متفرق مضامین

رمضان برکتوں اور صحت کا مہینہ

روزہ ڈھال ہے۔ یہ حدیث چند لفظوں میں جسمانی اور روحانی طور پر روزہ کی افادیت کی مکمل تفصیل بیان کر دیتی ہے۔ ہم اس ‘ڈھال ’کی جسمانی طور پر حفاظت کے بارے میں بات کریں گے۔ روزہ تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ پرانے زمانے میں بلکہ آج بھی معدے کی تمام بیماریوں کے لیے خالی پیٹ رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ روزے میں روحانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ جسمانی بیماریوں سے شفا موجود ہے۔ بلڈپریشر کی بیماری میں نمک نہ کھانے کا روزہ آج بھی رکھا جاتا ہے۔آپ حیران ہوں گے کہ ذیابیطس کے علاج کی دریافت کے دوران روزہ رکھنے یا کم سے کم کھانا کھانے کا علاج بھی اپنایا گیا۔ اور کسی حد تک اس کے نتائج بھی حوصلہ افزا نکلے۔ آج ریسرچ نے اِس کو ثابت کردیا ہےکہ صحت مند جسم کے ساتھ روزہ رکھنے سے صحت میں مزید بہتری آتی ہے اور انسان بعض بیماریوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے۔

روزے سے بہترین انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے دورانِ روزہ ہمیں اپنے جسم کے کام کرنے کی صلاحیت کا ادراک ہونا چاہیے۔ رمضان کے دِنوں میں ہمارے روزانہ کے تین کھانے اور دو سنیک(snack)، دوکھانوں یعنی سحری اور افطاری کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ آپ صبح سحری کھاتے ہیں جو ہمارے مقررہ ناشتہ کے وقت سے کافی پہلے ہوتی ہےاورہمارا نظام انہضام اِس کو نارمل طریقے سے جزوِ بدن بناتا ہے۔ روزہ کے دوران جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوتا ہےتو ہمارے جسم کی رطوبتیں اور انزائمز کھانا ہضم کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن جب ہم کھانا نہیں کھاتے تو ہمارے معدے کا ایسڈ اور دوسری تمام رطوبتیں اپنا کام جاری رکھتے ہوئے جسم میں بچے کھچےکھانے کو اخراج کے نظام تک لے جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ سب معمول کھانے کے بعد ہونے والے عمل سے نسبتاً تھوڑا ہوتاہے۔ اِس کے بعد ہم افطار کرتے ہیں اور جسم کا نظام دوبارہ نارمل طریقے پر کام کرنے لگتا ہے۔

جب روزے باقاعدگی سے رکھے جاتے ہیں تو ہمارا جسم یہ سمجھ جاتا ہے کہ دوپہر کا کھانا اور سنیک نہیں ملے گا بلکہ یہ جسم کی صفائی کا وقت ہے۔ اِس طرح ہمارے جسم سے زہریلے مادے،فاضل رطوبتیں اور جسم کے ناپسندیدہ ذرات کا اخراج ہو جاتا ہےاور جب مسلسل ایک ماہ تک ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہر جسمانی نظام میں چاہے وہ کھانے کا نظام ہے،گردوں کا نظام ہے، نارمل رطوبتیں پیدا کرنے کا نظام ہے، یا ذہنی صلاحتیں سب جگہ بہتری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔

انسانی جسم ہر وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا رہتا ہے تو ساتھ ساتھ خود کار ‘مرمّت’ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ روزہ میں جب جسم سے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں تو اِس عمل میں تیزی آجاتی ہے۔ اگر دورانِ سال کسی بے احتیاطی کی وجہ سے ہمارا جسم کسی بیماری کی طرف جا رہا ہو تو روزے کی برکت سے اکثر وہ بھی اس سے بچ جاتا ہے یا بہتری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور ہمیں بیماری کی علامات پیدا ہونے سے پہلے ہی اس سے نجات مل جاتی ہے۔ اِن بیماریوں میں بدہضمی ،السر، پری ذیابیطس، بلڈپریشر اور ذہنی تناؤ(stress) کے علاوہ ناک اور سانس کی بعض بیماریاں شامل ہیں۔ گویا ان بیماریوں کی علامات بھی ظاہر ہونے سے پہلے روزے کو مکمل شرائط کے ساتھ رکھنے کی بدولت سے ان سے شفا ہو جاتی ہے۔

