رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ 2018ء (3؍نومبر)

… … … … … … … … …
03؍نومبر2018ءبروزہفتہ
(حصہ سوم)
… … … … … … … … …

آج کی تقریب میں شامل مہمانوں پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کے خطاب نے گہر ااثر چھوڑا اورمہمانوں نے برملااپنے جذبات کا اظہارکیا۔ بعض مہمانوں کے تاثرات ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔

٭ طارق خلیل صاحب جو کہ ایک بینک میں کام کرتے ہیں اور غیر احمدی مسلمان ہیں، انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

جماعت احمدیہ کے افراد بہت عقلمند ہیں اور ان کا اپنی جماعت کے ساتھ گہراتعلق ہے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے نمونہ ہیں ۔ میں مسلمان ہوں لیکن میں مذہبی نہیں ہوں، میں نے احمدیہ جماعت کے کئی interfaith کا نفرنسز میں شرکت کی ہے اور مجھے پتہ لگا ہے کہ جماعت احمدیہ ایک اچھا نمونہ پیش کررہی ہے۔ آپ کو اس بات پر بہت فخر کر نا چاہیے۔

انہوں نے کہا: میں نے آپ کے خلیفہ کے خطاب کا ہر لفظ سنا ہے ، اور لہجہ کو بہت غور سے دیکھا ہے ، انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام کا بہت اچھا دفاع کیا ہے اور یہ صرف احمدی احباب کے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان کے لیے ایک نصیحت تھی کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو دیکھنا چاہیے ۔

٭ ڈاکٹر وارث حسین صاحب جوکہ انٹرنیشل فریڈم یو۔ایس میں پولیسی کمشنرہیں، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

مجھے پہلے بھی حضور انور کی تقاریر سننے کا موقع ملا ہے۔ ہمیشہ پیار اور امن کی طرف دعوت دیتے ہیں اور آج کل کے حالات میں حضور انور کا یہ پیغام نہایت ہی ضروری ہے ۔یہ پیغام صرف احمدیوں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔ یہ تقریب بہت ہی شاندار تقریب ہے۔ کئی لوگ رضاکارانہ طور پر خدمت کر رہے ہیں اور محبت و پیار کے ساتھ ہم سے پیش آرہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس سے کمیونٹی کو تقویت ملتی ہے ۔امریکہ میں جماعت احمدیہ انسانیت کے لیے بہت خدمت کر رہی ہے، Food banks کھول رہی ہے ، غرباء کی مدد کر رہی ہے۔ اگر اس قسم کے لوگ ‘ورجینیا’ میں موجود ہیں تو اس سے زیادہ بڑی خوشی کیا ہوگی ۔

٭ ایک دوست Corrie Stuartجوکہ یو۔ ایس ریپبلکن سٹیٹ کے امیدوار ہیں انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

خلیفۃ المسیح کا خطاب بہت دل کش اور حکمت سے پُر تھا۔ امریکہ کو اور ساری دنیا کومحبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کا پیغام غور سے سننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے خاص طور پر جب دنیا کے حالات اچھے نہیں ہیں ۔یہ نہایت ضروری ہے کہ مذہبی آزادی کا پرچار کریں ۔ اس لیے یہ مسجد ہمارے لیے باعث فخر ہے کیونکہ آپ لوگ ملک کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں ۔

٭ ایک مہمان Roberta Auster صاحبہ جو کہ ورجینیا کی ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن ہیں، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

میں خلیفہ کی باتیں سن کر بہت متاثر ہوئی ہوں ۔ مجھے بہت اچھا لگا کہ ایک ایسا روحانی شخص ہمارے اندر موجود ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ آپس میں محبت، پیار اور اخوت سے رہنا چا ہیے۔

٭ ایک اور مہمان خاتون Genine Loss صاحبہ کہتی ہیں : مجھے خوشی ہے کہ حضور بار بار مذہبی آزادی کے بارہ میں بات کر رہے تھے۔ دنیا کے ان حالات کے پیشِ نظر حضور کا خطاب بہت ضروری ہے ۔ یہ تقریب بھی بہت اچھی تھی، سارے محبت سے پیش آرہے تھے ۔

٭ ایک مہمان Matt Waters جو کہ ورجینیا کے state candidate ہیں ، وہ کہتے ہیں :
میں حضور کا خطاب سن کر بہت متاثر ہوا۔ میں اب ان کے متعلق مزید پڑھوں گا اور انٹرنیٹ سے بھی معلومات لوں گا۔ نیز میں مزید اسلام سیکھنے کے لیے آپ کی مسجد میں بھی آنا چاہتا ہوں ۔

