تعارف کتاب

‘‘پیغام صلح’’

(فخر الحق شمس)

تصنیف لطیف : حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہودعلیہ الصلوٰۃ و السلام
ناشر: اسلام انٹر نیشنل پبلیکیشنز، یوکے
باہتمام:ایڈیشنل وکالت تصنیف، لندن
سن اشاعت: اپریل 2018ء UK
تعداد صفحات: 33

اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺکو دیگر انبیاء علیہم السلام پر بہت سی فضیلتوں میں سے ایک یہ فضیلت عطا فرمائی تھی کہ آپؐ کو صرف ایک قوم کی طرف مبعوث نہیں فرمایا بلکہ تمام جہانوں میں بسنے والوں کی اصلاح، خدا تعالیٰ کی واحدانیت کے جھنڈے تلے لے کر آنے اور ان کے لئے رحمت بناکے بھیجا، اور پھر ہمارے آقا ﷺ کے دل میں کُل عالم کے لئے امن و صلح اورمحبت موجزن فرما کر آپؐ کو رحمۃ للعالمین کا لقب عطا فرمایا۔بالکل اسی طرح آخرین کے دور میں مسیح محمدؐی یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دل میں بھی انسانیت کا درد ، مخلوق خدا سے ہمدردی ، صلح و آشتی اور محبت جیسے عظیم اخلاق سے متصف فرمایا۔ آپ ؑکے روحانی خزائن اور علم کلام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپؑ کی تحریرات ہوں یا ملفوظات، اشتہارات ہوں یا مکتوبات ہر سطر اور لفظ لفظ میں انسانیت کے حق اور تلوار کی بجائے محبت سے دلوں کو فتح کرنے کا درس موجود ہے۔ اس کے علاوہ حضرت اقدس ؑ کی کتب میں مختلف علوم سے تعلق رکھنے والوں کے طبعی ذوق کی تسکین کا سامان بھی موجود ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب کا قاری کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو اس کو آپ ؑکے پر معارف کلام میں تاریخی نکات، ادبی عجائبات ، تفسیری نوادرات، احادیث کے معارف ، علمِ تحقیق و جستجو، علم الالسنہ یعنی زبان دانی کے اصول، تصوف، مذاہب کا تقابلی جائز ہ اوراُمور معاد کی سائنٹفک تشریح پڑھنے کو ملے گی۔

حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی امن، صلح و آشتی اور رواداری کی صفات کی بات ہو رہی ہے تو آپؑ نے جہاں اس دور کے مذاہب کو محبت سے مخاطب کرتے ہوئے امن و امان کی طرف بلایا وہاں برصغیر کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندووں میں صلح اور رواداری پیدا کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کتاب تحریر فرمائی۔ جو پیغام صلح کے نام سے موسوم ہے اور روحانی خزائن کی جلد 23کی آخری کتاب ہے۔ یہ مختصر کتاب آپؑ نے اپنی وفات سے صرف دو دن پہلے قیامِ لاہور کے دوران تصنیف فرمائی تھی۔ اس سفر اور کتاب کے لکھے جانے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا آخری سفر لاہور مورخہ 29اپریل 1908ءکو فرمایا۔آپؑ کی زندگی ویسے تو ہمیشہ معمورالاوقات رہی لیکن لاہور میں آپؑ کی مصروفیات کا رنگ ہی کچھ اور تھا۔حضور ؑ ہمہ وقت پیغام حق میں مصروف رہتے۔ آپؑ نے قیام لاہور کے دوران صرف تقاریر کے ذریعہ سے ہی اتمام حجت نہیں فرمائی بلکہ حضور نے ان دنوں ایک عظیم الشان رسالہ پیغام صلح بھی لکھا جو حضور کی آخری تصنیف تھی۔ حضور کے لکھے ہوئے مسودہ کو ساتھ ساتھ کاتب بھی لکھتا جاتا تھا۔حضورؑ کو اپنی صحت کی وجہ سے یہ احساس تھاکہ تصنیف کا یہ کام جلد مکمل ہوجائے۔بہرحال مشیت الٰہی میں جتنا حصہ لکھا جانا مقدر تھا وہ حضورؑ کی وفات سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔(مزید تفصیل کے لئے تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 533۔534 ملاحظہ فرمائیں)

جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ؑنے کتاب پیغام صلح ملک کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندووں کو صلح و آشتی کا شاندار پیغام دیااور اتحاد و اتفاق کی ایک مضبوط اور مستحکم بنیاد قائم فرمادی نیز ہندو مسلم کشمکش کے مسئلہ کے خاتمہ کے لئے ایک نیا باب کھول دیا۔ آج کا ترقی یافتہ دور جہاں نئے سے نئے وسائل مہیا کر رہا ہے وہاں امن اور صلح کی بہت ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ جماعت احمدیہ خلافت کے ٹھنڈے اور پرسکون سایہ میںاور حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات کی روشنی میں امن کا عَلَم بلند کئے ہوئے ہے۔ اس لئے آج حضرت مسیح موعودؑ کی ان تحریرات اور رشحات قلم کو منظرعام پر لانے کی ضرورت ہے جس میں صلح اور آشتی کی باتیں ہوںاور اس افراتفری کے ماحول میں امن قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وکالت تصنیف برطانیہ نے یہ کتاب خوبصور ت اور دیدہ زیب انداز میں شائع کی ہے اور کمپوز کرکے سیٹ کیا ہے ۔ جو ایک خوش آئند اور قابل تعریف امر ہے۔ اس کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جماعت احمدیہ ہر مذہب اور مکتبہ فکر کو صلح کا پیغام دیتی چلی آئی ہے اور آج بھی خلیفہ وقت کی سرکردگی میں امن کے لئے برسرپیکار ہے اور ہر مثبت انداز میں امن و صلح کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہے۔

حضور ؑ نے اپنی تصنیف پیغام صلح میں فرمایا ہے کہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ تمام مذاہب کے مسلمہ بزرگوں اور صلحاء کا احترام کیا جائے۔ آپ ؑ نے اسلام کا یہ اصل صرف اسی کتاب میں ہی بیان نہیں فرمایا بلکہ کئی کتب میں اس کی تفصیل موجود ہے۔آپؑ نے سکھ مذہب اور حضرت بابا گرو نانک صاحب کی تعریف میں اپنی شہرئہ آفاق کتاب ست بچن تصنیف فرمائی، حضورؑ نے یہ تحقیقی کتاب اس لئے تالیف فرمائی کہ حضرت باوا نانک صاحب کا یہ عقیدہ اور مذہب دنیا پر ظاہر فرمائیں کہ وہ قول و فعل کے لحاظ سے سچے مسلمان اور پاک طبع بزرگ تھے۔

پیغام صلح کتاب مکمل پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ہمیں اس کو نہ صرف خود پڑھنا چاہئے بلکہ دوسروں میں زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہئے۔ یہاں اس دلچسپ کتاب کے چیدہ چیدہ حصے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیںتاکہ احباب جماعت کو مکمل پڑھنے کی طرف رغبت پیدا ہو سکے۔ حضرت مسیح موعود اس کتاب کے آغاز میں فرماتے ہیں:‘‘ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہندو باوجود صدہا اختلافات کے اس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق اور مالک ہے اور ایسا ہی ہم سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں۔اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندہ ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں ۔’’ (صفحہ1)

حضرت مسیح موعودؑہندو قوم کو خدا کے اخلاق اپنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘دوستو!یقینا ًسمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کے پاک خلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلاک ہوجائے گی۔ اور نہ صرف اپنے تئیں بلکہ اپنی ذریت کو بھی تباہی میں ڈالے گی ۔ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے ۔ تمام ملکوں کے راستباز یہ گواہی دیتے آئے ہیںکہ خدا کے اخلاق کا پیروہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آب حیات ہے۔اور انسانوں کی جسمانی اور رُوحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں۔’’ (صفحہ 2)

دنیا کی مشکلات اور دشوار گزار راہ کا ذکر کرنے کے بعد حضور ؑصلح کی پیشکش اس طرح فرماتے ہیں:‘‘ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔’’(صفحہ6)حضور نے خالص صلح کے لئے ہاتھ بڑہایانہ کہ زیادتی کے لئے، فرماتے ہیں:‘‘ سو اے ہموطن بھائیو!قبل اس کے کہ وہ دن آویں ہوشیار ہو جاؤ ۔ اور چاہئے کہ ہندو مسلمان باہم صلح کرلیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہواس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے ورنہ باہم عداوت کیا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہوگا ۔’’ (صفحہ6 )

حضرت مسیح موعودؑ ، حضرت کرشن کی صداقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘ایک بزرگ اوتار جو اس ملک اور نیز بنگالہ میں بڑی بزرگی اور عظمت کے ساتھ مانے جاتے ہیںجن کا نام سری کرشن ہے۔ وہ اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںاور ان کے پیرو نہ صرف ان کو ملہم بلکہ پرمیشر کرکے مانتے ہیں۔ مگر اس میں شک نہیں کہ سری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھا اور خدا اس سے ہمکلام ہوتاتھا۔’’(صفحہ7 ) اسی طرح حضرت اقدسؑ حضرت بابا نانک کے بارے میں فرماتے ہیں: ایسا ہی اس آخری زمانہ میں ہندو صاحبوں کی قوم میں سے بابا نانک صاحب ہیں جن کی بزرگی کی شہرت اس تمام ملک میں زبان زد عام ہے اور جن کی پیروی کرنے والی اس ملک میں وہ قوم ہے جو سکھ کہلاتے ہیںجو بیس لاکھ سے کم نہیں ہیں۔ باوا صاحب اپنی جنم ساکھیوں اور گرنتھ میں کھلے کھلے طور پر الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جگہ وہ اپنی ایک جنم ساکھی میں لکھتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ دین اسلام سچا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے حج بھی کیا۔ اور تمام اسلامی عقاید کی پابندی اختیار کی ۔ اور بلاشبہ یہ بات ثابت ہے کہ اُن سے کرامات اور نشان بھی صادر ہوئے ہیںاور اس بات میں کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ باوا نانک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا۔’’(صفحہ7 )

