متفرق مضامین

احمدیت کے علمبردار دو گروہوں کے صدی کے سفر کا تقابلی جائزہ (قسم نمبر 3)

ووکنگ مشن

آغاز میں احمدیہ انجمن لاہور نے جس چیز کو انتہائی قابل فخر انداز میںپیش کیا اور کچھ عرصے تک جس کا بہت غلغلہ رہا وہ ووکنگ مشن ہے۔ اس کا آغاز کیسے ہوا، انہی سے جانتے ہیں۔مجدّد اعظم جلد سوم میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب رقم طراز ہیں:‘‘یورپ میں تبلیغ اسلام کی اصل بنیاد ووکنگ مشن کی صورت میں 1912ء میں رکھی گئی۔ووکنگ مشن بھی کسی تیار کردہ اسکیم کا نتیجہ نہ تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک مقدمہ میں وکالت کاکام سر انجام دینے کے لیے انگلستان جانا پڑا ۔مگر دراصل ان کی نیت یہ تھی کہ وہاں اشاعت اسلام کے کام کی بنیاد ڈالیں۔اپنی وکالت کا فرض ادا کرکے انہوں نے وہاں تبلیغ اسلام کرنے کا ارداہ ٹھان لیا … اس ناسازگار فضا میں خواجہ صاحب نے محض خدا کے وعدوں پر ایمان رکھتے ہوئے تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا۔ احمدی جماعت نے ان کی اس آواز پر اس قدر جوش سے لبیک کہا کہ جو کچھ کسی کو انہوں نے لکھا وہی حاضر کر دیا، اور لندن میں تبلیغ اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔اور اس غرض کے لیے فروری 1913ء میں ایک رسالہ بنام اسلامک ریویو جاری کر دیا ۔ لندن سے کوئی پچیس میل کے فاصلے پر ووکنگ میں پروفیسر لائیز (سابق پرنسپل اوریئنٹل کالج لاہور) نے ایک مسجد بیگم صاحبہ بھوپال کے خرچ سے بنوائی تھی، مگر یہ جب سے بنی تھی مقفل پڑی تھی،خواجہ صاحب نے کوشش کرکے اس مسجد کو کھلوایااور ٹرسٹیان مسجد کی اجازت سے نومبر 1913ء میں مشن کو لندن سے یہاں منتقل کیا۔تاریخ اسلام میں یورپ کے اندر تبلیغ اسلام کا یہ پہلا باقاعدہ مشن تھا۔جس طرح ریو یو آف ریلیجنز مجریہ 1902ء پہلا انگریزی رسالہ تھاجس کے ساتھ یورپ میں تبلیغ اسلام کی بنیاد بذریعہ لڑیچر رکھی گئی… 1914ء میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں اختلاف رونما ہوا، اور لاہور میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام قائم ہوئی جس کے ساتھ ووکنگ مشن کا تعلق قائم ہوا، کیونکہ خواجہ کمال الدین صاحب احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے ایک ممبر تھے۔ووکنگ مشن کو اللہ تعالیٰ نے اتنا فروغ دیا کہ وہ تمام مسلمانان انگلستان کا مرکز بن گیا،جہاں عیدین پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے ،اور جہاں سے دور دور دنیا کے کناروں تک اسلامی لٹریچر پہنچتا ہے، اور انگلستان میں جہاں کہیں بھی کوئی مذہبی جلسہ ہوتا ہے تو اسلام پر روشنی ڈالنے کے لیےمبلغ ووکنگ سے طلب کیے جاتے ہیں،یہاں تک کہ دہریوں اور لامذہبوں کے جلسوں میں بھی ووکنگ سے مبلغ جاتے ہیں اور اسلام پر تقریر کرتے ہیں’’۔

( مجدّد اعظم جلد سوم صفحہ 327-328۔ بار اوّل مارچ 1944ء)

مبلغ اسلام خواجہ کمال الدین صاحب فرماتے ہیں:‘‘میں اوّل تو اپنی فطرت سے مجبور ہوں ۔ غیر اسلامی لوگوں کے سا منے مجھے قرآن اور محمد کو پیش کرنے کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا۔ دوسرے فرقے کی بحث یہاں کرنا میرے علم اور یقین میں اشاعت اسلام کے لیے ‘‘سَم قاتل’’ہے’’۔ ‘‘مسلم مشن ووکنگ مشن اپنی بنا ء، اپنے وجود، اپنے قیام کے لیے میری ذات کے سوا کسی اور جماعت یا شخصیت یا کسی انجمن کا مرہون احسان نہیںہے۔ میں نے اپنے ہی سرمایہ سے جو وکالت کے ذریعہ مجھے حاصل ہوا ، اس مشن کو قائم کیا۔ اس کےمتعلق نہ میں نے کسی سے مشورہ حاصل کیا نہ کسی نے مجھے مشورہ دیا’’۔

( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 3۔ صفحہ406۔408۔ ایڈیشن 2007ء)

‘‘احمدیہ انجمن اشاعت اسلام اور ووکنگ مشن۔تمام معاملات انجمن کے سپرد۔ مشن کا حساب غبن سے پاک ہے۔ حضرت امیر ایدہ اللہ کا ضروری اعلان۔ گذشتہ جولائی میں یہ اعلان کیا گیا تھاکہ جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے جو مشن ووکنگ اور اس کےحساب کتاب کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے سپرد کیا ہے، تو اس میں کچھ امور ابھی تصفیہ طلب ہیں، جو خواجہ صاحب کی بیماری کی وجہ سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔اور کہ عنقریب جنرل کونسل میں ان کا تصفیہ ہوکر احباب کو اطلاع دی جائے گی۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر جب بیرون جا ت کے احباب بکثرت یہاں موجود تھے، اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب بھی موجود تھے، تمام امور کاتصفیہ ہو گیا ہے، اور خواجہ صاحب نے ووکنگ مشن کو مع اس کے ریزرو فنڈ کے انجمن کے سپرد کر دیا، اور باقی تمام امور بھی جو تصفیہ طلب تھے نہایت خوبی سے طے ہوگئے ہیں’’۔ ( پیغام صلح یکم جنوری 1929ء صفحہ 1۔ جلد 17نمبر 1)

‘‘جلسہ سالانہ کے موقعہ پرمجاہدین انگلستان کا پیغام،احباب جماعت احمدیہ کے نام۔مجاہدین ِاسلام، السلام علیکم۔اس اہم قومی اجتماع کے موقعہ پر ظاہری عدم شمولیت باعث تکلیف ہے… یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ چالیس سال سے کُل عالم میں سے اللہ تعالیٰ نے ان چند ہزار افراد جماعت میں تبلیغ اسلام کا حقیقی اور سچا جذبہ پیدا کیا ہے۔جو اسلام کے جھنڈے کو عیسائیت کے قلب میں بلند کر رہے ہیں۔مغربی دنیا کے انسانی سمندر کے اندر اسلامی موج حضرت مرزا صاحب مجدد صدچہار دہم کے ایک عقیدت مند خواجہ کمال الدین صاحب نے 1912ء میں پیدا کی ، جس کا سنگین صلیبی چٹانوں سے ٹکرائو ہوا، اور بالآخر اس مرد مجاہد کی مساعی ، اور جماعت کی دعائوں اور قربانیوں نے ایک تَلاطُم پیدا کر دیا۔ کسر صلیب جو امام زمان کے ہاتھ پر مقدر تھی، وہ عملاً مغربی دنیا کے مرکز انگلستان میں مکمل ہو چکی ہے۔جس کے آثار اس فضا میں نمایا ں نظر آرہے ہیں۔حضرت خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کی تقریروں اور تحریروں، حضرت مولوی محمد علی صاحب کی بیش بہا تالیفات و تصنیفات، اور حضرت مولوی صدر الدین صاحب کی مؤثر تبلیغی مساعی اور دیگر امام ہائے ووکنگ مسجد کی بے لوث خدمت اسلام کانتیجہ یہ ہے کہ صلیبی مذہب کے ناقابل فہم عقائد کا پول کھل چکا ہے…سعید فطرت روحیں داخل اسلام کو باعث فخر اور نجات سمجھتی ہیں اور بفضل خدا غالب اکثریت امام ووکنگ مشن کے ہاتھ پر کلمہ پڑھتی ہے… مسجدتعمیر کرنے والا ڈاکٹر لائینز کبھی تصور ہی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کسر صلیب کے لیے خود اپنے ہاتھوں ووکنگ میں مرکز قائم کر رہا ہے۔کس کو معلوم تھا کہ اسلام کامنور چہرہ اس مرکز سے بے نقاب ہوکر‘‘ندائے فتح نمایاں بنام ما با شد’’ کا مصداق ہوگا۔ تقریباً 38سال کے عرصہ میں آپ کی قربانیوں نے صلیبی عقائد کی شکست کے ساتھ ساتھ اصول اسلام کی فتح کی داغ بیل ڈال دی ، اور محض تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتا ہوں۔کہ مسلماں را مسلماں بازکردندکا قیمتی کام بھی آپ کے ذریعہ بہت حد تک ہو رہا ہے۔ …پس گذشتہ چالیس سال کی انتھک بے لوث قربانیوںکے پھل کا وقت ہے۔اب اس تبلیغی درخت کی آبیاری دعائے سحر اور جانی مالی قربانیوں سے کی جاسکتی ہے۔ بے شک ووکنگ مشن اور اسلامک ریویو کا بوجھ جماعت کے نازک کندھوں کے لیے باعث تکلیف ہو رہا ہے، لیکن یہ آپ کا شاہکار ہے، اور آپ کی قربانیوں کا عدیم المثال کارنامہ، اور آپ کی خدمت اسلام اور جذبہ تبلیغ کا زریں مصدق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ منزل مقصود کے قرب میں پائے استقلال میں لغزش آجائے۔ استقامت ہی مشکلات کے حل کا واحد ذریعہ ہے جو اس پاک جماعت کا شعار ہے’’۔