٭ ایک عیسائی مہمان Johnathon Dersh نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
حضور انور کا خطاب دنیا کے موجودہ حالات کے عین مطابق تھا اور بہت ضروری تھا۔ ہم نے امن کا پیغام سنا ۔ میں بہت ہی متاثر تھا اور حیران تھا کہ حضور نے پوری تقریر کے دوران صرف امن اور سلامتی کے بارہ میں ہی بات کی۔

٭ ایک مہمان Ann Little کہتی ہیں :خلیفۃ المسیح کا خطاب بہت اعلیٰ تھا۔ یہ خطاب سُن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ اس پیغام کی دنیاکو اشد ضرورت ہے ۔

٭ ایک مہمان Alison Saddelway صاحبہ جو پیشہ کے لحاظ سے ٹیچر ہیں وہ کہتی ہیں : جب حضور نے دنیا میں محبت اور عزت پھیلانےکی بات کی تو مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ میں بھی سکول میں بچوں کو یہی سکھاتی ہوں۔

٭ ایک مہمان Jeromy Nickpikeجو ورجینیا شہر کے سینٹر ہیں وہ کہتے ہیں:میں نے آج ایک چیز سیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ۔ اسی تعلیم سے ہم اچھے ہمسایہ بناتے ہیں، مختلف کمیونٹیز بناتے ہیں اور بچوں کو سکولوں میں تعلیم دیتے ہیں ۔

٭ ایک مہمان Todd keggy صاحب جو حکومت امریکہ کے لیے کام کرتے ہیں اوران کی اہلیہ ٹیچر ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوئیں۔ ان کی اہلیہ Nancyکہتی ہیں :

حضور کا پیغام نہایت ضروری تھا نا صرف اس جگہ کے لیے بلکہ موجودہ حالات میں ساری دنیا کے لیے بہت ضروری ہے۔ مجھے اس پیغام سے بہت امید اور قوت ملی ہے ۔

٭ ایک مہمان Emile Reagalman اپنی بیٹی Jeniferکیساتھ تقریب میں شامل ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں؛

اس دنیا میں سب سے زیادہ respect کی ضرورت ہے ، خواہ کوئی مسلم ہو یا یہودی یاہندو سب کا فرض ہے کہ ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئے۔ بعض نام نہاد مسلمانوں کے کاموں کی وجہ سے پچھلے چند سالوں سے اسلام کا نام خراب ہوتا جا رہا ہے۔ میرا ایک گہرا دوست احمدی ہے اور جب میں اس کی طرف ، اور اس کی فیملی کی طرف دیکھتا ہوں تو میں صرف محبت اور عزت محسوس کرتا ہوں ۔

٭ ایک اور مہمان EMILY Churchill صاحبہ جو کہ نیوز فاؤنڈیشن میں کام کرتی ہیں انہوں نے کہا:
اس تقریب سے میں نے محبت اور برادشت کے بارہ میں بہت کچھ سیکھا اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس ملک کے لیے یہ پیغام بہت ضروری ہے۔ مجھے بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس بارہ میں بات آگے بڑھ رہی ہے۔

٭ ایک خاتون Lorraine Eckahard اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:میں تیس سال سے اس علاقہ میں ہوں اور یہاں کے بدلتے حالات دیکھے ہیں۔ حالیہ فائرنگ کے واقعات بہت افسوسناک ہیں۔ ایسے موقع پر اس عظیم شخصیت کی جانب سے پیار، محبت اور رواداری کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے بھی یہاں مدعو کیا گیا ہے۔ مجھے یہاں آکر احمدیہ مسلم جماعت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا ہے۔ مسجد اس علاقہ میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، اس سے مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ پرامن جگہ ہے۔ میں مسلمان نہیں ہوں اور میں اس مسجد میں آئی ہوں، مجھے یہاں خوش آمدید کہا گیا ہے۔ یہی ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ اب آپ کے یہاں مزید پروگرام بھی ہوں گے، ان پروگراموں میں بھی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی مدعو کریں۔

٭ ایک یہودی اور ایک عیسائی خاتون Jane Pickren اور Judy Lawrence اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں؛