مسلمانوں اور ہندؤوں میں اتحاد اور یگانگت نہ ہونے کی وجہ حضور ؑ اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’اس ملک کی یہ بھی بد قسمتی ہے کہ ہندو مذہب نے باوانانک صاحب کی تعلیم سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا ۔ بلکہ پنڈتوں نے اُن کو دکھ دیا کہ کیوں وہ اسلام کی تعریف جابجا کرتا ہے ۔ وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صلح کرانے آیا تھا۔ مگر افسوس کہ کہ اس کی تعلیم پر کسی نے توجہ نہیں کی۔اگر اُس کے وجود اور اس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے۔’’ (صفحہ 8)

آپ ؑ حضرت بابا نانک کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کے بعد کہ خدا کی وحی اور اس کا الہام کبھی منقطع نہیں ہوتا، اپنے بارے میں فرماتے ہیں:‘‘میں بھی اس بات میں صاحب تجربہ ہوں کہ خدا کی وحی اور خدا کا الہام ہرگز اس زمانہ سے منقطع نہیں کیا گیا ۔ بلکہ جیسا خدا پہلے بولتا تھا۔ اب بھی بولتا ہے اور جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔ اب بھی سنتا ہے ۔ یہ نہیں کہ وہ صفات قدیمہ اُس کی معطل ہو گئی ہیں۔ میں تخمیناًتیس برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور میرے ہاتھ پر اُس نے اپنے صدہا نشان دکھائے ہیں۔ جو ہزارہا گواہوں کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔ اور کتابوں اور اخباروں میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی نشان کی گواہ نہ ہو۔’’(صفحہ8 )

حضرت مسیح موعود ؑ دیگر قوموں کی طرف مبعوث ہونے والے نبیوں کی صداقت کی کیا ہی پیاری اور ٹھوس دلیل اس طرح بیان فرماتے ہیں:‘‘ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہرگز بد زبانی نہیں کرتے بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس قدر دنیا میں مختلف قوموں کے لئے نبی آئے ہیں اور کروڑ ہا لوگوں نے ان کومان لیاہے اور دنیا کے کسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اور عظمت جاگزیں ہو گئی ہے اور ایک زمانہ دراز اس محبت اور اعتقادپر گذر گیا ہے تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہو تے تو یہ قبولیت کروڑہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی۔’’(صفحہ14 )

حضورؑنے صلح کے اس پیغام کے ساتھ اپنی کتاب میں ایک بہت ہی پُرحکمت معاہدہ بھی تجویز فرمایا جس کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر ہندو اور آریہ تیار ہوں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین اور تکذیب چھوڑ دیں تو آپؑ اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر تیار ہیں کہ احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے۔اسی طرح ہندو صاحبان ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کردیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپؐ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں۔اس کے بعد حضور ؑ فرماتے ہیں :‘‘پیارو! صلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں۔ آؤ ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہوجائیں ۔’’ (تفصیل کے لئے صفحہ 17۔18)

آپؑ نے اس کتاب میں اس سوال کا جواب بھی تفصیل کے ساتھ مرحمت فرمایا ہے کہ آنحضور ﷺ نے اس دنیا میں آکر کیا اصلاح کی ؟ فرمایا :‘‘پہلا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب کی اصلاح تھی ۔ ’’اس کے بعد فرماتے ہیں : ’’ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے اور اپنی باطنی توجہ سے اُن کے دلوں کو صاف کرنا چاہا ۔ تو اُن میں تھوڑے ہی دنوں میں ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی ۔ کہ وہ وحشیانہ حالت سے انسان بنے ۔ اور پھر انسان سے مہذب انسان اور مہذب انسان سے با خدا انسان ، اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہو گئے کہ انہوں نے ایک بے حس عضو کی طرح ہر ایک دُکھ کو برداشت کیا۔’’(صفحہ 25)

