متفرق مضامین

احمدیت کے علمبردار دو گروہوں کے صدی کے سفر کا تقابلی جائزہ

گزرے ہوئے سوسال کی تاریخ گواہ ہے
سائے کی طرح سایہ فگن ہم پہ خدا ہے

ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو وقت مسیحا میں پیدا ہوئے اور عافیت کے حصار میں داخل ہوئے۔جب پیاسی روحوں کی سیرابی کے لیے آسمان سے پانی نازل ہوا،اور ظلمت کی سیاہ رات چھٹ گئی اور نورِ خدا سے دن آشکار ہوا۔وہ غلامِ کامل آیا جس کوخاتم النبیین ﷺ نے چار دفعہ نبی اللہ کے خطاب سے نوازا۔

(صحیح مسلم :کتاب الفتن: باب ذکر الدجال وصفۃ)

سرور کونین ﷺنے اِس امام الزمان کو‘ حکم عدل’کا بے مثال مقام ومنصب عطا فرمایا اور اسکی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے کاسرِصلیب ، قاتلِ خنزیراورتلوار کے جہاد کا خاتمہ کرنے والا قرار دیا ،اور قلم کے اس بادشاہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دنیامیں خزائن تقسیم کرے گا۔

ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی میں موجود اصدق الصادقین کا یہ قول قیامت تک امت مرحومہ کو یہ پیغام سناتا رہے گا کہ :‘‘اگر تمہیں برف کے پہاڑوں پر سے گھسٹ کر بھی جانا پڑے تب بھی اس تک پہنچنا، اس کی بیعت کرنا اور اسے میرا سلام پہنچانا’’۔

وہ موعودِ اقوام عالم آیا اور ایک جری پہلوان کی طرح چومکھی لڑ ائی لڑکرکَتَبَ اللَّہُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَاوَرُسُلِیۡ إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ۔( سورۃ المجادلۃ :آیت22) کافرمان لکھ چھوڑنے والے مالک کے حکم سے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی ، اور مرد ِمیدان کی طرح مخالفین کے سامنے سینہ سپر رہا، اپنے مشن کو پورا کیا اور یہ پر شوکت اعلان کر کے ابدی نیند سویا: ‘‘خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔ اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدرعلم اور معر فت میں کمال حاصل کر یں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کامنہ بند کر دیں گے۔ اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھو لے گایہا ں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گایہاں تک کہ بادشاہ تیر ے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو اے سننے والو!ان باتوں کو یاد رکھو۔ اور اِن پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لوکہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا ۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا۔ اور میںنے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔اور میں اپنے تئیںصرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں ۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جومیرے شامل حال ہوا ۔ پس اس خدا ئے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مشتِ خاک کو اُس نے باوجود ان تمام بے ہنریوںکے قبول کیا’’۔

( تجلّیات الٰہیہ، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 410,409 )

پھر فرماتے ہیں‘‘اے تمام لوگو سُن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین وآسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔ اور حجت اور برہان کی رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگاجو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کوجو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیانقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِج مَایَاْ تِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ۔ (سورۃیٰس:آیت 31) پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔مگر ایسا آدمی جو تمام لوگو ں کے روبرو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں ۔اس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم ؑکو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔ اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا ۔اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی۔اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا ۔اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰ ؑاب تک آسمان سے نہ اترا ۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔ اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیامسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہوکر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیامیں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھو لے گااور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے’’۔

(تذکرۃ الشہادتین ،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67,66 )

اس پُر تاثیر اور پُر اعجاز پیشگوئی کے ساتھ ساتھ اس مہدی معہود نے جہان فانی سے رخصت ہونے سے قبل اپنے پیروکا روں کو الہام الٰہی کی بنیاد پر یہ خبر بھی دی کہ آخرین کی یہ جماعت ‘‘قدرت ثانی’’کی نعمت بھی پائے گی ، اور گذشتہ انبیاء کی امتوں کی طرح دو قدرتیں دیکھنے والے خوش نصیبوں میں شامل ہوگی فرماتے ہیں: ‘‘سواے عزیزو ! جبکہ قدیم سے سنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخا لفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنّت کو ترک کر دیوے۔اس لیے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہہو جائیںکیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے ۔اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیںہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جائوں۔لیکن میں جب جائوںگاتو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا،جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی’’۔ پھر فرماتے ہیں:‘‘میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہیے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیںتا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خداہے’’۔

