہ صرف خدانے یہ فرمایا ہے کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلُّ رَحْمَۃٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں… یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس باتیں ہیں۔ بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے…کوئی نادان اس قبرستان اور اس کے انتظام کو بدعت میں داخل نہ سمجھے، کیونکہ یہ انتظام حسب وحی الٰہی ہے اور انسان کا اس میں دخل نہیں…بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا، اور اس سے انکی پردہ دری ہوگی’’۔

(رسالہ الوصیت،روحانی خزائن جلد20)

اب دیکھیے اس امام کا مگار سے نسبت کے دعویدار کیا کہتے ہیں: ‘‘گذشتہ سالانہ جلسہ پر ‘‘وصیتوں کی تحریک’’کی صورت میں ایک نہایت ہی مفیدو عظیم الشان کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اگر اس پر کما حقہ توجہ کی گئی اور صاحب جائیداد احباب نے اس میں پورا حصہ لیا ، تو ان شاء اللہ اس کے نتائج بہت ہی بابرکت اور شاندار ہوں گے، اور یہ تحریک صحیح معنوں میں اسلام کی ایک مستقل بنیاد قرار پائے گی۔حضرت امیر اید ہ اللہ تعالیٰ نے 25دسمبر1936ء کے خطبہ جمعہ میں پہلی مرتبہ اس تحریک کو پیش کرتے ہوئے اس کے مختلف پہلوئو ں پر کافی تفصیل سے اظہار خیال فرمایا تھا۔ یہ جلسہ سالانہ کا پہلا دن تھا۔ بیرونی احباب بھی اس وقت کثیر تعداد میں موجود تھے… حضرت ممدوح نے اس ذکر کے بعد کہ ہمارا قومی نظام حضرت مسیح موعود کی وصیت پر جو ‘‘الوصیۃ’’ کے نام سے موسوم ہے قائم ہے۔ پھر فرمایا تھا کہ اب میں وہ بات بتلانا چاہتا ہوں جو ہمارے کام میں کمزوری کی وجہ ہوئی۔ آپ شاید خیال کریں کہ بڑی بڑی وجوہات بیان کروں گا، نہیں وہ بات بالکل مختصر ہے ۔ہم نے الوصیت کو علمی رنگ میں تولے لیا اور اس پر اپنے نظام کی بنیاد رکھی، لیکن افسوس ہم نے اس کے عملی حصّے کی طرف توجہ نہ کی۔موجودہ کمزوری اور سست رفتاری کی وجہ یہی فروگذاشت ہے۔الوصیت کا ایک یہ بھی مقصد تھاکہ ہم جس طرح اپنی زندگی میں دین کے لیے مال خرچتے ہیں، اسی طرح موت کے بعد بھی ہماری جائیدادوں اور مال کا کچھ حصہ اس پر صرف ہو۔یہ تجویز صرف قادیان کے بہشتی مقبرہ میں چار گز زمین کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اگر ایسا سمجھا جائے تو یہ لفظ پرستی ہوگی۔ خدا کا بہشت بہت وسیع ہے، وہ کنالوں اور گھمائوں کے اندر نہیں سماتا۔اسی بہشت کا وارث بنانے کے لیے حضرت نے الوصیت میں یہ ہدایت کی تھی کہ خدمت دین کا جہاد مرنے کے بعد بھی جاری رہے، اس کے بعد آپ نے بتایا کہ قرآن کریم نے ہر اُس شخص پر جو مال چھوڑ تا ہے وصیت فرض قرار دی ۔ اس وصیت سے مراد خیراتی اور دینی کاموں کے لیے وصیت ہے، نہ کہ رشتہ داروں اور قریبیوں کے لیے۔از روئے شریعت ایک تہائی مال کی وصیت ہو سکتی ہے، اور حضرت مسیح موعود کا الوصیت میں ارشاد ہے کہ وصیت دسویں حصے سے کم نہ ہو۔ ان وصیتوں سے جو روپیہ جمع ہو ، اس کے متعلق آپ نے اپنی یہ تمنا بیان کی کہ اس کا روپیہ اشاعت قرآن پر صرف ہو، اور دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم ہو کر پھیلا دیے جائیں۔یہ کل کا کل مستقل سرمایہ کے طور پر محفوظ رہے گا، جس کی آمدنی اور منافع سے ہمیشہ دین کا کام ہوتا رہے گا، اس منافع اور آمدنی کو کس طرح خرچ کیا جائیگا؟اس کا فیصلہ انجمن ہی کرے گی…ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ دنیا کے تمام ممالک کے اندر ان کی زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ پہنچا دیں۔ اگر ہم ایسا کر سکیں تو یہ ایک اس قدر عظیم الشان کام ہوگا ،جس سے آج تک ساری اسلامی دنیا قاصر رہی ہے ’’۔ 1936ء کے بعد وصایا کی تحریک مستقل رنگ میں سال بہ سال ہوتی رہی، اور جماعت کے افراد اس میں حصہ لیتے رہے، اور جوبلی کے موقعے پر اس تحریک سے ایک بڑا حصہ جوبلی فنڈ کا جمع ہوا’’۔

( پیغام صلح3فروری 1937ء صفحہ 7۔ جلد 25شمارہ8۔ مجاہد کبیر صفحہ 194،ایڈیشن دسمبر 1962ء۔ ناشر احمدیہ اشاعت اسلام لاہور)

مولوی محمد علی صاحب کی یہ تقریراس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کیسے وہ خدا کے فرستادے کے بنائے ہوئے نظام کے مقابل پر اپنے زعم میں ایک تحریک پیش کرتے ہیں۔‘‘چار گز زمین’’ اور ‘‘لفظ پرستی’’ کے تحقیرانہ الفاظ استعمال کرکے مامور زمانہ کے جاری کردہ الہامی نظام کی بے توقیری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مگر جیسے وہ رسالہ الوصیت میں بیان کردہ نظام خلافت سے ناطہ توڑ کر غیر مبائعین میں شمار ہوکر تتر بتر ہوئے، ایسے ہی وصیت کے نظام اور حقیقی ثمرات سے بھی بے نصیب رہے،اور یہ نظام کبھی ان کے ہاں جاری نہیں ہو سکا۔ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطہر زمانے میں جس ‘‘انجمن کار پرداز مصالح قبرستان’’کی بنیاد رکھی گئی خلافت کے زیر سایہ وہ آج بھی قائم دائم ہے۔‘‘یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس باتیں ہیں۔ بلکہ یہ قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے’’۔ زمین و آسمان کے بادشاہ نے خود اپنے فضل سے نظام وصیت کو عالمگیر بنایا اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 118ممالک کے احمدی نظام وصیت میں شامل ہیں۔قادیان اور ربوہ کے علاوہ بارہ مختلف ممالک میں مقبرہ موصیان قائم ہیں۔ہر دَور میں خلفائے کرام نے افراد جماعت کو اس بابرکت نظام میں شامل ہونے اور موصیان کو اپنے تقویٰ اور طہارت کے معیار کو بلند کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور اس موضوع پر خلفائے کرام کے سینکڑوں خطبات اور تقاریر موجود ہیں۔’’

(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button