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی اس کتاب میں انتہائی درد کے ساتھ اور خالصتاً ہمدردی کے طور پر ہندؤو کو مسلمانوں سے محبت اور آشتی سے رہنے کی تلقین فرمائی ہے اور اہل اسلام کی طرف سے صلح کا ہاتھ بڑھایا ۔حضورؑ کی یہ عظیم الشان کتاب جونہی شائع ہو کر منظر عام پر آئی صلح کے اس پیغام کا ہر طرف چرچا ہونا شروع ہو گیا۔ اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ، نے7ستمبر1908ء کے پرچہ میںپیغام صلح پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

حضورؑ کا یہ آخری مقدس پیغام عوام تک براہ راست پہنچانے کے لئے مورخہ 21جون کو پنجاب یونیورسٹی ہال لاہور میں رائے پرتول چندرصاحب جج چیف کورٹ کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں پیغام صلح کا مطبوعہ مضمون بلند آواز سے پڑھا گیا جسے حاضرین نے بہت سراہا۔اندرون ملک میں اس کتاب کی مقبولیت اور پسندیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود ہندؤو ں نے اس کی تائیدکی اور اس پر عمدہ رائے کا اظہار کیا چنانچہ اخبار ‘‘ہندو پیٹریاٹ ’’مدراس نے لکھا ‘‘وہ عظیم الشان طاقت اور اعلیٰ درجہ کی ہمدردی جو قادیان کے بزرگ کے اس آخری پیغام صلح سے ظاہر ہوتی ہے وہ یقینا ًایک خاص امتیاز کے ساتھ اسے ایک عظیم الشان انسان ثابت کرتی ہے ۔۔۔ ایسی اپیل ایسے عظیم الشان انسان کی طرف سے یونہی ضائع نہیں جانی چاہئے ۔ اور ہر ایک محب وطن ہندوستانی کا مدعا ہونا چاہئے کہ وہ مجوزہ صلح کو عملی رنگ اپنانے کی کوشش کرے’’(بحوالہ ریویو آف ریلیجنزاردو1908ء صفحہ440تا 444)

ایک غیر مسلم دوست پی بی سنگھ نے لکھا:‘‘ کتاب پیغام صلح نے مجھ پر حیرت انگیز اثر کیا ہے۔ میں اسلام کو اچھا مذہب خیال نہیں کرتا تھا۔ اسلام کے متعلق مسلمانوںکا جو تھوڑا بہت لٹریچر میں نے مطالعہ کیا ، اس سے بھی مجھ پر یہی اثر ہوا تھا کہ اسلام جارحانہ مذہب ہے، میں اسے کبھی رواداری کا مذہب نہیں سمجھتا تھاجیسا کہ اب سمجھتا ہوں’’ ( الفضل 29مارچ 1940ء صفحہ 2،کالم 3)

مسٹر برہم دت ڈیرہ دون نے لکھا ‘‘چالیس برس پیشتر یعنی اُس وقت جب کہ مہاتما گاندھی ابھی ہندوستان کے افق سیاست پر نمودار نہ ہوئے تھے (حضرت) مرزا غلام احمد (علیہ السلام) نے 1891ء میں دعویٰ مسیحیت فرما کر اپنی تجاویز رسالہ ‘‘پیغام صلح’’ کی شکل میں ظاہر فرمائیں جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور محبت و مفاہمت پیدا ہو تی ہے۔ آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ لوگوں میں رواداری ، اخوت اور محبت کی روح پیدا ہو۔ بے شک آپ کی شخصیت لائق تحسین اور قابل قدر ہے کہ آپ کی نگاہ نے مستقبل بعید کے کثیف پردے میں سے دیکھا اور (صحیح)راستہ کی طرف راہنمائی فرمائی’’ (اخبار فرنٹیئر میل 22دسمبر1948ء)

پیغام صلح کو مغربی ممالک میں بھی خاص عظمت و وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ چنانچہ مشہور انگریزی رسالہ ‘‘ریوآف دی ریویوز ’’نے اس پر تبصرہ لکھا کہ:‘‘یہ پیغام سنہری پُل کا کا م دے سکتا ہے جس پر سے ہو کر مسلمانان ہند قانون اساسی کے خیمہ میں پہنچ سکتے ہیں۔ پیغام صلح شروع میں ہی تمام ہندوستانیوں کے ایک ہونے کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ بات جس سے اس کی خواہش کی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ تمام نبیوں کو خدا کی طرف سے مان کر مذہبی اتفاق اور اتحاد کی بنیاد رکھی جائے اس پیغمبر صلح کی یہ نرالی تجویز ہے۔’’( ریویو آف ریلیجنز اردو 1908ء صفحہ 438تا 440)- ( تاریخ احمد یت جلد دوم صفحہ 536۔537)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑکے امن و رواداری کے پیغام کو ساری دنیا تسلیم کرکے ایک جھنڈے تلے جمع ہو جائے اور اللہ ہمیں خلافت کی اطاعت و فرمانبرداری میں رہتے ہوئے محبت و اخوت کا یہ درس دنیا کے کناروں تک پھیلاتے چلے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close