جب آپ روزے رکھنا شروع کرتے ہیں تو چاریا پانچ روزوں کے بعد بھوک کا احساس تھوڑا زیادہ ہوجاتاہے۔ اگر اِس وقت آپ اپنے معمول میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ روزے رکھتے رہیں تو اگلے چھ یا سات دِن میں آپ دوبارہ مستعد ہوجاتے ہیں۔ اور چالیس سال سے کم عمر کے بعض لوگ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ اور درحقیقیت ذہنی، جسمانی اور اندرونی نظام میں بالکل اِسی طرح ہورہا ہوتا ہے کہ جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہےاور جسمانی نظام میں وسعت آتی ہے۔

روزوں کا مقصد سحری کھا کر آرام دہ ماحول میں کم سے کم کام کرنا، لیٹے رہنا یا افطار کا انتظار کرنا نہیں بلکہ روزہ رکھ کر روزانہ کے کام باقاعدگی سے کرنا ہے۔ اِس بھروسے کے ساتھ کہ ہمارا بنیادی کھانا (main meal)جو ہم نے محض خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی مدد سے اسی کی خاطر چھوڑا ہےوہ ہماری روحانی اور جسمانی صحت اور ترقی کا باعث بنے۔

سحری اورافطاری کے وقت کے کھانوں میں اعتدال اور روزوں کی لمبائی کے مطابق تھوڑی سی تبدیلی روزہ رکھنے کو جسمانی طور پر آسان کردیتی ہے۔ جب ہم سحری کے لیے اُٹھیں تو اُٹھتے ہی ہماری کی توجہ کھانے کی طرف نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ سنّتِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے سب سے پہلے وضوکریں، تہجد پڑھیں اور روحانی غذا سے اپنی سحری کی ابتداکریں۔ اپنے جسم اوراعضاءکو وقت سے پہلے (صبح کے ناشتے کی بجائے)کھانے کا عادی بنائیں اور جسم کو یہ پیغام دیں کہ آج سے وقت سے پہلے کھانا کھانا ہے۔ سحری میں ایسا کھانا ہو جس میں فائبرکی مقدار زیادہ ہوجس سے بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔ جیسے برائون آٹے کی روٹی، برائون ڈبل روٹی، سبزی،گوشت کا سالن، انڈے کا سالن، اِس کے ساتھ پانی اور دہی کا استعمال ضرور کریں۔ بغیر نمک کے خشک میوے یعنی اخروٹ اور بادام وغیرہ لینا بھی بہت اچھا ہے۔ کھانے میں کم نمک کا استعمال پیاس کو کم کرتاہے۔ سالن ہر روز بدل کر استعمال کریں۔ اِس سے یکسانیت نہیں ہوتی اور کھانے سے رغبت قائم رہتی ہے۔ بعض لوگ گندم کا دلیہ ، خشک میوے، شہد اور پھلوں کے ساتھ دودھ سحری میں استعمال کرتے ہیں، وہ بھی ٹھیک ہے۔ ہمیں خود اپنے جسم کی ضرورت کے مطابق اپنی سحری کرنی چاہیے۔ سحری کرنے کے بعد نمازِفجر کی ادائیگی اور قرآن شریف کی تلاوت وغیرہ کے بعد اپنے دن کا آغاز معمول کے مطابق کرنا چاہیے۔ جسم کی نارمل فزیالوجی یا صحت مندانہ طریقے سے کام کے نتیجہ میں آپ کو اپنے دوپہر کے کھانے کے وقت بھوک لگے گی اور پیاس کا بھی احساس ہوگا۔ جیسا کہ حضور ایّدہ اللہ نے ایک خطبہ میں فرمایا تھا کہ رمضان میں جسم کی اصل غذا روحانی غذا ہے نہ کہ وہ غذا جو آپ کے نفس کی خواہشات کو پورا کرے۔ قرآن شریف بھی تعلیم دیتا ہے کہ اچھا کھانا ضرور کھائو مگر اِس میں بھی میانہ روی اور توازن قائم رکھا جائے۔ روزے کے دوران جب اپنے معمول کے کھانے کے اوقات میں بھوک کا احساس ہوتو اس کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اگر اس وقت نماز کا وقت ہے تو نماز اور نوافل وغیرہ کی ادائیگی یا تلاوت قرآن کریم وغیرہ میں وقت صرف کرنا چاہیےاور اگر آپ کام پر ہیں تو اپنے کام کو اَور توجہ سے کرنا چاہیے۔ اِس طرح چند لمحوں میں ہی آپ کا ذہن جسمانی غذا کی خواہش سے ہٹ جائے گا اور روحانی غذا آپ کا حوصلہ بڑھائے گی۔ یہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ بھوک کے شدید احساس کے بعد جب ہم جسم کو معمول کے مطابق خوراک مہیا نہیں کرتے تو ہمارے جسم کا اندورنی نظام ہمارے جسم میں پہلے سے جمع شدہ چکنائی اور جگر سے شکر نکال کر جسمانی ضروریات کو پورا کر دیتے ہیں۔ اِسی طرح اگر آپ کو پیاس لگتی ہے تو کچھ دیر بعد وہ ختم ہوجاتی ہے۔کیونکہ ہمارے جسم کے اندر کا پانی بنیادی خلیوں سے نکل کر ہمارے جسم کی پانی کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔ اِسی طرح ہمارا جسم روزوں میں بھی اعتدال کے ساتھ کام کرتا رہتا ہے۔ یاد رکھیں اگر رمضان کے دوران ہم بہت زیادہ چکنائی والے کھانے کھائیں گے تو جو چکنائی ہمارا جسم اپنے اندر سے استعمال کررہا ہوتا ہےہم اس کو دوبارہ جمع کر دیتے ہیں۔ اِس سے جسمانی بہتری واقع نہیں ہوتی اور ہمارا جسم دوگنا کام کرنے کے باوجود اپنے غیرصحت مندانہ وزن پر قائم رہتا ہے۔