یہ ایک شاندار پروگرام تھا۔ محبت ہی محبت کا اظہار تھا۔ خلیفۃ المسیح نے دس سے زائد مرتبہ ‘محبت’ کا لفظ استعمال کیا ۔ یہ بہت ہی شاندار پیغام تھا۔ مجھے ایک لیف لیٹ بھی دیا گیا تھا، میں نے وہ بھی پڑھا ہے۔ میں نے جو کچھ یہاں آکر سیکھاہے، وہ سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ آجکل اسلام کے بارے میں لوگوں میں بہت سے منفی خیالات رائج ہیں۔ ہم اسلام کے اس رُخ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ خلیفۃ المسیح بہت ہی اعلیٰ شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے جو یہ فرمایا ہےکہ ‘ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی ہے’۔ اس جملہ سے اس مسجد کے قیام کی بھی وجہ سمجھ آتی ہے کہ آپ لوگ آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں۔ حضور کی تقریر میں ایک امید تھی۔ میں یہودی ہوں اور میری دوست عیسائی ہے، لیکن ہم یہاں آکر بہت محظوظ ہوئے ہیں۔یہ بہت ہی شاندار پروگرام تھا۔ میرا جماعت احمدیہ سے تعارف لائبریری میں ہوا تھا، جہاں میں ووٹنگ کے لیے والنٹیئرکرنے گئی تھی۔ وہاں چند خواتین ملیں جو بڑے فخر سے کہتی تھیں کہ ہم احمدی مسلمان خواتین ہیں۔پھر انہوں نے تعارف کروایا اور کچھ مفت کتابیں بھی دیں اور پھر ایک فارم دیا کہ ‘کیا میں چاہتی ہوں کہ میرے سے دوبارہ رابطہ کیا جائے’ جوکہ میں نے بخوشی سائن کیا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ سائن کیا کیونکہ اسی وجہ سے مجھے اس پروگرام کی دعوت آئی اور اس شاندار پیغام کو سنا۔ دنیا کو اس پیغام کی بہت ضرورت ہے۔ دنیا میں بہت نفرت ہے۔ یہ مسجد بہت شاندار ہے۔ کمیونٹی کے لیے یہ ایک مثبت اضافہ ہے۔ اس سے لوگوں کو مسلمانوں کی اہمیت کا مزید ادراک ہوگا۔ ہم آپ لوگوں سے مل کر بہت متاثر ہوئے ہیں۔یہ بہت ہی اچھی جماعت ہے۔ ہر ایک بہت اچھے طریقے سے ملا ہے، بہت دوستانہ ماحول ہے۔ ہم نے یہاں بہت اچھا وقت گزارا ہے۔

٭ ایک مہمان Alex Keisehکہتے ہیں کہ میں بہت متاثر ہوا ہوں، میرے لیے یہ اس لحاظ سے بہت جذباتی ہوگیا تھا کہ میں Holocaust Survivor ہوں۔ حضورِ انور کا پیغام بہت متاثر کُن تھا۔ آپ کا ایک ایک لفظ میری روح تک اثر کررہا تھا۔ حضورِ انور کا پیغام اس لحاظ سے بھی بہت پرحکمت تھا کہ ہم نفرت سے نہیں لڑ سکتے۔ نفرت کے ازالہ کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ محبت قائم کرنے کے لیے جہاد کیا جائے۔ نفرت کو محبت سے ختم کیا جائے۔ یہ محبت ہر مذہب کے درمیان پیدا کی جانی چاہیے اور ایسی محبت کی بے شمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں، جیساکہ آپ لوگوں کا یہ پروگرام۔ لیکن آجکل جو میڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہے اور گمراہ عناصر ہیں اور میڈیا ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ ہمیں اس کی بجائے باہمی محبت کو پھیلانا چاہیے۔یہی پیغام حضورِ انور لے کر تشریف لائے ہیں۔ ہمیں اس پیغام کو اور اسلام کی حقیقی تصویر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
٭51 ویں ڈسٹرکٹ سے ورجینیا سٹیٹ delegatesکی ممبر Hala Ayala جنہوں نے تقریب کے آغاز میں ایڈریس بھی پیش کیاتھا انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:میں خود بھی ایک مہاجر کی بیٹی ہوں ۔خلیفۃ المسیح (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کے الفاظ ایک مرہم تھے بالخصوص اس وقت جبکہ ہمیں اُمید کی تلاش ہے۔ ہمیں اس وقت وحدانیت کی ضرورت ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگ اس ملک کی بھلائی کے لیے یکجاہوجائیں۔اور میرے خیال میں حضورانور کا خطاب ہمارے ملکی حالات کے پیشِ نظرنہایت موزوں تھا۔