(الوصیت،روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 305،306)

پھر چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ جب یہ مہدیٔ دوراں اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہوا،تو اسکا مُصدقِ اوّل نورِ دین سالارِ کارواں بنا ، اور‘‘ خلیفۃ المسیح الاوّل ’’ کا لقب پایا۔ان کے عہد باسعادت میں کچھ حاسدین نے سر اٹھایا ، اور من مانیاں کرکے اپنے نفسانی خیالات کی تسکین چاہی، مگر اُس مرد میدان نے للکارا کہ میرے پاس بھی خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دینگے۔یہ اس صاحب جلال بزرگ کا رعب اور دبدبہ تھا کہ چھ سال ان فتنہ پردازوں کی آوازیں ان کے حلق میں دبی رہیں،اور انہیں اپنے مذموم خیالات کھل کر پھیلانے کا موقع نہ مل سکا۔مسیح محمدی کے اس جانثار میر کارواں نے تادم واپسیں منصب خلافت کی اس جوانمردی سے حفاظت کی جو رہتی دنیا تک تاریخ میں آب زر سے لکھی جائے گی۔

انکار خلافت کا وہ فتنہ جو حضرت حکیم مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بار بار سر اٹھانے کی کوشش کرتا رہا بالآخر تقدیر الٰہی نے خلا فت اُولیٰ اور خلافت ثانیہ کے سنگم پر اس کی مرکزی جڑوں کو قادیان سے اکھاڑ پھینکا۔قا در مطلق کی مشیّت نے منکرین خلافت کو خلافت ثانیہ کے آغاز ہی میں قادیان چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور کر دیا۔اور اسطرح اس گروہ کا تعلق احمدیت کے مرکزی تنے سے ہمیشہ کے لیے کٹ گیا۔ مولوی محمد علی صاحب اور انکے ہم نوائوں نے لاہو ر جا کر ‘‘احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور’’کی بنیاد رکھی، اوراس کے بعد عملاً احمدیت کے نام پر دنیا کے سامنے دو تحریکیں پہلو بہ پہلو چل پڑیں۔لیکن آنے والے وقت نے گواہی دی کہ عرش کا خدا کس کےساتھ ہے۔

‘‘وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا ،اور قومیں اس سے برکت پائیں گی’’۔

امام آخر الز ماں کی اس عظیم الشان پیشگوئی کے مطابق اس کا لخت جگر، اس کا خلیفہ کسر صلیب کے لیے یورپ کے پہلے تاریخ ساز دورے پر تھا،اور دین اسلام کی ترقی اور اشاعت کے نئے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام کر رہا تھا عین اس وقت اُسی مسیح کے نام لیوا،اور اُس سے نسبت کے دعویدار اِس امام لاثانی کے بارے میں مکروہ پروپیگنڈہ میں مصروف تھے۔ مگر حسن و احسان میں باپ کے نظیر بیٹے نے بڑی متانت سے یہ جواب دیا:

اہل پیغام! یہ معلوم ہوا ہے مُجھ کو
بعض احبابِ وفا کیش کی تحریروں سے
میرے آتے ہی اِدھر تُم پہ کھلا ہے یہ راز
تم بھی میدانِ دلائل کے ہو رَن بیروں سے
پھر ان خوبصورت الفاظ میں حقیقت حال کو واضح فرمایا:
ماننے والے مرے بڑھ کر رہیں گے تم سے
یہ قضا وہ ہے جو بدلے گی نہ تدبیروں سے
نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے روئے نجات
فتح ہوتے ہیں کبھی مُلک بھی کف گیروں سے

(اخبار الفضل مورخہ11ستمبر1924ء صفحہ نمبر1۔ جلد 12نمبر 27۔ کلام محمود نظم نمبر 68)