پسندیدہ امر یہی ہے کہ سنّتِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے افطار کھجور سے کی جائے۔ اس کے ساتھ سادہ پانی لے لیا جائے۔ لیکن ہفتہ میں دو مرتبہ مناسب چینی والا کوئی شربت، ملک شیک یا لسّی بھی ایک درمیانہ گلاس جتنا استعمال کر لی جائے تو کوئی مذائقہ نہیں۔ اِس وقت چائے پینا بھی اچھا ہے۔

کھانا نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد لینا زیادہ صحت افزا ہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے جسم کو دوبارہ کھانے کو قبول کرنے کے لیے تیار کر چکے ہوں گے اور جسم میں شکر کی مقدار ایک دم نہیں بڑھے گی بلکہ صحت مندانہ طریقے سے آہستہ آہستہ بڑھے گی۔ اس کے برعکس اگر ہم روزہ کھولتے ہوئے بھرپور افطاری کریں جبکہ معدہ ابھی خالی ہے، ہم اسے ایک دم میٹھے،تیل والے اور مرغن کھانوں سے بھر دیں تو خون میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ ہو جائے گی جسے جسم فوراً استعمال نہیں کرسکتا اور اس کو ذخیرہ بھی نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ روزہ کھولنے کے فوراً بعد بہت شدید کمزوری اور ضعف محسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کو نماز کی ادائیگی بھی مشکل محسوس ہوتی ہے۔ہر روز پکوڑے، سموسے، مٹھائیاں ، مرغن غذائیں کھانے سے پرہیز کریں۔

کھجور کے ساتھ اعتدال میں فروٹ چاٹ، دہی بھلے یا چنے کی چاٹ لینے میں مذائقہ نہیں۔ یہ غذائیں اکثر لوگوں کو مرغوب ہوتی ہیں اور صحت کے لیے مفید بھی ہیں۔

عام دنوں میں عموماً اور رمضان کے دوران خصوصاً رات کا کھانا بالکل سادہ رکھیں۔ پودینے اور دھنیے کی چٹنی کھانے کا حصہ ہونی چاہیے۔ اگر اس کو دہی میں ملا کر کھائیں اور ایک جوئیہ لہسن ڈال لیں تو اس کی افادیت بھی بڑھ جاتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہو جاتاہےاور نظام انہضام بھی درست رہتا ہے۔ کھانا کھا کر کم از کم سو قدم چلنے کا نسخہ ہمیشہ سے ہی مفید ہے۔ اِس طرح آپ کو پیٹ پھولنے کا احساس، پیٹ درد،کمزوری یا ناطاقتی نہیں ہوتی۔ اگر آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو افطاری سے پہلے ہلکی سے ورزش کرلیں۔ روزہ کی حالت میں سخت ورزش مناسب نہیں۔ گرمی میں باہر نکلیں تو چھتری کا استعمال کریں۔ پانچوں وقت کی نمازیں اور تہجد کا اہتمام اور ان سے پہلے وضو جسم کو روحانی اور جسمانی کسی بھی محرومی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