( پیغام صلح 10جنوری 1951ء صفحہ 1 ۔ جلد 39،شمارہ1)

‘‘حضرت خواجہ کمال دین صاحب مرحوم کو یہاں نور اسلام کے پھیلانے میں بے نظیر کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس اچھی ابتدا سے انجام صاف دکھائی دے رہا ہے، کہ تمام انگلستان حلقہ بگوش اسلام ہو جائے گا۔یہ تعجب کا مقام نہیں، بلکہ اس کے آثار صاف نظر آرہے ہیں’’۔

( پیغام صلح 17جنوری 1951ء صفحہ 1کالم 4۔ جلد 39،شمارہ 2)

یہ وہ تحریریں اور بلند و بانگ دعوے ہیں ، جو اہل پیغام کی کتب و جرائد سے من و عن نقل کیے گئے ہیں۔ اب ہر پاک فطرت اور صحیح العقل قاری سے سوال ہے کہ ان جانثاروں کی قربانیوں اور تبلیغ اسلام کی کاوشوں کے حقیقی نتائج کدھر ہیں۔وہ غالب اکثریت جس نے امام ووکنگ کے ہاتھ پر کلمہ پڑھا ، وہ کدھر گئے۔ندائے فتح نمایاں اپنے نام کرنے والوں نے اس ملک میں کتنی مساجد تعمیر کیں، اور ان کے کتنے تبلیغی مراکز اس جہاد میں مصروف ہیں۔سو سالہ عدیم المثال قربانیوں کا کون سا ثمر ہے جو اس وقت احمدیہ انجمن اشاعت لاہور کے ہاتھوں میں ہے؟؟؟ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ 11 فروری 1968ء کوتبلیغ اسلام کا یہ ہوائی قلعہ پاش پاش ہو گیا،جب مشہور غیر مبائع لیڈر مولوی عبد الرحمٰن مصری کے بیٹے حافظ بشیر احمدمصری نے ارتداد کا اعلان کرکے ووکنگ مشن دشمنان احمدیت کے سپرد کر دیا۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 24صفحہ 756 ۔alislam.org)

چنانچہ وہ مشن جو ایک بنی بنائی مسجد کی صورت میں انہیں ملا،جسے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا ایک بھاری کارنامہ،اور تبلیغ اسلام کا قلعہ قرار دیا جاتا رہا،انجمن اس سے تہی دست ہوگئی۔مگر چونکہ اس مشن کے قیام کا مقصد مسیح ثانی کی آمد کا اعلان یا اعلائے کلمہ اسلام نہ تھا، بلکہ ذاتی شہرت اور نمود و نمائش اسکا مطمح نظر تھا،اس لیے اس مشن کو وہ تمکنت نصیب نہ ہوئی جواعمال صالحہ بجا لانے والی تقویٰ شعار جماعت سے خاص ہے۔ بلکہ ایک صدی سے زائد کا عرصہ خود اس بات کا گواہ ہے اہل پیغام کا ہر مشن اُس تائید حق سے یکسر محروم ہے جس کا وعدہ احکم الحاکمین نے مومنین کی جماعت سے کیا ہے۔