یہ وہ حقیقت ہے جسے ایک سو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اہل پیغام سمجھ نہیں پا رہے۔ دلائل و براہین کے وہ ہیرے جو مسیح وقت نے اپنی جماعت کو دیے ان سے منہ موڑ کر ان کی جگہ چند کھوٹے سکّے لیکر اُسی کے نام لیوا بن کر بے نام منزل کی طرف سرگرداں ہیں۔مگر ایک صدی سے زائد کا سفر اس بات کا بیّن ثبوت اور واضح دلیل ہے کہ آسمان کس کے ہمرکاب ہے۔اِنّی مَعَ الرّسولِ اَقُومُ (تذکرہ صفحہ 440۔ایڈیشن ششم2006ء قادیان)کے الفاظ نازل کرنے والا مولائے کُل کِس کے ساتھ کھڑا ہے، اور آسمانی تائیدیں کس کے ساتھ ہیں۔

14مارچ 1914ء کو دارالا ما ن سے نکلنے والوں نے اِس دن کو خودیوم الفرقان قرار دیا ، مگر وہ ذات حق جس نے اپنے عبدِ کامل پر فرقان نازل کی ،پھر اُس کے غلامِ کامل کو نذیر بناکر بھیجا،اُسی نے اس کے نام لیوا دو گرو ہوں میں ایسی فرقان رکھی کہ ایک کی زمین روز بروزتنگ ہوتی جاتی ہے ،اور دوسرا اکناف عالم میں پھیل رہا ہے۔دونوں گروہوں کے درمیان عقائد کی بحث کا طویل سلسلہ چلا۔ امام لاثانی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے بذات خود، اور سلسلہ کے مقتدر علماء نے اس ضمن میں ہزاروں صفحات تحریر کیے،اور سینکڑوں تقاریر کیں، اورانتہائی سنجیدگی،شائستگی اور وقار کے ساتھ گم گشتہ راہوں کو راہ حق پہ لانے کی کوشش کی ۔احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے بانی مولوی محمد علی صاحب اور ان کے پیروکاروں نے بھی اپنی بساط کے مطابق اس کام کو جاری رکھا۔ان حضرات نے دن بدن امام الزمان کے مقام، رتبے اور شان کوکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لخت جگرخلیفۃ المسیح، خاندان اقدس،علمائے سلسلہ، افراد جماعت اور نظام جماعت کے خلاف انتہائی رقیق اور سوقیانہ تحریریں یاد گار چھوڑی ہیں،جس کے نمونے ان کی کتب اور اخبار ‘‘پیغام صلح’’ میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ اور ہرزہ سرائی کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔اس مضمون میں دو جماعتوں کے قیام اور عقائد میں تبدیلی پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ تخم ریزی جو مسیح محمدیؐ نے کی اُس سے نسبت کی دعویدار دو جماعتوں میں کون ہے جو اس باغ کی نگہداشت کر رہا ہے،کس کی کوششوں کو روح القدس کی تائید حاصل ہے،کس کی شبانہ روز محنت اور دعائوں کا نتیجہ توفیق ایزدی سے حقیقی ترقی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ،اور کون ہے جو سراب کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔

ابتدائی خیالات

ماضی کے دریچے کھول کرابتدا اس مطہر زمانے سے کرتے ہیں جب شمع ِ بزم خود اس انجمن میں موجود تھا۔ وہ امام کامگار صدیاں جس کی آمد کی منتظر تھیں۔ وہ جری پہلوان سونے کی کان نکال چکا تھا ، اور ہیروں کے معدن پر اطلاع پاکر آوار گان دشت ِخار کو پکار پکار کر عافیت کے حصار میں داخل کر رہا تھا۔ جمیع اقوام کی طرف بھیجے گئے اس نذیر کی کوشش تھی کہ اس کی آواز ہر طرف پہنچے،تا ہندوستان کے علاوہ باقی دنیا بھی اس کے پیغام کو جانے اور سمجھے۔ اس مقصد کے لیے 1902ء میں ایک انگریزی رسالہ ‘‘ریویو آف ریلیجنز’’کے نام سے جاری کیا گیا،اور مولوی محمد علی صاحب اس کے ا یڈیٹر مقرر ہوئے۔