میں یہاں افتتاح سے پہلے بھی آئی ہوئی ہوں لیکن حضورِ انور کی آمد سے ایک غیر معمولی روحانی فرق محسوس کررہی ہوں۔ بہت ہی پرسکون ماحول ہے۔ حضورِ انور کا پیغام بہت ہی حیرت انگیز تھا، خاص کر یوایس اے کے موجودہ حالات میں یہ بہت شاندار تھا۔ آپ کا پیغام محبت کا تھا، اتحاد کا تھا۔ حضورِ انور نے فرمایا ہےکہ دوسروں کو اپنے پر مقدم سمجھو۔ بے نفس ہو کر خدمت کرو۔ آجکل کے سیاسی ماحوم میں ہمیں ایسے ہی پیغام کی ضرورت ہے۔ دوسروں کو اپنے پر فضیلت دینا، ایک بہت شاندار اور روحانیت سے بھرپور پیغام ہے۔ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا، دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دینا بہت ہی شاندار ہے۔ ایسے مواقع پر اپنی انا کو فوقیت دی جاتی ہے۔ حضورِ انور کا پیغام محبت اور پیار سے پُر تھا۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے ڈسٹرکٹ میں یہ مسجد قائم کی گئی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ اس مسجد کے قیام میں میری کوشش بھی شامل ہے۔جیسا کہ حضورِ انور نے فرمایا ہمیں معاشرے میں اتحاد پیدا کرنا ہے اور یہ کسی ایک گروپ کی کوشش سے نہیں ہوسکتا، ہر ایک کو اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

٭ ایک مہمان اپنے تأثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ؛ہمیں اس پیغام کی بہت ضرورت ہے۔ ‘محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں’۔ میرے خیال میں اس پیغام کا کوئی متبادل نہیں۔ یہاں کی مہمانوازی سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ جتنی خوش اخلاقی اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا ہے، وہ متاثر کن تھا۔

٭ ارجن سنگھ گِل صاحب جنہوں نے تیس سال سے زائد عرصہ انڈین ائیر فورس میں کام کیا ہے اور تین سال کے لیےواشنگٹن ڈی سی میں انڈین ہائی کمیشن میں ڈپلومیٹ کے طور پر کام کرچکے ہیں اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ:‘‘میرے لیے یہ بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ مجھے آج کی اس نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ خلیفہ وقت کا آج کا خطاب بہت متاثر کن اور امن کی تعلیم پر مبنی تھا ۔’’

٭ سُرجیت سنگھ سدھو صاحب جو سکھ فاؤنڈیشن ورجینیا کے چیئرمین ہیں کہتے ہیں: میرا تعلق چونکہ پنچاب سے ہے میں پہلے سے ہی احمدیہ جماعت سے متعارف تھا۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جماعت احمدیہ میں ایک بہت پڑھا لکھا طبقہ پایاجاتا ہے۔ جماعت احمدیہ خدمت انسانیت کے لیے وسیع پیمانہ پر دنیا بھر کے ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے اور ان خدمات کو پوری دنیا میں سراہا بھی جاتا ہے۔حضور انور کا آ ج کا خطاب بھی بہت پر معارف تھا اور ہم دل کی گہرائیوں سے اس مسجد کی تعمیر پرجماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس توقع کے ساتھ کہ مستقبل میں بھی یہاں بین المذاہب کانفرنسز اور ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جائے گا۔

٭ ایک مہمان Leos Staten صاحب جو نیو جرسی میںChiropractorہیں، انہوں نے اپنے تأثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:چونکہ پہلے سے ہی میرا مسلمانوں میں اُٹھنا بیٹھنا تھا،اس لیے میں اسلامی تعلیمات سے واقف تھا۔ اس لحاظ سے میں میڈیا میں پیش ہونے والے اسلام کے بارہ میں واقف تھا۔ لیکن مجھے جس بات کی بہت خوشی ہے وہ یہ ہے کہ حضور انور نے وقت نکالا اور ہم سب کو مدعو کیااور ہم پر اسلام کی سچی اور خوبصورت تعلیمات واضح کیں۔

٭ ایک خاتون Shineen Madarazu جونیو جرسی میں surgical coordinatorہیں ، انہوں نے بیان کیا:آج کےخطاب میں ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے بارہ میں دوبارہ بتایا گیا۔ میرا بھی یہی نظریہ ہے کہ چند لوگوں کی بری حرکات کی وجہ سے پورے مذہب کو ملزم ٹھہرانا اپنی ذات میں ظلم سے کم نہیں۔ ہمارے یہاں امریکہ میں ہر روز کوئی نہ کوئی حادثات اور واقعات ہوتے رہتے ہیں، مگر اس کے لیے ایک پورے مذہب کوقصور وار ٹھہرانا غلط ہے۔