پھر آگےدیکھیےکیا صورتحال ہے،اخبار پیغام صلح لکھتا ہے :‘‘احمدیہ اسلامک سنٹر لنڈن کے استحکام کے لیے ایک مبارک منصوبہ۔ احباب جماعت کے لیے ایک خوشخبری۔ احباب جماعت کو معلوم ہے کہ انجمن کا ایک تبلیغی ادارہ ‘‘احمدیہ اسلامک سنٹر ’’کے نام سے لندن میں قریبا ً دو سال سے قائم ہے ، جس کے انچارج محترم شیخ محمد طفیل صاحب ایم اے ہیں ۔ اس ادارے کے ا ستحکام کے لیے انجمن نے ایک نیا منصوبہ بنایا ہے ۔ جس کے لیے محترم شیخ میاں فضل الرحمٰن صاحب آف یونائیٹڈ ٹیکسٹائل ملز ملتان نے تیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے ۔ اور حضرت امیرایدہ اللہ کی تجویز ہے کہ ایک مقتدر وفد تمام جماعتوں کا دورہ کرکے مزید سرمایہ کی فراہمی کے لیے اپیل کرے ۔ یہ دراصل وہی تبلیغی مشن ہے جسکی بنیاد جماعت احمدیہ لاہور نے 1914ء میں مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام و اشاعت قرآن کے لیے رکھی تھی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ تمام احباب بالخصوص مستطیع احباب اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس عالمگیر فتح اسلام کے منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں’’۔(پیغام صلح 8جولائی 1970ء صفحہ 1۔جلد 58شمارہ 27)

‘‘19؍اکتوبر1974ء کا دن ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، اس روز ہم نے اپنے لندن کے گھر 56لانگلے روڈ ٹوٹنگ لندن،ایس ڈبلیو 17 میں عید الفطر ملن پارٹی کا انتظام کیا۔یہ گھر ایک خطیر رقم سے خریدا گیا ہے،جو بیشتر ہماری بیرونی جماعتوں نے فراہم کی، اور نصف سے زیادہ رقم ہمارے ٹرینڈاڈ ، گیانا اور سرینام کے دوستوں نے اکٹھی کرکے دی ہے۔اس گھر میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام ویسٹرن ہیمیسفیئر کا دفتر ہے، اور یہیں سے مغربی دنیا میں اشاعت اسلام کا کام جاری رہے گا، جو کام ووکنگ مسجد کے ہاتھ سے نکل جانے سے رُک گیا تھا۔اس کی تلافی انشااللہ اس نئے مرکز سے ہوگی۔اس گھر کا قبضہ 30 ستمبر 1974ء کو ملا تھا’’۔ (پیغام صلح 13نومبر 1974ء صفحہ 12۔ جلد 61،شمارہ 42)

مشرقی اور مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے خریدے گئے اس مرکز کی کامیا بیوں کابھی کچھ پتہ نہیں ،اورا س وقت احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی مرکزی ویب سائٹ پر یوکے مشن کا صرف درج ذیل ایڈریس موجود ہے۔(AAIIL-UK- 15 Stanley Avenue,Wembley,HA0 4JQ-UK)

2013ء کے وسط میں لندن میں ووکنگ مشن کی صد سالہ تقریب منعقد کی گئی ، جس میں گنتی کے چند لوگ شامل ہوئے۔

(https://www.youtube.com/watch?v=jLVqe2ERFBk)

اب آئیے ‘‘محمودی فرقے،اور ربوی جماعت’’کا حال دیکھتے ہیں۔حضرت چوہدری فتح محمدصاحب سیال حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر 25جولائی 1913ء کو لندن پہنچے ، اور آپ ہی کی ہدایت کے مطابق ووکنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے۔ خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر جب خواجہ صاحب خلافت سے کٹ گئے تو آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت پر لندن آگئے۔ اور اپریل 1914ء میں کرائے کے ایک مکان میں احمدیہ مشن کی بنیاد رکھی۔اگست 1920ء میں‘‘پٹنی سائوتھ فیلڈ’’ میںواقع ایک قطعہ زمین معہ مکان مبلغ 2223پائونڈمیں خریدا گیا۔ مَظْہَرُالْحَقِّ والْعُلَاءِ کے مصداق جسے خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے19اکتوبر 1924ء کو رضائے خداوندی کے حصول،اسکے جلال کے ظہور،خاتم الانبیا اور اسکے ظل کے ذریعہ ملنے والی آسمانی روشنی کو انگلستان اور اردگرد کے ممالک میں پھیلانے کے غیر متزلزل عزم کیساتھ مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔

مٹا کے کفر و ضلال وبدعت کریں گے آثار دیں کو تازہ
خدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کا پرچم اڑائیں گے ہم
وہ شہر جو کفر کا ہے مرکز، ہے جس پہ دین مسیح نازاں
خدائے واحد کے نام پر اک اب اس میں مسجد بنائیں گے ہم
پھر اس کے مینار پر سے دنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم
کلام ربِّ رحیم و رحماں ببانگ بالا سنائیں گے ہم

اس عالی مقام موعود خلیفہ کے یہ الفاظ آج بھی ایمان میں حرارت پیدا کرتے ،اور ملت کے اِس فدائی پر رحمت بھیجتے ہیں: ‘‘آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس بادشاہ نے جس کے قبضہ میں تمام عالم کی باگ ہے۔ مجھے رئویا میں بتایا تھا کہ میں انگلستان گیا ہوں، اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں۔اور اس وقت میرا نام ولیم فاتح رکھا گیا۔ میں جب شام میں بیمار ہوا اور بیماری بڑھتی گئی ، تو مجھے سب سے زیادہ خوف یہ تھا کہ کہیں میری شامت اعمال کی وجہ سے ایسے سامان نہ پیدا ہو جائیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کسی اور صورت میں بدل جائے، اور میں انگلستان پہنچ ہی نہ سکوں ۔ اور اس خوف کی وجہ یہ تھی کہ میں اس خواب کی بنا پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے، لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں انگلستان پہنچ گیا ہوں ۔ اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہو جائے گا۔دشمن ہنسے گا اور کہے گا ا یہ بے ثبوت دعویٰ تو ہر اِک کر سکتا ہے، مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے ا ور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا’’۔

(الفضل قادیان، 4اکتوبر 1924ء صفحہ 3،کالم 3۔ جلد 12،شمارہ 37)