بیماری میں روزہ رکھنا: قرآنِ کریم وضح طَور پر فرماتا ہے کہ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرہ 185)۔بیماری اور سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ حضور ایّدہ اللہ نے بھی خطبہ میں فرمایا تھا کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ جو شخص بیماری یا سفر کی حالت میں روزہ رکھتا ہے، وہ خداتعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اور اسے یہ روزے دوبارہ رکھنے ہوں گےجب وہ صحت مند ہو جائے گا یا اس کا سفر ختم ہوجائے گا۔

لیکن دوسری جانب مسلمانوں کی اکثریت بیماری میں روزہ رکھنے کی قائل نظر آتی ہے۔ اب ہم طبی نکتۂ نظر سے ایک بیمار آدمی کے روزہ رکھنے کے نقصانات کے بارے میں بات کریں گے۔سب سے پہلے ہم ذیابیطس کے مریض کو لیتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض کے لیے روزہ رکھنے کا ارادہ کرنا ایک سنجیدہ فیصلہ ہے۔ اس کے لیے طبی راہنمائی کی بہت ضرورت ہے تاکہ مریض جان لے کہ روزہ رکھنا اس کے لیے بعض حالات میں کتنا پریشان کن ہو سکتا ہے۔ جو لوگ ذیابیطس کے مریض ہیں اور اپنی صحت کے بارے میں محتاط ہیں اور روزہ رکھنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں وہ اپنے ڈاکٹر کے پاس رمضان سے چھے سے سات ہفتے پہلے جاتے ہیں جہاں ڈاکٹر ان کی دوائی لینے کی عادت، ذہنی حالت، شوگر کے کنٹرول کے علاوہ دوسری بیماریوں جیسے بلڈپریشر اور خون میں کولیسٹرول کے تناسب کا بھی معائنہ کرتا ہے۔ اگرچہ شاید ہی کوئی ڈاکٹر ہو جو ذیابیطس کے مریض کو روزہ رکھنے کی اجازت دے لیکن اگر کوئی ذیابیطس کا مریض اپنے ڈاکٹر کی اجازت سے روزہ رکھتا ہے تو اس کو بلڈ شوگر کی کمی (Hypoglycaemia)اور زیادتی (Hyperglycaemia)کی علامات سے خبردار رہنا ہو گا۔ نیز یہ کہ بصورت ایمرجنسی کس طرح ان کا علاج کرنا ہے۔

بلڈشوگر کے لیے مختلف قسم کی دوائیاں استعمال کی جاتی ہیں جن میں ٹیکے بھی شامل ہیں۔ مگر مقصد سب دوائیوں کا شوگر لیول کونارمل رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے ہرمریض کو جو روزہ رکھتا ہے اس کی بیماری کی نوعیت اور شدّت کے پیشِ نظر انفرادی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ٹائپ ٹو ذیابیطس جو غذا سے کنٹرول کی جارہی ہو یا diet controll اور مریض کا بلڈپریشر کنٹرول ہو تو پھر بھی شوگر بڑھ جانے یا کم ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

آنکھوں کی بیماری کے لیے مریض آئی ڈراپس استعمال کرتے ہیں۔ dry eye کے لیے ان کو مصنوعی آنسو یا artificial tear ایک سے زیادہ دفعہ استعمال کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ acute یعنی ایک دم سے ہونے والی بیماریاں جیسے نزلہ ، زکام بخار میں روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ بخار کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے اور روزہ اس کمی میں مزید اضافہ کرتا ہےجس کی وجہ سے بخار اَور تیز ہو جاتا ہےاور اگر انفیکشن ہو تو اس میں بھی پیچیدگی پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تھائی رائیڈ گلینڈ کی بیماری کے مریض بے شک دوائی دن میں ایک دفعہ لیتے ہیں۔ مگر ان کا بھی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے اور رمضان سے پہلے اپنے ہارمون لیول چیک کرانے چاہئیں اور اگر ڈاکٹر اجازت بھی دے دے اور روزوں کے دوران وہ اپنے اندر کسی قسم کی علامات محسوس کریں تو روزہ چھوڑ دیں، اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ کوئی رسک نہ لیں کیونکہ یہ گلینڈہمارے جسم کا پاور ہائوس کہلاتا ہے۔