٭ ایک مہمان Sandra Wilson صاحبہ جو County Government میں کام کرتی ہیں اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتی ہیں کہ:‘محبت سب کے لیے اور نفرت کسی سے نہیں ’کا سچا نظارہ آپ کی جماعت پیش کرتی ہے اور آج کے خطاب کے بعد میں کہہ سکتی ہوں کہ خلیفۃ المسیح بلارنگ و نسل کے امتیاز کے صرف اور صرف امن چاہتے ہیں ۔ ہم سب ایک ہیں۔ اور دنیا بھر کے تمام مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم آج سب یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

٭ ایک مہمان ڈاکٹر حمیرہ علی صاحبہ جو Prince William County میں فری کلینک کی میڈیکل ڈائریکٹر ہیں اپنے خیالات کا اس طرح اظہار کرتی ہیں: ‘‘میں آج کی تقریب سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ ہر کوئی کھلے دل سے ہمارا استقبال کر رہا تھا اور خطاب میں حضور انور نے اس مجلس میں شامل ہونے والے ہر فرد کو دعوت دی کہ ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی کہ امن و امان، انصاف اور مساوات کے لیے اپنے قدم آگے بڑھائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک اچھی مثال چھوڑیں۔ خطاب کے دوران ایسا لگ رہا تھا کہ گویا حضور صرف مجھ سے مخاطب ہیں اور مجھے میری ذمہ داریوں کا احساس دلا رہے ہیں۔ ’’

٭ ایک مہمان Ruthy Andersonصاحبہ جو کہ Prince William County کے لیے کام کرتی ہیں اپنے تأثرات کا اس طرح اظہار کرتی ہیں: ‘‘مجھے جماعت کے بارہ میں چند سال قبل ایک احمدی خاتون کے ذریعہ تعارف حاصل ہوا۔ اس احمدی خاتون نے بطور احمدی مختلف کمیونیٹیز میں اپنی خدمات پیش کیں اور جماعت کے بارہ میں بتایا کہ وہ کن فلاحی کاموں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ پھر آج یہاں آنے کی دعوت دی گئی۔ میرے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ کیونکہ مجھے حضور انور کے ساتھ ایک چھوٹے گروپ میں گفتگو کرنے کا موقع ملا۔چونکہ میرے پہلے سے ہی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ دوست ہیں اس لیے میں آپ لوگوں کی تعلیمات سے کسی حد تک آگاہ تھی اور کافی معلومات انٹرنیٹ پر بھی حاصل کرچکی تھی۔ اس لحاظ سے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہاں خطاب سننے کے لیے بلایا گیا۔ حضور انور کے خطاب میں جو امن اور ہمسایوں کے حقوق پر بات ہوئی جو حقیقت پر مبنی ہے۔ میں خود چاہتی ہوں کہ ہر جگہ امن قائم ہو۔

٭ ایک اور مہمان Berry Bernardصاحب جو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ 40 سال سے کام کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں:‘‘ میں سب کو اس مسجد کی مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے آج کی تقریب میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ ’’ نیز کہتے ہیں کہ ‘‘میں سمجھتا ہوں کہ حضور انور کے آج کے خطاب میں پوری دنیا کے لیے پیغام تھا۔ اس میں امن و شانتی ، پیار ، محبت اور حقوق کے حوالہ سے ضرورت کے مطابق نصائح کی گئیں۔ ہمارے یہاں مختلف رنگ و نسل کے 4لاکھ 60 ہزار لوگ بستے ہیں۔ اور آج کے پیغام میں سب سے اہم بات ہمسائے کے حقوق کے بارہ میں تھی۔ ’’

٭ ایک مہمان Reverend Charlotte Raymondصاحبہ کہتی ہیں:‘‘یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو پیار اور محبت کے پیغامات پھیلاتے ہیں۔ ’’

٭ ایک مہمان Dr. Lisa Stuart صاحبہ کہتی ہیں کہ:‘‘یہاں آنے سے قبل مجھے اسلام کے بارہ میں تجسس تھا ۔ اور یہاں آکر دیکھا کہ اس جماعت میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ اور خلیفہ وقت کے لیے جو احترام اور پیار ہے وہ حیران کن ہے۔’’