اس رسالے نے بہت جلد قبول عام کی سندحاصل کی۔ رسالہ ریویوآف ریلیجنزکی عالمگیر شہرت دیکھ کراخبار‘‘ وطن’’ کے ایڈیٹرمولوی انشاء اللہ خان نے 1905ء کے آخر میں یہ عجیب تحریک پیش کی کہ اگر آئندہ اس رسالہ میں حضرت مرزا صاحب اور آپ کے مشن کا ذکر نہ ہو تو وہ مسلمانوں کو بذریعہ اخبار اس کی اعانت کی طرف توجہ دلائیں گے اور خود بھی اس کی اشاعت کے لیے دس روپے ماہوار ادا کریں گے۔اس تحریک پر خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویوکے اتفاق رائے سے انہیں اطلاع دی کہ‘‘آپ سے اور آپ کے ہم رائے دوستوں سے اس حد تک تو متفق ہوں کہ ریویو آف ریلیجنزکوبلا لحاظ فرقہ شائع کیا جائے اور کُل مسلمان جو احمدی یا غیر احمدی ہوں اسے اپنا آرگن سمجھ کر اشاعت دین اسلام میں کوشش کریں۔ایڈیٹر اور دیگر مدیران رسالہ ہٰذا کا فرض ہوگا آئندہ اس کے صفحات کو خاص دعاوی حضرت مرزا صاحب سے خالی رکھیں’’۔ان اصحاب کی یہ تجویز جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچی تو حضور نے اسے اس بنا پر ردّ کر دیا کہ ‘‘مجھے چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کروگے’’۔ اُسی زمانے میں اِس سوچ کے خلاف زبردست آواز بلند ہوئی اورحضرت اقدس علیہ السلام کے ایک مخلص مرید حبیب الرحمن صاحب حاجی پور نے 28فروری 1906ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں باقاعدہ اس کے خلاف اپیل بھجوائی،جس میں عرض کیا کہ‘‘ میری سمجھ میں نہیں آتا اگر یہ لوگ اس زمانہ کے رسول کے خیالات اور تعلیم اور وہ کلام ربانی جو اِس رسول پر نازل ہوتا ہے کو چھوڑ دیں گے تو وہ اَور کون سی باتیں ہیں جن کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔کیا اسلام کسی دوسری چیز کا نام ہے جو اِس رسول سے علیحدہ ہوکر بھی مل سکتا ہے۔کیااحمد سے علیحدہ ہوکر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ مل سکتا ہے۔ پھر کیا ایسا معاہدہ کرنے والے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنانا چاہتے ہیں’’۔

(تاریخ احمدیت جلد 2صفحہ 415۔ایڈیشن 2007ء پبلشر نظارت نشرو اشاعت قادیان)

عقائد میں تبدیلی۔بُعد المَشرقَین

قارئین اہل پیغام کے ابتدائی عقائد و خیالات اور ان میں تبدیلی کا اندازہ مندرجہ ذیل دو حوالوں سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ مگر پہلے یہ دیکھ لیں کہ حکم عدل کیا کہتا ہے:‘‘عقیدہ کے رُوسے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد ﷺاس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہےاور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیںمگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیتؐ کی چادر پہنائی گئی ۔ کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے۔ پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہوکرخدا سے نبی کا لقب پاتا ہےوہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں۔جیسا کہ تم جب آئینہ میںاپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہواگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیںصرف ظِلّ ا ور اصل کا فرق ہے۔سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میںچاہا ۔ یہی بھید ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔یعنی وہ میں ہی ہوں۔ اور اس میں دو رنگی نہیں آئی’’۔

(کشی نوح ،روحانی خزائن جلد 19۔صفحہ نمبر 15-16۔ایڈیشن 1984ء،مطبوعہ لندن)

‘‘میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیںجن میں سےبطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں ۔اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا۔اور نہ یقیناً کہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اُس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لیے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا’’۔

(حقیقۃ الوحی ،روحانی خرائن جلد 22 صفحہ 503۔ایڈیشن 1984ء)

ادارہ اخبار پیغام صلح نے 16اکتوبر 1913ء کے شمارہ میں درج ذیل اعلان شائع کیا:‘‘معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے، کہ اخبار ہٰذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزاغلام احمدصاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کواصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میںاخبار ‘‘پیغام صلح ’’کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والاہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیںکہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعودو مہدی معہود کواس زمانے کا نبی ،رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔اور جو درجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا بیان فرمایاہے، اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اورآپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد ہم اس کے خلیفہ برحق سید نا و مرشدنا و مولاناحضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح کوبھی سچا پیشوا سمجھتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد اگر کوئی ہماری نسبت بدظنی پھیلانے سے باز نہ آئے تو ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں’’۔