اس موعود خلیفہ کے عزم صمیم اور ترقی اسلام کی تڑپ ان الفاظ سے عیاں ہوتی ہے:‘‘یاد رکھیں کہ انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کامرکز بن رہا ہے۔اور اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس سے پانچ وقت لااِلٰہَ الَّا اللّٰہُ کی صدا بلند ہو ، کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلا ًبعد نسلٍ پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ مسجد ایک نقطہ مرکزی ہوگی، جس میں سے نورانی شعائیں نکل کر تما م انگلستان کو منور کر دیں گی۔ بے شک اس سے پہلے بھی وہاں ایک مسجد قائم ہے ،مگر وہ ایسے وقت میں بنائی گئی تھی ،جبکہ اس مسجد کی ضرورت نہ تھی۔ اور صرف اسلام کا نشان قائم کرنے کے لیے اسے تیار کیا گیا تھا۔ مگر یہ مسجد ضرورت پڑنے پر تعمیر ہوگی۔پس یہی مسجد پہلی مسجد کہلانے کی مستحق ہے۔ کیونکہ اس کی تعمیر کے پہلے دن سے ہی اسپرلااِلٰہَ الَّا اللّٰہُ کا نعرہ بلند ہونا شروع ہو جائے گا، جبکہ پہلی مسجد سالہا سال تک مقفل اور بند رہی ہے ۔پس اے صاحب ثروت احباب ! بلند حوصلگی سے اٹھو اور ہمیشہ کے لیے ایک نیک یادگار چھوڑو، تا ابدی زندگی میں اسکے نیک ثمرات پائو، وہ ثمرات جن کی لذت کا اندازہ انسانی دماغ کر ہی نہیں سکتا۔ اور یاد رکھو کہ غرباء ہزاروں طریق سے خدمت دین کرکے ثواب کما رہے ہیں، اور اس کام میں بھی وہ اپنے ذرائع کے مطابق یہی کوشش کریں گے کہ اپنے امیر بھائیوں سے آگے نکل جاویں۔ کیونکہ وہ خدمات دین کرتے کرتے بوجھ اٹھانے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام احمدی احباب کے قلوب کو کھول دے، اور ان کے حوصلوں اور ذرائع کو وسیع کر دے اور اس کام کے بہت جلد تکمیل کوپہنچنے کے سامان پیدا کر دے۔ اَللَّھُمَّ آمین ’’۔( تحریک تعمیر مسجد لندن۔انوار العلوم جلد 5،صفحہ 5-4۔ ایڈیشن جون 2008ء قادیان)
دو سال کے عرصہ میں اس مرکز تثلیث میں خانہ خدا کی تعمیر مکمل ہوئی۔اور3اکتوبر 1926ء کو اس کا افتتاح ہوا۔پھر جولائی 1967ء میں اِسی موعود خلیفہ کے لخت جگر نافلہ موعود نے اس مسجد کے پہلو میں محمود ہال کی بنیاد رکھی ،اور ہال کے علاوہ لائبریری اورکشادہ مشن ہائوس تعمیر ہوا۔پھر اس روشنی کی کرنیں لندن کے مضافات میں پھیلنا شروع ہوئیں،اور برطانیہ کے مختلف علاقوں میں مساجد اور جماعتوں کا قیام ہوا۔اپریل 1984ء میں یہی مسجد اور مشن ہائوس خلیفۃ المسیح کا تخت گاہ بن کر عالمی توجہ کا مرکز بنی ۔ پھرپانچ ماہ کی قلیل مدت میں‘‘ اسلام آباد ’’آباد ہوا، اور صحیفے نشر کرنے کے لیے رقیم پریس کا قیام عمل میں آیا۔ اسی مسجد فضل لندن سے ‘‘میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا’’کے خدائی وعدے کا ظہور ‘‘مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ’’ کی صورت میں نئی شان کے ساتھ ہوا،جب مسیح وقت کا خلیفہ نظارہ و آواز کے ساتھ قریہ قریہ،شہر شہر اور ملک ملک پہنچا۔پھر اسی مسجد فضل سے عالمی درس القرآن ،اورترجمۃ القرآن کلاس کا آغاز ہوا۔ پھر اکتوبر 2003ء میں مسجد بیت الفتوح کے ساتھ اس خدائی جماعت کے لیے عالمی فتوحات کے نئے دروازے کھولے گئے۔ دنیا کوحقیقی امن کی راہ دکھانے کے لیے ‘‘پیس سمپوزیم’’ کا انعقاد شروع ہوا۔سیدنا طاہر رحمہ اللہ تعالیٰ کی دلربا یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے طاہر ہائوس کا قیام عمل میں آیا۔ 11فروی 2014ء کو لندن کے تاریخی گلڈ ہال (Guildhall) کی پرشکوہ عمارت میں ‘‘اکیسویں صدی میں خداتعالیٰ کا تصوّر’’ کے موضوع پر مذاہب عالم کی یادگار کانفرنس کا انعقاد کرواکے ایک نئی تاریخ رقم کی گئی۔ آج برطانیہ بھر میں خلافت سے وابستہ جانثاران کی 136 جماعتیں قائم ہیں۔32مبلغین کرام میدان عمل میں سرگرم ہیں۔ 22مساجداور20 مشن ہائو س ‘‘احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور’’ کو دعوت فکر دے رہی ہیں۔

نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں
ہمارے دین کا قِصّوںپہ ہی مدار نہیں
امامِ وقت کا لوگو کرو نہ تم اِنکار
جو جھوٹے ہوتے ہیں وہ پاتے اقتدار نہیں

حضرت مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:‘‘جیسا کہ اُس نے اپنی پاک پیشین گو ئیوں میں وعدہ فرمایا ہے کہ، اِس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزار ہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا ۔ وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا ، اور اس کو نشوونما دے گا ، یہاںتک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے دنیا کے چاروں طرف اپنی روشنی پھیلا ئیں گے، اور اسلامی برکات کے لیے بطور نمونہ ٹھہریں گے ۔ وہ اس سلسلہ کے کامل متبعین کو ہر یک قسم کی برکت میں دوسرے سلسلہ والوں پر غلبہ دے گااور ہمیشہ قیامت تک ان میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو قبولیت اور نصرت دی جائیگی۔ اس رب جلیل نے یہی چاہا ہے ،وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے ،ہریک طاقت اور قدرت اسی کو ہے۔فالحمد لہُ اوّلاًواٰخرًاوظاہرًاوباطناً۔اَسْلَمْنَالَہُ۔ھُومَوْلٰنَافی الدنیاوالاٰخرۃ۔نعم المولیٰ ونعم النصیر’’۔ (اشتہار 4مارچ 1989ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ198)

(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button