٭ ایک خاتون مہمان Dr. Kimberly Norman Oroscoجو Criminologist اور مصنفہ ہیں اور انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے،یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:‘‘حضور انور کے آج کے خطاب میں امن اور انصاف کے حوالہ سے بہت گہرے پیغامات سننے کو ملے اور رنگ و نسل میں امتیاز کے بغیر ہر ایک کو اس پیغام کے مطابق اتحادکی فضا قائم کرنی ہوگی۔ آج کے خطاب میں حضور انور نے اسلام کی حقیقی شکل سامنے لاکر رکھی۔ اور اس کا خلاصہ امن و انصاف اور مساوات کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ’’

اپنے تاثرات کا اظہار کرتے موصوفہ کچھ جذباتی ہوگئی تھیں اور آنسوؤں میں لبریز کہہ رہی تھیں کہ ‘‘آج کل جو لوگ ظلم و بربریت کے مظاہرے دکھارہے ہیں اور مذہب کے نام پر ہماری کمیونیٹیز اور ملک میں فسادات پھیلارہے ہیں ، ان کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور یہ جاننا ہر انسان کے لیے بہت ضروری ہے۔ ’’

٭ ایک مہمان Martin Nohe صاحب کہتے ہیں: میری تعیناتی کاؤنٹی کے اسی حصہ میں ہے جہاں یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ آج حضور نے امریکہ میں عین ضرورت کے مطابق پیار، محبت، اخوت اور بھائی چارہ کا پیغام دیا جس نے ہم سب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کیساتھ ایک نئی عبادت گاہ کا اضافہ ہوا جہاں ہم سب امن اور سلامتی کی تلاش میں ہر وقت آسکتے ہیں۔

٭ ایک مہمان Tony Maxi صاحبہ جو Development Director ہیں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:‘‘مجھے آج پتہ لگا ہے کہ جماعت متعدد ہسپتال، سکولز اور ہیومینٹی فرسٹ کے تحت اتنے وسیع پیمانہ میں بغیر معاوضہ کے کام کررہی ہے۔’’

٭ ڈاکٹر کاترینہ (Dr Katrina Lantos Swett) جو کہ Tom Lantos Foundation for Human Rights and Justice کی پریذیڈنٹ ہیں ان کی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کیساتھ ملاقات ہوئی۔ وہ قبل ازیں کیپٹل ہِل اور لندن میں منعقدہ کانفرنس آف ورلڈ ریلیجنز میں شامل ہوچکی ہیں۔ وہ خصوصی طور پر اپنے شیڈول میں تبدیلی کرکے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لیے New Hampshire سے تشریف لائیں۔ موصوفہ نے اپنے تاثرات کاا ظہارکرتے ہوئے کہا: خلیفۃ المسیح امریکہ کے لیے ایک روحانی مرہم ہیں اور امریکہ کو اس وقت آپ کی رہنمائی اور قیادت کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے حوالہ سے خلیفۃ المسیح بے شک ہمت اور صبر کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

موصوفہ نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو مساجد کے افتتاح پر مبارکباد پیش کی اور بتایاکہ خلیفۃ المسیح نے یو۔ایس ایمبیسڈر اور دیگر کانگریس کے ممبران سے جس طرح مذہبی آزادی کے حوالہ سے بات کی ، اُس سے انہیں بہت خوشی حاصل ہوئی۔

٭ امریکہ میں متعین گیمبیا کے ایمبیسڈر Dawda N. Federa صاحب نے اپنے تأثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:جماعت احمدیہ امت محمدیہ کا بہت اہم جزو ہے اوردنیا میں موجود نیکی کا ایک اہم ستون ہے۔گیمبیا میں جماعت احمدیہ عام لوگوں کے لیے بہت کچھ کررہی ہے۔ ہم زراعت، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبہ جات میں جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں۔ گیمبیا میں جمہوریت نئی نئی آئی ہے اور وہاں ہرایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر وہاں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا طریق بہت مثبت ہے۔ وہ لوگوں کے ایمانوں کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

موصوف نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب کے حوالہ سے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب میں جو پیغام دیاوہ بہت ہی سیدھا اور صاف ستھراپیغام تھا جسکی امتِ مسلمہ کو اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلام کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتاہے لیکن اس کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔شدت پسندی اور دہشت گردی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ حضورانور بڑی وضاحت کیساتھ بیان فرمایاکہ اسلام تو امن کا مذہب ہے اور ہم سب کو مل کر انسانیت کی بھلائی کی خاطر کام کرناچاہیے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button