اگر کوئی دل کی کسی بیماری کے لیے دوائیاں لیتا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ روزہ رکھنے سے ہمارے جسم میں نمکیات یا electrolyteکا تناسب خراب ہو سکتا ہے۔ جو دل پر اثرکرتا ہے اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔

اسی طرح حاملہ خواتین، بچے کو دودھ پلانے والی خواتین کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے اسی طرح بڑھنے کی عمر کے چھوٹے بچوں، شروع بلوغت کی عمر کے بچوں وغیرہ کے لیے لگاتار روزے رکھنا مناسب نہیں۔ بلوغت تک پہنچنے والے بچوں کو بہر کیف کبھی کبھار روزے رکھنے چاہئیں تا کہ ان کا جسم روزے رکھنے کا عادی ہو جائے۔

وہ لوگ جنہیں کسی قسم کا eating disorder ہو وہ روزہ نہ رکھیں۔ مرگی کے مریض کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ ان کو بیماری زیادہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ دوائی کا وقت بدلنا ،لمبے عرصہ بھوکا رہنا،نیند کا پورا نہ ہونا اور ذہنی اور جذباتی دبائو کو گردانا گیا ہے۔ جوڑوں کے درد کے مریض جو ریگولردوائیاں لیتے ہیں ان کے لیے بھی روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ ان کے لیے بھی دوائی کا وقت بدلنا مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ دوائیوں کے کام کرنے کی صلاحیت مخصوص وقت کے لیے ہوتی ہے اور بعض دوائیاں کھانے کے ساتھ ہی کھانی ضروری ہوتی ہیں۔ معدے کی بیماریاں یا السر کے مریض کو بھی ڈاکٹر سے اپنی دوائیوں کے بارے میں مشورہ کرلینا چاہیے۔ ورنہ لگاتار روزے سے معدے کی بیماریاں بڑھ کر تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔ ذہنی بیماریاں جن میں سٹریس اور انگزائٹی (Stress & Anxiety) شامل ہیں جس کے لیے مریض ہومیوپیتھی یا ایلوپیتھی دوائیاں لیتے ہیںان کو خود ہی اپنی دوائیاں بند کرکے روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ ذہنی بیماریوں کے لیے دوائیاں عام طور پر ہمارے جسمانی ہارمونز یا ہارمونز کے عمل کو ردوبدل کے لیے دیتے ہیں۔ اور بعض ہارمونز ہمارے جسم میں روزہ کی حالت میں شکر کو سٹور سے نکالنے کا کام کرتے ہیں۔ اور ان دوائیوں سے چھیڑ چھاڑ جبکہ یہ مریض کے اعصاب پر بھی نمایاں اثر رکھتی ہیں۔ کافی تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ گردوں کی بیماری میں روزہ رکھنا بھی عام حالات میں منع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ کم پانی گردے یا مثانہ کے انفیکشن کا باعث ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کسی بیماری کا شکار ہیں اور دوائیاں لیتے ہیںتو اپنے معالج سے تفصیل سے مشورہ کریں اور اس کی ہدایات کو مانیے، کسی دوائی یا بیماری کو آسان نہ لیں۔

ریسرچ نے ثابت کردیا ہے کہ روزہ رکھنے کا صحت مندجسم کو فائدہ پہنچتا ہے اور اگر روزوں کو ان کی پوری شرائط کے ساتھ باقاعدگی سے رکھا جائے تو جسم سے فاضل مادے خارج ہو جاتےہیں ، تیزابیت کی شکایت دور ہوتی ہے، روز مرہ کی ذہنی پریشانیاں برداشت کرنے کی طاقت آتی ہے،خدا تعالیٰ پر بھروسا اور اعتماد بڑھتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو اِن کنٹرول محسوس کرتا ہے اور زندگی کی تبدیلوں کو مثبت طریقے سے قبول کرتا ہے۔ لیکن بیماری میں روزے رکھنے سے نہ صرف خدا کے حکم کی نافرمانی ہوتی ہے بلکہ ہم اپنی صحت کو مزید خرابی کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں۔

خداتعالیٰ ہم سب کو رمضان کی روحانی اور جسمانی برکتوں سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔ ثم آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button