(پیغام صلح مورخہ16اکتوبر 1913، صفحہ 2کالم 3۔جلد 1،شمارہ42 )
http://aaiil.org/urdu/articles/paighamesulah/paighamesulah.shtml

اب ایک صدی گزرنے کے بعد خیالات ملاحظہ ہوں۔موجودہ امیر بیان کرتے ہیں:‘‘آپ کا مجھ سے سوال ہے کہ کیا میں حضرت مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہوں تو میرا جواب ہے کہ نبی صلعم نے کسی بھی نئے نبی کے آنے کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ اور مرزا صاحب کا بھی یہی عقیدہ رہا، تو پھر میں کیسے آپ کو نبی مانوں ؟… ہم سب کے سامنے قرآن کریم پڑے ہیں، اور میں اس پر حلفاً بیان دیتا ہو ں کہ میں رسول کریم صلعم کے بعد کسی بھی نئے یا پرانے نبی کے آنے پر یقین نہیں رکھتا… میرے آگے قرآن پڑاہے اور میں یہ حلفاًکہتا ہوں کہ احمدیہ انجمن لا ہور کا کوئی ممبر مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا۔اگر یوں ہوتا تو میں کیسے ایسی جماعت کا امیر بننے کے لیے تیار ہوتا، بلکہ میں تو احمدی بھی نہ ہوتا’’۔

(تقریر حضرت امیر ڈاکٹر عبد الکریم سعید،مورخہ 15اپریل 2017ء۔ پیغام صلح صفحہ6-7 یکم تا 31مئی 2017،جلد 2شمارہ 9-10 )

ایک اور موقعہ پر کہا:‘‘ہم سب کو چاہیے کہ ہم سب جو نصائح ہمیں اپنے زمانے کے امام سے حاصل ہوئیں ان پر عمل کریں۔اور اپنے امام کو ایک لمحہ کے لیے بھی ایسا امام نہ سمجھیں کہ وہ نبی تھے۔ کیونکہ نہ انہوں نے کہا کہ ‘‘میں نبی ہوں’’ اور نہ انہوں نے کہا کہ ‘‘کوئی اَور نبی آئے گا’’۔

(تقریر سالانہ دعائیہ 28؍ دسمبر 2017ء پیغام صلح صفحہ نمبر4، یکم تا 30اپریل2018،شمارہ 7-8)

روشن ہوا جو ایک نئی زندگی کے نام
لوگوں نے اس دیے میں بھی ظلمت اسیر کی

مسیح محمدیؐ فرماتا ہے: ‘‘ جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سبّ و شتم سے نہ آسمانی ابتلائوں اور آزمائشوں سے اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کیے جائیں گے اور ان کا پچھلا حال ان کے پہلے سے بد تر ہوگا ’’۔

( انوار السلام، روحانی خزائن جلد 9، صفحہ 24۔ ایڈیشن 1984ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:‘‘ اب خداتعالیٰ نے یہ مقدر کردیا ہے کہ وہ دنیا پر مقام ِختم ِنبوت جماعت احمدیہ کے ذریعہ واضح کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کردیا ہے کہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اب جماعت احمدیہ کے ذریعہ دنیا پر لہرایا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہم گزشتہ 123برس سے قربا نیاں دیتے چلے آرہے ہیں اور انشا اللہ قربانیاں دیتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ تمام دنیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے … ہم احمدیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت ِنبوت پر اس سے زیادہ اور کئی گنا بڑھ کر یقین ہے ، اور اس کا فہم و ادراک ہے جتنا کسی بھی دوسرے مسلمان کو آپ کے خاتم النبیین ہونے کی حقیقت کا ادراک اور یقین ہے ۔ اور یہ یقین ہمارے دلوں میں ہماری روحوں میں زمانے کے امام اور مہدی دوراں اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق نے پیدا فرمایا ہے’’۔

( الفضل انٹر نیشنل 30ستمبر 2011ء صفحہ 1۔جلد 18شمارہ 39)

…………………………………………………………(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button